Ayah 52:41(52:41) ام : استفہامیہ انکاری کے لئے ہے۔ الغیب سے مراد کیا ہے اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں :۔
(1) حضرت ابن عباس کے نزدیک الغیب سے مراد لوح محفوظ ہے کہ جس میں تمام غائنات کا اندراج ہوتا ہے فھو یکتبون کہ جہاں سے وہ لکھ لیتے ہیں۔ بیضاوی کا بھی یہی قول ہے۔
(2) قتادہ نے کہا ہے کہ یہ جواب ہے کافروں کے قول کا ۔ کافروں نے کہا تھا کہ نتربص بہ ریب المنون۔ اللہ نے اس کا جواب دیا۔ کیا ان کو علم غیب ہے کہ (حضرت) اس صورت میں فھو یکتبون کا ترجمہ ہوگا۔ جس کی بنا پر وہ فیصلہ دے رہے ہیں۔ یکتبون بمعنی یحکمون ہے۔
Ayah 52:42(52:42) ام استفہامیہ ۔ یریدون کیدا : یریدون مضارع جمع مذکر غائب۔ ارادۃ (باب افعال) مصدر۔ وہ ارادہ رکھتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں ۔ کیدا چالاکی۔ فریب داؤ پیچ۔ تدبیر (اچھی ہو یا بری) کاد یکید (باب ضرب) مصدر منصوب بوجہ مفعول ہے۔ جملہ کا ترجمہ ہوگا : کیا یہ کوئی داؤ کرنا چاہتے ہیں (آپ کے خلاف یا دین کے خلاف)
یریدون میں ضمیر فاعل کفار مکہ کے لئے ہے جو اپنے چوپال یا ندوہ میں بیٹھ کر پیغمبر خدا ﷺ کے خلاف یا اس کے دین کے خلاف سازشیں کیا کرتے تھے۔ ان ہی کفار کے متعلق ارشاد ہے کہ فالذین کفروا ہم المکیدون آخر یہی کفار خود اپنے ہی داؤں میں آنے والے ہیں۔
فالذین میںانجام کار کو ظاہر کرنے کے لئے ہے۔ الذین کفروا موصول وصلہ مل کر مبتداء بمعنی کافر لوگ جو اسلام اور داعی الی الاسلام کے خلاف بری تدبیریں کیا کرتے تھے۔ ہم ضمیر کو تاکید کے لئے لا یا گیا ہے۔ المکیدون مبتداء کی خبر ہے۔
المکیدون۔ اسم مفعول جمع مذکر۔ المکید واحد کید (مادہ) مغلوب اور ہلاک ہونے والے۔ مکر کی سزا میں گرفتار۔ داؤں میں پھنسنے والے۔
Ayah 52:43(52:43) ام لہم الہ غیر اللہ : ام استفہام انکاری کے لئے ہے۔
سبحان اللہ عما یشرکون : اس کی دو صورتیں ہیں :۔ اگر عما جو کہ عن اور ما سے مرکب ہے اس میں ما مصدریہ ہے تو ترجمہ ہوگا :۔ اللہ تعالیٰ اس کی شرکت سے پاک ہے جسے وہ شریک ٹھہراتے ہیں۔
Ayah 52:44(52:44) وان یروا کسفا ۔۔ الایۃ۔ میں واؤ حالیہ ہے اور جملہ مابعد ماقبل سے حال ہے اور ہٹ دھرمی اور ایمان و ایقان کے فقدان کی وجہ سے ان کی حالت یہ ہے کہ اگر آسمان کے کسی ٹکڑے کو گرتا ہوا دیکھ لیں تو یہ کہیں گے یہ تو با دل کا تہ برتہ۔
ان یروا۔ ان شرطیہ ہے یروا مضارع مجزوم جمع مذکر غائب رؤیۃ (باب فتح) مصدر۔ اگر وہ دیکھ لیں۔
کسفا جمع کسفۃ مفرد۔ اکساف وکسوف جمع الجمع ٹکڑے۔ کسف (باب ضرب) متعدی بھی ہے اور لازمی بھی۔ کسف الثوب کپڑا کاٹ دیا۔ یا پھاڑ دیا۔ کسف الشمس سورج گرہن ہوگیا۔ تمام قرآن مجید میں کسفا یا کسفا جہاں بھی آیا ہے بمعنی جمع مفرد پڑھا گیا ہے ماسوائے اس آیت کے کہ یہاں بمعنی مفرد پڑھا جاتا ہے۔
ساقطا۔ اسم فاعل ۔ واحد مذکر۔ سقوط (باب نصر) مصدر سے گرنے والا۔ منصوب بوجہ حال ہونے کے۔ گرتا ہوا۔ تنوین تفخیم (عظمت) کے لئے ہے ای کسفا عظیما ایک بڑا ٹکڑا۔
