59. Surah Al-Hashr

الحشرThe Exile · 24 ayahsانوار البیان

Ayah 59:21

لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰى جَبَلٍ لَّرَاَیْتَهٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَةِ اللّٰهِ١ؕ وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 59:21 in the Quran reader

اگر ہم یہ قرآن کسی پہاڑ پر نازل کرتے تو تم دیکھتے کہ خدا کے خوف سے دبا اور پھٹا جاتا ہے اور یہ باتیں ہم لوگوں کے لئے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ غور و فکر کریں

(59:21) لو۔ حرف شرط۔ اگر لرایتہ۔ لام جواب شرط کے لئے۔ رایت ماضی واحد مذکر حاضر ، ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع جبل ہے۔ خاشعا : دب جانے والا۔ عاجزی کرنے والا۔ فروتنی کرنے والا۔ خشوع (باب فتح) مصدر سے۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ متصدعا : اسم فاعل واحد مذکر منصوب ۔ تصدع (تفعل) مصدر۔ بمعنی ٹکڑے ٹکڑے۔ شگافتہ۔ صدع کا لفظ پجٹے ، کھلنے۔ شگافتہ ہونے اور الگ ہوجانے کا مفہوم اپنے اندر رکھتا ہے۔ اس لئے صدع شگاف کو اور آدمیوں کی ایک ٹکڑی اور گروہ کو کہتے ہیں زمین کو پھاڑ کر سبزہ نلتا ہے اس لئے سبزہ کو صدع کہا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے :۔ والارض ذات الصدع (86:12) قسم ہے سبزہ والی زمین کی۔ یا قسم ہے زمین کی جو پھٹ جاتی ہے (کہ اس میں سے پھوٹ آتے ہیں درخت اور کھیتی۔ خاشعا متصدعا ہر دو حال ہیں :۔ یعنی تو دیکھتا ہے کہ وہ خدا کے خوف سے دبا جا رہا ہے اور پھٹا پڑتا ہے۔ من خشیۃ اللہ : من حرف جار۔ خشیۃ اللہ مضاف مضاف الیہ۔ خشیۃ کوڈر۔ ہیبت۔ خشیۃ اس خوف کو کہتے ہیں جس میں تعظیم بھی شامل ہو۔ یہ بات اکثر حالات میں جس کا ڈر ہو اس کے علم سے ہوتی ہے۔ اسی بناء پر آیت شریفہ انما یخشی اللہ من عبادہ العلموا (35:28) اللہ سے ڈرتے وہی ہیں اس کے بندوں میں جو عالم ہیں ۔ میں علماء کی خشیت سے مخصوص کیا گیا ہے۔ تلک الامثال : تلک اسم اشارہ واحد مؤنث الامثال مشار الیہ، بمعنی مثالیں۔ نضربھا مضارع جمع متکلم۔ ضرب مصدر سے ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب کا مرجع الامثال ہے۔ ہم بیان کرتے ہیں ان کو۔ ضرب کے اصل معنی ہیں مارنا۔ ہاتھ سے ہو یا پاؤں سے ہو یا کسی آلہ سے ۔ ضرب الدراہم پھٹہ لگانا۔ ضرب فی الارض : زمین پر چلنا۔ ضرب الخیمۃ خیمہ لگانا۔ ضرب الذلۃ والمئکۃ ذلت اور فقیری کو خیمہ کی طرح محیط اور مسلط کردینا۔ ضرب المثل ماضوذ ہے ضرب الدراہم سے یعنی کسی چیز کو اس طرح بیان کرنا کہ دوسرے پر اس کا اثر پڑ سکے۔ لعلہم : لعل حرف مشبہ بالفعل ہم ضمیر جمع مذکر غائب اس کا اسم ۔ شاید وہ سب لوگ۔ تتفکرون ۔ مضارع جمع مذکر غائب تفکر (تفعل) مصدر ۔ بمعنی غور کرنا۔ لعل کی خبر۔ شاید کہ وہ غور کریں۔ امید ہے کہ وہ گور کریں گے۔ تاکہ وہ غور کریں۔ آیت ہذا کی تشریح میں صاحب تفسیر مظہری لکھتے ہیں :۔ لو انزلنا ھذا القران ۔۔ الخ۔ بعض اہل تفسیر کے نزدیک آیت میں ایک تمثیل ہے یعنی اللہ اگر پہاڑ میں قوت تمیز پیدا کردیتا اور پھر اس وقت اس پر قرآن اتارتا۔ تو پہاڑ عاجزی سے دب جاتا۔ اور خوف سے پھٹ جاتا اور عظمت قرآن سے ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا وان منھا لما یہبط من خشیۃ اللہ (2:74) باوجود یکہ پہاڑ نہایت سخت اور ٹھوس یا وزن ہیں۔ لیکن ان کو خوف ہوتا کہ وہ تعظیم قرآن پوری طرح جیسا کہ حق ہے ادا نہ کر پائے اس وجہ سے پارہ پارہ ہوجاتے لیکن کافر انسان جو صاحب علم و عرفان ہے قرآن کے اندر جو نصیحتیں اور عبرتیں ہیں ان کو جانتا پہچانتا ہے پھر بھی سنی ان سنی کردیتا ہے۔ (بالکل اثر نہیں ہوتا) ۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ جمادات اور نباتات بظاہر بےشعور اور عدیم الحس ہیں لیکن وہ اپنے کالق کا شعوررکھتے ہیں اور اس سے ڈرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :۔ کہ ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ سے دریافت کرتا ہے کہ :۔ کیا تیرے اوپر کوئی بندہ خدا اللہ کو یاد کرتا ہوا گزرا ؟ نوٹ از مترجم تفسیر مظہری :۔ صحیح تحقیق یہ ہے کہ ودمائے یونان جو جمادات و نباتات کو بےحس اور بےشعور کہتے ہیں وہ غلط ہے موجودہ سائش نے نباتات میں تو شعور شابت کردیا اور عنقریب جمادات کا حساس ہونا بھی ظاہر ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی فرما دیا ہے کہ وان من شیء الا یسبح بحمدہ ولکن لا تفقھون تسبیحھم (17:44) یہ تسبیح مقالی ہے حالی نہیں ہے یہ مراد نہیں کہ ہر شے تخلیقا اپنے خالق کے بےعیب ہونے پر دلالت کر رہی ہے ہر مصنوع اپنے صانع پر دال ہے یہ مطلب صراحت آیت کے خلاف ہے ۔ کیونکہ آیت کا آخری جزے بتارہا ہے کہ انسان تسبیح اشیاء کو نہیں سمجھتا۔ اب اگر تسبیح سے تسبیح حال مراد لی جائے اور اس کا یہ مطلب مراد لیا جائے کہ ہر مخلوق اپنے کالق و فاطر کے بےعیب ہونے پر فطرۃ دلالت کر رہی ہے تو اس تسبیح اشیاء سے تو یونانی کافر بلکہ جاہل بےعلم بھی واقف تھے اور ہیں۔۔ پھر نفیء تفقہ کے کچھ معنی ہیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ تسبیح مقالی ہی مراد ہے مگر ہر ثیز کی نوعی زبان جدا جدا ہے جس کو ہر نوع کے افراد ہی سمجھتے ہیں۔ پہاڑ پہاڑ کی بولی سمجھتا ہے اور پانی پانی کی بات سمجھتا ہے اور انسان ان کی بولی نہیں سمجھتے۔ معجزہ نبوت اس سے مستثنیٰ ہے۔ عام انسان اسی بولی کو سمجھتے ہیں جو مخارج حروف اور اوتاد الصوت کی مرہون ہے اور اسی کو کلام اور مقال کہتے ہیں۔ پس رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد فرمانا بالکل صحیح ہے کہ ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ سے کہتا ہے کہ ۔۔ وغیرہ اور سچ فرمایا اللہ نے :۔ یسبح لہ ما فی السموت والارض (59:24)
Ayah 59:22

هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ١ۚ هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ Open ayah 59:22 in the Quran reader

وہی خدا ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا وہ بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

(59:22) ھو اللہ الذی لا الہ الا ھو : ھو ضمیر شان ہے اس کا فائدہ یہ ہے کہ یہ مسند الیہ کی تعظیم و بڑائی پر دلالت کرتی ہے اس طرح کہ پہلے اس کا ذکر مبہم طریقہ سے کرکے پھر اس کی تشریح کی جائے۔ اللہ مسند الیہ باقی کا جملہ مسند اس کی صفت ہے۔ الزی اسم مفعول موصول باقی جملہ اس کا صلی۔ لا ناصیہ (اپنے اسم کو نصب دیتا ہے) الہ اس کا اسم الا حرف استثنائ۔ وہ اللہ ہے ایسی ذات کہ کوئی معبود نہیں سوائے اس کے۔ الہ معبود۔ بروزن فعال بمعنی اسم مفعول مالوہ ہے ۔ ہر قوم کے نزدیک جس کی بندگی کی جائے وہ الہ ہے خواہ وہ معبود برحق ہو یا معبود باطل۔ علم الغیب : مضاف مضاف الیہ ۔ غیب کا علم رکھنے والا۔ غیب کا علم جاننے والا ۔ والشھادۃ : ای وعالم الشھادۃ اور جاننے والا ہے ہر طاہر اور مشاہدہ میں آنے والی چیز کا۔ شھادۃ : شھد یشھد کا مصدر ہے۔ لیکن اسم ہوکر بھی استعمال ہوتا ہے۔ علم الغیب والشھادۃ۔ ہر باطن و ظاہر کا جاننے والا۔ ہر موجود و معدوم ، مخفی و ظاہر ہر کا علم رکھنے والا۔ الرحمن بڑا مہربان ، بہت بخشش کرنے والا۔ چونکہ اس لفظ کے معنی بجز ذات باری تعالیٰ کے اور کسی پر صادق نہیں آتے کیونکہ اسی کی رحمت سب پر عام ہے اس لئے سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کسی کے لئے اس کا استعمال نہیں ہوتا۔ علمائے عبرت کا اس میں اختلاف ہے کہ یہ عربی زبان کا لفظ ہے یا نہیں اور عربی ہونے کی صورت میں یہ مشتق ہے یا غیر مشتق۔ مبرد اور ثعلب جو عربیت اور لغت کے امام ہیں وہ اس طرف گئے ہیں کہ یہ عبرانی لفظ ہے اگر اس کو عبرانی لفظ مان لیا جائے تو اس صورت میں یہ لفظ اللہ کی طرح ذات باری کا علم ہوگا۔ قرآن مجید میں یہ لفظ 53 جگہ مزکور ہے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس کا استعمال بطور صفت نہیں بلکہ بطور علم ہوا ہے۔ الرحیم : بڑا مہربان ۔ نہایت رحم والا۔ رحمۃ سے بروزن فعیل مبالغہ کا صیغہ ہے۔ اس کی جمع رحماء ہے۔ اس کا استعمال اللہ تعالیٰ کے علاوہ غیر کے لئے ہوتا ہے :۔ آنحضرت ﷺ کو قرآن مجید میں رؤف الرحیم کہا گیا ہے (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو لغات القرآن) ۔
Ayah 59:23

هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ اَلْمَلِكُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 59:23 in the Quran reader

وہی خدا ہے جس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں۔ بادشاہ حقیقی پاک ذات (ہر عیب سے) سالم امن دینے والا نگہبان غالب زبردست بڑائی والا۔ خدا ان لوگوں کے شریک مقرر کرنے سے پاک ہے۔

