Ayah 41:39(41:39) ومن ایتہ : من تبعیضیہ ہے۔
خاشعۃ اسم فاعل واحد مؤنث خشوع مصدر (باب نصر) عاجزی کرنا۔ نگاہ یا آواز کا پست ہونا۔ (زمین کا) خشک کونا۔ بےآب وگیاہ ہونا۔ زمین کا بارش نہ ہونے سے خشک ہوجانا۔ زمین کا بغیر پانی کے خشک اور دبا ہوا ہونا۔
المائ : ای المطر۔ بارش۔
اھتزت : ماضی واحد مؤنث غائب اھتزاز (افتعال) اس نے تروتازہ ہوکر حرکت کی۔ الھز کے معنی کسی چیز کو زور سے ہلانے کے ہیں۔ مثلا قرآن مجید میں ہے وھزی الیک بجذع النخلۃ (19:25) اور کھجور کے تنے کو پکڑ کر اپنی طرف بلاؤ۔
اور باب افتعال سے خوش و شاداب ہوکر ہلنا۔
ربت : ماضی واحد مؤنث غائب ربو مصدر (باب نصر) جس کے معنی بڑھنے بھولنے اور بلند ہونے کے ہیں۔ وہ بڑھی۔ وہ پھولی۔ وہ ابھری۔ اھتزت وربت وہ جھومنے لگتی ہے اور کھل اٹھتی ہے۔
احیاھا : احیا ماضی واحد مذکر غائب احیاء (افعال) مصدر۔ اس نے زندہ کیا اس نے زندہ کردیا۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب (الارض کی طرف راجع ہے) ۔ الذی احیاھا : وہ (قادر مطلق) جس نے بےآب وگیاہ اور بنجر زمین کو زندہ کردیا ۔ زندگی بخشی اور سرسبز و شاداب کردیا۔
لمحی الموتی : لام تاکید کا ہے محی احیاء (افعال) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ مضاف : الموتی میت کی جمع (مردے) مضاف الیہ۔ وہی مردوں کو زندہ کرنے والا ہے۔
قدیر : قدرۃ سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ قدیر اس کو کہتے ہیں جو اپنی حکمت کے مطابق جو چاہے کرے۔ اسی لئے اللہ کے سوا قدیر کسی مخلوق کو نہیں کہہ سکتے۔ البتہ قادر عام ہے۔
Ayah 41:40(41:40) یلحدون : الحاد (افعال) سے مضارع کا صیغہ جمع مذکر غائب وہ کج روی کرتے ہیں۔ اللحد اس گڑھے یا شگاف کو کہتے ہیں جو قبر کی ایک جانب بنایا جاتا ہے (اور اس میں میت کو دفن کیا جاتا ہے) پھر اس کا ستعمال کسی کی طرف جھکنے، غلط نسبت کرنے یا غلط بات کہنے کے لئے بھی ہوتا ہے کیونکہ غلط بات حقیقت سے پھر کر بات ہوتی ہے۔
یا بقول علامہ ابن منظور : الملحد العادل عن الحق : الحاد کرنے والا وہ شخص ہے جو حق سے روگردانی کرے او المدخل فیہ مالیس فیہ : یا اس میں ایسی چیز کو داخل کرے جو اس میں نہیں ہے مثلاً باری تعالیٰ کو ان اوصاف کے ساتھ متصف ماننا جو کہ اس کی شان الوہیت کے منافی ہوں یا صفات الٰہی کی ایسی تاویل کرنا جو اس کی شان کے زیبانہ ہوں مثلا وذروا الذین یلحدون فی اسمائہ (7: 18) اور چھوڑ دو ان لوگوں کو جو اس کے ناموں میں کجی اختیار کرتے ہیں۔
علامہ پانی پتی (رح) رقمطراز ہیں :۔ یلحدون کا لفظ عام ہے تکذیب کرنے والے لغویات بکنے والے اور قرأت قرآن کے وقت سیٹیاں بجانے والے اور تفسیر سلف کے خلاف قرآن کے معنی میں تحریف کرنے والے اور باطل تاویلات کرنے والے سب ہی یلحدون کی ذیل میں آتے ہیں۔
لایخفون علینا : مضارع منفی جمع متکلم خفاء مصدر (باب سمع) پوشیدہ نہیں رہیں گے۔ علینا : علی حرف جر۔ نا ضمیر جمع متکلم مجرور۔ ہم سے۔ ہم پر۔ افمن : استفہام انکاری ہے۔
افمن یلقی فی النار خیر ام من یاتی امنا : یلقی مضارع مجہول واحد مذکر غائب القائ (افعال) مصدر سے وہ ڈالا جائے گا
روح البیان میں ہے :۔ حذف من الاول مقابل الثانی ومن الثانی مقابل الاول والتقدیر افمن یاتی خائفا ویلقی فی النار خیر ام من یاتی امنا ویدخل الجنۃ اور میں ثانی کا مقابل اور ثانی میں اول کا مقابل ۔ محذوف ہے تقدیر کلام ہے افمن ۔۔ الجنۃ۔ کیا وہ شخص جو (قیامت کے دن) خوف کی حالت میں آئے گا اور دوزخ میں ڈالا جائے گا بہتر ہے یا وہ شخص جو بےخوف و خطر آئے گا اور جنت میں داخل ہوجائے گا۔
