22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsانوار البیان

Ayah 22:39

اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَصْرِهِمْ لَقَدِیْرُۙ Open ayah 22:39 in the Quran reader

جن مسلمانوں سے (خواہ مخواہ) لڑائی کی جاتی ہے ان کو اجازت ہے (کہ وہ بھی لڑیں) کیونکہ ان پر ظلم ہو رہا ہے اور خدا (انکی مدد کرے گا وہ) یقینا انکی مدد پر قادر ہے

(22:39) اذن۔ اذن سے (باب سمع) ماضی مجہول واحد مذکر غائب۔ حکم دیا گیا۔ اجازت ۔ یقاتلون۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب قتال مصدر (باب مفاعلہ) جن سے قتال کیا جائے (جن کے خلاف جاحانہ جنگ کی جا رہی ہے) ۔ بانہم ظلموا۔ میں ب سببیہ ہے یعنی بوجہ اس کے کہ اس پر ظلم ہو رہا ہے۔ اذن للذین یقتلون بانہم ظلموا۔ جن (مؤمنین) کے خلاف جارحانہ قتال کیا جا رہا ہے ان کو اب مدافعت میں جہاد کی اجازت دی جاتی ہے کیونکہ وہ مظلوم ہیں۔ (یہ آیت احکام جہاد میں اولین آیت ہے اس سے قبل مسلمان کافروں کے ظلم وتشدد اور ان کی چیرہ دستیوں کو صبر و سکون کے ساتھ برداشت کرتے رہے تھے کیونکہ منشا ایزدی یہی تھا) ۔
Ayah 22:40

اِ۟لَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَ بِیَعٌ وَّ صَلَوٰتٌ وَّ مَسٰجِدُ یُذْكَرُ فِیْهَا اسْمُ اللّٰهِ كَثِیْرًا١ؕ وَ لَیَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 22:40 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں کہ اپنے گھروں سے ناحق نکال دئیے گئے (انہوں نے کچھ قصور نہیں کیا) ہاں یہ کہتے ہیں کہ ہمارا پروردگار خدا ہے اور اگر خدا لوگوں کو ایک دوسرے سے نہ ہٹاتا رہتا تو (راہبوں کے) صومعہ اور (عیسائیوں کے) گرجے اور یہودیوں کے عبادت خانے اور مسلمانوں کی مسجدیں جن میں خدا کا بہت سا ذکر کیا جاتا ہے ویران ہوچکی ہوتیں اور جو شخص خدا کی مدد کرتا ہے خدا اس کی ضرور مدد کرتا ہے بیشک خدا توانا اور غالب ہے

(22:40) اخرجوا۔ اخراج (افعال) سے ماضی مجہول جمع مذکر غائب وہ نکالے گئے۔ الذین۔ یہ للذین (آیہ ماقبل) کی صفت ہے یا اس کا بدل ہے (وہ مظلوم لوگ) ۔ دفع اللہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اللہ کی (طرف سے) مدافعت ۔ ولا لا دفع اللہ الناس۔ اور اگر خدا دفاع نہ کرتا لوگوں کا (بعض لوگوں کا بعض کے ذریعہ سے) بعضہم ببعض۔ یعنی اگر خدا تعالیٰ بعض کو بعض سے ٹکرا کر یا بعض کو بعض کا توڑ بنا کر لوگوں کا بچائو نہ کرتا۔ لھدمت۔ لام لولا کے جواب میں ہے اور یہ لام بےعمل کی اقسام میں سے ہے۔ ھدمت واحد مؤنث غائب ماضی مجہول تھدیم (تفعیل) مصدر۔ منہدم کر دئیے جاتے ۔ ڈھا دئیے جاتے۔ صوامع۔ صومعۃ کی جمع۔ عیسائی راہبوں کے تکیے ۔ صومعہ ہر وہ عمارت ہے جس کا اوپر کا سرا باہم جرا ہوا ہو۔ چونکہ عیسائی اپنے عبادت خانوں کا سرا بلند اور باریک گا ودم بناتے ہیں۔ اس لئے اس کو سومعہ بولتے ہیں۔ بیع۔ بیعۃ کی جمع جس کے معنی ہیں یہود و نصاریٰ کے عبادت خانے اور گرجا گھر۔ (CHURCHES) صلوات۔ صلوۃ کی جمع۔ رحمتیں۔ نمازیں۔ دعائیں۔ عبادت خانے اور گرجا گھر۔ (SYNAGOG UES) فیھا۔ میں ھا ضمیر واحد مؤنث کا مرجع مسجد ہے (مساجد بلا تنوین آیا ہے کیونکہ غیر منصرف ہے کیونکہ یہ جمع منتہی الجموع کے وزن پر ہونے کی وجہ سے اسباب منع صرف میں سے ہے) بعض کے نزدیک اس کا مرجع جملہ معاہد متذکرہ بالا ہیں۔ یعنی صوامع۔ بیع ۔ صلوت، مساجد۔ لینصرن۔ لام تاکید ینصرن۔ مضارع تاکید بانون ثقیلہ واحد مذکر غائب، وہ ضرور مدد کرتا ہے۔ عزیز۔ غالب۔ زبردست۔ قوی۔ عزۃ سے فعیل کے وزن پر بمعنی فاعل مبالغہ کا صیغہ ہے۔
Ayah 22:41

اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَ اَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لِلّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ Open ayah 22:41 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم ان کو ملک میں دسترس دیں تو نماز پڑھیں اور زکوٰۃ ادا کریں اور نیک کام کرنے کا حکم دیں اور برے کاموں سے منع کریں اور سب کاموں کا انجام خدا ہی کے اختیار میں ہے

(22:41) الذین۔ یا تو من ینصرہ سے بدل ہے یا اخرجوا کی صفت ہے یعنی جو اللہ کی مدد کرتے ہیں (یعنی اس کے دین کی یا اس کے رسولون کی ، اولیائوں کی ) اگر ہم انہیں اقتدار بخشیں تو۔۔ یا وہ لوگ جو اپنے گھروں سے بلاوجہ نکالے گئے ایسے ہیں کہ اگر ہم انہیں اقتدار بخشیں تو ۔۔ ان مکناہم۔ مکنا ماضی جمع متکلم تمکین (تفعیل) مصدر ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ اگر ہم ان کو اقتدار دیں۔ اگر ہم ان کو جمائو عطا کریں۔ اگر ہم ان کو حکومت دیں۔ عاقبۃ۔ عاقبت۔ انجام۔ آخر۔ عاقبۃ الامور سب کاموں کا انجام۔
Ayahs 22:42–44

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ ثَمُوْدُۙ Open ayah 22:42 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ تم کو جھٹلاتے ہیں تو ان سے پہلے نوح (علیہ السلام) کی قوم بھی عاد اور ثمود کی قوم بھی (اپنے پیغمبروں کو) جھٹلا چکے ہیں

وَ قَوْمُ اِبْرٰهِیْمَ وَ قَوْمُ لُوْطٍۙ Open ayah 22:43 in the Quran reader

اور قوم ابراہیم اور قوم لوط

وَّ اَصْحٰبُ مَدْیَنَ١ۚ وَ كُذِّبَ مُوْسٰى فَاَمْلَیْتُ لِلْكٰفِرِیْنَ ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ١ۚ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ Open ayah 22:44 in the Quran reader

اور مدین کے رہنے والے بھی اور موسیٰ بھی تو جھٹلائے جاچکے ہیں لیکن میں کافروں کو مہلت دیتا رہا پھر ان کو پکڑ لیا تو (دیکھ لو کہ) میرا عذاب کیسا (سخت) تھا

(22:42 تا 44) ان یکذبون۔ میں ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ نبی کریم ﷺ کی طرف راجع ہے۔ اے رسول اللہ ﷺ ۔ اگر کفار آپ کو جھٹلاتے ہیں (تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں۔ یہ جواب شرط محذوف ہے) فائدہ :۔ ان آیات کی مندرجہ ذیل توضیحات قابل ذکر ہیں ! (1) ان یکذبوک۔ جملہ شرطیہ ہے لیکن جواب شرط محذوف ہے جیسا کہ اوپر ذکر ہوا۔ ّ (2) عاد اور ثمود کے ساتھ لفظ قوم نہیں آیا کیونکہ یہ قومیں ان ناموں کے ساتھ مشہور ہیں اس لئے قوم ہود یا قوم صالح نہیں کیا۔ اسی طرح اصحاب مدین کے ساتھ ان کے پیغمبر حضرت شعیب (علیہ السلام) کا ذکر نہیں ہوا۔ (3) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذکر میں کذب فعل مجہول لا کر بیان ہوا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی جھٹلایا گیا تھا۔ یہاں قوم اس واسطے مذکور نہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی قوم بنی اسرائیل نے نہیں جھٹلایا تھا بلکہ فرعون اور قبطیوں نے تکذیب کی تھی۔ (4) کذبت کو صیغہ تانیث سے اس لئے لایا گیا ہے کہ قوم (اس کا فاعل) اسم جمع ہے جس کے لئے تذکیر و تانیث دونوں جائز ہیں۔ املیت۔ ماضی واحد متکلم املاء (افعال) مصدر۔ میں نے ڈھیل دی۔ میں نے مہلت دی۔ اخذتہم۔ اخذت ماضی واحد متکلم ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ میں نے ان کو پکڑ لیا۔ ای عاقبتہم میں نے ان کو سزا دی۔ (ان کے کفر اور تکذیب کی) ۔ نکیر۔ اصل میں نکیری تھا۔ میرا انکار ۔ نکیر۔ باب افعال سے بروزن فعیل مصدر غیر قیاسی ہے نکیر۔ میرا انکار کردینا۔ میرا ان کو نہ پہچاننا۔ میرا ان کو رد کردینا۔ ظاہر ہے کہ خداوند تعالیٰ کا انکار کردینا محض زبانی انکار نہیں ہے بلکہ ان کی حالت کو دگرگوں کردینا۔ مخالف اور برعکس حالت سے بدل دینا۔ مراد ہے۔ مثلاً زندگی کو موت سے ۔ آبادی کو ویرانی سے ۔ تنعم وتعیش کو دشوار وہیبت ناک مصیبت میں بدل دینا۔ یہاں عذاب کے معنوں میں بھی لیا جاسکتا ہے۔ فکیف کان نکیر۔ پس کس قدر ہیبت ناک تھا میرا عذاب۔
Ayah 22:45

فَكَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ فَهِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ بِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَّ قَصْرٍ مَّشِیْدٍ Open ayah 22:45 in the Quran reader

اور بہت سی بستیاں ہیں کہ ہم نے انکو تباہ کر ڈالا کہ وہ نافرمان تھیں سو وہ اپنی چھتوں پر گری پڑی ہیں اور (بہت سے) کنویں بیکار اور (بہت سے) محل ویران (پڑے ہیں )

(22:45) فکاین۔ کاین اصل میں کای تھا۔ قرآنی املا میں تنوین کو بصورت نون لکھا گیا ہے۔ کاین قرآن میں ہر جگہ بصورت خبر آیا ہے ۔ گو یہ استفہام کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ یہ مبہم کثیر تعداد پر دلالت کرتا ہے۔ ابہام کو دور کرنے کے لئے اس کے بعد عموما من بطور تمیز آتا ہے۔ فکاین من قریۃ اھلکنھا۔ پس کتنی ہی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے ہلاک کر ڈالا۔ وھی ظالمۃ۔ اھلکنا کے مفعول سے جملہ حالیہ ہے یعنی درآں حالیکہ وہ نافرمان تھیں۔ خاویۃ۔ اسم فاعل واحد مؤنث خوی یخوی (ضرب) سے خواء مصدر۔ خوی البیت۔ گھر کا گرنا۔ منہدم ہونا۔ ڈھے جانا۔ خالی ہونا۔ عروشھا۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کی چھتیں۔ العرش اصل میں چھت والی چیز کو کہتے ہیں۔ اس کی جمع عروش ہے عرشت واعترشت العنب۔ انگور کی بیل کے لئے بانس وغیرہ کی ٹٹی بنانا۔ اسی بلندی کی وجہ سے بادشاہ کے تخت کو بھی عرش کہتے ہیں۔ فھی خاویۃ علی عروشھا۔ پس وہ اپنی چھتوں پر گری پڑی ہیں۔ اس جملہ کا عطف اھلکنھا پر ہے۔ بئر معطلۃ۔ موصوف صفت۔ اس کا عطف قریۃ پر ہے ای وکاین من بئر معطلۃ۔ اور کتنے ہی بےکار کنویں۔ معطلۃ۔ اسم مفعول واحد مؤنث تعطیل مصدر (باب تفعیل) خالی چھوڑے ہوئے (کنویں) جن سے کوئی پانی بھرنے والا ہی نہیں رہا۔ العطل ۔ (باب سمع) زیور سے خالی ہونا۔ یا مزدور کا بےکار ہونا۔ عطلت المراء ۃ عورت زیور سے خالی ہوگئی۔ وقصر مشید۔ موصوف وصفت اس کا عطف بھی قریۃ پر ہے ای وکاین من قصر مشید اھلکنا اھلھا۔ اور کتنے ہی قلعی چونے کے محل جن کے بسنے والوں کو ہم نے ہلاک کر ڈالا۔ مشید۔ اسم مفعول واحد مذکرشد مصدر (باب ضرب) مضبوط ۔ بلند۔ شید چنائی اور لپائی کا مصالحہ۔ دیوار پر پلستر چڑھانے کی چیز۔ شاد یشید۔ پلستر کرنا۔ اونچا کرنا۔ (کسی کا مرتبہ اونچا کرنا۔ آواز کو اونچا کر کے شعر گانا) باب تفعیل سے تشیید اونچا کرنا۔ جیسے بروج مشیدۃ (4:78) اونچے بنائے ہوئے برج۔ آیت کی عبارت کچھ یوں ہوئی وکاین من قریۃ اھلکنا ھاوکم من بئر عطلناھا باھلاک اھلھا وکم من قصر مشید اخلیناھا من ساکنیہ۔
Ayahs 22:46–47

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَتَكُوْنَ لَهُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِهَاۤ اَوْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا١ۚ فَاِنَّهَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ وَ لٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ Open ayah 22:46 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے ملک میں سیر نہیں کی تاکہ ان کے دل (ایسے) ہوتے کہ ان سے سمجھ سکتے اور کان (ایسے) ہوتے کہ ان سے سن سکتے بات یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ دل جو سینوں میں ہیں (وہ) اندھے ہوتے ہیں

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ وَ لَنْ یُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ١ؕ وَ اِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ Open ayah 22:47 in the Quran reader

