57. Surah Al-Hadid

الحديدThe Iron · 29 ayahsانوار البیان

Ayah 57:22

مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌۚۖ Open ayah 57:22 in the Quran reader

کوئی مصیبت ملک پر اور خود تم پر نہیں پڑتی مگر پیشتر اس کے کہ ہم اس کو پیدا کریں ایک کتاب میں (لکھی ہوئی) ہے (اور) یہ (کام) خدا کو آسان ہے

(57:22) ما اصاب من مصیبۃ : ما نافیہ۔ من تبعیضیہ ہے۔ اصاب ماضی واحد مذکر غائب اصابۃ (افعال) مصدر۔ بمعنی وہ آپڑا وہ آپہنچا۔ اس نے پالیا۔ مصیبۃ اسم فاعل واحد مؤنث۔ آپہنچنے والی۔ تکلیف۔ غم۔ مصیبت اس کی جمع مصائب ہے۔ ترجمہ : نہیں پہنچتی کوئی مصیبت۔۔ فی الارض زمین میں۔ زمین میں مصیبت مثلاً قحط یا کوئی دوسری آفت۔ ولا فی انفسکم۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے اور نہ پڑتی ہے کوئی مصیبت تمہاری اپنی جانوں میں مثلا بیماری وغیرہ۔ ولا فی کتب : مگر وہ ایک میں لکھی ہوتی ہے۔ کتب سے مراد لوح محفوظ ہے۔ من قبل ان نبراھا : من حرف جار قبل اسم ظرف زمان۔ مجرور، مضاف، ان مصدریہ۔ نبراھا ماضی جمع متکلم۔ برء (باب نصر) مصدر ۔ ھا مفعول واحد مؤنث غائب کا مرجع مصیبۃ ہے۔ مضاف الیہ۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور کوئی مصیبت نہ دنیا میں آتی ہے اور نہ تمہاری جانوں پر مگر یہ کہ ہمارے پیدا کرنے سے پیشتر ہی وہ ایک کتاب (لوح محفوظ) میں لکھی ہوتی ہے۔ برء (باب نصر) بمعنی پیدا کرنا۔ نیست سے ہست میں لانا۔ اسی سے ہے الباری۔ پیدا کرنے والا۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء الحسنی میں سے ہے۔ برء ۔ براء ۔ تبری۔ کسی مکر وہ شے سے چھٹکارا حاصل کرنا۔ خلاصی پانا۔ بیزار ہونا۔ ان ذلک۔ یعنی باوجود کثرت مصائب کے ان کو تفصیل کے ساتھ لوح محفوظ میں لکھ دینا اللہ کے لئے آسان ہے۔ یسیر۔ صفت مشبہ کا صیغہ واحد مذکر۔ یسر مصدر۔ آسان۔ سہل۔
Ayah 57:23

لِّكَیْلَا تَاْسَوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا تَفْرَحُوْا بِمَاۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرِۙ Open ayah 57:23 in the Quran reader

تاکہ جو (مطلب) تم سے فوت ہوگیا ہے اس کا غم نہ کھایا کرو اور جو تم کو اس نے دیا ہو اس پر اترایا نہ کرو اور خدا کسی اترانے والے اور شیخی بگھارنے والے کو دوست نہیں رکھتا

