Ayahs 29:41–42(29:41) اتخذوا۔ ماضی جمع مذکر غائب اتخاذ (افتعال) مصدر۔ انہوں نے اختیار کیا۔ انہوں نے ٹھہرالیا۔
اوھن۔ افعل التفضیل کا صیغہ ہے سب سے کمزور۔ سب سے ضعیف۔ وھن مصدر۔ جس کے معنی جسمانی طور پر کسی معاملہ میں کمزور ہونے یا اخلاقی کمزوری ظاہر کرنے کے ہیں۔ چناچہ اور جگہ قرآن مجید میں ہے رب انی وھن العظم منی (19:47) اے میرے پروردگار میری ہڈیاں بڑھاپے کے سبب کمزور ہوگئی ہیں۔
ان اللہ یعلم ما یدعون من دونہ من شیئ۔ میں ما موصولہ ہے اور یعلم کا مفعول ہے من دونہ میں من متعلقہ یدعون ہے۔ ہ ضمیر کا مرجع اللہ ہے من شیء میں من یا تو تبیین کا ہے اور موصول کے بیان کے لئے ہے یا تبعیضیہ ہے۔
ترجمہ یوں ہوگا :۔ یہ جس کسی شے کو اللہ کے سوا پکارتے (یا پوجتے) ہیں اللہ اس کو یقینا جانتا ہے۔
یدعون مضارع جمع مذکر غائب۔ دعوۃ اور دعاء مصدر (باب نصر) وہ بلاتے ہیں وہ پکارتے ہیں۔ وہ پوجتے ہیں۔
وھو العزیز الحکیم۔ اور وہ بڑا زبردست ہے اور حکمت والا ہے یعنی نہ صرف قوت علمی میں کامل ہے (ان اللہ یعلم ما یدعون من دونہ من شیئ) بلکہ قوت عملی اور حکمت میں بھی بدرجہ اتم کامل ہے۔
Ayahs 29:43–44(29:43) تلک الامثال۔ یہ مثالیں یعنی یہ موجودہ مکڑی کی مثال اور قرآن مجید میں مذکور دوسری مثالیں مثلاً ان اللہ لا سیتحی ان یضرب مثلا ما بعوضۃ فما فوقھا (2:26) خدا اس بات سے عار نہیں کرتا کہ مچھر یا اس سے بڑھ کر کسی چیز کی مثال بیان فرمائے۔ یا
یایھا الناس ضرب مثل فاستمعوا لہ ان الذین تدعون من دون اللہ لن یخلقوا ذبابا ولو اجتمعوا لہ (22:73) اے لوگو ! ایک مثال بیان کی جاتی ہے سو اسے سنو ! جن لوگوں کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ ایک مکھی (تک تو) پیدا نہی کرسکتے۔ چاہے وہ سب ہی اس غرض کے لئے جمع ہوجاویں ۔ وغیرہ
ما یعقلہا۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب عقل مصدر۔ (باب ضرب) وہ نہیں سمجھتے۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب الامثال کی طرف راجع ہے۔
Ayahs 29:45–46(29:45) اتل۔ تو پڑھ۔ تو تلاوت کر۔ تلاوۃ مصدر فعل امر صیغہ واحد مذکر حاضر یہاں بمعنی زم علی تلاوۃ ہے۔ یعنی متواتر پڑھا کیجئے
ما اوحی الیک من الکتاب : ما موصولہ اوحی ماضی مجہول واحد مذکر غائب ۔ ایحاء (افعال) مصدر۔ وحی کی گئی۔ من الکتب میں من بیانہ ہے الکتب سے مراد القرآن ہے۔ یعنی جو کتاب آپ پر وحی کی گئی ہے اسے دائما پڑھا کیجئے۔
اقم الصلوۃ : اقم امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ (اگرچہ خطاب حضرت رسول کریم ﷺ سے ہے لیکن اس سے جمیع الناس مراد ہیں) اقامۃ مصدر۔ باب افعال۔ تو قائم رکھ۔ تو سیدھا رکھ۔ تو راست کر۔ (اس میں بھی مداومت کے معنی ہیں) ۔
الصلوۃ میں الف لام عہد کا ہے۔ یعنی وہ نماز ظاہری اور باطنی شرائط معینہ کے ساتھ ادا کی گئی ہو۔ منصوب بوجہ مفعول کے ہے۔
تنہی۔ مضارع واحد مؤنث غائب ۔ نہی مصدر۔ نھی ینھی باب فتح) سے مصدر۔ نھو (باب نصر) سے بھی اسی معنی میں آتا ہے۔ وہ روکتی ہے۔ وہ منع کرتی ہے ۔
الفحشاء برا کام۔ بیضیائی کا کام۔ زنا۔ (نیز ملاحظہ ہو 29:28)
المنکر۔ اسم مفعول واحد مذکر انکار (افعال) مصدر وہ قول و فعل جس کو عقل سلیم برا جانتی ہو یا جس کو شریعت نے ممنوع قرار دیا ہو۔ یا وتاتون فی نادیکم المنکر (29:29) اور تم بھری مجلس میں ممنوعات کا ارتکاب کرتے ہو۔
ولذکر اللہ اکبر۔ لام تاکید کا ہے۔ اکبر افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ اور اللہ کا ذکر زیادہ بڑا ہے۔ ذکر سے یہاں مراد کیا ہے اس کے متعلق کئی اقوال ہیں۔ مثلاً
(1) حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے لذکر اللہ تعالیٰ العبد اکبر من ذکر العبد اللہ تعالیٰ ۔ جو ذکر اللہ تعالیٰ اپنے بندے کا کرتا ہے وہ اس ذکر سے بہت بڑا ہے جو بندہ اللہ تعالیٰ کا کرتا ہے اور اس پر دلیل لاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے فاذکرونی اذکرکم (2:152) سو تم مجھے یاد کیا کرو میں تمہیں یاد کیا کروں گا !