Ayah 41:41(41:41) الذکر : ای القران۔ ان الذین کفروا بالذکر لما جاء ہم۔
(1) ان حرف مشبہ بالفعل الذین۔ اسم ان ۔ کفروا ۔۔ جاء ہم متعلق اسم۔ خبر ان محذوف ہے (ای معاندون او ھالکون) بیشک وہ لوگ جنہوں نے قرآن حکیم کو ماننے سے انکار کیا جب وہ ان کے پاس آیا محض عناد کرنے والے یا ہلاک ہونے والے ہیں۔
(2) یا یہ جملہ۔ جملہ سابقہ ان الذین یلحدون فی ایتنا کا بدل ہے۔
(3) یا اس کی خبر اولئک ینادون من مکان بعید ہے۔
وانہ لکتب عزیز۔ جملہ حالیہ ہے کتب موصوف عزیز صفت ای کثیر المنافع۔ عدیم النظیر۔
Ayah 41:42(41:42) لا یأتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ۔ باطل اس کے پاس نہیں آسکتا نہ آگے سے اور نہ پیچھے سے۔
اس کی وضاحت مختلف صورتوں میں کی گئی ہے :۔
(1) باطل سے مراد شیطان ہے۔ شیطان انس ہو یا جن قرآن میں کوئی کمی بیشی یا تغیر و تبدل نہیں کرسکتا۔ (قتادہ، سدی)
(2) آگے سے باطل نہ آسکنے کا معنی ہے کمی نہ ہونا۔ اور پیچھے سے باطل نہ آنے کا معنی ہے زیادتی نہ ہونا۔ (زجاج)
(3) کتب سابقہ سے اس کی تکذیب نہیں ہوتی نہ اس کے بعد کوئی ایسی کتاب آئے گی جو قرآن کو باطل اور منسوخ کردے۔ (مقاتل)
(4) جھوٹ نہ اس کی ماضی کی خبروں میں داخ (رح) ہوسکتا ہے اور نہ آئندہ امور میں۔
لایتطرق الیہ الباطل مما فیہ من الاخبار الماضیۃ والامور الاتیۃ (بیضاوی)
تنزیل من حکیم حمید : تنزیل بروزن فعیل مصدر ہے اتارنا۔ تھوڑا تھوڑا کرکے اتارنا۔ اس سے مراد قرآن حکیم ہے کیونکہ یہی وہ مخصوص کتاب ہے جو 23 سال کے عرصہ میں حسب مصلحت و ضرورت تھوری تھوڑی کرکے نازل کی گئی اور باقی کتابیں بیک دفعہ نازل ہوئیں ۔ حکیم بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے بمعنی حکمت والا۔ حمید : ستودہ صفات، تعریف کیا ہوا۔ حمد سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے بروزن فعیل بمعنی مفعول یعنی محمود ہے یہ بھی اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے کیونکہ وہی حقیقی طور پر مستحق حمد ہے۔
(1) یہ خبر ہے جس کا مبتدا محذوف ہے ای ھذا تنزیل من حکیم حمید : یا
(2) یہ کتب کی صفت ہے پہلی صفات عزیز اور لایاتیہ الباطل ۔۔ ولا من خلفہ ہیں۔
Ayah 41:43(41:43) مایقال مضارع منفی مجہول واحد مذکر غائب قول (باب نصر) مصدر سے نہیں کہا جاتا ہے لک آپ کے متعلق ۔ ما یقال لک آپ کے متعلق (اس کے سوا) کچھ نہیں کہا جاتا۔
الا ما قد قیل : الا حرف استثناء ما موصولہ قدقیل ماضی مجہول قریب۔ مگر وہی باتیں جو کہی جا چکی ہیں۔
ما یقال لک ۔۔ من قبلک : آپ کے متعلق کچھ نہیں کہا جاتا ماسوائے ان باتوں کے (جو ایذاء رسانی اور تکذیب کے لئے منکرین حق کہتے رہتے ہیں) جو آپ سے پہلے رسولوں کے متعلق کہی جاتی رہی ہیں۔ یعنی جس طرح پیغمبران سلف کی تکذیب کی گئی اور ان کو اذیت پہنچائی گئی وہی سب آپ کو بھی پیش آرہا ہے تو جس طرح انہوں نے صبر کیا تھا آپ بھی صبر سے کام لیجئے۔
یا اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے :۔ اللہ کی طرف سے آپ کو بھی وہی کہا جا رہا ہے جو آپ سے قبل پیغمبروں کو کہا گیا تھا اور مقولہ (وہ بات جو کہی گئی تھی) یہ ہے جو آگے آرہی ہے یعنی ان ربک لذو مغفرۃ وذوعقاب الیم بیشک تیرا رب بڑا مغفرت والا ہے (اپنے صبر کرنے والے پیغمبروں پر) اور دردناک عذاب دینے والا ہے۔ (ان کے دشمنوں اور مکذبین کو)
عقاب : مار۔ عذاب۔ سزا۔ عقوبت، سزا دینا۔ عاقب یعاقب کا مصدر ہے عقاب کے اصل معنی پیچھے ہو لینے کے ہیں اسی لئے عقاب اس سزا کو کہیں گے جو ارتکاب جرم کے بعد اس کا مستحق ہوجانے پر مرتکب کو دی جاتی ہے۔ عذاب اور عقاب میں فرق یہ ہے کہ عذاب استحقاق اور بغیر استحقاق دونوں طرح ہوسکتا ہے اور عقاب صرف جرم ثابت ہونے کے بعد مستحق کو دیا جاتا ہے۔
