46. Surah Al-Ahqaf

الأحقافThe Dunes · 35 ayahsانوار البیان

Ayah 46:28

فَلَوْ لَا نَصَرَهُمُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ قُرْبَانًا اٰلِهَةً١ؕ بَلْ ضَلُّوْا عَنْهُمْ١ۚ وَ ذٰلِكَ اِفْكُهُمْ وَ مَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 46:28 in the Quran reader

تو جن کو ان لوگوں نے تقرب خدا کے لیے (خدا) کے سوا معبود بنایا تھا انہوں نے انکی کیوں مدد نہ کی بلکہ وہ ان (کے سامنے) سے گم ہوگئے اور یہ ان کا جھوٹ تھا اور یہی افتراء کیا کرتے تھے

(46:28) فلولا : ای فھل لا۔ کیوں نہ۔ لو لا کا استعمال ڈانٹنے اور توبیخ کرنے کے لئے آیا ہے جیسے اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے لو لا جاء وا علیہ باربعۃ شھداء (24:13) یہ (افتراء پرداز) اپنی بات (کی تصدیق) کے لئے چار گواہ کیوں نہ لائے۔ نصرہم الذین اتخذوا۔ نصر ماضی واحد مذکر غائب (یہاں جمع کے معنی میں آیا ہے) نصر (باب نصر) مصدر۔ انہوں نے مدد کی ۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ان لوگوں کے لئے ہے جنہوں نے بتوں کو معبود بنا رکھا تھا الذین اسم موصول اتخذوا صلہ فاعل فعل نصر کا۔ من دون اللہ قربانا الھۃ۔ من دون اللہ متعلق الھۃ اور الھۃ مفعول ہے اتخذوا کا۔ اور قربانا مسعول لہ فعل اتخذوا کا۔ قربانا۔ للتقرب الی اللہ۔ جیسا کہ اور جگہ قرآن مجید میں ہے ما نعبدہم الا لیقربونا الی اللہ زلفی (39:3) ہم ان کو اس لئے پوجتے ہیں کہ ہم کو خدا کا مقرب بنادیں۔ ترجمہ آیت :۔ اللہ کو چھوڑ کر جن کو انہوں نے حصول قرب کے لئے معبود بنا رکھا تھا۔ انہوں نے ان کی کیوں نہ مدد کی۔ بل ضلوا عنہم۔ بل حرف اضراب ہے مطلب یہ کہ مدد کرنا تو درکنار بلکہ وہ ان سے غائب ہوگئے۔ (ان سے کھو گئے) ۔ ضلوا ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ ضلال وضلالہ (باب ضرب) مصدر وہ گم ہوگئے۔ وہ کھو گئے۔ وہ غائب ہوگئے۔ صیغہ فاعل معبودان باطل کی طرف راجع ہے۔ (ای الذین اتخذوا من دون اللہ الھۃ اللہ کو چھوڑ کر انہوں نے جن کو معبود بنا رکھا تھا) ۔ عنہم میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب معبودان باطل کے پجاریوں کی طرف راجع ہے۔ وذلک۔ وائو عاطفہ ذلک اسم اشارہ واحد مذکر۔ مشار الیہ۔ (1) صلال الھتہم عنہم (ان سے ان کے معبودان باطل کا غائب ہوجانا) ( روح المعانی ) (2) قولہم انھا تقربہم الی اللہ تعالیٰ وتشفع لہم عندہ : ان کا یہ قول کہ ان کے معبودان باطل اللہ کے ہاں تقرب کا باعث بنیں گے اور اس کے پاس ان کی شفاعت کریں گے۔ (الخازن) ۔ (3) امتناع نصرۃ الہتہم وضلالہم عنہم ان کے معبودان باطل کا ان سے غائب ہوجانا اور ان کی امداد کو نہ پہنچنا (المدارک) (4) اللہ کے سوا دوسروں کو معبود قرار دینا۔ (مظہری) افکہم : مضاف مضاف الیہ۔ ان کا جھوٹ۔ ای اثر افکہم ان کے جھوٹ کا اثر ان کے جھوٹ کا نتیجہ۔ وما کانوا یفترون : وائو عاطفہ ما مصدریہ۔ کانوا یفترون : ماضی استمراری جمع مذکر غائب۔ وہ افتراء کیا کرتے تھے۔ ای افتراء ہم ان کی بہتان بازی کا نتیجہ۔ افتراء بروزن ( افتعال) بہتان باندھنا۔ یہ تھا ان کے جھوٹ اور بناوٹی عقیدوں کا انجام جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے۔ (ترجمہ مودودی)
Ayahs 46:29–30

