53. Surah An-Najm

النجمThe Star · 62 ayahsانوار البیان

Ayah 53:41

ثُمَّ یُجْزٰىهُ الْجَزَآءَ الْاَوْفٰىۙ Open ayah 53:41 in the Quran reader

پھر اس کو اس کا پورا پورا بدلا دیا جائے گا

(53:41) ثم یجزہ الجزاء الاوفی۔ پھر اس کو اس کا پورا بدلہ دیا جائے گا ثم حرف عطف ہے۔ ماقبل سے مابعد کے متاخر ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ پھر، ازاں بعد یعنی پہلے اس کی سعی کو دیکھا جائے گا اس کی نیت اور ارادہ کو معلوم کیا جائے گا۔ پھر اس پر مترتب جزوسزا پوری پوری دی جائے گی۔ یجزی مضارع مجہول واحد مذکر غائب ۔ اس کا نائب فاعل الانسان ہے ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع سعی ہے۔ ای لسعیہ اس کی کوشش کے عوض۔ الجزاء الاوفی۔ موصوف وصفت مل کر یجزی کا مفعول ۔ الاوفی وفاء سے اسم تفضیل کا صیغہ واحد مذکر ہے بہت پورا۔ بالکل پورا۔ ترجمہ : ۔ پھر (اس) انسان کی اس سعی کے عوض بالکل پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ اور دوسری جگہ قرآن مجید میں آیا ہے :۔ ونضع الموازین القسط لیوم القیامۃ فلا تظلم نفس شیئا وان کان مثقال حبۃ من خردل اتینا بھا وکفی بنا حسبین (21:47) ۔ ” اور ہم قیامت کے دن انصاف کی ترازو کھڑی کریں گے تو کسی کی ذرا بھی حق تلفی نہ کی جائے گی۔ اور اگر رائی کے دانے کے برابر بھی (کسی کا عمل) ہوگا تو ہم اس کو لاموجود کریں گے اور ہم حساب کرنے کو کافی ہیں “۔
Ayah 53:42

وَ اَنَّ اِلٰى رَبِّكَ الْمُنْتَهٰىۙ Open ayah 53:42 in the Quran reader

اور یہ کہ تمہارے پروردگار ہی کے پاس پہنچنا ہے

(53:42) (4) وان الی ربک المنتھی : اور یہ کہ بیشک (ہرچیز کی) انتہاء تیرے رب تک (ختم) ہے منتھی انتھاء سے مصدر میمی ہے۔
Ayah 53:43

وَ اَنَّهٗ هُوَ اَضْحَكَ وَ اَبْكٰىۙ Open ayah 53:43 in the Quran reader

اور یہ کہ وہ ہنساتا اور رلاتا ہے

(53:43) (5) اور یہ کہ بیشک وہی ہنساتا ہے اور وہی رلاتا ہے خوشیوں اور مسرتوں کو دے کر ہنسانا اور غم و اندوہ میں مبتلا کرکے رلانا اسی کے بس میں ہے۔ اضحک ماضی (بمعنی مستقبل) واحد مذکر غائب۔ اس نے ہنسایا، یا وہ ہنساتا ہے۔ اضحاک (افعال) مصدر سے۔ اور ابکی ماضی بمعنی مستقبل صیغہ واحد مذکر غائب ۔ ابکار (افعال) مصدر سے اس نے رلایا۔ وہ رلاتا ہے۔
Ayah 53:44

وَ اَنَّهٗ هُوَ اَمَاتَ وَ اَحْیَاۙ Open ayah 53:44 in the Quran reader

اور یہ کہ وہی مارتا اور جلاتا ہے

(53:44) (6) وانہ امات داحیا۔ اور بیشک وہی مارتا ہے اور وہی زندہ کرتا ہے۔ امات ماضی (بمعنی مستقبل) واحد مذکر غائب اماتۃ (افعال) مصدر اس نے مار ڈالا۔ اس نے مارا ۔ وہ مارتا ہے یا مرے گا۔ احیا : ماضی (بمعنی مستقبل) واحد مذکر غائب۔ احیاء (افعال) مصدر۔ اس نے زندہ کیا۔ اس نے جلایا۔ وہ زندہ کرتا ہے ۔ وہ چلاتا ہے۔
Ayah 53:45

