47. Surah Muhammad

محمدMuhammad · 38 ayahsانوار البیان

Ayah 47:26

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ كَرِهُوْا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ سَنُطِیْعُكُمْ فِیْ بَعْضِ الْاَمْرِ١ۖۚ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِسْرَارَهُمْ Open ayah 47:26 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ جو لوگ خدا کی اتاری ہوئی (کتاب) سے بیزار ہیں یہ ان سے کہتے ہیں کہ بعض کاموں میں ہم تمہاری بات بھی مانیں گے اور خدا ان کے پوشیدہ مشوروں سے واقف ہے

(47:26) ذلک : ارتداد ۔ جس کے متعلق اوپر مذکور ہوا۔ اس کی طرف اشارہ ہے نہ ہی املا اور نہ ہی تسویل کی طرف اشارہ ہوسکتا ہے کیونکہ اگلا آنے والا قول ان دونوں میں سے کسی کا بھی سبب نہیں بن سکتا۔ یہ مبتدا ہے اور اگلا جملہ خبر۔ بانہم میں باء سببیہ ہے ان حرف مشبہ بالفعل ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ قالوا کا فاعل منافقین ہیں جو مرتد ہوگئے تھے۔ مطلب یہ کہ اس ارتداد کی وجہ یہ ہے ہے کہ یہ منافقین لوگ (یعنی مرتدین) کہتے ہیں۔ للذین کرھوا ما نزل اللہ۔ الذین اسم موصول اور اگلا جملہ اس کا صلہ۔ ما نزل اللہ سے مراد القرآن ہے مطلب یہ ہے کہ یہ منافقین مرتدین ان لوگوں سے جن پر حضرت رسول کریم ﷺ پر قرآن کا نزول ناگوار گذرتا ہے۔ کہتے ہیں (ان کا رہین سے مراد یہودیوں کے قبائل بنو قریظہ اور نبو نظیر ہیں جو یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول کریم ﷺ پر برحق نازل ہوا ہے ) ۔ حد کی آگ میں جل رہے تھے کہ یہ کلام ربانی ان میں سے کسی ایک پر کیوں نازل نہیں ہوا۔ سنطیعکم فی بعض الامر۔ یہ مقولہ ہے مرتدین کا۔ س مضارع قریب کے لئے ہے۔ نطیع مضارع جمع متکلم اطاعۃ (افعال) مصدر۔ فی بعض الامر۔ بعض باتوں میں مثلاً جنگ کی صورت میں مسلمانوں کے ساتھ عدم تعاون وغیرہ۔ اس کی تشریح ارشاد الٰہی سے ہوتی ہے۔ الم تر الی الذین نافقوا یقولون لاخوانہم الذین کفروا من اھل الکتب لئن اخرجتم لنخرجن معکم ولا نطیع فیکم احدا ابدا وان قوتلتم لننصرنکم (59:11) کیا تم نے ان منافقوں کو نہیں دیکھا : جو اپنے کافر بھائیوں سے جو اہل کتاب ہیں کہا کرتے ہیں کہ اگر تم جلاوطن کئے گئے تو ہم بھی تمہارے ساتھ چل نکلیں گے اور تمہارے بارے میں کبھی کسی کا کہا نہ مانیں گے اور اگر جنگ ہوئی تو تمہاری مدد کریں گے۔ واللہ یعلم اسرارہم ۔ وائو عاطفہ اسرارہم مضاف مضاف الیہ اسرار بروزن افعال مصدر ہے بمعنی چھپانا۔ سرگوشیاں کرنا۔ کوئی بات چھپا کر کرنا۔ اور اللہ ان کے خفیہ باتیں کرنے کو جانتا ہے ، انہوں نے سنطیعکم فی بعج الامر خفیہ طور پر کہا لیکن اللہ ان کی خفیہ باتون کو جانتا ہے اور اس نے اسے فاش کردیا۔ الکشاف میں ہے قالوا ذلک سرا فیما بینہم فافشاہ اللہ علیہم انہوں نے یہ بات خفیہ طور پر ایک دوسرے سے کہی اللہ نے اسے ان پر راز کو فاش کردیا۔
Ayah 47:27

فَكَیْفَ اِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ Open ayah 47:27 in the Quran reader

تو اس وقت (انکا) کیسا (حال) ہوگا جب فرشتے انکی جان نکالیں گے اور انکے مونہوں اور پیٹھو پر مارتے جائیں گے

