Ayah 25:41(25:41) ان۔ نافیہ ہے۔ ان یتخذونک۔ یتخذون مضارع جمع مذکر غائب ۔ اتخاذ (افتعال) مصدر ک ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ وہ تجھے نہیں بناتے ہیں۔
ھزوا ھزء یھزء (فتح) وھزء یھزا (سمع) کا مصدر ہے ۔ کسی سے مسخری کرنا۔ مخول کرنا۔ ٹھٹھا کرنا۔ یہاں اسم مفعول آیا ہے بمعنی وہ جس کا مذاق اڑایا جائے ۔ مادہ ھ ز ء ۔ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے واذا علم من ایتنا شیئان اتخذھا ھزوا (45:9) اور جب ہماری کچھ آیتیں اسے معلوم ہوتی ہیں تو وہ ان کی ہنسی اڑاتا ہے۔ ان یتخذونک الا ھزوا۔ نہیں بناتے تجھے مگر مرکز تضحیک ۔ یعنی آپ کا مذاق اڑاتے ہیں۔
اھذ الذی : ای قائلین اھذا الذی یہ کہتے ہوئے یا یہ کہہ کر۔ جملہ اھذا الذی بعث اللہ رسولا۔ فاعل یتخذونک سے موضع حال میں ہے۔
Ayah 25:42(25:42) ان ۔ نون تقیلہ سے مخففہ ہے۔ اور لیضلنا میں لام فارقہ ہے۔ جو ان مخففہ اور ان نافیہ میں فرق نمایاں کرنے کے لئے آیا ہے۔ ان کاد لیضلنا عن الھتنا قریب تھا کہ ہمیں یہ بہکا دیتا اپنے خداؤں سے۔
علیھا : ای علی عبادتھا۔ ان خداؤں کی عبادت سے ھا ضمیر کا مرجع الھتنا ہے۔
من اضل سبیلا : من استفہامیہ مبتدای۔ اضل خبر (بصیغہ تفضیل ) سبیلا تمیر۔ یہ جملہ یعلمون سے موضع مفعول میں ہے۔ اور یہ جواب ہے۔ مخالفین رسول ﷺ کا۔ کہ کاد لیضلنا۔ یعنی جب وہ عذاب آخرت دیکھیں گے تب ان کو علم ہوجائے گا کہ گمراہی میں وہ خود تھے یا خدا کا رسول جو درحقیقت ان کی راہ ہدایت کی طرف بلا رہا تھا۔
Ayah 25:43(25:43) ارء یت من اتخذ الہہ ھواہ : ارأیت فعل یا فاعل۔ من اسم موصول اتخذ فعل متعدی بدو مفعول ۔ الہہ مضاف مضاف الیہ۔ مل کر اتخذ کا مفعول اول ھواہ مضاف مضاف الیہ مل کر اتخذ کا مفعول ثانی۔ اتخذ الھہ ھواہ یہ جملہ اسم موصول کا صلہ۔ اسم موصول بمعہ صلہ کے رأیت کا مفعول۔ کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی نفسانی خواہش کو اپنا معبود بنا لیا۔ یعنی جو خواہش نفسانی کی پیروی میں لگ گیا۔
وکیلا۔ نگہبان۔ ذمہ دار۔ افانت تکون علیہ وکیلا۔ کیا تو اس کا ذمہ دار ہے ہمزاہ استفہام انکاری کا ہے۔ مطلب یہ کہ جب تو اس پر نگران مقرر نہیں ہے تو پھر تو نے کیوں اس کی خاطر اپنی جان کو عذاب میں ڈال رکھا ہے۔ اسی مضمون میں آیت شریف ہے : فان اللہ یضل من یشاء ویھدی من یشاء فلا تذھب نفسک علیہم حسرات (35:8) سو اللہ جسے چاہے گمراہ کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت بخشتا ہے۔ سو ان پر افسوس کر کے کہیں آپ کی جان نہ جاتی رہے۔
اور فلعلک باخع نفسک علی اثارھم ان لم یؤمنوا بھذا الحدیث اسفا (18:6) سو شاید آپ ان کے (اعراض کئے) پیچھے غم سے اپنی جان دیدیں گے۔ اگر یہ لوگ اسی مضمون (قرآنی) پر ایمان نہ لائے۔
Ayah 25:44(25:44) ام۔ کیا۔ خواہ۔ یا ۔
یحسب : مضارع واحد مذکر حاضر۔ تو گمان کرتا ہے، تو خیال کرتا ہے۔ (باب حسب ، سمع) حسبان مصدر۔
ان ھم : میں ان نافیہ ہے۔
بل : حرف اضراب ہے۔ یہاں تدارک کی دوسری صورت ہے (پہلی صورت 25:40 ملاحظہ ہو) کہ پہلے حکم کو برقرار رکھ کر اس کے مابعد کو اس حکم پر اور زیادہ کردیا جائے ۔ جیسے بل قالوا اضغاث احلام۔ بل افترہ بل ہو شاعر (21:5) بلکہ انہوں نے کہا کہ خیالات پریشاں ہیں بلکہ اس کو اس نے (آنحضرت ﷺ نے) گھڑلیا ہے بلکہ یہ شاعر ہے۔
مطلب یہ کہ ایک قرآن کو خیالات پریشان کہتے ہیں پھر مزید اسے افتراء بتلاتے ہیں اور اسی پر اکتفاء نہیں کرتے بلکہ نعوذ باللہ آپ کو شاعر سمجھتے ہیں۔ یہاں آیۃ ہذا میں ہے کہ وہ محض چوپایوں کی مانند ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں۔
Ayah 25:45(25:45) الم تر۔ الف استفہامیہ ہے لم تر مضارع مجزوم نفی جحد بلم۔ صیغہ واحد مذکر حاضر کیا تو نے نہیں دیکھا۔
الی ربک : ای الی صنع ربک۔ تیرے رب کی کاریگری کی طرف۔ اپنے رب کی کاریگری کی طرف۔
ساکنا۔ اسم فاعل واحد مذکر سکون سے۔ غیر متحرک ، ٹھہرا ہوا۔ ولا شاء لجعلہ ساکنا جملہ معترضہ ہے۔ ثم حرف عطف ہے، بمعنی پھر۔ اور جعلنا کا عطف مد (جملہ سابقہ پر ہے۔ اسی طرح اگلی آیت میں قبضنہ کا عطف بھی مد پر ہے۔
دلیلا۔ راہنما ۔ راہبر۔ راہ بتانے والا۔ نشانی۔ بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ بمعنی فاعل ہے۔ ملاحوں کی اصطلاح میں دلیل اس شخص کو کہتے ہیں جو کشتیوں کو راہ بتاتا ہوا چلے۔
Ayah 25:46(25:46) قبضنہ : قبضنا ماضی جمع متکلم ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع الظل ہے۔ ہم اس کو سمیٹ لیتے ہیں۔ کھینچ لیتے ہیں۔ پکڑ لیتے ہیں۔ قبضہ کرلیتے ہیں (ماضی بمعنی حال قبض مصدر) ۔
یسیرا۔ صفت مشبہ واحد مذکر۔ منصوب یسر مادہ۔ آہستہ آہستہ (غیر محسوس طور پر) تھوڑا ۔ آسان ۔ سہل۔
