30. Surah Ar-Room

الرومThe Romans · 60 ayahsانوار البیان

Ayah 30:41

ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 30:41 in the Quran reader

خشکی اور تری میں لوگوں کے اعمال کے سبب فساد پھیل گیا ہے تاکہ خدا انکو انکے بعض عملوں کا مزہ چکھائے عجب نہیں کہ وہ باز آجائیں

(30:41) ظھر۔ ماضی واحد مذکر غائب ۔ ظاہر ہوا۔ آشکار ہوا۔ غالب ہوا۔ پھیل پڑا ۔ ظھور (باب فتح) مصدر سے۔ بما۔ الباء سببیہ ہے ما موصولہ ہے۔ لیذیقھم۔ لام تعلیل کا ہے۔ لوگوں کی بداعمالی کے نتیجے میں خشکی اور تری کا نظام بگڑ گیا۔ اور یہ بگاڑ اپنے اثرات میں امن و سکون کو ختم کرنے کا باعث بنا اور اللہ تعالیٰ نے ان کا امن و سکون اس واسطے ختم کردیا کہ وہ لوگوں کو ان کے بعض اعمال کے نتائج کا مزہ چکھائے (کیونکہ جملہ اعمال کی سز اوجزاء کا دن روز قیامت ہے) یذیق مضارع واحد مذکر غائب اذافۃ (افعال) مصدر۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب (الناس کی رعایت سے یہاں صیغہ جمع آیا ہے۔ وہ ان کو مزہ چکھائے) ۔ لعلہم یرجعون۔ تاکہ وہ لوگ باز آجائیں۔
Ayahs 30:42–43

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلُ١ؕ كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّشْرِكِیْنَ Open ayah 30:42 in the Quran reader

کہہ دو کہ ملک میں چلو پھرو اور دیکھو کہ جو لوگ (تم سے) پہلے ہوئے ہیں ان کا انجام کیسا ہوا ہے ان میں زیادہ تر مشرک ہی تھے

فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ الْقَیِّمِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ یَوْمَئِذٍ یَّصَّدَّعُوْنَ Open ayah 30:43 in the Quran reader

تو اس روز سے پہلے جو خدا کی طرف سے آ کر رہے گا اور رک نہیں سکے گا دین (کے راستے) پر سیدھا منہ کئے چلے چلو اس روز (سب) لوگ منتشر ہوجائیں گے

(30:43) فاقم وجھل للدین القیم ملاحظہ ہو 30:30 مرد۔ مصدر میمی۔ رد مادہ۔ لوٹنا۔ پھر آنا۔ من اللہ۔ یہ یا تو یاتی سے متعلق ہے یا مرد سے۔ پہلی صورت میں ترجمہ ہوگا :۔ بیشتر اس کے کہ اللہ کی طرف سے وہ دن آجائے جو لوٹنے والا نہیں ۔ دوسری صورت میں : قبل اس کے کہ اللہ کی طرف سے وہ دن آجائے کہ جس کے لئے پھر اللہ کی طرف سے ہٹنا نہ ہوگا۔ یصدعون۔ مضارع جمع مذکر غائب تصدع (تفعل) مصدر سے۔ اصل میں یہ یتصدعون تھا۔ تاء کو ص سے بدلا بھر ص کو ص میں مدغم کیا۔ وہ منتشر ہوجائیں گے۔ ای فریق فی الجنۃ وفریق فی السعیر۔ اہل جنت کا فریق الگ دوزخ کا فریق الگ۔ اس کا مادہ صدع ہے جس کے معنی پھاڑ دینے کے ہیں۔ تصدع القوم قوم کا جدا جدا ہوجانا۔ مختلف ٹولیوں میں بٹ جانا۔ یمھدون ۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ مھد (فتح) مصدر۔ وہ درستی کرتے ہیں۔ وہ ہموار کرتے ہیں۔ وہ بچھاتے ہیں۔ المھد گہوارہ جو بچہ کے لئے تیار کیا جائے۔ جیسے من کان فی المھد صبیا۔ (19:29) جو ابھی گود کا بچہ ہے۔ فلا نفسھم یمھدون۔ اپنی استراحت کے لئے فرش بچھا رہے ہیں۔ وہ اپنے راحت کا فرش ہموار کر رہے ہیں۔ علامہ قرطبی لکھتے ہیں :۔ بچے کے پن گھوڑے کو مھد اور بستر کو مھاد کہتے ہیں۔
Ayahs 30:44–45