اور (یہ لوگ) تم سے عذاب کے لئے جلدی کر رہے ہیں اور خدا اپنا وعدہ ہرگز خلاف نہیں کرے گا اور بیشک تمہارے پروردگار کے نزدیک ایک روز تمہارے حساب کے رو سے ہزار برس کے برابر ہے

(22:47) یستعجلونک۔ یستعجلون۔ مضارع جمع مذکر غائب استعجال (استفعال) مصدر۔ وہ جدہ مانگتے ہیں۔ وہ عجلت چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ جلدی آجائے۔ ک ضمیر واحد مذکر حاضر ۔ تجھ سے۔ تعدون۔ عد سے۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ تم شمار کرتے ہو۔ تم گنتے ہو۔ مما تعدون۔ جس حساب سے تم گنتی کرتے ہو۔ یعنی تمہارے شمار کے مطابق۔ عدد مادہ۔
Ayah 22:48

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَمْلَیْتُ لَهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَا١ۚ وَ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 22:48 in the Quran reader

اور بہت سی بستیاں ہیں کہ میں ان کو مہلت دیتا رہا اور وہ نافرمان تھیں پھر میں نے انکو پکڑلیا اور میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے

(22:48) املیت۔ ماضی واحد متکلم۔ میں نے مہلت دی۔ میں نے ڈھیل دی۔ املاء (افعال) مصدر۔ المصیر۔ اسم ظرف مکان صیر سے (باب ضرب) لوٹنے کی جگہ، قرار گاہ، ٹھکانا۔ المصیر۔ مصدر لوٹنا۔
Ayahs 22:49–50

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَاۤ اَنَا لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 22:49 in the Quran reader

(اے پیغمبر) کہہ دو کہ لوگو ! میں تم کو کھلم کھلا نصیحت کرنے والا ہوں

فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 22:50 in the Quran reader

تو جو لوگ ایمان لائے اور کام نیک کئے ان کے لئے بخشش اور آبرو کی روزی ہے

(22:49) انما۔ بےشک، تحقیق۔ ان حرف مشبہ بالفعل ہے اور ما کافہ ہے جو حصر کے لئے آتا ہے اور ان کو عمل لفظی سے روک دیتا ہے
Ayah 22:51

وَ الَّذِیْنَ سَعَوْا فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 22:51 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں میں (اپنے زعم باطل میں) ہمیں عاجز کرنے کے لئے سعی کی وہ اہل دوزخ ہیں

(22:51) معجزین۔ اسم فاعل۔ جمع مذکر معاجز واحد معاجزۃ (مفاعلۃ) مصدر اس کے معنی ہیں مقابلہ کر کے اپنے حریف کو ہرا دینا۔ یا عاجز کردینا۔ منکرین حشر کا خیال تھا کہ قیامت نہیں آئے گی نہ حشر ہوگا نہ نشر، نہ عذاب نہ ثواب، لیکن حق یہ ہے کہ یہ سب کچھ ہوگا اور ان چیزوں کو لانے سے وہ اللہ کو روک نہیں سکتے ۔ اس کی قدرت کو سلب نہیں کرسکتے۔ اس کو عاجز نہیں بنا سکتے۔ الجحیم۔ دوزخ۔ دہکتی ہوئی آگ جحم کے معنی آگ کے سخت بھڑکنے کے ہیں جحیم اسی سے مشتق ہے اور فعیل بمعنی فاعل ہے۔ سعوا۔ ماجی جمع مذکر غائب سعی مصدر (باب فتح) انہوں نے کوشش کی۔ سعوا فی ایتنا۔ ای عجلوا فی ابطال ایتنا۔ (جنہوں نے ہماری آیات (یعنی قرآن حکیم ) کو جھٹلانے کی کوشش کی ۔ کہتے ہیں سعی فی امر فلان اذا افسدہ بسعیہ۔ یعنی جب کوئی کوشش کر کے کسی کے کام کو بگاڑ دے تو کہتے ہیں کہ سعی فی امر فلان۔
Ayah 22:52

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّ لَا نَبِیٍّ اِلَّاۤ اِذَا تَمَنّٰۤى اَلْقَى الشَّیْطٰنُ فِیْۤ اُمْنِیَّتِهٖ١ۚ فَیَنْسَخُ اللّٰهُ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ ثُمَّ یُحْكِمُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌۙ Open ayah 22:52 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے کوئی رسول اور نبی نہیں بھیجا مگر (اس کا یہ حال تھا کہ) جب وہ کوئی آرزو کرتا تھا تو شیطان اس کی آرزو میں (وسوسہ) ڈالتا ہے جو وسوسہ شیطان ڈالتا خدا اس کو دور کردیتا ہے۔ پھر خدا اپنی آیتوں کو مضبوط کردیتا ہے اور خدا علم والا اور حکمت والا ہے

