Ayah 34:39(34:39) ما انفقتم۔ میں ما شرطیہ ہے من شیء میں من بیانیہ ہے اور جملہ فھو یخلفہ جواب شرط۔ اور جو چیز تم خرچ کرتے ہو وہ اس کی جگہ اور دے دیتا ہے ۔ یخلفہ۔ مضارع واحد مذکر غائب اخلاف (افعال) مصدر۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب وہ اس کو بدل دے گا۔ وہ اس کا معاوضہ دے گا۔
Ayah 34:40(34:40) یوم۔ ای اذکر یوم۔ فعل مضمر کا مفعول ہے یاد کر وہ دن۔ یحشرہم۔ مضارع واحد مذکر غائب حشر مصدر (باب نصر) وہ جمع کرے گا ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب یہاں ہم ضمیر کا مرجع المستکبرین۔ المستضعفین اور ما کانوا یعبدون من دون اللہ ہے۔ یعنی متکبر لوگ (جو لوگوں کر گمراہ کیا کرتے تھے) ادنی لوگ (جو اپنی کم فہمی یا کمزوری سے بڑوں کہے پر گمراہ ہوگئے تھے ) اور وہ جن کی اللہ کے سوا یہ دونوں فریق پوجا کیا کرتے تھے ۔ (اللہ تعالیٰ ان سب کو اکٹھا کردیں گے ) ۔
اھؤلاء میں ہمزہ استفہام کا ہے۔ ھؤلاء اسم اشارہ جمع یہ سب لوگ۔ وہی لوگ جن کے لئے آیت سابقہ میں ہم آیا ہے۔
ایاکم۔ تم سب کو۔ جمع مذکر حاضر کی ضمیر منصوب منفصل۔ یہاں خطاب فرشتوں سے ہے۔ (اے فرشتو) کیا یہ سب لوگ (متکبرین ۔ ادنی۔ اور وہ جن کی اللہ کے سوا پہلے دونوں فریق عبادت کیا کرتے تھے) تمہاری پوجا کیا کرتے تھے ؟ کانوا یعبدون۔ میں ضمیر فاعل جمع مذکر ھؤلاء کی طرف راجع ہے۔
Ayah 34:41(34:41) ولینا۔ ولی۔ صفت مشبہ (ولایۃ سے بروزن فعیل) مضاف نا ضمیر جمع متکلم مضاف الیہ۔ ہمارا حامی۔ ہمارا محافظ۔ ہمارا کارساز۔ ہمارا دوست ۔ انت ولینا۔ ہمارا مالک تو تو ہی ہے۔
من دونہم ای بغیرہم یعنی ہمارا مالک تو تو ہے وہ نہیں۔ ای انت الذی نوالیہ من دونہم لاموالاۃ بیننا و بینہم۔ تو ہی ہے جس سے ہماری موانست ہے ان کے اور ہمارے درمیان کوئی دوستانہ نہیں ہے۔ دون مضاف ہم جمع مذکر غائب مضاف الیہ ان کے بغیر ۔ ان کے سوائے ان کے ورے۔
بل۔ حرف اضراب ہے۔ ما قبل سے اعراض اور مابعد کی تصحیح کے لئے ہے۔ یعنی یہ لوگ ہماری پوجا نہیں کیا کرتے تھے بلکہ یہ تو جنوں کی عبادت کیا کرتے تھے۔ اکثرہم بہم مؤمنون۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع المشرکین ہیں جن کا اوپر ذکر ہوا۔ اور ہم ضمیر کا مرجع الجن ہے۔
Ayah 34:42(34:42) فالیوم۔ میںترتیب کے لئے ہے الیوم سے مراد یوم قیامت ہے۔ یوم بوجہ مفعول فیہ ہونے کے منصوب ہے۔ فالیوم سے قبل یقال لہم یا قال اللہ مصدر ہے۔