مَنْ كَفَرَ فَعَلَیْهِ كُفْرُهٗ١ۚ وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِاَنْفُسِهِمْ یَمْهَدُوْنَۙ Open ayah 30:44 in the Quran reader

جس شخص نے کفر کیا تو اسکے کفر کا ضرر اسی کو ہے اور جس نے نیک عمل کئے تو ایسے لوگ اپنے ہی لئے آرام گاہ درست کرتے ہیں

لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 30:45 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو خدا اپنے فضل سے بدلا دے گا بیشک وہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا

(30:45) لیجزی۔ میں لام تعلیل کا ہے اور جملہ لیجزی الذین امنوا وعملوا الصلحت من فضلہ۔ علت ہے یمھدون کی یا یصدعون کی۔
Ayah 30:46

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ یُّرْسِلَ الرِّیَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّ لِیُذِیْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 30:46 in the Quran reader

اور اسی کی نشانیوں میں سے ہے کہ ہواؤں کو بھیجتا ہے کہ خوشخبری دیتی ہیں تاکہ تم کو اپنی رحمت کے مزے چکھائے اور تاکہ اس کے حکم سے کشتیاں چلیں اور تاکہ تم اس کے فضل سے (روزی) طلب کرو اور عجب نہیں تم شکر کرو

(30:46) مبشرات۔ اسم فاعل جمع مؤنث تبشیر (تفعیل) مصدر۔ خوشخبری دینے والیاں َ بارش کی خوشخبری دینے والی ٹھنڈی ہوائیں جو بارش ہونے سے کچھ پہلے چلتی اور پیام رحمت لاتی ہیں۔ ولیذیقکم۔ واؤ عطف کا ہے اس کا عطف علت محذوف پر ہے جس پر مبشرات کے معنی دلالت کرتے ہیں۔ عبارت یوں ہوگی۔ لیبشرکم ولیذیقکم۔ لام تعلیل کا ہے تاکہ وہ تمہیں (اپنی رحمت کا مزہ) چکھائے بارش برساکر۔ یذیقکم مضارع واحد مذکر غائب منصوب بوجہ لام تعلیل۔ ولتجری الفلک۔ اور تاکہ کشتیاں چلیں۔ اس میں بھی واؤ عاطفہ ہے اور معطوف علیہ یا تو لیذیقکم ہے۔ تجری واحد مؤنث غائب۔ منصوب بوجہ لام تعلیل۔ جری ضرب سے مصدر۔ ولتبتغوا۔ اور تاکہ تم ڈھونڈو۔ تم تلاش کرو۔ ابتغاء (افتعال) مصدر۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ اصل میں تبتغون تھا۔ نون اعرابی بوجہ عمل ان گرگیا۔ جو لام تعلیل کے بعد مقدر ہے واؤ عاطفہ ہے اور اس کا معطوف علیہ لتجری ہے یا اس کا عطف حسب بالا لیبشرکم ہے اور تاکہ تم تلاش کرو۔ ولعلکم تشکرون ۔ اور تاکہ تم شکر ادا کرو۔
Ayah 30:47

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَانْتَقَمْنَا مِنَ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا١ؕ وَ كَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 30:47 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے بھی پیغمبر ان کی قوم کی طرف بھیجے تو وہ ان کے پاس نشانیاں لے کر آئے سو جو لوگ نافرمانی کرتے تھے ہم نے ان سے بدلا لیکر چھوڑا اور مومنوں کی مدد ہم پر لازم تھی