وَ اِذْ صَرَفْنَاۤ اِلَیْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ یَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ١ۚ فَلَمَّا حَضَرُوْهُ قَالُوْۤا اَنْصِتُوْا١ۚ فَلَمَّا قُضِیَ وَ لَّوْا اِلٰى قَوْمِهِمْ مُّنْذِرِیْنَ Open ayah 46:29 in the Quran reader

اور جب ہم نے جنوں میں سے کئی شخص تمہاری طرف متوجہ کئے کہ قرآن سنیں تو جب وہ اسکے پاس آئے تو (آپس میں) کہنے لگے کہ خاموش رہو جب (پڑھنا) تمام ہوا تو اپنی برادری کے لوگوں میں واپس گئے کہ (انکو) نصیحت کریں

قَالُوْا یٰقَوْمَنَاۤ اِنَّا سَمِعْنَا كِتٰبًا اُنْزِلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ یَهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ وَ اِلٰى طَرِیْقٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 46:30 in the Quran reader

کہنے لگے کہ اے قوم ہم نے ایک کتاب سنی ہے جو موسیٰ کے بعد نازل ہوئی جو (کتابیں) اس سے پہلے نازل ہوئی ہیں انکی تصدیق کرتی ہے (اور) سچا دین اور سیدھا راستہ بتاتی ہے

(46:29) واذ : اس سے قبل اذکر الوقت : محذوف ہے : ای واذکر الوقت اذ ۔۔ اور یاد کرو وہ وقت جب ۔۔ صرفنا۔ ماضی جمع متکلم صرف (باب ضرب) مصدر۔ ہم نے پھیرا۔ ہم نے متوجہ کیا۔ الیک تیری طرف۔ ؎ نفرا۔ اسم جمع ہے دس سے کم تعداد کی جماعت کو نفر کہتے ہیں، صرف آدمیوں کے لئے بولا جاتا ہے عورتوں یا کسی دوسری مخلوق کے لئے نہیں بولا جاتا۔ ترجمہ آیت :۔ اور یاد کرو وہ وقت یا اس واقعہ کو جب ہم نے جنوں کی ایک جماعت کو آپ کی طرف متوجہ کیا۔ مولانا مودودی اس واقعہ کے متعلق لکھتے ہیں :۔ اس آیت کی تفسیر میں جو روایات حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ، حضرت زبیر، حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور حضرات حسن بصری (رح) ، سعید بن جبیر ؓ ، زربن جیش ، مجاہد، عکرمہ اور دوسرے بزرگوں سے منقول ہیں وہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ جنوں کی پہلی حاضری کا یہ واقعہ جس کا اس آیت میں ذکر ہے بطن نخلہ میں پیش آیا تھا۔ اور ابن اسحاق، ابو نعیم اصفہانی اور واقدی کا بیان ہے کہ یہ اس وقت کا واقعہ ہے کہ جب نبی کریم ﷺ طائف سے مایوس ہو کر مکہ معظمہ کی طرف واپس ہوئے تھے راستہ میں آپ نے نخلہ میں قیام کیا وہاں عشاء یا فجر یا تہجد کی نماز میں آپ قرآن کی تلاوت فرما رہے تھے کہ جنوں کے ایک گروہ کا ادھر سے گذر ہوا وہ آپ کی قرات سننے کے لئے ٹھہر گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ تمام روایات اس بات پر بھی متفق ہیں کہ اس موقع پر جن حضور ﷺ کے سامنے نہیں آئے تھے نہ آپ نے ان کی آمد کو محسوس کیا تھا۔ بلکہ بعد میں اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے سے آپ کو ان کے آنے اور قرآن سننے کی خبر دی تھی۔ (تفہیم القرآن جلد 4) ۔ یستمعون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ استماع (افتعال) مصدر۔ بمعنی سننا۔ یستمعون القران۔ ای لاجل استماع القران۔ (قرآن سننے کے لئے) ۔ فلما۔ پس جب۔ حضروہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب اس جگہ کے لئے ہے جہاں قرآن پڑھا جا رہا تھا یعنی جب وہ اس جگہ پہنچے جہاں قرآن کی تلاوت ہو رہی تھی۔ قالوا۔ ایک دو سرے سے کہنے لگے۔ انصتوا۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر انصات (افعال) مصدر جس کے معنی خاموشی کے ساتھ کان لگا کر سننے کے ہیں۔ یعنی تم سب خاموشی کے ساتھ کان لگا کر سنو ! ۔ فلما۔ پس جب۔ قضی۔ ماضی مجہول واحد مذکر غئاب، جب قرات ختم کردی گئی۔ ولوا۔ ماضی جمع مذکر غائب تولیۃ (تفعیل) مصدر منہ پھیر کر چل دینا یعنی جب قرات ختم ہوگئی تو وہ واپس اپنی قوم کی طرف چل دئیے۔ منذرین۔ اسم فاعل جمع مذکر ۔ انذار (افعال) مصدر۔ ڈرانے والے۔ بحالت نصب ای دا عین لہم الی الایمان ومخوفین لہم المخالفۃ اپنی قوم کو ایمان کی طرف دعوت دیتے ہوئے اور مخالفت کی صورت میں ڈراتے ہوئے منصوب بوجہ حال ہے
Ayah 46:31