(2) اللہ تعالیٰ کا ذکر ہر شے سے بہتر ہے۔
(3) بندے کا نماز میں اللہ کا ذکر کرنا۔ دیگر ارکان نماز سے بہتر ہے۔
(4) بندے کا نماز میں اللہ کا ذکر کرنا خارج از نماز ذکر کرنے سے بہتر ہے۔
(5) اللہ کا ذکر کرنا بندے کے دیگر تمام اعمال سے بہتر ہے۔
(6) یہاں ذکر اللہ سے مراد الصلوۃ ہے جیسا کہ اور جگہ ارشاد باری ہے۔ یایھا الذین امنوا اذا نودی للصلوۃ من یوم الجمعۃ فاسعوا الی ذکر اللہ (62:9) اے ایمان والو ! جب جمعہ کے دن نماز کے لئے اذان کہی جائے تو خدا کی یاد (یعنی نماز) کے لئے جلدی کرو۔ وغیرہ۔
ما تصنعون۔ میں ما موصولہ ہے۔ تصنعون مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ جو تم کرتے ہو۔
Ayah 29:47(29:47) کذلک ۔۔ الکتب اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں :۔
ّ (1) جس طرح ہم نے پہلے انبیاء پر کتابیں نازل کی تھیں اسی طرح اب یہ کتاب (القرآن) تم پر نازل کی ہے۔
(2) ہم نے اس تعلیم کے ساتھ یہ کتاب (قرآن) نازل کی ہے کہ ہماری پچھلی کتابوں کا انکار کرکے نہیں بلکہ ان کا اقرار کرتے ہوئے اسے مانا جائے۔
اتینھم الکتب ای التوراۃ والانجیل۔ یا اس میں حذف مضاف ہے اور کلام یوں ہے اتینھم علم الکتب جن کو ہم نے توراۃ و انجیل کا علم عطا کیا۔
یؤمنون بہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب الکتب (یعنی القرآن) کے لئے ہے اور یؤمنون میں ضمیر جمع مذکر غائب ان علماے اہل کتاب کی طرف راجع ہے جنہوں نے خدا کی نازل کردہ کتابوں کو بغور پر ھا جیسا کہ پڑھنے کا حق ہوتا ہے اور نتیجۃ ایمان لے آئے۔
من ھؤلاء میں من تبعیضیہ ہے ھؤلاء کا اشارہ اہل عرب یا اہل مکہ کی طرف ہے (اور ان لوگوں میں سے بھی اس (قرآن) پر ایمان لے آئے ہیں) امام رازی (رح) کا قول ہے کہ من ھؤلاء سے مراد بعض مشرکین مکہ نہیں بلکہ بعض اہل کتاب ہی ہیں۔
یجحد۔ مضارع واحد مذکر غائب جحد یجحد (فتح) جحد وجحود جان بوجھ کر انکار کرنا۔ وما یجحد اور کوئی انکار نہیں کرتا۔
Ayah 29:48(29ـ48) کنت تتلوا ماضی استمراری۔ واحد مذکر حاضر تو پڑھا کرتا تھا ۔ تو پڑھتا تھا۔ ما کنت تتلوا تو نہیں پڑھتا تھا۔ تو نہیں پڑھ سکتا تھا
من قبلہ میں ضمیر ہ واحد مذکر غائب القرآن کی طرف راجع ہے ۔ ای قبل انزال القرآن۔ قرآن کے نازل ہونے سے پہلے۔
من کتب۔ کوئی کتاب۔
ولا تخطہ مضارع منفی واحد مذکر حاضر ۔ خط یخط (باب نصر) خط (مضاعف) لکھنا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کتاب کی طرف راجع ہے۔ اور نہ ہی تم اس کو لکھ سکتے تھے۔
بیمینک۔ تیرے دائیں ہاتھ سے۔ تو اپنے دائیں ہاتھ کے ساتھ۔ نفی کی تاکید کے لئے آیا ہے۔ یعنی نہ تو نے کبھی اپنے دائیں ہاتھ سے (جو اکثر اسی ہاتھ سے لکھنے کا کام لیا جاتا ہے) ایسی کسی کتاب کو لکھا۔ اسی طرح بولتے ہیں میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ دیکھنے کے فعل کی حقیقت کو شک و شبہ سے بالا تر ذہن نشین کرانے کے لئے۔