(57:23) لکیلا تاسوا۔ لام تعلیل کا۔ کی ناصف فعل بمعنی ان : کہ۔ لاتا سوا مضارع منفی (منصوب بو کہ عمل ان) جمع مذکر حاضر۔ اسی (باب سمع) مصدر سے تاکہ تم غم نہ کرو۔ علیٰ ما فاتکم : ما موصولہ ہے فات ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ فوت (باب نصر) مصدر۔ فاتہ الامر۔ کسی کام کا نہ ہونا۔ اور ساتھ سے نکل جانا۔ مافاتکم جو تمہارے ہاتھ سے نکل جائے۔ جو تمہارے ہاتھ نہ آئے ۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ ولا تفرحوا : واؤ عاطفہ، لاتفرحوا مضارع منفی منصوب بوجہ عمل ان ۔ تاکہ تم نہ اتراؤ۔ جمع مذکر حاضر، اس جملہ کا عطف سابقہ پر ہے۔ بما اتکم : ب حرف جر۔ ما موصولہ اتی ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ ایتاء (افعال) مصدر۔ اس نے دیا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ ترجمہ :۔ تاکہ جو تمہارے ہاتھ سے نکل جائے اس پر تم غم نہ کھاؤ اور جو اس (اللہ) نے تم کو دیا ہے اس پر اتراؤ نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ :۔ یہاں دنیا میں جو بھی رنج و راحت پیش آتا ہے سب نوشتہ تقدیر ہے۔ جو مصیبت ارضی از قسم قحط، دباء یا بدا منی ہے یا جو مصیبت خود تمہاری ذات پر پڑی ہے۔ مثلا تنگدستی، اولاد، و احباب کی فوتیدگی وغیرہ یہ سب زمین پر آنے سے پہلے یا تم پروارد ہونے سے پیشتر دفتر قضاء و قدر میں تحریر ہوتی ہے ۔ یہ تم کو اس لئے سنا دیا تاکہ تم کسی بات کے ہاتھ سے نکل جانے پر غم مت کرو۔ اور نہ کسی نعمت پر اتراؤ اور یہ سمجھ بیٹھو کہ یہ تمہاری محنت و تدبیر کا پھل ہے اور نہ بخل کرو۔ کل مختال فخور : کل لفظا واحد ہے اور معنی کے لحاظ سے جمع۔ ہمیشہ مضاف استعمال ہوتا ہے۔ نیز ملاحظہ ہو (57:1) متذکرہ بالا۔ مختال مضاف الیہ اسم فاعل واحد مذکر اختیال (افتعال) مصدر سے خیل مادہ۔ ناز سے چلنے والا۔ اترانے والا۔ مغرور۔ متکبر۔ فخور مضاف الیہ۔ فخر (باب فتح) مصدر سے ۔ بڑا شیخی خور۔ بڑا اترانے والا۔ کل منصوب بوجہ مفعول ہونے کے ہے۔ ترجمہ :۔ خدا کسی اترانے والے اور شیخی خور کو پسند نہیں کرتا۔
Ayah 57:24

اِ۟لَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 57:24 in the Quran reader

جو خود بھی بخل کریں اور لوگوں کو بھی بخل سکھائیں اور جو شخص روگردانی کرے تو خدا بھی بےپرواہ (اور) سزاوار حمد (و ثنا) ہے

(57:24) الذین ۔۔ بالبخل۔ یہ مختال فخور کی لغت میں ہے۔ یبخلون مضارع کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ بخل (باب سمع) مصدر سے جو بخل کرتے ہیں۔ بخل کے معنی۔ بخل کرنا۔ کنجوسی کرنا۔ مال و متاع کو ایسی جگہ خرچ کرنے سے روک رکھنا جہاں خرچ کرنا چاہیے۔ بخل کی دو قسمیں ہیں :۔ (1) ایک یہ کہ خود مناسب جگہ خرچ نہ کرنا۔ (2) دوسرے یہ کہ دوسروں کو اس خرچ کرنے سے بھی روک دینا۔ یہ اور بھی زیادہ قابل مذمت ہے۔ آیت ہذا میں دونوں قسم کے بخل مذکور ہیں۔ بخل سے باخل بخل کرنے والا۔ اور بخیل مبالغہ کا صیغہ ہے بہت بخل کرنے والا جیسے الراحم (رحم کرنے والا) اور الرحیم (بہت رحم کرنے والا) ۔ ومن یتول : واؤ عاطفہ من شرطیہ۔ یتول مضارع واحد مذکر غائب، تولی (تفعل) مصدر سے۔ اور جو منہ موڑے گا۔ اعراض کرے گا۔ یعنی جو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے اعراض کرے گا۔ فان اللہ ھو الغنی الحمید :جواب شرط کے لئے ہے ھو الغنی تو وہ اللہ اس کے اعراض سے (یعنی اس کے راہ میں خرچ نہ کرنے سے) بےپرواہ ہے۔ الحمید : محمود فی ذاتہ۔ یعنی وہ بذاتہ مستحق حمد ہے کوئی اس کی حمد کرے یا نہ کرے۔
Ayah 57:25

لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَ اَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ١ۚ وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْهِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ وَ رُسُلَهٗ بِالْغَیْبِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ۠ Open ayah 57:25 in the Quran reader

ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی نشانیاں دے کر بھیجا اور ان پر کتابیں نازل کیں اور ترازو (یعنی قواعد عدل) تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں اور لوہا پیدا کیا اس میں (اسلحہ جنگ کے لحاظ سے) خطرہ بھی شدید ہے اور لوگوں کیلئے فائدے بھی ہیں اور اس لئے کہ جو لوگ بن دیکھے خدا اور اس کے پیغمبروں کی مدد کرتے ہیں خدا ان کو معلوم کرلے بیشک خدا قوی (اور) غالب ہے

