Ayah 42:34(42:34) او یوبقھن بما کسبوا۔ ای او ان یشاء یوبقھن بما کسبوا ۔ او حرف عطف۔ یوبق مضارع مجزوم (جواب شرط کی وجہ سے) واحد مذکر غائب۔ ایباق (افعال) مصدر وبق مادہ۔ وہ ہلاک کر دے وبق (باب ضرب) بمعنی ضعیف اور گراں ہوکر ہلاک ہونا۔ موبق اسم ظرف مکان۔ ہلاک ہونے کی جگہ جیسے کہ اور جگہ قرآن مجید میں ہے وجعلنا بینھم موبقا (18:52) اور ہم ان کے بیچ میں ہلاکت کی جگہ بنادیں گے۔
ھن ضمیر مفعول جمع مؤنث غائب کا مرجع الجوار ہے (اور اگر وہ چاہے تو ان کی کرتوتوں کے سبب ان کو ہلاک کر دے) ۔ اس جملہ کا عطف سابقہ جملہ ان یشا یسکن الریح پر ہے۔
ویعف عن کثیر : یہ جملہ معترضہ ہے یا اس کا عطف سابق جملہ ان یشا یسکن الریح پر ہے۔ یعنی اگر وہ چاہے تو ہوا کو روک دے کہ جہاز کھڑے رہ جائیں۔ یا طوفان بھیج دے کہ جہاز تباہ ہوجائیں اور آدمی ڈوب جائیں۔ یا موافق ہوائیں چلاتا رہے اور کثیر لوگوں سے درگزر فرمائے ۔ (مظہری)
یعف مضارع مجزوم بوجہ جواب شرط ۔ واحد مذکر غائب کا صیغہ نیز ملاحظہ ہو 42:30 متذکرۃ الصدر۔
Ayah 42:35(42:35) یعلم۔ مضارع منصوب واحد مذکر غائب تعلیل محذوف پر عطف ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ تقدیر کلام ہے لینتقم منھم ویعلم : اس کا فاعل الذین یجادلون فی ایتنا ہے۔ یعنی اگر وہ چاہے تو ان کے کرتوتوں کے سبب ان سے انتقام لینے کے لئے ان کو ہلاک کر دے اور وہ جو اللہ تعالیٰ کی آیات میں جھگڑا کرتے ہیں جان لیں کہ ۔۔
الذین اسم موصول یجادلون فی ایتنا اس کا صلہ۔ دونوں مل کر فاعل یعلم فعل ۔ مالہم من محیس مفعول ۔
یجادلون مضارع جمع مذکر غائب۔ مجادلۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ وہ جھگڑا کرتے ہیں۔
محیص اسم ظرف مکان۔ پناہ لینے کی جگہ۔ لوٹنے کی جگہ۔
Ayah 42:36(42:36) فما اوتیتم من شیءعاطفہ۔ ما موصولہ متضمن یہ شرط فمتاع الحیوۃ الدنیا میںجواب شرط کے لئے ہے جملہ اول شرط ۔ جملہ ثانی جواب شرط۔ پس جو کچھ تمہیں دیا گیا ہے وہ دنیوی زندگی کا (ناپائدار) سامان ہے۔
وما عند اللّٰہ خیر وابقی : واؤ عاطفہ۔ ماعند اللّٰہ ما موصولہ بمع صلہ۔ دونوں مل کر مبتدا خیر وابقی خبر۔ اور (آخرت میں) جو (ثواب) اللہ کے پاس ہے وہ بہتر ہے اور سدا رہنے والا ہے۔ ابقی بقاء (باب سمع) سے افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ دیر تک رہنے والا جب یہ اللہ تعالیٰ کی صفت ہو تو اس کا معنی ” سدا رہنے والا “ ہوگا۔
للذین امنوا۔ خبر مبتدا محذوف : ای ذلک للذین امنوا۔ یہ ثواب ان کے لئے ہے جو ایمان لائے۔
وعلی ربھم یتوکلون ۔ اس کا عطف الذین امنوا پر ہے۔ یتوکلون مضارع جمع مذکر غائب۔ توکل (تفعل) مصدر۔ وہ بھروسہ رکھتے ہیں ۔ وہ توکل کرتے ہیں۔
Ayah 42:37(42:37) والذین یجتنبون کبئر الاثم والفواحش : اس کا عطف بھی الذین امنوا پے ہے۔ یجتنبون مضارع جمع مذکر غائب۔ اجتناب (افتعال) مصدر وہ پرہیز رکھتے ہیں ۔ کبئر جمع کبیرۃ کی صفت مشبہ جمع مؤنث مضاف الاثم (گناہ) مضاف الیہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول اول یجتنبون کا۔ الفواحش ، فاحشۃ کی جمع مفعول ثانی۔ اور جو لوگ بڑے بڑے گناہوں اور بدکاریوں بیحیائیوں سے بچے رہتے ہیں۔ اجتناب کرتے ہیں۔
فائدہ : حدیث شریف میں مندرجہ ذیل گناہ کبیرہ بیان ہوئے ہیں۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنا۔ کسی پر جادو کرنا۔ قتل ناجزئ۔ سود خوری۔ یتیم کا مال کھانا۔ جہاد سے بھاگنا۔ پاکدامنوں پر تہمت لگانا۔ (متفق علیہ)
فواحش میں مندرجہ ذیل مندرج ہیں۔ زنا۔ لواطت۔ بےشرمی کی باتیں۔
اذا ما۔ جب ۔ جب کبھی۔ شرطیہ ہے۔