Ayah 34:43(34:43) ما ھذا میں ما نافیہ ہے نہیں ہے یہ (شخص) ۔ ان یصدکم ان صدریہ ہے۔ یصد مضارع منصوب (بوجہ عمل ان ، واحد مذکر غائب کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر کہ روک دے تمہیں۔ عما۔ ان سے جنہیں۔ یہ مرکب ہے عن اور ما سے۔
افک۔ جھوٹ۔ بہتان، کسی شی کا اس کی اصل جانب سے منہ پھرنے کا نام افک ہے۔ پس جو بات اپنی اصلی صورت سے پھر گئی اس کو افک کہیں گے جھوٹ اور بہتان میں چونکہ یہ صفت بدرجہ تم موجود ہے اس لئے ان کو افک کہا گیا ہے۔
مفتری۔ اسم مفعول افتراء (افتعال) مصدر۔ فری مادہ۔ خود ساختہ۔ خود گھڑا ہوا۔ للحق۔ ای للقران۔ ان ھذا میں ان نافیہ ہے اور ھذا سے مراد یا الحق ہے یا القرآن۔
Ayah 34:44(34:44) یعنی اس سے پہلے نہ کوئی کتاب خدا کی طرف سے ایسی آئی ہے اور نہ کوئی رسول ایسا آیا ہے جس نے آکر ان کو یہ تعلیم دی ہو کہ یہ اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کی پرستش کیا کریں اس لئے یہ لوگ کسی علم کی بنا پر نہیں بلکہ سر اسر جہالت کی بنا پر قرآن اور محمد ﷺ کی دعوت توحید کا انکار کر رہے ہیں اس کے لئے ان کے پاس کوئی سند نہیں ہے۔ (تفہیم القرآن) ۔
آیت ھذا میں ہم۔ ہم کی ضمیریں بنی اسمعیل یا قوم عرب کی جانب راجع ہیں کہ انہیں میں نبوت پہلی بار آئی تھی ( تفسیر الماجدی )
یدرسونھا۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ درس ودراسۃ (باب نصر ) ھا ضمیر واحد مؤنث غائب (اس کا مرجع کتب ہے وہ ان کتب کو پڑھتے پڑھاتے رہے ہوں۔
Ayah 34:45(34:45) من قبلہم ۔ میں ضمیر ھم کا مرجع وہی لوگ ہیں جن کے لئے ہم، ہم کا آیۃ ما قبل میں استعمال ہے یعنی بنی اسمعیل یا قوم عرب۔ ما اتینہم میں ضمیر ہم کا مرجع الذین من قبلہم ہے۔ ما بلغوا۔ میں ما نافیہ ہے بلغوا ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ (ضمیر فاعل کا مرجع وہی قوم عرب ہے) بلوغ مصدر وہ نہیں پہنچے۔
معشار۔ اسم دسواں حصہ۔ عشر وعشرۃ بمعنی دس۔ جاء وا عشاری۔ وہ دس دس کی ٹولیاں بنا کر آئے۔ عشیرۃ دس کا جتھہ چونکہ دس کی تعداد کو کامل مانا جاتا ہے لہٰذا عشیرۃ بمعنی کامل خاندان۔ خاندانوں کا آپس میں برتائو۔ معشر بڑا گروہ۔
مطلب یہ ہے کہ ان اہل عرب یا کفار مکہ سے پہلے گذرے ہوئے لوگوں نے بھی (انبیا کو) جھٹلایا۔ اور یہ وہ لو گت تھے۔ جن کو ہم نے وہ کچھ دیا ہوا تھا۔ (از قسم جاہ و جلال، مال واولاد) کہ یہ کفار مکہ یا قوم عرب تو اس دئیے ہوئے کے دسویں حصہ کو بھی نہیں پہنچے پس انہوں نے (جب ) میرے پیغمبروں کی تکذیب کی تو کتنا ہولناک تھا میرا عذاب (جو ان پر آیا) مطلب یہ کہ ان کفار مکہ کی ان کے سامنے تو کوئی حیثیت ہی نہیں ہے۔