(47:27) فکیف ۔ترتیب کا ہے کیف حرف استفہام۔ یہ استفہام تعجبی ہے پس تعجب ہے ان کا کیا حال ہوگا اور بچنے کی یہ کیا تدبیر کریں گے۔ ای کیف حالہم او حیلتہم ۔ فکیف خبر ہے جس کا مبتدا محذوف حالہم ہے۔ اذا ۔ جب۔ اس وقت۔ ظرف زمان ہے۔ توفتہم الملئکۃ ۔ توفت ماضی واحد مؤنث غائب اس نے اٹھایا اس نے قبض کیا۔ توفی (تفعل) مصدر۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب اس (فرشتوں کی جمعت ) نے ان کو اٹھا لیا۔ یا ان کی جانیں قبض کرلیں۔ فکیف اذا توفتہم الملئکۃ ۔ پس کیا حال ہوگا ان کا جس وقت فرشتے ان کی جانیں قبض کریں گے۔ یضربون وجوہہم وادبارہم ۔ (در آں حالیکہ ) وہ ان کو ان کے چہروں اور پشتوں پر ضربیں لگا رہے ہوں گے۔ جملہ الملئکۃ سے حال ہے۔
Ayah 47:28

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اتَّبَعُوْا مَاۤ اَسْخَطَ اللّٰهَ وَ كَرِهُوْا رِضْوَانَهٗ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ۠ Open ayah 47:28 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ جس چیز سے خدا ناخوش ہے یہ اس کے پیچھے چلے اور اس کی خوشنودی کو اچھا نہ سمجھے تو اس نے بھی انکے عملوں کو برباد کردیا

(47:28) ذلک یہ مار پٹائی ۔ یہ درگت۔ بانہم ب سببیہ ہے۔ ما موصولہ ہے اسخط اللہ اسخط ماضی واحد مذکر غائب اسخاط (افعال) مصدر۔ جس کے معنی غصہ دلانے اور بیزار کرنے کے ہیں۔ ان کی یہ مارپٹائی اس لئے ہوگی کہ انہوں نے دنیا میں اس امر کی پیروی کی جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث بنا تھا۔ کرھوا ۔ ماضی جمع مذکر غائب کراھۃ مصدر (باب سمع) انہوں نے ناپسند کیا انہوں نے برا سمجھا۔ انہوں نے کراہت کی۔ رضوانہ مضاف مضاف الیہ اس کی رضا مندی کو۔ اس کی خوشنودی کو۔ رضوان۔ رضی یرضی (باب سمع) کا مصدر ہے۔ المفردات میں ہے۔ رضی (س) رضا راضی ہونا۔ واضح رہے کہ بندے کا اللہ تعالیٰ سے راضی ہونا یہ ہے کہ جو قضائے الٰہی سے اس پروارد ہو وہ اسے خوشی سے برداشت کرے اور اللہ تعالیٰ کے بندے پر راضی ہونے کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ اسے اپنے اوامر بجا لانے والا اور منہیات سے رکنے والا پائے۔ الرضوان ۔ رضائے کثیر یعنی نہایت خوشنودی کو کہتے ہیں چونکہ سب سے بڑی رضا اللہ تعالیٰ کی رضا مندی ہے اس لئے قرآن پاک میں خاص کر رضائے الٰہی کے لئے رضوان کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ رضوانہ منصوب بوجہ مفعول ہونے کے ہے۔ فاحبط اعمالہمترتیب کے لئے ہے احبط ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب احباط (افعال) مصدر سے۔ اس نے اکارت کردیا۔ حبط عمل کی تین صورتیں ہیں :۔ (1) ایمان نہ ہونے کے باعث دنیا کے تمام اچھے اعمال مثلاً حسن معاشرت، پاکیزہ اخلاق وغیرہ آخرت میں بےنتیجہ ہیں۔ (2) اعمال صالحہ تو موجود ہیں لیکن اس کے مقابل گناہ اس کثرت سے کئے کہ اعمال صالحہ بےاثر ہو کر رہ گئے اور گناہوں کا پلہ بھاری ہوگیا۔
Ayah 47:29

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَنْ لَّنْ یُّخْرِجَ اللّٰهُ اَضْغَانَهُمْ Open ayah 47:29 in the Quran reader

کیا وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے یہ خیال کئے ہوئے ہیں کہ خدا ان کے کینوں کو ظاہر نہیں کرے گا

(47:29) ام حسب الذین فی قلوبہم مرض ۔ میں ام منقطعہ ہے۔ کلام سابق سے اعراض پر دلالت کر رہا ہے ۔ اور استفہام انکاری ہے مرض سے مراد نفاق ہے۔ کیا وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے یہ خیال کرتے ہیں۔ ان لن یخرج اللہ اضغانہم : ان مصدریہ ہے لن یخرج مضارع منفی تاکید بلن صیغہ واحد مذکر غائب اضغانہم مضاف مضاف الیہ۔ اضغان جمع ہے ضغن کی بمعنی سخت کینہ اور دل کی خفگی۔ چھپا ہوا کینہ، الاضغان (باب افعال) کپڑا یا اسلحہ وغیرہ پہن کر اس میں مستور ہوجانا۔ ترجمہ : کہ اللہ تعالیٰ ان کی پوشیدہ عداوتون کو کبھی ظاہر نہیں کرے گا۔ (ان کے دلوں کے اندر کے چھپے ہوئے کینہ کو کبھی ظاہر نہیں کر دے گا) ۔
Ayah 47:30

