Ayahs 35:41–42(35:41) یمسک مضارع واحد مذکر غائب امساک (افعال) مصدر۔ وہ روکتا ہے وہ تھامتا ہے۔ وہ روکے ہوئے ہے، وہ تھامے ہوئے ہے۔
ان تزولا۔ ان مصدریہ ہے تزولا مضارع تثنیہ مؤنث غائب زوال مصدر (باب نصر) کسی چیز کا اپنا صحیح رخ چھوڑ کر ایک جانب مائل ہوجانا۔ اپنی جگہ سے ہٹ جانا۔ کہ وہ دونوں ( سموت والارض) اپنے مقام سے ہٹ جائیں۔ تزولا اصل میں تزولان تھا۔ ان کے عمل سے نون اعرابی ساقط ہوگیا ۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے لتزول منہ الجبال (14:46) کہ اس سے پہاڑ ہی اپنی جگہ سے ٹل جائیں ۔
زالتا۔ ماضی تثنیہ مؤنث غائب زوال مصدر سے ان زالتا۔ اگر وہ دونوں اپنی جگہ سے ہٹ گئے۔ یا ہٹ جائیں یا ہٹنے لگیں۔
ان امسکھما۔ ان نافیہ ہے ای ما امسکھما (کوئی) ان دونوں کو (پھر) تھام نہیں سکتا۔ سنبھالا دے نہیں سکتا۔ من احد۔ میں من زائدہ ہے نفی کی تاکید کے لئے لایا گیا ہے یعنی کوئی بھی۔
بعدہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب یا اللہ کی طرف راجع ہے یا الزوال کی طرف۔ ای بعد زوالھما۔ (ان دونوں یعنی زمین و آسمان کے ) اپنی سے ہٹ جانے کے بعد یا امسا کہ تعالیٰ کی طرف راجع ہے یعنی خدا وند تعالیٰ کے تھامنے کے علاوہ اور کوئی اسے تھام نہیں سکے گا۔ بعد کا لفظ یہاں بجز یا علاوہ کے معنی میں آیا ہے۔
حلیما۔ حلم والا۔ بردبار ۔ تحمل والا۔ حلم سے جس کے معنی جوش غضب سے نفس اور طبیعت کو روکنے کے ہیں بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ حلیما وہ حلیم ہے کیونکہ شرک جیسی کھلی ہوئی اور انتہائی گستاخی پر بھی فورا سزا نہیں دیتا۔ غفورا کیونکہ اگر یہ اپنی شرارتوں سے باز آجائیں تو اب بھی وہ معاف کرنے کو تیار ہے ۔ حلیما غفورا منصوب بوجہ خبر کان کے ہے۔
Ayah 35:43(35: 43) استکبارا۔ اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔
(1) یہ مفعول لہ ہے ای لا جل الاستکبار اپنے آپ کو بڑا سمجھنے کی وجہ سے۔
(2) یہ حال ہے ای مستکبرین۔ اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوئے ۔ درآں حالیکہ وہ اپنے آپ کو بڑا سمجھتے تھے (3) یہ نفورا کا بدل ہے
(4) یہ نفورا پر عطف ہے یعنی فلما جاء ہم نذیر ما زادہم الا نفورا وما زادہم الا استکبارا فی الارض وما زادوا الا مکر السیء یعنی جب وہ نذیر تشریف لایا تو اس کی اطاعت و فرمانبرداری کی بجائے وہ اس سے نفرت کرنے لگے اس کی آمد کے بعد ان کے غرور اور سرکشی میں اضافہ ہوتا گیا اور انہوں نے اس کے خلاف بڑھ چڑھ کر گھنائونی سازشیں شروع کردیں۔ (ضیاء القرآن) ۔
ومکر السیئ۔ اس کا عطف استکبارا پر ہے اس کی بھی وہی صورتیں ہیں جو اوپر استکبارا کی بیان ہوئیں۔ اس کی اصل ترکیب یہ تھی وان مکروا السیئ۔ کیونکہ السیء موصوف مقدر کی صفت ہے پھر مصدر کو ان اور فعل کے قائم مقام لایا گیا اور اس کی صفت کی طرف اضافت کی گئی ۔ مکر۔ بوجوہ بالا منصوب ہے۔ مکر السیء ۔ قبیح چالیں۔ بری تدبیریں۔
لا یحیق۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب۔ حیوق۔ حیقان مصادر (باب ضرب ) نہیں گھیرتا ہے۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے وحاق بہم ما کانوا بہ یستھزء ون۔ (46:26) اور جس چیز سے وہ استہزا کیا کرتے تھے اس نے ان کو آگھیرا۔ ولا یحیق المکر السیء الا باھلہ اور گھنائونی سازش بجز سازشیوں کے اور کسی کو نہیں گھیرتی۔ یعنی بری چال کا وبال اس کے چلنے والے پر ہی پڑتا ہے۔