(57:25) بالبینت : روشن دلیلوں کے ساتھ۔ دلائل و معجزات کے ساتھ۔ وانزلنا معھم الکتب : اور ان کے ساتھ کتاب نازل کی تاکہ حق کا باطل سے۔ عمل صالح کا عمل فاسد سے اور حلال کا حرام سے امتیاز ہوجائے۔ والمیزان : اس کا عطف الکتب پر ہے۔ یعنی ہم نے ان رسولوں کے ساتھ میزان بھی اتارا۔ عدل و انصاف کے لئے۔ لیقوم الناس : لام تعلیل کا ہے یہ جملہ علت ہے کتاب اللہ اور میزان کے نازل کرنے کی۔ قسط بمعنی عدل و انصاف۔ والمعنی : لتقوم حیاتھم فیما بینہم علی اساس العدل۔ (السیر التفاسیر) تاکہ ان کی باہمی زندگی عدل و انصاف کی بنیادوں پر قائم ہوسکے۔ تاکہ لوگ عدل کریں اور کوئی کسی کی حق تلفی نہ کرے۔ (تفسیر مظہری) والنزلنا الحدید : اور ہم نے لوہا (بھی) اتارا۔ لوہے کے نازل کرنے سے مراد ہے اس کا پیدا کرنا کہ زمین میں سے کانوں سے برآمد کیا جاتا ہے۔ فیہ باس شدید : میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع الحدید ہے۔ باس شدید موصوف و صفت۔ باس بمعنی لڑائی۔ دبدبہ۔ سختی۔ جنگ کی شدت۔ اس میں شدید ہیبت ہے جنگ کی سختی ہے، کیونکہ جنگ میں شدت آلات حرب سے ہی پیدا ہوتی ہے اور آلات حرب لوہے سے بنائے جاتے ہیں ۔ و منافع للناس : اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ اور اس میں لوگوں کیلئے بہت سے فوائد ہیں۔ مثلاً آلات صنعت و حرفت وغیرہ فیہ باس شدید و منافع للناس۔ یہ جملہ حدید سے حال ہے۔ اور ہم نے لوہا پیدا کیا جس میں سخت جنگ کے سامان اور لوگوں کے فائدے ہیں۔ ولیعلم اللہ اس کا عطف جملہ محذوف پر ہے۔ عبارت تقدیر کلام کچھ یوں ہے :۔ وانزلنا الحدید (لیستعملوہ) ۔ ولیعلم اللہ اور ہم نے لوہا پیدا کیا ۔ تاکہ وہ (یعنی لوگ) اسے استعمال کریں اور تاکہ اللہ تعالیٰ معلوم کرے کہ کون اس کی اور اس کے رسول کی غائبانہ مدد کرتا ہے۔ لیعلم لام تعلیل کا ہے۔ یہ جملہ علت ہے لوہا پیدا کرنے کی۔ یعلم مضارع منصوب بوجہ عمل لام تعلیل کے۔ بالغیب : ینصر کے فاعل سے حال ہے۔ ان اللہ قوی عزیز : جملہ معترضہ ہے۔ ماقبل کی تائید کے لئے لایا گیا ہے۔ یعنی دراصل اللہ کو کسی کی مدد کی ضرورت نہیں ہے وہ خود قوی عزیز ہے۔ یہ جو فرمایا : ۔ لیعلم اللہ من ینصرہ ورسلہ بالغیب۔ یہ محض امتحان لینے کے لئے ہے کہ کون دین اسلام کی بقاء و اشاعت کے لئے کہاں تک کوشش کرتا ہے۔ قوی قوۃ سے صفت مشبہ کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ زبردست، بڑی قوت والا۔ عزیز : عزۃ سے فعیل کے وزن پر بمعنی فاعل مبالغہ کا صیغہ ہے۔ غالب ، زبردست، گرامی قدر۔
Ayah 57:26

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّ اِبْرٰهِیْمَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ فَمِنْهُمْ مُّهْتَدٍ١ۚ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:26 in the Quran reader

اور ہم نے نوح اور ابراہیم کو (پیغمبر) بنا کر بھیجا اور انکی اولاد میں پیغمبری اور کتاب (کے سلسلے) کو (وقتاً فوقتاً جاری) رکھا تو بعض تو ان میں سے ہدایت پر ہیں اور اکثر ان میں سے خارج از اطاعت ہیں