وَ لَوْ نَشَآءُ لَاَرَیْنٰكَهُمْ فَلَعَرَفْتَهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ١ؕ وَ لَتَعْرِفَنَّهُمْ فِیْ لَحْنِ الْقَوْلِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:30 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو وہ لوگ تم کو دکھا بھی دیتے اور تم ان کو ان کے چہروں ہی سے پہچان لیتے اور تم انہیں (ان کے) انداز گفتگو ہی سے پہچان لو گے اور خدا تمہارے اعمال سے واقف ہے

(47:30) لارینکم : لام تاکید کے لئے ہے۔ ارینا ماضی جمع متکلم اراء ۃ (افعال) بمعنی دکھانا، ک ضمیر واحد مذکر حاضر مفعول اول۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب مفعول ثانی، ہم ان لوگوں کو آپ کو دکھاویں (یعنی اگر ہم چاہیں تو آپ کو ان لوگوں سے اچھی طرح آگاہ کردیں اور ان کی مفصل واقفیت مہیا کردیں۔ تاکہ آپ ان کے نشانات و علامات سے ان کو پہچان جائیں۔ فلعرفتہم ۔ترتیب کا ہے۔ لام تاکید کا۔ عرفت ماضی واحد مذکر حاضر۔ تو پہچان لے۔ تو جان لے۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب، ان کو۔ بسیمہم : مضاف مضاف الیہ۔ ان کا چہرہ، ان کی نشانی۔ سیما کے معنی علامت اور نشانی کے ہیں۔ یہ اصل میں وسمی تھا۔ واو کو فاء کلمہ کی بجائے عین کلمہ کی جگہ رکھا گیا۔ تو سومی ہوگیا۔ پھر وائو ساکن اور ما قبل مکسور ہونے کی وجہ سے وائو کو ی کیا۔ سیمی ہوگیا۔ پھر علامات اور نشانات سے آپ ان کو پہچان لیں۔ ولتعرفنہم فی لحن القول ۔ وائو عاطفہ لام تاکید کا ہے تعرفن مضارع کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تاکید بانون ثقیلہ۔ معرفۃ (باب ضرب) مصدر ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ تو ان کو ضرور پہچان لے گا۔ لحن القول مضاف مضاف الیہ، لحن اسم مفرد۔ لہجہ۔ انداز آواز۔ ایک حدیث میں ہے۔ اقرؤا القران بلحون العرب، قرآن کو عربی لہجہ میں پڑھا کرو۔ لحن ولحن ولحون ولحانۃ اعراب میں غلطی کرنا لحن فی کلامہ۔ (باب فتح) کلام میں اعرابی غلطی کی۔ غلط بولا۔ اور باب فتح ہی سے لحن فی قراتہ اس نے گا کر پڑھا۔ اس نے گفتگو میں تعریض کی، یعنی ایسی گفتگو کی کہ الفاظ بظاہر کسی دوسرے معنی پر دلالت کر رہے ہوں اور مراد کچھ اور ہو۔ تصریح چھوڑ کر بطور تعریض کلام کرنا اکثر اوباء کے نزدیک فن بلاغت کے لحاظ سے مستحن اور کلام کی خوبیوں میں شمار ہوتا ہے۔ شاعر نے کہا ہے ! وخیر الحدیث ما کان لحنا۔ (بہتر کلام وہ ہے جو تعریض میں ہو) الحن الناس گانے اور پڑھنے میں سب سے فوق۔ اور الحن کا مطلب زیادہ واقف اور ہوشیار بھی ہے۔ اور حدیث پاک میں آیا ہے لعل احدکم الحن بحجتہ شاید تم میں سے بعض آدمی دلیل پیش کرنا زیادہ جانتے ہوں۔ آیت ہذا میں لہجہ اور انداز کلام مراد ہے (از لغات القرآن والمفردات) ۔ واللہ یعلم اعمالکم۔ اور اللہ جانتا ہے تمہارے اعمال کو (اور ان نیتوں کو ان اعمال کے پیچھے کارفرما ہیں) ۔
Ayah 47:31

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِیْنَ مِنْكُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ١ۙ وَ نَبْلُوَاۡ اَخْبَارَكُمْ Open ayah 47:31 in the Quran reader

اور ہم تم لوگوں کو آزمائیں گے تاکہ جو تم میں لڑائی کرنے والے اور ثابت قدم رہنے والے ہیں انکو معلوم کریں اور تمہارے حالات جانچ لیں

