48. Surah Al-Fath

الفتحThe Victory · 29 ayahsانوار البیان

Ayah 48:18

لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ عَلَیْهِمْ وَ اَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِیْبًاۙ Open ayah 48:18 in the Quran reader

(اے پیغمبر) ﷺ جب مومن تم سے درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے تو خدا ان سے خوش ہوا اور جو (صدق و خلوص) انکے دلوں میں تھا وہ اس نے معلوم کرلیا تو ان پر تسلی نازل فرمائی اور انہیں جلد فتح عنایت کی

(48:18) لقد۔ لام تاکید کا ہے قد ماضی کے ساتھ تحقیق کے معنی دیتا ہے اور ماضی ہی کے ساتھ تقریب کا فائدہ دیتا ہے یعنی اس کو زمانہ حال سے نزدیک بنا دیتا ہے۔ سو لقد رضی اللّٰہ تحقیق اللہ راضی ہوا ہے۔ عن المؤمنین۔ یہاں مؤمنین سے مراد وہ مؤمنین ہیں جو بیعت رضوان میں شامل تھے۔ اذ۔ ظرف زمان۔ جب ۔ جس وقت۔ یبایعونک۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ مبایعۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ وہ بیعت کرتے ہیں۔ وہ بیعت کر رہے تھے۔ (مضارع بمعنی ماضی۔ البیع کے معنی بیچنے اور شراء کے معنی خریدنے کے ہوتے ہیں لیکن یہ دونوں لفظ ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔ مثلاً شراء بمعنی بیع۔ وشروہ بثمن بخس وراھم معدودۃ اور اس کو تھوڑی سی قیمت یعنی معدہ دے چند درہموں پر بیچ ڈالا۔ اور حدیث شریف میں ہے لایبیعن احدکم علی بیع اخیہ کوئی اپنے بھائی کی خرید پر خرید نہ کرے۔ بایع السلطان اس نے بادشاہ کی بیعت کی۔ یعنی اس قلیل مال کے عوض جو بادشاہ عطا کرتا ہے اس کی اطاعت کا اقرار کرنا۔ اس اقرار کو بیعت یا مبایعت کہا جاتا ہے۔ اس بیعت کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے :۔ ان اللّٰہ اشتری من المؤمنین انفسھم واموالہم بان لہم الجنۃ (9:111) تحقیق خدا نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال خرید لئے ہیں (اور اس کے) عوض ان کے لئے بہشت (تیار کی) ہے۔ اور اسی آیۃ میں آگے چل کر فرمایا :۔ فاستبشروا ببیعکم الذی بایعتم بہ (9:111) تو جو سودا تم نے اس سے کیا ہے اس پر خوش ہوجاؤ اور اس بیع کی تفصیل سورة ہذا (الفتح) میں مذکور ہے۔ فرمایا : لقد رضی اللّٰہ عن المؤمنین اذ یبایعونک تحت الشجرۃ یقینا راضی ہوگیا اللہ تعالیٰ ان مومنوں سے جب وہ درخت کے نیچے آپ کی بیعت کر رہے تھے۔ فائدہ : اس آیت لقدر ؓ ۔۔ الخ ۔ کی وجہ سے اس بیعت کو بیعت رضواب کہتے ہیں اس آیت سے مقصود مومنوں کی تعریف اور مدح ہے اور گزشتہ کلام سے ایفاء بیعت پر برانگیختہ کرنا مقصوف تھا۔ تحت الشجرۃ۔ مضاف مضاف الیہ ، درخت کے نیچے۔ الشجرۃ کو معرفہ اس لئے لایا گیا ہے کہ اس سے مراد خاص درخت ہے جس کے نیچے بیعت لی گئی تھی اور جو بعد میں لوگوں میں اس قدر اہمیت پکڑ گیا کہ حضرت نافع مولیٰ ابن عمر کی روایت کے مطابق لوگ اس کے پاس جاجا کر نمازیں پڑھنے لگے۔ جب حضرت عمر ؓ کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے لوگوں کو ڈانٹا اور اس درختت کو کٹوا دیا۔ (طبقات ابن سعد) ۔ لیکن متعدد روایات اس کے خلاف بھی ہیں۔ (تفہیم القرآن) فائدہ : صاحب تفسیر ضیاء القرآن اس آیت کی تشریح میں رقمطراز ہیں :۔ اہل علم آیت کی بلاغت پر غور فرمائیں کہ رضی ماضی کا صیغہ استعمال کیا اور یبایعون مضارع کا ۔ رضی کا صیغہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوگیا۔ رضا و خوشنودی کی دولت سے سرمدی مالامال کردیا۔ اور یبایعون مضارع ذکر کرنے میں لطف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں کی یہ ادا اتنی پسند اور محبوب ہے کہ اسے ماضی کے حوالے نہیں کیا جاسکتا ۔ بیعت کا وہ ایمان افروز منظر تو اب بھی نگاہوں میں ہے کہ آپ ﷺ بیٹھے ہیں ۔ آپ کے جاں نثار ذوق و شوق سے دوڑے چلے آرہے ہیں اور بیعت کر رہے ہیں ۔ یہ سہانا منظر اور اس کی ایمان پر ور یاد ہمیشہ حال ہی رہیگی۔ ماضٰ کی داستان نہیں بنے گی۔ مافی قلوبھم : ما موصولہ ہے اور فی قلوبھم اس کا صلہ۔ یعنی یقین صبر، اور وفا کے جذبات۔ مافی قلوبھم من الیقین والصبر والوفائ۔ (طبری، مجمع البیان) السکینۃ : اطمینان، تسلی خاطر۔ نیز ملاحظہ ہو آیت نمبر 48:4 ۔ اثابھم : اثاب ماضی واحد مذکر غائب۔ اثابۃ (افعال) مصدر۔ ثوب مادہ۔ ثوب کا اصل معنی کسی چیز کا اپنی اصل حالت کی طرف لوٹ آنے کے ہیں۔ یا غور و فکر سے جو حالت مقدرہ اور مقصود ہوتی ہے اس تک پہنچ جانے کے ہیں۔ ثاب فلان الی وارہ۔ فلاں اپنے گھر کو لوٹ آیا۔ یا ثابت الی نفسی، میری سانس میری طرف لوٹ آتی۔ غور و فکر سے حالت مقدرہ مقصود تک پہنچ جانے کے اعتبار سے کپڑے کو ثوب کہا جاتا ہے کیونکہ سوت کاتنے سے غرض کپڑا بننا ہوتا ہے لہٰذا کپڑا بن جانے پر گویا سوت اپنی حالت مقصودہ کی طرف لوٹ آتا ہے۔ یہی معنی ثواب العمل کا ہے۔ الثواب۔ انسان کے عمل کی جو جزاء انسان کی طرف لوٹتی ہے اسے ثواب کہا جاتا ہے اس تصور پر کہ وہ جزاء گویا عین عمل ہی ہے حتی کہ اللہ تعالیٰ نے آیت فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ (95:7) تو جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا۔ میں جزاء کو نفس عمل کو ہی قرار دیا ہے۔ اس لئے یہاں یرجزاء ہ نہیں کہا حالانکہ مراد یہی ہے۔ گو لغوی طور پر ثواب کا لفظ خیر اور شر دونوں قسم کی جزاء پر بولا جاتا ہے لیکن اکثر اور متعارف استعمال نیک اعمال کی جزاء پر ہے۔ چنانچہ فرمایا :۔ ثوابا من عند اللّٰہ عندہ حسن الثواب ۔ (3:195) (یہ) خدا کے ہاں سے بدلہ ہے اور خدا کے ہاں اچھا بدلہ ہے۔ ثواب بمعنی بدلہ، انعام۔ عوض میں جو چیز پہنچے۔ جزاء ، ثواب، اثابھم اس نے ان کو بدلہ دیا۔ اس نے ان کو عطا کیا۔ اس نے ان کو انعام دیا۔ فتحا قریبا۔ موصوف و صفت مل کر مفعول اثاب کا۔ اس فتح سے مراد فتح خیبر ہے۔ جو صفر سہ 7 ھ میں ہوئی۔ ترجمہ :۔ اور ان کو عنقریب آنے والی فتح دی۔
Ayah 48:19

وَّ مَغَانِمَ كَثِیْرَةً یَّاْخُذُوْنَهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 48:19 in the Quran reader

اور بہت سی غنیمتیں جو انہوں نے حاصل کیں اور خدا غالب حکمت والا ہے

(48:19) ومغانم کثیرۃ۔ واؤ عاطفہ۔ مغانم کثیرۃ موصوف و صفت مل کر مفعول ثانی اثاب کا۔ مغانم پر تنوین بوجہ غیر منصرب ہونے کے نہیں آئی (ملاحظہ ہو آیت متذکرۃ الصدر) منصوب بوجہ فتحا قریبا کے معطوف ہونے کے ہے اور بہت سی نعمتیں بھی دے گا جن کو وہ لیں گے (یاخذنھا۔ اس میں ضمیر فاعل مومنون کی طرف راجع ہے۔ اور ھا ضمیر واحد مؤنث غائب مغانم کثیرۃ کی طرف راجع ہے) ان مغانم سے مراد خیبر کی فتح اور اس کے اموال غنیمت ہیں ۔ (اور یہ انعام صرف ان مؤمنوں کے لئے مخصوص تھا جو بیعت رضوان میں شریک تھے) عزیزا حکیما : کان کی خبر۔ زبردست، حکمت والا۔
Ayah 48:20