نکیر۔ اصل میں نکیری تھا۔ میرا عذاب۔ الانکار سے جو عرفان کی ضد ہے اس کے اصل معنی انسان کے دل پر کسی ایسی چیز کے وارد ہونے کے ہیں جسے وہ تصور میں نہ لاسکتا ہو۔ لہٰذا یہ ایک درجہ کی جہالت ہوتی ہے۔ قرآن مجید میں ہے یعرفون نعمۃ اللہ ثم ینکرونھا (16:83) یہ لوگ اللہ کی نعمتوں کو پہچانتے ہیں اور پھر ان سے انجان ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح نکرہ ضد میں معرفہ، اور تنکیر کی ضد میں تعریف ہے۔
اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہ پہچاننا یا تجاہل برتنا کسی کو سخت، دشوار، ہیبت ناک، مصیبت میں ڈال دینا ہے لہٰذا نکیر بمعنی ہلاکت، عذاب ۔ تدمیر ہے۔ پس فکیف کان نکیر کا معنی ہوگا۔ پس کیسا رہا میرا عذاب۔
انہی معنوں میں اور جگہ ارشاد ہے۔ وکذب موسیٰ فاملیت للکفرین ثم اخذتہم فکیف کان نکیر (22:44) اور (حضرت) موسیٰ بھی جھٹلائے گئے سو (پہلے تو) میں نے کافروں کو مہلت دی پھر میں نے انہیں پکڑ لیا سو (دیکھو) میرا عذاب کیسا ہوا۔
المنکر اس فعل کو کہتے ہیں جسے عقول سلیمہ قبیح خیال کریں یا عقل کو تو اس کے حسن وقبح پر توقف ہو مگر شریعت نے اس کے قبیح ہونے کا حکم دیا ہو۔ الامرون بالمعروف والناھون عن المنکر (9:112) نیک کاموں کا امر کرنے والے اور بری باتوں سے منع کر والے۔ باب تفعیل سے بےپہچان کردینے کے معنی میں بھی آیا ہے ۔ مثلاً نکروا لھا عرشھا (27:41) اس کے تخت کی صورت بدل دو
Ayah 34:46(34:46) اعظکم۔ مضارع واحد متکلم وعظ (باب ضرب) مصدر سے بمعنی نصیحت کرنا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر میں تم کو نصیحت کرتا ہوں۔ بواحدۃ۔ واحدۃ اسم فاعل ۔ واحد مؤنث ای خصلۃ واحدۃ۔ ایک بات ایک عادت، ان تقوموا للہ اس خصلت واحدہ کا عطف بیان ہے اور اس کی وضاحت کرتا ہے۔
ان تقوموا۔ میں ان مصدریہ ہے تقوموا اصل تقومون تھا ان کے آنے سے نون اعرابی گرگیا۔ مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ قیام (باب نصر) مصدر سے کہ تم کھڑے ہو۔ قیام کرو۔ یا قائم رہو۔ یہاں کھڑا ہونے سے مراد پائوں پر کھڑا ہونا نہیں ہے بلکہ کسی کام میں اخلاص اور توجہ سے پوری کوشش کرنا مراد ہے۔
للہ۔ خالصا لوجہ اللہ۔ خالصۃ اللہ کے لئے۔ مثنی۔ مثانی۔ کی جمع۔ دو ۔ دو ۔ فرادی۔ فرد کی جمع غیر قیاسی۔ اکیلے۔ ایک ایک : تتفکروا۔ فعل امر جمع مذکر حاضر۔ تفکر (تفعل) مصدر سے۔ تم سوچو اور غور کرو۔
قل انما اعظکم بواحدۃ ان تقوموا للہ مثنی وفرادی ثم تتفکروا (اے پیغمبر ﷺ ان سے ) کہئے ۔ میں تمہیں ایک بات سمجھاتا ہوں ! (وہ یہ ) کہ تم (ضد اور تعصب سے پاک ہو کر اخلاص کے ساتھ محض) اللہ تعالیٰ کے لئے فردا فردا یا مل کر (دو ، دو یا زیادہ کی صورت میں) اٹھ کھڑے ہو اور پھر (اس امر میں) غوروخوض کرو (کہ تمہارے صاحب میں آخر کونسی بات ہے جو جنوں کی ہو)