غضبوا۔ ماضی جمع مذکر غائب غضب (باب سمع) مصدر۔ وہ غضبناک ہوتے ہیں ۔ اذا ما غضبوا جملہ شرط ہے یہ بھی الذین امنوا پر معطوف ہے۔
ہم یغفرون : جملہ جواب شرط ہے۔ ہم مبتدا۔ یغفرون خبر۔ اذا ما ۔۔ کا عطف بھی الذی امنوا پر ہے۔
Ayah 42:38(42:38) والذین استجابوا۔ معطوف ہے الذین پر۔ استجابوا ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ استجاب (استفعال) مصدر۔ جوب مادہ۔ انہوں نے مانا ۔ انہوں نے قبول کیا۔ اور جو اپنے رب کا حکم مانتے ہیں۔
واقاموا الصلوۃ۔ اور نماز قائم کرتے ہیں۔ معطوف ہے الذین امنوا پر۔
وامرھم شوری بینھم : شوری مشورہ کرنا۔ یہ باب مفاعلۃ سے مصدر ہے جیسے بشری و ذکری۔ یہ جملہ بھی معطوف ہے الذین امنوا۔ اور ان کے سارے کام باہمی مشورے سے ہوتے ہیں۔
ومما رزقنھم ینفقون : معطوف علی الذین امنوا۔ مما : من حرف جار اور ما موصولہ سے مرکب ہے۔ اس میں سے جو (رزق ہم نے عطا کیا) ۔ ینفقون مضارع جمع مذکر غائب انفاق (افعال) مصدر۔ وہ خرچ کرتے ہیں۔
Ayah 42:39(43:39) والذین اذا ۔۔ ینتصرون۔ اس کا عطف بھی الذین امنوا پر ہے۔ ذا جب، ظرف زمان ہے۔ شرطیہ بھی ہوسکتا ہے۔
اصابھم البغی : اصاب ماضی واحد مذکر غائب اصابۃ (افعال) مصدر وہ پہنچا۔ وہ اپڑا۔ اس نے پالیا۔ مصیبۃ آپڑنے والی۔
البغی۔ سرکشی ، ظلم، زیادتی۔ البغی (باب ضرب) سے مصدر۔ بغی کے اصل معنی میانہ روی سے بڑھنے کی خواہش کرنے کے ہیں۔ اور اس کی دو قسمیں ہیں۔ ایک محمود۔ جیسے عدل کی بجائے احسان کرنا۔ اور فرائض کے علاوہ نوافل کا بھی پابند رہنا۔ دوسرے مذموم : جیسے حق سے تجاوز کرکے باطل کو اختیار کرنا۔ شبہات میں پڑنا : جیسے قرآن مجید میں اکثر مواقع پر بغی کا استعمال مذموم معنی میں ہی ہوا ہے۔
بغی (باب ضرب) بمعنی طلب کرنا۔ خواہش کرنا۔ بھی آتا ہے۔
ینتصرون : مضارع جمع مذکر غائب انتصار (افتعال) مصدر وہ بدلہ لے لیتے ہیں۔ بدلہ لے سکتے ہیں (جرم کے مطابق) بدلہ لے لیتے ہیں۔ اذا شرطیہ ہونے کی صورت میں جملہ اذا اصابھم البغی جملہ شرطیہ ہوگا اور جملہ ہم ینتصرون مبتدا اور خبر مل کر جواب شرط و جواب شرط مل کر صلہ اپنے موصول الذین کا۔
Ayah 42:40(42:40) وجزاء سیئۃ سیئۃ مثلہا : سیئۃ برائی ، برا کام ۔ گناہ، اس کی جمع سیئات ہے۔ س و ء مادہ۔ واؤ عاطفہ ہے جزاء سیئۃ مضاف مضاف الیہ دونوں مل کر مبتداء مثلہا مضاف مضاف الیہ مل کر سیئۃ کی صفت موصوف و صفت مل کر خبر اپنے مبتداء کی ۔ (مثلہا میں ضمیر ھا واحد مؤنث غائب کا مرجع سیئۃ ہے) اور برائی کا بدلہ برائی ہے (اسی طرح کی، اسی قدر) مقاتل نے کہا ہے کہ :۔ جزاء سیئۃ سے مراد قتل اور زخمی کرنے کا بدلہ۔ مجاہد اور سدی کے نزدیک گالی گلوچ یا برے الفاظ کا بدلہ مراد ہے۔ لیکن ساتھ ہی فرما دیا فمن عفا واصلح فاجرہ علی اللّٰہ۔ لیکن جو شخص معاف کر دے اور صلح کرلے تو اس کا اجر اللہ پر ہے۔
عفا : ماضی واحد مذکر غائب عفو (باب نصر) مصدر اس نے معاف کیا۔
اصلح : ماضی واحد مذکر غائب اصلاح (افعال) مصدر اس نے صلح کرلی وہ سنور گیا۔ وہ نیک ہوگیا۔ اس نے اصلاح کی۔ اس نے صلح کرا دی۔ فمن عفا واصلح من شرطیہ جملہ شرط۔ فاجرہ علی اللّٰہ جواب شرط۔ من موصولہ متضمن لمعنی الشرط بھی ہوسکتا ہے۔
Ayah 42:41(42:41) ولمن انتصر بعد ظلمہ فاولئک ما علیہم من سبیل واؤ عاطفہ لمن شرطیہ اور جملہ لمن انتصر بعد ظلمہ شرط۔ فاولئک ما علیہم من سبیل جواب شرط۔
انتصر ماضی واحد مذکر غائب انتصار (افتعال) مصدر۔ اس نے مدد طلب کی۔ انتصار کے معنی مدد طلب کرنے کے ہیں۔ ظالم سے انتصار کے معنی اس کو سزا دینا اور اس سے انتقام لینے کے ہیں باب استفعال سے بھی مدد مانگنا کے معنی آتے ہیں۔ مثلا وان استنصروکم فی الدین فعلیکم النصر (8:72) اور اگر وہ تم سے دین کے معاملات میں مدد طلب کریں تو تم کو مدد کرنی لازم۔