وَعَدَكُمُ اللّٰهُ مَغَانِمَ كَثِیْرَةً تَاْخُذُوْنَهَا فَعَجَّلَ لَكُمْ هٰذِهٖ وَ كَفَّ اَیْدِیَ النَّاسِ عَنْكُمْ١ۚ وَ لِتَكُوْنَ اٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ وَ یَهْدِیَكُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاۙ Open ayah 48:20 in the Quran reader

خدا نے تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ فرمایا ہے کہ تم ان کو حاصل کرو گے تو اس نے غنیمت کی تمہارے لئے جلدی فرمائی اور لوگوں کے ہاتھ تم سے روک دئیے غرض یہ تھی کہ یہ مومنوں کے لئے (خدا کی) قدرت کا نمونہ ہے اور وہ تم کو سیدھے راستے پر چلائے

(48:20) تاخذونھا : تاخذون مضارع جمع مذکر حاضر اخذ (باب نصر) مصدر ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب جو مغانم کی طرف راجع ہے۔ تم ان (غنیمتوں) کو لوگے۔ حاصل کرو گے۔ ان غنیمتوں کا اشارہ ان اموال غنیمت کی طرف اشارہ جو خٰبر کے بعد دوسری فتوحات کے سلسلہ میں مسلمانوں کو حاصل ہوئیں۔ فجعل :ترتیب کا ہے عجل ماضی واحد مذکر غائب تعجیل (تفعیل) مصدر اس نے جلدی کی۔ اس نے جلدی دیدی۔ عجلت بمعنی شتابی۔ جلدی۔ ھذا۔ اس سے فتح خیبر مراد ہے (تفسیر مظہری) ۔ اس سے مراد صلح حدیبیہ ہے جس کو سورة کے آغاز میں فتح مبین قرار دیا گیا ہے (تفہیم القرآن) ۔ ھذہ ای مغانم خیبر۔ (روح المعانی) ۔ ھذہ کا مشار الیہ صلح حدیبیہ ہے۔ قالہ ابن عباس۔ عجل لکم صلح الحدیبیۃ۔ (ضیاء القرآن) فجعل لکم ھذہ۔ پس اس نے سردست تم کو بہ دے دی۔ (صلح حدیبیہ یا فتح خیبر اور اس کے اموال غنیمت) وکف ایدی الناس عنکم : واؤ عاطفہ، کیف ۔۔ عن۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ کف (باب نصر) مصدر۔ عن کے صلہ کے ساتھ کف عن (کسی کام سے) باز رکھنا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ ایدی الناس مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول اول کف کا۔ اور لوگوں کے ہاتھوں کو باز رکھا تم سے۔ یعنی مخالفین کو تم پر حملہ آور ہونے سے روکا۔ اس میں مختلف اقوال ہیں :۔ (1) اہل خیبر اور ان کے حلیف بنی اسد۔ عظفان وغیرہ جب وہ اہل خیبر کی مدد کو آئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب (خوف) ڈال دیا۔ اور وہ پلٹ گئے۔ (2) مجاہد کا قول ہے کہ صلح حدیبیہ کی وجہ سے اہل مکہ کو کوئی معاندانہ اقدام کرنے سے روک دیا۔ (3) الطبری کا قول ہے کہ نبی کریم ﷺ کے مدینہ سے حدیبیہ یا خیبر کی طرف خروج سے اگرچہ مسلمانوں کی پوزیشن مدینہ میں ظاہرا کمزور تھی لیکن یہودی مسلمانوں کے خلاف کوئی قدم نہ اٹھاسکے (روح المعانی) (4) جمہور کے نزدیک اس سے مراد یہ ہے کہ قریش مکہ باوجود مسلمانوں کی جنگی حالت تشویشناک حد تک کمزور ہونے کے ان پر حملہ آور ہونے یا ان کو لڑائی میں الجھانے سے باز رہے۔ ولتکون ایۃ للمؤمنین : واؤ عاطفہ، اس جملہ کا عطف محذوف پر ہے جو الکف کی علت ہے ای فعل ما فعل من التعجیل والکف لتکون نافعۃ لہم وایۃ لہم۔ بعض کے نزدیک واؤ زائدہ ہے۔ لام تعلیل کا ہے تکون مضارع واحد مؤنث غائب۔ کون (باب نصر) مصدر ضمیر فاعل برائے التعجیل والکف ہے۔ ایۃ نشانی۔ (خدا کی) قدرت کا نمونہ۔ ترجمہ :۔ اور اس تعجیل و الکف کی غرض یہ تھی کہ یہ مومنوں کے لئے (خدا کی) قدرت کا نمونہ بن جائے۔ ویھدیکم صراط مستقیما : اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ صراط مستقیما۔ موصوف و صفت مل کر مفعول یھدی کا۔ اور تاکہ وہ تم کو سیدھے راستہ پر چلائے۔
Ayah 48:21

وَّ اُخْرٰى لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَیْهَا قَدْ اَحَاطَ اللّٰهُ بِهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرًا Open ayah 48:21 in the Quran reader

اور (غنیمتیں) دیں جن پر تم قدرت نہیں رکھتے تھے (اور) وہ خدا ہی کی قدرت میں تھیں اور خدا ہر چیز پر قادر ہے

(48:21) واخری لم تقدروا علیہا : واخری کا عطف فعجل لکم ھذہ میں ھذہ پر ہے ای فعجل لکم ھذہ المغانم ومغانم اخری یعنی اس نے تم کو فوری طور پر اموال غنیمت عطا کئے اور (ان کے علاوہ) اور اموال غنیمت بھی ہیں۔ لم تقدروا : مضارع منفی ھضد بلم۔ صیغہ جمع مذکر حاضر۔ قدر (باب ضرب) مصدر۔ قابو پانا۔ قبضہ قدرت میں رکھنا۔ قادر ہونا۔ علیہا میں ضمیر ھا واحد مؤنث غائب کا مرجع (مغانم) اخری ہے اور دوسری غنیمتیں جو ابھی تمہارے قبضہ قدرت میں نہیں آئیں۔ ان مغانم اخری سے کونسی فتوحات و اموال غنیمت مراد ہیں اس کے متعلق مفسرین کے مختلف اقوال ہیں :۔ (1) اس سے مراد ملک فارس و روم کے فتوحات اور اموال غنیمت ہیں (ابن عباس ؓ حسن۔ مقاتل۔ (2) اس سے مراد فتح مکہ ہے۔ (قتادہ) (3) اس سے مراد فتح حنین ہے۔ (عکرمہ) (4) آئندہ حاصل ہونے والی ہر فتح مراد ہے۔ (مجاہد) قد احاط اللّٰہ بھا : احاط ماضی واحد مذکر غائب۔ احاطۃ (افعال) مصدر۔ اس نے گھیر لیا۔ اس نے قابو میں کرلیا۔ احاطہ کرنے کے معنی ہیں کسی شے پر اس طرح چھا جانا کہ اس سے فرار ممکن نہ ہو۔ قد ۔۔ بھا۔ ای حفظھا لکم حتی تفتحوھا ومنعھا من غیرکم حتی تاخذوھا (الخازن) اللہ نے ان کو اپنی حفاظت میں لے رکھا ہے یہاں تک کہ تم ان کو فتح کرلو اور ان کو غیروں سے بچا رکھا ہے یہاں تک کہ تم ان کو پالو۔ یا احاطہ سے مراد علمی احاطہ ہے یعنی اللہ کا علم ان کو محیط ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ان کو تم سے فتح کرنا چاہتا ہے۔ مولانا مودوی لکھتے ہیں :۔ اغلب یہ ہے کہ اس سے مراد فتح مکہ ہے اور یہی رائے قتادہ کی ہے اور اسی کو ابن جریر نے ترجیح دی ہے ارشاد الٰہی کا مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ :۔ ابھی تو مکہ تمہارے قابو میں نہیں آیا مگر اللہ نے اسے گھیرے میں لے لیا ہے اور حدیبیہ کی اس فتح کے نتیجے میں وہ بھی تمہارے قبضہ میں آجائے گا۔ وکان اللّٰہ علی کل شیء قدیرا۔ (اور اس کے لئے یہ مشکل نہیں کیونکہ) وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
Ayah 48:22

وَ لَوْ قٰتَلَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوَلَّوُا الْاَدْبَارَ ثُمَّ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 48:22 in the Quran reader

اور اگر تم سے کافر لڑتے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے پھر کسی کو نہ دوست پاتے اور نہ مددگار