وَ اَنَّهٗ خَلَقَ الزَّوْجَیْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰىۙ Open ayah 53:45 in the Quran reader

اور یہ کہ وہی نر اور مادہ دو قسم (کے حیوان) پیدا کرتا ہے

(53:45) (7) وانہ خلق الزوجین الذکرو الانثی۔ اور یہ کہ بیشک اسی نے پیدا کیا یا وہی پیدا کرتا ہے جوڑے کو۔ ایک نر اور ایک مادہ۔ لغات القرآن میں الزوجین کے معنی یوں درج ہیں :۔ وہ دو شکلیں جن میں سے ہر ایک دوسرے کا نظیر ہو یا نقیض ہو ۔ جوڑا۔ زوج کا تثنیہ بحالت نصب و جز۔ آیت شریفہ ومن کل شیء خلقنا زوجین اور ہر چیز کے بنائے جوڑے “۔ میں بعض نے زوجین کے معنی نر اور مادہ کے لئے ہیں اور بعض نے مرکب کے۔ اور صحیح وراجح معنی صنفوں اور قسموں کے ہیں ہر شے کی ہم نے دو قسمیں کی ہیں اور قسم سے مراد مقابل ہے یعنی ہر شے میں خوئی نہ کوئی صفت ذاتی یا عرضی ایسی ہے جس سے دوسری شے جس میں اس صفت کی ضد اور نقیض ملحوظ ہے اس کے مقابل شمار کی جاتی ہے۔ جیسے آسمان و زمین۔ جو ہر و عرض ، گرمی سردی، چھوٹی بڑی، خوشنما بدنما، سفیدی اور سیاہی ۔ روشنی اور تاریکی وغیرہ وغیرہ قاموس القرآن میں ہے : دو قسمیں۔ میاں ، بیوی۔ صاحب الیسر التفاسیر لکھتے ہیں :۔ ای الصنفین الذکر والانثی من سائر الحیوانات۔ یعنی تمام حیوانات کو دو قسموں میں پیدا کیا۔ ایک نر اور مادہ۔ مزید وضاحت کے لئے ملاحظہ ہو مفردات القرآن۔
Ayah 53:46

مِنْ نُّطْفَةٍ اِذَا تُمْنٰى۪ Open ayah 53:46 in the Quran reader

(یعنی) نطفے سے جو (رحم میں) ڈالا جاتا ہے

(53:46) من نطفۃ اذا تمنی۔ ایک قطرہ منی سے جب وہ ٹپکایا جاتا ہے (مادہ کے رحم میں) یہ تشریح ہے تخلیق حیوانات کی۔ نطفۃ اصل میں تو اس کے معنی ہیں آب صافی کے۔ لیکن اس سے مراد مرد کی منی لی جاتی ہے۔ تمنی مضارع واحد مؤنث غائب۔ منی (باب ضرب) مصدر۔ وہ ٹپکائی جاتی ہے۔ وہ ڈالی جاتی ہے۔
Ayah 53:47