فائدہ : آیات 45 - 46 کا ترجمہ : کیا تو نے اپنے رب (کی کاریگری) کو نہیں دیکھا کہ کس کس طرح سائے کو پھیلا دیتا ہے اور اگر وہ چاہتا تو اسے ٹھہرا ہوا (دائمی) بنا دیتا ۔ پھر ہم نے سورج کو اس پر دلیل بنایا۔ (کہ آفتاب کی پوزیشن کے لحاظ سے گھٹتا بڑھتا ہے) پھر اس سایہ کو اپنی طرف آہستہ آہسۃ سمیٹتے چلے جاتے ہیں۔
صاحب تفہیم القرآن نے اس کی تشریح یوں کی ہے :۔ اس آیت کے دوزخ ہیں۔ ایک ظاہری اور ایک باطنی۔ ظاہر کے اعتبار سے یہ غفلت میں پڑے ہوئے مشرکین کو بتارہی ہے کہ اگر تم دنیا میں جانوروں کی طرح نہ جیتے اور کچھ عقل و ہوش کی آنکھوں سے کام لیتے تو یہی سایہ جس کا تم ہر وقت مشاہدہ کرتے ہو تمہیں یہ سبق دینے کے لئے کافی تھا کہ نبی جس توحید کی تعلیم دے رہا ہے وہ بالکل برحق ہے تمہاری ساری زندگی اسی سائے کے مدوجزر سے وابستہ ہے ۔ ابدی سایہ ہوجائے تو زمین پر کوئی مخلوق جاندار بلکہ نباتات تک باقی نہ رہ سکے۔ کیونکہ سورج کی روشنی و حرارت اسی پر ان سب کی زندگی موقوف ہے۔ سایہ بالکل نہ رہے یب بھی زندگی محال ہے کیونکہ ہر وقت سورج کے سامنے رہنے اور اس کی شعاعوں سے کوئی پناہ نہ پاسکنے کی صورت میں نہ جاندار زیادہ دیر تک باقی رہ سکتے ہیں اور نہ نباتات بلکہ پانی تک کی خیر نہیں دھوپ اور سائے میں یک لخت تغیرات ہوتے رہیں تب بھی زمین کی مخلوقات ان جھٹکوں کو زیادہ دیر نہیں سہار سکتی۔
مگر ایک صانع حکیم قادر مطلق ہے جس نے زمین اور سورج کے درمیان ایسی مناسبت قائم کر رکھی ہے جو دائما ایک لگے بندھے طریقے سے آہستہ آہستہ سایہ ڈالتی اور بڑھاتی گھٹاتی ہے اور بدریج دھوپ نکالتی اور چڑھاتی اور اتارتی رہتی ہے یہ حکیمانہ نظام نہ اندھی فطرت کے ہاتھوں خود بخود قائم ہوسکتا تھا اور نہ بہت سے با اختیار خدا اسے قائم کرکے یوں ایک مسلسل باقاعدگی کے ساتھ چلا سکتے تھے۔
مگر ان ظاہری الفاظ کی بین السطور سے ایک اور لفط اشارہ بھی جھلک رہا ہے اور وہ یہ ہے کہ کفر و شرک کی جہالت کا یہ سایہ جو اس وقت چھایا ہوا ہے کوئی مستقل چیز نہیں ہے۔ آفتاب بدایت قرآن اور محمد ﷺ کی صورت میں طلوع ہوچکا ہے۔ بظاہر یہ سایہ دور دور تک پھیلا نظر آتا ہے مگر جوں جوں یہ آفتاب چڑھے گا یہ سایہ سمٹتا جائے گا۔ البتہ ذرا صبر کی ضرورت ہے۔ خدا کا قانون کبھی یک لخت تغیر نہیں لاتا۔
مادی دنیا میں جس طرح سورج آہستہ آہستہ ہی چڑھتا ہے اور سایہ آہستہ آہستہ ہی سکڑتا ہے اسی طرح فکر و اخلاق کی دنیا میں بھی آفتاب ہدایت کا عروج اور سایہ ضلالت کا زوال آہستہ آہستہ ہی ہوگا ۔
Ayah 25:47(25:47) لباسا۔ مفعول ، منصوب۔ لباس کی طرح۔ یعنی رات لباس کی طرح ہے دونوں عیب پوش بھی ہیں اور سکون بخش بھی۔
سباتا : سبت یسبت ویسبت (نصر۔ ضرب) ہفتہ کے دن میں داخل ہونا۔ سبت منانا۔ آرام لینا۔ سباتا آرام لینے کے لئے۔ السبت کے معنی کاٹنے (قطع کرنے) کے بھی ہیں۔ جیسے کہتے ہیں کہ سبت شعرہ اس نے اپنے بال مونڈے یا سبت انفہ اس نے اس کی ناک کاٹ ڈالی۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوا کہ حرکت و عمل سے قطع تعلق کرکے آرام کرنا۔ جیسا کہ قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے ھو الذی جعل لکم الیل لتسکنوا فیہ (10:67) وہ وہی (اللہ ) تو ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی کہ تم اس میں چیز پاؤ۔
نشورا : ای ذانشور، پھیلنے والا۔ نشر ینشر (نصر) نشور۔ نشر الثوب کپڑا پھیلانا۔ نشر الخبر۔ خبر کو نشر کرنا۔ مشہور کرنا۔ پھیلانا۔ (اسی معنی میں یہاں استعمال ہوا ہے) ۔
ای ینشر فیہ الناس لطلب المعاش۔ لوگ اس (دن) کے دوران (زمین میں) پھیل جاتے ہیں رزق کی تلاش میں۔ اسی سے ہے انتشار (باب افتعال) پھیلنا، متفرق ہونا۔ بکھرجانا۔
نشر ینشر (نصر) اللہ کا (مردوں کو) زندہ کرکے اٹھانا۔ یا مردے کا زندہ ہو کر اٹھ کھڑا ہونا۔ اور اگر یہاں اس آیت میں اس معنی میں لیا جائے تو جعل النھار نشور کا ترجمہ ہوگا اور ان کو (نیند سے جو موت کی مانند ہے) اٹھ کھڑا ہونا بنایا۔
Ayah 25:48(25:48) بشرا۔ خوشخبری دینے والیاں۔ بروزن فعل بشیرۃ کی جمع ہے۔
بین : البین کے معنی دو چیزوں کا درمیان اور وسط کے ہیں۔ جیسا قرآن مجید میں آیا ہے :۔۔ وجعلنا بینھما زرعا (18:32) اور ان دونوں کے درمیان ہم نے کھیتی پیدا کردی تھی۔ اور کبھی جدائی کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے جیسے عرب والے بولتے ہیں بان کذا۔ یعنی وہ چیز جدا ہوگئی۔ کبھی وصل و ملاپ کے معنوں میں جیسے لقد تقطع بینکم (6:94) اور تمہارا آپس میں تعلق ٹوٹ گیا۔
سو بین بمعنی درمیان۔ بیچ۔ جدائی ، ملاپ۔ استعمال ہوتا ہے۔ لیکن جب بین کی اضافت ایدی (ہاتھوں کی جمع) کی طرف ہو تو اس کے معنی سامنے اور قریب کے ہوتے ہیں۔ مثلاً ثم لاتینھم من بین ایدیہم (7:17) پھر میں ان کے سامنے سے آؤں گا۔ اور وجعلنا من بین ایدیہم سدا ومن خلفھم سدا (36:9) اور ہم نے ان کے آگے بھی دیوار بنادی اور ان کے پیچھے بھی۔ (نیز ملاحظہ ہو 27:63) ۔