یٰقَوْمَنَاۤ اَجِیْبُوْا دَاعِیَ اللّٰهِ وَ اٰمِنُوْا بِهٖ یَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُجِرْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 46:31 in the Quran reader

اے قوم خدا کی طرف بلانے والے کی بات کو قبول کرو اور اس پر ایمان لاؤ (خدا) تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں دکھ دینے والے عذاب سے پناہ میں رکھے گا

(46:31) اجیبوا۔ امر جمع مذکر حاضر۔ اجابۃ (افعال) مصدر تم قبول کرو۔ تم مان لو۔ داعی اللہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اللہ کی طرف بلانے والا۔ داعی اسم فاعل واحد مذکر دعاء باب نصر مصدر۔ بلانے والا، پکارنے والا۔ منصوب بوجہ اجیبوا کا مفعول ہونے کے۔ وامنوا بہ۔ وائو عاطفہ امنوا امر جمع مذکر حاضر، ایمان (افعال) مصدر بہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع داعی ہے اور اس پر ایمان لے آئو۔ یغفر لکم۔ یغفر مضارع (مجزوم بوجہ جواب امر) واحد مذکر غائب۔ ضمیر فاعل اللہ کی طرف راجع ہے۔ خدا تمہارے گناہ بخش دے گا۔ من ذنوبکم۔ میں من تبعیضیہ ہے ذنوبکم مضاف مضاف الیہ۔ تمہارے گناہ ذنوبجمع ہے ذنب کی۔ تمہارے گناہوں میں سے بعض (گناہ بخش دے گا) ۔ مطلب یہ کہ اللہ تمہارے وہ گناہ بخش دے گا جن کا تعلق حق اللہ سے ہوگا۔ اور حقوق العباد ایمان لانے سے معاف نہیں ہوتے۔ ویجرکم۔ وائو عاطفہ۔ یجر مضارع مجزوم بوجہ جواب امر، واحد مذکر غائب اجارۃ (افعال) مصدر کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر، تم کو بچائے گا۔ ج و ر : مادہ کے حروف ہیں۔ الجار (پڑوسی، ہمسایہ) ہر وہ شخص جس کی سکونت کاد دوسرے کے قرب میں ہو وہ اس کا جار کہلاتا ہے۔ ہمسائے کا حق عقلاً وشرعاً بہت بڑا سمجھا گیا ہے اسی لئے ہر وہ شخص جس کا حق بڑا ہو یا وہ کسی دوسرے کے حق کو بڑا سمجھتا ہو اسے اس کا جار کہہ دیتے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے وان احد من المشرکین استجارک فاجرہ (9:6) اور اگر کوئی مشرک تم سے پناہ کا خواستگار ہو تو اس کو پناہ دو ۔ اسی معنی میں اور جگہ قرآن مجید میں ہے وھو یجیر ولا یجار علیہ (23:88) اور وہ پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابل کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا۔ عذاب الیم ۔ موصوف وصفت۔ درد ناک عذاب، الیم بروزن فعیل بمعنی فاعل ہے ، دکھ دینے والا۔ درد ناک۔
Ayah 46:32