وَ اَنَّ عَلَیْهِ النَّشْاَةَ الْاُخْرٰىۙ Open ayah 53:47 in the Quran reader

اور یہ کہ (قیامت کو) اسی پر دوبارہ اٹھانا لازم ہے

(53:47) (8) وان علیہ النشاۃ الاخری۔ اور تحقیق یہ کہ اسی کے ذمہ دوسری بار پیدا کرنا ہے۔ علیہ جار مفرور۔ اس کے ذمہ۔ علی کا لفظ وجوب ولزوم کے معنی پر دلالت کر رہا ہے ۔ اور اللہ پر کوئی بات لازم نہیں ہے اس لئے علی کا حقیقی معنی مراد نہیں ہے بلکہ وعدے کو پختہ کرنا مراد ہے۔ اللہ تعالیٰ ضرور ضرور دوباہ تخلیق کریگا۔ النشاۃ الاخری۔ موصوف و صفت۔ دوسری بار مردہ سے زندہ کرنا۔ دوسری تخلیق، قیامت کے روز مردوں کو دوبارہ زندہ کرکے اٹھایا جانا۔
Ayah 53:48

وَ اَنَّهٗ هُوَ اَغْنٰى وَ اَقْنٰىۙ Open ayah 53:48 in the Quran reader

اور یہ کہ وہی دولت مند بناتا اور مفلس کرتا ہے

(53:48) (9) وانہ ھو اغنی واقنی۔ اور یہ کہ بیشک وہی غنی کرتا ہے اور مفلس بناتا ہے۔ اغنی ماضی (بمعنی حال) واحد مذکر غائب اغناء (افعال) مصدر۔ وہ غنی کرتا ہے وہ دولت مند بناتا ہے۔ اقنی : ماضی (بمعنی حال) واحد مذکر غائب اقناء (افعال) مصدر سے۔ اقناء کے معنی ذخیرہ کیا ہوا مال جو باقی رہ سکے دینے کے ہیں۔ اس اعتبار سے اقناء کے معنی ذخیرہ کیا ہوا مال دینا۔ لیکن باب افعال کے خواص میں سے ایک خاصیت سلب ماخذ بھی ہے۔ اس اعتبار سے اقنی کا مطلب قنیہ ہے یعنی فقیر بنادینا ہوگا۔ سیاق آیات کے لحاظ سے یہی معنی مناسب معلوم ہوتے ہیں۔ اقنی ای افقر۔
Ayahs 53:49–50

وَ اَنَّهٗ هُوَ رَبُّ الشِّعْرٰىۙ Open ayah 53:49 in the Quran reader

اور یہ کہ وہی شعرٰی کا مالک ہے

وَ اَنَّهٗۤ اَهْلَكَ عَادَا اِ۟لْاُوْلٰىۙ Open ayah 53:50 in the Quran reader

اور یہ کہ اسی نے عاد اول کو ہلاک کر ڈالا

(53:49) (10) وانہ اہلک عاد ن الاولی۔ اور یہ کہ بیشک اس نے عاد اول کو ہلاک کیا۔ عاد اولی سے مراد قدیم قوم عاد ہے جس کی طرف حضرت ھود (علیہ السلام) بھیجے گئے تھے۔ یہ قوم جب حضرت ھود کی تکذیب اور نافرمانی کی پاداش میں عذاب میں مبتلا کی گئی تھی تو صرف وہ لوگ بچے تھے جو ان پر ایمان لائے تھے ان کی نسل کو تاریخ میں عاد ثانیہ یا عاد اخری کہتے ہیں۔
Ayah 53:51

وَ ثَمُوْدَاۡ فَمَاۤ اَبْقٰىۙ Open ayah 53:51 in the Quran reader

اور ثمود کو بھی غرض کسی کو باقی نہ چھوڑا

(53:51) (12) وثمود فما ابقی : ای انہ اہلک ثمود فما ابقی۔ اور یہ کہ بیشک اس نے ثمود کو بھی ہلاک کر ڈالا۔ پھر کسی کو نہ چھوڑا۔ ثمود حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم تھی جس کو ایک گرجدار چیخ سے اللہ تعالیٰ نے ہلاک کردیا۔ (ثمود کو حقیقت میں عاد ثانیہ کہا جاتا ہے) تفسیر مظہری۔ ثمود کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے :۔ واما ثمود فھدینھم فاستحبوا العمی علی الھدی فاخذتھم صعقۃ العذاب الھون بما کانوا یکسبون ۔ (41:17) اور جو ثمود تھے ان کو ہم نے سیدھا راستہ دکھایا تھا مگر انہوں نے ہدایت کے مقابلہ میں اندھا رہنا پسند کیا تو ان کے اعمال کی سزا میں ایک سخت کڑک نے آپکڑا۔ فما ابقی :ای نتیجۃً ۔ ما نافیہ ، ابقی ماضی واحد مذکر غائب۔ ابقاء (افعال) مصدر۔ اس نے باقی نہ چھوڑا۔ (یعنی کافروں میں سے کسی کو باقی نہ چھوڑا سب کو عذاب سے ہلاک کردیا۔
Ayah 53:52