بشرا۔ بشرا سے مخفف ہے۔ اس کی جمع بشور بمعنی مبشر خوشخبری دینے والا۔ یا یہ بشر (بروزن فعل) ۔ بشیرۃ کی جمع ہے بمعنی خوشخبری دینے والیاں ۔
وھو الذی ارسل الریاح بشرا بین یدی رحمتہ : اور وہی تو ہے جو اپنی رحمت (یعنی بارش) سے پہلے ہواؤں کو خوشخبری دینے والیاں بنا کر بھیجا ہے (یعنی پہلے ہوا چلتی ہے پھر بادل آتے ہیں اور پھر بارش ہوتی ہے) ۔
انزلنا ماضی جمع متکلم یہ التفات ضمائر صیغیہ واحد غائب سے صیغہ جمع متکلم کی طرف اس کی کمال عنایت کے اظہار کے لئے ہے۔
ماء طھورا۔ موصوف صفت۔ پاکیزہ پانی۔ انزلنا کا مفعول ہے۔
Ayah 25:49(25:49) لنحی میں لام تعلیل کی ہے اور صیغہ جمع متکلم منصوب بوجہ عمل لام۔ تاکہ ہم زندہ کریں۔
بہ : میں ہ کا مرجع ماء طھورا ہے۔
بلدۃ میتا۔ موصوف، صفت، مردہ بستی۔ غیر آباد شہر، جہاں کوئی بناتات نہ ہو۔ بلدۃ بمعنی البلد ہے اور اسی وجہ سے میتا مذکر لایا گیا ہے۔
نفسیہ : نسقی۔ مضارع جمع متکلم منصوب۔ کیونکہ نسقی کا عطف لنحی پر ہے۔ ای لنسفیہ۔ اسفاء مصدر ہ ضمیر مفعول جس کا مرجع ماء طھورا ہے۔ تاکہ ہم (وہ پانی) پلائیں یا پینے کے لئے فراہم کریں۔ یا اس سے سیراب کریں۔
مما۔ من۔ ما سے مرکب ہے۔ من تبعیضیہ ہے اور ما اسم موصول۔
انعاما۔ الانعام ۔ مویشی۔ بھیڑ۔ بکری۔ گائے۔ بھینس اور اونٹ یہ نعم کی جمع ہے۔ مویشی کو اس وقت تک انعام نہیں کہا جاسکتا جب تک کہ ان میں اونٹ شامل نہ ہو۔
اناسی۔ یہ یا انسی کی جمع ہے جیسے کرسی کی جمع کر اسی ہے یا یہ انسان کی جمع ہے اور اصل میں اناسین تھا جیسے سرحان کی جمع سراحین اور بستان کی جمع بساتین ہے نون کو ی سے بدلا اور یاء کو یاء میں مدغم کیا۔
انعام و اناسی کو تنویع (مختلف النوع) کی خاطر نکرہ لایا گیا ہے۔ ترجمہ :۔ اور ہم پلائیں یہ پانی اپنی مخلوق میں سے کثیر التعداد اور مویشیوں اور انسانوں کو۔
Ayah 25:50(25:50) صرفنہ : صرفنا۔ ماضی جمع متکلم ہ ضمیر مفعول واحد مذکر گا ئب ضمیر کا مرجع الماء المنزل من السماء ہے آسمان سے نازل کیا ہوا پانی یعنی بارش۔ ہم تقسیم کرتے رہتے ہیں۔ ہم بانٹتے رہتے ہیں۔
لیذکرو۔ لام تعلیل کا ہے۔ صیغہ جمع مذکر غائب منصوب بوجہ عامل لام تعلیل ۔ تاکہ وہ غور و خوض کریں۔ تاکہ وہ نصیحت پکڑیں۔
فابی : ابی یابی (باب فتح) اباء مصدر۔ ابی ماضی واحد مذکر غائب۔ اس نے سختی سے انکار کیا۔ ای ابوا عن عذکر۔ انہوں نے (اس کی ان نعمتوں پر غور کرنے اور خدا وند تعالیٰ کے حق النعمۃ کو پہچاننے اور اس سے نصیحت حاصل کرنے سے) انکار کردیا۔
کفورا۔ کفر۔ کفران۔ انکار۔ مصدر ہے۔ الا کفورا سوائے کفران نعمت کے (یعنی انہوں نے خد کی نعمتوں کا حق پہچاننے سے انکار کردیا۔ اور کفران نعمت (یعنی اپنی ناشکری) پر اڑے رہے۔ ناشکری کی کئی صورتیں ہیں۔
نعمت میں ہی میں میخ نکالنا۔ یہ بارش تھوڑی ہے۔ وقت پر نہیں ہوئی۔ اس کے ساتھ جھکڑ تھا وغیرہ وغیرہ، یا اسے کسی دوسرے کی طرف منسوب کرنا وغیرہ وغیرہ۔
Ayah 25:51(25:51) لبعثنا۔ لام تاکید کے لئے ہے۔ بعثناماضی کا صیغہ جمع متکلم ہے۔ بعث مصدر۔ (باب فتح) ہم نے بھیجا۔ لبعثنا ہم ضرور بھیجتے
Ayah 25:52(25:52) لاتطع۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ اطاع یطیع (باب افعال) اطاعت کرنا ۔ حکم ماننا۔ کہا ماننا۔ لاتطع تو کہا مت مان۔ تو اطاعت نہ کر۔ طوع مادہ۔
Ayah 25:53(25:53) مرج۔ المرج کے اصل معنی خلط ملط کرنے اور ملا دینے کے ہیں۔ المروج مل جانا۔ اختلاط۔ اسی معنی میں قول حق تعالیٰ ہے۔ فھم فی امر مریج (50:5) سو یہ ایک الجھن میں پڑے ہوئے ہیں۔ وھو الذی مرج المحرین اور وہی ہے جس نے دو سمندروں کو ملا رکھا ہے۔
ھذا عذب فرات : ھذا یعنی ان دونوں میں سے ایک۔ عذب میٹھا پانی۔ شیریں، عذوبۃ سے جس کے معنی اپنی کے میٹھا اور خوشگوار ہونے کے ہیں۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ فرات بمعنی شدید العذوبۃ۔ نہایت شیریں پانی، فروتہ (باب کرم فرت یفرت سے) یہ بھی صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ ھذا عذب فرات یہ شیریں ولذیذ پانی۔
وھذا ملح اجاج : ملح (ملح یملح باب کرم سے) یہ بھی صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ بہت نمکین۔ اجاج بھی اج یؤج اجوج فھو اجاج سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ بمعنی ملح مر۔ کڑوا کھاری پانی۔ وھذا ملح اجاج اور یہ نہایت کھاری اور کڑوا پانی۔
برزخا۔ برزخ، رکاوٹ، دو چیزوں کے درمیان کی حد۔ حد فاضل ۔ یا موت اور حشر کی درمیانی مدت کو بھی برزخ کہتے ہیں۔
حجر محجورا۔ قوی روکاوٹ۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو 25:22)
ان دونوں سمندروں کے متعلق متعدد واقول اور روایات ہیں۔ اور ان کی کتب تفسیر میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔
Ayah 25:54(25:54) الماء سے عام پانی مراد ہوسکتا ہے جو کہ حضرت آدم (علیہ السلام) لا خمیر اٹھانے میں استعمال ہوا ۔ یا اس سے مراد مادہ منویہ ہے۔
بشرا۔ سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) بھی ہوسکتے ہیں اور اس صورت میں تنوین تعظیم کے لئے ہے۔ یا یہ جنس بشر کے لئے ہے یعنی آدم و اولاد آدم علیہ السلام۔
فجعلہ نسبا وصھرا : ای قسمۃ قسمین ذوی نسب : ای ذکورا۔ ینسب الیہم وذوات صھر۔ یعنی پھر اس بشر کو دو قسموں میں تقسیم کیا :۔
(1) ذوی نسب ۔ یعنی مرد کہ جن سے نسب چلتا ہے اور کہا جاتا ہے فلاں بن فلاں ۔
(2) ذوات صبر۔ (یعنی عورتیں کہ جن سے سسرالی رشتہ، دامادی رشتہ) ۔
مطلب یہ کہ ایک ناپاک، ناچیز قطرہ آب (نطفہ) سے مردوں اور عورتوں کو پیدا کرکے باہمی قرابتوں اور رشتہ داریوں کا ایک وسیع چال پھیلا دیا۔ جس میں تمام انسانی معاشرہ باہمی محبت و احترام کے جذبات کے ساتھ منسلک ہے۔
قدیرا۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے اور بوجہ خبر کان منصوب سے۔ قدیر اس کو کہتے ہیں کہ جو اپنی حکمت کے موافق جیسا چاہے کرے۔ یہ صفت سوائے خدا وتعالیٰ کے کسی میں نہیں ہے۔ اس نے قدیر سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کو نہیں کہہ سکتے۔
Ayahs 25:55–56(25:55) الکافر۔ مفرد ہے لیکن بطور اسم جنس یہاں استعمال ہوا ہے۔
ظھیرا۔ پشتیبان۔ مددگار۔ مظاھرۃ (مفاعلۃ) سے بروزن فعیل بمعنی فاعل صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ واحد اور جمع دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ظھر۔ پیٹھ، پشت۔
Ayah 25:57(25:57) علیہ : علی تبلیغ الرسالۃ او علی المذکور من التبشیر : والانذار علی القران۔ احکام رسالت کی تبلیغ یا بشارت دینے اور ڈرانے کے فرائض کی ادائیگی ۔ یا تبلیغ قرآن۔ یعنی ان میں سے کسی کام کی تم سے اجرت نہیں مانگتا۔
الا۔ حرف اسثنائ۔ اجر مستثنی منہ۔ من شاء مستثنیٰ منقطع (کیونکہ یہ مستثنیٰ کی جنس سے نہیں ہے) ۔
ترجمہ یوں ہوگا :۔ (اے محمد ﷺ ) کہہ دیجئے کہ میں اس (خوشخبری سنانے یا ڈرانے) کا تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا سوائے اس کے کہ جو کوئی چاہے اپنے رب کی طرف کا راستہ اختیار کرے۔
یتخذ مضارع واحد مذکر غائب منصوب بوجہ عمل ان ناصبہ۔ اتخاذ (افتعال) سے مصدر۔ اختیار کرتا ہے ان یتخذ کہ اختیار کرے
Ayah 25:58(25:58) توکل : توکل (تفعیل) سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ توکل کر بھروسہ رکھ۔ اعتماد کر۔
الحی۔ زندہ۔ حیاۃ سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے۔
کفی۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ (باب ضرب) یہ صیغہ ماضی کا ہے۔ لیکن مراد استمرار ہے۔ کفایۃ مصدر بھی ہے اور اسم مصدر بھی ہے۔ کفایۃ اس چیز کو کہتے ہیں کہ جو ضرورت پوری کر دے۔ کفی ۔ کفی ۔ کافی۔ سب کے معنی ضرورت پوری کرنے والا۔ جس کے بعد کسی کی حاجت نہ رہے۔ کفی کا استعمال لغت عرب میں دو طرح آیا ہے :۔
(1) متعدی، مثلاً کفاک الشیئ۔ تیرے لئے وہ چیز کافی ہے یا جیسے قرآن مجید میں ہے :۔ وکفی اللہ المؤمنین القتال (33:25) اور جنگ میں اللہ اہل ایمان کے لئے کافی ہوگیا۔ اس صورت میں فاعل کے ساتھ باء حرف جر نہیں آتا۔
(2) لازم۔ فاعل کے ساتھ باء حرف جر لایا جاتا ہے یہ باء زائدہ ہے محض تاکید کے لئے آتا ہے مثلاً وکفی باللہ نصیرا (4:45) اور بطور مددگار اللہ ہی کافی ہے۔
فاعل مجرور بالباء (جس فاعل سے قبل باء حرف جر ایا ہو) کے بعد تمیز لایا جاتا ہے ۔ جیسا کہ نصیرا۔
وکفی بہ بذنوب عبادہ خبیرا۔ بہ ضمیر فاعل کے ساتھ باء زائدہ ہے اور خبرا تمیز ہے۔ اور اپنے بندوں کے گناہوں سے باخبر ہونے کے لئے وہی (اللہ) کافی ہے یعنی وہ اس قدر باخبر ہے کہ اس کے بعد کسی اور کی ضرورت نہیں رہتی۔
Ayah 25:59(25:59) الذی خلق السموت والارض وما بینھما فی ستۃ ایام ثم استوی علی العرش ۔ الرحمن فسئل بہ خبیرا۔ ترکیب کے لحاظ سے اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں :۔
(1) الذی اسم موصول ۔ محل جر ہے اور الحی (آیۃ 58) کی دوسری صفت ہے اور خلق السموت والارض ۔۔ اس کا صلہ۔
(2) الذی خلق (بصورت محل رفع۔ مبتدا ہے اور الرحمن اس کی خبر ہے۔
(3) الرحمن مبتدا ہے اور فسئل بہ خبیرا اس کی خبر ہے۔
لفظ بہ میں با بمعنی عن استعمال ہوئی ہے۔ یوں بھی سوال کا صلہ عن اور ب دونوں آتے ہیں۔ مثلاً :۔
(1) سئل سائل بعذاب واقع للکفرین (70:1-2) ایک مانگنے والے نے (اس ) عذاب کا سوال کیا ہے جو کافروں پر واقع ہونے والا ہے۔
(2) ثم لتسئلن یؤمئذ عن النعیم (102:81) پھر اس روز تم سے (ہر) نعمت کی پوچھ ہوگی۔
بہ، خبیرا کا صلہ بھی ہوسکتا ہے۔ ای فسئل (رجلا) خبیرا بہ یعنی اس سے پوچھ جو اس کے متعلق علم رکھتا ہو۔ ان ہر دو حالتوں میں (یعنی فسئل بہ اور خبیرا بہ) ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع الرحمن ہے۔
