24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsانوار البیان

Ayah 24:41

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُسَبِّحُ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الطَّیْرُ صٰٓفّٰتٍ١ؕ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَ تَسْبِیْحَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 24:41 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں خدا کی تسبیح کرتے ہیں اور پر پھیلائے ہوئے جانور بھی اور اور سب اپنی نماز اور تسبیح کے طریقے سے واقف ہیں اور جو کچھ وہ کرتے ہیں (سب) خدا کو معلوم ہے

(24:41) والطیر۔ معطوف ہے اس کا عطف من پر ہے۔ طیر۔ طائر کی جمع ہے۔ جیسے صحب جمع صاحب کی اور رکب راکب کی جمع ہے۔ طیر کی جمع طیور آتی ہے۔ بعض کے نزدیک طیر واحد اور جمع دونوں کے لئے مستعمل ہے۔ صفت۔ صف بستہ۔ پرا باندھے۔ پرا باندھے۔ اسم فاعل کا صیغہ جمع مؤنث۔ صافۃ واحد۔ صفتحال ہے الطیر کا۔ صفت صفت بستہ۔ کئی جگہ قرآن مجید میں آیا ہے۔ مثلاً ثم ائتوا صفا۔ (20:46) پھر قطار باندھ کر آئو۔ یا والصافات صفاء (37:1) قسم ہے صف بستہ جماعتوں کی۔ صف یصف (باب نصر) صف وصف پرواز کے دوران پرندے کا پروں کو پھیلانا۔ (الفرائد الدریہ) صفت۔ ای صافات اجتنحھا۔ اپنے پروں کو پھیلانے والے۔ اسی معنی میں اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے اولم یروا الی الطیر فوقہم صفت ویقبضن (67:19) کیا وہ نہیں دیکھتے اپنے اوپر پر وندون کو کہ پر پھیلائے ہوئے ہیں اور سمیٹ بھی لیتے ہیں۔ کل۔ ای کل واحد منہم۔ علم کی ضمیر فاعل کل کی طرف راجع ہے اور اسی طرح صلاتہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع بھی کل ہے۔
Ayah 24:42

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 24:42 in the Quran reader

اور آسمان اور زمین کی بادشاہی خدا ہی کے لئے ہے اور خدا ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے

(24:42) ملک۔ بادشاہی۔ مضاف السموت والارض۔ مضاف الیہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہت۔ المصیر۔ لوٹنے کی جگہ۔ ٹھکانا۔ صار یصیر صیر وصیرورۃ ومصیر (باب ضرب) مصدر۔ لہٰذا المصیر مصدر بھی ہے اور اسم ظرف مکان بھی۔
Ayah 24:43

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُزْجِیْ سَحَابًا ثُمَّ یُؤَلِّفُ بَیْنَهٗ ثُمَّ یَجْعَلُهٗ رُكَامًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ وَ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ جِبَالٍ فِیْهَا مِنْۢ بَرَدٍ فَیُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَصْرِفُهٗ عَنْ مَّنْ یَّشَآءُ١ؕ یَكَادُ سَنَا بَرْقِهٖ یَذْهَبُ بِالْاَبْصَارِؕ Open ayah 24:43 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا ہی بادلوں کو چلاتا ہے پھر ان کو آپس میں ملا دیتا ہے اور ان کو تہ بہ تہ کردیتا ہے پھر تم دیکھتے ہو کہ بادل میں سے مینہ نکل (کر برس) رہا ہے اور آسمان میں جو (اولوں کے) پہاڑ ہیں ان سے اولے نازل کرتا ہے تو جس پر چاہتا ہے اسکو برسا دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے ہٹا دیتا ہے اور بادل میں جو بجلی ہوتی ہے اسکی چمک آنکھوں کو (خیرہ کر کے بینائی کو) اچکے لئے جاتی ہے