وَ قَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا هُمْ اَظْلَمَ وَ اَطْغٰىؕ Open ayah 53:52 in the Quran reader

اور ان سے پہلے قوم نوح کو بھی کچھ شک نہیں کہ وہ لوگ بڑے ہی ظالم اور بڑے ہی سرکش تھے

(53:52) (13) وقوم نوح من قبل۔ اس آیت کا عطف آیت مذکورہ بالا وانہ اہلک عاد ان لاولی۔ پر ہے ای وانہ من قبل اہلک قوم نوح : اور یہ کہ بیشک اس نے اس سے قبل قوم نوح کو ہلاک کیا۔ اس آیت میں قوم نوح کی ہلاکت کی کیفیت نہیں دی گئی۔ لیکن اور جگہ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے وقوم نوح لما کذبوا لارسل اغرقناہم (25:37) اور ہم نے قوم نوح (علیہ السلام) کو (بھی ہلاک کیا) جب انہوں نے پیغمبروں کو جھٹلایا۔ من قبل : ای من قبل ذلک اس سے پیشتر، قوم عاد وثمود کی ہلاکت سے قبل۔ کانوا ہم : کانوا میں ضمیر افعل التفضیل کے صیغے ہیں۔ بمعنی زیادہ ظالم، زیادہ سرکش، زیادہ حد سے بڑھ جانے والے۔ زیادہ نافرمان۔ یعنی وہ (قوم نوح) عاد اور ثمود سے بھی زیادہ ظالم اور نافرمان تھے۔
Ayah 53:53

وَ الْمُؤْتَفِكَةَ اَهْوٰىۙ Open ayah 53:53 in the Quran reader

اور اسی نے الٹی ہوئی بستیوں کو دے پٹکا

(53:53) (14) والمؤتفکۃ اھوی۔ اس کا عطف بھی وانہ اہلک عادا ن الاولی پر ہے۔ اور اھوی بمعنی فاعل۔ جملہ موضع حال میں ہے ان کی ہلاکت کی کیفیت کو واضح کرنے کے لئے۔ اھواء (افعال) ہ و ی مادہ سے، بمعنی فضاء میں لے جا کر نیچے دے مارنے کے ہیں ۔ اور یہ کہ بیشک اس نے ہلاک کیا (حضرت لوط کی) اوندھی بستیوں کو کہ فرشتوں نے ان کو اوپر اٹھایا پھر اس کے نچلے حصہ کو اوپر اور اوپر کے حصہ کو نیچے کرکے زمین پر پٹک دیا۔ ای الملک رفع قراہم ثم اھواھا تھوی الی الارض منقلبۃ اعلاھا اسفلہا (روح المعانی) یا المؤتفکۃ کا ناصب اھوی ہے۔ ای اسقطھا الی الارض بعد ان رفعھما الی السمائ۔ بستیوں کو بلندی پر لے جاکر نیچے زمین پردے ٹپکا (ایضاً ) ۔ المؤتفکۃ اسم فاعل واحد مؤنث منصوب ایتفاک (افتعال) مصدر۔ افک مادہ۔ الٹی ہوئی۔ منقلب ۔ مراد حضرت لوط (علیہ السلام) کی بستیاں جو بحیرہ مردار کے ساحل پر آباد تھیں۔ اور جن کی تخت گاہ یا اسب سے بڑا شہر سدوم، یا سندوم تھا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کا حکم نہ ماننے اور ظلم و لواطت سے باز نہ آنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کی زمین کا تختہ الٹ دیا اور اوپر سے کنکریلے پتھروں کی بارش کردی۔ المؤتفکۃ (واحد) صرف اسی آیت میں قرآن مجید میں آیا ہے اور بطور جمع المؤتفکات ۔ قرآن مجید میں دو جگہ آیا ہے سورة توبہ (9:60) اور سورة الحاقۃ (69:9)
Ayah 53:54