اذا۔ تب۔ اس وقت۔ یہاں اذا قائم مقام جزاء ہے اور جواب شرط اور جزاء کے لئے آتا ہے۔ اصل میں یہ اذن ہے وقف کی صورت میں نون کو الف سے بدل لیتے ہیں۔ جس جگہ اذا کے بعد لام آئے گا تو ضروری ہے کہ اس سے قبل لو مقدرہو۔ جملہ ہذا میں عبارت مقدرہ ہوگی لو کنت تتلوا من قبلہ من کتب وتخطہ اذا لارتاب المبطلون۔ اگر قبل ازیں آپ کتاب پڑھ سکتے ہوتے اور اسے لکھتے ہوتے تو اہل باطل ضرور شک کرتے۔ اس کی مثال : اذا لذھب کل الیہ بما خلق (23:91) (اس کے ساتھ اگر کوئی اور خدا ہوتا) تو ہر خدا ہر اس چیز کو جو اس نے پیدا کی لے جاتا۔
لارتاب۔ ماضی واحد مذکر غائب ارتیاب (افتعال) مصدر لام تاکید کا ۔ تو وہ ضرور شک کرتا۔ یہاں صیغہ جمع کے لئے استعمال ہوا ہے۔ تو وہ ضرور شک کرتے۔ ریب مادہ۔
المبطلون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ غلط گو۔ اہل باطل ، حق کو جھٹلا نے والے۔ ابطال (افعال) مصدر۔ مبطل واحد۔
Ayahs 29:49–50(29:49) بل۔ یہاں حرف اضراب ہے یعنی ماقبل کے ابطال اور مابعد کی تصحیح کے لئے بلکہ یہ روشن آیتیں ہیں۔
ایت بینت۔ موسوف و صفت۔ واضح روشن آیات۔
اوتوا۔ ماضی مجہول جمع مذکر غائب اتی یؤتی ایتاء (افعال) مصدر۔ ان کو دیا گیا۔ وہ دئیے گئے۔ ان کو ملا۔
فی صدور۔ سینوں میں (حفظ کیا ہوا) ۔
Ayah 29:51(29:51) اولم یکفہم۔ نیا کلام شروع ہوتا ہے۔ آیت 50 (قل انما ۔۔ مبین) رسول کریم ﷺ کی زبان مبارک سے ارشاد الٰہی تھا۔ اب خدا تعالیٰ کی طرف سے کلام ہے۔ ہمزہ استفہام انکاری کے لئے ہے واؤ مقدرہ پر عطف کے لئے ہے ای أقصر ولم یکفہم کیا یہ کم ہے اور کافی نہیں ہے ان کے لئے۔
لم یکفہم۔ مضارع نفی جحد بلم صیغہ واحد مذکر غائب کفی یکفی (ضرب) کفایۃ مصدر۔ لم کی وجہ سے یکفی سے آخر کا حرف علت گرگیا۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب جو قالوا (آیتہ 50) کے فاعل کی طرف راجع ہے یہ اہل کتاب کے لئے بھی ہوسکتی ہے اور کفار قریش کے لئے بھی۔
یتلی علیہم : یتلی مضارع مجہول واحد مذکر غائب ۔ تلاوۃ مصدر۔ الکتاب مفعول مالم یسم فاعلہ۔ جو ان کو پڑھ کر سنائی جاتی رہتی ہیں۔ مضارع کا صیغہ استمرار اور دوام کو چاہتا ہے۔ پس یتلی علیہم کے معنی ہوں گے یتلی علیہم فی کل زمان ومکان یعنی یہ ان پر ہر زمان و ہر مکان میں پڑھی جائیں گی۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب اہل کتاب یا کفار قریب کے لئے ہے۔
ان فی ذلک : ای فی ذلک الکتب ۔ یعنی قرآن۔
لرحمۃ میں لام تاکید کا ہے رحمۃ منصوب بوجہ عمل ان یعنی یہ اسم ان ہے۔ جیسے ان فی ذلک لعبرۃ لاولی الابصار (3: 13) بیشک اس میں ایک بصیرت کے لئے بڑی عبرت ہے۔
ذکری۔ موعظت، پند، یاد ۔ ذکر کرنا۔ نصیحت کرنا۔ ذکر یذکر کا مصدر ہے ۔ کثرت ذکر کے لئے ذکری بولا جاتا ہے یہ ذکر کی نسبت زیادہ بلیغ ہے۔