(24:43) یزجی۔ مضارع واحد مذکر غائب ازجاء (افعال) مصدر۔ التزجیۃ (باب تفعیل) کسی چیز کو دفع کرنا کہ وہ چل پڑے۔ مثلاً پچھلے سوار کا اونٹ کو چلانا ۔ یا ہوا کا بادلوں کو چلانا۔ یزجی سحابا۔ وہ بادلوں کو ہنکاتا ہے اور جگہ قرآن مجید میں ہے یزجی لکم الفلک (17:66) جو تمہارے لئے (سمندروں میں) جہازوں کو چلاتا ہے۔ اسی سے ہے رجل مزجی۔ ہنکایا ہوا آدمی۔ یعنی کمزور۔ ذلیل آدمی۔ یؤلف۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ تالیف (تفعیل) مصدر۔ وہ ملا دیتا ہے ۔ وہ اکٹھا کردیتا ہے۔ یؤلف بینہ۔ پھر (اس کے بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو) باہم اکٹھا کردیتا ہے۔ ای یؤلف بین اجزاء السحاب۔ رکاما۔ ای متراکما تہ بہ تہ۔ بعضہ فوق بعض۔ ایک دوسرے کے اوپر اسم مفعول ہے (تہ بہ تہ بادل) رکم یرکم (باب نصر) تہ بہ تہ کرنا۔ ڈھیر لگانا۔ الودق۔ اسم، بارش۔ سخت بارش۔ دوسری جگہ قرآن میں آیا ہے ویجعلہ کسفا فتری الودق یخرج من خللہ (30:48) اور وہ اس کو ٹکڑے ٹکڑے کردیتا ہے پھر تو مینہ کو دیکھتا ہے کہ اس کے اندر سے نکلتا ہے۔ خللہ۔ اس کے درمیان۔ مضاف مضاف الیہ۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع سحابا ہے۔ الخلل دو چیزوں کے درمیان کشادگی۔ اور فاصلہ کو کہتے ہیں۔ مثلاً بادلوں کے درمیان کا فاصلہ۔ گھروں کے درمیان کا فاصلہ۔ جیسے آیہ ہذا (بادلوں کے لئے) اور گھروں کے متعلق فجاسوا کلل الدیار (17:5) اور وہ شہروں کے اندر پھیل گئے اور وفجرنا خللھما نھرا (18:33) اور ہم نے ان دونوں کے درمیان ایک ندی جاری کر رکھی تھی۔ ینزل۔ مضارع واحد مذکر غائب تنزیل (تفعیل) مصدر وہ نازل کرتا ہے برساتا ہے۔ من السمائ۔ آسمان سے۔ برد۔ اولے۔ ینزل من السماء من جبال فیھا من برد۔ علامہ قرطبی لکھتے ہیں کہ :۔ من الجبال، من برد۔ میں من دونوں جگہ زائد ہے۔ تقدیر کلام یوں ہے ای ینزل من السماء بردا یکون کالجبال۔ یعنی آسمان سے برف اتارتا ہے جو کہ پہاڑوں کی طرح ہوتی ہے۔ (یعنی اتنی کثرت سے برستی ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ برف کے پہاڑ ہیں جو آسمان سے اتر رہے ہیں۔ صاحب تفیسر ماجدی لکھتے ہیں :۔ سماء کے لغوی معنی پر حاشیے کئی بار گذر چکے۔ (بلند سائبان اور چھت پر اس کا اطلاق ہوسکتا ہے۔ یہاں مراد ابر ہے۔ من جبال عربی محاورہ میں کثرت و عظمت کے اظہار لئے آتا ہے۔ مثلاً کثرت علم کے موقعہ پر عندہ جبال من العلم اور کثرت زر کے موقع پر فلان یملک جبالا من ذھب (بحر) اردو محاورہ میں بھی بولتے ہیں ” اس کے پاس تو سونے کے پہاڑ ہیں۔ زجاج نحوی کا قول نقل ہوا ہے کہ :۔ من جبال۔ یہاں کالجبال کے معنی میں ہے حرف تشبیہ ک محذوف ہے۔۔ من السماء میں من ابتدائے غایت کا ہے اور من جبال تبعیض کا ہے اور من برد میں من تبیین جنس کا ہے۔ انہوں نے اس فقرہ کا ترجمہ یوں کیا ہے۔ اور اسی بدل سے یعنی اس کے بڑے حصوں میں سے اولے برساتا ہے۔ یصیب مضارع واحد مذکر غائب۔ اصابۃ مصدر (باب افعال) وہ پہنچاتا ہے یعنی وہ برساتا ہے۔ یصرفہ۔ مضارع واحد مذکر غائب ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ وہ اس کو پھر دیتا ہے وہ اس کو ہٹا دیتا ہے۔ فیصیب بہ اور یصرفہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب برد کے لئے ہے۔ سنا۔ چمک دار روشنی، بچلی کی چمک۔ یا آگ کی چمک ۔ ہر تیز روشنی۔ برقہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع سحاب ہے۔ یکاد۔ یذھب۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ قریب ہے کہ لے جائے۔ الابصار آنکھوں کی بینائی۔
Ayah 24:44

یُقَلِّبُ اللّٰهُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 24:44 in the Quran reader

اور خدا ہی رات اور دن کو بدلتا رہتا ہے اہل بصارت کے لئے اس میں بڑی عبرت ہے

(24:44) یقلب۔ مضارع واحد مذکر غائب تقلیب (تفعیل) مصدر۔ وہ ادل۔ بدل کرتا ہے ۔ وہ الٹتا پلٹتا ہے۔
Ayahs 24:45–46

وَ اللّٰهُ خَلَقَ كُلَّ دَآبَّةٍ مِّنْ مَّآءٍ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى بَطْنِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى رِجْلَیْنِ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰۤى اَرْبَعٍ١ؕ یَخْلُقُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 24:45 in the Quran reader

اور خدا ہی نے ہر چلنے پھرنے والے جاندار کو پانی سے پیدا کیا تو ان میں سے بعضے ایسے ہیں کہ پیٹ کے بل چلتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو دو پاؤں پر چلتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو چار پاؤں پر چلتے ہیں خدا جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے بیشک خدا ہر چیز پر قادر ہے

لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 24:46 in the Quran reader

ہم ہی نے روشن آیتیں نازل کی ہیں اور خدا جس کو چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت کرتا ہے

(24:45) دابۃ۔ جانور ۔ چلنے والا۔ پائوں دھرنے والا۔ رینگنے والا۔ دب۔ یدب (ضرب) سے اسم فاعل کا صیغہ ہے۔ مذکر مؤنث دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے اس میں ۃ وحدت کی ہے اس کی جمع دواب ہے۔
Ayahs 24:47–48

وَ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالرَّسُوْلِ وَ اَطَعْنَا ثُمَّ یَتَوَلّٰى فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:47 in the Quran reader

اور (بعض لوگ) کہتے ہیں کہ ہم خدا پر اور رسول پر ایمان لائے اور (ان کا) حکم مان لیا پھر اس کے بعد ان میں سے ایک فرقہ پھرجاتا ہے اور یہ لوگ صاحب ایمان ہی نہیں ہیں

وَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 24:48 in the Quran reader

اور جب ان کو خدا اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ (رسول خدا) ان کا قضیہ چکا دیں تو ان میں سے ایک فرقہ منہ پھیر لیتا ہے

