Ayah 55:41(55:41) یعرف المجرمون : یعرف : مضارع مجہول واحد مذکر غائب۔ عرفان (باب ضرب) مصدر۔ المجرمون : اسم فاعل جمع مذکر اجرام (افعال) مصدر۔ جرم کرنے والے ۔ گناہ کرنے والے۔ نائب فاعل ۔ گنہگار لوگ پہچانے جائیں گے۔
بسیمہم : ب حرف جر۔ سیماہم مضاف مضاف الیہ مل کر مجرور۔ سیما کے معنی نشانی۔ اور علامت کے ہیں۔ یہ اصل میں وسعی تھا۔ واؤ کا فاء کلمہ کی بجائے ع کلمہ کی جگہ رکھا گیا۔ تو سومی ہوا۔ پھر واؤ ماقبل مکسور واؤ کو یاء کرلیا گیا اور سیمی ہوگیا۔ ان کا چہرہ ۔ ان کی نشانی۔ اس صورت میں اس کا مادہ و س م ہے۔
مادہ س و م سے السیماء کے معنی علامت کے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے :۔ سیماہم فی وجوھہم من اثر السجود (48:29) کثرت سجود کے اثر سے ان کی پیشانیوں پر نشان پڑے ہوئے ہیں۔
فیؤخذ بالنواصی والاقدام :ترتیب کا ہے یؤخذ فعل مضارع مجہول واحد مذکر غائب ۔ اخذ (باب نصر) مصدر۔ ب تعدیہ کی ہے۔ اخذ ب کے ساتھ اور بغیر ب کے استعمال ہوتا ہے۔ جیسے اخذت الخطام واخذت بالخطام : میں نے نکیل سے (اونٹ) کر پکڑا۔ نواصی جمع ہے اس کا واحد ناصیۃ ہے۔ پیشانیاں، پیشانیوں کے بال ۔ واؤ عاطفہ ہے الاقدام معطوف جس کا عطف نواصی پر ہے۔ اقدام جمع ہے قدم کی بمعنی پاؤں۔
ترجمہ : گنہگار ان کے چہروں سے پہچانے جائیں گے پھر ان کی پیشانی کے بالوں سے اور ٹانگوں سے پکڑ لیا جائے گا۔
Ayah 55:42(55:42) فبای الاء ربکما تکذبن : (اس وقت) تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔
Ayah 55:43(55:43) ھذا جھنم التی ۔۔ ای یقال لہم : ھذا جھنم ۔۔ الخ۔
بھا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع جنھم ہے۔
Ayah 55:44(55:44) یطوفون : یہ آیت حال ہے المجرمون سے (آیت 43 سے) جمع مذکر غائب مضارع معروف طوف (باب نصر) مصدر۔ وہ طواف کریں گے۔ وہ گھومیں گے وہ چکر لگائیں گے۔ بینھا میں ھا ضمیر واحد مؤنث جہنم کے لئے ہے۔
وحمیم ان واؤ عاطفہ۔ حمیم ان موصوف و صفت۔ نہایت گرم پانی۔ گہرے دوست کو بھی ” حمیم “ کہتے ہیں۔ کیونکہ وہ بھی اپنے دوست کی حمایت میں گرم ہوجاتا ہے۔ مگر سخت گرم پانی کے لحاظ سے اس کی جمع حمائم اور دوسرے معنی کے لحاظ سے احمائ۔
دوست کے معنی میں حمیم قرآن مجید میں آیا ہے ولایسئل حمیم حمیما (70:10) اور کوئی دوست کسی دوست کا پرساں حال نہ ہوگا۔ ان صفت ہے حمیم کی اسم فاعل کا صیغہ انی سے جس کے معنی سخت کھولنے اور پکنے کے ہیں َ اور جگہ قرآن مجید میں ہے تسقی من عین انیۃ (88:5) ایک کھولتے ہوئے چشمے کا پانی ان کو پلایا جائے گا۔
