Ayah 79:41(79:41) فان الجنۃ ہی الماوی۔ تو بیشک جنت اس کے لوٹنے کی جگہ ہوگی (ملاحظہ ہو 79:39 متذکرۃ الصدر)
ماوی۔ مصدر اور اسم ظرف مکان۔ قیام کرنا۔ سکونت پذیر ہونا۔ مقام سکونت۔ ٹھکانا۔ اوی یاوی (ماضی و مضارع) باب ضرب سے۔ اوی بھی مصدر ہے۔ اگر صلہ میں الی ہو تو پناہ پکڑنے ، ٹھکانا بنانے اور فروکش ہونے کے معنی ہوں گے۔ جیسے قال ساوی الی جبل یعصمنی من الماء (11:43) اس نے کہا میں ابھی پہاڑ کی پناہ لے لوں گا۔ وہ مجھے پانی سے بچا لے گا۔
اگر اس کے بعد لام آئے تو مہربانی اور رحم کرنے کے معنی ہوں گے مثلاً اویت لہ میں نے اس پر رحم کھایا۔
Ayah 79:42(79:42) یسئلونک عن الساعۃ ایان مرسھا۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ رسول کریم ﷺ کے لئے ہے۔ یعنی اے محمد ﷺ لوگ آپ سے سوال کرتے ہیں ۔ پوچھتے ہیں۔ دریافت کرتے ہیں۔
الساعۃ۔ یعنی قیامت۔ ایان۔ اسم ظرف زمان مبنی برفتح۔ مبتدا۔ مرسھا مضاف مضاف الیہ مل کر مبتدا کی خبر۔ یہ جملہ سوال کا بیان ہے۔ ایان : منی کے قریب المعنی ہے اور کسی شے کا وقت معلوم کرنے کے لئے آتا ہے۔ بعض لوگ اس کی اصل ای اوان بمعنی ” کونسا وقت “ بتاتے ہیں۔ الف کو حذف کرکے واؤ کو یاء کیا گیا پھر ی کو ی میں ادغام کیا گیا ایان ہوگیا۔
مرسی مصدر میمی ہے اور ارساء (افعال) مصدر (لام و متعدی) سے اسم ظرف زمان و مکان کی ہے۔ ارسا ارساء بمعنی ٹھیرنا۔ ثابت ہونا۔ (بحری جہاز کو) لنگر انداز کرنا۔ (کھونٹے کو زمین میں) گاڑنا۔ (نیز ملاحظہ ہو 79:32 متذکرۃ الصدر)
ترجمہ :۔ (اے پیغمبر لوگ تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ کہیں اس کا تھل بیڑا بھی ہے (یعنی کب واقع ہوگی)
Ayah 79:43(79:43) فیم انت من ذکرھا : فیم میں فی حرف جر ہے اور ما استفہامیہ ہے۔ حرف جر کے آنے کی وجہ سے اس کے آخر سے الف حذف کردیا گیا ہے اور فتح کو اپنے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے تاکہ ما موصولہ اور ما استفہامیہ میں امتیاز ہوسکے کیونکہ ما موصولہ میں الف کو حذف نہیں کیا جاتا۔ فیما ای فی ای شیء اور یہ خبر ہے مبتداء انت کی۔
ذکرھا مضار مضاف الیہ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب الساعۃ کے لئے ہے۔ من ذکرھا بیان ہے ای شیء کا۔ سارا جملہ استفہام انکاری ہے بمعنی لست فی شیء من ذکر وقت القیامۃ (آپ کو قیامت کے آنے کے وقت کا بالکل علم نہیں ہے ذکری بمعنی علم ہے جیسا کہ محاورہ ہے :۔ لیس فلان فی العلم شیء یعنی فلاں شخص کو بالکل علم نہیں ہے۔
Ayah 79:44(79:44) الی ربک منتھھا۔ منتھی۔ ن ھ ی مادہ سے باب افتعال سے اسم ظرف زمان ہے یا اسم طرف مکان ہے بمعنی آخری وقت یا آخری حد۔ مضاف ھا ضمیر واحد مؤنث مضاف الیہ جس کا مرجع الساعۃ ہے۔ اس کے علم کی آخری حد (بغوی)