فَغَشّٰىهَا مَا غَشّٰىۚ Open ayah 53:54 in the Quran reader

پھر ان پر چھایا جو چھایا

(53:54) فغشھا ما غشی : ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب کا مرجع ۔۔ المؤتفکۃ ہے۔ پس چھا گیا ان پر جو چھا گیا۔ لفظ ما کا ابہام عظمت عذاب اور تباہی کی ہولناکی پر دلدلت کر رہا ہے۔ نیز ملاحظہ ہو 53:16 متذکرہ الصدر۔
Ayah 53:55

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكَ تَتَمَارٰى Open ayah 53:55 in the Quran reader

(اے انسان ! ) تو اپنے پروردگار کی کون سی نعمت پر جھگڑے گا ؟

(53:55) فبای میںعاطفہ سببیہ ہے۔ ای استفہامیہ انکاریہ ہے۔ کونسی، کس کس۔ الاء جمع ہے الی کی۔ جس کے معنی نعمت کے ہیں۔ الا نعمتیں۔ احسانات۔ تتماری۔ مضارع واحد مذکر حاضر۔ تتماری (تفعل) مصدر سے۔ تو شک کرتا ہے یا کریگا۔ تو جھٹلاتا ہے یا جھٹلائے گا۔ تو جگڑا کرتا ہے یا کرے گا۔ تتماری صیغہ واحد مذکر حاضر میں خطاب کس کو ہے اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں :۔ (1) یہ خطاب نبی کریم ﷺ سے ہے لیکن مراد تمام عوام الناس ہیں۔ (2) یہ خطاب ہر شخص سے ہے۔ اے سننے والے تو اللہ تعالیٰ کی کن کن نعمتوں کو جھٹلائے گا۔ (3) بعض نے کہا ہے کہ آیت میں مخاطب ولید بن مغیرہ ہے (ملاحظہ ہو آیات 33 تا 37 متذکرہ الصدر) مطلب یہ کہ اے انسان ! اقوام عاد وثمود، ونوح کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک و برباد کردیا۔ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں شک کرتے تھے۔ کہ یہ صرف اللہ رب العالمین کی عطا کردہ نہیں بلکہ ان کی عطاء میں وہ بت بھی شریک ہیں جن کی وہ پوجا کرتے تھے۔ اسی لئے جب پیغمبران الٰہی نے ان کی اس غلط فیمی کو دور کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے پیغمبروں سے جھگڑا شروع کردیا۔ تو کیا اے سامع تو بھی اسی کوتاہ نظری کا شکار ہوگیا اور اپنے لئے وہی انجام چاہے گا جو اقوال مذکورہ بالا کا ہوا۔
Ayah 53:56

هٰذَا نَذِیْرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْاُوْلٰى Open ayah 53:56 in the Quran reader