سبیل : راستہ ۔ واہ۔ سبیل اس راہ کو کہتے ہیں جو واضح ہو اور اس میں سہولت ہو۔ پھر سبیل کا لفظ ہر اس چیز پر بولا جاتا ہے جو کسی دوسری چیز تک رسائی کا ذریعہ ہو عام اس سے کہ وہ چیز خبر ہو یا شر۔ قرآن مجید میں ہے ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ (16:125) اے پیغمبر (لوگوں کو) اپنے رب کے راستے کی طرف (یعنی راہ حق کی طرف) حکمت و دانش سے بلاؤ سبیل اللّٰہ سے مراد جہاد، حج۔ طلب علم اور وہ امور خیر جن کا اللہ نے حکم دیا ہے۔
محاورہ ہے لیس علی فی ھذا سبیل اس بارے میں مجھ پر کوئی مؤاخذہ نہیں ہے یا لیس لک علی من سبیل تمہیں میرے سے مؤاخذہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا :۔ اور جس نے اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد بدلہ لے لیا۔ پس یہ لوگ ہیں ان پر کوئی علامت نہیں (ان پر کوئی مؤاخذہ نہیں ہے) ما نافیہ ہے۔
Ayah 42:42(42:42) انما السبیل علی الذین : بیشک الزام یا مؤاخذہ تو ان لوگوں پر ہے جو ۔۔
یبغون فی الارض : یبغون مضارع جمع مذکر غائب ۔ بغی (باب ضرب) مصدر وہ زیادتی کرتے ہیں۔ سرکشی یا ظلم کرتے ہیں اور جگہ قرآن مجید میں چاہتا، خواہش کرنے کے معنی میں بھی آیا ہے۔ مثلا یبغونکم الفتنۃ (9:47) تم میں فتنہ ڈالنے کی خواہش سے۔ نیز ملاحظہ ہو 42:39 متذکرۃ الصدر۔
Ayah 42:43(42:43) ولمن صبر وغفر : من شرطیہ ہے جملہ شرط ہے اور اگلا جملہ ان ذلک لمن عزم الامور جواب شرط ہے۔ غفر ماضی واحد مذکر غائب غفران (باب ضرب) مصدر اس نے بخشا۔ اس نے معاف کیا ۔
ذلک : ای الصبر والغفران صبر کرنا اور معاف کردینا۔ من تبعیضیہ ہے۔
عزم الامور۔ مضاف مضاف الیہ۔ العزم والعزیمۃ کسی کام کا قطعی اور حتمی طور پر کرنے کا ارادہ کرنا۔ عزمت الامر میں نے اس کام کو قطعی طور پر کرنے کا ارادہ کرلیا۔ میں نے اس کام کو کر گزرنے پر دل کو پکا کرلیا۔ یہ عزم یعزم کا مصدر ہے اور اسی کا فعل باب ضرب سے آتا ہے۔ یہاں مصدر بمعنی مفعول ہے۔ یعنی عزم بمعنی معزوم ہے۔ اور اس سے مراد ہے وہ عمل جس کو اس کی خوبی بڑائی اور عزت کی بنا پر ہر ایک کو کرنے کا پختہ ارادہ کرلینا چاہیے۔
مطلب یہ کہ ظلم پر صبر کرنا اور ظالم کو معاف کردینا ان امور میں سے ہے جن کے کرنے کا پختہ ارادہ کرلینا چاہیے۔
علامہ اسماعیل حقی لکھتے ہیں کہ صبر اور مغفرت ان امور میں سے ہے جنہیں بندہ کو اپنے نفس کے اوپر واجب کرنا چاہیے کیونکہ یہ امور اللہ تعالیٰ کے نزدیک محمود اور پسندیدہ ہیں۔ (ضیاء القرآن)
Ayah 42:44(42:44) فمن یضلل اللّٰہ۔ جملہ شرط ہے اور اگلا جملہ فمالہ ۔۔ من بعدہ جواب شرط۔ یضلل مضارع مجزوم (بوجہ عمل من شرطیہ) واحد مذکر غائب اضلال (افعال) مصدر (جس کو) وہ گمراہ کر دے۔
فما لہ :جواب شرط کے لئے ہے ما نافیہ ہے لہ میں ضمیر ہ واحد مذکر غائب کا مرجع وہ شخص ہے جسے اللہ نے گمراہ کردیا ہے اور من بعدہ میں ہ کا مرجع اللہ ہے۔
تری۔ مضارع واحد مذکر حاضر۔ رؤیۃ (باب فتح) مصدر تو دیکھتا ہے یا تو دیکھے گا مہموز العین وناقص یائی ہے۔ رء ی مادہ ہے۔
لما۔ جب (کلمہ ظرف)
رأوا العذاب : راوا اصل میں راوا تھا واؤ ساکن کو لام سے وصل کے لئے ضمہ دیا گیا۔ رأوا رویۃ (باب فتح) مصدر سے اصل میں رایوا تھا۔ ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب ی متحرک ماقبل اس کا مفتوح اس ی کو الف سے بدلا۔ اب الف اور واؤ دو ساکن جمع ہوئے الف کو حذف کردیا گیا ۔ رأوا ہوگیا۔ انہوں نے دیکھا۔
یہاں اس آیت میں بمعنی مستقبل آیا ہے یعنی وہ دیکھیں گے چونکہ آئندہ قیامت کے دن عذاب کو دیکھنا یقینی ہے اس لئے بجائے مستقبل کے ماضی کا صیغہ استعمال کیا گیا۔ العذاب فعل رأوا کا مفعول ہے۔