(24:47) یتولی مضارع واحد مذکر غائب تولی (تفعل) مصدر وہ پیٹھ پھیر لیتا ہے۔
Ayah 24:49

وَ اِنْ یَّكُنْ لَّهُمُ الْحَقُّ یَاْتُوْۤا اِلَیْهِ مُذْعِنِیْنَؕ Open ayah 24:49 in the Quran reader

اور اگر (معاملہ) حق (ہو اور) ان کو (پہنچتا) ہو تو ان کی طرف مطیع ہو کر چلے آتے ہیں

(24:49) مذعنین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ اذعان (افعال) مصدر جس کے معنی کسی کا مطیع ومنقاد ہوجانے کے ہیں۔ بڑے مطیع و فرمانبردار ہوکر۔ سر تسلیم خم کئے (چلے آتے ہیں) ۔
Ayah 24:50

اَفِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَمِ ارْتَابُوْۤا اَمْ یَخَافُوْنَ اَنْ یَّحِیْفَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ بَلْ اُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 24:50 in the Quran reader

کیا ان کے دلوں میں بیماری ہے یا (یہ) شک میں ہیں یا ان کو یہ خوف ہے کہ خدا اور اس کا رسول ان کے حق میں ظلم کریں گے ؟ (نہیں) بلکہ یہ خود ظالم ہیں

(24:50) ارتابوا۔ ارتیاب (افتعال) سے ماضی جمع مذکر غائب وہ شک میں پڑے ریب مادہ۔ شک سے مراد نبوت و رسالت سے شک۔ ان یحیف اللہ۔ یحیف مضارع معروف (منصوب بوجہ عمل ان ) واحد مذکر غائب کہ وہ ظلم کرے گا۔ حیف مصدر (باب ضرب) الحیف فیصلہ کرنے میں ایک طرف جھک جانا۔ انصاف نہ کرنا۔
Ayah 24:51

اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 24:51 in the Quran reader

مومنوں کی تو یہ بات ہے کہ جب خدا اور اس کے رسول کی طرف بلائے جائیں تاکہ وہ ان میں فیصلہ کریں تو کہیں کہ ہم نے (حکم) سن لیا اور مان لیا اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں

(24:51) انما کان قول المؤمنین اذا دعوا الی اللہ ورسولہ لیحکم بینتہم ان یقولوا سمعنا واطعنا۔ میں قول کان کی خبر ہے بدیں وجہ منصوب ہے ان یقولوا سمعنا واطعنا اسم ہے کان کا۔ ہم نے سن لیا۔ ہم نے مان لیا۔ یہ قول ہے مومنوں کا جب انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف ان کے مابین فیصلہ کے لئے بلایا جائے ۔ لیحکم لام تعلیل کا ہے یحکم مضارع منصوب (بوجہ عمل لام) واحد مذکر غائب ضمیر فاعل کا مرجع رسول ہے۔
Ayah 24:52

وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَخْشَ اللّٰهَ وَ یَتَّقْهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 24:52 in the Quran reader

اور جو شخص خدا اور اسکے رسول کی فرمانبرداری کرے گا اور اس سے ڈرے گا تو ایسے ہی لوگ مراد کو پہنچنے والے ہیں

(24:52) یطع۔ اطاع یطیع (افعال) اطاعۃ سے۔ مانتا ہے فرمانبرداری کرتا ہے اطاعت کرتا ہے۔ یخش۔ خشی۔ یخشی (باب سمع) خشیۃ سے وہ ڈرتا ہے اور یتق۔ اتقی یتقی اتقاء (افتعال) سے دقی مادہ۔ خود کھاتا ہے ۔ ڈرتا ہے۔ بچتا ہے (نافرمانی سے) ہر سہ مضارع مجزوم بوجہ جملہ شرطیہ ہونے کے من یہاں شرطیہ ہے بصیغہ واحد مذکر غائب ہیں۔ یتقہ میں ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ اللہ کے لئے ہے یعنی جو اللہ کی نافرمانی سے بچتا ہے۔
Ayah 24:53

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ اَمَرْتَهُمْ لَیَخْرُجُنَّ١ؕ قُلْ لَّا تُقْسِمُوْا١ۚ طَاعَةٌ مَّعْرُوْفَةٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 24:53 in the Quran reader

اور (یہ) خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر تم ان کو حکم دو تو (سب گھروں سے) نکل کھڑے ہوں کہہ دو کہ قسمیں مت کھاؤ پسندیدہ فرمانبرداری (درکار ہے) بیشک خدا تمہارے اعمال سے خبردار ہے

(24:53) اقسموا ماضی جمع مذکر غائب۔ اقسام (افعال) مصدر وہ قسمیں کھاتے ہیں۔ یہاں ماضی بمعنی مضارع مستعمل ہے) یہاں پھر اشارہ منافقوں کی طرف ہے۔ جھد۔ تاکید پوری کوشش۔ طاقت، مشقت۔ جھد یجھد (فتح) کا مصدر ہے کیونکہ مصدر فعل محذوف کی تاکید میں آیا ہے لہٰذا منصوب ہے۔ جھد الیمین ای بلوغ غایتھا انتہائی شدومد سے۔ جیسے کہتے ہیں جھد نفسہ اپنی طاقت ووسعت کے ساتھ۔ اقسموا باللہ جھد ایمانہم۔ وہ انتہائی زور شور سے اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں۔ لیخرجن۔ جواب شرط ہے۔ مضارع بلام تاکید ونون ثقیلہ۔ جمع مذکر غائب وہ ضرور بالضرور نکل پڑیں گے۔ نکلنا سے مراد یا جہاد کے لئے یا گھر بار چھوڑ کر۔ طاعۃ معروفۃ۔ خبر۔ مبتدا محذوف۔ ای طاعتکم طاعۃ معروفۃ۔ تمہاری اطاعت و فرمانبرداری معلوم ہے۔ یہ جملہ تعلیلیہ ہے۔ ان کو قسم کھانے سے منع کرنے کیلئے۔ یا تقدیر کلام ہوں ہے۔ عی المطلوب منکم طاعۃ معروفۃ لا الیمین۔ مطلوب تم سے محض اطاعت ہے نہ کہ بڑی بڑی قسمیں کھانا۔
Ayah 24:54

قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْهِ مَا حُمِّلَ وَ عَلَیْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ١ؕ وَ اِنْ تُطِیْعُوْهُ تَهْتَدُوْا١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 24:54 in the Quran reader

کہہ دو کہ خدا کی فرمانبرداری کرو اور رسول خدا کے حکم پر چلو اگر منہ موڑو گے تو رسول پر (اس چیز کا ادا کرنا) جو ان کے ذمے ہے اور تم پر (اس چیز کا ادا کرنا) ہے جو تمہارے ذمے ہے اور اگر تم ان کے فرمان پر چلو گے تو سیدھا راستہ پالو گے اور رسول کے ذمہ تو صاف صاف (احکام خدا کا) پہنچا دینا ہے

(24:54) فانما علیہ ما حمل۔ ای علی الرسول علیہ الصلوۃ والسلام۔ اس کے ذمہ ہے۔ حمل۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب تحمیل مصدر۔ اٹھوایا گیا۔ بوجھ رکھا گیا۔ اس کے ذمہ وہی بوجھ ہے جو اس پر بار کیا گیا۔ یعنی وہ اسی کا ذمہ دار ہے جس کا وہ مکلف کیا گیا جس کا بار اس پر رکھا گیا ۔ ما موصولہ ہے بمعنی الذی۔ ان یطیعوہ۔ شرط۔ تھتدوا جواب شرط۔ ہ ضمیر کا مرجع الرسول ہے۔ وما علی الرسول۔ میں ما نافیہ ہے۔ البلاغ المبین۔ موصوف وصفت۔ التبلیغ الموضح۔ (خدائی احکام کا ) وضاحت کے ساتھ (مخاطبین تک) پہنچادینا۔
Ayahs 24:55–56

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١۪ وَ لَیُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِیْنَهُمُ الَّذِی ارْتَضٰى لَهُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا١ؕ یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِكُوْنَ بِیْ شَیْئًا١ؕ وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 24:55 in the Quran reader

جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان سے خدا کا وعدہ ہے کہ ان کو ملک کا حاکم بنا دے گا جیسا ان سے پہلے لوگوں کو حاکم بنایا تھا اور ان کے دین کو جسے اس نے ان کے لئے پسند کیا ہے مستحکم و پائدار کرے گا اور خوف کے بعد ان کو امن بخشے گا وہ میری عبادت کریں گے (اور) میرے ساتھ کسی اور کو شریک نہ بنائیں گے اور جو اس کے بعد کفر کرے تو ایسے لوگ بد کردار ہیں

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 24:56 in the Quran reader

اور نماز پڑھتے رہو اور زکوٰۃ دیتے رہو اور پیغمبر خدا کے فرمان پر چلتے رہو تاکہ تم پر رحمت کی جائے

(24:55) منکم۔ اس آیت میں خطاب نبی کریم ﷺ اور ان کے اصحاب سے ہے اور منکم میں من بیان کے لئے ہے بعض کے نزدیک خطاب مہاجرین سے ہے۔ اور من تبعیضیہ ہے۔ وعملوا الصلحت۔ کا عطف امنوا پر ہے یعنی تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے۔ لیستخلفہم۔ مضارع تاکید بہ لام تاکید ونون ثقیلہ ۔ صیغہ واحد مذکر غائب ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب جس کا مرجع اسم موصول الذین ہے لیستخلفن میں ضمیر فاعل اللہ کی طرف راجع ہے وہ ضرور ان کو خلیفہ بنائے گا۔ وہ ضرور ان کو حکومت عطا کرے گا۔ استخلاف (استفعال) مصدر۔ لیستخلفنہم بمنزلہ وعد کے مفعول کے ہے۔ ولیمکن۔ مضارع تاکید بلام تاکید ونون ثقیلہ صیغہ واحد مذکر غائب۔ تمکین مصدر (باب تفعیل) وہ ضرور ہی جمائے گا۔ وہ ضرور ہی مستحکم کردے گا۔ اس کا عطف لیستخلفنہم پر ہے اور یہ بھی بمنزلہ مفعول وعد کے ہے۔ دینہممضاف مضاف الیہ۔ مل کر یمکنن کا مفعول ہے اور ہم مفعول لہ ہے۔ ارتضی۔ ماضی واحد مذکر غائب ارتضاء (افتعال) مصدر ۔ اس نے پسند کیا۔ ولیبدلنہم۔ مضارع تاکید بلام تاکیدونون ثقیلہ۔ صیغہ واحد مذکر غائب وہ ضرور بدل دے گا (ان کے لئے) وہ ضرور ہی ان کو بدلہ دے گا۔ تبدیل (تفعیل) مصدر۔ یعبدوننی۔ مضارع جمع مذکر غائب نون وقایہ ی متکلم کے لئے۔ وہ میری عبادت کریں گے۔ یہ الذین سے حال ہے۔ بایں حالیکہ وہ میری عبادت کیا کریں گے۔ لا یشرکون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب۔ وہ (میرے ساتھ کسی اور کو) شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ یہ بھی الذین سے حال ہے۔ شیئا۔ نصب بوجہ مفعول ہونے کے ہے۔
Ayah 24:57

لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ وَ لَبِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 24:57 in the Quran reader

اور ایسا خیال نہ کرنا کہ کافر لوگ غالب آجائیں گے (وہ جا ہی کہاں سکتے ہیں) ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے

(24:57) لا تحسبن۔ فعل نہی بانون تاکید واحد مذکر حاضر۔ تو ہرگز خیال نہ کر۔ الذین کفروا۔ مفعول ۔ تو ہرگز خیال نہ کر کہ کا فر لوگ معجزین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ ہر ادینے والے۔ عاجز بنا دینے والے۔ یعنی اللہ کو اپنے ارادہ سے باز رکھنے والے۔ ماوہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کا ٹھکانا۔ اوی یاوی (ضرب) کا مصدر ہے یہاں اسم ظرف مکان استعمال ہوا ہے۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب۔ جس کا مرجع الذین کفروا ہے۔ المصیر۔ ٹھکانا۔ قرار گاہ۔ لوٹنے کی جگہ۔ اسم ظرف مکان۔
Ayah 24:58

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِیَسْتَاْذِنْكُمُ الَّذِیْنَ مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْكُمْ ثَلٰثَ مَرّٰتٍ١ؕ مِنْ قَبْلِ صَلٰوةِ الْفَجْرِ وَ حِیْنَ تَضَعُوْنَ ثِیَابَكُمْ مِّنَ الظَّهِیْرَةِ وَ مِنْۢ بَعْدِ صَلٰوةِ الْعِشَآءِ١ؕ۫ ثَلٰثُ عَوْرٰتٍ لَّكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ وَ لَا عَلَیْهِمْ جُنَاحٌۢ بَعْدَهُنَّ١ؕ طَوّٰفُوْنَ عَلَیْكُمْ بَعْضُكُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:58 in the Quran reader

مومنو ! تمہارے غلام لونڈیاں اور جو بچے تم میں سے بلوغ کو نہیں پہنچے تین دفعہ (یعنی تین اوقات میں) تم سے اجازت لیا کریں (ایک تو) نماز صبح سے پہلے اور (دوسرے گرمی کی دوپہر کو) جب تم کپڑے اتار دیتے ہو اور (تیسرے) عشاء کی نماز کے بعد (یہ) تین (وقت) تمہارے پردے (کے) ہیں ان کے (آگے) پیچھے (یعنی دوسرے وقتوں میں) نہ تم پر کچھ گناہ ہے نہ ان پر کہ کام کاج کے لئے ایک دوسرے کے پاس آتے رہتے ہو اس طرح خدا اپنی آیتیں تم سے کھول کھول کر بیان فرماتا ہے اور خدا بڑا علم والا اور حکمت والا ہے

(24:58) لیستاذنکم۔ فعل امر واحد مذکر غائب کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ یستاذن میں صیغہ واحد مذکر غائب کا ہے لیکن جمع مذکر غائب کے لئے استعمال ہوا ہے چاہے کہ وہ تم سے اجازت لے لیا کریں۔ (1) الذین ملکت ایمانکم۔ وہ جن کے تمہارے دائیں ہاتھ مالک ہوئے۔ یعنی تمہارے مملوک ۔ غلام۔ ملازم۔ (2) والذین لم یبلغوا الحلم منکم۔ اور تم میں سے وہ جو ابھی بلوغت کو نہیں پہنچے۔ الحلم۔ الحلم کے معنی نفس و طبیعت پر ایسا ضبط رکھنا کہ غیظ وغضب کے موقع پر بھڑک نہ اٹھے۔ اس کی جمع احلام ہے حلم کے معنی متانت کے ہیں مگر چونکہ متانت بھی عقل کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے اس لئے حلم کا لفظ بول کر عقل مراد لے لیتے ہیں جیسا کہ مسبب بول کر سبب مراد لیا جاتا ہے۔ حلم یحلم (باب کرم) حلم درگذر کرنا۔ بردبار ہونا۔ حلیم صفت۔ مؤنث حلیمۃ حلم (تفعیل) اور تحلم (تفعل) بردبار بنادینا۔ سن بلوغت کو بھی حلم کہا جاتا ہے کہ اس عمر میں عام طور پر عقل وتمیز آجاتی ہے۔ حلم یحلم (نصر) فی نومہ۔ خواب دیکھنا۔ قالوا اضغاث احلام (12:44) انہوں نے کہا کہ یہ تو پریشان سے خواب ہیں۔ حلم بروزن عنق۔ خواب میں جماع کرنا۔ اسی سے احتلام ہے۔ ثلاث مرات۔ ای ثلاث اوقات فی الیوم واللیلۃ۔ یعنی رات اور دن کے تین اوقات ہیں۔ تضعون۔ جمع مذکر حاضر مضارع معروف وضع مصدر (باب فتح) تم اتار کر رکھتے ہو۔ جیسے وضعت المراۃ خمارھا۔ عورت کا اوڑھنی اتارنا۔ حین تضعون ثیابکم۔ جب تم اپنے کپڑے اتارتے ہو۔ الظھیرۃ۔ دوپہر۔ وقت ظہر۔ ٹھیک دوپہر میں جو گرمی کی شدت ہوتی ہے وہ ظھیرۃ کہلاتی ہے۔ سردیوں میں دوپہر کو ظھیرہ نہیں بولتے۔ قرآن مجید میں اس سے قیلولہ کا وقت مراد ہے ! ثلث عورات۔ تین اوقات پردے کے۔ بعدھن میں ضمیر جمع مؤنث غائب انہیں تین اوقات کی طرف راجع ہے۔ طوفون۔ طوف اور طواف سے مبالغہ کا صیغہ ہے جمع مذکر ۔ بہت پھرتے رہنے والے۔ کثرت سے آنے جانے والے۔ زیادہ چکر کاٹنے والے۔ یہاں مراد لونڈی، غلام، خادم ہیں جو گھروں سے اندر باہر چکر کاٹتے رہتے ہیں۔ طوفون علیکم بعضکم علی بعض۔ انہیں تمہارے پاس اکثر آنا جانا ہوتا ہے۔ اور تمہیں ایک دوسرے کے پاس آنا جانا ہوتا ہے۔ ای طوافون علیکم وطوافون بعضکم علی بعض۔۔ طوافون علیکم میں طوافون سے مراد مملوک اور نابالغ جن کا ذکر شروع آیۃ میں آیا ہے۔
Ayah 24:59