(57:26) جعلنا : ماضی جمع متکلمحبل (باب فتح) مصدر سے بمعنی ہم نے رکھا ہم نے بنایا۔ ہم نے ٹھیرایا۔ ہم نے کیا۔ ہم نے مقرر کیا امام راغب (رح) تحریر فرماتے ہیں :۔ ھعل ایسا لفظ ہے جو تمام افعال کے لئے عام ہے۔ یہ فعل ، صنع اور اس کی قسم کے عام الفاظ سے اعم ہے۔ ذریتھما۔ مضاف مضاف الیہ۔ ذریۃ اولاد۔ ھما ضمیر تثنیہ مؤنث، مذکر غائب ان دونوں کی اولاد۔ آیت کا ترجمہ ہے :۔ اور ہم نے (حضرت) نوح (حضرت) ابراہیم (علیہما السلام) کو (پیغمبر بناکر) بھیجا۔ اور ان دونوں کی اولاد میں پیغمبری اور کتاب (کے سلسلے) کو (وقتا فوقتا) جاری رکھا۔ (ترجمہ فتح محمد جالندھری) ۔ کتاب مثلاً توریت (حضرت موسیٰ پر) انجیل (حضرت عیسیٰ پر) زبور (حضرت داؤد پر) ۔ فمنھم : پس ان میں سے بعض ، من تبعیضیہ ہے۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب ذریتھما ہے (ان دونوں کی اولاد ہے) یا وہ لوگ جن کی ہدایت کے لئے پیغمبروں کو بھیجا گیا تھا۔ مھتد۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ اھتداء (افتعال) مصدر۔ ھدی مادہ۔ ہدایت پانے والے ۔ ہدایت یافتہ۔ فسقون اسم فاعل واحد مذکر۔ فسق (باب ضرب و نصر) مصدر۔ بدکردار۔ راستی سے نکل جانے والے۔ اللہ کے نافرمان۔ شریعت کی اصطلاح میں : حدود شریعت سے نکل جانے والے۔
Ayah 57:27

ثُمَّ قَفَّیْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا وَ قَفَّیْنَا بِعِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ وَ اٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ١ۙ۬ وَ جَعَلْنَا فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ رَاْفَةً وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ رَهْبَانِیَّةَ اِ۟بْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنٰهَا عَلَیْهِمْ اِلَّا ابْتِغَآءَ رِضْوَانِ اللّٰهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَایَتِهَا١ۚ فَاٰتَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْهُمْ اَجْرَهُمْ١ۚ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:27 in the Quran reader

پھر ان کے پیچھے انہی کے قدموں پر (اور) پیغمبر بھیجے اور ان کے پیچھے مریم کے بیٹے عیسیٰ کو بھیجا اور ان کو انجیل عنایت کی اور جن لوگوں نے ان کی پیروی کی ان کے دلوں میں شفقت اور مہربانی ڈال دی اور لذات سے کنارہ کشی تو انہوں نے خود ایک نئی بات نکال لی تھی ہم نے ان کو اس کا حکم نہیں دیا تھا مگر (انہوں نے اپنے خیال میں) خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے (آپ ہی ایسا کرلیا تھا) پھر جیسا اس کو نباہنا چاہیے تھا نباہ بھی نہ سکے پس جو لوگ ان میں سے ایمان لائے ان کو ہم نے انکا اجر دیا اور ان میں بہت سے نافرمان ہیں