الیم : المناک۔ دردناک، دکھ دینے والا۔ بروزن فعیل بمعنی فاعل ہے۔ ذومغفرۃ مضاف مضاف الیہ۔ ذوعقاب الیم ذو مضاف عقاب الیم موصوف صفت مل کر مضاف الیہ ۔ بڑا مغفرت والا۔ اور درد ناک سزا دینے والا۔
Ayah 41:44(41:44) ولو جعلنہ قرانا عجمیا : جملہ شرطیہ ہے لو حرف شرط ہ ضمیر واحد مذکر غائب الذکر (آیۃ 41:41 متذکرۃ الصدر) کی طرف راجع ہے یہ جملہ جواب ہے منکرین کے سوال مقدرہ کا۔ ای ہلا انزل القران بلغۃ العجم یہ قرآن (توریت اور انجیل کی طرح) عجمی زبان میں کیوں نہ نازل کیا گیا۔ جواب میں ارشاد ہوتا ہے :۔
ولوجعلنہ قرانا عجمیا اگر ہم اس کو عجمی (زبان) کا قرآن بناتے لقالوا ۔۔ الآیۃ
لقالوا لولا فصلت ایتہء اعجمی وعربی لام جواب شرط ہے۔ فصلت ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب ایتہ مضاف، مضاف الیہ، ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع قرآن ہے۔ تو وہ لوگ یوں کہتے کہ اس کی آیات صاف (عربی زبان میں) کیوں نہیں بیان کی گئیں۔ ی اعجمی وعربی : ای قرآن اعجمی و رسول عربی (عجیب اچنبھے کی بات ہے کہ) قرآن عجمی (زبان میں) اور نبی عربی۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ :۔
یہ منکرین اعتراض برائے اعتراض کر رہے ہیں اگر یہ فصیح اور بلیغ عربی زبان میں نازل کیا گیا ہے تو یہ معترض ہیں کہ توریت اور انجیل کی طرح عجمی زبان میں کیوں نہ نازل کیا گیا۔ اور اگر یہ عجمی زبان میں نازل کیا جاتا تو پھر یہ اعتراض کرتے کہ بھلا عجمی زبان ہم کیا جانیں ہماری اپنی زبان اتنی فصیح ہے اس زبان میں کیوں نہ اتارا گیا۔ پھر نبی عربی ہے اور عربی زبان کا جاننے والا اور یہ کلام غیر زبان میں نازل کیا گیا ہے۔ عجیب بات ہے۔ خوئے بدر ابہانہ بسیار۔
ھو : ای القران۔
شفاء اس میں تنوین اظہار عظمت کے لئے ہے یعنی بڑی شفا ہے۔ سینہ کی جہالت اور قلب و نظر کے امراض خبیثہ کے لئے۔ نیز جسمانی دکھ درد کے لئے بھی قرآن باعث شفا ہے۔
وقر۔ بوجھ، کانوں کا بھاری پن۔ الوقار کے معنی سنجیدگی اور حلم کے ہیں۔ باوقار آدمی کو وقار کہا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے مالکم لاترجون للّٰہ وقارا (71:13) تم کو کیا ہوا کہ تم خڈا کی عظمت کے قائل نہیں ہو۔
عمی ، عمی یعمی کا مصدر ہے۔ (باب سمع) نابینا ہونا۔ اندھا ہونا۔ کور دل ہونا۔ عمی کا استعمال دونوں آنکھوں کی بینائی جاتے رہنے کے لئے ہوتا ہے نیز بطور استعارہ کور دل ہونے کے لئے بھی آتا ہے عمی اندھے جمع۔ اعمی واحد اندھا۔
اولئک ینادون من مکان بعید : اولئک اسم اشارہ بعید۔ ینادون مضارع مجہول جمع مذکر غائب۔ مناداۃ (مفاعلۃ) مصدر ان کو پکارا جائے گا۔ یہ جملہ بطور تشبیہ کہا گیا ہے جیسے بہت دور سے کسی کو آواز دی جائے تو وہ نہ کچھ سنتا ہے اور نہ سمجھتا ہے یہی حالت کافروں کی تھی کہ قرآن کی آواز ان کو سنائی نہیں دیتی تھی گویا ان کو بہت دور سے پکارا جا رہا تھا۔ اس لئے سنتے نہ تھے۔ کمال مماثلت کی وجہ سے حرف تشبیہ گرا دیا گیا ہے۔
Ayah 41:45(41:45) کلمۃ اس سے مراد وہ حکم ازلی ہے جس کے متعلق فیصلہ ہوچکا کہ وہ قیامت کے روز چکایا جائے گا۔
سبقت ماضی واحد مؤنث غائب۔ پہلے سے طے ہوچکی۔ ولولا کلمۃ سبقت من ربک اور اگر تیرے پروردگار کی طرف سے حکم پہلے ہی طے نہ ہوچکا ہوتا (کہ پورا عذاب آخرت میں ملے گا روز قیامت تک کامل عذاب نہیں آئیگا یا مقررہ مدت سے پہلے عذاب نہیں آئے گا) ۔