یہ (محمد ﷺ بھی اگلے ڈر سنانے والوں میں سے ایک ڈر سنانے والے ہیں

(53:56) ھذا۔ اس کے متعلق مندرجہ ذیل اقوال ہیں :۔ (1) ھذا کا مشار الیہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ واصحاب وسلم ہیں۔ اس صورت میں آیت کا معنی ہوگا۔ کہ پیغمبر اسلام بھی پہلے ڈرانے والوں کی طرح ہیں۔ (2) قرآن کریم، یعنی یہ قرآن کریم بھی پہلی آسمانی کتابوں کی طرح ڈرانے والا ہے۔ (3) یہ واقعات جو تمہیں سنائے گئے ہیں ایک تنبیہ ہیں پہلے آئی ہوئی تنبیہات میں سے ۔ نذیر : صفت مشبہ مرفوع ، نکرہ ، واحد، ڈرانے والا۔ اس کی جمع نذر النذر الاولی میں اولی (بمعنی پہلی، اگلی، اول کا مؤنث) کو بصیغہ مؤنث لانے کی وجہ یہ ہے کہ النذر سے مراد جماعت ہے۔ علماء کی اکثریت نے اس کے وہ معنی لئے ہیں جو کہ (3) میں مذکور ہیں۔ جلالین میں ہے من النذر الاولی ای من جنسھم۔
Ayah 53:57

اَزِفَتِ الْاٰزِفَةُۚ Open ayah 53:57 in the Quran reader

آنے والی (یعنی قیامت) قریب آپہنچی

(53:57) ازفت : ماضی واحد مؤنث غائب۔ ازف (باب سمع) مصدر وہ آپہنچی۔ ازف کے اصل معنی تنگی وقت کے ہیں ۔ چونکہ تنگی وقت کا مطلب وقت کا قریب آلگنا ہوتا ہے اس لئے اس کا استعمال قریب آلگنے میں ہونے لگا۔ الازفۃ : ازف سے اسم فاعل واحد مؤنث۔ نزدیک آلگنے والی۔ قریب آلگنے والی جس کے آنے کا وقت بہت تنگ ہوگیا ہو۔ مراد قیامت ہے۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ وانذرھم یوم الازفۃ (40:18) اور ان کو قریب آنے والے دن سے ڈراؤ۔
Ayah 53:58

لَیْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ كَاشِفَةٌؕ Open ayah 53:58 in the Quran reader

اس (دن کی تکلیفوں) کو خدا کے سوا کوئی دور نہیں کرسکے گا

(53:58) لہا۔ میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب الاذفۃ کی طرف راجع ہے۔ کاشفۃ : کشف سے (باب ضرب) سے مصدر اسم فاعل واحد مؤنث : کھولنے والی۔ ظاہر کرنے والی۔ کاشفۃ اللہ تعالیٰ کی صفت ہے ۃ مبالغہ کے لئے لائی گئی ہے ۔ کیونکہ اس کے سوا اور کوئی قیامت کے وقت کو ظاہر نہیں کرسکتا۔ جیسا کہ اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :۔ لایجلیہا لوقتھا الاھو (7:187) اس کے وقت پر اسے کوئی نہ ظاہر کریگا بجز اس (اللہ ) کے۔
Ayah 53:59

اَفَمِنْ هٰذَا الْحَدِیْثِ تَعْجَبُوْنَۙ Open ayah 53:59 in the Quran reader

(اے منکرین خدا) کیا تم اس کلام سے تعجب کرتے ہو

(53:59) افمن : استفہام انکاری ہے۔ ا استفہامیہحرف عطف، اس کا عطف محذوف پر ہے۔ من حرف جار۔ یا افمن سوال بطور زجر ہے۔ ھذا الحدیث : ای القران ھذا اسم اشارہ الحدیث (بات ، کلام) مشار الیہ۔ اشارہ اور مشار الیہ مل کر مجرور۔ من حرف جر۔ من ھذا الحدیث یہ قرآن اور اس کی تعلیمات۔ تعجبون : مضارع جمع مذکر حاضر، عجب (باب سمع) مصدر۔ تم تعجب کرتے ہو ۔ تم اچنبھا کرتے ہو۔ افمن ھذا الحدیث تعجبون : کیا تم اس قرآن وحی الٰہی ، کلام الٰہی سے اور اس میں مشمولہ پندو نصائح سے انکار کرتے ہوئے تعجب کرتے ہو ۔ (تعجبون انکارا۔ دوح المعانی)
Ayah 53:60