اولم یکفھم انا انزلنا علیک الکتاب یتلی علیہم میں جملہ انا انزلنا علیک الکتب فاعل ہے۔ لم یکفہم کا الکتب مفعول ہے انزلنا کا۔ یتلی علیہم صفت ہے الکتب کی۔ انا۔ ان حرف مشبہ بالفعل اور نا ضمیر جمع متکلم سے مرکب ہے۔ تحقیق ہمارا تجھ پر (ایسی) کتاب کا نازل کرنا جو ان پر دائما پڑھی جائے گی ان کے لئے (بطور معجزہ) کافی نہیں ہے۔
Ayah 29:52(29:52) کفی باللہ شھیدا میں کفی کا فاعل اللہ ہے ب زائدہ ہے۔ شھیدا کفی کا مفعول لہ بھی ہوسکتا ہے اور تمیز بھی۔
کفی یکفی (ضرب) کفایۃ مصدر سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے وہ (ضرورت پوری کرنے کے لئے) کافی ہے (اس کے بعد کسی کی حاجت نہیں ہے)
شہیدا۔ بطور گواہ۔
Ayah 29:53(29:53) یستعجلونک۔ یستعجلون مضارع جمع مذکر غائب استعجال (استفعال) مصدر وہ جلدی مانگتے ہیں ۔ وہ تعجیل چاہتے ہیں (ضمیر فاعل قریش کے لئے ہے۔ عجلت مادہی۔ ک ضمیر واحد مذکر حاضر۔ تجھ سے۔ خطاب نبی کریم ﷺ سے ہے۔
اجل مسمی۔ موصوف وصفت اجل مدت مقررہ۔ مسمی اسم مفعول واحد مذکر تسمیۃ مصدر (باب تفعیل) بمعنی نام رکھنا۔ نام لینا۔ (اس سے کسی چیز کی تعین ہوجاتی ہے۔ اجل مسمی مدت مقررہ۔ تعیین شدہ ۔ میعاد۔ یہاں اجل مسمی سے مراد قیامت ہے۔ یا یوم بدر۔
لجاء ہم العذاب۔ (تو) ان پر عذاب ضرور آچکا ہوتا۔ جملہ جواب شرط میں ہے لام لو کے جواب میں جملہ جزائیہ پر آیا ہے۔
ولیأتینھم۔ یہ جملہ مستانفہ ہے ۔ لام تاکید کا ہے۔ یاتین مضارع تاکید بانون ثقیلہ ہے۔ صیغہ واحد مذکر غائب ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ وہ ضرور (اپنے وقت پر) ان پر آئے گا۔
بغتۃ۔ اچانک ۔ یک دم۔ دفعۃ۔ یکایک۔ بغۃ مصدر۔ بغت یبغت بغۃ وبغتۃ کسی چیز کا یک بارگی ایسی جگہ سے ظاہر ہونا جہاں سے اس کا ظہور کا گمان تک بھی نہ ہو۔
لا یشعرون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب، وہ خبر بھی نہ رکھتے ہوں گے ! ان کو خبر تک نہ ہوگی۔ شعور مصدر (باب نصر)
Ayah 29:54(29:54) لمحیطۃ میں لام تاکید کے لئے ہے محیطۃ اسم فاعل واحد مؤنث احاطۃ مصدر (افعال) حاط مادہ ہر طرف سے گھیر لینے والی جہنم کی صفت میں آیا ہے ۔ لہٰذا مؤنث استعمال ہوا ہے بمعنی ستحیط بھم۔ عنقریب ان کو گھیر لے گی۔
یا جملہ وان جھنم لمحیطۃ بالکفرین۔ موضع حال میں ہے۔ اور تحقیق جہنم ان کو پہلے ہی گھیرے میں لئے ہوئے ہے۔ ان کے کفر و معاصی کی سزا میں جہنم ان کا مقدر بن چکی ہے۔
Ayah 29:55(29:55) یوم یغشھم العذاب من فوقھم ومن تحت ارجلہم یوم یغشھم۔ ظرف ہے اور اس کا عامل (بابت نصب) محیطۃ ہے ۔ ای سیحیط بھم یوم ۔۔ جس دن عذاب ان کو گھیرے گا۔ ان کے اوپر سے اور ان کے پاؤں کے نیچے سے (یعنی ہر طرف سے اور یہ وضاحت ہے یغشھم کی) ۔
ویقول : ای ویقول اللہ لہم۔
وذقوا۔ فعل امر جمع مذکر حاضر۔ ذاق یذوق ذوقا (نصر) تم چکھو، ذائقہ۔ قوت ذائقہ۔ چکھنے والی۔ کل نفس ذائقۃ الموت ہر نفس موت کا مزہ چکھنے والا ہے۔ ہر نفس موت کو چکھنے والا ہے۔