(22:52) تمنی۔ المنی سے ماضی واحد مذکر غائب کا صیغہ ہے (باب تفعل) المنجد میں اس کے معنی یہ دئیے ہیں۔ (1) تمنی الشیء ارادہ کرنا۔ (2) تمنی الکتاب۔ پڑھنا۔ (3) تمنی الرجل جھوٹ بولنا۔ (4) تمنی الحدیث۔ جھوٹی بات گھڑنا۔ امام راغب (رح) فرماتے ہیں :۔ التمنی کے معنی دل میں کسی خیال کے باندھنے اور اس کی تصویر کھینچ لینے کے ہیں۔ (التمنی تقدیر شیء فی النفس وتصویرہ فیھا) ۔ بہت سے مفسرین نے آیہ ہذا میں اس کے معنی قرات کے لئے ہیں (تمنی الکتاب) اور اس بابت انہوں نے انحصار کیا ہے اولاً آیت شریفہ ومنہم امیون لا یعلمون الکتب الا امانی (2:78) پر اور ثانیا اس شعر پر۔ تمنی کتب اللہ اخر لیلۃ تمنی داود الزبور علی الرسل مگر یہ بات واضح رہے کہ تمنی کے اصل معنی وہی ہیں جو امام راغب نے بیان کئے ہیں۔ قرات اس کے تقدیری معنی ہیں اور ان معنوں کے لئے کوئی قرینہ حالیہ چاہیے۔ آیت مذکورہ بالا اور شعر مندرجہ بالا ہر دو میں قرینہ حالیہ کتب موجود ہے۔ لیکن آیہ ھذا (22:52) میں کوئی ایسا قرینہ حالیہ موجود نہیں کہ اس کے معنی قرات کے لئے جائیں۔ دوسری طرف تمنا، آرزو، خیال باندھنے کے معنی میں قرآن مجید میں متعدد آیات ہیں مثلاً :۔ یعدہم ویمنیہم (4:120) (شیطان) ان سے وعدے ہی کرتا اور ہوسیں ہی دلاتا رہتا ہے۔ دی گئی۔ اذن کا متعلق محذوف ہے ای اذن لہم فی القتال۔ ان کو قتال کی (جہاد کی) اجازت دی جاتی ہے۔ ان زعمتم انکم اولیاء للہ من دون الناس فتمنوا الموت ان کنتم صدقین (62:6) اگر تمہارا یہ دعوی ہے کہ تم ہی تم بلا شرکت غیرے اللہ کے چہیتے ہو تو موت کی تمنا کر دکھائو۔ اگر تم سچے ہو۔ لیس بامانیکم ولا امانی اھل الکتاب (4:123) نہ تمہاری تمنائوں پر ہے نہ اہل کتاب کی تمنائوں پر۔ وغیرہ۔ تفصیل بالا سے واضح ہے کہ آیت زیر بحث میں ” تمنی “ کو آرزو اور تمنا کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے اور اس کو قرات کے معنی پہنانا دور کی کوڑی لانے کے مترادف ہے اور اسی سے قصہ غرانیق نے جنم لیا جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں (اس قصہ کی تفصیل کے لئے کتب تفاسیر ملاحظہ ہوں) القی۔ اس نے ڈالا۔ القاء (افعال) سے ماضی واحد مذکر غائب۔ امنیتہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ امنیۃ واحد۔ اس کا خیال۔ اس کی تمنا اس کی جمع امانی ہے ای القی الشیطان امنیتہ فی امنیتہ یعنی شیطان اس کی آرزو میں اپنی آرزو شامل کردیتا ہے۔ ینسخ مضارع واحد مذکر غائب نسخ مصدر (باب فتح) وہ دور کردیتا ہے وہ منسوخ کردیتا ہے۔ النسخ کے اصل معنی ایک چیز کو زائل کر کے دوسری کو اس کی جگہ پر لانے کے ہیں اور کبھی عرف ازالہ کے معنی ہی مراد ہوتے ہیں جیسا کہ آیت ہذا میں۔ پس فینسخ اللہ ما یلقی الشیطن کا ترجمہ ہوا۔ پس جو (وسوسہ) شیطان ڈالتا ہے خدا اس کو دور کردیتا ہے۔ اسی سے باب استفعال سے استنساخ کے معنی کسی چیز کے لکھنے کو طلب کرنے یا لکھنے کے لئے تیار ہونے کے ہیں۔ اور کبھی اسی باب سے بمعنی نسخ (کتاب کی کاپی کرنا۔ یا لکھنا) بھی آجاتا ہے جیسا کہ انا کنا نستنسخ ما کنتم تعلمون (45:29) جو کچھ تم کیا کرتے تھے ہم لکھواتے جاتے تھے۔ اسی سے تناسخ الازمنۃ (باب تفاعل) ایک زمانے کا گذر جانا اور دوسرے زمانے کا اس کی جگہ آجانا۔ مولانا ابو الکلام آزاد (رح) نے اس کا ترجمہ یوں کیا ہے :۔ اور (اے پیغمبر) ہم نے تجھ سے پہلے جتنے رسول اور جتنے نبی بھیجے سب کے ساتھ یہ معاملہ ضرور پیش آیا کہ جونہی انہوں نے (اصلاح و سعادت کی) آرزو کی شیطان نے ان کی آرزو میں کوئی نہ کوئی فتنہ کی بات ڈال دی۔ اور پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی وسوسہ اندازیوں کا اثر مٹایا اور اپنی نشانیوں کو اور زیادہ مضبوط کردیا۔
Ayah 22:53