پہلی صورت میں ترجمہ ہوگا :۔ اس کے متعلق پوچھ کسی خبر رکھنے والے سے۔
دوسری صورت میں : جو اس کے متعلق خبر رکھتا ہے اس سے پوچھ۔
خبیرا سے مراد من علم بہ من اہل الکتاب (اہل کتاب مٰں سے کوئی ظالم بھی ہوسکتا ہے اور بقول ابن عباس ؓ اس سے مراد حضرت جبرائیل (علیہ السلام) بھی ہوسکتے ہیں۔
Ayah 25:60(25:60) انسجد بماتا مرنا۔ میں ما مصدریہ بھی ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا :۔ کیا تیرے کہنے پر ہم سجدہ کریں۔ ما موصولہ بھی ہوسکتا ہے بمعنی الذی ترجمہ ہوگا :۔ کیا جس کے لئے تم حکم کرو ہم اسی کو سجدہ کرنے لگیں۔
زادھم : زاد ماضی واحد مذکر غائب زیادۃ مصدر (باب ضرب) ھم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب (اس ضمیر کا مرجع مشرکین ہیں) زاد میں ضمیر فاعل امر بالسجود للرحمن ہے یعنی رحمن کو سجدہ کرنے کا حکم نے ان کی نفرت کو اور بڑھا دیا۔
نفورا۔ کسی چیز سے دور بھاگنا۔ اسی معنی میں ہے وما یریدھم الا نفورا (17:41) مگر وہ حق سے اور زیادہ دور ہی بھاگے جا رہے ہیں اسی معنی میں موجودہ آیت میں استعمال ہوا ہے وزارھم نفورا یعنی رحمن کو سجدہ کرنے کے حکم نے ان کی (حق سے دوری کو) اور بڑھا دیا۔ یعنی ان کی نفرت اور بڑھ گئی۔ اس جملہ کا عطف قالوا پر ہے ای قالوا ذلک وزادھم نفورا۔
الی کا صلہ کے ساتھ نفر الی کے معنی کسی کی طرف دوڑنے کے ہیں مثلاً نفرا لی الحرب نفرا۔ لڑائی کے لئے نکلنا۔
Ayah 25:61(25:61) بروجا : برج کی جمع۔ علم فلکیات کے مطابق یہ بارہ برج ہیں جن کے نام یہ ہیں :۔ الحمل۔ الثور ۔ الجوزاء ۔ السرطان ۔ الاسد۔ السنبلۃ ۔ المیزان ۔ العقرب ۔ القوس۔ الجدی ۔ الدلو ۔ الحوت۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ والسماء ذات البروج (85:1) قسم ہے برجوں والے آسمان کی۔ برج بمعنی بلند عمارت اور محل بھی ہے جیسے ولو کنتم فی بروج مشیدۃ (4:78) خواہ تم مضبوط قلعوں ہی میں ہو۔
سراجا : السراج (چراغ) وہ چیز جو بتی اور تیل سے روشن ہوتی ہے۔ مجازاً ہر روشن چیز کو روشن کہا جاتا ہے۔ یہاں سراجا سے مراد روشن سورج ہے۔ جیسا کہ اور جگہ فرمایا : وجعل الشمس سراجا (71:16) اور آفتاب کو چراغ (کی طرح روشن بنایا) ۔ سراج کی جمع سرج ہے۔
منیرا۔ اسم فاعل واحد مذکر منصوب۔ انارۃ مصدر۔ (باب افعال) نور مادہ۔
Ayah 25:62(25:62) خلفۃ : خلف بمعنی پیچھے قدام کی ضد ہے۔ خلف یخلف (نصر) خلافۃ جانشین ہونا۔ خلف جو کسی کا جانشین اور قائم مقام ہو۔ خلفۃ ایک کا دوسرے کے بعد آنا یا قائم مقام ہونا۔ ھن یمشین خلفۃ وہ سب ایک دوسرے کے بعد آجاری ہیں۔ جعل الیل والنھار خلفۃ۔ اس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے والا بنایا۔
لمن اراد ان یذکر او اراد شکورا۔ میں او بمعنی واؤ (اور) کے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ (یہ سب) سمجھنے والے کی نظر میں استدلالات ہیں اور شکر گزاری کرنے والے کی نظر میں انعامات ہیں۔ شکورا مصدر۔ شکر یشکر سے شکر گزاری۔ شکر کرنا۔
Ayah 25:63(25:63) وعباد الرحمن۔ اللہ کے بندوں کے اوصاف کا بیان ہے۔ نیا موضوع شروع ہوتا ہے۔
یمشون۔ مضارع جمع مذکر غائب مشی یمشی (ضرب) مشی مصدر، وہ چلتے ہیں ۔
ھونا۔ اسم اور مصدر۔ نرم چال۔ نرم چال سے چلنا۔ یرنی اکڑ کر شیخی کے ساتھ نہ چلنا۔ ھان یھون ھونا (نصر) نرم و آسان ہونا۔ ھان یھون ھونا ومھانا ومھانۃ ذلیل و حقیر ہونا۔ پہلے معنی میں آیت ہذا کی مثال ہے یمشون علی الارض ھونا وہ زمین پر نرم چال (یعنی متواضع ہوکر) چلتے ہیں۔ اور دوسرے معنی میں مثال : وللکفرین عذاب مھین (12:9) اور کافروں کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔ ھونا۔ مشی سے حال ہے یا صفت۔
Ayah 25:64(25:64) یبیتون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ بات یبیت (ضرب) بیتوتۃ مصدر وہ رات گزارتے ہیں۔ افعال ناقصہ میں سے ہے
لربھم : سجد اوقیاما سے متعلق ہے۔
سجدا ساجد کی جمع ہے ۔ سجدہ کرنے والے۔
قیاما : قائم کی جمع ہے کھڑا ہونے والے۔ سجدا وقیاما۔ دونوں بوجہ حال ہونے کے منصوب ہیں۔ مراد دونوں سے نماز ہے
Ayah 25:65(25:65) اصرف : صرف یصرف (ضرب) صرف سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر تو ہٹا دے۔ تو پھیر دے۔
غراما : الغرم مفت کا تاوان یا جرمانہ ۔ وہ مال نقصان جو کسی قسم کی خیانت یا جنایت (جرم) کا ارتکاب کئے بغیر انسان کو اٹھانا پڑے۔ مثلاٍ قرآن مجید میں ہے انا لمغرمون (56:66) (ہائے) ہم مفت میں تاوان میں پھنس گئے یا فھم من مغرم مثقلون (52:40) کہ ان پر تاوان کا بوجھ پڑ رہا ہے۔ اور جو تکلیف یا مصیبت پہنچتی ہے اسے غرام کہاجاتا ہے لہٰذا پیہم تکلیف یا ہلاکت کے لئے اس کا استعمال ہوتا ہے ان عذابھا کان غراما بیشک اس کا عذاب پیہم اور ہلاکت خیز ہے۔
Ayah 25:66(25:66) انھا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب جھنم کے لئے ہے۔