(59:23) ھو اللہ الذی لا الہ الاھو : ملاحظہ ہو آیت 59:23 متذکرۃ الصدر) الملک : اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے۔ اسم معرفہ۔ بادشاہ ۔ جو چاہے کرے۔ اور اس کے فعل پر کسی کو مجال اعتراض نہ ہو۔ اسم نکرہ کوئی بادشاہ ۔ کوئی حاکم۔ القدوس مبالغہ کا صیغہ ہے۔ بہت پاک۔ بہت برکت والا۔ بروزن فعول (بضم ف) پر کلام عربی میں صرف چار لفظ آئے ہیں (1) قدوس : بہت پاک۔ برکت والا۔ (2) سبوح : پاک و برتر۔ اسماء حسنی میں سے ہے۔ (3) ذروح : (ایک اڑنے والا زہریلا کیڑا ۔ سپینی مکھی) (4) فروح : بہت خوش۔ اور ان کو بھی بفتحپڑھنا جائز ہے باقی اس وزن پر جتنے لفظ آتے ہیں سب بفتحآئے ہیں۔ السلم : ذو سلامۃ من النقائص یعنی ہر قسم کی خامیوں سے محفوظ ، بعض نے کہا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کو آلام و مصائب سے بچاتا ہے۔ المؤمن : اسم فاعل واحد ذکر ایمان مصدر۔ امن دینے والا ۔ یا المصدق لرسلہ باظھا ، معجزاتہ علیہم۔ اپنے پیغمبروں سے معجزات کا اظہار کرا کے ان کی رسالت کی تصدیق فرماتا ہے۔ المھیمن : اسم فاعل واحد مذکر ہیمنۃ مصدر ۔ نگران ۔ اس کا اصل ا امن فھو مؤامن ہے دوسرا ہمزہ یاء سے اور پہلا ہمزہ ” ہ “ سے بدل دیا گیا۔ اس طرح مہیمن بن گیا۔ العزیز : عزۃ سے فعیل کے وذن پر بمعنی فاعل مبالغہ کا صیغہ ہے غالب (جو مغلوب نہ ہو) زبردست ، قوی۔ الجبار : المصلح امور خلقہ المتصرف فیہم بمافیہ صلاحہم۔ یعنی اپنی مخلوقات کے امور کو درست کرنے والا۔ اور اس میں ویسا تصرف کرنے والا جس میں ان کی فلاح اور بہبود ہوتی ہے اس صورت میں یہ جبر سے مشتق ہوگا۔ (ضیاء القرآن) ۔ سرکش، زبردست دباؤ والا۔ خود اختیار ۔ جبر سے مبالغہ کا صیغہ ہے (لغات القرآن) جبار ذات باری تعالیٰ کے لئے وصفت مدرح ہے اور انسانوں کے حق میں صفت ذم ہے۔ (خازن بغدادی) المتکبر : اسم فاعل واحد مذکر تکبر (تفعیل) مصدر۔ سربلندی اور عظمت کی آخری حد کو پہنچا ہوا۔ تکبر دو طرح کا ہوتا ہے :۔ (1) فی نفسہ کسی میں خوبیاں اور صفات حسنہ سب سے زائد ہوں۔ (2) واقع میں تو صفات حسنہ سے خالی ہو اور مدعی ہو کمال صفات کا۔ اور ل محمود ہے اور دوسرا مذموم اور قبیح ہے۔ تکبر کی بدترین قسم یہ ہے کہ آدمی اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری سے سرکشی کرے اور خود سربن جائے۔ (المفردات) سبحان اللہ : سبحان مصدر ہے بمعنی تسبیح (پاکی بیان کرنا) نصب نیز مفرد کی طرف اضافت اس کو لازم ہے۔ خواہ مفرد اسم ظاہر ہو جیسے سبحان اللہ (اللہ پاک ہے) اور سبحان الذی اسری : (پاک ہے وہ ذات جو لے گیا رات کے وقت) یا اسم ضمیر جیسے سبحانہ ان یکون لہ ولد : (اس کے لائق نہیں ہے کہ اس کے اولاد ہو) ۔ اللہ مجرور بوجہ مضاف الیہ ہونے کے۔ عما یشرکون : مرکب ہے رن حرف جار اور ما موصولہ سے۔ جس چیز سے یشرکون مضارع کا صیغہ جمع مذکر غائب اشراک (افعال) مصدر۔ صلہ ہے موصول کا۔ جس چیز کو وہ اس کا (یعنی اللہ کا) شریک بناتے ہیں۔ یعنی اللہ پاک ہے اس چیز سے جس کو وہ (اس کا) شریک بناتے ہیں۔
Ayah 59:24