لقضی بینھم لام جواب شرط کا ہے قضی فعل ماضی مجہول واحد مذکر غائب تو ان کا فیصلہ (دنیا میں ہی) ہوچکا ہوتا۔ بینھم میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب کفار مکہ کی طرف راجع ہے۔
انھم ای کفار قومک۔ منہ ای من القران۔
شک مریب : موصوف و صفت مریب اسم فاعل واحد مذکر ارابۃ (افعال) مصدر ریب مادہ۔ بےچین بنا دینے والا۔ بےچین کردینے والا۔ ای موجب للقلق والاضطراب۔ بےچین اور مضطرب کردینے والا۔ یعنی یہ لوگ اس کی طرف سے ایسے شک میں پڑے ہوئے ہیں کہ جس نے ان کو تردد میں ڈال رکھا ہے۔
Ayah 41:46(41:46) عمل صالحا : ای عمل عملا صالحا نیک عمل کیا۔
فلنفسہ : ای فلنفسہ نفعہ لا لغیرہ اس کا اجر بھی اسی کے لئے ہے غیر کے لئے نہیں ہے۔
اسائ۔ ماضی واحد مذکر غائب اس نے برا کیا۔ اس نے برائی کی۔ اساء ۃ مصدر (افعال) سے جس کے معنی کسی برے کام کو انجام دینے کے ہیں۔
علیہا۔ اسی پر ۔ یعنی اس کی برائی کی سزا بھی اسی پر ہے۔ غیر پر نہیں ہے۔ ما۔ نافیہ ہے۔
ظلام۔ ظلم کرنے والا۔ ظلم سے مبالغہ کا صیغہ ہے یہ لفظ حق تعالیٰ شانہ کی نسبت سے قرآن مجید میں مندرجہ ذیل مقامات پر آیا ہے
(1) ذلک بما قدمت ایدیکم وان اللّٰہ لیس بظلام للعبید (8:51)
(2) ذلک بما قدمت ایدیکم وان اللّٰہ لیس بظلام للعبید (22:10)
(3) ذلک بما قدمت یداک وان اللّٰہ لیس بظلام للعبید (22:10)
(4) من عمل صالحا فلنفسہ ومن اساء فعلیہا وما ربک بظلام للعبید (41:46)
(5) ما یبدل القول لدی وما انا بظلام للعبید (50:29)
(1) ان آیات مبارکہ مذکورہ بالا میں خداوند تعالیٰ کی ذات عالی سے نفی ظلم کے سلسلہ میں مبالغہ کا صیغہ استعمال ہوا ہے اور ظلام کا لفظ لایا گیا ہے ظلام میں مبالغہ کمیت، مقدار کے اعتبار سے ہے کیفیت (اس کے تھوڑے یا بہت ہونے کی صورت) کے لحاظ سے نہیں ہے۔
اول الذکر کی نفی کی صورت میں مطلب ہوگا کہ وہ ذرا سا بھی ظلم نہیں کرتا۔ ثانی الذکر کی صورت میں مطلب ہوگا کہ زیادہ ظلم نہیں کرتا تھوڑا کرتا ہے۔ جیسا کہ آپ کہیں زید لیس بقتال للرجل لاینفی ھذا الامبالغۃ فی قتلہم فلاینافی انہ ربما قتل بعض الرجال : زید آدمیوں کا قتال (بہت قتل کرنے والا) نہیں ہے اس سے صرف اس کے قتل کے فعل میں مبالغہ کی نفی ہے۔ اس امر کی نفی نہیں کہ بسا اوقات اس نے آدمیوں کو قتل کیا جیسا کہ اوپر مذکور ہے کہ یہاں نفی ظلم کمیت کے لحاظ سے نہ کہ کیفیت کے لحاظ سے لہٰذا مطلب یہ ہوا کہ تیرا پروردگار بندوں پر ذرا بھر بھی ظلم نہیں کرتا۔
(2) نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ یہاں نفی نسبت کی نفی ہے یعنی ظلم کی اللہ کی طرف نسبت کی نفی۔ یعنی وہ ظلم والا ہے ہی نہیں۔ اکثر علماء کا قول ہے کہ یہاں نفی سے مراد نفی نسبۃ الظلم الی اللّٰہ تعالیٰ (اللہ تعالیٰ کی طرف ظلم کی نسبت کی نفی) ہے اور فعال صیغہ بمراد نسبت استعمال ہوتا ہے بدوں یاء نسبتی کے۔ مثلا الخلاصۃ میں ہے۔
ومع فاعل وفعال فعل فی نسب اغنی عن الیاء فقبل
مطلب یہ ہے کہ یہ تینوں صیغے (فاعل جیسے ظالم ۔ فعال جیسے ظلام اور فعل جیسے فرح) یاء نسبت سے مستغنی بمراد نسبت استعمال ہوتے ہیں۔ فعال کے استعمال کے متعلق امری القیس کا شعر ہے ؎
ولیس بذی رمح فیطعننی بہ ولیس بذی سیف ولیس بنبال
لیس بنبال بمعنی ذی نبل ہے جیسا کہ بذی رمح اور لیس بذی سیف سے ظاہر ہے۔
اسی بناء پر محققین نے کہا ہے کہ وما ربک بظلام للعبید سے مراد ہے کہ وما ربک بذی ظلم علی عبادہ اور تیرا پروردگار اپنے بندوں پر ذرہ بھر ظلم نہیں کرتا۔
(3) نسبت کے اعتبار سے ظلام کی مثال عطار ہے جس طرح عطر کی نسبت سے عطار بولتے ہیں۔ اسی طرح ظلم کی نسبت سے ظلام (ذوظلم) نہیں ہے۔
(4) یہ کہ اللہ تعالیٰ ذرہ بھر ظلم نہیں کرنا۔ مندرجہ ذیل آیات کو ملحوظ رکھیں :۔
