Ayah 74:41(74:41) اگرچہ جنت پر وقف کی علامت ہے لیکن آیت 38 پر بھی وقف کیا جاسکتا ہے۔ اگر پہلی علامت معانقہ پر وقف کیا جائے تو آیت 39 کا ترجمہ ” سوائے اصحاب یمین کے “ پر جملہ ختم ہوجائے گا۔ اور فی جنت یتساء لون اکٹھا پڑھا جائے گا۔ اور جنت ظرف مکان یتساء لون کا ہوگا۔ اور فی جنت سے قبل ہم محذوف ہوگا اور آیت 41 اس کے ساتھ ہی پڑھی جائے گی۔ اور کلام یوں ہوگا :۔
ہم فی جنت یتساء لون عن المجرمین وہ باغوں میں مجرموں سے پوچھیں گے اور اگر دوسری علامت معانقہ پر وقف کیا جائے تو فی جنت کا ربط جملہ ما سبق سے ہوگا۔ اور کلام یوں ہوگا۔ الا اصحب الیمین فی جنت سوائے اصحاب یمین کے جو جنتوں میں ہوں گے۔
آیت 38 تا 42 کا باربط ترجمہ یوں ہوگا :۔ ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے میں گروی ہے سوائے اصحب الیمین کے کہ وہ باغہائے بہشت میں ہوں گے اور گنہگاروں سے پوچھتے ہوں گے۔ یتساء لون بمعنی یتسالون ہے (قرطبی)
Ayah 74:42(74:42) ما سلککم فی سقر : یہ سوال ہے اصحاب الیمین کا مجرمین سے۔ ما استفہامیہ ہے۔ سلک ماضی واحد مذکر غائب ۔ سلک مصدر (باب نصر) سے جس کے معنی چلانے اور داخل کرنے کے ہیں۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔
کس نے تم کو دوزخ میں داخل کیا۔ یا کون تم کو دوزخ میں لایا۔ سقر : جیسا کہ اوپر بیان ہوا۔ دوزخ کا ایک نام ہے بوجہ علمیت و تانیث غیر منصرف ہے۔
Ayah 74:43(74:43) قالوا۔ یعنی اہل دوزخ (المجرمین) کہیں گے :۔
(1) لم نک من المصلین لم نک مضارع نفی جحد بلم (مضارع مجزوم بوجہ عمل لم) ۔ نک اصل میں نکون تھا۔ ہم نمازی نہ
Ayahs 74:44–45(74:44) (2) ولم نک نطعم المسکین : نطعم مضارع جمع متکلم اطعام (افعال) مصدر۔ کھانا کھلانا۔ اور مسکینوں کو کھانا نہ کھلایا کرتے
Ayah 74:46(74:46) وکنا نکذب بیوم الدین اور ہم روز قیامت کو جھٹلایا کرتے تھے۔
Ayah 74:47(74:47) حتی اتنا الیقین : حتی یہاں تک کہ :۔ اتنا اتی ماضی واحد مذکر غائب اثیان (افعال) مصدر۔ نا ضمیر جمع متکلم وہ ہمارے پاس آپہنچا۔ الیقین، ای الموت۔ باجماع جمہور المفسرین ۔ بمعنی موت۔ یہاں تک کہ ہم کو موت آپہنچی۔
Ayah 74:48(74:48) فما ینفعہمسببیہ ہے۔ ما تنفع مضارع منفی واحد مؤنث غائب نفع (باب فتح) مصدر۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ۔ پس (مدیں سبب) ان کو نفع نہ دیگی۔
شفاعۃ الشفعین مضاف مضاف الیہ۔ سفارش کرنا۔ شافعین شعاعۃ سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر۔ سفارش کرنے والے۔
Ayah 74:49(74:49) فما لہم عن التذکرۃ معرضین :بمعنی پھر، ما استفہامیہ ہے پھر ان کو کیا ہوگیا ہے۔
عن التذکرۃ : جار مجرور، التذکرۃ ای القران جار مجرور مل کر متعلق معرضین، معرضین اسم فاعل جمع مذکر منصوب، اعراض (افعال) مصدر سے اعراض کرنے والے۔ رخ موڑنے والے۔ اجتناب کرنے والے۔