لِّیَجْعَلَ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْقَاسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَفِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍۙ Open ayah 22:53 in the Quran reader

غرض (اس میں) یہ ہے کہ جو (وسوسہ) شیطان ڈالتا ہے اس کو ان لوگوں کے لئے جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جن کے دل سخت ہیں ذریعہ آزمائش ٹھہرائیے بیشک ظالم پرلے درجے کی مخالفت میں ہیں

(22:53) لیجعل۔ میں لام تعلیل کا ہے۔ یعنی یہ القا من جانب الشیطن اس لئے ہے کہ جن کے دلوں میں مرض ہے یا جو شقی القلب ہیں ان کے لئے فتنہ کا موجب ہو۔ فتنۃ۔ الفتن۔ اس کے معنی دراصل سونے کو آگ میں گھلانے کے ہیں تاکہ اس کا کھرا کھوٹا ہونا معلوم ہوجائے۔ قرآن مجید میں فتنہ اور اس کے مشتقات کو مختلف معنی کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ مثلاً ، آزمائش، مصیبت، فساد ، بدنظمی، عبرت، ایذا۔ دکھ، عذاب عذر وغیرہ۔ اصل معنی کے لحاظ سے انسان کو آگ میں ڈالنے کے لئے بھی استعمال ہوا ہے مثلاً یوم ہم علی النار یفتنون (51:13) جب ان کو آگ پر تپایا جائے گا۔ اور آیت ثم لم تکن فتنتہم الا ان قالوا واللہ ربنا ما کنا مشرکین (6:23) میں بمعنی الحجۃ دلیل۔ عذر کے معنوں میں آیا ہے۔ پھر ان کے پاس کوئی حجت نہ رہ جائے گی مگر یہ کہ وہ کہہ اٹھیں گے قسم ہے اللہ ہمارے پروردگار کی کہ ہم مشرک نہ تھے۔ آیت ہذا میں بمعنی آزمائش آیا ہے۔ القاسیۃ۔ قسا یقسوا (باب نصر) سے اسم فاعل واحد مؤنث کا صیغہ ہے بمعنی صفت سخت، ٹھوس۔ قسو۔ قسوۃ۔ قساوۃ وقساء ۃ مصدر۔ محاورہ ہے ھو اقسی من الصخر۔ وہ پتھر سے بھی زیادہ سخت ہے۔ والقاسیۃ قلوبہم ای وللقاسیۃ قلوبہم اور ان کے لئے جن کے دل بہت سخت ہیں۔ شقاق۔ ضد۔ مخالفت۔ شقاق بعید۔ وہ مخالفت جو بہت دور تک پہنچ چکی ہو۔ مکمل مخالفت۔ شدید عداوت۔
Ayah 22:54

وَّ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَیُؤْمِنُوْا بِهٖ فَتُخْبِتَ لَهٗ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 22:54 in the Quran reader

اور یہ بھی غرض ہے کہ جن لوگوں کو علم عطا ہوا ہے وہ جان لیں کہ وہ (یعنی وحی) تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے تو وہ اس پر ایمان لائیں اور انکے دل خدا کے آگے عاجزی کریں اور جو لوگ ایمان لائے ہیں خدا انکو سیدھے راستے کی طرف ہدایت کرتا ہے

(22:54) اوتوا العلم۔ اوتوا ماضی مجہول جمع مذکر غائب ایتاء (افعال) سے مصدر۔ وہ دئیے گئے۔ ان کو دیا گیا۔ اوتوا العلم۔ جنہیں علم دیا گیا۔ اصحاب علم و فراست ۔ انہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب القرآن کے لئے ہے۔ اسی طرح اسی آیت میں فتخبت لہ اور فیؤمنوا بہ میں بہ اور لہ کی ضمائر کا مرجع القرآن ہے اور ان ہر دو میںبمعنی تعقیب ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ عطف سببی کے لئے ہو۔ فیؤمنوا بہ ای یزدادوا ایمانا ان کا ایمان اور پختہ ہوجائے فتخبت لہ قلوبہم پھر اس کی طرف ان کے دل اور بھی زیادہ جھک جائیں۔ تخبت۔ مضارع واحد مؤنث غائب اخبات (افعال) مصدر وہ (مزید) نرمی و انکساری اختیار کریں۔ الخبت اصل میں نشیبی اور نرم زمین کو کہتے ہیں پھر اس کو نرمی اور تواضع کے معنی میں استعمال ہونے لگا اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے واخبتوا الی ربہم (11:23) اور انہوں نے اپنے پروردگار کے آگے عاجزی کی۔ لھاد میں لام تاکید کا ہے ھاد ھدایۃ سے اسم فاعل واحد مذکر ہے۔ اصل میں ھادی تھا۔ ہدایت دینے والا۔
Ayahs 22:55–56

وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ حَتّٰى تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً اَوْ یَاْتِیَهُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَقِیْمٍ Open ayah 22:55 in the Quran reader

اور کافر لوگ ہمیشہ اس سے شک میں رہیں گے یہاں تک کہ قیامت ان پر ناگہاں آجائے یا ایک نامبارک دن کا عذاب ان پر آواقع ہو

اَلْمُلْكُ یَوْمَئِذٍ لِّلّٰهِ١ؕ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 22:56 in the Quran reader

اس روز بادشاہی خدا ہی کی ہوگی (اور) وہ ان میں فیصلہ کر دے گا تو جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے وہ نعمت کے باغوں میں ہوں گے

(22:55) لایزال۔ افعال ناقص سے ہے مضارع منفی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ زوال مصدر۔ وہ ہمیشہ رہے گا۔ مریۃ اسم مصدر مری مادہ۔ المریۃ کے معنی کسی معاملہ میں تردد کرنے کے ہیں اور یہ شک سے خاص ہوتا ہے ۔ گویا جس شک سے تردد پیدا ہوجائے اس کو مریۃ کہتے ہیں۔ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے فلا تک فی مریۃ مما یعبد ھولاء (11:109) تو یہ لوگ جو غیر خدا کی پرستش کرتے ہیں اس سے تم خلجان میں نہ پڑنا۔ بغتۃ۔ اچانک۔ یک دم۔ یکایک۔ یوم عقیم۔ سخت دن۔ منحوس دن۔ بےبرکت دن۔ العقم اصل میں اس خشکی کو کہتے ہیں جو کسی چیز کا اثر قبول کرنے سے مانع ہو۔ بانجھ عورت کو عقیم اس لئے کہتے ہیں کہ وہ مرد کا نفطہ قبول کرنے سے انکار کرتی ہے۔ یہاں مراد قیامت کا دن ہے۔
Ayah 22:57

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا فَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ۠ Open ayah 22:57 in the Quran reader

اور جو کافر ہوئے اور ہماری آیتوں کو جھٹلاتے رہے ان کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا

(22:57) مھین۔ اسم فاعل واحد مذکر اھانۃ مصدر باب افعال۔ ذلیل کرنے والا۔
Ayah 22:58

وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ قُتِلُوْۤا اَوْ مَاتُوْا لَیَرْزُقَنَّهُمُ اللّٰهُ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 22:58 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے خدا کی راہ میں ہجرت کی پھر مارے گئے یا مرگئے ان کو خدا اچھی روزی دے گا اور بیشک خدا سب سے بہتر رزق دینے والا ہے

(22:58) لیرزقنہم اللہ۔ لیرزقن۔ مضارع بلام تاکید ونون ثقیلہ تاکید۔ واحد مذکر غائب وہ ضرور رزق دیتا ہے یا دے گا ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب اللہ فاعل اللہ تعالیٰ ان کو ضرور رزق دے گا۔
Ayah 22:59

لَیُدْخِلَنَّهُمْ مُّدْخَلًا یَّرْضَوْنَهٗ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَلِیْمٌ حَلِیْمٌ Open ayah 22:59 in the Quran reader

وہ ان کو ایسے مقام سے داخل کرے گا جسے وہ پسند کریں گے اور خدا تو جاننے والا (اور) بردبار ہے

(22:59) لیدخلنہم۔ مضارع بلام تاکید ونون ثقیلہ۔ ادخال (افعال) مصدر ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب وہ ان کو ضرور داخل کرے گا مدخلا۔ داخل ہونے کی جگہ۔ یعنی جنت۔ یرضونہ۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب۔ مدخلا کی طرف راجع ہے جسے وہ پسند کریں گے۔ حلیم۔ تحمل والا۔ باوقار۔ بردبار۔ حلم سے بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے۔
Ayah 22:60

ذٰلِكَ١ۚ وَ مَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَا عُوْقِبَ بِهٖ ثُمَّ بُغِیَ عَلَیْهِ لَیَنْصُرَنَّهُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 22:60 in the Quran reader

یہ (بات خدا کے ہاں ٹھہر چکی ہے) اور جو شخص (کسی کو) اتنی ہی ایذا دے جتنی ایذا اس کو دی گئی پھر اس شخص پر زیادتی کی جائے تو خدا اسکی مدد کرے گا بیشک خدا معاف کرنے والا (اور) بخشنے والا ہے