ذوقوا ما کنتم تعملون ۔ : ای ذوقوا جزاء ما کنتم تعملون اپنی کرتوتوں کی جزا چکھو۔
Ayahs 29:56–57(29:56) فایای واحد متکلم کی ضمیر منصوب منفصل ۔ مجھ کو۔ مجھ ہی سے۔تعقیب کا ہے۔
Ayah 29:58(29:58) لنبوئنھم۔ لام تاکید کا۔ نبوئن مضارع تاکید بانون ثقیلہ جمع متکلم بوأ یبوا تبونہ (باب تفعیل) بوء مادہ۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ۔ ہم ان کو ضرور جگہ دیں گے۔ ہم ان کو ضرور ٹھہرائیں گے۔ ہم ان کو ضرور اتاریں گے۔ البواء کسی جگہ کے اجزاء کا مساوی۔ ہموار۔ (اور سازگار و موافق) ہونے کے ہیں۔ تبوا (باب تفعل) المکان۔ کسی جگہ اقامت اختیار کرنا۔ جیسے نتبوا من الجنۃ حیث نشاء (39:74) ہم بہشت میں جہاں چاہیں رہیں۔ الباء ۃ۔ البیئۃ ۔ المبوأ گھر، مکان۔ سرائے۔
غرفا۔ بالاخانے۔ اونچے محل۔ منصوب بوجہ مفعول ثانی نبوئنھم کا۔ مفعول اول ہم ضمیر جمع مذکر غائب۔ ہم ان کو بہشت میں بالاخانوں پر جگہ دیں گے۔
تجری من تحتھا الانھر : غرف کی صفت۔
نعم۔ کلمہ مدح ہے۔ نحویوں کے نزدیک نعم فعل ہے لیکن قرآن مجید میں بطور فعل نہیں آیا۔ بمعنی بہت اچھا ۔ بہت خوب۔ عمدہ۔
Ayah 29:59(29:59) یہ آیت عاملین (آیت 58) کی صفت ہے۔
Ayahs 29:60–61(29:60) کاین۔ اسم ہے جو کاف تشبیہ اور ای سے مرکب ہے۔ تعداد میں کثرت ظاہر کرنے کے لئے تمیز کا محتاج ہوتا ہے اور اس کی تمیز بیشتر من کے ساتھ مجرور ہوتی ہے جیسے وکاین من نبی قتل معہ ربیون کثیر (3:146) اور کہتے ہی نبی ہوچکے ہیں کہ ان کی معیت میں بہت اللہ والوں نے (کافروں سے) لڑائی کی۔
اس مثال میں کاین نے کثیر تعداد کو طاہر کیا۔ لیکن کس کی ” یہ بات “ مبہم تھی۔ جب اس کے بعد من نبی آیا تو ابہام دور ہوگیا۔ اور معلوم ہوگیا کہ یہ کثیر تعداد نبیوں کی تھی ! اور جگہ قرآن مجید میں ہے فکاین من قریۃ اہلکناھا وہی ظالمۃ (22:45) غرض کتنی ہی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے ہلاک کر ڈالا ہو نافرمان تھیں۔ کاین کتنی ہی۔ بہت سی۔ بہت تعداد میں۔ پس وکاین من دابۃ ۔۔ اور کتنے ہی جانور ہیں جو ۔۔
دابۃ۔ جانور۔ رینگنے والا۔ پاؤں دھرنے والا۔ دب یدب (ضرب) دب ودبیب آہستہ آہستہ چلنا۔ اور رینگنا۔ سانپ کی طرح رینگنا۔ بچہ کی طرح ہاتھ پیروں پر گھسٹنا۔
دابۃ اسم فاعل کا صیغہ ہے مذکر مؤنث دونوں کے لئے مستعمل ہیں اس میں تاء وحدت کی ہے اس کی جمع دواب ہے۔ ہر رینگنے والے جانور ، سواری کے جانور۔ باربرداری کے جانور کے لئے استعمال ہوتا ہے زیادہ تر حشرات الارض کے لئے آتا ہے۔
فانی یؤفکون ۔ترتیب کا ہے یا جواب شرط میں ہے جو مقدرہ ہے۔ ای اذا کان الامر کذلک فکیف یصرفون عن الاقرار بتفردہ عز وجل فی الالوہیۃ۔ جب امر واقع یہ ہے کہ یہ لوگ توحید الٰہی کے اقرار سے کیوں مدد گرداں ہیں۔