مرد۔ رد سے مصدر میمی۔ پھرنا۔ لوٹنا۔ ہل الیٰ مرد من سبیل۔ کیا (دنیا کی طرف) لوٹ جانے کی کوئی راہ ہے ؟ یعنی دنیا کی طرف لوٹ جانے کی درخواست کریں گے۔
تری فعل الظلمین مفعول بہ یقولون ہل الی مرد من سبیل جملہ حالیہ الظلمین سے حال۔ لما رأوا العذاب شرط یقولون ۔۔ من سبیل جواب شرط۔
Ayah 42:45(42:45) ترھم : تری مضارع واحد مذکر حاضر ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب تو ان کو دیکھے گا۔
یعرضون : مضارع مجہول جمع مذکر غائب ۔ عرض (باب ضرب) ان کو پیش کیا جائے گا۔ علیہا میں ھا ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع النار ہے (آگ ، دوزخ) جس پر لفظ العذاب دلالت کرتا ہے۔
خشعین : خشوع (باب ضرب) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر، ڈرنے والے عاجزی کرنے والے فروتنی کرنے والے
من الذل : من بمعنی ب سببیہ ہے الذل ذل بذل (باب ضرب) سے مصدر ہے ذلت، عاجزی، تواضع، دوسرے کے دباؤ اور قہر کی بناء پر جو ذلت ہو اس کو ذل (بصیغہ دال) کہتے ہیں ۔ اور بغیر کسی کے قہر اور دباؤ کے خود اپنی سرکشی اور سخت گیری کے بعد جو ذلت حاصل ہو وہ ذل (بکسرہ ذال) کہلاتی ہے۔ ذ ل ل مادہ۔ من الذل۔ ذلت کی وجہ سے عاجز و درماندہ و خوف زدہ۔
ینظرون من طرف خفی۔ نیچی دزدیدہ نگاہوں سے دیکھتے ہوئے۔ طرف خفی۔ موصوف و صفت، طرف کے معنی ہیں۔ نظر ، نگاہ۔ طرف العین کہتے ہیں آنکھ کی پلک اور طرف کے معنی ہیں پلک جھپکنے کے۔ پلک جھپکنے کو لازم ہے نگاہ۔ اس لئے خود نگاہ اور نظر کے لئے بھی طرف کا استعمال ہوتا ہے۔ قصرت الطرف (55:56) نیچی نگاہ والیاں۔
خفی صفت مشبہ کا صیغہ ہے خفاء (باب سمع) مصدر۔ پوشیدہ ، چھپی ہوئی۔ یعنی چوری کی نظر سے دیکھیں گے۔ جیسے وہ شخص جو رسیوں سے بندھا ہوا ہو خوف زدہ ہو کر عاجزی کے ساتھ چوری کی نظر سے جلاد کی تلوار کو دیکھتا ہے۔
یعرضون علیہا۔ خشعین من الذل اور ینظرون من طرف خفی تینوں جملے حال ہیں ہم ضمیر مفعول سے۔
خسروا انفسھم واہلیہم : (جنہوں نے) اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو گھاٹے میں ڈالا۔
یوم القیامۃ : مضاف مضاف الیہ ۔ مفعول فیہ۔ قیامت کے روز۔ الا۔ خبردار ہوجاؤ۔ جان لو۔ سن لو۔
عذاب مقیم۔ موصوف و صفت۔ ہمیشہ کا عذاب۔ قائم رہنے والا۔
Ayah 42:46(42:46) وما کان : میں ما نافیہ ہے۔ وما کان لہم من اولیاء ینصرونھم من دون اللّٰہ۔ ای وما کان لہم من دون اللّٰہ من اولیاء ینصرونھم اللہ کے درے ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا کہ ان کی مدد کرسکے۔ ینصرونھم : ینصرون مضارع جمع مذکر غائب نصر (باب نصر) مصدر (کہ) وہ مدد کرسکیں ۔ یا مدد کریں۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔
ومن یضلل اللّٰہ۔ جملہ شرط۔ فما لہ من سبیل جواب شرط۔
یضلل مضارع مجزوم (بوجہ عمل من شرطیہ) واحد مذکر غائب اضلال (افعال) مصدر اور جس کو اللہ گمراہ کر دے۔ (یہ اضلال ان لوگوں کے عدم تلاش حق کی پاداش میں ہوگا۔ اور یہ اضلال کی نسبت حق تعالیٰ کی طرف ہمیشہ تکوینی حیثیت سے بطور مسبب الاسباب کے ہوگی۔ (تفسیر ماجدی)
فما میںجواب شرط کے لئے ہے ما نافیہ ہے فما لہ من سبیل : ای فمالہ من طریق الیٰ ھدایتہ فی الدنیا والی الجنۃ یوم القیامۃ۔ اس کے لیے دنیا میں ہدایت کا کوئی راستہ اور آخرت میں جنت تک رسائی کا کوئی راستہ نہ ہوگا۔
Ayah 42:47(42:47) استجیبوا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر غائب استجابۃ (استفعال) مصدر۔ تم حکم مانو۔ بعض نے کہا ہے استجیبوا لربکم : ای اجیبوا داعی اللّٰہ یعنی محمد رسول اللہ ﷺ ۔