(1) ان اللّٰہ لا یظلم مثقال ذرۃ (4:40) خدا ذرہ بھر بھی ظلم نہیں کرتا۔ یعنی کسی کی حق تلفی نہیں کرتا۔
(2) ان اللّٰہ لا یظلم الناس شیئا (40:44) بیشک خدا لوگوں پر کچھ ظلم نہیں کرتا۔
(3) ولا یظلم ربک احدا (18:49) اور تیرا پروردگار کسی پر ظلم نہیں کریگا۔ وغیرہ وغیرہ۔
Ayah 41:47(41:47) الیہ : ای الی اللّٰہ : ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع اللہ ہے۔
یرد : مضارع مجہول واحد مذکر غائب رد (باب نصر) مصدر، لوٹایا جائے گا۔ علم الساعۃ مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول مالم یسم فاعلہ فعل یرد کا قیامت کا علم اسی کی طرف (یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف ہی) لوٹایا جائے گا۔ قیامت کے علم کا حوالہ اسی کی طرف دیا جاسکتا ہے۔ ای لا یعلمھا الا اللّٰہ یعنی اللہ عزوجل کے سوا کسی کو اس کا علم نہیں ہے۔ جیسے اور جگہ فرمایا : قل انما علمھا عند ربی لایجلیہا لوقتھا الاھو (7:187) کہہ دو کہ اس کا علم (یعنی قیامت کے آنے کا علم) تو میرے پروردگار ہی کو ہے۔ اس کے وقت پر اسے کوئی نہ ظاہر کرے گا سوائے اس کے۔
وما تخرج من ثمرات من اکمامھا : ما نافیہ ہے من اول زائدہ استغراق کے لئے اور من (ثانی) ابتدائیہ۔
اکمامھا۔ مضاف مضاف الیہ۔ اکمام جمع ہے کم کی۔ کم اس غلاف کو کہتے ہیں جو کلی یا پھل پر لپٹا ہوا ہوتا ہے۔ اس کے غلاف ، گابھا، شگوفہ۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے فیہا فاکھۃ والنخل ذات الاکمام (55:11) اس میں میوے ہیں اور غلاف دار کھجود کے درخت ہیں۔
وما تحمل من انثی : ما نافیہ ہے تحمل مضارع واحد مؤنث غائب۔ حمل وحمل (باب ضرب) مصدر۔ وہ اٹھاتی ہے وہ حاملہ ہوتی ہے۔ من زائدہ ہے۔ انثی عورت ، مادہ۔
ولا تضیع۔ واؤ عاطفہ : لاتضع مضارع منفی واحد مؤنث غائب۔ وہ نہیں جنتی ہے۔ وضع (باب فتح) مصدر سے۔ وضع کے معنی رکھ دینا۔ ڈال دینا۔ کے بھی آتے ہیں۔ مثلا ان تضعوا اسلحتکم (4:102) کہ تم ڈال دو ۔ یا رکھ دو ۔ یا اتار کر رکھ دو ۔
الا بعلمہ : الا حرف استثناء ب ۔ بائے ملابست یا مصاحبت ہے مگر کہ (یہ سب کچھ) اس کے علم کے ساتھ ہوتا ہے ۔ یعنی اس کے علم میں ہوتا ہے۔ ترجمہ آیت کا ہوگا :۔ اور نہ تو پھل گابھوں سے نکلتے ہیں اور نہ کوئی مادہ حامل ہوتی ہے اور نہ جنتی ہے مگر اس کے علم سے
یوم ینادیہم : یوم بوجہ ظرفیت منصوب ہے یا بوجہ مفعول فعل محذوف ۔ اذکر کا۔ یا بوجہ مفعول فیہ۔ ینادی مضارع واحد مذکر غائب ۔ مناواۃ (مفاعلۃ) وہ پکارے گا وہ ندا کرے گا۔ ندی مادہ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب اور جس روز وہ ان کو پکارے گا۔ یعنی قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ مشرکوں کو پکارے گا۔
این شرکای : این کہاں۔ ظرف مکانی۔ شرکای مضاف مضاف الیہ میرے شریک ۔ یعنی جن کو تم نے دنیا میں اپنا معبود بنا رکھا تھا اور خدائی میں مرا شریک بنا رکھا تھا۔
اذنک : اذنا۔ ماضی جمع متکلم ایذان (افعال) مصدر۔ ک ضمیر واحد مذکر حاضر۔ ہم نے تجھ کو کہہ سنایا۔ ہم نے تجھ سے عرض کردیا ہے۔ اذن اطلاع دینا کہہ سنانا۔ اعلان کرنا۔ اسی سے ہے مؤذن اطلاع دینے والا۔ پکارنے والا۔
مامنا من شھید : ما نافیہ ہے۔ منا مرکب ہے من اور نا سے جار مجرور۔ شہید کے متعدد معنی ہوسکتے ہیں۔ گواہ۔ شاہد۔ نگران۔ احوال کہنے وال۔ اقرار کرنے والا۔ اور مفسرین کے اس لحاظ سے کئی اقول ہیں :۔ مثلا
(1) ہم میں سے کوئی شرک کی شہادت دینے والا نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب عذاب اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھیں گے تو شرک سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔ (تفسیر مظہری)