هُوَ اللّٰهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى١ؕ یُسَبِّحُ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 59:24 in the Quran reader

وہی خدا (تمام مخلوقات کا) خالق ایجاد واختراع کرنیوالا صورتیں بنانے والا اسکے سب اچھے سے اچھے نام ہیں جتنی چیزیں آسمانوں اور زمین میں ہیں سب اس کی تسبیح کرتی ہیں اور وہ غالب حکمت والا ہے۔

(59:24) الخالق : پیدا کرنے والا۔ بنانے والا۔ خلق (باب نصر) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔ الباری : نکال کھڑا کرنے والا۔ پیدا کرنے والا ۔ برء (باب نصر) مصدر سے جس کے معنی بنانے کے ہیں۔ اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔ باری اللہ تعالیٰ کی مخصوص صفت ہے برأ یبرأ کا استعمال پیدا کرنا کے معنی میں ہوتا ہے اس اعتبار سے باری۔ خالق کے ہم معنی ہوگا۔ لیکن آیت ہذا (ھو الخالق الباری المصور) وہی اللہ ہے بنانے والا۔ نکال کھڑا کرنے والا۔ صورت کھینچنے والا۔ سے پتہ چلتا ہے کہ خالق اور باری دو علیحدہ علیحدہ صفتیں ہیں۔ اور ان دونوں میں باہم فرق ہے۔ البتہ ہم معنی ماننے کی صورت میں باری کو خالق کی تاکید سمجھا جاسکتا ہے۔ علامہ آلوسی (رح) لکھتے ہیں :۔ کہ باری وہ ہے جس نے مخلوق کو تفاوت اور اجزاء و اعضاء کے عدم تناسب سے بری پیدا کیا۔ یعنی یہ نہیں کیا کہ ایک ہاتھ تو بہت چھوٹا اور پتلا ہو اور دوسرا بہت موٹا اور بڑا۔ اسی طرح خاصیتوں اور شکلوں اور نیز خوبی اور برائی میں ایک دوسرے سے ممتاز فرمایا ۔ پس اس اعتبار سے باری خاص ہے اور خالق عام ۔ (روح المعانی) یعنی خالق کے معنی ہیں صرف پیدا کرنے والا۔ اور باری کے معنی خاص صفت پر پیدا کرنے والا۔ المصور : اسم فاعل واحد مذکر تصویر (تفعیل) مصدر سے صورت بنانے والا۔ پیدا کرنے والا۔ لہ : میں لام استحقاق کا ہے۔ اسی کے لئے ہیں۔ اسماء الحسنی : موصوف و صفت، خوبصورت نام۔ یسبح : مضارع واحد مذکر غائب۔ تسبیح (تفعیل) مصدر۔ اس کی تسبیح پڑھتا ہے۔ اس کی پاکی بیان کرتا ہے۔ اس کے پاک ہونے کا اقرار کرتا ہے۔ ما : موصولہ۔ فی السموت والارض اس کا صلہ۔ جو آسمانوں اور زمین میں ہے۔ وھو العزیز الحکیم۔ جملہ معترضہ تذییلی ہے۔ ماقبل کی تاکید و تعظیم کے لیے آیا ہے۔ الحکیم : حکمت والا۔ بروزن (فعیل) صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء الحسنی میں سے ہے ۔ کیونکہ اصل حکمت و دانائی اسی کی ہے۔