(47:31) ولنبلونکم : وائو عاطفہ لام تاکید کے لئے نبلون مضارع معروف تاکید بانون ثقیلہ۔ صیغہ جمع متکلم بلاء مصدر باب نصر۔ ہم ضرور آزمائیں گے۔ ہم ضرور جانچ کریں گے تمہاری کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ (تمہاری) ۔ نعلم ۔ مضارع منصوب بوجہ عمل حتی۔ جمع متکلم ۔ تاکہ ہم جان لیں۔ حتی نعلم کی وضاحت فرماتے ہوئے صاحب تفسیر مظہری رقمطراز ہیں :۔ یعنی جس طرھ وجود سے پہلے ہم کو معلوم تھا کہ آئندہ ایسا ہوگا۔ اسی طرح امتحان کے بعد ہم علم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یا نعلم کا معنی ہے نمیز ، یعنی ہم چھانٹ دیں۔ الگ الگ کردیں۔ (علم سبب ہے اور تمیز یعنی الگ الگ کردینا اس کا نتیجہ۔ سبب بول کر اس کی جگہ مسبب یعنی نتیجہ مراد لیا ہے) ۔ اخبارکم مضاف مضاف الیہ، تمہاری خبریں ۔ تمہارے احوال۔ تمہارے صحیح احوال نبلوا ہم تمہارے صحیح احوال کی جانچ کرلیں یا نبلو بمعنی نظھر۔ ہم تمہارے احوال کو ظاہر کردیں۔ فائدہ : اگرچہ اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا علم قبل از وجود ویسا ہی ہے جیسا کہ وجود کے بعد۔ لیکن جو علم قبل الوجود ہے اس پر احکام مرتب نہیں ہوتے اور امتحان کے بعد جو علم ہوتا ہے وہ حادث بھی ہے اور اس پر احکام بھی مرتب ہوتے ہیں۔
Ayah 47:32

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ شَآقُّوا الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدٰى١ۙ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ وَ سَیُحْبِطُ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:32 in the Quran reader

جن لوگوں کو سیدھا راستہ معلوم ہوگیا (اور) پھر بھی انہوں نے کفر کیا اور (لوگوں) کو خدا کی راہ سے روکا اور پیغمبر کی مخالفت کی وہ خدا کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکیں گے اور خدا ان کا سب کیا کرایا اکارت کر دے گا

(47:32) صدوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ صد وصدود (باب نصر) مصدر انہوں نے روکا۔ صدود (فعل لازم) رکنا۔ روگردانی کرنا۔ منہ موڑنا۔ صد (فعل متعدی) ۔ شاقوا : ماضی جمع مذکر غائب ۔ شقاق و مشاقۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ الرسول : مفعول واحد مذکر غائب۔ انہوں نے رسول کی مخالفت کی۔ وہ رسول کے مخالف ہوئے۔ ش ق ق مادہ۔ من بعد ما۔ من حرف جار، ما موصولہ ۔ اگلا جملہ اس کا صلہ۔ تبین ۔ ماضی واحد مذکر غائب تبین (تفعل) مصدر بمعنی ظاہر ہونا۔ واضح ہونا الھدی اسم ومصدر ہدایت ، انبیائ۔ اللہ کی کتابیں، صحیفے ، دلائل فطریہ۔ براہین عقلیہ، ایمان یہ سب بجائے خود ہدایت بھی ہیں اور ہادی بھی۔ یہ فعل تبین کا فاعل ہے۔ بعد اس کے کہ کھل چکی ان پر راہ ہدایت۔ لن یضروا اللہ۔ لن یضروا مضارع منصوب نفی تاکید بلن ۔ صیغہ جمع مذکر غائب۔ اللہ مفعول ۔ (یہ سب یعنی کفر کرنے والے۔ راہ ہدایت سے روکنے والے، اور رسول کی مخالفت کرنے والے) اللہ کا ہرگز کچھ نہ بگاڑ سکیں گے۔ یضروا ضر (باب نصر) مصدر سے۔ بمعنی نقصان پہنچانا۔ ضرر پہنچانا۔ وسیحبط اعمالہم : وائو عاطفہ س مستقبل قریب کے لئے۔ یحبط۔ مضارع واحد مذکر غائب (ضمیر فاعل اللہ کی طرف راجع ہے احباط (افعال ) مصدر وہ باطل کر دے گا۔ وہ بیکار کر دے گا۔ وہ ضائع کر دے گا۔ اعمالہم : مضاف مضاف الیہ۔ مل کر یحبط کا مفعول ۔ ان کے اعمال کو۔
Ayah 47:33

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ لَا تُبْطِلُوْۤا اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:33 in the Quran reader

مومنو ! خدا کا ارشاد مانو اور پیغمبر کی فرمانبرداری کرو اور اپنے عملوں کو ضائع نہ ہونے دو

(47:33) لا تبطلوا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر، ابطال (افعال) مصدر تم ضائع نہ کرو۔ تم باطل نہ کرو۔
Ayah 47:34

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ Open ayah 47:34 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہوئے اور خدا کے راستے سے روکتے رہے پھر کافر ہی مرگئے خدا ان کو ہرگز نہیں بخشے گا

(47:34) وہم کفار جملہ حالیہ ہے۔ درآں حالیکہ وہ کافر ہی تھے۔ یعنی بحالت کفر۔ فلن یغفر اللہ لہم۔عاطفہ ترتیب کے لئے ہے۔ لن یغفر مضارع منفی (منصوب) تاکید بلن تو اللہ ان کو ہرگز نہ بخشے گا۔
Ayah 47:35