انی۔ اسم ظرف ہے زمان و مکان دونوں کے لئے آتا ہے طرف زمان ہو تو متی کے معنوں میں (جب ، جس وقت) اور ظرف مکان ہو تو این کے معنوں میں (جہاں۔ کہاں 9 اور استفامیہ ہو تو کیف کے معنوں میں (کیسے، کیونکر) آتا ہے۔
افک یافک افکا (باب ضرب) سے۔ الافک ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو کہ اپنے صحیح رخ سے پھیر دی گئی ہو۔ اسی بناء پر ان ہواؤں کو جو اپنا اصلی رخ چھوڑ دیں مؤتفکۃ کہا جاتا ہے۔ اور قرآن مجید میں مؤتفکات الٹنے والی بستیوں کو کہا گیا ہے کہ انہوں نے بھی (جب ان کو الٹ دے مارا گیا) اپنا اصلی رخ چھوڑ کر الٹی ہوگئی تھیں۔
پس فانی یؤفکون کا مطلب ہوا کہ وہ کدھر پھیرے جا رہے ہیں کہاں بہکے پھرتے ہیں۔ ان کی قسمت کیسی الٹی ہوگئی ہے کہ اعتقاد حق سے باطل کی طرف۔ سچائی سے جھوٹ کی طرف اور اچھے کاموں سے برے افعال کی طرف پھر رہے ہیں۔ مجہول کا صیغہ ان کی بدقسمتی کی شدت کو ظاہر کرنے کے لئے لایا گیا ہے یعنی ایک معمولی عقل کا مالک بھی جو اپنے نفع و نقصان کا معمولی سا احساس رکھتا ہو یہ طریقہ اختیار نہیں کرتا۔ لیکن ان کی بدقسمتی ان کو باوجود حق و باطل کو سمجھ لینے کے بھی قعر مذلت کی طرف لئے جا رہی ہے۔
Ayah 29:62(29:62) یبسط۔ مضارع واحد مذکر غائب بسط مصدر (باب نصر) کشادہ کرتا ہے۔ فراخ کرتا ہے ۔ بسطۃ وبسطۃ فضیلت ، قدرت ۔ جسم کی بڑائی۔ علم کی وسعت، کمال کی افزونی۔ کے لئے آتا ہے۔ مثلا قرآن مجید میں آتا ہے ان اللہ اصطفہ علیکم وزادہ بسطۃ فی العلم والجسم (2:247) اللہ نے اسے تمہارے مقابلہ میں انتخاب کرلیا ہے۔ اور اسے علم و جسم دونوں میں کشادگی زیادہ دی ہے۔
یقدر۔ مضارع واحد مذکر غائب قدر مصدر (باب ضرب) وہ تنگ کرتا ہے۔ قدرت علیہ الشیء کے معنی کسی پر تنگی کردینے کے ہیں گویا وہ چیز اسے معین مقدار کے ساتھ دی گئی ہے اس کے بالمقابل بغیر حساب یعنی بےاندازہ آتا ہے۔ مثلاً ان اللہ یرزق من یشاء بغیر حساب (3:37) بیشک اللہ جس کا چاہتا ہے بےحساب رزق دے دیتا ہے۔
Ayah 29:63(29:63) لیقولن۔ مضارع بلام تاکید ونون ثقیلہ جمع مذکر غائب۔ وہ ضرور کہیں گے۔
قل الحمد اللہ ! تو کہہ الحمد للہ۔ یعنی شکر الحمد اللہ کی اس بات کا اعتراف تو تم کرتے ہو۔
(جب وہ یہ مانتے ہیں کہ اللہ ہی بارش لاتا ہے جس سے کھیتیاں اگتی ہیں اور نشو و نما پاتی ہیں اور بار آور ہوتی ہیں اور وہی بنجر زمین کو زرخیز بناتا ہے تو اس حد تک تو ان کے اپنے اعتراف کے مطابق اللہ کا کوئی شریک نہ ہونا چاہیے لیکن ان کی بدقسمتی کہ اکثرہم لا یعقلون ان کی عقل ہی کام نہیں کرتی) ۔
Ayah 29:64(29:64) وما۔ میں ما نافیہ ہے۔
لہی الحیوان میں لام تحقیق کا ہے ۔ ہی ضمیر واحد مؤنث غائب کو تخصیص کے لئے لایا گیا ہے۔ حیوان یہاں اپنے عام معنی میں جاندار یا ذی حیات کے مرادف نہیں بلکہ حی یحی (سمع) کا مصدر ہے۔ حیاۃ بھی اس کا مصدر ہے لیکن حیوان حیاۃ سے بھی زیادہ بلیغ و پرزور ہے کیونکہ فعلان کے وزن میں حرکت و اضطراب جو لازمہ حیات ہے موجود ہے۔ حیوان بمعنی جینا۔ زندگی۔ حیات۔