(30:47) انتقمنا۔ ماضی جمع متکلم انتقام (افعال) مصدر۔ نقم مادہ۔ نقم و نقم (باب سمع و ضرب) کسی چیز کو برا سمجھنا۔ یہ کبھی زبان کے ساتھ عیب لگانے اور کبھی سزا دینے پر بولا جاتا ہے قرآن مجید میں ہے وما نقموا منہم الا ان منوا باللہ (85:8) وہ ان کی کسی چیز کو برا نہیں سمجھتے تھے سوائے اس کے کہ وہ خدا پر ایمان لائے ہوئے تھے۔ یعنی ان کو مومنوں کی یہی بات بری لگتی تھی کہ وہ اللہ پر ایمان لائے ہوئے تھے۔ باب افتعال سے بمعنی سزا دینا مثلا فانتقمنا منہم فاغرقنھم فی الیم (7:36) تو ہم نے ان سے بدلہ لیکر ہی چھوڑا کہ ان کو دریا میں غرق کردیا۔ آیۃ ہذا میں بھی بمعنی سزا دینے کے ہے۔ فانتقمنا من الذین اجرموا۔ پھر ہم نے ان لوگوں سے انتقام لے لیا جنہوں نے جرم کئے۔ وکان حقا علینا نصر المؤمنین۔ نصر المؤمنین اسم کان حقا علینا خبرہ اور اہل ایمان کی مدد کرنا ہمارا ذمہ تھا۔
Ayah 30:48

اَللّٰهُ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَیَبْسُطُهٗ فِی السَّمَآءِ كَیْفَ یَشَآءُ وَ یَجْعَلُهٗ كِسَفًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ فَاِذَاۤ اَصَابَ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اِذَا هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَۚ Open ayah 30:48 in the Quran reader

خدا ہی تو ہے جو ہواؤں کو چلاتا ہے تو وہ بادل کو ابھارتی ہیں پھر خدا اس کو جس طرح چاہتا ہے آسمان میں پھیلا دیتا اور تہ بہ تہ کردیتا ہے پھر تم دیکھتے ہو کہ اس کے بیچ میں سے مینہ نکلنے لگتا ہے پھر جب وہ اپنے بندوں میں جن پر چاہتا ہے اسے برسا دیتا ہے تو وہ خوش ہوجاتے ہیں

(30:48) تثیر۔ مضارع واحد مؤنث غائب اثارہ (افعال) سے۔ ثار یثور تورا (باب نصر) ثار الغبار وثار السحاب کے معنی غبار یا بادل کے اوپر اٹھنے اور پھیلنے کے ہیں۔ باب افعال سے فعل متعدی اوپر اٹھانا فتثیر سحابا۔ پس (وہ ہوائیں) بادل کو اوپر اٹھاتی ہیں۔ اور زمین جوتنے کے معنی میں بھی آتا ہے کیونکہ زمین جب جوتی جاتی ہے تو ابھرتی ہے اوپر اٹھتی ہے۔ اور بیل کو الثور بھی اسی لئے کہتے ہیں کہ اس سے زمین جوتی جاتی ہے یہ اصل میں مصدر بمعنی فاعل ہے جیسے ضیف بمعنی ضائف استعمال ہوتا ہے۔ یبسطہ۔ مضارع واحد مذکر غائب بسط مصدر (باب نصر) کشادہ کرتا ہے، فراخ کرتا ہے ۔ وسیع کرتا ہے۔ پھیلاتا ہے ۔ ضمیر فاعل کا مرجع اللہ ہے۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب سحاب کے لئے۔ یعنی اللہ تعالیٰ بادل کو (آسمان میں) پھیلاتا ہے۔ کسفا : کسفۃ کی جمع اکساف وکسوف۔ ٹکڑے ۔ (اور اسے ٹکڑے ٹکڑے کردیتا ہے) ۔ الودق بعض نے کہا ہے کہ بارش میں جو غبار سا نظر آتا ہے اسے ودق کہا جاتا ہے اور کبھی اس سے مراد بارش بھی ہوتی ہے فتری الودق یخرج من خللہ پھر تو بارش کو دیکھتا ہے کہ اس کے اندر سے نکلتی ہے۔ یہی جملہ انہی معنوں میں (24:43) میں استعمال ہوا ہے خللہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ خلال بمعنی درمیان۔ وسط۔ بیچ۔ جمع خلل۔ دو چیزوں کے درمیانی لشادگی۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب سحاب کے لئے ہے۔ یعنی بادل میں سے بادل کے اندر سے۔ اصاب بہ : اصاب یصیب اصابۃ (افعال) پہنچما۔ پالینا۔ بہ میں ب تعدیہ کی ہے۔ پہنچانا۔ ہ ضمیر کا مرجع الودق ہے اصاب بہ ماضی بمعنی حال ہے وہ اسے پہنچاتا ہے یعنی پھر جب وہ (اللہ تعالی) اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس بارش کو پہنچا دیتا ہے (اپنے بندوں کے علاوہ میں) الصواب (صوب مادہ) صحیح بات کو کہتے ہیں۔ اس کا استعمال دو طرح سے ہوتا ہے :۔ (1) کسی چیز کی ذات کے اعتبار سے ۔ یعنی جب وہ چیز اپنی ذات کے اعتبار سے قابل تعریف ہو اور عقل و شریعت کی رو سے پسندیدہ ہو مثلا الکریم صواب (کرم و بخشش صواب ہے) (2) قصد کرنے والے کے لحاظ سے۔ مثلا اصابہ بالسھم۔ اس نے اسے ٹھیک نشانہ پر تیر مارا اور مصیبۃ اس تیر کو کہتے ہیں جو کہ ٹھیک نشانہ پر جاکر بیٹھ جائے۔ اس کے بعد عرف عام میں ہر حادثہ اور واقعہ کے ساتھ یہ لفظ مخصوص ہوگیا۔ صوب بارش کو بھی کہتے ہیں اس سے مبالغہ کا صیغہ صیب استعمال ہوتا ہے۔ مثلا او کصیب من السماء (2:18) یا ان کی مثال اس بارش کی سی ہے جو آسمان سے برس رہی ہو۔ یا فیصیب بہ من یشاء ویصرفہ عن من یشاء (24:43) تو جس پر چاہتا ہے اسے برسا دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے پھیر دیتا ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ جب اصاب کا لفظ خیر کے معنی میں استعمال ہوتا ہے تو یہ صوب بمعنی بارش سے مشتق ہوتا ہے اور جب برے معنی میں آتا ہے تو یہ معنی اصاب السھم (تیر نشانہ پر ٹھیک جالگا) کے محاورہ سے ماخوذ ہے۔ مگر ان دونوں معنی کی اصل ایک ہی ہے۔ اذا ہم یستبشرون : اذا مفاجاتیہ ہے۔ تو لو، یکدم ۔ یستبشرون مضارع کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے استبشار مصدر باب استفعال خوش ہونا۔ تولو وہ خوشی سے کھل اٹھتے ہیں ۔ وہ یکدم خوش ہوجاتے ہیں۔
Ayah 30:49

وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْهِمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمُبْلِسِیْنَ Open ayah 30:49 in the Quran reader

اور پیشتر تو وہ مینہ کے اترنے سے پہلے ناامید ہو رہے تھے

(30:49) وان کانوا من قبل ان ینزل علیہم من قبلہ لمبلسین واؤ حالیہ ہے اور جملہ حالیہ ہے ان ان سے مخففہ ہے ان ینزل علیہم میں ان مصدریہ ہے۔ قبلہ میں ضمیر ہ کا مرجع المطر ہے۔ لام تاکید کے لئے ہے اور مبلسین ۔۔ کانوا کی خبر ہے۔ وہ پیشترازیں بارش برستے سے قبل مایوس ہو رہے تھے۔ من قبل کا تکرار تاکید کے لئے ہے۔ من قبل ان ینزل علیہم : ای من قبل تنزل المطر۔ بارش برسنے سے قبل۔ مبلسین۔ اسم فاعل جمع مذکر بحالت نصب۔ مبلس واحد۔ ناامید۔ مایوس غمگین۔
Ayah 30:50

فَانْظُرْ اِلٰۤى اٰثٰرِ رَحْمَتِ اللّٰهِ كَیْفَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ لَمُحْیِ الْمَوْتٰى١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 30:50 in the Quran reader

تو (اے دیکھنے والے) خدا کی رحمت کی نشانیوں کی طرف دیکھ کہ وہ کس طرح زمین کو اسکے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے بیشک وہ مردوں کو زندہ کرنے والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے

(30:50) اثر۔ اثرات، نشانیاں ۔ علامتیں (جو کوئی شے پیچھے چھوڑ جائے) لیکن مختلف معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ مثلا :۔ (1) نقش قدم۔ جیسے فھم علی اثارھم یھرعون (37:70) سو وہ انہی کے نقش قدم پر ثلے جاتے ہیں۔ (2) طریقہ۔ جیسے ہم اولاء علی اثری (20:85) وہ میرے طریقہ پر کاربند ہیں۔ (3) بطور استعارہ بمعنی فضیلت جیسے تاللہ لقد اثرک اللہ علینا (12: 91) بجدا اللہ نے تجھ کو ہم پر فضیلت بخشی ہے۔ رحمۃ اللہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اللہ کی رحمت بصورت بارش۔ یحی۔ میں ضمیر فاعل اللہ کے لئے ہے۔ ذلک : ای اللہ الزی قدر علی احیاء الارض بعد موتھا۔ لمحی۔ میں لام تاکید کا ہے۔ الموتی ، المیت کی جمع ہے۔ مردے۔ (بےشک وہی خدا مردوں کا زندہ کرنے والا ہے) لئن میں لام لام موطئہ ہے جو حرف شرط پر آیا ہے۔ اسے موطئہ اس لئے کہتے ہیں کہ شرط کے لئے راہ ہموار کرتا ہے اسے لام الموذنہ بھی کہتے ہیں۔ ان حرف شرط ہے۔ ریحا۔ ہوا ۔ امام رازی (رح) رقمطراز ہیں کہ نفع بخش ہواؤں کو جمع کے لفاظ سے لایا گیا ہے اور مضرت رساں ہواؤں کو بصیغہ واحد استعمال کیا گیا ہے کیونکہ اس کی رحمت ہوتی رہتی ہے اور اس کا عذاب کبھی کبھی آتا ہے۔ فراوہ۔ اس میں الفاء فصیحت کا ہے اور ہ ضمیر واحد مذکر غائب کھیتی کی طرف راجع ہے۔ جیسا کہ صاحب کشاف، روح المعانی، معالم التنزیل میں ہے۔ رأو ماضی جمع مذکر غائب رویۃ مصدر۔ مصفرا۔ اسم مفعول واحد مذکر۔ اصفرار (افعلال) مصدر۔ صفر مادہ۔ زرد اور پیلا پڑا ہوا ۔ اور جہ قرآن مجید میں ہے ثم یھیج فترہ مصفرا (39:21) پھر وہ (کھیتی) خشک ہوجاتی ہے تو تو اس کو دیکھتا ہے زرد۔ لظلوا۔ لام جواب قسم کا ہے ظلوا۔ ماضی (بمعنی مستقبل) کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے وہ ہوگئے۔ افعال ناقصہ سے ہے اور خبر کو دن بھر کے لئے ثابت کرتا ہے۔ جس طرح بات رات کے وقت کوئی کام کرنے کے لئے آتا ہے ۔ کبھی یہ سار کے معنی بھی دیتا ہے اس وقت دن کی تخصیص نہیں رہتی۔ آیۃ ہذا میں بھی صار کے معنی میں ہی استعمال ہوا ہے۔ من بعدہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔ (1) من بعد ارسال الریح ہوا کے بھیجنے کے بعد۔ (2) من بعد اصفرا رزرعھم۔ ان کی کھیتوں کے زرد پڑجانے کے بعد۔ (3) ان کے (پہلی صورت میں) خوش ہوجانے کے بعد ۔ من بعد الاستبشار۔ یکفرون۔ مضارع جمع مذکر غائب ۔ وہ ناشکری کرتے ہیں یا کریں گے۔ کرنے لگیں گے۔ آیت کا ترجمہ ہوا۔ اور اگر ہم (کوئی ایسی) ہوا بھیجیں (جس کے اثر سے) وہ کھیتوں کو زرد (اور مرجھایا ہوا) پائیں تو اس کے بعد وہ ناشکری کرنے لگیں گے۔ ان کا رویہ ہر دو صورت میں مذموم ہے چاہیے تو یہ تھا کہ جب اللہ کی طرف سے ان پر رحمت ہوئی اور بارش سے کھیت لہلہا اٹھے تو اس کا شکر ادا کرتے نہ کہ اس کو اپنے دنیاوی اسباب پر محمول کرتے ہوئے پھولے نہ سماتے اور جب خدا کی طرف سے ان کی اپنی شامت اعمال کی وجہ سے کھیتیاں زرد پڑگئیں تو بجائے خدا کی ناشکری کرنے کے ان کو استغفار سے کام لینا چاہیے تھا۔
Ayahs 30:51–53