(48:22) ولو : واؤ عاطفہ لو شرطیہ ہے اگر ، قتلکم الذین کفروا کفار اہل مکہ تم سے لڑتے اور تم سے صلح نہ کرتے تو پشت پھیر کر بھاگ جاتے۔ لوتوا جواب شرط ہے وتوا ماضی جمع مذکر غائب تولیۃ (تفعیل) مصدر پیٹھ دے کر بھاگنا الادبار جمع دبر کی پیٹھیں دے کر بھاگ جاتے۔ لایجدون مضارع منفی جمع مذکر غائب وجد (باب ضرب، سمع) مصدر پانا۔ حاصل کرنا۔ پھر وہ نہ پاتے۔ ولیا : ولی صفت مشبہ کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ بمعنی محافظ۔ مددگار۔ حامی۔ بچانے والا۔ منصوب بوجہ مفعول۔ نصیرا۔ صیغہ صفت، نصر سے بچانے والا۔ مدد کرنے والا۔ بوجہ مفعول ہونے کے منصوب ہے۔ ولیا کا معطوف ہے۔ فائدہ : مطلب یہ ہے کہ حدیبیہ میں جنگ کو اللہ تعالیٰ نے اس لئے نہیں روکا تھا کہ وہاں مسلمانوں کے شکست کھا جانے کا امکان تھا بلکہ اس کی مصلحت کچھ دوسری ہی تھی جسے آگے کی آیتوں میں بیان کیا جارہا ہے (آیات 24:25) اگر وہ مصلحت نہ ہوتی اور اللہ تعالٰ اس مقام پر جنگ ہوجانے دیتا تو پھر بھی یقینا کفار ہی کو شکست ہوتی اور مکہ مکرمہ اسی وقت فتح ہوجاتا۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 48:23

سُنَّةَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ١ۖۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا Open ayah 48:23 in the Quran reader

(یہی) خدا کی عادت ہے جو پہلے سے چلی آتی ہے اور تم خدا کی عادت کبھی بدلتی نہ دیکھو گے

(48:23) سنۃ اللّٰہ : ای سن اللّٰہ سنۃ۔ اللہ تعالیٰ نے (یہ) دستور اختیار کر رکھا ہے (جلالین، تفسیر حقانی) التی قد خلت من قبل۔ جو قبل ازیں جاری رہا ہے (گزشتہ امتوں میں) اور وہ طریقہ یا دستور کیا تھا۔ کہ اللہ اور اللہ کے اولیاء اور انبیاء ہمیشہ اللہ کے دشمنوں پر غالب ہی رہیں گے۔ جیسا کہ اور جگہ اللہ نے فرمایا ہے :۔ کتب اللّٰہ لاغلبن انا ورسلی (58:21) اللہ نے یہ بات لکھ دی ہے کہ بلاشبہ میں اور میرے پیغمبر غالب آکر رہیں گے۔ اور فان حزب اللّٰہ ہم الغلبون (5:56) بیشک خدا کا لشکر ہی غلبہ پانے والا ہے۔ اور الا ان حزب اللّٰہ ہم المفلحون (58:22) خوب سن لو کہ خدا ہی کا لشکر فلاح پانے ولا ہے۔ التی اسم موصول واحد مؤنث۔ اگلا جملہ اس کا صلہ ہے۔ قدخلت : قد ماضی کے ساتھ تحقیق کا معنی دیتا ہے اور ماضی کو ماضی قریب بنا دیتا ہے۔ خلت ماضی واحد مؤنث غائب خلو (باب نصر) مصدر وہ گزر گئی وہ گزر چکی۔ من قبل (اس سے) پہلے۔ نیز ملاحظہ ہو آیت نمبت 15 مذکورۃ الصدر یہ اللہ کا دستور گزشتہ امتوں میں بھی جاری تھا۔ لن تجد : مضارع منفی تاکید بلن۔ وجود (باب ضرب) مصدر۔ اور تو اللہ کے دستور میں ہرگز تبدیلی نہ پائے گا۔
Ayah 48:24

وَ هُوَ الَّذِیْ كَفَّ اَیْدِیَهُمْ عَنْكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًا Open ayah 48:24 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے تم کو ان کافروں پر فتحیاب کرنے کے بعد سرحد مکہ میں ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دئیے اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو دیکھ رہا ہے

(48:24) بطن مکۃ۔ مضاف مضاف الیہ۔ بطن، بمعنی پیٹ۔ یہاں مراد وادی مکہ ۔ مکہ کے قریب، مکہ کی سرحد کے پاس ہے۔ من بعد ان اظفر کم علیہم : من حرف جر۔ ان مصدریہ۔ اظفر ماضی واحد مذکر غائب ۔ اظفار (افعال) مصدر۔ بمعنی کامیابی دینا۔ فتح مند کرنا۔ فیروز مند کرنا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ اس نے تم کو ان پر ظفر یاب کرنے کے بعد کف ایدیہم عنکم وایدیکم عنہم۔ ان کے ہاتھوں کو تم سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے روک دیا تھا۔ ان اظفر کم علیہم۔ جملہ مضاف الیہ ہے بعد کا۔ بصیرا خبر ہے کان کی۔ اور اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کر رہے تھے دیکھ رہا تھا۔ فائدہ : صاحب ضیاء القرآن لکھتے ہیں :۔ اگرچہ حدیبیہ کے مقام پر باقاعدہ لڑائی کی نوبت نہیں آئی تھی۔ لیکن کفار مکہ کے کئی جتھے اپنے بغض باطن سے مجبور ہوکر مسلمانوں سے چھیڑ چھاڑ کرتے رہے۔ حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ مکہ کے اسی شوریدہ سر پوری طرح مسلح ہوکر جبل تنعیم سے اترے۔ تاکہ بیخبر ی میں لشکر اسلام پر دھاوا بول دیں لیکن اس سے پہلے کہ وہ حملہ کرتے ہم نے ان کو محاصرہ میں لے لیا اور گرفتار کرلیا لیکن رحمت عالم ﷺ نے ان کو معاف کردیا۔ اسی طرح ایک دفعہ عکرمہ بن ابی جہل نے پانچ سو آدمیوں کو ساتھ لے کر لشکر اسلام پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا۔ حضور ﷺ نے اپنے صحابہ کا ایک دستہ ان کی سرکوبی کے لئے بھیجا لیکن وہ دم دبا کر بھاگ نکلے اور مکہ کی گلیوں میں جا کر پناہ لی۔ اس قسم کے کئی واقعات ہوئے جن سے جنگ کے شعلے بھڑک سکتے تھے اور صلح کی کوششیں ناکام ہوسکتی تھیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس طرح کی صورت حال پیدا نہ ہونے دی اور کفار کو بھی یہ جرأت نہ ہوئی کہ وہ تم پر حملہ کردیں اور تمہیں بھی یہ حوصلہ بخشا کہ تم کو ان کی اشتعال انگیزیوں سے برافروختہ ہوکر ان پر حملہ نہ کردو۔
Ayah 48:25

هُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ الْهَدْیَ مَعْكُوْفًا اَنْ یَّبْلُغَ مَحِلَّهٗ١ؕ وَ لَوْ لَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُوْنَ وَ نِسَآءٌ مُّؤْمِنٰتٌ لَّمْ تَعْلَمُوْهُمْ اَنْ تَطَئُوْهُمْ فَتُصِیْبَكُمْ مِّنْهُمْ مَّعَرَّةٌۢ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۚ لِیُدْخِلَ اللّٰهُ فِیْ رَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ لَوْ تَزَیَّلُوْا لَعَذَّبْنَا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 48:25 in the Quran reader

یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تم کو مسجد حرام سے روک دیا اور قربانیوں کو بھی کہ اپنی جگہ پہنچنے سے رکی رہیں اور اگر ایسے مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں نہ ہوتیں جن کو تم جانتے نہ تھے کہ اگر تم انکو پامال کردیتے تو تم کو ان کی طرف سے بیخبر ی میں نقصان پہنچ جاتا (تو ابھی تمہارے ہاتھ سے فتح ہوجاتی مگر تاخیر) اس لئے (ہوئی) کہ خدا اپنی رحمت میں جس کو چاہے داخل کرلے اور اگر دونوں فریق الگ الگ ہوجاتے تو جو ان میں کافر تھے ان کو ہم دکھ دینے والا عذاب دیتے