من قبل ان : ان مصدریہ ہے۔ یاتی یوم لا مردلہ من اللّٰہ۔ ای یاتی یوم من دون اللّٰہ لامردلہ (پیشتر اس کے کہ) آجائے اللہ کی طرف سے وہ دن جو ٹلنے والا نہیں ہے۔ یوم سے مراد۔ یوم الموت یا یوم القیامۃ ہے۔
لا مردلہ۔ مرد۔ رد۔ مصدر میمی ہے پھیرنا۔ لوٹنا۔ کہ اس کے لئے بٹ جانا ۔ ٹل جانا۔ یا لوٹ جانا ممکن نہیں ہے۔ اگر من اللّٰہ کا تعلق لامرد سے ہے تو مطلب ہوگا۔ کہ اللہ جب اس روز کے آنے کا حکم دے چکے گا۔ تو پھر اس حکم کو واپس نہیں لے گا۔
ملجا۔ اسم ظرف مکان ۔ پناہ کی جگہ۔ لجا (باب فتح، سمع) سے مصدر۔ پناہ پکڑنا ۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے وظنوا ان لا ملجا من اللّٰہ الا الیہ (9:118) اور انہوں نے جان لیا کہ اللہ سے کہیں پناہ نہیں مل سکتی بجز اسی کے ہاں سے۔
یؤمئذ۔ اس روز ۔
ومالکم من نکیر : نکیر مصدر ہے بمعنی انکار (افعال) باب افعال سے نکیر (بروزن فعیل) مصدر غیر قیاسی ہے۔ اس جگہ نفی انکار سے مراد ہے ایسے انکار کی نفی جو نجات دے سکے۔ (کرخی) یا نکیر سے مراد ہے مددگار (مجاہد) یا نکیر بمنعی منکر ہے ۔ یعنی قیامت کے دن عذاب کا انکار کرنے والا کوئی نہ ہوگا (کلبی)
تم نے جو کچھ کیا ہے تم اس کا انکار نہ کرسکو گے کیونکہ اعمال ناموں میں اس کا اندراج ہوگا اور تمہاری زبان اور تمہارے ہاتھ پاؤں وغیرہ بھی تمہارے اعمال کی شہادت دیں گے۔
Ayah 42:48(42:48) فان اعرضوا جملہ شرط ہے۔ فما ارسلنک علیہم حفیظا جواب شرط ۔ اعرضوا۔ ماضی جمع مذکر غائب اعراض (افعال) مصدر ۔ منہ پھیرلینا۔ اور اگر وہ لوگ (یہ سن کر) پھر بھی منہ پھیر لیں۔
حفیظا۔ نگہبان۔ حفاظت کرنے والا۔ منصوب بوجہ تمیز۔
ان علیک میں ان نافیہ ہے۔ الا حرف استثنائ۔
البلاغ : مصدر ہے یہ لفظ قرآن مجید میں بمعنی تبلیغ آتا ہے۔ البلاغ والبلوغ (باب نصر) کے معنی مقصد اور منتہی کے آخری حد تک پہنچنے کے ہیں۔ عام اس سے کہ وہ مقصد کوئی مقام ہو یا زمانہ یا اندازہ کئے ہوئے امور میں سے کوئی امر ہو۔ مگر کبھی محض قریب تک پہنچ جانے کے لئے بھی بولا جاتا ہے گو انتہاء تک نہ بھی پہنچا ہو۔
انتہاء تک پہنچنے کے معنی میں فرمایا :۔ حتی اذا بلغ اشدہ وبلغ اربعین سنۃ (46:15) یہاں تک کہ جب خوب جوان ہوتا ہے اور چالیس برس کو پہنچ جاتا ہے۔ اور ام لکم ایمان علینا بالغۃ (68:39) یا تم نے ہم سے قسمیں لے رکھی ہیں جو ۔۔ چلی جائیں گی۔ یہاں بالغۃ سے مراد انتہائی مؤکد قسمیں ہیں۔
بلاغ بمعنی پیغام جیسے ھذا بلاغ للناس (14:52) یہ (قرآن) لوگوں کے نام (خدا کا) پیغام ہے۔
اور بلاغ کے معنی کافی ہونا بھی ہیں جیسے ان فی ھذا لبلاغا لقوم عابدین (21:106) عبادت کرنے والے لوگوں کے لئے اس میں (خدا کے حکموں کی) پوری تبلیغ ہے۔
وانا اذا اذقنا الانسان منا رحمۃ جملہ شرط فرح بھا جواب شرط۔ اذ شرطیہ : اذقنا ماضی جمع متکلم اذاقۃ (افعال) مصدر۔ ہم نے چکھایا۔ ذوق مادہ۔ رحمۃ مفعول فعل اذقنا کا۔ فرح ماضی واحد مذکر غائب ، وہ خوش ہوا۔ یا خوش ہوجاتا ہے۔ بھا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع رحمۃ ہے رحمۃ سے مراد دنیاوی نعمتیں ہیں مثلا دولت ، صحت وغیرہ۔
وان تصبھم سیئۃ بما قدمت ایدیہم شرط۔ ینسی النعمۃ راسا ویذکر البلیۃ ویستعظمھا (جواب شرط محذوف) فان الانسان کفور۔ علت جزائ۔ ان شرطیہ تصبھم مضارع مجزوم بوجہ شرط واحد مؤنث غائب ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع الانسان ہے (الانسان سے مراد جنس انسان ہے لہٰذا یہاں ہم جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے) اصابۃ (افعال) مصدر۔ ان کو پہنچے یا پہنچتی ہے۔ سیئۃ تکلیف، مصیبت از قسم قحط، بیماری ، تنگی، مفلسی وغیرہ۔