فَلَا تَهِنُوْا وَ تَدْعُوْۤا اِلَى السَّلْمِ١ۖۗ وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ١ۖۗ وَ اللّٰهُ مَعَكُمْ وَ لَنْ یَّتِرَكُمْ اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:35 in the Quran reader

تو تم ہمت نہ ہارو اور (دشمنوں کو) صلح کی طرف نہ بلاؤ اور تم تو غالب ہو اور خدا تمہارے ساتھ ہے وہ ہرگز تمہارے اعمال کو کم (اور گم) نہیں کرے گا

(47:35) فلا تھنوا ۔عاطفہ۔ لا تھنوا : فعل نہی جمع مذکر حاضر وھن (باب ضرب) مصدر، بمعنی سستی کرنا۔ کمزور ہونا۔ بودا ہوجانا۔ تم بودے نہ ہو جائو ۔ تم بزدل نہ بنو۔ وتدعوا الی السلم ۔ السلم۔ صلح۔ اسم ہے۔ مذکر بھی استعمال ہوتا ہے۔ اور نہ صلح کے لئے پکارو یعنی صلح کی استدعا مت کرو۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ ای ولا تدعوا الی السلم۔ وانتم الاعلون۔ جملہ حالیہ ہے۔ الاعلون غالب۔ بلند مرتبہ۔ اعلی کی جمع ہے۔ اصل میں اعلیون تھا۔ ی متحرک ما قبل مفتوح ۔ ی کو الف سے بدلا گیا۔ اجتماع ساکنین الف اور وائو کی وجہ سے الف کو حذف کردیا گیا۔ فتح کو باقی رکھا گیا۔ تاکہ وہ حذف الف پر دلالت کرے۔ (لغات القرآن) ۔ جملہ کا ترجمہ ہوگا :۔ حالانکہ تم ہی غالب رہو گے۔ ولن یترکم ۔ وائو عاطفہ۔ لن یترکم مضارع منفی منصوب تاکید بلن ۔ صیغہ واحد مذکر غائب (ضمیر فاعل کا مرجع اللہ ہے) وتر باب ضرب، مصدر بمعنی کم کرنا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ وہ ہرگز تمہارے عمال (کے اجر میں) کمی نہیں کرے گا۔ الوتر الوتر الترۃ کے معنی کینہ کے ہیں۔ اور وترتہ (باب ضرب) ہے۔ جس کے معنی ہیں کسی کو تکلیف پہنچانا یا اس کا حق کم کرنا۔ التواتر ۔ کسی چیز کا یکے بعد دیگرے متواتر آنا۔ جاء وا تترا۔ (وہ یکے بعد دیگرے کچھ وقفے کے بعد آئے۔ قرآن مجید میں ہے ثم ارسلنا رسلنا تترا (23:44) پھر ہم پے در پے پیغمبر بھیجتے رہے۔ اضواء البیان میں ہے :۔ ولن یترکم : اصلہ من الوتر وھو الفرد۔ فاصل قولہ : لن یترکم لن یفردکم ویجردکم من اعمالکم بل یوفیکم ایاھا۔ اس کی اصل الوتر سے ہے یعنی فرد (ایک فرد) ارشاد الٰہی لن یترکم سے مراد ہے کہ وہ تمہیں اکیلا نہیں چھوڑے گا اور تمہیں تمہارے اعمال (کے اجر سے) خالی ہاتھ نہیں رکھے گا۔ بلکہ ان کا پورا پورا اجر عطا کرے گا) ۔
Ayah 47:36

اِنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ١ؕ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا یُؤْتِكُمْ اُجُوْرَكُمْ وَ لَا یَسْئَلْكُمْ اَمْوَالَكُمْ Open ayah 47:36 in the Quran reader

دنیا کی زندگی تو محض کھیل اور تماشا ہے اور اگر تم ایمان لاؤ گے اور پرہیزگاری کرو گے تو وہ تم کو تمہارا اجر دے گا اور تم سے تمہارا مال طلب نہیں کرے گا