یقولوا۔ مضارع مجزوم بوجہ جواب شرط۔ صیغہ جمع مذکر غائب ، وہ کہیں گے۔
سحاب مرکوم : ای ھذا سحاب مرکوم : سحاب بادل۔ موصوف مرکوم اسم مفعول واحد مذکر، رکم (باب نصر) مصدر۔ بمعنی کسی چیز کو ایک دوسرے کے اوپر لگا کر ڈھیر کردینے کے ہیں۔ جس طرح ریت کا ٹیلہ ہوتا ہے ۔ تہ بر تہ گاڑھا بادل۔ بادل جب سخت گھنا اور تاریک ہو تو اسے سحاب مرکوم کہتے ہیں۔ مرکوم صفت ہے سحاب کی۔
مشرکوں نے کہا تھا کہ : فاسقط علینا کسفا من السماء ان کنت من الصادقین (62: 187) ہم پر آسمان سے عذاب کا ایک ٹکڑا گرا دو ۔ اگر تم سچے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں یہ آیت نازل فرمائی کہ اگر ان پر اوپر سے عذاب کا کوئی ٹکڑا آبھی جائے تو یہ اس کو تہ برتہ بادل قرار دیں گے۔ جیسے قوم عاد نے جب سامنے سے بادل آتا دیکھا تھا تو کہا تھا کہ :۔ قالوا ھذا عارض ممطرنا (46:24) کہنے لگے یہ تو بادل ہے جو ہم پر برس کر رہے گا۔ بل ھو ما استعجلتم بہ ریح فیہا عذاب الیم (ایضا) (نہیں) بلکہ (یہ) وہ چیز ہے جس کے لئے تم جلدی مچایا کرتے تھے یعنی آندھی جس میں درد دینے والا عذاب بھرا ہوا ہے۔
Ayah 52:45(52:45) ذرھم۔ ذر : امر واحد مذکر حاضر۔ وذر (باب سمع، فتح) مصدر بمعنی چھوڑنا۔ اس کا صرف مضارع یا امر استعمال ہوتا ہے ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب تو ان کو چھوڑ۔ پس ان کو چھوڑ دو ۔ قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے ویذرہم فی طغیانھم یعمھون (7:186) اور وہ ان (گمراہوں) کو چھوڑے رکھتا ہے کہ وہ اپنی سرکشی میں پڑے جھٹکتے رہیں۔
حتی یلقوا : حتی وقت کی انتہا کے اظہار کے لئے ہے ۔ یہاں تک۔ یلقوا مضارع منصوب بوجہ عمل حتی۔ جمع مذکر غائب، ملاقاۃ (مفاعلۃ) مصدر (حتی کہ) وہ پالیں ۔ وہ مل جائیں۔ لقی مادہ۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے حتی یلج الجمل فی سم الخیاط (7:40) یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں سے نہ نکل جائے۔
یومہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ مل کر یلقوا کا مفعول۔
الذی فیہ یصعقون : متعلق یوم : فیہ میں ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع یوم ہے ۔
یصعقون : مضارع مجہول جمع مذکر غائب۔ صعق (باب سمع) مصدر۔ صاعقہ کے اصل معنی فضا میں سخت آواز کے ہیں۔ پھر کبھی (1) اس آواز سے صرف آگ ہی پیدا ہوتی ہے۔ جیسے قرآن مجید میں ارشاد ہے ویرسل الصواعق فیصیب بھا من یشاء (13:13) اور وہی بجلیاں بھیجتا ہے پھر جس پر چاہتا ہے گرا بھی دیتا ہے۔ (2) اور کبھی یہ عذاب کا باعث بنتی ہے۔ مثلاً قرآن مجید میں ہے فقل انذرتکم صاعقۃ مثل صعقۃ عاد وثمود (41:13) کبھی یہ موت اور ہلاکت کا سبب بنتی ہے جیسا کہ فرمایا فصعق عاد وثمود (41:13) میں تم کو مہلک عذاب سے آگاہ کرتا ہوں جیسے عاد اور ثمود پر وہ عذاب آیا تھا۔ اور (3) کبھی یہ موت اور ہلاکت کا سبب بنتی ہے جیسا کہ فرمایا فصعق من فی السموات ومن فی الارض (39:68) تو جو لوگ آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں سب کے سب مرجائیں گے۔