ما بصاحبکم من جنۃ۔ میں ما استفہامیہ ہے بمعنی ھل۔ اور بصاحبکم میں با بمعنی فی ہے من بیانیہ ہے صاحبکم مضاف مضاف الیہ تمہارا ساتھی۔ تمہارا صاحب مراد نبی کریم ﷺ ۔ جنۃ بمعنی جنون۔ دیوانگی۔ ما نافیہ بھی ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا۔ (پھر تم کو معلوم ہوجائے گا کہ) تمہارے ساتھی میں جنون کا شائبہ تک نہیں ہے۔ ان ھو میں ان نافیہ ہے۔
بین یدی عذاب شدید۔ بین مضاف یدی مضاف الیہ۔ بین کا اضافت جب ایدی کی طرف تو اس کے معنی سامنے اور قریب کے ہوتے ہیں۔ مثلاً ثم لاتینہم من بین ایدیہم (7:17) پھر میں آئوں گا ان کے سامنے سے مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف عذاب شدید موصوف صفت مل کر مضاف الیہ۔ پس بین یدی عذاب شدید کا ترجمہ ہوگا۔ عذاب شدید سے پہلے (جب کہ عذاب شدید سے مراد قیامت کے دن کا عذاب ہے) ۔
Ayah 34:47(34:47) ما سالتکم۔ ما بمعی مھما۔ جو کچھ۔ من اجر۔ ای من اجر علی تبلیغ الرسالۃ۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے پیغام کو تم تک پہنچانے کا معاوضہ میں نے مانگا ہے فھو لکم وہ تمہارا ہی رہا۔ وہ تم اپنے پاس ہی رکھو، مراد یہاں نفی السوال ہے یعنی میں تو اس کا تم سے اجر مانگتا ہی نہیں۔
ان اجری۔ میں ان نافیہ ہے اجری مضاف مضاف الیہ۔ میرا اجر۔ میرا معاوضہ یہ جملہ بھی تاکید نفی السوال کے لئے آیا ہے۔
Ayah 34:48(34:48) یقذف۔ مضارع واحد مذکر غائب قذف (ضرب) مصدر۔ جس کے معنی دور پھینکنے کے ہیں۔ جیسے فاقذ فیہ فی الیم (20: 39) پھر اس (صندوق) کو دریا میں ڈال دو یا جیسے سچ کو جھوٹ پر پھینک مارنے کے معنی میں قرآن مجید میں آیا ہے بل نقذف بالحق علی الباطل۔ (21:18) بلکہ ہم سچ کو جھوٹ پر پھینک مارتے ہیں۔
رمی کی طرح قذف کو بطور استعارہ گالی دینے یا عیب لگانے کے معنی میں استعمال کرتے ہیں لیکن قرآن مجید میں اس کا استعمال نہیں آیا۔ اگرچہ رمی سے ان ہی معنوں میں قرآن مجید میں ہے۔ والذین یرمون المحصنت ثم لم یاتوا باربعۃ شھداء فاجلدوہم ثمانین جلدۃ (24:4) اور جو لوگ تہمت لگائیں پاک دامن عورتوں کو اور پھر چار گواہ نہ لاسکیں تو انہیں اسی درے لگائو۔
یہاں آیت ہذا میں قذف بمعنی ڈالنا (القاء کرنا) اور اتارنا کے معنی میں آیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ (اوپر سے ) حق اتارتا ہے (اس صورت میں با زائدہ ہے) لیکن اس کا استعمال بمعنی پھینک مارنا میں بھی جائز ہے اس صورت میں مقذوف محذوف ہے۔ عبارت یوں ہوگی :