(2) ہم میں سے کوئی بھی ان شریکوں کا مشاہدہ نہیں کرتا۔ سب غائب ہوگئے ہیں کوئی سامنے نظر نہیں آتا۔ (مظہری و ضیاء القرآن)
(3) ہم میں سے کوئی بھی اس کا مدعی نہیں ہے کہ کوئی تیرا شریک ہے ۔ (ماجدی)
Ayah 41:48(41:48) وضل عنھم ما کانوا یدعون من قبل ضل ماضی واحد مذکر غائب (بمعنی جمع مستعمل ہے) ضلال (باب ضرب) مصدر۔ کھوگیا۔ گم ہوگیا۔ بھٹک گیا۔ راہ سے دور جاپڑا۔ ماکانوا یدعون ما موصول ۔ کانوا یدعون (جن کی وہ دنیا میں بطور معبود) پوجا کیا کرتے تھے۔ ای شرکاء یہ فاعل ہوا فعل ضل کا اور عنھم میں ضمیر جمع مذکر غائب ان مشرکین کی طرف راجع ہے جن سے اللہ تعالیٰ سوال کرے گا کہ وہ تمہارے معبودان جن کو تم میرا شریک ٹھہراتے تھے کہاں ہیں ؟
ترجمہ آیت : اور جن کی یہ پہلے (دنیا میں ) پوجا کیا کرتے تھے وہ سب غائب ہوں گے کوئی معبود دکھائی نہ دے گا۔ یہ جملہ حالیہ ہے
ظنوا۔ ماضی جمع مذکر غائب ظن (باب نصر) گمان کرنا۔ خیال کرنا۔ یقین کرنا۔ یہاں مراد ایقنوا ہے۔ انہوں نے یقین کیا۔ وہ یقین کرلیں گے۔ ان کو یقین ہوجائے گا۔ گمان کے معنی میں قرآن مجید میں ہے ان نظن الا ظنا وما نحن بمستیقین (45:32) اور ہم اس کو محض گمان خیال کرتے ہیں اور ہم اس پر یقین کرنے والے نہیں ہیں۔
محیص : حاص یحیص (اجوف یائی) سے مصدر میمی ہے اور اس کے معنی ہیں سختی۔ چناچہ اسی سے ہے حاص عن الحق : وہ حق سے اعراض کرکے سختی کی طرف لوٹ گیا۔ یہاں بطور ظرف مکان مجرور مستعمل ہے بمعنی پناہ گاہ۔ لوٹنے کی جگہ وظنوا مالہم من محیص اور ان کو یقین ہوجائے گا کہ اب بھاگ جانے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔
Ayah 41:49(41:49) لایسئم : مضارع منفی واحد مذکر غائب۔ سأمۃ سأم (باب سمع) مصدر سے۔ تھکنا۔ اکتا جانا۔ نہیں تھکتا۔ س ء م مادہ۔
دعاء الخیر : خیر کی دعا۔ مال و رزق میں وسعت اور صحت و تندرستی اور خیر و عافیت کی طلب۔
ان مسہ الشر : ان شرطیہ ۔ مس ماضی واحد مذکر غائب (باب نصر) سے مس مصدر۔ چھونا ۔ الشر۔ سختی و غربت۔ ان مسہ الشر شرط۔ فیئوس قنوط : جواب شرط۔ یئوس یاس (باب سمع) صفت مشبہ کا صیغہ ہے مایوس۔ ناامید۔ باب استفعال سے بھی اسی معنی میں مستعمل ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے : حتی اذاستیئس الرسل (12:110) یہاں تک کہ جب پیغمبر ناامید ہوگئے ی ء س مادہ
قنوط : بالکل ناامید۔ مایوس ۔ قنوط (باب نصر) مصدر سے مبالغہ کا صیغہ ہے قانط اسم فاعل واحد مذکر ای فھو یؤس قنوط تو وہ اللہ کی رحمت اور راحت سے مایوس و ناامید ہوجاتا ہے۔
Ayah 41:50(41:50) لئن لام تاکید کے لئے ان شرطیہ۔
اذقنہ رحمۃ منا : اذقنا ماضی جمع متکلم اذاقۃ (باب افعال) مصدر سے ۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب ہم اس کو چکھاتے ہیں۔ ہم نے اسکو چکھایا۔ رحمۃ مفعول ثانی اذقنا کا منا متعلق رحمۃ اور (جب) ہم اس کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں۔
بعد ضراء مضاف الیہ۔ الضراء تکلیف۔ سختی، تنگی۔ مرض۔ مصیبت۔ اسم ہے۔ بوجہ غیر منصرف ہونے کے بجائے مکسور کے مفتوح آیا ہے۔
مستہ : مست ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب اس نے چھوا۔ مس (باب نصر) مصدر ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جسے اس نے چھوا تھا ۔ جو اس کو آئی تھی۔ جملہ لئن اذقنہ ۔۔ مستہ شرط ہے اور اگلا جملہ جواب شرط ہے۔