(48:25) ہم ضمیر شان ۔ جمع مذکر غائب، وہ ، وہی۔ اشارہ اہل مکہ کی طرف ہے ۔ الذین اسم موصول جمع مذکر، باقی جملہ اس کا صلہ۔ ہم الذین کفروا۔ یعنی وہ اہل مکہ ہی ہیں جنہوں نے کفر کیا۔ وصدوکم : واؤ عاطفہ، صدوا ماضی جمع مذکر غائب۔ صدو صدود (باب نصر) مصدر یعنی روکنا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ اور انہوں نے تم کا روکا۔ عن المسجد الحرام : عن حرف جر۔ المسجد الحرام موصوف و صفت حرمت والی مسجد یعنی کعبہ۔ یعنی کعبہ کا طواف کرنے سے روکا۔ والھدی۔ واؤ عاطفہ۔ الھدی منصوب ہے کہ اس کا عطف صدوکم میں ضمیر منصوب پر ہے۔ ای وصدوا الھدی اسم معرف باللام۔ قربانی کا جانور جو ماہ حرم میں حرم کے اندر ذبح ہونے کے لئے بھیجا جاتا ہے۔ معکوفا ان یبلغ الھدی محلہ۔ جملہ الھدی سے حال ہے۔ معکوفا بوجہ حال منصوب ہے۔ معکوفا : عکف باب ضرب و نصر، مصدر سے بمعنی روکے رکھنا۔ روکا ہوا۔ اعتکاف مسجد میں عبادت کے لئے رکے رہنا۔ ان مصدریہ ہے یبلغ مضارع منصوب بوجہ عمل ان صیغہ واحد مذکر غائب ۔ بلوغ باب نصر مصدر بمعنی پہنچنا۔ محلہ مضاف مضاف الیہ۔ محل اسم ظرف مکان ۔ قربانی کی جگہ۔ لولا۔ امتناعیہ ہے ۔ لو حرف شرط اور لا نافیہ ہے مرکب ہے اگر نہ ہوتے نیز ملاحظہ ہو (6:43) جواب لولا محذوف ہے۔ یعنی اگر نامعلوم مومن مرد اور عورتوں کا تمہارے ہاتھوں پامال ہوجانے کا خطرہ نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ مکہ پر حملہ کی اجازت دیدیتا۔ لم تعلمونھم : نفی جحد بلم صیغہ جمع مذکر حاضر ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب (رجال ونساء کے لئے۔ تغلیب المذکر علی المؤنث کی وجہ سے صیغہ جمع مذکر لایا گیا) لم تعلمونھم صفت ہے رجال ونساء کی۔ ان تطؤہم ان مصدریہ تطؤا مضارع جمع مذکر حاضر۔ نون اعرابی ان کے عمل سے ساقط ہوگیا۔ وظا (باب سمع) مصدر و ط ا مادہ۔ بمعنی کسی چیز کو پاؤں تلے روندنا۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب رجال ونساء کے لئے ہے تاکہ تم ان کو پامال کروگے، یا روند ڈالو گے۔ اسی معنی میں اور جگہ قرآن مجید میں ہے : ان ناشئۃ اللیل ہی اشد وطأ (73:6) کچھ شک نہیں کہ رات کا اٹھنا (نفس بہیمی کو) سخت پامال کرتا ہے۔ فتصیبکمسببیہ ہے تصیب مضارع منصوب واحد مؤنث غائب ۔ اصابۃ (افعال) مصدر۔ ضمیر فاعل معرۃ کی طرف راجع ہے کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ اور بدیں سبب تم کو بدنامی پہنچے (ان کی وجہ سے) معرۃ گناہ۔ تکلیف ، دکھ، مضرت، بدی ، عیب، بری بات، سختی (ع ر ر مادہ) ۔ اعتر (باب افتعال سے) بغیر سوال کئے بخشش کے لئے آنا۔ قرآن مجید میں ہے واطعموا القانع والمعتر (22:36) اور قناعت سے بیٹھ رہنے والوں کو اور بغیر سوال کئے بخشش کے لئے آنے والوں کو بھی کھلاؤ۔ منھم۔ ان کی وجہ سے ۔ ہم کی ضمیر رجال مومنون و نساء مؤمنات کی طرف راجع ہے۔ بغیر علم۔ اس کا تعلق یا تو ان تطؤھم سے ہے۔ یعنی لاعلمی میں تم ان کو رونڈ ڈالو گے۔ یا اس کا تعلق فتصیبکم منھم معرۃ سے ہے۔ یعنی بےعلمی میں ان کی پامالی کی وجہ سے تم کو گناہ پہنچ جائے۔ لیدخل اللّٰہ فی رحمتہ من یشاء لام تعلیل کا ہے علت محذوف ہے یعنی مکہ میں زبردستی داخل ہونے کی ممانعت۔ آیت کا مطلب یوں ہوگا :۔ اگر یہ خطرہ نہ ہوتا کہم کہ میں وہ مومن مرد اور عورتیں جن کو تم نہیں جانتے تھے تمہارے ہاتھوں لاعلمی میں پامال ہوجائیں گے اور ان کی طرف سے تمہیں یوں بدنامی پہنچے گی تو اللہ تعالیٰ تمہیں زبردستی مکہ میں داخل ہونے کی اجازت دیدیتا۔ لیکن اس نے زبردستی داخل ہونے ممانعت اسلئے کردی کہ وہ جس کو چاہے اپنی رحمت میں داخل کر دے (اس ادخال رحمت میں مومن مرد اور عورتوں کا پامال سے بچ جانا۔ مسلمانوں کا مومنین کو پامال کرنے کی بدنامی سے بچ جانا اور کفار کی کثیر تعداد کا بعد میں ایمان لے آنا شامل ہے لو : حرف شرط۔ اگر۔ تزیلوا ماضی جمع مذکر غائب۔ یزیل (تفعل) مصدر جس کے معنی پراگندہ اور متفرق ہونے کے ہیں۔ یعنی اگر وہ ایک طرف ہوتے یا جدا ہوجاتے ، اگر وہ مسلمان کافروں سے الگ ہوتے۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے فزیلنا بینھم (10:27) تو ہم ان میں تفرقہ ڈال دیں گے۔ لعذبنا۔ لام جواب شرط کے لئے ہے۔ عذبنا ماضی جمع متکلم تو ہم عذاب دیتے ۔ منھم : ای من اہل مکہ۔ اہالیان مکہ میں سے (جو کافر تھے ان کو دردناک عذاب دیتے) ۔ عذابا الیما : موصوف و صفت، مفعول مطلق، دردناک۔ فائدہ : اللہ تعالیٰ کو اپنے نیک بندوں کا اتنا پاس ہے کہ ان کی موجودگی کی وجہ سے ساری بستی والوں کو بچا لیتا ہے گو بستی والے ان اللہ کے بندوں کو دکھ ہی کیوں نہ دیتے ہوں۔
Ayah 48:26

اِذْ جَعَلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْحَمِیَّةَ حَمِیَّةَ الْجَاهِلِیَّةِ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوٰى وَ كَانُوْۤا اَحَقَّ بِهَا وَ اَهْلَهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠ Open ayah 48:26 in the Quran reader

جب کافروں نے اپنے دلوں میں ضد کی اور ضد بھی جاہلیت کی تو خدا نے اپنے پیغمبر اور مومنوں پر اپنی طرف سے تسکین نازل فرمائی اور انکو پرہیزگاری کی بات پر قائم رکھا اور وہ اسی کے مستحق اور اہل تھے اور خدا ہر چیز سے خبردار ہے