Ayah 55:45(55:45) فبای الاء ربکما تکذبان۔ پھر تم اپنے رب کی کون کون سی قدرتوں کو جھٹلاؤ گے ؟
Ayah 55:46(55:46) ولمن خاف۔ واؤ عاطفہ لام استحقاق کا ہے۔ من موصولہ ۔ اور اس کے لئے ہے جو ڈرا۔
مقام مصدر میمی بمعنی کھڑا ہونا۔ اس صورت میں اس کے دو مفہوم ہوں گے۔:۔
(1) یہ کہ جو لوگ ہر وقت اس بات سے خوف زدہ رہتے ہیں کہ ان کا رب ان کی نگرانی کر رہا ہے وہ ان کے افعال و اقوال سے پوری طرح باخبر ہے وہ ڈرتے ہیں کہ کوئی ایسی بھول نہ ہوجائے جس کے باعث ان کا رب ان سے ناراض ہوجائے۔
(2) یہ کہ وہ لوگ جو اپنے رب کی جناب میں کھڑے ہونے سے ہر وقت ڈرتے رہتے ہیں۔
اگر مقام اسم ظرف لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ :۔ وہ لوگ جو اس جگہ سے ہر وقت خائف ولرزاں رہتے ہیں جہاں کھڑا کرکے ان سے حساب لیا جائے گا۔
جنتان : دو جنتیں اور یہ مبتدا ہے لمن خاف اس کی خبر۔
Ayah 55:47(55:47) فبای الاء ربکما تکذبن : تم اپنے رب کے کن کن انعامات کو جھٹلاؤ گے ؟
یہاں سے آخر تک الاء کا لفظ نعمتوں کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے اور قدرتوں کے معنی میں بھی اور ایک پہلو اس میں اوصاف حمیدہ کا بھی ہے۔
Ayah 55:48(55:48) ذواتا افنان : ذواتا ذات کا تثنیہ بحالت رفع ہے۔ والیاں ۔ صاحب مضاف، افنان یہ یا تو فنن کی جمع ہے (بروزن فعل) بمعنی شاخیں یا فن (فعل) کی جمع ہے بمعنی نوع، قسم، رنگارنگ۔
علامہ ابوحیان بحر المحیط میں اول الذکر کو اولیٰ سمجھتے ہیں کیونکہ افعال (افنان) کے وزن پر فعل (فنن) کی جمع بہ نسبت فعل (فن) کی اسی وزن (افعال) پر جمع کے زیادہ مستعمل ہے علماء کی اکثریت کی یہی رائے ہے۔ مضاف الیہ ہے۔
ذواتا افنان (شاخوں والیاں) یہ جنتن کی صفت ہے۔ یعنی پھلے پھولے، ہرے بھرے۔ خزاں۔ گرمی و سردی سے محفوظ۔
Ayah 55:49(55:49) فبای الاء ربکما تکذبن : پھر تم (اے گروہ جن و انس) اپنے رب کے کن کن انعامات کو جھٹلاؤ گے۔ نیز ملاحظہ ہو آیت متذکرۃ الصدر۔
Ayah 55:50(55:50) فیہا عینن تجریان : ان دونوں جنتوں میں دو چشمے جاری ہوں گے۔ عین اصل معنی آنکھ کے ہیں جو کہ بطور مؤنث مستعمل ہے اس کے معانی چشمہ، ندی، وغیرہ بطور استعارہ استعمال ہوتے ہیں۔
Ayah 55:51(55:51) فبای الاء ربکما تکذبن۔ ملاحظہ ہو آیت 55:47 متذکرہ الصدر۔
Ayah 55:52(55:52) فیہما۔ ضمیر ھما تثنیہ مذکر مؤنث غائب جنتن کے لئے ہے۔
من کل فاکھۃ : من حرف جر۔ کل فاکھۃ مضاف مضاف الیہ مل کر مجرور۔ فاکھۃ بمعنی ہر قسم کے میوے (نیز ملاحظہ ہو آیت 11 ۔ متذکرۃ الصدر۔
