70. Surah Al-Ma'aarij

المعارجThe Ascending Stairways · 44 ayahsانوار البیان

Ayah 70:41

عَلٰۤى اَنْ نُّبَدِّلَ خَیْرًا مِّنْهُمْ١ۙ وَ مَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِیْنَ Open ayah 70:41 in the Quran reader

(یعنی) اس بات پر (قادر ہیں) کہ ان سے بہتر لوگ بدل لائیں اور ہم عاجز نہیں ہیں

(70:41) علی ان تبدل خیرا منھم : ای اذا کان الامر کذلک کما ذکرنا من ان خلقہم مما یعلمون وھو النطفۃ القذرۃ فلا اقسم برب المشرق والمغرب۔ جب بات یہ ہے کہ جیسا ہم نے بیان کیا کہ ان کی تخلیق ایک ایسی چیز سے کی کئی ہے جسے وہ جانتے ہیں یعنی گندے نطفے سے تو ہم مشرقوں اور مغربوں کے رب کی قسم کھاتے ہیں۔ (یعنی اپنی ذات کی) کہ ہم اس بات پر قادر ہیں کہ ان سے بہتر لوگ بدل کرلے آئیں۔ واؤ عاطفہ ہے اس کا عطف جملہ سابقہ محذوف پر ہے لا زائدہ ہے تاکید کے لئے آیا ہے (نیز ملاحظہ ہو 69ـ38 متذکرۃ الصدر۔ لااقسم برب المشارق والمغارب جملہ قسمیہ ہے اور انا لقدرون جواب قسم علی ان نبدل خیرا منھم متعلق قدرون اقسم مضارع واحد متکلم اقسام (افعال) مصدر، میں قسم کھاتا ہوں۔ رب المشارق مشرقوں کے پروردگار کی مشارق جمع ہے مشرق کی۔ سورج کے طلوع ہونے کی جگہ۔ سال کے 265 دنوں میں سورج کے نکلنے کی جگہ موسم کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے اس لئے ان ساری جگہوں کے لئے لفظ جمع کا استعمال کیا گیا ہے یہی وجہ مغارب کے استعمال کی ہے۔ سورج کے غروب ہونے کی جگہیں۔ لقدرون لام تاکید کا ہے قاردون قدرۃ (باب ضرب و نصر و سمع) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر ہے۔ ہم قدرت رکھنے والے ہیں۔ اقسم میں صیغہ واحد آیا ہے اور انا لقدرون میں صیغہ جمع کا استعمال اپنی عظمت اور بزرگی اور قدرت کو ظاہر کرنے کے لئے آیا ہے۔ ان مصدریہ۔ نبدل مضارع جمع متکلم (منصوب بوجہ عمل ان) تبدیل (تفعیل) مصدر سے بمعنی بدلے میں لانا عوض میں لے آنا خیرا : ای خلقا خیرا منہم : تو ہم لے آئیں ان کے بدلے میں (ایسی خلقت) جو ان سے بہتر ہو۔ وما نحن بمسبوقین۔ یہ جملہ دوسرا جواب قسم ہے یا قدرون سے حال ہے۔ اور ہم ایسا کرنے سے عاجز نہیں۔ مسبوقین عاجز، وہ لوگ جن پر سبقت کرلی جائے۔ سبق (باب ضرب، نصر) مصدر سے اسم مفعول کا صیغہ جمع مذکر۔ بحالت جرونصب ہے۔ سبق کے اصل معنی ہے چلنے میں آگے نکل جانا۔
Ayah 70:42

فَذَرْهُمْ یَخُوْضُوْا وَ یَلْعَبُوْا حَتّٰى یُلٰقُوْا یَوْمَهُمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَۙ Open ayah 70:42 in the Quran reader

تو (اے پیغمبر ﷺ ان کو باطل میں پڑے رہنے اور کھیل لینے دو یہاں تک کہ جس دن کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ انکے سامنے آموجود ہو