بما میں ب سببیہ ہے ما موصولہ قدمت ایدیہم اس کا صلہ۔ قدمت ماضی واحد مؤنث غائب تقدیم (تفعیل) مصدر۔ اس نے آگے بھیجا۔ کفور صفت مشبہ کا صیغہ ہے سخت ناشکرا۔ الکفر سے۔ فرح اور کفور لفظا واحد کے صیغے ہیں اور معنی جمع آئے ہیں
مطلب یہ کہ جب انسان کو اللہ کی طرف سے رحمت عطا ہوتی ہے تو اترا جاتا ہے لیکن جب کوئی دکھ آتا ہے جو اس کی اپنی کرتوتوں کا نتیجہ ہوتا ہے رحمت اور عنایت کو سرے سے بھول جاتا ہے اور سب کا انکار کرنے لگتا ہے مصیبت کا بار بار ذکر کرتا ہے اسے بڑھا چڑھا کر بیان کرتا ہے اور غور نہیں کرتا کہ اس کا سبب کیا ہے۔
صاحب تفسیر مظہری رقمطراز ہیں :۔ اذا (جب) عربی زبان میں اس وقت استعمال ہوتا ہے جب کوئی بات ثابت شدہ اور محقق ہو۔ نعمت عطا فرمانا اور اس کا مزہ چکھانا اللہ تعالیٰ کی رحمت ذاتیہ کا اقتضا اور اس کا معمول ہے۔ کسی شک کی اس میں گنجائش ہی نہیں ہے۔ اس لئے اذقنا کے ساتھ لفظ اذ استعمال کیا لیکن مصیبت کا آنا بتقاضائے رحمت نہیں نہ اللہ کا یہ دستور ہی ہے کہ (بےوجہ، بغیر جرم کے) مصیبت میں مبتلا کر دے۔ اس لئے تصبھم کے ساتھ لفظ ان (اگر ۔ جو شک کے لئے آتا ہے) استعمال کیا۔
Ayah 42:49(42:49) یھب : مضارع واحد مذکر غائب ھبۃ (باب فتح) مصدر وہ بخشتا ہے ، وہ دیتا ہے۔ وھب مادہ۔ الوھاب بہت عطا کرنے والا۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے۔
یشاء مضارع واحد مذکر غائب مشیۃ (باب فتح) جس کو وہ چاہتا ہے۔
اناثا : انثی کی جمع عورتیں یہاں مراد بیٹیاں۔ ان ث مادہ۔
الذکور : ذکر کی جمع۔ مرد، یہاں مراد بیٹے۔ اصل میں انثی و ذکر عورت اور مرد کی شرمگاہوں کو کہتے ہیں ۔ پھر اس معنی کے لحاظ سے (مجازا) یہ دونوں نر اور مادہ پر بولے جاتے ہیں دونوں مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہیں۔
Ayah 42:50(42:50) اویزوجھم : یزوج مضارع واحد مذکر غائب تزویج (تفعیل) مصدر زوج جوڑا۔ یزوج وہ جوڑا بناتا ہے۔ باہم ساتھی بناتا ہے (ان کو جمع کردیتا ہے ۔ (مولنا اشر علی (رح)) ۔ ان یجمع بنھما۔ دونوں کو جمع کردیتا ہے یعنی بیٹے بھی دیتا اور بیٹیاں بھی دیتا ہے۔ ہم۔ ضمیر مفعول جمع مذکر غائب کا مرجع بیٹے اور بیٹیاں ہیں۔ (یعنی بیٹے اور بیٹیاں جو وہ عطا کرتا ہے) ۔
ذکر انا وانثا : ذکران، ذکر کی جمع۔ مرد، بیٹے۔ اور اناث انثی کی جمع عورتیں۔ بیٹیاں۔ دونوں ہم ضمیر سے حال ہیں۔
یجعل : مضارع واحد مذکر غائب جعل (باب فتح) مصدر۔ کرتا ہے۔ کردیتا ہے۔
عقیما۔ منصوب بوجہ یجعل کا مفعول ہونے کے۔ یا یہ یخلق سے بدل ہے۔ عقیم بانجھ اس لفظ کا استعمال مذکر اور مؤنث سب کے لئے آتا ہے یعنی مرد جس کے اولاد نہ ہوتی ہو اور عورت جو بانجھ ہو۔ مرد کے لئے آئیگا تو اس کی جمع عقما ہوگی ۔ اور اگر عورت کے لئے آئے گا تو اس کی جمع عقام ہوگی۔ عقم اصل میں اس خشکی کو کہتے ہیں جو اثر قبول کرنے سے مانع ہو چناچہ محاورہ ہے کہ :۔
عقمت م فاصلہ اس کے جوڑ خشک ہوگئے اور عقمت الرحم بچہ دانی خشک ہوگئی۔ عورتوں میں عقم اس کو بولتے ہیں جو مرد کے نطفہ کو قبول نہ کرے۔ عقیم بےخیر کو بھی کہتے ہیں قرآن مجید میں ہے اذا ارسلنا علیہم الریح العقیم (51:41) جب ہم نے ان پر خیر سے خالی ہوا بھیجی۔
علیم، علم سے فعیل کے وزن مبالغہ کا صیغہ ہے بڑا دانا۔ خوب جاننے والا۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے۔
قدیر۔ صفت مشبہ کا صیغہ واحد مذکر۔ قدرت والا۔ زبردست۔ خدا تعالیٰ کا اسم صفت قدیر اس ذات کو کہتے ہیں جو جو چاہے کرے اور جو کچھ کرے اس طرح کرے کہ تقاضائے حکمت کے بالمقابل مطابق ہو۔ اس سے ذرا ادھر ادھر نہ ہو اس لئے اس لفظ کا اطلاق بجز اللہ تعالیٰ کے کسی اور ذات پر جائز نہیں۔ (راغب)