وَ مَنْ لَّا یُجِبْ دَاعِیَ اللّٰهِ فَلَیْسَ بِمُعْجِزٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَیْسَ لَهٗ مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءُ١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 46:32 in the Quran reader

اور جو شخص خدا کی طرف بلانے والے کی بات قبول نہ کرے گا تو وہ زمین میں (خدا کو) عاجز نہیں کرسکے گا اور نہ اسکے سوا اس کے حمایتی ہوں گے یہ لوگ صریح گمراہی میں ہیں

(46:32) ومن : وائو عاطفہ من شرطیہ ہے۔ من لا یجب داعی اللہ جملہ شرط ہے ۔ اور فلیس بمعجز فی الارض۔ جواب شرط ہے۔ لا یحب مضارع منفی واحد مذکر غائب (مضارع مجزوم بوجہ عمل من شرطیہ ہے ) جو شخص اللہ کی طرف بلانے والے کی بات قبول نہ کرے گا۔ فلیس بمعجز۔ اس میںجواب شرط کا ہے لیس فعل ناقص واحد مذکر غائب۔ وہ نہیں ہے۔ معجز اسم فاعل واحد مذکر۔ اعجاز (افعال) مصدر۔ عاجز کرنے والا۔ تھکا دینے والا۔ تو وہ زمین پر خدا کو عاجز نہیں کرسکے گا۔ (کہ اگر اللہ تعالیٰ اس کو عذاب دینا چاہے اور وہ اس کی دسترس سے بچ نکلے۔ اولئک : یعنی جو لوگ اللہ کے داعی کے کہنے کو نہ مانیں گے۔ ضلل مبین : موصوف وصفت کھلی گمراہی۔
Ayah 46:33

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ لَمْ یَعْیَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یُّحْیَِۧ الْمَوْتٰى١ؕ بَلٰۤى اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 46:33 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں سمجھا کہ جس خدا نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور انکے پیدا کرنے سے تھکا نہیں وہ اس (بات) پر بھی قادر ہے کہ مردوں کو زندہ کر دے ہاں ہاں وہ ہر چیز پر قادر ہے

(46:33) اولم یروا۔ ہمزہ استفہامیہ انکاریہ ہے وائو حرف عطف جس سے قبل معطوف علیہ محذوف ہے ۔ ای الم یعلموا ولم یروا کیا وہ نہیں جانتے اور کیا انہوں نے نہیں دیکھا۔ لم یروا مضارع مجزوم نفی حجد بلم۔ جمع مذکر غائب رؤیۃ (باب فتح) مصدر یہاں رؤیت سے مراد رؤیت قلبی ہے ای الم یتفکروا۔ الم یعلموا۔ کیا انہوں نے غور نہیں کیا۔ کیا ان کو علم نہیں۔ ان تحقیق۔ بےشک۔ یقینا ۔ حرف تحقیق ہے اور حروف مشبہ بالفعل میں سے ہے اپنے اسم کو نصب اور خبر کو رفع دیتا ہے۔ ولم یعی بخلقہن۔ وائو عاطفہ مضارع مجزوم نفی حجد بلم۔ واحد مذکر۔ غائب۔ عی (باب سمع) مصدر۔ عی عیی ماضی، یعیی مضارع۔ عاجز ہونا۔ کامیاب نہ ہونا۔ اعیاء (افعال) تھک جانا۔ تھکا دینا۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے افعیینا بالخلق الاول (50:15) کیا ہم پہلی تخلیق سے تھک گئے ہیں۔ بخلقہن میں ب سببیہ ہے یا تعلیلیہ ہے خلقہن مضاف مضاف الیہ ، وہ ان (سماوات وارض) کے پیدا کرنے سے تھک نہیں گیا بقدر۔ قادر۔ محل رفع میں ہے کیونکہ ان کی خبر ہے۔ ب زائدہ ہے۔ ان مصدریہ ہے۔ کہ۔ ترجمہ ہوگا :۔ کیا انہوں نے نہیں سمجھا کہ جس خدا نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ اور ان کے پیدا کرنے سے تھکا نہیں وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ مردوں کو زندہ کر دے۔ یحییٰ : مضارع منصوب (بوجہ عمل ان ) واحد مذکر غائب : احیاء (افعال) مصدر، یہاں ان مصدریہ کے آنے سے بمعنی مصدر بھی ہے یعنی وہ مردوں کو زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ الموتی۔ مردے۔ واحد میت۔ بلی۔ ہاں ۔ کیوں نہیں۔ حرف جواب ہے۔ (حرف ایجاب چھ ہیں ۔ نعم ، بلی اجل، جیر۔ ان اور ای۔ یہ حروف تصدیق بھی کہلاتے ہیں) بلی کلام مخاطب کی نفی اور اس کے ابطال کے واسطے آتا ہے۔
Ayah 46:34

وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ١ؕ اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَا١ؕ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 46:34 in the Quran reader

اور جس روز انکار کرنے والے آگ کے سامنے کئے جائیں گے کیا یہ حق نہیں ہے ؟ تو کہیں گے کیوں نہیں ہمارے پروردگار کی قسم (حق ہے) حکم ہوگا کہ تم جو (دنیا میں) انکار کیا کرتے تھے (اب) عذاب کے مزے چکھو

(46:34) یوم یعرض الذین کفروا علی النار (ملاحظہ ہو آیت 20: متذکرہ الصدر) ۔ الیس ھذا بالحق۔ اس جملہ سے قبل فیقال لہم مقدر ہے۔ یعنی جب کافر لوگ آگ کے سامنے لائے جائیں گے ۔ تو ان سے کہا جائے گا الیس ھذا بالحق (کیا یہ حق نہیں ہے) ھذا کا اشارہ عذاب دوزخ کی طرف ہے یعنی ان سے کہا جائے گا کیا یہ دوزخ کا عذاب حق نہیں ہے ؟ امر واقعی نہیں ہے ؟ قالوا بلی وربنا : وہ کہیں گے کہ ہمیں ہمارے رب کی قسم ضرور سچ اور حق ہے وائو قسمیہ ہے ربنا مضاف مضاف الیہ۔ ہمیں اپنے پروردگار کی قسم۔ قال۔ ای قال اللہ لہم۔ فذوقوا۔سببیہ ہے یعنیسے پہلے کا مضمونکے بعد والے مضمون کا سبب ہے۔ دوزخ کا حق ہونا۔ باوجودیکہ وہ دنیا میں اس کا انکار کرتے رہے تھے عذاب کا مزہ چکھنے کا سبب ہوگا۔ ذوقوا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے ذوق (باب نصر) مصدر۔ ذوق و ذائقۃ مزہ۔ ذائق اسم فاعل واحد مذکر مزہ چکھنے والا۔ ذوقوا کا استعمال اہانت اور توبیخ کو ظاہر کر رہا ہے۔ بما میں ب سببیہ ہے اور ما موصولہ۔ کنتم تکفرون : ماضی استمراری جمع مذکر حاضر۔ تم کفر کیا کرتے تھے۔ پس چکھو عذاب کا مزہ اس کفر کے باعث جو تم کیا کرتے تھے۔
Ayah 46:35

فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَ لَا تَسْتَعْجِلْ لَّهُمْ١ؕ كَاَنَّهُمْ یَوْمَ یَرَوْنَ مَا یُوْعَدُوْنَ١ۙ لَمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنْ نَّهَارٍ١ؕ بَلٰغٌ١ۚ فَهَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الْفٰسِقُوْنَ۠ Open ayah 46:35 in the Quran reader

پس (اے محمد) جس طرح اور عالی ہمت پیغمبر صبر کرتے رہے ہیں اسی طرح تم بھی صبر کرو اور ان کے لئے (عذاب) جلدی نہ مانگو جس دن یہ اس چیز کو دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تو (خیال کریں گے کہ) گویا (دنیا میں) رہے ہی نہ تھے مگر گھڑی بھر دن (یہ قرآن) پیغام ہے سو (اب) وہی ہلاک ہوں گے جو نافرمان تھے