زوجن : زوج کا تثنیہ۔ زوجن قسم قسم ، وہ دو شکلیں جن میں سے ہر ایک دوسرے کا نظیر ہو، یا نقیض ہو۔
ترجمہ : اور ان دونوں باغوں میں ہر طرح کے میووں کی دو قسمیں ہوں گی (ایک وہ جسے تم جانتے ہو اسے دیکھا اور چکھا بھی ہوگا۔ دوسرے وہ جو تمہارے لئے جو تمہارے لئے بالکل نئی ہوگی) ۔
Ayah 55:53(55:53) ملاحظہ ہو آیت نمبر 53 متذکرہ الصدر۔
Ayah 55:54(55:54) متکئین : اسم فاعل جمع مذکر اتکاء (افتعال) مصدر۔ تکیہ لگانے والے۔ تکیہ لگائے ہوئے۔ منصوب بوجہ حال ہونے کے خائفین سے آیت (46) ۔ درآں حال یہ کہ وہ تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے (من خاف جمع کے معانی میں ہے)
فرش۔ فراش کی جمع بمعنی بستر، بچھونا۔ فرش وفراش مصدر (باب نصر، ضرب) ۔ الفرش کے اصل معنی کپڑے کو بچھانے کے ہیں۔ لیکن بطور اسم کے ہر اس چیز کو جو بچھائی جائے فرش وفراش کہا جاتا ہے۔ چناچہ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ الذی جعل لکم الارض فراشا (2:22) جس نے تمہارے لئے زمین کو بچھونا بنایا۔ آیت زیر غور کا ترجمہ ہوگا۔ ایسے بچھونوں پر جن کے استر اطلس کے ہوں گے۔
بطائنھا : مضاف مضاف الیہ۔ بطائن بطانۃ کی جمع ہے بمعنی استر، کپڑے کا باطنی حصہ جو جسم سے ملاد ہے۔ یہ بطن سے مشتق ہے یہ ظھر کی ضد ہے اوپر کی جانب کو ظہر اور اندر کی جانب کو بطن بولتے ہیں۔
کپڑے کے اوپر کے حصے کو ظھارۃ کہتے ہیں اور اندرونی نیچے کے حصہ کو جو جسم سے ملا رہے۔ جیسے استر وغیرہ اسے بطانۃ کہتے ہیں
البطن کے اصل معنی پیٹ کے ہیں اور اس کی جمع بطون ہے۔ ہر اس چیز کو جس کا حاسہ بصر سے ادراک ہو سکے اسے ظاہر اور جس کا حاسہ بصر سے ادراک نہ ہوسکے۔ اسے باطن کہا جاتا ہے۔
ھا ضمیر واحد مؤنث غائب فرش کے لئے ہے ان بستروں کے استر۔
استبرق۔ ریشم کا زریں موٹا کپڑا۔ دیبا۔
بطائنھا من استبرق۔ یہ صفت ہے فرش کی، ان بستروں کے استر ریشم کے موٹے کپڑے کے ہوں گے۔
وجنا الجنتین دان۔ واؤ عاطفہ۔ جنا الجنتین مضاف مضاف الیہ مل کر مبتدا دان اس کی خبر۔
جناح : ن ی مادہ سے مشتق ہے۔ جنیت (باب ضرب) جن یا الثمرۃ واجتنی تھا۔ میں نے درخت سے پھل توڑا۔ جنا وجنی اسم ہے بمعنی اسم مفعول مجنی یعنی درختوں سے چنے جانے والے اور توڑے جانے والے پھل۔ یعنی جنت کے درختوں سے پھل توڑنا آسان ہوگا دشوار نہ ہوگا۔