ھل ینظرون۔ ھل نفی کے معنی میں ہے جیسا کہ آیت ھل جزاء الاحسان الا الاحسان (55:60) میں ہے ینظرون بمعنی ینتظرون۔ یتوقعون۔ یہ انتظار نہیں کر رہے یا توقع نہیں رکھتے ۔ مگر سنۃ الاولین۔ پہلے والوں کے دستور کا۔ یعنی ان کے ساتھ بھی وہی سلوک ہو جو ان سے قبل ان لوگوں کے ساتھ ہوا تھا جو ان کے جیسے افعال کے مرتکب ہوئے تھے۔ عذاب الٰہی نے ان کو ہلاک و برباد کردیا تھا۔
سنۃ۔ طریقہ جاریہ۔ دستور ۔ رسم۔ اس کی جمع سنن ہے۔ لن تجد۔ مضارع نفی تاکید بلن واحد مذکر حاضر۔ تو نہیں پائے گا۔
تحویلا۔ تبدیلی۔ تغیر۔ تفاوت، بروزن تفعیل مصدر ہے۔
Ayah 35:44(35:44) اولم یسیروا میں ہمزہ استفہامیہ ہے وائو عاطفہ ہے تقدیر کلام ہے اقعدوا ولم یسیروا۔ مضارع نفی حجد بلم (مضارع مجزوم بوجہ عمل لم) کیا وہ زمین میں چلے پھر نہیں۔ یہاں ضمیر فاعل مشرکین مکہ کی طرف راجع ہے اور زمین سے مراد ممالک شام، یمن عراق، وغیرہ ہیں۔ جہاں ان کا اکثر گذر ہوا کرتا تھا۔” ینظروا فاء ناصبہ ہے مضارع پر بہ تقدیر ان داخل ہوا کرتی ہے “۔
عاقبۃ۔ انجام۔ الذین من قبلہم جو (لوگ) ان سے پہلے ہوئے ہیں مراد قوم عاد، ثمود، اہل بابل وکلدانیہ۔ قبطیان مصر وغیرہ ہیں۔ ھم ضمیر کا مرجع مشرکین مکہ ہیں۔
ما کان اللہ۔ اللہ ایسا نہیں ہے۔ ای لیس من شانہ۔ اس کی شان کے شایاں نہیں ہے۔
لیعجزہ۔ لام تاکید نفی کے لئے ہے۔ یعجز مضارع واحد مذکر غائب ضمیر فاعل کا مرجع شیء ہے ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع اللہ ہے اللہ کی شان کے شایان نہیں ہے کہ اسے کوئی عاجز کر دے۔ یعنی اس کو کوئی کام اپنی مرضی و حکمت کے مطابق کرنے سے معذور کر دے۔ من شیء کوئی چیز بھی۔ ای شیئ۔ من استغراق کے لئے ہے۔ اللہ تعالیٰ کی شان کے شایان نہیں کہ کوئی بھی چیز آسمانوں میں یا زمین میں اسے ہرا سکے۔
Ayah 35:45(35:45) لو یؤاخذ۔ مضارع واحد مذکر غائب، مواخذۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ اگر وہ گرفت کرے۔ اگر وہ پکڑے۔ وہ داروگیر کرے
بما۔ باء سببیہ ہے اور ما موصولہ ہے۔ کسبوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ انہوں نے کمایا۔ انہوں نے (اچھا یا برا کام) کیا۔ یہاں برے کا ہی کے متعلق آیا ہے۔ علی ظھرھا۔ ای علی ظھر الارض۔ زمین کی پشت پر۔ زمین پر۔
فائدہ : مولانا عبد الماجد دریا بادی صاحب تفسیر الماجدی رقمطراز ہیں :۔
ولو۔۔ دابۃ۔ یعنی یہ تو مشیت تکوینی سرے سے ہے ہی نہیں کہ معاصی وذنوب پر گرفت فی الفور اور اسی دنیا ہی میں ہوجایا کرے۔ یہ اگر ہوتا ہے تو کوئی کافر زندہ ہی نہ رہنے پاتا۔ اور اہل ایمان اس لئے اٹھا لئے جاتے کہ نظام عالم مجموعہ کے ساتھ ہی وابستہ ہے اور جب انسان نہ رہتے تو کوئی حیوان بھی نہ باقی رہنے دیا جاتا کہ حیوانات کی حیثیت تو محض انسان کے خادم کی ہے۔
یؤخرہم مضارع واحد مذکر غائب تاخیر (تفعیل) مصدر۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ وہ ان کو مہلت دیتا ہے۔ وہ ان کو ڈھیل دیتا ہے، یا دے رہا ہے۔
اجل مسمی موصوف وصفت، مقررہ وقت، متعین وقت۔ اجلہم مضاف مضاف الیہ۔ اجل جیسا کہ ابھی اوپر بیان ہوچکا ہے مدت مقررہ کو کہتے ہیں۔ اسی اس سے مراد کبھی موت بھی لی جاتی ہے اور کبھی قیامت دونوں کا وقت مقرر ہے۔