قل ان ربی یقذف بالحق علی الباطل : تحقیق میرا رب باطل پر حق سے ضرب لگاتا ہے۔ جیسا کہ اور جگہ ارشاد ہے۔ بل نقذف بالحق علی الباطل فیدمغہ (21:18) ہم تو حق کو باطل کے اوپر پھینک مارتے ہیں سو وہ اس کا بھیجا نکال دیتا ہے۔ اس صورت میں باء زائدہ نہیں ہے۔
علام الغیوب۔ مضاف مضاف الیہ۔ علام علم سے فعال کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ ہے۔ ایسا زبردست جاننے والا کہ جس سے کوئی شی بھی پوشیدہ نہ رہ سکے ۔ یہ مبتدا محذوف کی خبر ہے ای ھو سبحنہ علام الغیوب۔ یا یقذف کی ضمیر فاعل کا بدل ہے۔
Ayah 34:49(34:49) ما یبدی الباطل وما یعید۔ اس کے لفظی معنی ہیں :۔ ” باطل نہ تو کوئی نیا کام شروع کرسکتا ہے اور نہ کسی کام کا اعادہ کرسکتا ہے “۔ عربی محاورہ میں جب کسی چیز کی ہلاکت یا بربادی کا ذکر کرنا ہو تو انہی الفاظ سے کرتے ہیں فصار قولہم ما یبدی ولا یعید مثلاً فی الھلاک یعنی ان کا یہ قول ما یبدی وما یعید ہلاکت کی مثال بن گیا۔
اسی طرح جب کوئی شخص بےبس اور کمزور ہوجائے تو اس وقت بھی کہتے ہیں فلان ما یبدی وما یعید۔
لہٰذا ما یبدی الباطل وما یعید : کا مطلب ہوا کہ باطل اب بےبس اور کمزور ہوچکا ہے اب یہ نہ تو اسلام کو کوئی گزند پہنچا سکتا ہے اور نہ مسلمانوں کا کوئی نقصان کرسکتا ہے۔
Ayah 34:50(34:50) ان ضللت فانما اضل علی نفسی وان اھتدیت فبما یوحی الی ربی۔ ان شرطیہ ہے اور فانما میں فا جواب شرط کے لئے ہے اسی طرح فبما میں فا جواب شرط کے لئے با سببیہ اور ما موصولہ یا مصدریہ ہے۔
ای ان ضللت فانما اضل بسبب نفسی ووبالہ علی نفسی وان اھتدیت فانما اھتدی لنفسی بھدایۃ اللہ تعالیٰ و توفیقہ۔ ترجمہ :۔ اگر ، میں گمراہ ہوگیا تو اس کا نقصان مجھے ہی ہوگا۔ اور اگر میں ہدایت پر ہوں تو یہ ہدایت و توفیق منجانب اللہ ہے (بوجہ اس وحی کے جو میرا رب مجھ پر نازل فرماتا ہے ) اور اس کا صلہ بھی میری جان کے لئے ہے۔
مراد اس سے یہ ہے کہ اپنے زعم میں تم جو مجھے گمراہ سمجھتے ہو اگر بالفرض اسے مان بھی لیا جائے تو اس کا نقصان مجھے ہے تم اس کا فکر کیوں کرتے ہو۔ اور اگر میں راہ راست پر ہوں تو یہ توفیق اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اس کا سبب وہ وحی ہے جو میرا رب مجھ پر نازل فرمتا ہے۔ یعنی یہ قرآن مجید اور بطور استدلال معکوس : یہ قرآن فی الحقیقت منزل من اللہ ہے اور نتیجۃ میں راہ راست پر ہوں لہٰذا تم پر عائد ہوتا ہے کہ تم میری بات مانو اور راہ راست اختیار کرو !