ان الدار الاخرۃ لہی الحیوان تحقیق عالم آخرت ہی اصلی و حقیقی زندگی ہے۔ حیوان اصل میں حیان تھا یائے ثانی کو خلاف قیاس واؤ میں تبدیل کردیا۔ ح ی ی مادہ۔
لوکانوا یعلمون ۔ یہ جملہ شرط ہے اور جواب شرط محذوف ہے ای لو کانوا یعلمون لم یؤثروا الحیوۃ الدنیا علیہا۔ اگر وہ جانتے ہوتے تو دنیا کی زندگی کو (آخرت کی زندگی پر) ترجیح نہ دیتے۔ یا لو تمنی کے لئے ہے اور جملہ تمنائیہ ہے کاش وہ (اس حقیقت کو) جانتے ہوتے کہ (ان الدار الاخرۃ لہی الحیوان)
Ayah 29:65(29:65) رکبوا۔ ماضی بمعنی حال جمع مذکر غائب۔ وہ سوار ہوتے ہیں۔
دعوا ماضی بمعنی حال جمع مذکر غائب۔ دعوا اصل میں دعو وا تھا۔ واؤ متحرک ماقبل مفتوح اس لئے واؤ کو الف سے بدلا۔ الف اور واؤ دو ساکن جمع ہوگئے الف کو حذف کرلیا گیا دعوا رہ گیا۔
وہ پکارتے ہیں وہ دعا کرتے ہیں۔ دعا یدعوا دعاء (باب نصر) د ع و مادہ۔
مخلصین لہ الدین۔ یہ جملہ حال ہے۔ مضاف مضاف الیہ۔ دین کو خالص کرنے والے ۔ الدین بمعنی اطاعت۔ شریعت۔ ملت۔ وان یدین (ضرب) کا مصدر۔ مخلصین اسم فاعل جمع مذکر۔ مخلص واحد۔ اخلاص کے لغوی معنی کسی چیز کو ہر ممکن ملاوٹ سے پاک و صاف کرنا۔ یہ خلوص کا متعدی ہے جس کے معنی آمیزش سے صاف و خالی ہونا کے ہیں۔
اور اصطلاح شرع میں اخلاص کے معنی یہ ہیں کہ یہ عمل محض رضائے الٰہی کے لئے کرے۔ اور اس میں کسی اور جذبہ کی آمیزش نہ ہو اخلاص دین سے مراد یہ ہے کہ لہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب اللہ کی طرف راجع ہے۔
مخلصین لہ الدین کا مطلب ہو کہ خالصۃ اللہ ہی کی اطاعت کرتے ہوئے (دعا مانگتے ہیں) ۔
نجہم۔ نجی ینجی تنجیۃ (تفعیل) سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب اس کے ان کو نجات دی۔ اس نے ان کو سلامتی سے خشکی تک یعنی کنارے تک پہنچایا۔
اذا مفاجاتیہ ہے۔ تو جھت وہ شرک کرنے لگتے ہیں۔ اسی وقت۔ اذا بمعنی جب، ناگہاں۔ ظرف زمان ہے۔
Ayah 29:66(29:66) لیکفروا بما اتینھم۔ میں لام کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں :۔
(1) یہ لام کی ہے کے (تاکہ) کے معنی میں آیا ہے اور اس کے مرادف ہے۔ ای لکی یکفروا تاکہ وہ ناشکری کریں یا کفر کا ارتکاب کریں۔ والمعنی یعودون الی شرکہم لیکونوا بالعرد الی شرکہم کافرین بنعمۃ النجاۃ۔ وہ شرک کی طرف پلٹ آتے ہیں تاکہ اس طرح شرک کی طرف مڑ آنے سے نجات کی نعمت کی ناشکری کریں۔ گویا شرک کا ارتکاب کرکے وہ اللہ کی نجات والی نعمت کی ناشکری کرتے ہیں۔
(2) یہ لام امر کا ہے اور اعملوا ما شئتم (کرلو جو تم چاہتے ہو) کا مرادف ہے یہاں امر کا مقصد یہ نہیں کہ وہ ناشکری کریں بلکہ غصہ و غضب کا اظہار ہے اور تہدید کے طور پر کہا جا رہا ہے کہ وہ جیسے چاہیں ناشکری کرلیں۔ بالآخر ان سے نپٹ لیا جائے گا۔ بما میں ما موصولہ ہے ما اتینھم (جو نعمت) ہم نے ان کو دہی ہے (یعنی سمندر کے طوفان سے نجات)