(70:42) فذرھم یخرضوا ویلعبوا :عاطفہ ہے بمعنی پس۔ سو۔ تو۔ ذر فعل امر حاضر۔ واحد مذکر۔ وذر (باب سمع فتح) مصدر سے تو چھوڑ دے (اس کی ماضی نہیں آتی) ۔ مضارع کے صیغہ میں قرآن مجید میں ہے :۔ والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجا وصیۃ لازواجھم متاعا الی الحول (2:240) اور جو لوگ تم میں سے مرجائیں اور عورتیں چھوڑ جائیں۔ وہ اپنی عورتوں کے حق میں وصیت کر جائیں کہ ان کو ایک سال تک خرچ دیا جائے) ۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب : تو ان کو چھوڑ دے۔ یخوضوا۔ مضارع مجزوم جمع مذکر غائب۔ خوض (باب نصر) مصدر سے وہ مشغول ہوں ۔ وہ مشغول رہیں۔ مضارع مجزوم بوجہ جواب امر ہے۔ یلعبوا : مضارع جمع مذکر غائب۔ لعب (باب سمع) مصدر۔ وہ کھلتے رہیں۔ وہ کھیل میں پڑے رہیں۔ آپ ان کو رہنے دیں کہ خرافات میں لگے رہیں۔ اور کھیل کود میں مشغول رہیں۔ حتی حرف جر ہے۔ یہاں انتہاء غایت کے لئے ہے اور بمعنی الیٰ آیا ہے۔ یہاں تک کہ۔ یلقوا یومہم۔ یلاقوا مضارع جمع مذکر غائب منصوب۔ ملاقاۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ (یہاں تک کہ) وہ پالیں (یا مل جائیں) اپنے (اس) دن کو (یعنی حشر کے دن کو) یومہم مضاف مضاف الیہ مل کر یلاقوا کا مفعول۔ الذی یوعدون ۔ موصول وصلہ مل کر یوم کی صفت یوعدون مضارع مجہول جمع مذکر غائب : وعد (باب ضرب) مصدر۔ (جس کا) ان کو وعدہ دیا جاتا ہے یا ۔ ان کو وعید دی جاتی ہے۔ یعنی وعید عذاب حشر۔ کیونکہ قیامت کا دن مومنوں کیلئے وعید کا دن نہیں ہے۔
Ayah 70:43

یَوْمَ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ سِرَاعًا كَاَنَّهُمْ اِلٰى نُصُبٍ یُّوْفِضُوْنَۙ Open ayah 70:43 in the Quran reader

اس دن یہ قبر سے نکل کر (اس طرح) دوڑیں گے جیسے (شکاری) شکار کے جال کی طرف دوڑتے ہیں

(70:43) یوم یخرجون من الاجداث سراعا : یوم بدل ہے یومہم سے سراعا من الاجداث حال ہے یخرجون کے فاعل سے۔ سراعا دوڑتے ہوئے۔ جلدی کرتے ہوئے ، بمعنی فاعل دوڑنے والے۔ جلدی کرنے والے ۔ سریع کی جمع سرعۃ سے جسکے معنی جلدی کرنے کے ہیں بروزن فعیل بمعنی فاعل ہے جس طرح کریم کی جمع کرام ہے۔ الاجداث جمع، جدث واحد بمعنی قبر۔ کانھم الی نصب یوفضون۔ یہ جملہ بھی یخرجون کے فاعل سے حال ہے۔ کانھم ۔ کان حرف مشبہ بالفعل ہم ضمیر جمع مذکر غائب کان کا اسم ۔ گویا وہ سب ۔ نصب اسم مفرد، انصاط جمع بمعنی بت، جھنڈا، نشان۔ یوفضون : مضارع جمع مذکر غائب۔ افاضیۃ (افعال) سے مصدر۔ وہ دوڑیں گے وض مادہ۔ اصل میں الایفاض (افعال) کے معنی کسی کے دفضہ (چمڑے کا ترکش) کو اٹھا کر اس طرح تیزی سے بھاگنے کے ہیں کہ اس سے جھنکار کی آواز پیدا ہو۔ لہٰذا تیز روی کے معنی میں آتا ہے۔ نصب کے مختلف معانی کی وجہ سے اس آیت کی تفسیر بھی مختلف طور پر مفسرین نے کی ہے۔ مثلاً (1) جس طرح دنیا میں اپنے بتوں اور خیالی معبودوں کی طرف دوڑتے ہیں اسی طرح قبروں سے نکل کر میدان حشر میں رب العلمین کی طرف دوڑیں گے۔ (2) قیامت کے دن قبروں سے نکل کر تخت رب العلامین کی طرف اسی طرح دوڑیں گے جیسا کہ کوئی شرط میں نشان گڑے ہوئے تک جلد جلد دوڑتا ہے۔ (3) کلبی نے نصب کا ترجمہ علم کیا ہے یعنی جس طرح لشکری اپنے جھنڈے کی طرف لپکتے ہیں اسی طرح یہ حشر کے دن محشر کی طرف لپکیں گے۔ (4) علامہ ابن کثیر اپنی تفسیر میں رقمطراز ہیں :۔ جس دن خدا انہیں بلائے گا اور میدان محشر کی طرف جہاں انہیں حساب کے لئے کھڑا کیا جائے گا اس طرح لپکتے ہوئے جائیں گے جس طرح دنیا میں کسی بت یا علم کو یا تھان کو اور چلے کو چھونے اور ڈنڈوت کرنے کے لئے ایک دوسرے سے آگے بڑھتے ہوئے جاتے ہیں۔
Ayah 70:44

خَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ ذٰلِكَ الْیَوْمُ الَّذِیْ كَانُوْا یُوْعَدُوْنَ۠ Open ayah 70:44 in the Quran reader

ان کی آنکھیں جھک رہی ہوں گی اور ذلت ان پر چھا رہی ہوگی یہی وہ دن ہے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا تھا

(70:44) خاشعۃ ابصارھم ترھقہم ذلۃ : خاشعۃ منصوب ہے کیونکہ ضمیر یوفضون سے حال ہے اور ابصارہم مرفوع ہے کیونکہ یہ خاشعۃ کا فاعل ہے۔ خاشعۃ ذلیل ہونے والی۔ ذلیل و خوار۔ خشوع (باب فتح) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ہے۔ ان کی نگاہیں نیچی ہو رہی ہوں گی۔ ترھقہم ذلۃ یہ جملہ بھی یوفضون سے حال ہے، ذلت ان پر چھا رہی ہوگی۔ ترہق مضارع واحد مؤنث غائب رھن (باب سمع) مصدر جس کے معنی کسی چیز کا دوسری چیز پر زبردستی چھاجانے کے ہیں۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے ولا یرھق وجوہہم قتر ولا ذلۃ (10:26) اور ان کے چہروں پر نہ تو سیاہی چھایے گی اور نہ رسوائی ذلک الیوم الذی کانوا یوعدون : ذلک مبتداء الیوم ۔۔ الخ ۔ اس کی خبر۔ کانوا یوعدون ماضی استمراری مجہول جمع مذکر غائب وعد (باب ضرب) مصدر ان کو وعید دی جاتی تھی یعنی یہ ہے دن جس کا ان سے وعدہ عذاب کیا جا رہا تھا۔ یہ جملہ معترضہ ہے۔ ماقبل کی اہمیت کو ذہن نشین کرانے کے لئے آیا ہے۔ سورة القمر میں اس کا نقشہ یوں کھینچا ہے :۔ یوم یدع الداع الی شیء نکر ، خشعا ابصارھم یخرجون من الاجداث کانھم جراد منتشرہ مھطعین الی الداع یقول الکافرون ھذا یوم عسرہ (54:6 تا 8) (آپ بھی ان کی پرواہ نہ کریں) جس دن بلانے والا ان کو ایک ناخوش چیز کی طرف بلائیگا تو آنکھیں نیچی کئے ہوئے قبروں سے نکل پڑیں گے گویا وہ بکھری ہوئی ٹڈیاں ہیں۔ اس بلانے والے کی طرف دوڑتے جاتے ہوں گے۔ کافر کہیں گے یہ دن بڑا سخت ہے۔