وَ لَئِنْ اَرْسَلْنَا رِیْحًا فَرَاَوْهُ مُصْفَرًّا لَّظَلُّوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ یَكْفُرُوْنَ Open ayah 30:51 in the Quran reader

اور اگر ہم ایسی ہوا بھیجیں کہ وہ (اسکے سبب) کھیتی کو دیکھیں (کہ) زرد (ہو گئی ہے) تو اس کے بعد وہ ناشکری کرنے لگ جائیں

فَاِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 30:52 in the Quran reader

تو تم مردوں کو (بات) نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو جبکہ وہ پیٹھ پھیر کر پھرجائیں آواز سنا سکتے ہو

وَ مَاۤ اَنْتَ بِهٰدِ الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ١ؕ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ۠ Open ayah 30:53 in the Quran reader

اور نہ اندھوں کو ان کی گمراہی سے (نکال کر) راہ راست پر لاسکتے ہو تم تو انھیں لوگوں کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں سو وہی فرمانبردار ہیں

(30:53) ھدا لعمی۔ مضاف مضاف الیہ۔ ھادی کی ی بوجہ اضافت ساقط ہوگئی۔ اندھوں کو ہدایت دینے والا۔ وما انت بھد العمی ای وما انت بھدی العمی اور تو اندھوں کو ہدایت نہیں دے سکتا۔ ضللتھم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کی گمراہی۔ ان تسمع۔ میں ان نافیہ ہے۔ تو نہیں سنا سکتا۔ فہم مسلمون : تعریف ہے من یؤمن بایتنا کی۔ پھر وہ ان آیات کو مانتے بھی ہیں۔ یعنی ان میں جو احکام دئیے گئے ہیں ان کے آگے سر تسلیم خم کرتے ہیں ۔
Ayah 30:54

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ضُؔعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ضُؔعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ضُؔعْفًا وَّ شَیْبَةً١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیْمُ الْقَدِیْرُ Open ayah 30:54 in the Quran reader

خدا ہی تو ہے جس نے تم کو (ابتدا میں) کمزور حالت میں پیدا کیا پھر کمزوری کے بعد طاقت عنایت کی پھر طاقت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا دیا وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہ صاحب دانش اور صاحب قدرت ہے

(30:54) ضعف اصل میں ضعیف ہے مصدر کو مبالغہ کے لئے صفت کے لئے استعمال کیا ہے یا اس سے مراد من ذی ضعف ہے یعنی نطفہ۔ جسے دوسری جگہ ماء مہین (بہت حقیر) کہا گیا ہے۔ من بعد ضعف قوۃ۔ (عطا کی) کمزوری کے بعد طاقت (جوابی) اور من بعد قوۃ ضعفا وشیبۃ اور قوت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا (جوانی کے بعد الخطاط اور پھر بڑھاپا) شیبۃ بڑھاپا۔ بالوں کا سفید ہونا۔ اشیب بوڑھا آدمی اس کی جمع شیب جیسے ابیض کی جمع بیض ہے۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ یجعل الولدان شیبا (73:17) (جو) بچوں کو بوڑھا بنا دیگا۔ شیب مادہ۔ القدیر۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ قدیر وہ ہے جو اقتضائے حکمت کے موافق جو چاہے کرے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا کسی کو قدیر نہیں کہہ سکتے۔ البتہ قادر عام ہے۔
Ayah 30:55

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ١ۙ۬ مَا لَبِثُوْا غَیْرَ سَاعَةٍ١ؕ كَذٰلِكَ كَانُوْا یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 30:55 in the Quran reader

اور جس روز قیامت برپا ہوگی گنہگار قسمیں کھائیں گے کہ وہ (دنیا میں) ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے تھے اسی طرح وہ (راستہ سے) الٹے جاتے تھے