اور جگہ آیا ہے فاخذتکم الصعقۃ (51:44) سو تم کو موت نے آپکڑا۔ گویا صاعقہ (فضا میں ہولناک آواز) کبھی صرف آگ ہی پیدا کرتی ہے (بجلی کو کوند کی صورت میں) اور کبھی وہ آواز عذاب اور موت کا سبب بن جاتی ہے۔
اکثر علماء کے نزدیک یصعقون بمعنی یمرتون ہے ترجمہ آیت کا یوں ہوگا :۔ پس اے نبی انہیں ان کے حال پر چھوڑ دو ۔ یہاں تک کہ یہ اپنے اس دن کو پہنچ جائیں جس میں یہ مار گرائے جائیں گے۔ (ترجمہ مودودی)
الیسر التفاسیر میں ہے وھو یوم مرتھم یہ ان کی موت کا دن ہے۔
Ayah 52:46(52:46) یوم لا یغنی : بدل ہے یومہم سے۔ یعنی وہ دن جب ان کی فریب کاری ان کے کسی کام نہ آئے گی۔ لایغنی مضارع منفی واحد مذکر غائب اغناء (افعال) مصدر ۔ کام نہ آئیگا۔ فائدہ نہیں پہنچائے گا، دفع نہیں کرے گا۔
کیدہم : مضاف مضاف الیہ ۔ ان کی چال۔ ان کی تدبیر، ان کی فریب کاری۔
شیئا : یہ مفعول مطلق ہے یعنی کسی قسم کا فائدہ۔ (مفعول بہٖ نہیں ہے)
ولاہم ینصرون : اور نہ ان کی مدد کی جائے گی۔ ینصرون مضارع مجہول جمع مذکر غائب۔ نصر (باب نصر) مصدر سے۔
Ayah 52:47(52:47) للذین ظلموا سے عام ظالم مراد ہیں یا مخصوص افراد۔ دونوں قول صحیح ہیں ۔
عذابا دون ذلک یعنی مرنے سے پہلے دنیا میں یہی عذاب ان پر آجائے گا۔ جیسا کہ سورة السجدہ میں ہے والنذیقنھم من العذاب الادنی دون العذاب الاکبر لعلہم یرجعون (32:21) اور ہم ان کو (قیامت کے) بڑے عذاب کے سوا عذاب دنیا کا مزہ بھی چکھائیں گے شاید کہ وہ (ہماری طرف) لوٹ آئیں۔
یوم یصعقون (آیت نمبر 45) کے بارے میں مختلف اقوال کے لحاظ سے آیت ہذا میں دون ذلک کے متعلق بھی مختلف اقوال ہیں۔ (1) مثلاً حضرت ابن عباس ؓ کے نزدیک اس سے مراد بدر کے دن کافروں کا مرادا جانا ہے۔
(2) مجاہد ؓ کے نزدیک بھوک اور ہفت سالہ قحط مراد ہے۔
(3) حضرت براء بن عازب ؓ نے فرمایا کہ اس سے عذاب قبر مراد ہے (تفسیر مظہری) ۔
ذلک کا اشارہ عذاب یوم فیہ یصعقون کی طرف ہے۔
Ayah 52:48(52:48) اصبر امر واحد مذکر حاضر۔ صبر (باب ضرب) مصدر۔ تو صبر کر تو استقلال سے رہ۔ تو اپنے آپ کو روکے رکھ۔
لحکم ربک : میں لام تعلیل کی ہے تو اپنے رب کے حکم کے لئے صبر کر۔ اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔
(1) آپ اپنے رب کا فیصلہ آنے تک صبر کریں۔ یعنی صبر کے ساتھ انتظار کرو۔
(2) آپ کے رب نے جو آپ کو حکم دے رکھا ہے صبر و استقامت کے ساتھ اس پر ڈٹے رہو۔
مطلب یہ ہے کہ ان کفار کے ساتھ معاملہ میں آپ کو بڑی محنت کرنا پڑے گی یا کہ پڑ رہی ہے بڑے دکھ سہنے پڑیں گے۔ بڑی مصیبتیں برداشت کرنا ہوں گی مگر آپ صبر و استقامت کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھیں اور اپنا کام پوری دلجمی سے سرانجام دیتے رہیں آخر کار فتح و کامرانی آپ ہی کی ہوگی اور آپ بغیر کسی گزند کے فتحیاب ہوں گے کیونکہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔
(3) بعض علماء کے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ ہم نے ان کے عذاب کا حکم دے رکھا ہے آپ وقوع عذاب تک صبر کریں۔
فانک باعیننا : ای فی حفظنا۔ ہماری حفاظت میں، ہماری نگہداشت میں ۔ زجاج (رح) نے کہا ہے کہ : آپ ایسے مقام پر ہیں کہ ہم آپ کو دیکھ رہے ہیں اور آپ کی حفاظت کر رہے ہیں۔ یہ لوگ آپ کو کوئی گزند نہیں پہنچا سکیں گے۔ خلاصہ یہ کہ آپ ہماری حافظت میں ہیں۔ اعین، عین کی جمع ہے نا جمع متکلم کی ضمیر اظہار عظمت کے لئے ہے اور جمع متکلم کے لحاظ سے اعین کو بھی بصیغہ جمع استعمال کیا۔ یا یوں کہا جائے کہ اعین کو بصورت جمع مبالغہ کے لئے ذکر کیا اور یہ بتایا ہے کہ ہمارے پاس آپ کی حفاظت کے بہت سے اسباب ہیں (تفسیر مظہری)
حین : وقت، زمانہ، مدت۔ اس کی جمع احیان ہے۔ تقوم مضارع واحد مذکر حاضر۔ قیام (باب نصر) مصدر۔ تو کھڑا ہو وے۔ تو اٹھے ۔ تو کھڑا ہوتا ہے۔ تو اٹھتا ہے۔ حین تقوم جس وقت تو اٹھے۔
حین تقوم : ای من ای مکان قمت او من منامک : او الی الصلوٰۃ (جب بھی) جس کسی مجلس میں سے یا کسی بھی مقام سے تو اٹھے یا اپنی نیند سے (بیدار ہو) یا نماز کے لئے کھڑا ہو۔ (بیضاوی)
مطلب یہ کہ آپ جب بھی کسی کام کے لئے کھڑے ہوں یا کسی مجلس سے اٹھیں تو اپنے رب کی پاکی بیان کیا کریں۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کا ارشاد ہے۔ جسے ترمذی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے :۔
من جلس فی مجلس وکثر فیہ لغطہ فقال قبل ان یقوم من مجلسہ سبحانک اللہم وبحمدک اشھد ان لا الہ الا انت استغفرون واتوب الیک (جو کسی مجلس میں بیٹھتا ہے اور خوب گپیں ہانکتا ہے لیکن اس مجلس سے اٹھنے سے پہلے یہ کہتا ہے سبحن اللہم ۔۔ الخ اللہ تعالیٰ اس مجلس میں جو اس سے گناہ ہوئے بخش دیتا ہے۔
Ayah 52:49(52:49) ومن الیل فسبحہ وادبار النجوم : ای فسبحہ من الیل وادبار النجوم۔ اور اس کی تسبیح کیجئے رات کے کسی حصہ میں اور اس وقت بھی جب ستارے ڈوب رہے ہوں۔
من تبعیضیہ ہے۔ رات کا بعض حصہ۔ رات کو تسبیح سے مراد ہے کہ نماز پڑھو۔ مقاتل (رح) نے کہا اس سے مغرب اور عشاء کی نماز مراد ہے، میں کہتا ہوں بظاہر تہجد مراد لینا اچھا ہے آیت میں نماز شب کا خصوصی ذکر اس لئے کیا کہ رات کی عبادت نفس پر بڑی شاق گذرتی ہے اور دکھاوے کا شبہ نہیں ہوتا (تفسیر مظہری)
ادبار النجوم : ادبار بروزن افعال مصدر ہے۔ پیٹھ پھیرنا۔ ای وقت ادبار النجوم من اخر الیل اخیر شب تاروں کے ڈھلنے کے وقت۔ غیب تھا بضوء الصبح صبح کی لو سے ستاروں کا مذند پڑجانا اور گم ہوجانا (روح المعانی) اذا غربت او خفیت جب ستارے ماند پڑجائیں یا غروب ہوجائیں (بیضاوی)
ادبار النجوم کے وقت کی تسبیح سے مراد فجر کی نماز کی دو سنتیں ہیں۔ ای رکعتا الفجر فجر کی دو سنتیں (روح المعانی) اوصلاۃ الفجر (مدارک التنزیل) ادبار النجوم میں ادبار بوجہ ظرفیت منصوب ہے۔