دان : اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔ جھکنے والا ، نزدیک۔ دنو (باب نصر) مصدر۔ اسی سے دنیا ہے جو اسم تفضیل ہے بمعنی بہت قریب۔ اسی معنی میں اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ وذللت قطوفھا تذلیلا (72:14) اور میووں کے گچھے جھکے ہوئے لٹک رہے ہونگے
Ayah 55:55(55:55) فبای الاء ربکما تکذبن۔ ملاحظہ ہو آیت 47 متذکرۃ الصدر۔
Ayah 55:56(55:56) فیھن : میں ضمیر جمع مؤنث غائب یا تو جنتوں کے محلات کے لئے ہے یا جنت کی جملہ نعمتوں کے لئے۔ ان باغات میں جو محلات اور مکانات ان جنتیوں کے لئے بنائے گئے ان میں ایسی عورتیں ہوں گئی جو شرم و حیا کا پیکر ہوں گی ان کی نگاہیں جھکی ہوں گے۔
قصرت الطرف : مضاف مضاف الیہ۔ قصرت اسم فاعل جمع مؤنث۔ قاصرۃ واحد قصر باب ضرب مصدر۔ نظر روکنے والیاں۔ پاک دامن عورتیں۔ وہ عورتیں جن کی نظر اپنے شوہروں سے ہٹ کر دوسروں پر نہ پڑے۔
قصر البصر کے معنی ہیں نظر کو روکا۔ نظر کو سمیٹا۔ الطرف نگاہ۔ اسم فاعل کی اضافت اپنے مفعول کی طرف کی گئی ہے۔
لم یطمثھن مضارع نفی تاکید۔ بلم۔ صیغہ واحد مذکر غائب ھن ضمیر مفعول جمع مؤنث غائب ازواج کی طرف راجع ہے جس پر قصرت الثرف دال ہے۔ طمث باب ضرب مصدر کے معنی۔
(1) دم حیض، حیض کا خون۔
(2) کسی عورت کا بکارت کو ضائع کرنا۔ طمث المرأۃ اس مرد نے عورت کی بکارت زائل کردی اور ما طمث الناقۃ جمل۔ اس اونٹنی کو کسی اونٹ نے بھی نہیں چھوڑا۔
(3) الجماع یا المس (چھونا) ۔
لم یطمث میں ضمیر فاعل انسن اور جان کی طرف راجع ہے۔
قبلہم میں بھی ضمیر کا مرجع انس اور جان ہیں ۔ جن کو بہشت میں ایسی ازواج ملیں گی۔ ترجمہ ہوں ہوگا :۔ (اب باغات کے) محلات میں اور مکانات میں نگاہ نیچے رکھنے والی عورتیں ہوں گے جن سے کسی انسان یا کسی جن نے ان کے اپنے سے پہلے (نہ تو) جماع کیا ہوگا (اور نہ ہی چھوا ہوگا) ۔
Ayah 55:57(55:57) فبای الاء ربکما تکذبن۔ ملاحظہ ہو آیت 47 متذکرۃ الصدر۔
Ayah 55:58(55:58) کانھن : کان حر مشبہ بالفعل۔ ھن ضمیر جمع مؤنث غائب کان کا اسم۔ گویا وہ سب۔ الیاقوت والمرجان خبر۔ گویا کہ وہ سب یاقوت اور مونگاہیں ۔ یہ قصرت الطرف کی صفت ہے۔
Ayah 55:59(55:59) فبای الاء ربکما تکذبن۔ ملاحظہ ہو آیت 47 متذکرۃ الصدر۔
Ayah 55:60(55:60) ہل۔ حرف استفہام ہے۔ الا سے پہلے آئے تو ما نافیہ کے معنی دیتا ہے۔ ترجمہ آیت از مولانا فتح محمد جالندھری۔ نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا کچھ نہیں۔
یا استفہام انکاری کے طور پر۔ جیسے نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا کچھ اور کیا ہے (تفسیر حقانی)