(46:35) فاصبر۔ جناب رسول کریم ﷺ سے خطاب ہے یعنی اے محمد ﷺ آپ کافروں کی طرف سے پہنچنے والی تکلیفوں پر صبر کیجئے۔ ان سے انتقام کا ارادہ نہ کیجئے کیونکہ انہیں اپنے کئے پر دوزخ کے عذاب کا تو مزہ چکھنا ہی ہوگا ۔ کما : ک حرف تشبیہ ما موصولہ۔ جیسا کہ (ہمت والے پیغمبروں نے صبر کیا تھا) ۔ اولوا العزم من الرسل : اولوا العزم مضاف مضاف الیہ عزم والے صاحب عزم۔ من تبعیضیہ۔ پیغمبروں میں سے بعض جو اولوالعزم تھے۔ اولوالعزم کون سے پیغمبر تھے علماء کے اس مسئلہ میں مختلف اقوال ہیں اور تفصیلات کسی مستند تفسیر میں ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔ ولا تستعجل وائو عاطفہ لا تستعجل فعل نہیں واحد مذکر حاضر، استعجال استفعال مصدر تو جلدی نہ کر۔ تو عجلت نہ کر، لا تستعجل کا مفعول محذوف ہے۔ ای لا تستعجل لہم العذاب اور ان کے عذاب پانے کے لئے جلدی نہ کیجئے۔ کانہم یوم یرون ما یوعدون لم یلبثوا الا ساعۃ من نھار۔ ای یوم یرون (العذاب) ما یوعدون (یحسبوا) کانہم لم یلبثوا (فی الدنیا) الا ساعۃ من نھار۔ جس دن وہ عذاب کو دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا تو خیال کریں گے جیسے کہ وہ نہ نہیں ٹھہرے تھے دنیا میں مگر دن کی فقط ایک گھڑی۔ یوم ظرفیت کی وجہ سے منصوب ہے یا یہ یرون کا مفعول فیہ ہے ما موصولہ یوعدون مضارع جمع مذکر غائب وعد باب ضرب۔ مصدر یعنی جس کا ان سے وعدہ عذاب کیا جا رہا ہے (یحسبوا) وہ خیال کریں گے کانہم میں کان حرف مشانہ بفعل ہے ہم ضمیر جمع مذکر غائب کان کا اسم۔ گویا وہ سب “۔ لم یلبثوا۔ مضارع مجزوم نفی حجد بلم۔ جمع مذکر غائب، لبث (باب سمع مصدر) وہ نہیں ٹھہرے وہ نہیں رہے۔ بلغ۔ پہنچا دینا۔ کافی ہونا۔ قرآن مجید میں یہ لفظ بمعنی تبلیغ آیا ہے۔ بلغ خبر ہے۔ اس کا مبتداء محذوف ای ھذا بلغ ای ھذا القران بلغ من اللہ الی خلقہ یہ قرآن مجید اللہ کی طرف سے اس کی خلقت کی طرف (بہترین) تبلیغ (پیغام پندو نصائح کا پہنچا دینا ہے) ۔ اس معنی میں اور جگہ قرآن مجید میں ہے ان فی ھذا لبلاغا لقوم عابدین۔ (21:106) تحقیق عبادت کرنے والے لوگوں کے لئے اس میں (خدا کے حکموں کی) تبلیغ ہے۔ بلغ بمعنی تبلیغ ای فعال بمعنی فعیل عربی زبان میں اکثر آیا ہے جیسے بلغہ بلغا ای تبلیغا۔ کلمہ کلاما ای تکلیما۔ طلقھا طلاقا سرحھا سراحا ۔ فھل یھلک۔ سوال انکاری ہے۔ یعنی سوائے نافرمان لوگوں کے عذاب سے کوئی ہلاک نہیں کیا جائے گا۔ ھل حرف استفہام ہے بمعنی کیا۔ یھلک مضارع مجہول واحد مذکر غائب اھلاک (افعال) مصدر۔ چونکہ ھل یہاں بطور استفہام انکاری آیا ہے لہٰذا ترجمہ وہ ہوگا جو اوپر دیا گیا ہے۔ القوم الفسقون۔ موصوف وصفت۔ ” فاسق لوگ “۔ صاحب تفسیر الماجدی رقمطراز ہیں :۔ الفسقون یہاں مراد محض گنہگار ہی نہیں بلکہ دائرہ اسلام سے خارج رہنے والے کافر مراد ہیں۔ جن پر تبلیغ حق کا کوئی اثر ہی نہ ہوا۔ فاسق کا اصطلاحی مفہوم اسے کافر سے ممتاز کرنے والا تو بہت بعد کا ہے قرآن مجید میں وہ اپنے وسیع وعمومی مفہوم میں آیا ہے۔ مطلق نافرمان کے مرادف “۔ الفسقون یعنی نصیحت پذیری یا طاعت سے خارج ہوجانے والے۔ (مظہری)