(48:26) اذ ظرف زمان ہے یہ فعل محذوف کا مفعول ہے ای اذکر اذ وہ وقت یاد کرو جب۔ یا یہ لعذبنا کا ظرف ہے۔ جب ، یعنی تو ان میں سے جو کافر تھے ہم ان کو دردناک عذاب دیتے ۔ جب ان کافروں نے اپنے دلوں میں حمیت جاہلیہ کو جگہ دی (اور رسول اللہ اور ان کے صحابیوں کو مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا) ۔ ای لعذبنا ھم اذ جعل الذین کفروا فی قلوبھم الحمیۃ۔ حمیۃ الجاہلیۃ (ایسر التفاسیر) جعل۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ جعل (باب فتح) مصدر۔ اس نے بنایا۔ اس نے کہا۔ اس نے جگہ دی۔ اس نے ٹھہرایا۔ امام راغب لکھتے ہیں کہ :۔ جعل ایک ایسا لفظ ہے کہ تمام افعال کے لئے عام ہے یہ فعل، صنع اور اس قسم کے تمام افعال سے اعم ہے اس کا استعمال پانچ طرح پر ہوتا ہے :۔ (1) صار : طفق (ہوگیا، لگا) کی جگہ استعمال ہوتا ہے اور اس وقت متعدی نہیں ہوتا۔ جیسے جعل زید یقول کذا۔ زید یوں کہنے لگا (2) اوجد : (اس نے ایجاد کیا۔ اس نے پیدا کیا) کی بجائے آتا ہے۔ اس صورت میں اس کا تعدیہ ایک مفعول کی طرف ہوتا ہے۔ جیسے فرمایا وجعل الظلمات والنور (6:1) اور اندھیرے اور روشنی بنائی۔ (3) ایک شے کو دوسری شے سے پیدا کرنا اور بنانا۔ جیسے فرمایا جعل لکم من انفسکم ازواجا (42:11) اسی نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس کے جوڑے بنائے۔ (4) بمعنی تصییر۔ یعنی کسی شے کو ایک حالت سے دوسری حالت میں تبدیل کرنا۔ جیسے فرمایا۔ الذی جعل لکم الارض فراشا (2:22) جس نے تمہارے لئے زمین کو بچھونا بنایا۔ (5) کسی چیز کے متعلق کسی بات کا تجویز کرنا۔ خواہ وہ حق ہو یا باطل۔ حق کی مثال انا رادوہ الیک وجاعلوہ من المرسلین (28:7) ہم اس کو تمہارے پاس واپس پہنچا دیں گے پھر اسے پیغمبر بنادیں گے۔ باطل کی مثال :۔ الذین جعلوا القران عضین (16:91) یعنی قرآن کو (کچھ ماننے اور کچھ نہ ماننے سے) ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ یہاں اس آیت میں بمعنی بنا لیا۔ ٹھہرا لیا ہے۔ الذین کفروا سے مراد اہل مکہ ہیں۔ الحمیۃ : کد۔ ضد۔ قوت غضبیہ جب جوش میں آئے اور بڑھ جائے تو حمیت کہلاتی ہے۔ خو دداری جو تکبر و نخوت کی بناء پر ہو۔ الحمی (ح م ی مادہ) وہ حراست جو گرم جواہر جیسے آگ، سورج وغیرہ سے حاصل ہوتی ہے اور وہ بھی جو کہ بدن میں قوت حارہ سے پیدا ہوتی ہے۔ قرآن مجید میں ہے یوم یحمی علیہا فی نار جھنم (9:35) جس دن وہ مال دوزخ کی آگ میں خوب گرم کیا جائے گا۔ صاحب ایسر التفاسیر اس آیت کی تفسیر یوں کرتے ہیں :۔ ای لعذبناھم اذ جعل الذین کفروا فی قلوبھم الحمیۃ حمیۃ الجاہلیۃ وہی الانفۃ المانعۃ من قبول الحق ولذا منعوا الرسول و اصحابہ من دخول مکۃ وقالوا کیف یقتلون ابناء نا ویدخلون بلادنا واللات والعزی ما دخلوھا (تو ہم ان کو عذاب دیتے جب کفار نے اپنے دلوں میں حمیت جاہلیہ کو جگہ دی جو تکبر و نخوست پر مبنی وہ ضد ہے جو قبول حق سے مانع ہوتی ہے اور جس کی بناء پر کفار نے رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب کو مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا اور کہا کہ انہوں نے ہماری اولاد کو قتل کیا ہے اور ہمارے ملک میں زبردستی گھس آئے ہیں لات اور عزی کی قسم وہ ہرگز اس میں (یعنی مکہ میں) داخل نہیں ہوں گے حمیۃ الجاہلیۃ مضاف مضاف الیہ مل کر جعل کا مفعول یہ بدل ہے الحمیۃ سے۔ یعنی زمانہ جاہلیت کی سی ضد۔ فانزل اللّٰہ سکینتہ علی رسولہ وعلی المؤمنین (بصورت اذ بمعنی مفعول فعل محذوف) آیت کا ترجمہ ہوگا :۔ جب کفار نے اپنے دلوں میں ضد کو جگہ دی اور ضد بھی جاہلیت کی تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر اور اہل ایمان پر اپنی سکینت نازل فرمائی (اور انہوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور جنگ پر قدرت رکھنے کے باوجود لڑائی سے باز رہے۔ سکنیہ کے لئے ملاحظہ ہو 48:4 متذکرۃ الصدر۔ الزمہم : الزم ماضی واھد مذکر غائب الزام (افعال) مصدر بمعنی لگا دینا۔ لازم کردینا۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ۔ ضمیر فاعل اللہ کی طرف راجع ہے۔ اس نے ان پر لازم کردیا۔ اس نے ان پر جما دیا۔ اس نے ان کو استقامت بخشی (کلمۃ التقوی پر) کلمۃ التقوی۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول ثانی الزم کا۔ کلمۃ التقوی کے متعلق مختلف اقوال ہیں :۔ (1) حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد، قتادہ، حضاک، عکرمہ، سدی وغیرہ اور اکثر مفسرین کا قول ہے کہ اس سے مراد لا الہ الا اللّٰہ واللّٰہ اکبر ہے۔ (2) عطا بن رباح نے کہا کہ اس سے مراد ہے لا الہ الا اللّٰہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شیء قدیر۔ (3) عطاء خراسانی کے نزدیک اس سے مراد ہے لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ۔ (4) زہری نے کہا کہ اس سے مراد ہے بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم۔ مآل سب کا ایک ہی ہے (کہ کلمہ توحید مراد ہے) کلمہ توحید ہر تقوی کی بنیاد اور سبب ہے۔ کلمہ تقویٰ سے مراد اہل تقوی کا کلمہ۔ الزمہم کلمۃ التقوی یعنی ان کو کلمہ تقویٰ پر جمائے رکھا اور رحمیت جاہلیت کو ان سے درد کردیا۔ کانوا۔ میں ضمیر فاعل جمع مذکر غائب کا مرجع رسول کریم اور مؤمنین ہیں۔ احق بھا : احق اسم تفضیل ، اور فاعل دونوں کے معنی میں آتا ہے۔ بڑا حق دار ۔ زیادہ مستحق۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کلمۃ التقوی کی طرف راجع ہے۔ واہلہا۔ عطف تفسیری ہے۔ اس کے حق دار۔ اس کے قابل۔ اس کے سزاوار۔ علیما۔ خبر کان۔ بڑا دانا۔ خوب جاننے والا۔ علم سے فعیل کے دن پر مبالغہ کا صیغہ ہے۔
Ayah 48:27

لَقَدْ صَدَقَ اللّٰهُ رَسُوْلَهُ الرُّءْیَا بِالْحَقِّ١ۚ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَ١ۙ مُحَلِّقِیْنَ رُءُوْسَكُمْ وَ مُقَصِّرِیْنَ١ۙ لَا تَخَافُوْنَ١ؕ فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوْا فَجَعَلَ مِنْ دُوْنِ ذٰلِكَ فَتْحًا قَرِیْبًا Open ayah 48:27 in the Quran reader

بیشک خدا نے اپنے پیغمبر کو سچا (اور) صحیح خواب دکھایا کہ تم خدا نے چاہا تو مسجد حرام میں اپنے سر منڈوا کر اور اپنے بال کتروا کر امن وامان سے داخل ہو گے اور کسی طرح کا خوف نہ کرو گے جو بات تم نہیں جانتے تھے اس کو معلوم تھی تو اس نے اس سے پہلے ہی جلد فتح کرا دی