(57:27) ثم۔ پھر۔ (تراضی فی الوقت) قفینا۔ ماضی جمع متکلم ۔ تقفیۃ (تفعیل) مصدر بمعنی پیچھے بھیجنا۔ پیچھے کہہ دینا۔ اس کا مادہ قفا ہے۔ قفا کے معنی گردن اور سر کا پچھلا حصہ (گدی) قفو، قفو کے معنی کسی کے پیچھے چلنا۔ پیروی کرنا۔ اس معنی میں مجرد (باب نصر) سے مستعمل ہے۔ تقفیۃ دو مفعول چاہتا ہے۔ دونوں مفعولوں پر کبھی حرف جر نہیں ہوتا۔ جیسے کہ فقیت زیدا عمرا میں نے زید کو عمر کے پیچھے بھیجا۔ کبھی مفعول دوئم پر ب آتا ہے۔ جیسے کہ آیت ہذا میں :۔ ثم قفینا علی اثارھم برسلنا۔ ہم نے ان کے قوموں کے نشان پر (یعنی بالکل ان کے پیچھے پیچھے) اپنے رسول بھیجے۔ اور کبھی مفعول اول حذف کردیا جاتا ہے۔ جیسے وقفینا بعیسی ابن مریم ہم نے (پیغمبروں کے پیچھے) عیسیٰ بن مریم کو بھیجا ۔ آیت زیر غور۔ اثارھم۔ مضاف مضاف الیہ۔ اثار جمع ہے اثر کی۔ نقش قدم۔ ان کے نشانات قدم ۔ ان کے نشانات۔ وجعلنا فی قلوب الذین اتبعوہ رأفۃ ورحمۃ : واؤ عاطفہ جعلنا ماضی جمع متکلم فی حرف جار الذین اسم موصول ۔ جمع مذکر۔ اتبعوا ماضی جمع مذکر غائب صلہ اپنے موصول کا۔ دونوں مل کر مضف الیہ۔ قلوب مضاف کے۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مجرور اتبعوہ میں ہ ضمیر مفعول فعل اتبعوا کی۔ رافۃ ورحمۃ ہر دو مفعول فعل جعلنا کے۔ ترجمہ :۔ اور ہم نے ان لوگوں کے دلوں میں اس کی (حضرت عیسیٰ کی) پیروی کی نرمی اور مہربانی رکھ دی۔ ورھبانیۃ ن ابتدعوھا۔ اور رھنابیۃ اسے انہوں نے خود ایجاد کرلیا تھا ۔ ای وابتدء وارھبانیۃ (روح المعانی) ما کتبناھا علیہم۔ ہم نے اسے (یعنی رہبانیۃ کو) ان پر واجب نہیں کیا تھا۔ یہ جملہ مستانفہ ہے۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب : رھبانیۃ کے لئے ہے۔ اور ھم ضمیر جمع مذکر غائب حضرت عیسیٰ کے پیروکاروں کے لئے (الذین اتبعوہ) ۔ کتب علی۔ فرض کرنا ۔ واجب کرنا۔ الا ابتغاء رضوان اللہ۔ یہ استثناء منقطع ہے بلکہ طلب رضائے الٰہی کو ہم نے واجب کیا تھا۔ ابتغاء (افتعال) کے وزن پر مصدر ہے۔ تلاش کرنا۔ چاہنا۔ رضوان ، رضی، یرضی کا مصدر ہے۔ رضا مندی۔ خوشنودی رھبانیۃ۔ رھب یرھب رھب (باب سمع) کا مصدر سے ماخوذ ہے۔ جس کا مطلب خوف اور ڈر ہے۔ یعنی وہ مسلک یا طرز زندگی جو خوف اور ڈر پر مبنی ہو۔ امام راغب (رح) کے مطابق اس کا مطلب ہے :۔ فرط خوف سے عبادات و ریاضات میں حددرجہ غلو کرنا۔ علامہ پانی پتی (رح) کے نزدیک رہبانیت ہے انتہائی عبادت و ریاضت۔ لوگوں سے قطع تعلق، مرغوبات و خواہشات کا ترک اور اس حد تک ترک کہ مباح کو بھی چھوڑ دیا جائے دن بھر روزہ۔ رات بھر عبادت، نکاح سے لاتعلقی، دائمی تجرد۔ لسان العرب میں ہے :۔ رہبانیت : دنیا کے مشاغل کو ترک کردینا۔ اس کی لذتوں کو نظر انداز کردینا۔ اہل دنیا سے عزلت گزینی۔ اپنے آپ کو طرح طرح کی مشقتوں میں مبتلا کردینا۔ ان میں سے بعض لوگ اپنے آپ کو خصی کردیا کرتے تھے۔ اور اپنے آپ کو طرح طرح کے عذابوں میں مبتلا کردیتے تھے۔ فما رعوھا حق رعایتھا : ما نافیہ ہے۔ رعوا ماضی جمع مذکر غائب رعایۃ (باب فتح) مصدر سے۔ بمعنی نباہ کرنا۔ دھیان کرنا۔ نگہداشت کرنا۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع رھبانیۃ ہے۔ پھر وہ نباہ نہ سکے جیسا کہ اس کے نباہنے کا حق تھا۔ فاتینا :پس اتینا ماضی جمع متکلم ایتاء (افعال) مصدر ہم نے دیا۔ ہم نے بخشا ، ہم نے عطا کیا۔ الذین امنوا جو لوگ ایمان لائے۔ مراد وہ لوگ ہیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر صحیح طور پر ایمان لائے۔ اور رہبانیت کے تقاضوں کو پورا کیا۔ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی وصیت کے مطابق رسول اللہ ﷺ پر ایمان لے آئے۔ الذین امنوا مفعول ہے اتینا کا۔ منھم میں ضمیر ہم جمع مذکر غائب کا مرجع وہ لوگ جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اتباع کا دعویٰ کرتے تھے۔ اجرہم : مضاف مضاف الیہ۔ ان کا اجر۔ وکثیر منھم فسقون ۔ اور ان میں سے اکثر فاسق و فاجر تھے۔ کہ انہوں نے ترک دنیا کو حصول مال و جاہ کا ذریعہ بنا لیا۔ راہ اعتدال سے بھٹک گئے۔ اور فسق و فجور کی غلاظتوں میں ڈوب گئے۔
Ayah 57:28