وَ اِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ فَلْیَسْتَاْذِنُوْا كَمَا اسْتَاْذَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:59 in the Quran reader

اور جب تمہارے لڑکے بالغ ہوجائیں تو ان کو بھی اسی طرح اجازت لینی چاہیے جس طرح ان سے اگلے (یعنی بڑے آدمی) اجازت حاصل کرتے رہے ہیں اس طرح خدا تم سے اپنی آیتیں کھول کھول کر سناتا ہے اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

(24:59) من قبلہم۔ ان سے قبل (کے لوگ) یعنی جیسے ان کے بڑے (اجازت لے کر آتے ہیں) ای کما استاذن الذین بلغوا الحلم من قبلہم۔
Ayah 24:60

وَ الْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الّٰتِیْ لَا یَرْجُوْنَ نِكَاحًا فَلَیْسَ عَلَیْهِنَّ جُنَاحٌ اَنْ یَّضَعْنَ ثِیَابَهُنَّ غَیْرَ مُتَبَرِّجٰتٍۭ بِزِیْنَةٍ١ؕ وَ اَنْ یَّسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌ لَّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:60 in the Quran reader

اور بڑی عمر کی عورتیں جن کو نکاح کی توقع نہیں رہی اور وہ دوپٹے اتار کر سر ننگا کرلیا کریں تو ان پر کچھ گناہ نہیں بشرطیکہ اپنی زینت کی چیزیں نہ ظاہر کریں اور اگر اس سے بھی بچیں تو یہ ان کے حق میں بہتر ہے اور خدا سنتا جانتا ہے

(24:60) القواعد۔ القاعد کی جمع ہے بمعنی وہ عمر رسیدہ عورتیں جو نکاح۔ حمل اور حیض کے قابل نہ رہی ہوں اور ان کی خواہش نفسانی بالکل ختم ہوچکی ہو۔ القاعد میں تاء تانیث کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ مرد سے اشتباہ ہی نہیں ہوتا۔ اسی طرح حوامل کی واحد حامل ہے حاملۃ نہیں ہے۔ بیضاوی نے القواعد کے معنی کئے ہیں اللاقی قعدن عن الحیض والحمل۔ جو حیض وحمل ترک کرچکی ہوں (بوجہ بڑھاپے کے ) الخازن میں ہے اللاتی قعدن عن الحیض والولد (جو بڑھاپے کی وجہ سے) حیض کو اور جننے کو ختم کرچکی ہوں۔ قعدہ قیام کی ضد ہے ۔ المقعد۔ بیٹھنے کی جگہ۔ قاعدین بیٹھنے والے۔ جیسے فضل اللہ المجاھدین باموالہم وانفسہم علی القعدین درجۃ (4:95) خدا نے مال اور جان سے جہاد کرنے والوں پر درجے میں فضیلت بخشی ہے۔ القاعدۃ جس کی جمع بھی القواعد ہے عمارت کی بنیاد کو کہتے ہیں۔ لا یرجون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب۔ وہ امید نہیں رکھتی ہیں۔ وہ آرزو نہیں رکھتی ہیں۔ رجاء مصدر۔ نکاحا۔ مصدر بمعنی ازدواج۔ لا یرجون نکاحا۔ جن کو خواہش نہ ہو نکاح کرنے کی (بڑھاپے کی وجہ سے) ۔ ان یضعن۔ یضعن مضارع جمع مؤنث غائب وضع مصدر (باب فتح) کہ وہ اتار دیں (ملاحظہ ہو آیت نمبر 58 مذکورۃ الصدر) ۔ متبرجت۔ اسم فاعل جمع مؤنث متبرجۃ واحد۔ تبرج مصدر (تفعل) مردوں کو اپنا بنائو سنگھار دکھانے والی عورتیں۔ برج سے مشتق ہے جس کے معنی قصر کے ہیں۔ اسی مناسبت سے ستاروں کی مخصوص منازل کو بروج کہا گیا ہے جیسے والسماء ذات البروج (85:1) قسم ہے آسمان کی جس میں برج ہیں۔ ثوب مبرج۔ اس کپڑے کو کہتے ہیں کہ جس میں برجوں کی تصویریں بنی ہوئی ہوں۔ پھر اس میں معنی حسن کے اعتبار کرکے تبرجت المرأۃ کا محاورہ استعمال کرتے ہیں یعنی عورت نے مزین کپڑے کی طرح آرائش کا اظہار کیا۔ التبرح ھو ان تظھر المراۃ من محاسنھا ما یجب علیھا ان تسترہ۔ عورت کا اپنے محاسن کا اظہار کرنا جن کا چھپانا اس پر واجب ہے۔ بزینۃ۔ با تعدیہ کے لئے ہے اور زینت سے یہاں مراد الزینۃ الخفیۃ ہے یعنی خفیہ محاسن۔ غیر متبرجت بزینۃ حال ہے جملہ ماقبل سے۔ ان یستعففن۔ مضارع جمع مؤنث غائب۔ استعفاف مصدر (استفعال) سے۔ ان کی وجہ سے مصدر کے معنی میں مستعمل ہے یعنی ان کا بچا رہنا۔ (یعنی کپڑے نہ اتارنا اور پردہ رکھنا) عف عفاف عفافۃ، عفۃ۔ حرام سے بچے رہنا۔ پاکدامن ہونا۔ ان یستعففن مبتدا ہے اور خیرلہن اس کی خبر۔ اور اگر وہ (اس سے بھی بچی رہیں (یعنی رعایت کی حالتوں میں بھی پردہ قائم رکھیں) تو یہ ان کے لئے بہت بہتر ہے۔
Ayah 24:61

لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَنْ تَاْكُلُوْا مِنْۢ بُیُوْتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اٰبَآئِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اُمَّهٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اِخْوَانِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخَوٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَعْمَامِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ عَمّٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخْوَالِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ خٰلٰتِكُمْ اَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَّفَاتِحَهٗۤ اَوْ صَدِیْقِكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْكُلُوْا جَمِیْعًا اَوْ اَشْتَاتًا١ؕ فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُیُوْتًا فَسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ تَحِیَّةً مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُبٰرَكَةً طَیِّبَةً١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 24:61 in the Quran reader

نہ تو اندھے پر کچھ گناہ ہے اور نہ لنگڑے پر اور نہ بیمار پر اور نہ خود تم پر کہ اپنے گھروں سے کھانا کھاؤ یا اپنے باپوں کے گھروں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا اس گھر سے جس کی کنجیاں تمہارے ہاتھ میں ہوں یا اپنے دوستوں کے گھروں سے (اور اسکا بھی) تم پر کچھ گناہ نہیں کہ سب مل کر کھانا کھاؤ یا جدا جدا اور جب گھروں میں جایا کرو تو اپنے (گھر والوں کو) سلام کیا کرو (یہ) خدا کی طرف سے مبارک (اور) پاکیزہ (تحفہ) ہے اس طرح خدا اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو

(24:61) حرج۔ تنگی۔ مضائقہ۔ گناہ۔ علی۔ یہاں بمعنی فی استعمال ہوا ہے۔ یعنی اندھوں اور لنگڑوں وغیرہ کے باب میں تم پر کوئی الزام نہیں ہے نہ ان پر۔ الاعمی اندھا ۔ نابینا۔ عمی یعمی۔ اندھا ہونا۔ جاہل ہونا۔ عمی یعمی (سمع) سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے الاعرج۔ عرج یعرج (فتح) عرج یعرج (سمع) لنگڑانا سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ من بیوتکم میں من بمعنی فی ہے اوما ملکتم مفاتحہ۔ یا جن گھروں کی کنجیوں کے تم مالک ہو یعنی تمہارے اختیار میں ہوں۔ اشتاتا۔ الگ الگ ۔ جدا جدا۔ شت اور شتات کی جمع اس کے معنی پراگندہ اور متفرق کے بھی ہیں۔ جیسے شت جمعہم شتاو شتاتا۔ ان کی جمیعت متفرق ہوگئی۔ علی انفسکم۔ اپنوں پر۔ اپنوں کو۔ ای علی اھلھا الذین ہم منکم دینا وقرابۃ یعنی ان گھروں کے مکینوں پر جو کہ بوجہ دین یا بوجہ قرابت تم میں سے ہی ہیں۔ تحیۃ۔ دعائے زندگی۔ دعائے خیر۔ حیاۃ سے ماخوذ ہے حیاک اللہ (اللہ نے تجھے زندگی دی) کا مصدر ہے ۔ جو خیر کا لفظ ہے مگر دعائے زندگی کے لئے استعمال کیا گیا۔ پھر ہر دعا کے لئے آنے لگا۔ اور سلام کے معنی دینے لگا۔ تحیۃ مصدر منصوب بوجہ سلموا کے مصدر اور بمعنی تسلیما آنے کے ہے جیسے قعدت جلوسا۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کہ کہا جائے فسلموا تسلیما او فحیوا تحیۃ۔ مبارکۃ۔ خیروبرکت والا۔ اور طیبۃ۔ پاکیزہ۔ نفیس۔ اچھی۔ دونوں تحیۃ کی صفات ہیں اور اپنے موصوف کی طرح منصوب۔ من عند اللہ۔ (دعا) جو اللہ کی طرف سے شروع ہے۔ اللہ کی طرف سے مقرر ہے۔ یا اللہ تعالیٰ سے سلامتی اور پاکیزگی و برکت کی دعا مانگو۔
Ayah 24:62

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اِذَا كَانُوْا مَعَهٗ عَلٰۤى اَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ یَذْهَبُوْا حَتّٰى یَسْتَاْذِنُوْهُ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ فَاِذَا اسْتَاْذَنُوْكَ لِبَعْضِ شَاْنِهِمْ فَاْذَنْ لِّمَنْ شِئْتَ مِنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:62 in the Quran reader