ساء ت : ساء یسوء (نصر) سوء سے ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب ہے وہ بری ہے ۔
مستقرا۔ اسم ظرف مکان منصوب، بوجہ تمیز۔ استقرار (استفعال) مصدر بمعنی قرار گاہ۔ ٹھہرنے کی جگہ۔
مقام۔ اسم ظرف مکان۔ منصوب بوجہ تمیز اقامۃ (افعال) مصدر۔ رہنے کی جگہ یعنی جہنم بطور قرار گاہ اور جائے مقام بہت بری ہے
Ayah 25:67(25:67) انفقوا۔ ماضی جمع مذکر غائب انفاق (افعال) مصدر۔ انہوں نے خرچ کیا۔ ماضی بمعنی حال۔ وہ خرچ کرتے ہیں۔
لم یسرفوا مضارع نفی جحد بلم۔ جمع مذکر غائب اسراف (افعال) مصدر ۔ وہ فضول خرچی نہیں کرتے۔ بےجا نہیں اڑاتے۔ بیجا سرف کرنا مقدار اور کیفیت دونوں کے لحاظ سے بولا جاتا ہے۔ چناچہ حضرت سفیان ثوری (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی کرکے ایک حبہ بھی خرچ کیا جائے تو وہ بھی اسراف میں داخل ہے۔
حدا عتدال سے تکاوز کرنا بھی اسراف ہے چناچہ قرآن مجید میں ہے :۔ ان اللہ لا یھدی من ھو مسرف کذاب (40:28) بیشک خدا اس شخص جو ہدایت نہیں دینا جو حد سے نکل جانے والا (اور) جھوٹا ہے۔
لم یفتروا۔ مضارع مجزوم نفی جحد بلم جمع مذکر غائب قتر مصدر (باب نصر) وہ خرچ میں تنگی نہیں کرتے ، کنجوسی نہیں کرتے، دولت کو خدا کی راہ میں خرچ کرنے سے بخل سے کام نہیں لیتے ۔ مقتر بمعنی فقیر یا تنگ دست بھی ہے چناچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے وعلی المقتر قدرہ (2:236) اور تنگ دست اپنی حیثیت کے مطابق ۔ اور تنگی والے کے ذمہ اسکی حیثیت کے لائق ۔
کان : ای کان انفاقھم۔ بین ذلک ای بین الاسراف والقتر قواما وسطا وعدلا۔ کان فعل انفاقھم۔ اسم (محذوف) بین ذلک خبر اول قواما خبر ثانی۔ ان کا خرچ کرنا فضول خرچی اور کنجوسی کے درمیان اعتدال پر ہوتا ہے۔
قواما : قوم مادہ قوام اور قیام اس چیز کو کہتے ہیں جس سے کسی شے کی بقاء اور درستگی ہو یعنی درستی اور بقاء کا سہارا۔ اسراف اور بخل کے درمیان حد اوسط، میانہ، معتدل، متوسط۔
Ayah 25:68(25:28) یلق۔ مضارع مجزوم بوجہ جواب شرط۔ اصل میں یلقی تھا۔ لقی مصدر (باب سمع) وہ پائے گا۔ لقاء بھی مصدر ہے جس کے معنی کسی کے سامنے آنے اور اسے پالینے کے ہیں۔ ان دونوں معنی میں سے ہر ایک پر الگ الگ بھی بولا جاتا ہے۔ سامنے آنے کے معنی میں ہے واعلموا انکم ملقوہ (2:223) اور جان رکھ کہ ایک دن تمہیں اس کے روبرو حاضر ہونا ہے ۔ اور پالینے کے معنی ہے فمن یلق خیرا یحمد الناس امرہ جو شخص خیر کو پالیتا ہے لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں۔
اثاما۔ گناہ۔ مجازا عذاب۔ یلق اشاما : ای یلق جزاء اثام۔ یعنی گناہوں کی سزا پائے گا۔ گناہوں کا عذاب پائے گا۔ اثام۔ اثم کی جمع ہے بمعنی گناہ۔
Ayah 25:69(25:69) یضعف۔ مضارع مجہول مجزوم واحد مذکر غائب (باب مفاعلہ) وہ دو گناہ کیا جائیگا۔ یلق سے بدل ہے مبدل منہ کی مطابقت میں مجزوم ہے۔
یخلد۔ مضارع مجزوم واحد مذکر غائب خلود مصدر باب نصر۔ وہ ہمیشہ رہیگا۔ مجزوم بوجہ یضاعف کے معطوف ہونے کے۔
فیہ ای فی ذلک العذاب المضاعف۔ اس دو چند کئے گئے عذاب میں۔
مھانا اسم مفعول واحد مذکر اھانۃ مصدر (باب افعال) ھون مادہ۔ ذلیل کیا ہوا ۔ یخلد سے حال ہے۔ (نیز ملاحظہ ہو 25:63)
Ayah 25:70(25:70) الا حرف استثنائ۔ استثناء متصل ہے اس میں مستثنیٰ من تاب وامن و عمل عملا صالحا (موصول بمعہ اپنے صلہ کے) اور مستثنیٰ منہ ومن یفعل ذلک یلق اثاما ہے الا من ۔۔ صلحا سوائے اس کے جس نے توبہ کرلی۔ ایمان لے آیا۔ اور نیک کام کیا ۔ یا الا بمعنی لیکن ہے جیسا کہ الا من تولی وکفر (88:23)
اولئک۔ اسم اشارہ (جمع کیلئے آتا ہے) وہ سب ۔ مشار الیہ وہ افراد جو من تاب وامن وعمل عملا صالحا میں مراد ہیں
یبدل۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ یبدیل (تفعیل) مصدر ، وہ بدل ڈالے گا۔
سیاتھم۔ مضاف مضاف الیہ۔ یبدل کا مفعول ۔ ان کی برائیاں ۔ ان کے گناہ۔
Ayah 25:71(25:71) عمل صلحا : ای عمل عملا صالحا (جس نے) نیک کام کئے۔
یتوب الیٰ ۔ مضارع واحد مذکر غائب کسی کے آگے توبہ کرنا۔ اور علی کے صلہ کے ساتھ بمعنی توبہ قبول کرنا۔ التوب (باب نصر) کے معنی گناہ کے باحسن وجوہ ترک کرنے کے ہیں اور یہ معذرت کی سب سے بہتر صورت ہے۔ کیونکہ اعتزار کی تین ہی صورتیں ہیں :۔
(1) پہلی صورت یہ ہے کہ عذر کنندہ اپنے جرم کا سرے سے انکار کر دے اور کہہ دے کہ میں نے کیا ہی نہیں۔
(2) دوسری صورت یہ ہے کہ اس کے لئے وجہ تلاش کرے اور بہانے تراشنے لگ جائے۔
(3) تیسری صورت یہ ہے کہ اعتراف جرم کے ساتھ آئندہ کرنے کا بھی یقین دلائے۔ اس آخری صورت کو توبہ کہا جاتا ہے۔
شرعا توبہ کو یوبہ جب کہیں گے کہ گناہ کو گناہ سمجھ کر چھوڑ دے اور اپنی کوتاہی پر نادم ہو اور دوبارہ نہ کرنے کا پختہ عزم کرلے۔