جزاء الاحسان : مضاف مضاف الیہ ۔ نیکی کا بدلہ۔ الاحسان نیکی کرنا۔ افعال کے وزن پر احسان مصدر ہے۔ اس کے دو معنی ہیں۔
(1) غیر کے ساتھ بھلائی کرنا۔
(2) کسی اچھی بات کا معلوم کرنا۔ اور نیک کام کا انجام دینا۔
صاحب تفسیر مظہری لکھتے ہیں :۔ یعنی دنیا میں نیک کام کرنے کا آخرت میں بدلہ اچھا ہی ہوگا۔
بغوی نے حضرت انس ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت ہل جزاء الاحسان ۔۔ تلاوت فرمائی۔ پھر ارشاد فرمایا :۔ جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا ارشاد فرمایا ہے۔ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ اللہ اور اللہ کے رسول ہی بخوبی واقف ہیں۔
فرمایا :۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :۔ جس کو میں نے توحید کی نعمت عطا کی اس کا بدلہ سوائے جنت کے اور کچھ نہیں ہے۔ روح المعانی میں بھی احسان سے مراد التوحید ہی لیا ہے۔ لکھتے ہیں وقیل المراد ما جزاء التوحید الا الجنۃ توحید کا بدلہ سوائے جنت کے اور کچھ نہیں ہے۔
Ayah 55:61(55:61) فبای الاء ربکما تکذبن۔ ملاحظہ ہو آیت 47 متذکرۃ الصدر۔
Ayah 55:62(55:62) من دونھا جنتن : دونھا مضاف مضاف الیہ مل کر مجرور من حرف جار۔ جنتن مبتدا۔ من دونھما خبر۔
دون بمعنی روئے۔ سوائے۔ غیر۔ ضو کسی سے نیچا ہو۔ جو کسی چیز سے قاصر ۔ یا کو تا ہ ہو۔ ھما ضمیر تثنیہ (مذکر ، مؤنث) غائب۔ ان دونوں جنتوں کے لئے ہے جن کا ذکر آیت 46 ولمن خاف مقام ربہ جنتن میں مذکور ہے۔ اور ان دونوں باغوں کے سوا یا ان دونوں باغوں سے کم تر درجہ میں دو اور باغ ہیں ۔
Ayah 55:63(55:63) فبای الاء ربکما تکذبن۔ ملاحظہ ہو آیت 47 متذکرۃ الصدر۔
Ayah 55:64(55:64) مدھامتن اسم فاعل تثنیہ مؤنث اسھیمام (افعیلال) ۔ مصدر۔ واحد مدھامۃ۔ دو گہری سبز (جنتیں) ادھیمام کے اصل معنی بہت زیادہ سیاہ ہونا کے ہیں۔ چونکہ انتہائی سرسبز و شاداب باغ سیاہی مائل ہوتا ہے اس لئے یہ تعبیر کی گئی یہ جنتن کی صفت ہے۔
Ayah 55:65(55:65) فبای الاء ربکما تکذبن۔ ملاحظہ ہو آیت 47 متذکرۃ الصدر۔
Ayah 55:66(55:66) فیہما عینن نضاختن : عینن موصوف نضاختن صفت، صفت موصوف مل کر مبتدا۔ فیہما اس کی خبر۔
عینن دو چشمے۔ نضاختن تثنیہ مبالغہ۔ نضاخۃ واحد۔ دو ابلتے ہوئے جوش زن (چشمے) جن کا پانی کبھی بند نہ ہو۔ نضخ (باب فتح) مصدر۔ بمعنی پانی چھڑکنا۔ بہت جوش زن ہونا۔
Ayah 55:67(55:67) فبای الاء ربکما تکذبن۔ ملاحظہ ہو آیت 47 متذکرۃ الصدر۔