وَ تَضْحَكُوْنَ وَ لَا تَبْكُوْنَۙ Open ayah 53:60 in the Quran reader

اور ہنستے ہو اور روتے نہیں

(52:60) تضحکون : مضارع جمع مذکر حاضر۔ ضحک (باب سمع) مصدر سے۔ تضحکون (استھزائ) اور اس کا مذاق اڑاتے ہوئے تم لوگ ہنستے ہو۔ ولا تبکون (حزنا علی ما فرطتم فی شانہ وخوفا من عن یحیق بکم ما حاق بالامم المذکورۃ۔ اور نہیں روتے ہو تم اس کی شان میں کوتاہی کے ارتکاب کے غم میں اور اس خوف سے کہ کہیں وہ عذاب جس نے مذکورہ بالا امتوں کو گھیر لیا تھا۔ تمہیں نہ آگھیرے۔ (روح المعانی)
Ayah 53:61

وَ اَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ Open ayah 53:61 in the Quran reader

اور تم غفلت میں پڑ رہے ہو ؟

(52:61) وانتم سمدون : جملہ اسمیہ تبکون کے فاعل سے حال ہے۔ سمدون کی تشریح کرتے ہوئے صاحب تفہیم القرآن رقمطراز ہیں :۔ اہل لغت نے اس کے دو معنی بیان کئے ہیں :۔ (1) حضرت ابن عباس اور عکرمہ اور ابو عبیدہ نحوی کا قول ہے کہ یمنی زبان میں سمود کے معنی گانے بجانے کے ہیں اور آیت کا اشارہ اس طرف ہے کہ کفار مکہ قرآن کی آواز کو دبانے اور لوگوں کی توجہ دوسری طرف ہٹانے کے لئے زور زور سے گانا شروع کردیتے تھے۔ (2) حضرت ابن عباس اور مجاہد نے بیان کئے ہیں کہ :۔ السمود البرطمۃ وہی رفع الرأس تکبرا۔ کانوا یمرون علی النبی ﷺ غضابا مبرطین۔ یعنی سمود تکبر کے طور پر سر نیوڑھانے کو کہتے ہیں ۔ کفار مکہ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے جب گزرتے تو غصے کے ساتھ منہ اوپر اٹھاتے ہوئے نکل جاتے تھے۔ راغب اصفہانی نے مفردات میں بھی یہی معنی بیان کئے ہیں۔ اور اس معنی کے لحاظ سے سامدون کا مفہوم قتادہ نے غافلون اور حضرت سعید بن جبیر نے معرضون بیان کیا ہے۔ (تفہیم القرآن جلد پنجم سورة النجم آیت 61)
Ayah 53:62

فَاسْجُدُوْا لِلّٰهِ وَ اعْبُدُوْا۠۩ Open ayah 53:62 in the Quran reader

تو خدا کے آگے سجدہ کرو اور (اسی) کی عبادت کرو

(53:62) فاسجدواللہ واعبدو !ترتیب امر کے لئے ہے کلام ماقبل پر یہ امر ترتیب ہوا کہ تمام اہل ایمان اور اہل کفر اللہ تعالیٰ کے حضور جھک جائیں اور اس کی بندگی بجا لائیں۔ اسجدوا : فعل امر جمع مذکر حاضر، سجود (باب نصر) مصدر۔ تم سجدہ کرو۔ للہ میں لام حرف جر استحقاق کے لئے ہے۔ یا اختصاص کے لئے ہے۔ اللہ ہی کو ۔ واعبدوا : واؤ عاطفہ، اعبدوا فعل امر جمع مذکر حاضر، عبادۃ (باب نصر) مصدر۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ کا مرجع اللہ ہے ۔ محذوف ہے۔ اور اسی کی عبادت کرو۔