توبوا الی اللہ جمیعا (24:31) تم سب خدا کے آگے توبہ کرو (الیٰ کے صلہ کے ساتھ) اور فتاب علیہ (2:37) پھر (اللہ نے) اس کی توبہ قبول کرلی۔ (علیٰ کے صلہ کے ساتھ)
متابا مصدر میمی۔ تاب یتوب توبۃ ومتاب وتایۃ فعل کے بعد مصدر کو تاکید کے لئے لایا گیا ہے ۔ فانہ یتوب الی اللہ متابا۔ پس اسی نے خدا کے آگے کما حقہ توبہ کی۔
Ayahs 25:72–73(25:72) لایشھدون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب وہ شہادت نہیں دیتے۔ شھد یشھد (سمع) شھادۃ مصدر۔ گواہی دینا۔
الزور : الزور کے معنی سینہ کے ایک طرف جھکا ہونے کے ہیں اور جس کے سینہ میں ٹیڑھا پن ہو اسے الازور کہتے ہیں۔ اور اسی معنی میں قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے تز اور عن کھفھم (18:17) سورج ان کے غار سے ایک طرف کو ہٹ کر نکل جاتا ہے ۔ زور زور ازوار افعلال مصادر بمعنی انحراف۔ چونکہ جھوٹ بھی جہت راست سے ہٹا ہوا ہوتا ہے اس لئے اس کو شور کہا جاتا ہے۔
الزور یا تو بوجہ منصوب ہے یا یہ مضاف الیہ ہے اور مضاف شھادۃ محذوف ہے ۔ مضاف کا حذف کرکے مضاف الیہ کو اس کے قائم مقام لایا گیا اور اسی کی مطابقت سے منصوب سے ای انھم لایشھدون شھادۃ الزور۔
الغولغو ہر اس حرکت کو کہتے ہیں جو عبث اور لا یعنی ہو آخرت کے اعتبار سے یا دنیا کے اعتبار سے بیہودہ جس میں خیر کا کوئی پہلو نہ ہو
کراما : کریم کی جمع بزرگانہ انداز سے۔ ای مروا باہل اللغو والمشتغلین بہ مروا معرضین عنھم کراما مکرمین انفسھم من الخوض معہم فی لگوھم یعنی جب وہ اتفاقا بیہودہ لوگوں کے پاس سے جو لغویات میں مشغول ہوں گزرتے ہیں تو بڑے باوقار اور باعزت طریقے سے پہلو تہی کرکے نکل جاتے ہیں اور ان کی لغویات میں شریک ہونے سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں۔ اسی مضمون میں اور جگہ ارشاد ربانی ہے واذا سمعوا اللغوا عرضوا عنہ وقالوا لنا اعمالنا ولکم اعمالک سلم علیکم لا نبتغی الجاہلین (28:55) اور جب وہ یعنی اہل ایمان سنتے ہیں کسی بیہودہ بات کو تو منہ پھیر لیتے ہیں اس سے اور کہتے ہیں ہمارے لئے اعمال ہیں اور تمہارے لئے تمہارے اعمال وقت ضائع نہ کرو) ہم جاہلوں سے الجھنا نہیں چاہتے۔
کراما ضمیر فاعل مروا کا یا حال ہے یا تمیز، اور بدیں وجہ منصوب ہے۔
ذکروا۔ ماضی مجہول جمع مذکر غائب ۔ بمعنی حال۔ (جب) ان کو سمجھایا جاتا ہے (جب) انہیں نصیحت کی جاتی ہے۔
بایت ربھم : ربھم مضاف مضاف الیہ۔ دونوں مل کر مضاف الیہ ایت مضاف، باء بمعنی بذریعہ۔ یعنی بذریعہ ان کے رب کی آیات کے۔
لم یخروا۔ مضارع نفی جحد بلم۔ وہ نہیں گرپڑتے۔ خر یخر (باب ضرب) خرو خرور مصدر بلندی سے پستی میں گرنا۔ جیسے کانما خر من السماء (22:31) تو وہ گویا ایسا ہے جیسے آسمان سے گرپڑے۔ اور وخر موسیٰ صعقا (7:143) اور موسیٰ بیہوش ہوکر گڑ پڑے۔ خر علی۔ اچانک آپڑنا۔ اندھا دھند گرپڑنا۔ بغیر کسی نظم و ترتیب کے گرپڑنا۔
علیہا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع ایت ربھم ہے۔
صما۔ بہرے اصم کی جمع۔ عمیانا۔ اندھے۔ اعمی کی جمع ۔
ہر دو صما و عمیانا ضمیر فاعل لم یخروا سے حال ہیں لم یخروا علیہا صما و عمیانا۔ اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں :
(1) لفظی ترجمہ یہ ہوگا۔ تو وہ ان پر بہرے اندھے ہو کر نہیں گڑپڑتے۔
(2) نمبر (1) کی روشنی میں درج ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔
(ا) جملہ میں خرور کی نفی نہیں ہے بلکہ الصم اور العمی کی نفی ہے یعنی جب ان کو (عباد الرحمن کو) ان کے پروردگار کی آیات نصیحت کے لئے سنائی جاتی ہیں تو وہ بہروں اور اندھوں کا ساطرز عمل اختیار نہیں کرتے بلکہ ان کو گوش ہوش سے سنتے ہیں اور چشم بینا سے دیکھتے ہیں اور غور و فکر کرکے آیات کے اسرار و معارف تک آگاہی حاصل کرتے ہیں۔
(ب) اگر جملہ میں نفی خرور نہیں بلکہ اثبات ہے (جیسا کہ صاحب کشاف نے لکھا ہے) لیس بنفی للخرور وانما ھو اثبات لہ ونفی للصم والعمی۔ یعنی خرور کی نفی نہیں ہے بلکہ اس کا اثبات ہے اور نفی الصم والعمی (بہرہ پن اور اندھا پن) کی ہے تو عبارت یوں بھی ہوسکتی ہے اذا ذکروا بایت ربھم خروا علیہا صما و عمیانا ای لا یسمعون ما فیہما من الحق ولا یبصرونہ (اضواء القرآن) اس صورت میں ضمیر فاعل کا مرجع الکفار ہیں ۔ جو عباد الرحمن کے تذکرہ کے بعد مذکور ہیں۔ یعنی جب ان کے (کفار کے) رب کی آیات نصیحت کے لئے ان کو سنائی جاتی ہیں تو وہ بہرے اور اندھے ہوکر گرپڑتے ہیں ان میں جو حق کی بات ہے نہ اس کو سنتے ہیں اور نہ ہی اس کو چشم حق شناس سے دیکھتے ہیں۔
اس مضمون کو اور جگہ یوں ارشاد فرمایا ہے :۔ واذا تتلی علیہ ایتنا ولی مستکبرا کان لم یسمعھا کان فی اذنیہ وقرا (31:7) اور جب اس کے سامنے ہماری آیات پڑھی جاتی ہیں تو وہ تکبر کرتا ہوا منہ موڑ لیتا ہے جیسے اس نے سنا ہی نہیں گویا اس کے کانوں میں ثقل ہے۔ لیکن بیشتر مفسرین نے (2: ا) کو ہی اختیار کیا ہے اور سلسلہ کلام میں بھی قابل ترجیح یہی ہے۔