(47:36) انما۔ بےشک، تحقیق۔ سوائے اس کے نہیں۔ ان حرف مشبہ بالفعل ہے اور ما کافہ ہے جو حصر کے لئے آتا ہے اور ان کو عمل لفظی سے روک دیتا ہے۔ ان حرف مشبہ بالفعل الحیوۃ الدنیا موصوف وصفت مل کر ان کا اسم۔ لعب ولھو خبر اول۔ ثانی ان کی۔ ان کے عمل کی وجہ سے الحیوۃ پر نصب ہونے چاہیے تھی لیکن ما کافہ کی وجہ سے ان کے عمل لفظی کو روک دیا گیا ہے۔ لعب اس مادہ کی اصل لعاب ہے جس کے معنی منہ سے بہنے والی رال کے ہیں اور لعب یلعب لعب (باب فتح) کے معنی لعاب بہنے کے ہیں لیکن لعب (باب سمع) سے فلان یلعب۔ لعب کے معنی بغیر صحیح مقصد کے کوئی کام کرنے کے ہیں۔ چناچہ اور جگہ قرآن مجید میں ہے وما ھذہ الحیوۃ الدنیا الا لھو ولعب (29:64) اور یہ دنیا کی زندگی تو صرف کھیل اور تماشا ہے اس طرح آیت ہذا انما الھیوۃ الدنیا لعب ولھو کا ترجمہ ہوگا۔ تحقیق یہ دنیا کی زندگی بےمقصد محض کھیل اور تماشا ہے۔ لھو ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو انسان کو اہم کاموں سے ہٹائے اور باز رکھے یہ لھوت بکذا ولھیت عن کذا سے اسم ہے جس کے معنی ہیں کسی مقصد سے ہٹ کر بےسود کام میں لگ جانے کے ہیں۔ پھر ہر وہ چیز جس سے کچھ لذت اور فائدہ حاصل ہو اسے بھی لہو کہہ دیا جاتا ہے چناچہ قرآن مجید میں ہے ۔ لو اردنا ان نتخذ لھوا لا تخذنہ من لدنا (31:17) اگر ہم چاہتے کہ کھیل بنائیں تو ہم اپنے پاس سے بنا لیتے۔ محاورہ ہے الھاہ کذا یعنی اسے فلاں نے اہم کام سے مشغول رکھا۔ اور قرآن مجید میں ہے الھکم التکاثر (102:1) لوگو تم کو کثرت مال وجاہ واولاد کی خواہش نے غافل کردیا ہے۔ وان تؤمنوا وتتقوا ۔ ان شرطیہ ہے۔ یہ جملہ شرط ہے اور اگلا جملہ یؤتکم اجورکم جواب شرط ہے۔ وان تؤمنوا۔ اگر تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائو گے۔ وتتقوا فعل مضارع مجزوم (بوجہ عمل ان ) جمع مذکر حاضر۔ اتقاء (افتعال) مصدر۔ اور اگر تم پرہیزگار رہو یعنی اللہ کے احکام کی تعمیل کرتے رہو اور ممنوعات سے بچتے رہو۔ یؤتکم اجورکم : اجورکم مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول فعل یؤتی کا۔ اجور جمع اجر کی۔ یعنی اللہ تعالیٰ تمہارے ایمان اور تقویٰ کا اجر آخرت میں عطا فرمائے گا۔ ولا یسئلکم اموالکم : جملہ کا عطف جملہ سابقہ یؤتکم اجورکم پر اور اموالکم میں اضافت استغراقی ہے مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ صدقات و خیرات کی شکل میں تم سے سارا مال طلب نہیں کرے گا۔ صاحب تفسیر مطہری رقمطراز ہیں :۔ اللہ تم سے سارا مال طلب نہیں کرے گا۔ بلکہ ایک حقیر قلیل حصہ (یعنی چالیسواں حصہ) بلکہ اس سے بھی کم حصہ طلب کرے گا جیسے 120 بکریوں میں سے صرف ایک بکری۔ لہٰذا تم کو غم نہیں کرنا چاہیے۔ ابن عینیہ نے بھی یہی تفسیر کی ہے۔ رفتار آیت بھی اسی مطلب کی مؤید ہے۔ کیونکہ ایمان و تقویٰ کی ترغیب اور دنیوی زندگی کی مذمت سے بیوقوفوں کے دماغ میں یہ وہم پیدا ہوسکتا ہے کہ شاید اللہ تعالیٰ اپنے راستہ میں ہمارا سارا مال صرف کرانا چاہتا ہے۔ اس خیال کو دور کرنے کے لئے فرمایا۔ اللہ تمہارا سارا مال طلب نہیں کرے گا۔
Ayah 47:37

اِنْ یَّسْئَلْكُمُوْهَا فَیُحْفِكُمْ تَبْخَلُوْا وَ یُخْرِجْ اَضْغَانَكُمْ Open ayah 47:37 in the Quran reader

اگر وہ تم سے مال طلب کرے اور تمہیں تنگ کرے تو تم بخل کرنے لگو اور وہ (بخل) تمہاری بدنیتی ظاہر کر کے رہے