یعنی قیامت کے بپا ہونے کے متعلق آخری یعنی فائنل وقت یا حد کا علم تیرے پروردگار پر ختم ہے۔ وہ جب چاہے گا قیامت برپا ہوجائے گی۔ (ضیاء القرآن)
ای منتھی علمھا الی اللہ وحدہ لا یعلمھا سواہ (السیر التفاسیر) قیامت کے بپا ہونے کا حتمی علم اللہ کے پاس ہے اس کے سوا اس کو کوئی نہیں جانتا۔ یہ جملہ انکار سابقہ کی علت ہے۔
Ayah 79:45(79:45) انما انت منذر من یخشھا۔ سوال کرنے کی ممانعت جو پہلے کلام سے مستفاد ہوتی تھی اس کی یہ جملہ تاکید کرتا ہے۔
مطلب یہ ہے کہ :۔ لوگ فضول آپ سے پوچھتے ہیں کہ قیامت کب آئے گی آپ کو تو اس کا علم ہی نہیں یعنی آپ کو تو اس کے متعلق بتایا ہی نہیں گیا۔ (نہ آپ اس کا دعوی کرتے ہیں) اس کا علم تو صرف تیرے اللہ کے پاس ہے آپ کو تو محض اہل خشیت کو شدائد قیامت سے ڈرانے کے لئے بھیجا گیا ہے۔
انما : تحقیق، بےشک، سوائے اس کے نہیں۔ ان حرف مشبہ بالفعل اور ما کافہ ہے جو حصر کے لئے آتا ہے اور ان کو عمل لفظی سے روک دیتا ہے۔ منذر : انذار (افعال) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے ذرانے والا۔ مضاف من موصولہ ہے بمعنی جو۔
یخشی مضارع واحد مذکر غائب۔ خشیۃ (باب سمع) مصدر سے۔ جو ڈرتا ہے ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع الساعۃ ہے۔ من یخشھا مضاف الیہ۔ ترجمہ :۔ تحقیق آپ خبردار کرنے والے ہیں ہر اس شخص کو جو اس سے ڈرتا ہے۔
Ayah 79:46(79:46) کانھم یوم یرونھا لم یلبثوا : کان حرف مشبہ بالفعل ہم ضمیر جمع مذکر غائب کان کا اسم لم یلبثوا اس کی خبر۔
یوم یرونھا : ظرف زمان لم یلبثوا کا۔ یرونھا میں ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع الساعۃ ہے۔
لم یلبثوا مضارع نفی جحد بلم لبث باب سمع مصدر۔ وہ نہیں ٹھہرے۔ وہ نہیں رہے۔
ترجمہ ہوگا :۔ جس دن کہ وہ (منکرین قیامت) اس کو دیکھ لیں گے (تو یہی سمجھیں گے کہ دنیا میں) وہ نہیں ٹھہرے مگر ۔۔ ای یظنون انھم لم یلبثوا فی الدنیا الا (حقانی)
الا حرف استثناء عشیۃ اوضحھا : مستثنیٰ ۔ ضحھا مضاف مضاف الیہ ہے ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع عشیۃ ہے ای عشیۃ یوم او بکرتہ دن کا پچھلا وقت یا اس کا پہلا وقت۔ عشیۃ دن کے زوال کے وقت سے لے کر غروب تک کا وقت اور الضحی صبح سویرے سے لے کر زوال کے وقت تک۔ او بمعنی یا۔
مطلب یہ کہ یوم قیامت جس کے متعلق استہزاء یہ سوال کرتے رہے جب یہ اس دن کو دیکھ لیں گے تو اس کی ہولناکیوں کے پیش نظر دنیا کی زندگی ان کو ایک مختصر سا وقفہ معلوم دے گی اور قیامت کی سختی اور عذاب کا دن ایک طویل اور لامتناہی مدت۔