لیقولن لام جوان شرط کے لئے ہے۔ یقولن مضارع معروف بانون تاکید ثقیلہ صیغہ واحد مذکر غائب تو ضرور بالضرور اس کا قول یہ ہوتا ہے ھذا الی : ھذا ای ھذہ الرحمۃ یہ رحمت۔ یہ تنگی کے بعد فراخی ، بیماری کے بعد یہ صحت، عسرت کے بعد یہ یسرت، لی میں لام استحقاق کا ہے ی ضمیر واحد متکلم کے لئے یعنی یہ میرا حق تھا۔ میں اس کا ہی مستحق تھا۔ (کہ مجھے اس دکھ کے بعد یہ سکھ میسر ہو)
لیقولن ھذا لی جملہ جواب شرط کا ہے۔
وما اظن الساعۃ قائمۃ : ما اظن مضارع منفی واحد متکلم میں گمان نہیں رکھتا۔ میرا خیال نہیں ہے۔ الساعۃ (القیامۃ مفعول قائمۃ کھڑی ہونے والی قیام (باب نصر) ق د م مادہ۔ خبر۔ ترجمہ : میں خیال نہیں کرتا کہ قیامت برپا ہوگی۔
ولئن زجعت الی ربی جملہ شرط ہے ان لی عندہ للحسنی جواب شرط حسنی اچھی، عمدہ ۔ بروزن فعلی حسن سے افعل التفضیل کا صیغہ واحد مؤنث ۔ ای وعلی فرض صحۃ ماقالت الرسل من البعث ان لی عند اللّٰہ الجنۃ اور اگر قیامت کے متعلق رسولوں کی بات سچ بھی ہوگئی تو مجھے وہاں بھی اللہ کے ہاں جنت ہی ملے گے۔
مولانا عبد الماجد دریا بادی رقمطراز ہیں :۔ ان لی عندہ للحسنی ان خود کلمہ تاکید کا ہے پھر لی کی تقدیم نے اس تاکید کو مضاعف کردیا ہے پھر للحسنی میں ل الگ تاکید کا ہے۔ یعنی ترجمہ ہوگا :۔ تو میرے لئے اس کے پاس ضرورہی بہتری ہی ہے۔
فلننبئن فاء عاطفہ ہے۔ لننبئن مضارع کا صیغہ جمع متکلم با تاکید لام ونون ثقیلہ۔ تنبئۃ باب تفعیل ۔ ہم ضرور ہی بتائیں گے۔ ہم ضرور ہی آگاہ کریں گے۔
الذین کفروا موصول و صلہ مل کر ننبئن کا مفعول۔
ولنذیقنھم : واؤ عاطفہ۔ لنذیقن مضارع معروف بلام تاکید و نون ثقیلہ صیغہ جمع متکلم۔ اذاقۃ (افعال) سے مصدر ہم ضرور ضرور چکھائیں گے۔ ہم ضرور ضرور مار دیں گے۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔
عذاب غلیظ۔ موصوف و صفت شدید عذاب : فھو کو ثاق غلیظ لایمکن قطعہ۔ سخت بندھن کی طرح کی اس کو ٹوٹنا ممکن ہی نہ ہوگا۔ چناچہ خدا کے عذاب اور بندھن کے متعلق قرآن مجید میں ہے :۔
فیومئذ لایعذب عذابہ احد ولا یوثق وثاقۃ احد (89:25، 26) تو اس دن کہ کوئی خدا کے عذاب کی طرح کا کوئی (کسی کو) عذاب دے گا اور نہ کوئی ویسا جکڑنا جکڑے گا۔
Ayah 41:51(41:51) اعرض : ماضی واحد مذکر غائب اعراض (افعال) مصدر اس نے منہ پھیرلیا۔ اس نے کنارہ کیا۔ العرض (کسی چیز کی چوڑائی) یہ الطول کا ضد ہے اصل میں اس کا استعمال اجسام کے لئے ہوتا ہے اس کے بعد غیر اجسام کے لئے بھی بولا جاتا ہے۔ مثلا اسی آیت میں آگے آتا ہے فذو دعاء عریض : تو لمبی چوڑی دعائیں کرنے لگتا ہے۔ اور عرض خاص کر ایک جانب اور کنارہ کو کہتے ہیں جیسے عرض الشیء اس کی ایک جانت ظاہر ہوگئی۔ یہ لفظ متعدد المعانی ہے اور قرآن مجید میں بھی مختلف مقامات پر مختلف معانی میں استعمال ہوا ہے۔ مثلاً
(1) بمعنی پیش کرنا۔ جیسے ثم عرضہم علی الملئکۃ (2:31) پھر اس نے ان کو فرشتوں کے سامنے رکھا۔
(2) بمعنی آڑ جیسے تجعلوا اللّٰہ عرضۃ لایمانکم (2:224) اور خدا کے نام کو اپنی قسموں کے لئے آڑ مت بناؤ۔ اور
(3) بمعنی عرض طول کی ضد جیسے وجنۃ عرضھا السموت والارض (3:132) اور بہشت جس کا عرض وسماء کے برابر ہے وغیرہ
نا ماضی واحد مذکر غائب ۔ نأی ینأی نای (باب فتح) مادہ ن و ی مصدر دور ہونا۔ آیت ہذا میں یہ متعدی بالباء ہے اس لئے ترجمہ ہوگا۔ اس نے اپنے پہلو کو دور کر لیان۔ اس نے پہلو پھیرلیا۔ اس نے روگردانی کی۔
بعض قرأتوں میں ناء بجانبہ آیا ہے اس صورت میں اس کا مادہ ن و ء ہوگا۔ اور ناء ینوء (باب نصر) سے مصدر۔ نوء و تنواء ہوگا۔ جس کے معنی مشقت و تکلیف سے اٹھنا کے ہیں۔ اور باء کے تعدیہ کے ساتھ بمعنی بوجھ کو مشکل سے اٹھانا۔