Ayah 42:51(42:51) وما کان لبشر۔ اور کسی بشر کی یہ شان نہیں کہ (ضیاء القرآن) اور کسی بشر کا مقدرو نہیں (حقانی) اور یہ کسی بشر کا مرتبہ نہیں (تفسیر ماجدی) ۔
ان یکلمہ اللّٰہ الا وحیا : ان مصدریہ۔ یکلم مضارع منصوب (بوجہ عمل ان) واحد مذکر غائب ۔ کہ کلام کرے وہ۔ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع بشر ہے اور یہ کسی بشر کا یہ مرتبہ نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے۔
الا۔ حرف استثنائ۔ جس کی مندرجہ ذیل صورتیں بیان فرمائی گئی ہیں :
(1) وحیا۔ یعنی بطریق وحی۔ یعنی عام قدرتی ذرائع ابلاغ کے واسطہ کے بغیر دل میں کوئی بات ڈال دی جائے ۔ اس کی بھی دو صورتیں ہیں :۔
(ا) بحالت بیداری جیسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کے دل میں حضرت موسیٰ کو دریا میں ڈال دینے کے متعلق الہام ہوتا تھا۔
اذ اوحینا الی امک ما یوحی ان اقذفیہ فی التابوت فاقذفیہ فی الیم (20:38:39) جب کہ ہم نے تمہاری ماں کو وہ بات الہام کی جو الہام کئے جانے ہی کے قابل تھی (یعنی) یہ کہ (موسیٰ کو) ایک صندوق میں رکھ کر پھر اسے دریا میں ڈال دو ۔
(ب) بحالت خواب : جیسا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بحالت منام القاء فی القلب ہوا۔ قال یبنی انی اری فی المنام انی اذبحک فانظر ما ذا تری : (37:102) کہا (ابراہیم نے ) کہ اے میرے بیٹے میں نے خواب میں دیکھا کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں۔ (سو تم بھی سوچ لو کہ) تمہاری کیا رائے ہے ؟
(2) او من ورای حجاب۔ یا کسی پردے کے پیچھے سے : ورای اصل میں مصدر ہے لیکن اس کا معنی ہے آڑ۔ حد فاصل۔ کسی چیز کا آگے ہونا۔ پیچھے ہونا۔ علاوہ۔ سوا ہونا فصل اور حد بندی پر دلالت کرتا ہے اس لئے سب معنی میں مستعمل ہے۔ حجاب۔ پردہ ۔ اوٹ۔ ملنے سے روکنا۔ مصدر ہے ۔ یہاں پردہ سے مرد وہ پردہ ہے جو رویت سے مانع ہو۔
مثال اس حضرت موسیٰ کا خدا سے کلام ہے : ولما جاء موسیٰ لمیقاتنا وکلمہ ربہ قال رب ارنی انظر الیک قال لن ترانی (7:143) اور جب (حضرت ) موسیٰ ہمارے وقت (موعود) پر آگئے اور ان سے ان کا پروردگار ہمکلام ہوا۔ موسیٰ بولے اے پروردگار مجھے اپنے کو دکھلا دیجئے (کہ) میں آپ کو ایک نظر دیکھ لوں ( اللہ نے ) فرمایا کہ تم مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتے۔
(3) او یرسل رسولا فیوحی باذنہ ما یشائ۔ یا کسی قاصد (فرشتہ) کو بھیج دے۔ سو وہ وحی پہنچا دے اللہ کے حکم سے جو وہ (یعنی اللہ) چاہتا ہے۔ وما کان وائو عاطفہ۔ ما نافیہ، کان فعل ناقص ۔ لبشر، خبر کان۔ ان مصدریہ یکلمہ اللہ جملہ ب تاویل مصدر اسم کان۔ کسی انسان کا یہ مقام نہیں کہ اللہ اس سے روبرو بالمشافہ کلام کرے۔
الا وحیا۔ استثناء منقطع۔ ای الا (ان یوحی الیہ) وحیا۔ مگر یہ کہ اس پر وحی نازل کی جائے۔
(2) او من ورای حجاب۔ ای ان یکلمہ اللہ من ورای حجاب، یا یہ کہ پردہ کے پیچھے سے اللہ اس سے کلام کرے۔
(3) او یرسل رسولا۔ ای او ان یرسل رسولا۔ یا یہ کہ وہ (خدا) بھیجے (اس کی طرف اپنا کوئی) پیغمبر (فرشتہ) ۔
فیوحی باذنہ ما یشاء :ترتیب کا ہے۔ یوحی مضارع واحد مذکر غائب ضمیر فاعل کا مرجع رسول (فرشتہ) ہے باذنہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب اور یشاء میں ضمیر فاعل واحد مذکر غائب کا مرجع اللہ تعالیٰ ہے۔ ما موصولہ ہے اور یشاء اس کا صلہ۔ اور وہ (فرشتہ) اس (اللہ کے ) حکم سے اس کی منشاء کے مطابق وحی کرتا ہے۔
علی۔ بلند مرتبہ۔ سب سے اوپر ۔ عالی شان، برتر۔ علاء سے بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ امام راغب فرماتے ہیں۔ علی کے معنی ہیں رفیع القدر۔ بلند مرتبت۔ یہ علی سے ہے۔ اور جب یہ اللہ تعالیٰ کی صفت واقع ہو جیسے ھو العلی الکبیر تو اس کے معنی ہوں گے وہ ذات پاک جو اس سے کہیں برتر ہے کہ وصف بیان کرنے والوں کا وصف بلکہ عالموں کا علم بھی اس کا احاطہ نہ کرسکے۔