ولیتمتعوا۔ واؤ عاطفہ ہے لام جیسا کہ اوپر مذکور ہوا ہے یتمتعوا مضارع مجزوم جمع مذکر غائب۔ تمتع (تفعل) مصدر۔ فائدہ حاصل کرتے رہیں۔ مزہ اڑاتے رہیں۔
فسوف یعلمون۔ وہ عنقریب جان لینگے۔ (اپنے سو اعمال کا نتیجہ۔ تہدیدا کہا گیا ہے) ۔
Ayah 29:67(29:67) اولم یروا میں ضمیر جمع مذکر غائب مشرکین مکہ کی طرف راجع ہے۔
حرما۔ حرم ۔ پناہ کی جگہ۔ ادب کا مقام۔ مکہ معظمہ کا ایک مخصوص حصہ جس کی حدود میں اس کے ادب کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے بعض چیزوں کو حرام کردیا۔
امنا : امن سے اسم فاعل واحد مذکر۔ امن والا۔ پر امن۔ انا جعلنا حرما امنا۔ ہم نے بنادیا حرم کو امن والا۔ اسی مضمون میں اور جگہ ارشاد ہے :۔ وقالوا ان نتبع الھدی نتخطف من ارضنا اولم نمکن لہم حرما امنا (28:57) اور وہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر ہم آپ کے ساتھ ہوکر ہدایت پر چلنے لگیں تو اپنی سر زمین سے اچک لئے جائیں (یعنی مار کر نکال دئیے جائیں) ۔
یتخطف مضارع مجہول واحد مذکر غائب تخطف مصدر (باب تفعل) اچک لئے جاتے ہیں جھپٹ لئے جاتے ہیں ۔ ثلاثی مجرد میں باب سمع و ضرب دونوں سے آتا ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے : یکاد البرق یخطف ابصارھم (2:20) قریب ہے کہ بجلی (کی چمک) ان کی آنکھوں (کی بصارت) کو اچک لے جائے۔
یتخطف الناس من حولہم۔ اور لوگ ان کے گردو نواح سے اچک لئے جاتے ہیں۔ یعنی ان کے گرد و نواح میں قتل و غارت کا سلسلہ جاری ہے۔
بنعمۃ۔ میں نعمت بطور اسم جنس کے آیا ہے مراد اس سے اللہ تعالیٰ کی جملہ نعمتیں ہیں۔
Ayah 29:68(29:68) افتری۔ ماضی واحد مذکر غائب افتری یفتری افتراء (افتعال) سے۔ دروغ بانی کرنا۔ بہتان تراشی کرنا۔ جھوٹ باندھنا من افتری علی اللہ کذبا۔ جس نے اللہ پر جھوٹا بہتان باندھا۔ نری مادہ۔
کذب۔ ماضی واحد مذکر غائب اس نے جھٹلایا۔ اس نے انکار کیا۔ کذب بالامر۔ کسی چیز سے انکار کرنا۔ کذب بایات ربہ اس نے اپنے پروردگار کی آیات کا انکار کیا۔
مثوی۔ ظرف مکان۔ مثاوی جمع۔ ٹھکانا۔ دراز مدت کے لئے ٹھیرنے کا موام۔ فرودگاہ۔ ثوی یثوی ثوی۔ ضرب سے مصدر
Ayah 29:69(29:69) جاھدوا فینا۔ جاھدواماضی جمع مذکر غائب انہوں نے جہاد کیا انہوں نے محنت کی، وہ لڑے۔ مجاھدوا (مفاعلۃ) مصدر
فینا : لوجھنا۔ ہمارے لئے۔ من اجلنا۔ ہمارے واسطے۔
لنھدینہم۔ مضارع بلام تاکید و نون تاکید ثقیلہ جمع متکلم ھدایۃ مصدر۔
سبلنا۔ مضاف مضاف الیہ۔ ہمارے راستے۔ ہماری راہیں۔ اس کا واحد سبیل ہے۔
ان اللہ لمع المحسنین : ان تحقیق و تاکید کے لئے۔ مع کے ساتھ لام تاکید کے لئے۔ تاکہ شک و شبہ کی بالکل گنجائش نہ رہے۔ اللہ کی معیت اس کی نصرت اور اعانت ہی کا دوسرا نام ہے۔