المفردات میں ہے :۔ ایک قرأت میں ناء بروزن ناع ہے جس کے معنی پہلو اٹھانا ہے اور یہ تکبر سے کنایہ ہے۔
مصدر تنواء سے قرآن مجید میں آیا ہے :۔ ما ان مفاتحہ لتنوء بالعصبۃ اولی القوۃ (28:76) کہ ان کی کنجیاں ایک طاقتور جماعت کو اٹھانا مشکل ہوتیں۔
جانبہ : مضاف مضاف الیہ۔ اس کا بازو۔ اس کی جانب۔ اس کا پہلو۔ یہی آیت 17:83 میں آئی ہے۔
فذودعاء عریض :جواب شرط کے لئے ہے (ذو بمعنی والا۔ صاحب۔ اسم ہے) محاورہ عرب میں عریض بمعنی کثیر مستعمل ہے۔ اس میں کثرت و وسعت کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ کیونکہ طول نام ہے سب سے بڑی مسافت و امتداد کا اور جب دوسرا امتداد یعنی عرض بھی اتنا ہی ہو (یعنی شکل مرجع بن جائے) تو پھر اس کی وسعت کا کیا کہنا۔ اسی لئے جنت کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا عرضھا السموت والارض۔
Ayahs 41:52–53(41:52) قل : ای قل لہم یا محمد ﷺ ۔ ارایتم کیا تم نے دیکھا عربی محاورہ میں اس کو بمعنی اخبرونی (بھلا مجھے بتاؤ تو سہی) استعمال کیا جاتا ہے۔
ان کان من عند اللہ ای کان القران من عند اللّٰہ۔ اگر یہ قرآن منزل من اللہ ہو۔
ثم کفرتم بہ میں ثم تراخی فی الرتبی ہے اور اس کی اس عظمت و مرتبت کے باوجود ترم اس سے انکار کرو۔
اضل۔ افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ بہت نہکا ہوا۔ بہت بےراہ۔ زیادہ گمراہ۔ ضلال (باب ضرب و سمع) مصدر۔
شقاق بعید۔ موصوف و صفت۔ شقاق۔ ضد۔ مخالفت۔ اپنے دوست کی شق چھوڑ کر دوسری شق میں ہوجانا۔ اور شق طرف کو کہتے ہیں۔ چناچہ شاعر کہتا ہے ؎
اذا ما بکی من خلفھا انحرفت لہ یشق وشق عندنا لم یحول
(جب بچہ اس کی پشت پر سے روتا ہے تو وہ ایک جانب سے اس کی طرف مڑجاتی ہے اور ایک طرف ہماری جانب رہتی ہے جو کہ نہیں بدلتی)
شقاق بعید۔ بہت دور تک کی مخالفت۔ بہت گہری مخالفت۔ ترجمہ کچھ یوں ہوگا :۔ بھلا بتاؤ تو سہی ۔ اگر یہ قرآن فی الواقع منجانب اللہ ہو اور اس کی اس عظمت و حقیقت کے باوجود تم اس کے منکر ہو۔ تو اتنی دور تک کی مخالفت رکھنے والے سے زیادہ گمراہ اور بےراہ کون ہوسکتا ہے۔ یعنی اس صورت میں تم سے بڑھ کر کوئی گمراہ ہو ہی نہیں سکتا۔
Ayah 41:54(41:54) الا۔ حرف تنبیہ واستفتاح (یعنی کلام کے شروع کرنے کے لئے) ہے اور ہمزہ استفہام اور لا نافیہ سے مرکب نہیں بلکہ بسیط ہے۔ ہاں یہ تنبیہ استفتاح ، عرض اور تحضیض میں مشترک ہے۔ جب یہ تنبیہ اور استفتاح کے لئے استعمال ہوتا ہے تو جملہ اسمیہ اور فعلیہ دونوں پر داخل ہوتا ہے۔ اور جب عرض اور تحضیض کے لئے آتا ہے تو صرف افعال کے ساتھ مخصوص ہوتا ہے خواہ وہ افعال لفظا مذکور ہوں یا تقدیرا۔ (لغات القرآن)
الا : خبر دار ہوجاؤ۔ جان لو۔ سن رکھو۔
مریۃ۔ اسم مصدر۔ تردد۔ یہ شک اور ریب سے خاص ہے گویا جس شک سے تردد پیدا ہوجائے اسے مریۃ کہا جاتا ہے۔ م ر ی مادہ (باب افتعال) الاممراء اور باب مفاعلہ المماراۃ کے معنی ایسے کام میں جھگڑا کرنے کے ہیں جس کے تسلیم کرنے میں تردد ہو مثلاً قرآن مجید میں ہے قول الحق الذی فیہ یمترون (19:33) یہ سچی بات ہے جس میں لوگ شک کرتے ہیں۔ اور افتمارونہ علی ما یری (53:12) کیا جو کچھ وہ دیکھتے ہیں تم اس میں ان سے جھگڑتے ہو۔
لقاء ربھم : ربھم مضاف مضاف الیہ مل کر لقاء (مضاف کا) مضاف الیہ پیشی۔ اپنے رب سے ملاقات کرنا۔ اپنے روردگار کے روبرو ہونا۔
لقاء (ب فاعلہ سے) حاصل مصدر ہے۔
محیط : اسم فاعل مرفوع۔ ہر طرف سے گرفت رکھنے والا۔ ایسا قابو یافتہ کہ اس سے چھوٹ جانا ناممکن ہے ۔ احاطہ کرنے والا۔ گھیرنے والا۔ گھیرے میں لے لینے والا۔ پورا پورا قابو میں رکھنے والا۔ ہر طرف سے گھیر لینے والا۔ احاطۃ (باب افعال) مصدر۔