حکیم بروزن فعیلصفت مشبہ کا صیغہ ہے حکمت والا۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں سے ہے کیونکہ اصل حکمت اسی کی حکمت ہے
Ayah 42:52(42:52) وکذلک۔ وائو عاطفہ ۔ کاف تشبیہ کا ہے ذلک اسم اشارہ واحد مذکر ۔ اور اسی طرح سے : ای شل ایحاء نا الی غیرک من الرسل، جس طرح ترے علاوہ دوسرے رسولوں پر ہم نے وحی کی (اسی طرح)
اوحینا۔ ماضی جمع متکلم ایحاء (افعال) مصدر۔ ہم نے وحی نازل کی۔
روحا : ای القران۔ روح چونکہ حرارت جسم کا باعث ہے۔ اسی طرح کتاب اللہ عالم کی حیات ابدیہ کا باعث ہے اس لئے روح کا لفظ اس پر بولا گیا یہ قول حضرت ابن عباس کا ہے بعض کہتے ہیں کہ روح سے مراد جبرائیل ہے :
ما کنت تدری۔ ماضی استمراری کا صیغہ واحد مذکر حاضر : تدری درایۃ (باب ضرب) مصدر سے مضارع کا صیغہ واحد مذکر حاضر ہے بمعنی جاننا۔ تو نہیں جانتا تھا۔
ما الکتب۔ میں ما استفہامیہ ہے کتاب کیا ہے ولا الایمان اور ایمان کیا ہے اس کی تشریح کرتے ہوئے صاحب تفسیر حقانی رقمطراز ہیں :۔
یہ تو ظاہر ہے کہ آپ وحی سے پہلے کتاب یعنی قرآن کو نہ جانتے تھے مگر ایمان کے نہ جاننے میں کلام ہے : کس لئے کہ بعثت اور وحی سے پہلے انبیاء (علیہم السلام) مومن تھے۔ کسی نے شرک نہیں کیا۔ نہ زنا کیا نہ کوئی بدکاری اس کی علماء تفسیر نے تو ج ہیں کی ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ ایمان سے مراد نماز ہے اور ایمان کا اطلاق نماز پر بھی ہوتا ہے جیسا کہ اس آیت میں وما کان اللہ لیضیع ایمانکم (2:143) ای صلاتکم یعنی وحی سے پہلے آپ نماز اور اس کے ارکان وشروط سے واقف نہ تھے نہ شرائع معلوم تھے۔۔
فقیر کہتا ہے کہ گو ایمان کو جانتے تھے مگر وہ جاننا اس جاننے کے مقابلے میں جو وحی کے بعد ہوا کالعدم ہے دیکھو کوئی کامل استاذ جب کسی طالب علم کو جو پہلے بھی کچھ پڑھا تھا تکمیل کے بعد یہ کہہ دیتا ہے کہ آپ پہلے جانتے بھی نہ تھے کہ علم کیا ہے ؟
جعلنہ۔ میں ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع الکتب ہے : نھدی مضارع جمع متکلم ھدی وھدایۃ (باب ضرب) مصدر ہم ہدایت کرتے ہیں۔ ہم راستہ دکھا دیتے ہیں۔ بہ میں ب سببیہ ہے اور ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع الکتاب ہے۔
لتھدی لام تاکید کے لئے ہے تھدی مضارع کا صیغہ واحد مذکر حاضر، بیشک آپ (راہ راست کی ہی) ہدایت کر رہے ہیں۔
Ayah 42:53(42:53) صراط اللہ۔ مضاف مضاف الیہ یہ بدل ہے صراط مستقیم سے اتحاد اعراب بھی اسی وجہ سے ہے۔
الذی لہ ما فی السموت والارض یہ اللہ کی صفت ہے۔ لہ ای خلقا وملکا ازروئے پیدائش و ملکیت اسی کی ہیں یعنی وہی خالق ومالک ہے ما موصولہ ہے اور فی السموت اور فی الارض صلہ ہے، جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب کا خالق اور مالک وہی ہے۔
الا بطور حرف استفتاح استعمال ہوا ہے (یعنی کلام کے شروع کرنے کے لئے) جان لو یاد رکھو۔ نیز ملاحظہ ہو 42:18 متذکرۃ الصدر
تصیر : مضارع واحد مؤنث غائب : صیر (باب ضرب) مصدر بمعنی ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پلٹنا یا پھرنا۔ جب اس کا صلہ الی آتا ہے (جیسا کہ آیت ہذا میں ہے ) تو معنی وہاں تک پہنچنے اور منتہی ہونے کے ہیں افعال ناقصہ میں سے ہے۔ جملہ امور (فیصلہ کے لئے) اللہ ہی کی طرف پھرتے ہیں :
الا الی اللہ تصیر الامور۔ ای ترجع امور جمیع العباد فی یوم القیمۃ الی اللہ تعالی۔ جملہ خلائق کے احوال روز قیامت فیصلہ کے لئے اسی کے حضور پیش ہوں گے۔