(48:27) لقد۔ لام تاکید کا۔ قد ماضی کے ساتھ تحقیق کا فائدہ دیتا ہے اور ماضی قریب کے معنی دیتا ہے۔ صدق اللّٰہ : صدق ماضی واحد مذکر غائب۔ صدق (باب نصر) مصدر۔ اس نے سچ کر دکھایا۔ اس نے سچ کہا۔ صدق کا تعدیہ کبھی دو مفعول کی طرف بھی ہوتا ہے۔ جیسے آیت ہذا میں ۔ نیز اور جگہ قرآن مجید میں ہے ولقد صدقکم اللّٰہ وعدہ (3:152) اور اللہ سچ کرچکا تم سے اپنا وعدہ۔ بالحق : حق کے ساتھ۔ سچ سچ، صداقت و یقین کے ساتھ۔ بالکذب، حق ضد ہے باطل کی۔ مطلب یہ کہ رسول کریم ﷺ کو جو خواب اللہ تعالیٰ نے دکھایا تھا وہ سچ تھا اور وقوع کے عین مطابق۔ یعنی یہ خواب ایسے ہی عملاً وقوع پذیر ہگا جیسا کہ خواب میں دکھایا گیا تھا۔ اس طرح رسول کریم ﷺ نے خواب کے متعلق جو کچھ فرمایا تھا وہ درست فرمایا تھا۔ اور خواب بالکل حقیقت کے مطابق تھا اور ایسا ہی ہو کر رہے گا۔ (کلام اللہ میں صیغہ ماضی استعمال ہوا ہے لیکن مراد اس سے مستقبل ہے ۔ کیونکہ خداوند تعالیٰ کا قول زمانہ مستقبل کے متعلق ایسا ہی ہے جیسا کہ وہ فی الواقع ہوچکا ہے) ۔ ترجمہ :۔ اللہ نے سچ دکھایا ہے اپنے رسول کو خواب۔ لتدخلن المسجد الحرام۔ لام تاکید کا ہے تدخلن مضارع تاکید بانون ثقیلہ جمع مذکر حاضر۔ المسجد الحرام۔ موصوف و صفت مل کر مفعول ہے تدخلن کا۔ تم ضرور داخل ہوگے مسجد حرام میں۔ (یہ وعدہ اگلے سال ذوالقعدہ سہ 7 ھ میں پورا ہوا۔ یہ عمرہ عمرۃ القضاء کے نام سے مشہور ہے) ۔ لتدخلن ۔۔ الخ تفسیر مظہری میں ہے :۔ (1) ابن کیسان نے کہا کہ یہ رسول اللہ کا قول تھا جس کو اللہ نے نقل کیا ہے ۔ اللہ کے رسول ﷺ نے اپنا خواب ان الفاظ میں بیان فرمایا تھا کہ تم لوگ کعبہ میں داخل ہوگے۔ (2) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ خواب کے فرشتہ کا قول ہو جو اللہ نے نقل کیا۔ (3) سید قطب فی ظلال القرآن میں رقمطراز ہیں :۔ ولکن اللّٰہ سبحانہ و تعالیٰ یؤدب المؤمنین بادب الایمان وھو یقول لہم : لتدخلن المسجد الحرام ۔۔ ان شاء اللّٰہ ۔۔ فالدخول واقع حتم ، لان اللّٰہ اخبر بہ۔ لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ مؤمنین ایمان کے ادب و آداب سکھاتے ہوئے ان سے فرماتا ہے :۔ ” تم ضرور داخل ہو گے مسجد الحرام میں ۔۔ مشیت ایزدی سے “۔ اور داخل ہونے کا وقوعہ حتمی ہوگا۔ کیونکہ اس کی خبر دینے والا خود اللہ تعالیٰ ہے۔ لتدخلن سے لے کر ولا تخافون تک خواب کا بیان ہے جو کہ رسول کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دکھایا گیا۔ ان شاء اللّٰہ کا فقرہ غور طلب ہے :۔ (1) ان شک کے لئے استعمال ہوتا ہے، اور یہ اللہ کا کلام ہے اس میں شک کا کیا داخل ہوگے۔ ان کا معنی اذ کا استعمال عام ہے۔ صاحب لسان لکھتے ہیں :۔ وتجیء ان بمعنی اذ ضرب قولہ : اتقوا اللّٰہ وذروا ما بقی من الربو ان کنتم مؤمنین (2:278) بمعنی اذکنتم مؤمنین۔ یعنی اللہ سے دڑو باقی سود چھوڑ دو جب کہ تم ایمان لا چکے ہو۔ اس آیت میں بھی ان بمعنی اذ ہے۔ (2) اگرچہ ان شک کے موقعہ پر استعمال ہوتا ہے لیکن اس جگہ بطور ادب اس لفظ کا استعمال کیا گیا ہے۔ لتدخلن کے محاذ سید قطب کا قول بھی مذکور ہوچکا ہے کہ ان شاء اللّٰہ کا استعمال ادب و اداب سکھانے کے لئے ہوا ہے اسی ادب کو ملحوظ رکھنے کا ایک دوسری آیت میں بھی حکم دیا گیا ہے۔ فرمان الٰہی ہے :۔ ولا تقولن لشیء انی فاعل ذلک ذلک غدا الا ان یشاء اللّٰہ (18:23-24) اور کسی کام کی نسبت نہ کہنا کہ میں اسے کل کر دوں گا۔ مگر انشاء اللہ کہہ کر۔ یعنی اگر خدا نے چاہا تو (کردوں گا) (3) صاحب ضیاء القرآن لکھتے ہیں کہ ان شاء اللّٰہ کا فقرہ یہاں ذکر کرنے کی ایک حکمت یہ بھی ہے کہ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام کا اس دفعہ مکہ نہ جانا اس لئے نہیں کہ کفار بہت طاقتور تھے اور مسلمان ان کی قوت سے خائف تھے تو واپس چلے گئے بلکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت یہ تھی کہ وہ واپس چلے جائیں کیونکہ اس میں وہ حکمتیں تھیں جن کا للہ تعالیٰ تو جانتا تھا لیکن تم نہیں جانتے تھے (اسی آیت میں آگے چل کر) فعلم مالم تعلموا سے اسی کی طرف اشارہ ہے۔ ان شاء اللّٰہ جملہ معترضہ ہے۔ امنین امن کی جمع ہے بحالت نصب۔ اسم فاعل جمع مذکر امن (باب سمع) مصدر۔ مطئن، دل جمع، بےخوف۔ لتدخلن کے ضمیر فاعل سے حال ہے۔ محلقین رء وسکم : محلقین اسم فاعل جمع مذکر تحلیق (تفعیل) مصدر، سر منڈانیء والے۔ اصل لغت میں حلقہ کا معنی ہے اس کا حلق کاٹ دیا۔ توسیع استعمال کے بعد حلق کا معنی ہوا بال کاٹنا۔ پھر عرف عام میں بال مونڈنے کا معنی ہوگیا۔ اور باب تفعیل سے بال منڈوانے کا ترجمہ ہوگیا۔ لیکن کبھی لازم بھی آتا ہے جیسے حلق الطائر پرندہ گول دائرہ بنا کر چکر کاٹ کر اڑا۔ اس لئے حلقہ آدمیوں کی اس جماعت کو کہتے ہیں جو دائرہ بنا کر بیٹھی ہو۔ رء وسکم مضاف مضاف الیہ۔ تمہارے سر۔ تمہارے اپنے سر۔ محلقین رء وسکم اپنے سروں کو منڈاتے ہوئے۔ مقصرین۔ اس کا عطف محلقین پر ہے۔ مقصرین اسم فاعل جمع مذکر ۔ منصوب۔ تقصیر (تفعیل) مصدر۔ کم کرنے والے۔ بال کترنے والے۔ واؤ عاطفہ بمعنی ” یا “ ہے یا (اپنے بالوں کو) کتراتے ہوئے۔ یہ بھی ضمیر فاعل لتدخلن سے حال ہے۔ لاتخافون مضارع منصوب جمع مذکر حاضر۔ تم نہیں ڈرو گے ۔ تم بےخطر ہوگے۔ خوف (باب فتح) مصدر۔ یہ بھی ضمیر لتدخلن سے حال ہے۔ فعلم مالم تعلموا۔ اس جملہ کا عطف صدق پر ہےعاطفہ علم فعل ما اسم موصول ۔ لم تعلموا مضارع نفی جحد بلم۔ صلہ، موصول و صلہ مل کر مفعول فعل علم کا۔ پس جس بات کو تم نہ جانتے تھے۔ اس نے اس کو جان لیا۔ علم میں ضمیر فاعل اللہ کی طرف راجع ہے من دون ذلک : من حرف جار۔ دون : بمعنی ورے۔ سوائے ، غیر۔ جو کسی کے نیچے ہو۔ دون کہلاتا ہے۔ یہ ظرف ہو کر استعمال ہوتا ہے۔ مضاف ، ذلک۔ اسم اشارہ بمعنی اس ، وہ ۔ واحد مذکر ۔ مضاف الیہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مجرور۔ من دون ذلک اس سے ورے۔ اس سے پہلے۔ ای من قبل دخولکم الحرم تمہارے مسجد حرام میں داخل ہونے سے قبل۔ فتحا قریبا۔ موصوف و صفت مل کر مفعول جعل کا۔ مراد اس سے فتح خیبر ہے یا صلح حدیبیہ (الخازن) پس اس نے دخول مسجد حرام سے قبل ہی ایک ایسی فتح عطا کردی جو قریب ہے۔
Ayah 48:28

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًاؕ Open ayah 48:28 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت (کی کتاب) اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اس کو تمام دینوں پر غالب کرے اور حق ظاہر کرنے کے لئے خدا ہی کافی ہے

(48:28) ھو : ضمیر شان۔ جو اللہ کی طرف راجع ہے جملہ مابعد اس کی تفسیر ہے۔ دین الحق۔ دین اسلام ۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ دین الحق ای بدین الحق۔ لیظھرہ۔ لام تعلیل کا۔ ہظھر مضارع منصوب (بوجہ عمل لام) واحد مذکر غائب۔ اظھار (افعال) مصدر۔ بمعنی غالب کرنا۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب جو دین الحق کی طرف راجع ہے ۔ کہ اس (دین حق یعنی دین اسلام) کو غالب کردے۔ علی الدین کلہ : ای علی الادیان کلہا۔ یعنی تمام (دوسرے) دینوں پر۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول مقبول ﷺ کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا تاکہ تمام مذاہب پر غالب کر دے۔ جو مذہب (گذشتہ زمانے میں) حق تھے۔ یعنی اللہ کی طرف آئے تھے) ان کو منسوخ کردینے کے لئے اور جو مذہب باطل تھے ان کے غلط ہونے کو دلائل اور براہین سے ثابت کرنے کے لئے یا کبھی نہ کبھی کسی زمانہ میں مسلمانوں کو ان پر غلبہ عطا کرنے کے لئے۔ وکفی باللّٰہ شھیدا۔ واؤ عاطفہ کفی ماضی واحد مذکر غائب کفایۃ (باب ضرب) مصدر۔ کفایۃ کے معنی اس عمل کے ہیں جس میں کسی کی حاجت روائی اور مقصد رسانی کی گئی ہو۔ اس کا استعمال متعدی بھی ہوتا ہے اور لازم بھی کبھی متعدی بیک مفعول ہوتا ہے۔ جیسے کفانی قلیل من المال (مجھے تھوڑا سا مال کافی ہوگیا۔ اور کبھی متعدی بدو مفعول ہوتا ہے ۔ جیسے وکفی اللّٰہ المؤمنین القتال (33:25) اور اپنے اوپر لے لی اللہ نے مومنوں کی جنگ یا۔ اور اللہ مومنوں کو لڑائی کے بارے میں کافی ہوا۔ یعنی مسلمانوں کو غزوہ احزاب میں مشرکین کے مقابلہ میں عمومی طور جنگ کرنے کی نوبت ہی نہیں آئی اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم ہی ایسے اسباب پیدا کر دئیے جو کفار کی ہزیمت اور بےنیل و مرام واپسی کا سبب بنے۔ اور جب کفی لازم مستعمل ہو تو خلاف قیاس فاعل پر تاکید اتصال اسنادی کے لئے یاء کا اضافہ کیا جاتا ہے اور ایک اسم صفت فاعل سے حال کے طور پر اس عمل سے مشتق کرکے جس کے متعلق کفایت کا اثبات مقصود ہولے آیا جاتا ہے۔ خواہ فاعل خالق ہو یا مخلوق ! جیسے کفی باللّٰہ شھیدا (آیت زیر مطالعہ 48:14) آج تو اپنا آپ ہی محاسب کافی ہے۔ شھیدا فاعل (اللہ) سے حال ہے۔ مطلب یہ کہ فتح مکہ کے وعدہ حق ہونے پر۔ یا۔ رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر اللہ کی شہادت کافی ہے۔ یہ مسجد حرام میں داخلے کے وعدہ کی تاکید ہے۔
Ayah 48:29

مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا١٘ سِیْمَاهُمْ فِیْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ١ؕ ذٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ١ۛۖۚ وَ مَثَلُهُمْ فِی الْاِنْجِیْلِ١ۛ۫ۚ كَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْئَهٗ فَاٰزَرَهٗ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوٰى عَلٰى سُوْقِهٖ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ١ؕ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 48:29 in the Quran reader

محمد ﷺ خدا کے پیغمبر ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں کے حق میں تو سخت ہیں اور آپس میں رحم دل (اے دیکھنے والے) تو انکو دیکھتا ہے کہ (خدا کے آگے) جھکے ہوئے سربسجود ہیں اور خدا کا فضل اور اس کی خوشنودی طلب کر رہے ہیں (کثرت) سجود کے اثر سے ان کی پیشانیوں پر نشان پڑے ہوئے ہیں ان کے یہی اوصاف تورات میں (مرقوم) ہیں اور یہی اوصاف انجیل میں ہیں (وہ) گویا ایک کھیتی ہیں جس نے (پہلے زمین سے) اپنی سوئی نکالی پھر اس کو مضبوط کیا پھر موٹی ہوئی اور پھر اپنی نال پر سیدھی کھڑی ہوگئی اور لگی کھیتی والوں کو خوش کرنے تاکہ کافروں کا جی جلائے جو لوگ ان میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان سے خدا نے گناہوں کی بخشش اور اجر عظیم کا وعدہ کیا ہے