Ayah 34:51(34:51) لو تری میں لو حرف تمنا ہے۔ کاش تو دیکھے۔ فزعوا۔ ماضی جمع مذکر غائب فزع مصدر۔ یہاں ماضی بمعنی مستقبل استعمال ہوا ہے (جب) یہ لوگ گھبرائے ہوئے ہوں گے۔ گھبراہٹ میں ہوں گے۔ ڈر اور کوکی حالت میں ہوں گے۔ نیز ملاحظہ ہو (34:23)
فوت۔ اسم فعل۔ آگے بڑھ جانا۔ گرفت سے باہر ہوجانا۔ الفوت (باب نصر) ہاتھ سے نکل جانا۔ کسی چیز کا انسان سے اتنی دور ہوجانا کہ اس کا ھاصل کرلینا اس کے لئے دشوار ہو مثلاً قرآن مجید میں ہے وان فاتکم شییء من ازواجکم الی الکفار (60: 11) اگر تمہاری عورتوں میں سے کوئی عورت تمہارے ہاتھ سے نکل کر کافروں کے پاس چلی جائے ۔ دوسری آیت : لکیلا تاسوا علی ما فاتکم۔ تا کہ تم غم نہ کیا کرو اس پر جو تمہارے ہاتھ سے نکل جاوے۔
بددعا کے وقت کہتے ہیں جعل اللہ رزقہ فوت فمہ اللہ اس کا رزق اس کے منہ کی دسترس سے باہر کردے۔ یعنی رزق سامنے نظر آئے لیکن منہ تک نہ پہنچ سکے ! فات یفوت (نصر) فوت آدمی کے مرجانے کو بھی کہتے ہیں کیونکہ وہ بھی دوسروں کی دسترس سے باہر ہوجاتا ہے۔ فلا فوت۔ ای فلا فوت لہم ان کے لئے فرار (ممکن) نہ ہوگا۔ اولا یفوتون اللہ عزوجل بھرب۔ وہ بھاگ کر اللہ کی دسترس سے باہر نہیں جاسکیں گے۔
واخذوا۔ وائو عاطفہ ہے اخذوا ماضی (بمعنی مستقبل) جمع مذکر غائب۔ وہ پکڑے جائیں گے۔
من مکان قریب۔ من موقف الحساب مکان قریب یعنی جائے حساب سے (ہی ) پکڑ لئے جائیں گے۔ (یعنی جہاں بوقت حساب وہ عذاب کو سامنے دیکھیں گے ڈر اور خوف سے گھبرائے ہوں گے اور کوئی راہ فرار نہ پائیں گے اور وہیں موقع پر ہی دھر لئے جائیں گے) ۔ واخذوا کا عطف فزعوا پر ہے۔ ای فزعوا و اخذوا فلا فوت۔
Ayah 34:52(34:52) امنا بہ۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہے (ای باللہ عزوجل۔ روح ) یا حضور نبی کریم ﷺ کی طرف راجع ہے (ای بمحمد ﷺ ۔ کشاف)
انی ۔ کیونکر۔ کیسے۔ اسم ظرف، زمان ومکان (دونوں کے لئے) یہاں استفہامیہ ہے اور کیف کے معنی میں آیا ہے۔ مکان بعید موصوف وصفت۔ دور جگہ ۔ میدان حشر۔ یعنی دنیا سے نکل کر اب یہ لوگ دور اس میدان حشر میں آپہنچے ہیں اب اتنی دور آکر وہ ایمان کیسے حاصل کرسکتے ہیں جب کہ بہت دور پیچھے دنیا میں وہ موقع کو ہاتھ سے گنوا چکے ہیں ان لہم تناول الایمان فی الاخرۃ وقد کفروا بہ فی الدنیا۔ یعنی آج قیامت کے دن وہ ایمان کس طرح پاسکتے ہیں جبکہ وہ دنیا میں اس کا انکار کرتے رہے۔