معرضین نسب علی الحال کقولک مالک قائما : اس کا نصب بوجہ حال ہے جیسا کہ کہتے ہیں ما لک قائما تو کیوں کھڑا ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ پھر ان کو کیا ہوگیا ہے جو نصیحت سے منہ موڑ رہے ہیں۔
Ayah 74:50(74:50) کانھم : کان حرف مشابہ بفعل۔ اس کا اسم منصوب اور خبر مرفوع ہوتی ہے لہٰذا ہم کان کا اسم اور حمر مستنفرۃ اس کی خبر۔ حمر حمار کی جمع۔ گدھے مستفرۃ اسم فاعل واحد مؤنث استفار (استفعال) مصدر سے۔ بدک کر بھاگنے والے۔ نفر مادہ۔ نفار (باب ضرب) دوڑنا۔ دور ہوجانا۔ نفور بھاگنے والا۔ کانھم حمر مستنفرۃ گویا کہ وہ بدک کر بھاگنے والے گدھے ہیں۔
Ayah 74:51(74:51) فرت من قسورۃ۔ جملہ حمر سے حال ہے فرت ماضی واحد مؤنث غائب فرار ومفر (باب ضرب) مصدر۔ وہ بھاگی۔ فرار خوف سے بھاگنا۔ ڈر کر بھاگنا۔ قسورۃ شیر۔ جمع قس اور ق س ر مادہ۔ شیر کے ڈر سے بھاگے جا رہے ہیں۔
Ayah 74:52(74:52) بل یرید کل امری منھم ان یؤتی صحفا منشرۃ : بل یہاں ابتدائیہ ہے اور محض انتقال مضمون کے لئے لایا گیا ہے کلام سابق سے اعراض مقصود نہیں ۔
اہل تفسیر نے بیان کیا ہے کہ کفار قریش نے رسول اللہ ﷺ سے کہا تھا کہ اگر تم سچے ہو تو ہم میں سے ہر شخص کے سرہانے صبح کو ایک کھلی چٹھی برآمد ہونا چاہیے جس میں لکھا ہو کہ آپ خدا کے رسول ہیں آپ کے کہنے پر عمل کرنا ضروری ہے۔
ان مصدریہ ہے یؤتی مضارع مجہول واحد مذکر غائب ایتاء (افعال) مصدر بمعنی دینا۔ صحفا۔ صحیفہ کی جمع ہے بمعنی صحیفے ، کتابیں، نوشتے، اور اق۔ صحف بوجہ مفعول منصوب ہے ۔ اور موصوف ہے اس کی صفت منشرۃ ہے۔ صحیفہ کی جمع صحف نادر ہے کیونکہ فعیلۃ کی جمع فعل پر نہیں آتی۔ ندرت اور قیاس میں اس کی مثال سفینۃ کی جمع سفن ہے۔
منشرۃ صفت ہے صحفا کی اسم مفعول ہے واحد مؤنث ہے۔ تنشیر (تفعیل) مصدر سے ۔ کھلی ہوئی۔ پھیلی ہوئی۔
ترجمہ ہوگا : بلکہ ان میں سے ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ اس کو کھلی ہوئی کتابیں دی جائیں یہی مضمون ایک اور جگہ بھی قرآن مجید میں آیا ہے :۔ ولن نؤمن لرقیک حتی تنزل علینا کتبا نقرؤہ (17:93) اور ہم تمہارے چڑھنے کو بھی نہیں مانیں گے جب تک کہ کوئی کتاب دلاؤ جسے ہم پڑھ بھی لیں۔
Ayah 74:53(74:53) کلا : ہرگز نہیں۔ یہ ہرگز نہیں ہوگا۔ یہ ان کے اس ارادہ پر سرزنش ہے کہ ہمیں کھلی چٹھی ہر ایک کو مل جائے۔ فرمایا یہ ہرگز نہ ہوگا۔ کس لئے کہ ہر ایک میں اس سے مخاطب ہونے کی قابلیت واہلیت ہی نہیں ہے۔
بلا یخافون الاخرۃ : بل حرف اضراب ہے مطلب یہ کہ ان کا قرآن مجید سے اعراض اور ان کی یہ طلب کہ ان میں سے ہر ایک کو ایک کھلا پروانہ اللہ کی جانب سے جاری ہو۔ معقوک وجوہ پر مبنی نہیں ہے۔ بلکہ یہ ان کی محض ہٹ دھرمی ہے بات اصل میں یہ ہے کہ ان کو آخرت کا اندیشہ ہی نہیں ہے۔
لا یخافون : مضارع منفی جمع مذکر غائب خوف باب فتح مصدر سے۔ وہ نہیں ڈرتے۔ ان کو خوف ہی نہیں ہے۔ ان کو اندیشہ ہی نہیں ہے۔