(48:29) محمد رسول اللّٰہ : محمد مبتدائ۔ رسول اللّٰہ۔ اس کی خبر ہے۔ یہ جملہ مستانفہ ہے۔ رسول اللّٰہ کے الفاظ جملہ اوصاف جمیلہ وخصائل حمیدہ پر مشتمل ہے وھو مشتمل علی کل وصف جمیل (ابن کثیر) والذین معہ : واؤ عاطفہ ہے الذین معہ صلہ موصول مل کر مبتداء (اور وہ جو ان کے ساتھ ہیں) اشدا علی الکفار۔ وہ کفار کے مقابلہ میں طاقتور اور شجاع ہیں۔ خبر مبتدا کی۔ یہاں سے الذین معہ (یعنی اصحاب رسول ﷺ ) کی صفات کا بیان شروع ہوتا ہے۔ اشدائ : شدید کی جمع ہے ۔ زور آور، بہادر، طاقت ور۔ ترج العروس میں ہے :۔ الشدۃ النجدہ وثبات القلب۔ والشدید الشجاع والقوی من الرجال والجمع الاشدائ۔ الشدۃ قوت اور دل کی محکمی کا نام ہے اور ۔۔ الشدید شجاع اور طاقتور مرد کو کہتے ہیں اس کی جمع اشداء ہے۔ علی الکفار۔ کافروں کے مقابلہ میں ۔ رحمناء بینھم : رحماء رحیم کی جمع۔ بڑے نرم دل۔ بڑے مہربان ۔ یعنی آپس میں بڑے رحم دل اور مہربان ہیں۔ ترھم : مضارع واحد مذکر حاضر۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب کا مرجع الذین معہ ہے۔ تری تو دیکھے گا۔ تو دیکھتا ہے۔ رکعا : جمع ہے راکع کی ضمیر ہم سے حال ہے۔ رکوع کی حالت میں۔ رکوع کرنے والے۔ سجدا۔ جمع ہے ساجد کی یہ بھی ہم ضمیر سے حال ہے۔ رکوع کی حالت میں۔ رکوع کرنے والے۔ مطلب یہ کہ تو ان کو اکثر رکوع کرتے ہوئے یا سجدہ کرتے ہوئے یعنی نماز کی ھالت میں دیکھے گا۔ یبتغون : مضارع جمع مذکر غائب ابتغاء (افتعال) مصدر۔ وہ طلب کرتے ہیں ۔ وہ ڈھونڈتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں۔ فضلا : اسم فعل (حالت نصب) رحمت، مغفرت ، بخشش، مہربانی، فضل کے اصل معنی زیادتی کے ہیں۔ اس لئے اس کا اطالق اس مال و دولت پر بھی ہوتا ہے جو کہ بطور نفع آدمی کو حاصل ہو۔ اور خداوند تعالیٰ کے عطیہ پر بھی خواہ وہ دنیوی ہو یا اخروی ہو کیونکہ وہ آدمی کو اس کے استحقاق سے زیادہ دیا جاتا ہے۔ یہاں منصوب بوجہ یبتغون کے مفعول ہونے کے ہے۔ رضوانا : رضی یرضی (باب سمع) کا مصدر ہے رضا۔ کثیر یعنی بڑی رضا مندی اور نہایت خوشنودی کو رضوان کہتے ہیں۔ چونکہ سب سے بڑہ رضا اللہ کی رضا ہے اس لئے قرآن مجید میں رضوان کا لفظ جہاں بھی استعمال ہوا ہے وہ رضاء الٰہی کے لئے مخصوص ہے۔ مطلب یہ ہے کہ :۔ صحابہ رسول ﷺ کا کثرت سے نماز پڑھنا اور اکثر رکوع و سجود کی حالت میں پایا جانا دکھاوے کے لئے یا کسی دنیاوی غرض کے لئے نہیں ہے بلکہ خاص اللہ کے لئے اور اس کے فضل اور خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ہے۔ سیماہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کی علامت، ان کی نشانی۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب الذین معہ کی طرف راجع ہے۔ سیما اصل میں وسمی تھا۔ واؤ کو فاء کلمہ کی بجائے عین کلمہ کی جگہ رکھا گیا تو سومی ہوگیا۔ پھر واؤ کو ساکن اور ماقبل کے مکسور ہونے کی وجہ سے واؤ کو یاء کرلیا گیا۔ تو سیمی ہوگیا۔ صحابہ کی پیشانیوں پر سیما (نشانی ۔ علامت) سے مراد وہ گٹا نہیں جو عام طور پر پیشانی پر نمودار ہوجاتا ہے بلکہ اس سے مراد نور باطن ہے جو ان کے چہروں پر نمایاں ہوتا ہے۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ یعرف المجرمون بسیماھم فیؤخذ بالنواصی والاقدام (55:41) گنہگار اپنی نشانیوں سے ہی پہچانے جائیں گے۔ اور پیشانی کے بالوں اور پاؤں سے پکڑے جائیں گے۔ سیماہم مبتداء فی وجوھھم اس کی خبر ہے۔ من اثر السجود مضاف مضاف الیہ مل کر مجرور ۔ من جار۔ سجدوں کے اثر کی وجہ سے۔ اثر کے حقیقی معنی تو نشان اور علامت کے ہیں مجازا نشان قدم کے لئے بھی مستعمل ہے جیسے کہ قرآن مجید میں ہے فارتدا علی اثارھما قصصا (18:64) تو وہ اپنے پاؤں کے نشان دیکھتے دیکھتے لوٹ گئے۔ سیماہم فی وجوھھم من اثر السجود۔ ان کء نشان بوجہ تاثیر سجدہ سجدہ کے ان کے چہروں سے نمایاں ہیں۔ ذلک۔ اشارہ ہے ان صفات کی طرف جو اوپر مذکور ہوئین۔ اشارۃ الی ما ذکر من نعوتہم الجلیلۃ (روح المعانی) ذلک مبتداء ہے۔ مثلہم فی التورۃ اس کی خبر ہے یہ اس صورت میں ہے جب آیت میں وقف التوراۃ ہر کیا جائے۔ ترجمہ ہوگا :۔ یہی ہیں ان کی صفات تورات میں۔ مثلہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ مثل اسم فرد ہے امثال جمع ہے۔ مثل وہ قول ہے جو دوسرے قول کے مشابہ ہو اور ایک سے دوسرے کی حالت کھل جائے۔ گویا دوسرے کی تصویر اول کے ذریعہ سے نظر کے سامنے آجائے۔ مثل قرآن مجید میں مختلف جگہ معانی میں آیا ہے :۔ (1) جس جگہ مثل مرفوع کے بعد کمثل بھی آیا ہے یعنی ممثل اور ممثل بہ دونوں مذکور ہیں تو مثل سے مراد صفت اور حالت ہے جیسے مثلہم کمثل الذی استوقدنارا (2:17) (2) اگر لفظ مثل مرفوع مذکور ہے اور اس کے بعد کمثل نہیں ہے تو صرف آیت ولما یاتکم مثل الذین خلوا من قبلکم (2:214) میں شبہ یعنی تشبیہی قصہ مراد ہے باقی آیات میں مثل کا معنی صفت ہے۔ (3) اگر مثل منصوب ہے خواہ اس کے بعد کمثل ہے یا نہیں بہر حال مثل سے مراد صفت اور حالت ہے جیسے ان مثل عیسیٰ عند اللّٰہ کمثل ادم (3:59) اور واضرب لہم مثل الحیوۃ الدنیا (18:45) (4) اگر مثل مجرور مع تنوین کے ہے تو وہ نادر معنی مراد ہے جو ندرت میں کہاوت کی طرح ہوگیا ہے جیسے ولقد صرفنا للناس فی ھذا القران من کل مثل (17:89) صرف آیت ولا یاتونک بمثل الا جئنک بالحق واحسن تفسیرا (35:33) میں مثل کا معنی ہے اعتراض، سوال عجیب۔ (5) اگر مثل مجرور بغیر تنوین کے ہو تو ہر جگہ صفت مراد ہے۔ جیسے مثلہم کمثل الذی استوقد نارا (2:17) (6) اگر مثل مرفوع مع تنوین کے ہو تو تشبہی قصہ مراد ہے جیسے یایھا الناس ضرب مثل فاستمعوا لہ (22:73) (7) اگر المثل معرف باللام ہو اور ایسا صرف دو جگہ ہے تو مثل سے مراد ہے عظیم الشان صفت جیسے وللّٰہ المثل الاعلی (16:6) (ماخوذ از لغات القرآن) مثلہم میں ضمیر جمع مذکر غائب الذین معہ کی طرف راجع ہے ان کی صفت ان کی غالت۔ ان کو وصف۔ آیت میں معانقہ کی وجہ سے مندرجہ ذیل صورتیں ممکن ہیں :۔ (1) وقف۔ التوریۃ پر کیا جائے اس صورت میں ذلک مبتداء ہوگا اور مثلہم فی التوریۃ اس کی خبر ۔ ترجمہ ہوگا :َ یہی ہیں ان کی صفات توراۃ میں ۔ (2) التوریۃ پر وقف ہوگا تو ومثلہم فی الانجیل کا تعلق اگلے کزرع سے ہوگا۔ مثلہم فی الانجیل مبتداء ۔ اور کزرع ۔۔ اس کی خبر ۔ مطلب یہ ہوگا۔ اور انجیل میں ان کی حالت یا صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ ان کی نشونما۔ روئبدگی و بالیدگی کھیتی کے پودے کی طرح ہوگی۔ (3) اس کی تیسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ :۔ آیت میں وقف الا نجیل پر کیا جائے۔ تو ذلک مثلہم فی التوریۃ ومثلہم فی الانجیل پر جملہ ختم ہوگا۔ اور اس کا عطف مثلہم فی التوراۃ پر ہوگا۔ مثلہم فی التوراۃ خبر اول ہوگی ذلک کی۔ اور مثلہم فی الانجیل خبر ثانی ہوگی ۔ ترجمہ یوں ہوگا :۔ یہی ہیں ان کی صفات و اوصاف توراۃ میں اور انجیل میں۔ اس صورت میں جملہ کزرع جملہ مستانفہ ہوگا۔ اور اس سے قبل کلام محذوف ہے ای ہم او مثلہم کزرع ۔۔ الخ یعنی وہ (صحابہ) یا ان کی حالت ایک کھیتی کی مانند ہے کہ ۔۔ الخ (4) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ذلک مبہم اشارہ ہو اور کزرع اس کی تفسیرہو۔ کزرع۔ کاف تشبیہ کا ہے زرع۔ کھیتی ۔ کھیتی کرنا۔ کھیتی اگانا۔ زرع یزرع (باب فتح) کا مصدر۔ اس کھیتی کی مانند۔ جو فصل زمین سے اگتی ہے اسے زرع کہتے ہیں۔ اخرج۔ اس نے نکالا۔ ماضٰ واحد مذکر غائب اخراج (افعال) مصدر۔ شطاہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول اخرج کا۔ شطء دانہ کے اندر سے جو سب سے پہلے ہوئی پھوٹتی ہے اسے شطا کہتے ہیں ورقہ اول ما یبدء فصل کا پھلا پتہ جو نمودار ہوتا ہے۔ اس کی جمع شطوء واشطا ہے ہ ضمیر واحد مذکر غائب زرع کی طرف راجع ہے فازرہ :تعقیب کا ہے ازر ماضی واحد مذکر غائب مؤازرۃ (مفاعلۃ) مصدر سے۔ جس کے معنی کمر مضبوط کرنے اور قوی کرنے، معاونت کرنے کے ہیں۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع شطاہ ہے اور ضمیر فاعل زرع کی طرف راجع ہے۔ پھر اس نے اپنی سوئی کو قوی کیا۔ فاستغلظ : ماضی واحد مذکر غائب استغلاظ (استفعال) مصدر پھر وہ موٹی ہوئی۔ الخلظۃ (غین کے کسرہ اور ضمہ کے ساتھ) کے معنی موٹاپا یا گاڑھا پن کے ہیں۔ یہ رقۃ کی ضد ہے اصل میں یہ اجسام کی صفت ہے۔ لیکن کبیر اور کثیر کی طرح بطور استعارہ اور معانی کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے جیسے بمعنی سخت مزاجی مثلاً ولیجدوا فیکم غلظۃ (9:123) چاہیے کہ وہ تم میں سختی محسوس کریں۔ یا بمعنی شاید۔ جیسے ثم نضطرہم الی عذاب غلیظ (31:24) پھ رہم ان کو عذاب شید کی طرف مجبور کرکے لے جائیں گے۔ استغلظ کے معنی موٹا اور سخت ہونے کو تیار ہوجانا ہیں اور کبھی موٹا اور سخت ہوجانے پر بولا جاتا ہے جیسے آیت ہذا ۔ وہ موٹی ہوئی۔ (ای شطاہ) ۔ فاستوی۔ یہاں فاء عاطفہ ہے استوی ماضی واحد مذکر غائب۔ وہ (شط سوئی) سیدھی کھڑی ہوئی۔ وہ سنبھل گئی۔ استوی کا استعمال جب علی کے ساتھ ہو تو اس کے معنی استقرار (ٹھیرنا) اور ارتقاع (بلند ہونا۔ چڑھنا) کے ہوتے ہیں۔ علی سوقہ : علی حرف جر۔ سوقہ مضاف مضاف الیہ مل کر مجرور۔ اپنے تنہ پر۔ سوق جمع ساق واحد۔ پنڈیلیاں۔ (کھیتی کی) بالیاں، اس کے تنے۔ اس کی جڑیں۔ یعجب الزراع : یعجب مضارع واحد مذکر غائب۔ اعجاب (افعال) مصدر۔ تعجب میں ڈالتا ہے۔ پسند آتا ہے۔ بھل الگتا ہے۔ زراع جمع زارع کی جو اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے زرع سے بمعنی کاشتکار۔ کھیتی کرنے والا۔ کسان ۔ یہ شطا سے حال ہے۔ اپنے کاشت کرنے والوں کو اپنی قوت ، سختی، عظمت اور حسن منظرۃ کی وجہ سے تعجب میں ڈالتا ہے۔ یعنی وہ اس میں اتنی خوبیاں پاکر بہت خوش ہوتے ہیں۔ فائدہ : اللہ تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کو تنہا مبعوث فرمایا۔ جیسے کاشتکار بیج زمین میں بوتا ہے۔ بعد میں صحابہ نےحضور ﷺ کی دعوت کو قبول کیا رفتہ رفتہ تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ اسلام ایک تناور درخت بن گیا۔ اور نہایت مضبوط ہوگیا۔ کہ مخالفت کی تیز و تند آندھیاں بھی اسے گزند نہیں پہنچا سکتیں۔ لیغیظ۔ لام تعلیل کا ہے۔ یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا عروج ۔ ان کی بہمہ جہت ترقی و استقامت ، اسلام کی رات دگنی دن چوگنی ترقی اور اس کی عظمت و اشاعت اس لئے خداوند تعالیٰ نے نصیب فرمائی تاکہ صحابہ کی عزیمت خوش نصیبی اور بخت یاوری سے کفار کو غصہ اور غضب کی آگ میں جلائے۔ یغیظ۔ مضارع منسوب (بوجہ عمل لام) واحد مذکر غائب۔ غیظ (باب ضرب) مصدر۔ بھم۔ میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب۔ صحابہ کرام کی طرف راجع ہے۔ ای الذین معہ۔ منھم۔ میں من بیانیہ ہے تبیین کے لئے آیا ہے مراد الذین امنوا و عملوا الصلحت ہے۔ وہ سب کے سب۔ جیسا کہ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے :۔ فاجتنبوا الرجس من الاوثان (22:30) تو (سب کے سب) بتوں کی پلیدی سے بچو۔ اگر منھم میں نمن کا تبعیضیہ لیا جائے تو لازم آئے گا کہ بعض بتوں کی پلیدی سے بچو اور بعض کی پوجا کرتے رہو۔ یہاں بھی اس آیت میں (48:29) میں من تبیین کے لئے ہے اور اس سے مقصود وعدہ مغفرت اور اجر عظیم کا الذین امنوا وعملوا الصلحت کے ساتھ مخصوص کرنا ہے۔ ہم ضمیر کا مرجع وہی ہے جو بھم میں ہے۔ مغفرۃ اور اجر عظیما موصوف و صفت مل کر مفعول ہیں فعل وعد کے۔ دونوں پر تنوین اظہار عظمت کے لئے ہے یعنی بڑی مغفرت اور عظیم اجر۔