(47:37) ان یسئلکموھا۔ جملہ شرط ہے ان شرطیہ یسئل مضارع مجزوم بوجہ عمل ان ، واحد مذکر غائب۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر وائو اشباع کا ہے ھا ضمیر مفعول ثانی واحد مؤنث غائب جو اموال کی طرف راجع ہے اگر وہ تم سے اسے (یعنی مال کو) طلب کرے۔ فیحفکم :عاطفہ ہے یحف مضارع مجزوم بوجہ عمل ان مقدرہ۔ واحد مذکر غائب احفاء (افعال ) مصدر۔ حو مادہ۔ یحف اصل میں یخفی تھا۔ ان کے عمل سےساکن ہوگیا۔ ی اجتماع ساکنین سے گرگئی۔ ی کی رعایت سےکو کسرہ دیا گیا۔ یحف ہوگیا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ پھر تم کو مانگنے پر تنگ کرے۔ تم سے مانگنے پر اصرار کرے۔ تم سے مانگنے میں زیادتی کرے۔ احقائ۔ کسی کام میں زیادتی کرنا۔ مثلاً احفی شاربہ۔ اس نے اپنی لبوں کے بال بہت زیادہ تراشے۔ اور احفی السوال اس نے بار بار سوال کیا۔ امام راغب لکھتے ہیں :۔ اصل میں یہ (یعنی اجفاء ) احفیت الدابۃ سے ہے جس کے معنی گھوڑے یا اونٹ کو زیادہ چلا کر اس کے سم یا پائوں کو گھسا ہوا کردینے کے ہیں۔ الحفی۔ نیکوکار۔ نہایت مہربان ۔ قرآن مجید میں ہے۔ انہ کان بی حفیا (19:7) بیشک وہ مجھ پر نہایت مہربان ہے۔ اور الحفی بمعنی کسی چیز کا اچھی طرح جاننے والا بھی ہے جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے۔ یسئلونک کانک حفی عنھا (7:187) یہ تم سے اس طرح دریافت کرتے ہیں کہ گویا تم اس سے بخوبی واقف ہو “۔ تبخلوا جواب شرط ہے ان یسئلکموھا جملہ شرطیہ ہے مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ اصل میں تبخلون تھا نون عامل کی وجہ سے حذف ہوگیا۔ تم بخل کرنے لگو۔ تم کنجوسی کرنے لگو گے۔ مال ومتاع کو اس جگہ خرچ کرنے سے روک رکھنا جہاں خرچ کرنا چاہیے اس کا نام بخل ہے یہ جود کے بالمقابل ہے۔ بخل کی دو قسمیں ہیں۔ ایک یہ کہ خود مناسب جگہ خرچ نہ کرنا اور دوسرے غیر کو بھی خرچ کرنے سے روک دینا یہ اور بھی قابل مذمت ہے۔ قرآن مجید میں ہے :۔ الذین یبخلون ویامرون الناس بالبخل (4:37) جو لوگ کہ خود بھی بخل کرتے ہیں اور دوسروں کو بخل کا حکم دیتے ہیں۔ (اس میں دونوں قسم کا بخل مذکور ہے) ۔ آیت کا ترجمہ ہوگا :۔ اگر وہ تم سے تمہارے (سارے) مال طلب کرے اور اس پر سختی سے اصرار کرے تو تم بخل کرنے لگو۔ تم کنجوسی کرو گے : ویخرج اضغانکم وائو عاطفہ، یخرج کی ضمیر فاعل اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہے وہ نکال دیتا ہے۔ وہ ظاہر کردیتا ہے یا کر دے گا۔ یخرج مضارع مجزوم بوجہ جواب شرط جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ اضغانکم۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول یخرج کا۔ اور (یوں) وہ ظاہر کر دے۔ تمہاری نا گواریوں کو۔ اضغان جمع ضغن کی ہے۔ صاحب تاج العروس اس کی تحقیق کرتے ہوئے لکھتے ہیں :۔ قد ضغن الیہ مال واشتاق وحقد۔ اس لفظ کے تین معنی ہیں۔ کسی چیز کی طرف مائل ہونا۔ کسی چیز کا شوق دل میں پیدا ہونا۔ اور کینہ وبغض “۔ اس آیت میں اگر روئے سخن منافقین کی طرف ہو تو پھر اس کا معنی ہوگا کہ تمہارے دلوں میں اسلام کے بارے میں جو بغض و عناد ہے جسے تم بڑی مہارت سے چھپائے ہوئے ہو وہ ظاہر ہوجائے گا۔ اور اگر اس سے مراد اہل ایمان ہیں تو پھر اس سے مراد محبت ہوگی کیونکہ ہر شخص صدیق اکبر نہیں ہوا کرتا کہ اپنے محبوب کریم کے اشارہ ابروپر اپنے گھر کا سارا اثاثہ اٹھا کرلے آئے اور اس کے قدموں پر ڈھیر کر دے ۔ بعض لوگوں کو مال سے محبت ہوتی ہے۔ وہ کسی حد تک قربانی کے لئے آمادہ ہوتے ہیں لیکن اگر انہیں سارا مال خرچ کرنے کا حکم دیا جائے اور اس پر اصرار کیا جائے تو بعض لوگ دولت سے اپنے اس لگائو کو چھپا نہیں سکتے۔ ضغن کے یہ متعدد معانی ہیں، محل اور موقع کی مناسبت سے اس کا معنی متعین کیا جائے گا۔ (ضیاء القرآن)
Ayah 47:38

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ فَمِنْكُمْ مَّنْ یَّبْخَلُ١ۚ وَ مَنْ یَّبْخَلْ فَاِنَّمَا یَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ الْغَنِیُّ وَ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ١ۚ وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۙ ثُمَّ لَا یَكُوْنُوْۤا اَمْثَالَكُمْ۠ Open ayah 47:38 in the Quran reader