التناوش بروزن تفاعل مصدر ہے ۔ لینا۔ ن و ش مادہ کے حروف ہیں النوش کے معنی کسی چیز کے پکڑنے کے ہیں ۔ شاعر نے کہا ہے :۔
تنوش البریز حیث طاب اھتصارھا
وہ وہاں سے پیلوکھاتی ہے جہاں سے خوب جھکی ہوئی ہوں۔
بریز پیلو کے بیر اھتصار کے معنی مائل کرنے اور جھکانے کے ہیں۔ انی لہم التناوش کے معنی ہوئے۔ (اب) ان کا ہاتھ ایمان کو لینے کے لئے کیونکر پہنچ سکتا ہے۔ یعنی وہ دور جگہ سے ایمان کو کیسے حاصل کرسکتے ہیں جب کہ انہوں نے قریب جگہ سے حاصل نہ کیا۔ جس وقت کہ ایمان لانا اور اس سے انتفاع کرنا ان کے اختیار میں تھا (یعنی دنیا میں) ۔
وقد کفروا بہ وائو حالیہ ہے اور قد بمعنی تحقیق ہے اور بہ میں ضمیر واحد مذکر کا مرجع وہی ہے جو اوپر امنا بہ میں مذکور ہوا ہے (آیۃ ہذا) ۔
Ayahs 34:53–54(34:53) یقذفون بالغیب۔ یقذفون کے لئے ملاحظہ ہو آیۃ (34:48) ۔ جب کوئی شخص لا یعنی باتیں کرتا ہے اور ہر زہ سرائی کرتا ہے تو عرب کہتے ہیں ھو یقذف بالغیب وہ اندھیرے میں تیر چلانا ہے۔ اس جملہ کا عطف وقد کفروا پر ہے۔ اور جملہ حالیہ ہے۔
من مکان بعید دور جگہ سے یعنی بغیر کسی عقلی دلیل کے اپنے کفریہ عقائد پر اڑے رہے کبھی توحید کا انکار کیا اور کبھی قرآن کو من گھڑت افسانہ قرار دیا۔ ملائکہ کو خدا کا شریک گردانا۔ رسول خدا ﷺ کی شان میں گستاخیاں کیں۔ کبھی ان کو ساحر کبھی شاعر اور کبھی مجنون کہا۔ اور کبھی بھی نزدیک سے رسول اللہ ﷺ کے پیغام پر غوروخوض نہ کیا۔ حقیقت کو جاننے سے دور ہی رہے۔ تو ایسی صورت میں جب کہ آدمی بھی دور ہو اور اندھیرے میں تیر چلائے تو تیر کب صحیح نشانہ پر لگتا ہے۔
ما یشتھون۔ ما موصولہ ہے۔ یشتھون مضارع معروف صیغہ جمع مذکر غائب اشتھاء (افتعال) مصدر۔ جو وہ چاہیں گے۔
یعنی ان کے درمیان اور جو وہ چاہیں گے ایک آڑ کھڑی کردی جائے گی۔ وہ کیا چاہیں گے اس سے رجوع الی الدنیا، قبول ایمان و توبہ، نجات من العذاب وغیرہ مراد ہوسکتے ہیں۔
اشیاعہم مضاف مضاف الیہ۔ اشیاع جمع الجمع ہے شیع کی اور شیع جمع ہے شیعۃ کی یعنی ان کے عقیدہ کے دوسرے کفار یعنی ان کے ساتھ بھی کیا گیا تھا۔
شک مریب۔ موصوف، صفت۔ ایسا شک جو (1) متشککین کو پیہم تذبذب اور تردد میں رکھے۔ اور ان کو کبھی سکون و اطمینان نصیب نہ ہو۔ (2) ایسا شدید نوعیت کا شک کہ ان کے باعث دوسرے لوگ بھی شک میں مبتلا ہوتے چلے گئے ۔
مریب ارابۃ سے (باب افعال) مصدر۔ اسم فاعل واحد مذکر کا صیغہ ہے یہاں شک کی صفت میں آیا ہے۔