Ayah 25:74(25:74) قرۃ اعین مضاف مضاف الیہ ۔ آنکھوں کی ٹھنڈک۔ قر (نصر، ضرب، سمع) قر ۔۔ الیوم دن کا ٹھنڈا ہونا۔ اور قرت عینہ کسی کی آنکھ کو ٹھنڈا ہونا۔ قرۃ وقرۃ ورورۃ (ضرب، سمع) قرۃ ٹھنڈک، تازگی۔۔ جسے دیکھ کر انسان کو خوشی حاصل ہو اسے قرۃ عین کہا جاتا ہے جیسے قرۃ عین لی ولک (28:9) یہ میری اور تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ اعین عین کی جمع ہے آنکھیں۔ عین کی جمع عیون واعیان بھی ہے۔ قرۃ بوجہ مفعول ھب منصوب ہے۔
ھب فعل امر واحد مذکر حاضر وھب وھبۃ مصدر (باب فتح 9 تو عطا کر۔ تو بخش۔ تو بخشش کر۔
اماما۔ بروزن فعال اسم ہے بمعنی من یؤتم بہ یعنی جس کا قصد کیا جائے ، پیشوا ۔ مقتدا جس کی پیروی کی جائے وہ امام ہے۔ مذکر مؤنث دونوں کے لئے مستعمل ہے۔
Ayah 25:75(25:75) اولئک۔ جن کی اوپر صفات بیان ہوئی ہیں۔ ان کی طرف اشارہ ۔ وہ سب (عباد الرحمن) اسم اشارہ ہے۔
یجزون۔ مضارع مجہول۔ جمع مذکر غائب۔ ان کو جزاء دء جائے گی۔ ان کو بدلہ میں دیا جائیگا۔ جزی یجزی (ضرب)- جزی مادہ ۔ الجزاء (کافی ہونا) الجزاء (اسم) کسی چیز کا بدلہ جو کافی ہو۔ جیسے خیر کا بدلہ خیر سے اور شر کا بدلہ شر سے دیا جائے۔ جیسے فلہ جزاء ن الحسنی (18:88) اس کے لئے بہت اچھا بدلہ ہے اور وجزاء سیئۃ سیئۃ مثلہا (42:40) اور برائی کا بدلہ اسی طرح کی برائی ہے۔
الغرفۃ۔ بالاخانہ۔ اونچے محل اس کی جمع غرف وغرفات ہے۔ غرفہ کے معنی چلو بھر پانی کے بھی ہیں۔ جیس ا کہ قرآن مجید میں ہے الا من اغترف وغرفۃ بیدہ (2:249) ہاں اگر کوئی ہاتھ سے چلو بھر پانی لے لے (تو مضائقہ نہیں) ۔
بما۔ میں باء سببیہ ہے اور ما مصدریہ۔
یلقون۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب ۔ تلقیۃ (تفعیل) مصدر ان کا استقبال کیا جائے گا۔ ان کو پیش کیا جائے گا۔ لقی مادہ۔
تحیۃ۔ دعائے خیر۔ دعائے زندگی۔ حیاۃ سے ماخوذ ہے یہ مصدر ہے بمعنی کسی کو حیات اللہ (خدا تمہاری عمر دراز کرے) کہنا۔ بوجہ حال کے منصوب ہے۔
سلاما۔ سلامتی کی دعا کرنا۔ حال ہے۔ ویلقون فیہا تحیۃ وسلاما وہاں (جنت میں یا بالاخانہ میں) ان کا درازی عمر اور سلامتی کی دعاؤں کے ساتھ خیر مقدم کیا جائے گا۔ یعنی فرشتے ان دعاؤں کے ساتھ ان کا استقبال کریں گے۔
Ayah 25:76(25:76) حسنت مستقرا ومقاما۔ ملاحظہ ہو ساءت مستقرا ومقاما (آیت 25:66) وہ جہنم کا نقشہ تھا اور یہ جنت کی تصویر ہے
Ayah 25:77(25:77) قل۔ امر کا خطاب نبی کریم ﷺ سے ہے لیکن نبی کریم ﷺ کا خطاب کن سے ہے اس کے متعلق 2 اقوال ہیں :۔ (1) اس کا اطلاق عوام الناس پر ہے۔
(2) اس کا اطلاق مشرکین و کفار پر ہے۔ خصوصا قریش مکہ۔
ما یعبؤابکم ربی : ما یعبؤا مضارع منفی واحد مذکر غائب عبؤ مصدر (باب فتح) عبا یعبؤا۔ عبا مادہ۔ ما عبات بہ مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں۔
العب کے معنی ثقل۔ بوجھ۔ خواہ کسی بھی شے کا ہو اس کی جمع اعباء ہے لہٰذا ماعبات بہ کے معنی ہوں گے میرے نزدیک اس کا کوئی وزن نہیں ہے۔ یا میری نگاہ میں اس کی کچھ قدر و قیمت نہیں ہے۔ اس کا ترجمہ ہوا۔ میرے پروردگار کی نگاہوں میں تمہاری کچھ بھی قدروقیمت نہیں ہے۔ ما استفہامیہ بھی ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا کیا پرواہ ہے تمہاری میرے رب کو ۔
لولا دعاء کم۔ اس کی دوصورتیں ہیں :۔
(1) لولا دعاؤکم ایاہ۔ تمہاری اللہ تعالیٰ سے پکار یا اس کی عبادت۔
(2) لولا دعاء ہ ایاکم۔ اس کی (اپنے نبی کی معرفت) تمہارے لئے (اپنی توحید کی طرف) دعوت۔
قد کذبتم۔ ماضی قریب جمع مذکر حاضر۔ تم جھٹلا چکے ہو۔ تم نے انکار کردیا ہے۔ تم نے جھٹلا دیا ہے۔
سوف۔ عنقریب۔ جلد۔ سوف حرف ہے جو افعال مضارع کو مستقبل کے ساتھ خاص کرکے حال سے علیحدہ کردیتا ہے۔
لزاما۔ صیغہ صفر، ہمیشہ ساتھ رہنے والا۔ چمٹ جانے والا۔
سبۃ لزام نہ چھوٹنے والی عار، چمٹی رہنے والی ننگ۔ لازم اسم فاعل۔ چمٹا رہنے والا ۔ واجب لزمہ الحق اس پر حق واجب ہوگیا۔ الزام (افعال) چمٹا دینا جیسے انلزمکموھا (11:28) کیا ہم اس کو تم پر چمٹا دیں والزمہم کلمۃ التقوی (47:26) اور اللہ نے ان پر کلمہ توحید واجب کردیا۔
فسوف یکون لزاما : ای فسوف یکون جزاء تکذیبکم ملازما لکم عنقریب تمہاری تکذیب کی سزاء تم کو چمٹ جائے گی۔
اگر یہ خطاب کفار سے ہو تو مطلب ظاہر ہے کہ کفار مکہ نے دعوت توحید سے انکار کیا اور اللہ کے رسول کی تکذیب کی اور جلدہی اس کا عذاب جنگ بدر کی ہزیمت کی صورت میں ان کے گلے کا ہار بن گیا۔ اور بمصداق قولہ تعالیٰ ولنذیقنھم من العذاب الادنی دون العذاب الاکبر (32:21) ہم انہیں قریب کا عذاب بھی علاوہ اس بڑے عذاب کے چکھا کر رہیں گے۔ بدر کی شکست اس زندگی میں ہمیشہ کے لئے ان کے لئے سوہان روح بن گئی اور موت کے بعد روز قیامت اس سے بھی بڑا عذاب ان کا مقدر ٹھہرا۔