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اٰمِنُوْا بِرَسُوْلِهٖ یُؤْتِكُمْ كِفْلَیْنِ مِنْ رَّحْمَتِهٖ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ نُوْرًا تَمْشُوْنَ بِهٖ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌۚۙ Open ayah 57:28 in the Quran reader

مومنو ! خدا سے ڈرو اور اس کے پیغمبر پر ایمان لاؤ وہ تمہیں اپنی رحمت سے دگنا اجر عطا فرمائے گا اور تمہارے لئے روشنی کر دے گا جس میں چلو گے اور تم کو بخش دے گا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

(57:28) یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وامنوا برسولہ۔ امنواماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ اس میں ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع الذین ہے اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو (حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) پر) ۔ اتقوا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ اتقاء (افتعال) مصدر۔ تم ڈرو۔ پرہیزگاری اختیار کرو۔ وامنوا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ ایمان (افعال) مصدر۔ تم ایمان لاؤ۔ برسولہ اس کا رسول پر (یعنی محمد ﷺ پر) یہ جملہ امر ہے۔ جواب امر میں فرمایا۔ یؤتکم کفلین من رحمتہ۔ وہ تم کو اپنی رحمت سے (ثواب کے) دو حصے عطا کرے گا۔ ایک اجر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے کا اور دوسرا اجر حضرت محمد ﷺ اور قرآن پر ایمان لانے کا۔ کفلین۔ دو حصے۔ کفل واحد۔ کفل اس حصہ اور نصیب کو کہتے ہیں جو کافی ہو۔ (یعنی جو ماسوا سے بےنیاز کر دے) یہاں مراد دنیا اور آخرت کی کامیابی ہے۔ ویجعل لکم نورا تمشون بہ۔ اور تم کو ایسا نور دے گا جو کہ اس کی روشنی میں تم چلو گے۔ ویغفرلکم اور تم کو بخش دے گا۔ یؤت۔ یجعل۔ یغفر۔ مضارع مجزوم بوجہ جواب امر ہیں۔
Ayah 57:29

لِّئَلَّا یَعْلَمَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَلَّا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اَنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 57:29 in the Quran reader

(یہ باتیں) اس لئے (بیان کی گئی ہیں) کہ اہل کتاب جان لیں کہ وہ خدا کے فضل پر کچھ بھی قدرت نہیں رکھتے اور یہ کہ فضل خدا ہی کے ہاتھ میں ہے جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے

(57:29) لئلا یعلم : میں لا نافیہ زائدہ ہے معنی ہے لیعلم۔ لام علت کا ہے یعنی یہ دوہرا ثواب، یہ نور کی عطائیگی اور یہ بخشش اس لئے ہے تاکہ اہل کتاب (اچھی طرح) جان لیں۔ الا مرکب ہے ان مصدریہ اور لا نافیہ سے۔ کہ نہیں۔ یقدرون مضارع منفی جمع مذکر غائب قدرۃ (باب ضرب) مصدر۔ وہ قدرت نہیں رکھتے۔ وان الفضل بید اللہ۔ جملہ کا عطف الا یقدرون پر ہے ان حروف مشبہ بالفعل میں سے ہے الفضل اسم ان بید اللہ خبر۔ یؤتیہ من یشاء ۔ ان کی خبرثانی۔ واللہ ذوا الفضل العظیم۔ اور اللہ صاحب فضل عظیم ہے۔ جملہ معترضہ ہے۔ مضمون ما قبل کی تائید کے لئے لایا گیا ہے۔