Ayah 55:68(55:68) فیہما فاکہۃ ونخل ورمان۔ ترکیب بمطابق آیت مذکورہ بالا ۔ فاکھۃ میوے۔ نخل کھجوریں رمان انار۔
Ayah 55:69(55:69) فبای الاء ربکما تکذبن۔ ملاحظہ ہو آیت 47 متذکرۃ الصدر۔
Ayah 55:70(55:70) فیہن خیرات حسان۔ موصوف و صفت مل کر مبتدا۔ فیہن اس کی خبر خیرات نیکیاں۔ بھلائیاں، خوبیاں۔ نیک عورتیں خیرۃ کی جمع ہے۔ جس کے معنی اس عورت کے ہیں جو خیر کے ساتھ مخصوص ہو۔
حسان : حسین، خوبصورت، نفیس، عمدہ، حسن، حسین، حسنۃ واحد ۔ ترجمہ : ان میں نیک سیرت۔ حسین عورتیں ہوں گی۔
Ayah 55:71(55:71) فبای الاء ربکما تکذبن۔ ملاحظہ ہو آیت 47 متذکرۃ الصدر۔
Ayah 55:72(55:72) حور مقصورات فی الخیام۔ جملہ یا خیرات سے بدل ہے۔ یا حور مبتداء ہے اور اس کی خبر فیہن محذوف ہے ای فیہن حور مقصورات فی الخیام۔
مقصورات فی الخیام حال ہے حور سے۔ درآں حالیکہ وہ خیموں میں مقیم ہوں گی : یا یہ صفت ہے حور کی، حوریں خیموں میں بیٹھی ہوئی۔ ترجمہ : حوریں ہوں گی خیموں میں بیٹھی ہوئی۔
حورا۔ حورائ کی جمع فعلاء فعل کے وزن پر، نہایت گوری عورتیں، جن کی آنکھ کی سفیدی نہایت سفید اور سیاہی نہایت گہری ہو
مقصورات اسم مفعول جمع مؤنث قصر (باب نصر) مصدر۔ چھپائی ہوئی عورتیں، پردہ نشین، یا وہ عورتیں جنہوں نے اپنی نگاہ کو اپنے شوہروں تک روک رکھا ہوگا اور کسی دوسرے کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھیں گی۔
اسم مفعول بمعنی اسم فاعل۔ (قصرت الطرف) ۔ الخیام خیمۃ کی جمع ہے۔
Ayah 55:73(55:73) فبای الاء ربکما تکذبن۔ ملاحظہ ہو آیت 47 متذکرۃ الصدر۔
Ayah 55:74(55:74) لم یطمثھن انس قبلہم ولا جان : ملاحظہ ہو آیت نمبر 56 مذکورہ بالا۔
Ayah 55:75(55:75) فبای الاء ربکما تکذبن۔ ملاحظہ ہو آیت 47 متذکرۃ الصدر۔
Ayah 55:76(55:76) متکئین اسم فاعل جمع مذکر۔ بحالت نصب، اتکاء (افتعال) مصدر۔ تکیہ لگائے ہوئے یہ منصوب بوجہ حال کے ہے جس کا ذوالحال محذوف ہے جس کی طرف قبلہم میں ضمیر ہم دلالت کرتی ہے۔
رفرف۔ قالین۔ تکیے۔ زمخشری لکھتے ہیں :۔ دیبا وغیرہ کا باریک خوش رنگ کپڑا ہے۔ موصوف، خضر، سبز، ہرے، اخضر اور خضراء کی جمع ہے۔ رفرف کی صفت ہے۔
عبقری : علامہ سید مرتضے زبیدی تاج العروس من جواہر القاموس میں لکھتے ہیں کہ :۔ عبقر بادیہ میں ایک موضع ہے جہاں بہت جنات ہیں۔ چناچہ مثل ہے کانھم جن عبقر گویا وہ عبقر کے جنات ہیں۔ لبید کا شعر ہے :۔
ومن فاد من اخوانھم وبینھم : کھول و شبان کجنۃ عبقر
بعد میں ہر چیز کو کہ جس سے اس کی مہارت یا خوبی صنعت اور قوت کی بناء پر تعجب ہوتا ہو اسے عبقر کی طرف منسوب کرنے لگے۔