مومن تو وہی ہیں جو خدا پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور جب کبھی ایسے کام کے لئے جو جمع ہو کر کرنے کا ہو پیغمبر خدا کے پاس جمع ہوں تو ان سے اجازت لیے بغیرچلے نہیں جاتے اے پیغمبر ﷺ جو لوگ تم سے اجازت حاصل کرتے ہیں وہی خدا پر اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں سو جب یہ لوگ تم سے کسی کام کے لئے اجازت مانگا کریں تو ان میں سے جسے چاہا کرو اجازت دیدیا کرو اور ان کے لئے خدا سے بخشش مان گا کرو کچھ شک نہیں کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے

(24:62) واذا کانوا معہ علی امرجامعمعطوف ہے اور اس کا عطف امنوا پر ہے آیت میں المومنون کی تعریف یوں کی گئی ہے (1) الذین امنوا باللہ ورسولہ (جو ایمان رکھتے ہیں اللہ اور اس کے رسول پر۔ (2) واذا کانوا معہ علی امر جامع لم یذھبوا حتی یستاذنوہ (اور جب وہ کسی امر اجتماعی وعظیم کے لئے آپ کے ساتھ ہوں تو جب تک آپ سے اجازت نہیں لے لیتے جاتے نہیں ہیں۔ امر جامع۔ اجتماعی کام (مودودی) نہایت اہم امر (محمد علی) اہم مشورت کے مواقع جہاں اجتماع و اہتمام کی ضرورت پڑتی ہے (تفسیر کبیر بحوالہ الماجدی) وہ معاملات جن میں خطاب عام کی ضرورت پڑے۔ (ایضا) مثل جمع وعیدین (مدارک التنزیل) ۔ لبعض شانہم۔ اپنے کسی کام کے لئے۔ شان دھندا ۔ فکر۔ حال۔ اہم معاملہ، حالت۔ مثلاً وما تکون فی شان (10:61) اور آپ جس حالت میں بھی ہوں۔ اور کل یوم ھو فی شان (55:29) ہر وقت وہ کسی نہ کسی کام میں رہتا ہے۔
Ayah 24:63

لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا١ؕ قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ یَتَسَلَّلُوْنَ مِنْكُمْ لِوَاذًا١ۚ فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ یُصِیْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 24:63 in the Quran reader

مومنو ! پیغمبر کے بلانے کو ایسا خیال نہ کرنا جیسا تم آپس میں ایک دوسرے کو بلاتے ہو بیشک خدا کو وہ لوگ معلوم ہیں جو تم میں سے آنکھ بچا کر چل دیتے ہیں تو جو لوگ ان کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں ان کو ڈرنا چاہیے کہ (ایسا نہ ہو کہ) ان پر کوئی آفت پڑجائے یا تکلیف دینے والا عذاب نازل ہو

(24:63) لا تجعلوا۔ فعل نہی جمع مذکر غائب۔ نہ سمجھو، نہ بنا لو۔ دعائ۔ پکارنا۔ بلانا۔ دعا کرنا۔ سوال کرنا وغیرہ۔ دعا یدعوا کا مصدر ہے۔ یہاں دعا سے اس کے جملہ معانی مراد ہیں۔ یتسللون۔ مضارع جمع مذکر غائب تسلل (تفعل) مصدر۔ وہ کھسک جاتے ہیں۔ وہ چپکے سے کھسک جاتے ہیں۔ لواذا۔ لواذ اور ملاوذۃ۔ لا وذ یلاوذ کے مصدر ہیں۔ باہم ایک دوسرے کی آڑ لینے اور پناہ لینے کو کہتے ہیں۔ یعنی ایک دوسرے کی آڑ میں ایک کے بعد ایک چپکے سے سرک جاتا ہے۔ فلیحذر الذین۔ فا تعقیب کی ہے۔ لیحذر۔ فعل امر۔ واحد مذکر غائب حذر مصدر۔ (باب سمع) ڈریں۔ ان کو چاہیے کہ ڈریں۔ یخالفون عن امرہ۔ ای یصدون عن امرہ۔ وہ اس کے حکم سے روکتے ہیں۔ وہ اس کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں وہ اس کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ امرہ میں ہ کا مرجع اللہ۔ یا رسول ، دونوں ہوسکتے ہیں۔ ہر دو صورت میں مطلب ایک ہی ہے۔ ان۔ کہ۔ کہیں۔ تصیبہم۔ مضارع واحد مؤنث غائب۔ منصوب بوجہ عمل ان۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ (کہیں) ان پر آن پڑے۔ ان کو پہنچے۔ اصابۃ (افعال) مصدر۔ فتنۃ۔ آفت۔ مصیبت، فتنۃ بمعنی آزمائش ۔ فساد۔ خرابی بھی آیا ہے۔
Ayah 24:64

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قَدْ یَعْلَمُ مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ١ؕ وَ یَوْمَ یُرْجَعُوْنَ اِلَیْهِ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 24:64 in the Quran reader

دیکھو جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے جس (طریق) پر تم وہ اسے جانتا ہے اور جس روز لوگ اسکی طرف لوٹائے جائیں گے تو جو عمل وہ (لوگ) کرتے رہے وہ ان کو بتادے گا اور خدا ہر چیز سے واقف ہے

(24:64) ما انتم علیہ۔ جس (حالت) پر تم (اب) ہو۔ یعنی طاعت و معصیت وغیرہ کی جس حالت میں تم ہو۔ کیونکہ وہ علیم بذات الصدور ہے۔ اللطیف الخبیر ہے۔ ینبئہم۔ مضارع واحد مذکر غائب ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب تنیئۃ (تفعیل) مصدر وہ بتادے گا۔ وہ خبر دے دے گا ان کو۔