(30:55) ویوم : ای واذکر یوم۔ اور یاد کرو وہ دن۔ یقوم الساعۃ۔ قیامت قائم ہوگی۔ جب قیامت کی گھڑی آجائے گی۔ الساعۃ (وقت) اجزائے زمانہ میں سے ایک جزء کا نام ہے ساعت، گھڑی، پل، الساعۃ بول کر قیامت بھی مراد لی جاتی ہے۔ س و ع مادہ۔ یقسم۔ مضارع واحد مذکر غائب ۔ اقسام (افعال) مصدر۔ قسمیں کھائیں گے۔ یؤفکون ۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب۔ ماضی استمراری کے معنی میں۔ وہ پھیرے جاتے تھے۔ الٹے چلتے رہتے تھے۔ علامہ قرطبی (رح) لکھتے ہیں :۔ ای اکنوا یکذبون فی الدنیا یعنی وہ دنیا میں بھی جھوٹ بولا کرتے تھے۔ فرماتے ہیں کہ جب کوئی آدمی سچائی اور بھلائی سے روگرداں ہوجائے تو اہل عرب کہتے ہیں۔ افک الرجل۔ مدارک التنزیل میں ہے کہ :۔ ای مثل ذلک الصرف کانوا یصرفون عن الصدق الی الکذب فی الدنیا۔ یعنی جس طرح اب یہ حقیقت سے پھرگئے ہیں اسی طرح دنیا میں بھی یہ سچ سے جھوٹ کی طرف پھر جایا کرتے تھے : نیز ملاحظہ ہو 29:61
Ayah 30:56

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَ الْاِیْمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ اِلٰى یَوْمِ الْبَعْثِ١٘ فَهٰذَا یَوْمُ الْبَعْثِ وَ لٰكِنَّكُمْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:56 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو علم اور ایمان دیا گیا تھا وہ کہیں گے کہ خدا کی کتاب کے مطابق تم قیامت تک رہے ہو اور یہ قیامت ہی کا دن ہے لیکن تم کو اس کا یقین ہی نہیں تھا

(30:56) فی کتب اللہ : فی علم اللہ او ما کتبہ سبحانہ : اواللوح المحفوظ علم الٰہی کے مطابق یا نوشتہ الٰہی کے مطابق یا جیسا کہ لوح محفوظ میں تحریر ہے۔ یوم البعث۔ مضاف مضاف الیہ۔ جی کر اٹھ کھڑا ہونے کے دن۔ یعنی روز قیامت۔ بعث کے معنی جی اٹھنا۔ بھیجنا۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا رسولوں کو مبعوث کرنا ۔ یعنی بھیجنا۔ فھذا۔ میںجواب شرط ہے تقدیر کلام ہے : ان کنتم منکرین للبعث فھذا یوم البعث الذی انکر تمرہ۔ اگر تم یوم بعث سے انکار کیا کرتے تھے تو یہ ہے یوم بعث جس سے تم منکر تھے۔ ولکنکم کنتم لا تعلمون۔ لیکن تم تو سمجھتے ہی نہ تھے۔ یعنی یقین ہی نہ کیا کرتے تھے۔
Ayah 30:57

فَیَوْمَئِذٍ لَّا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَعْذِرَتُهُمْ وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 30:57 in the Quran reader

تو اس روز ظالم لوگوں کو ان کا عذر کچھ فائدہ نہ دے گا اور نہ ان سے توبہ قبول کی جائے گی

(30:57) یؤمئذ۔ اس دن۔ یوم اسم ظرف۔ مضاف اذ مضاف الیہ۔ جیسے کہ حینئذ ، حین مضاف اذ مضاف الیہ۔ اس وقت۔ معذرتھم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کی معذرت۔ ان کا عذر۔ ولاہم یستعتبون۔ واؤ عاطفہ۔ لا یستعتبون۔ مضارع منفی مجہول جمع مذکر غائب۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا دوبارہ تاکید کے لئے لایا گیا ہے۔ اور نہ اسن کی معذرت قبول کرکے عتاب کو دور کیا جائے گا۔ استعتب : عتب سے باب استفعال ہے العتب ہر اس جگہ کو کہتے ہیں کہ جو وہاں اترنے والے کے لئے سازگار نہ ہو۔ استعارہ کے طور پر وعتب کے معنی ناراضگی یا سختی کے ہیں جو انسان کے دل میں دوسرے کے متعلق پیدا ہوجاتی ہے۔ الاستعتاب رضا مندی چاہنا۔ کسی سے یہ خواہش کرتا کہ وہ عتاب کو دور کر دے تاکہ راضی ہوجائے۔ ولا ہم یستعتبون اور نہ ان کی معذرت قبول کرکے ان سے عتاب کو دور کیا جائے گا۔ نیز ملاحظہ ہو 16:84 ۔
Ayahs 30:58–59

وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١ؕ وَ لَئِنْ جِئْتَهُمْ بِاٰیَةٍ لَّیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُبْطِلُوْنَ Open ayah 30:58 in the Quran reader

اور ہم نے لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اس قرآن میں ہر طرح کی مثال بیان کردی ہے اور اگر تم ان کے سامنے کوئی نشانی پیش کرو تو کافر کہہ دیں گے کہ تم تو جھوٹے ہو

كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:59 in the Quran reader

اسی طرح خدا ان لوگوں کے دلوں پر جو سمجھ نہیں رکھتے مہر لگا دیتا ہے

(30:59) کذلک یطبع اللہ علی قلوب الذین لا یعلمون ۔ اس طرح مہر کردیتا ہے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے دلوں پر جو سمجھتے نہیں ہیں۔ یعنی جب وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات کو اور اس کی صریح مثالوں کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے اور نتیجۃً یقین و ایمان سے عاری رہتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کو مہر کردیتے ہیں اور پھر وہ حق کو بھی ناحق سمجھنے لگتے ہیں اور خدا کی صریح آیات کو اور پیغمبر کے معجزات کا کبھی سحر سے تشبیہ دیتے ہیں اور کبھی کاہن کے کرشمے بتاتے ہیں۔
Ayah 30:60

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لَا یَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِیْنَ لَا یُوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 30:60 in the Quran reader

پس تم صبر کرو بیشک خدا کا وعدہ سچا ہے اور (دیکھو) جو لوگ یقین نہیں رکھتے وہ تمہیں اوچھا نہ بنادیں

(30:60) لایستخفن۔ مضارع منفی تاکید بانون ثقیلہ استخفاف (اسفتعال) مصدر خفیف سے۔ خ، ف، ف، مادہ۔ الخفیف اس کے مختلف معانی ہیں :۔ (1) وزن کے لحاظ سے ہلکا ہونا۔ ثقیل کے مقابلہ میں۔ (2) تقابل زمانی کے اعتبار سے سبک رفتار کو خفیف اور سست رفتار کو ثقیل کہیں گے۔ (3) جو ثیز طبیعت کو خوش کر دے اسے خفیف اور جو طبیعت پر گراں گزرے اسے ثقیل کہتے ہیں۔ (4) جو شخص جلد طیش میں آجائے اسے خفیف اور جو پروقار ہوا سے ثقیل کہا جاتا ہے۔ (5) جو شخص سطحی اقدار کا مالک ہو اور ان سے بھر جانے میں دیر نہ کرتا ہو وہ خفیف اور جس کی اقدار ٹھوس اور محکم بنیادوں پر مبنی ہوں وہ ثقیل کہلاتا ہے۔ انہی معنی میں ہے فاستخفف قومہ فاطاعوہ (43:54) (فرعون نے) اپنی قوم کو ڈھلمل کردیا تھا اور وہ اس کے پیچھے لگ گئے یعنی ان کا یقین حضرت موسیٰ کے بارے میں ہلکا پڑگیا تھا۔ انہی معنوں میں یہاں استعمال ہوا ہے۔ فرمایا (اے پیغمبر) تو ان کی قولی و فعلی سختیوں پر صبر استقلال سے کام لے تحقیق اللہ کا وعدہ پورا ہوکر رہیگا (مجرموں سے انتقام لینا اور مومنوں کی امداد و نصرت آیہ 47 ۔ مذکورہ بالا) اور یہ لوگ جو یقین سے خود عاری ہیں کہیں تمہارے پائے استقلال کو ڈگمگا نہ دیں لا یستخفنک۔ تم میں بےیقینی کی کیفیت پیدا نہ کردیں۔ صاحب المفردات رقمطراز ہیں :۔ ولا یستخفنک اور وہ تمہیں اوچھا نہ بنادیں۔ یعنی شبہات پیدا کرکے تمہیں تمہارے عقائد سے متزلزل اور برگشتہ نہ کریں۔