امام راغب اصفہانی فرماتے ہیں :۔ عبقر جنوں کی ایک بستی ہے جس کی طرف ہر نادر چیز کو انسان ہو یا حیوان یا پکڑا منسوب کردیا جاتا ہے اسی واسطے حدیث میں حضرت عمر ؓ کے لیے آیا ہے : ۔ فلم اری عبقریا مشلہ۔ میں نے ان جیسا عجیب و غریب کسی کو نہیں دیکھا۔
قاموس میں ہے کہ :۔ خاص قسم کا بچھونا اور فرش۔ وہ چیز جس میں کمال ہو۔
تاج العروس میں ہے :۔ دبیزفرش۔ دیبا۔ واحد اور جمع دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے یہاں بطور موصوف آیا ہے ۔ حسان صفت ہے عبقری کی، خوبصورت ، حسین۔
Ayah 55:77(55:77) فبای الاء ربکما تکذبن۔ ملاحظہ ہو آیت 47 متذکرۃ الصدر۔
Ayah 55:78(55:78) تبارک۔ وہ بہت بڑا برکت والا ہے۔ تبارک سے جس کے معنی بابرکت ہونے کے ہیں۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے۔ اس فعل کی گردان نہیں آتی۔ صرف ماضی کا ایک صیغہ مستعمل ہے اور وہ بھی صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کے لئے ہے۔
اسم ربک۔ ربک مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ اسم مضاف کا ۔ تیرے رب کا نام۔
ذی الجلا مضاف مضاف الیہ ۔ ذوا بمعنی والا۔ صاحب، اسم ہے اس کے ذریعہ اسمائے اجناس و انواع سے موسوم کیا جاتا ہے اسماء ستہ مکبرہ میں سے ہے۔ یعنی ان چھ اسموں میں سے ہے کہ جب ان کی تصغیر نہ ہو اور وہ غیر یائے متکلم کی طرف مضاف ہوں تو ان کو رفع کی حالت میں واؤ زبر کی حالت میں الف اور زیر کی حالت میں ی آتی ہے جیسے ذا ذوا ذی، ہمیشہ مضاف ہوکر ہی استعمال ہوتا ہے اور اسم ظاہر ہی کی طرف مضاف ہوتا ہے ضمیر کی طرف نہیں۔ اس کا تثنیہ بھی آتا ہے جمع بھی۔
ذی الجلال صاحب جلال، بمعنی عظمت و بزرگی۔ یہ جل یجل کا مصدر ہے جلال کے معنی عظمت قدر کے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی سے مخصوص ہے۔
والاکرام : واؤ عاطفہ الاکرام معطوف اس کا عطف الجلال پر ہے۔ ای وذی الاکرام بمعنی باعظمت ہونا۔ دوسرے کو عزت دینا اور اس پر کرم کرنا۔ بروزن افعال مصدر ہے۔
اکرام کے دو معنی آتے ہیں۔ ایک یہ کہ دوسرے پر کرم کیا جائے یعنی اس کو نفع ایسا پہنچایا جائے کہ جس میں کھوٹ نہ ہو۔
دوسرے یہ کہ جو چیز عطا کی جائے وہ عمدہ چیز ہو۔
ذوالجلال والاکرام میں لفظ اکرام دونوں معنی پر مشتمل ہے۔ کرم کا لفظ جہاں بھی قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی صفت میں آیا ہے وہاں احسان و اکرام الٰہی مراد ہے۔
ذی الجلال والاکرام : رب کی صفت ہے اس لئے بحالت زیر آیا ہے۔