Ayah 74:54(74:54) کلا۔ کلمہ روع۔ (باز داشت، روکنا، جھڑکی، سرزنش) ہے ان کی بےباکی پر۔ ایک باز داشت ہے۔ یا گذشتہ کلا کی تاکید ہے۔ انہ تذکرۃ : میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع قرآن مجید ہے۔ تذکرۃ یادداشت نصیحت، یاد کرنے کی چیز۔ اللہ تعالیٰ کی جلالی و جمالی صفات اور رحمت و عذاب کا اس میں ذکر ہے۔
Ayah 74:55(74:55) فمن شاء ذکرہ :سببیہ ہے من جو شخص، شاء ماضی واحد مذکر غائب۔ مشیتہ (باب فتح) سے مصدر ۔ بمعنی چاہنا۔ ارادہ کرنا۔ ذکر ماضی واحد مذکر غائب ذکر (باب نصر) مصدر سے۔ اس نے یا کیا۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع قرآن ہے۔ پس جس کا جی چاہے اسے یاد رکھے۔ یعنی اس سے نصیحت حاصل کرے۔
Ayah 74:56(74:56) وما یذکرون الا ان یشاء اللہ۔ واؤ حالیہ ہے ما یذکرون مضارع منفی جمع مذکر غائب۔ ذکر (باب نصر) مصدر سے جس کے معنی ہیں ذکر کرنا۔ یاد کرنا۔ بیان کرنا۔ پندو نصیحت حاصل کرنا۔ قبول کرنا۔
الا ان یشاء اللہ استثناء مفرغ ہے (اس کا مستثنیٰ منہ مذکور نہیں ہے) ۔
مطلب یہ کہ قرآن مجید ایک نصیحت ہے جو چاہے اس کو حاصل کرے۔ لیکن نصیحت چاہنے والے کا نصیحت حاصل کرنا محض اور صرف اس کی اپنی مشیت پر مبنی نہیں ہے بلکہ مشیت ایزدی اور اس کی کرم نوازی پر منحصر ہے۔ نصیحت کا پالنا تبھی ممکن ہوگا جب اللہ بھی جائیگا۔
وھذا تصریح بان افعال العباد بمشیۃ اللہ عزوجل بالذات او بالواسطۃ (روح المعانی) یہ صریحا ظاہر ہے کہ بندوں کے افعال بالذات یا بالواسطہ اللہ عزوجل کی مشیت سے وابستہ ہیں۔
(نصیحت پذیر ہونے کی چاہت کرنے والے) کسی وقت نصیحت پذیر نہیں ہوسکتے مگر اسی وقت جب کہ خدا ان کی مشیت اور نصیحت پذیری کا ارادہ کرے۔ یہ آیت صراحۃ دلالت کر رہی ہے کہ انسانی اعمال و افعال اللہ تعالیٰ کی مشیت اور ارادہ سے وابستہ ہیں۔ (تفسیر مظہری) ۔
اور جگہ قرآن مجید میں ہے وما تشاء ون الا ان یشاء اللہ ان اللہ کان علیما حکیما (76:30) اور تم کچھ بھی نہیں چاہ سکتے مگر جو خدا کو منظور ہو۔ بیشک اللہ تعالیٰ جاننے والا حکمت والا ہے۔
یہ اس لئے کہ بندے کی مشیت خواہ کتنی ہی عقل و فہم پر مبنی ہو وہ محدود اور نقائص و معائب سے مبرا نہیں ہوسکتی۔ اور اس علیم و حکیم کی مشیت کے مقابلہ میں بالکل ہیچ ہے عقل کا تقاضا یہی ہے کہ وہ دانائے کل کے تابع رہے۔
ھو اہل التقوی واہل المغفرۃ۔ ھو ای اللہ۔
اہل۔ والا۔ والے۔ وہ سب لوگ اہل کہلاتے ہیں جن کو مذہب یا نسب یا دونوں کے علاوہ اور کسی قسم کا کوئی رشتہ یا تعلق مثلاً ایک گھر یا ایک ہی شہر میں رہنا بسنا یا کسی مخصوص صفت اور پیشہ میں شریک ہونا۔ غرض کسی خاص صفت سے منسوب ہونا یا متصف ہونا ایک سلسلہ میں منسلک کر دے۔ کسی چیز کا مستحق یا سزا وار ہونا۔
عربی میں بولتے ہیں فلان اہل لکذا۔ فلاں اس کا مستحق اور سزا وار ہے۔
ترجمہ ہوگا :۔ وہی اس قابل ہے کہ اس سے ڈرا جائے اور وہی اس لائق ہے کہ بخش دے۔