دیکھو تم وہ لوگ ہو کہ خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے بلائے جاتے ہو تو تم میں ایسے شخص بھی ہیں جو بخل کرنے لگتے ہیں اور جو بخل کرتا ہے اپنے آپ سے بخل کرتا ہے اور خدا بےنیاز ہے اور تم محتاج اور اگر تم منہ پھیرو گے تو وہ تمہاری جگہ اور لوگوں کو لے آئے گا اور وہ تمہاری طرح کے نہیں ہوں گے

(47:38) ھانتم ھولائ۔ ھا حرف تنبیہ ہے انتم مبتدا اور ھولاء خبر ہے ھا تنبیہ کو مکرر تاکید کے لئے لایا گیا ہے دیکھو تم وہ لوگ ہو۔ تدعون : مضارع مجہول جمع مذکر حاضر دعاء (باب نصر) مصدر تم پکارتے جاتے ہو، تم بلائے جاتے ہو یا بلائے جائو گے۔ لتنفقوا۔ لام تعلیل کے لئے ہے۔ تنفقوا مضارع منصوب (بوجہ لام تعلیل ) جمع مذکر حاضر۔ انفاق (افعال) مصدر۔ کہ تم (اپنے مال) خرچ کرو۔ فمنکم من یبخل میں من تبعیضیہ ہے۔ اور من موصولہ۔ یبخل اس کا صلہ۔ پس تم میں سے بعض وہ ہیں جو بخل کرنے لگتے ہیں (یعنی فرض کردہ مصارف از قسم زکوٰۃ وغیرہ میں بھی بخل کرتے ہیں) ۔ یبخل عن نفسہ ۔ ای یبخل علی نفسہ۔ بخل یبخل (باب سمع) فعل لازم۔ بخیل ہونا، کنجوس ہونا۔ بخل علیہ، بخل عنہ کسی سے بخل کرنا۔ (متعدی) ۔ ترجمہ :۔ جو شخص بخل کرتا ہے تو وہ اپنی جان سے بخل کر رہا ہوتا ہے۔ من یبخل جملہ شرط اور فانما یبخل عن نفسہ جواب شرط : واللہ الغنی وانتم الفقراء اور اللہ تعالیٰ تو غنی ہے (کسی کا محتاج نہیں) بلکہ تم (اس کے) محتاج ہو۔ وہ غنی ہے اسے اپنی ذات کے لئے کچھ لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر وہ اپنی راہ کچھ خرچ کرنے کے لئے تم سے کہتا ہے تو وہ اپنے لئے نہیں بلکہ تمہاری ہی بھلائی کے لئے کہتا ہے۔ وان تتولوا۔ وائو عاطفہ ہے اس جملہ کا عطف وان تؤمنوا وتتقوا پر ہے ان شرطیہ ہے تتولوا مضارع مجزوم (بوجہ عمل ان) جمع مذکر حاضر ہے، تولی (تفعیل) مصدر۔ تتولوا اصل میں تتولون تھا۔ ان شرطیہ کے آنے سے نون اعرابی حذف ہوگیا۔ تولی کا تعدیہ جب بنفسہ ہوتا ہے تو اس کے معنی دوستی رکھنے، امداد کرنے اور دوسرے کا کام سر انجام دینے کے ہوتے ہیں اور جب اس کا تعدیہ بواسطہ عن ہوتا ہے خواہ لفظا ہو یا تقدیرا تو روگردانی کرنے، منہ پھیرنے اور دور ہونے کے آتے ہیں جیسے قرآن مجید میں ہے ۔ یایھا الذین امنوا لا تتلوا قوما غضب اللہ علیہم (60:13) اے مؤمنوا ! ان لوگون سے دوستی نہ کروجن سے خدا تعالیٰ غصہ ہوا ہے، میں تعدیہ بنفسہ ہے۔ اس لئے یہاں دوستی اور امداد کرنے کے معنی ہوں گے اور باقی تین جگہ جہاں یہ صیغہ آیا ہے تعدیہ بذریعہ عن ہے جو لفظوں میں مذکور نہیں ہے۔ مقدر اور پوشیدہ ہے۔ ان تتولوا جملہ شرط ہے اور اگلا جملہ یستبدل ۔۔ جواب شرط ہے۔ یستبدل مضارع مجزوم بوجہ جواب شرط واحد مذکر غائب۔ استبدال (استفعال) مصدر وہ تمہاری جگہ لے آئے گا۔ تمہارے عوض بنا دے گا۔ ترجمہ :۔ وہ تمہارے عوض دوسری قوم لے آئے گا۔ ثم۔ یہ ما قبل کے مرتبہ سے بعد کے لئے آیا ہے للترا کی فی الرتبۃ ۔ ثم لا یکونوا امثالکم ۔ پھر وہ تم جیسے نہ ہوں گے : (یعنی وہ ایمان و تقویٰ سے روگردانی کرنے والے نہ ہوں گے : بلکہ ان کی طرف رغبت رکھنے والے ہوں گے۔