(22:60) ذلک۔ ای الامر ذلک۔ سو یہ بات ہے۔ یہ تو ہے ان کا حال۔ ذلک وقف ج ہے جو وقف جائز کو ظاہر کرتا ہے یہاں پچھلی بات ختم ہوتی ہے ۔ اگلا جملہ مستانفہ ہے اور یہاں سے نیا مضمون شروع ہوتا ہے۔ عاقب۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ معاقبۃ (مفاعلۃ) سے۔ اس نے بدلہ دیا۔ اس نے سزا دی۔ عوقب ماضی مجہول واحد مذکر غائب۔ اسے ایذا دی گئی۔ اسے تکلیف پہنچائی گئی۔ وہ ستایا گیا۔ عقاب مصدر۔ من عاقب بمثل ما عوقب بہ۔ جو شخص اسی قدر تکلیف پہنچائے جتنی تکلیف اسے پہنچائی گئی (یعنی جس نے دشمن کی ایذا کا بدلہ اس کی ایذا کے برابر لے لیا اور یوں معاملہ برابر کردیا ) ثم۔ پھر اس کے بعد۔ بغی علیہ۔ اس پر زیادتی کی گئی۔ بغی ماضی مجہول واحد مذکر غائب۔ بغی مصدر ۔ لینصرنہ اللہ۔ لینصرن۔ مضارع بلام تاکید ونون ثقیلہ۔ واحد مذکر غائب (جس کا مرجع وہ شخص ہے جس پر زیادتی کی گئی ) اللہ فعال۔ تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کی مدد کرے گا۔ عفو۔ بروزن فعول۔ مبالغہ کا صیغہ ہے بہت زیادہ معاف کرنے والا۔ یہ بھی اللہ کے اسماء حسنیٰ میں سے ہے۔
Ayah 22:61

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 22:61 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ خدا رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور خدا تو سننے والا اور دیکھنے والا ہے

(22:61) ذلک۔ یہ اس لئے کہ۔ ذلک کا اشارہ کس طرف ہے اس میں دو مختلف قول ہیں۔ اول یہ کہ اس کا مشار الیہ خداوند تعالیٰ کی وہ قدرت اور طاقت ہے جس کا بیان آیت ہذا میں ایلاج لیل ونہار کی صورت میں آیا ہے۔ دوم۔ مشار الیہ اللہ تعالیٰ کی وہ تمام صفات ہیں جو آیات 56 تا 60 میں مذکور ہوئی ہیں یعنی قیامت کے روز اس وحدہ لا شریک کی بلا شرکت غیرے مکمل بادشاہی ۔ روز قیامت اس کا خلقت کے لئے واحد حاکم ہونا۔ صالحین کو جنت النعیم میں داخل کرنے کی قدرت کا مالک ہونا۔ اور کفار و مکذبین کو عذاب مہین میں مبتلا کرنا اور اپنے مومن بندوں میں سے جس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہو اس کی امداد کرنا۔ ان تمام صفات کی دلیل اس کی وہ قدرت ہے جو آیت ہذا (61) میں ایلاج لیل ونہار کی صورت میں بیان ہوئی ہے۔ بان۔ میں ب سببیہ ہے۔ بان۔ یعنی یہ سبب اس امر کے کہ۔۔ یولج۔ مضارع واحد مذکر غائب ایلاج (افعال) مصدر ولج مادہ۔ وہ داخل کرتا ہے۔ الولوج کے معنی کسی تنگ جگہ میں داخل ہونے کے ہیں جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے حتی یلج الجمل فی سم الخیاط (7:40) یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکہ میں سے نہ نکل جائے۔ یولج الیل فی النھار وہ داخل کرتا ہے رات کو دن میں۔ اسی سے ولیجۃ ہے جس کے معنی ولی دوست۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ولم یتخذوا من دون اللہ ولا رسولہ ولا المؤمنین ولیجۃ (9:16) انہوں نے خدا اور اس کے رسول اور مومنوں کے سوا کسی کو ولی دوست نہیں بنایا۔ ایلاج الیل فی النہار وایلاج النہار فی الیل سے مراد یہ ہے کہ اس نے نظام فلکی کچھ اس طرح منظم فرمایا ہے کہ زمین جب اپنے مدار میں سورج کے گرد اپنے طور پر گردش کرتی ہے تو آہستہ آہستہ رات کا کچھ حصہ (یعنی رات کی تاریکی) دن میں (دن کی روشنی میں) داخل ہوجاتا ہے ۔ اور یوں دن طویل ہوتے جاتے ہیں۔ اور پھر دن کا کچھ حصہ (یعنی دن کی روشنی) رات (کی تاریکی) میں داخل ہوجاتا ہے۔ تو دن (جوں جوں رات میں داخل ہوتا جاتا ہے) چھوٹا ہوتا جاتا ہے۔ اور رات طویل ہوتی جاتی ہے۔
Ayah 22:62

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ هُوَ الْبَاطِلُ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ Open ayah 22:62 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ خدا ہی برحق ہے اور جس چیز کو (کافر) خدا کے سوا پکارتے ہیں وہ باطل ہے اور اسلئے کہ خدا رفیع الشان اور بڑا ہے

(22:62) ذلک۔ اس کے بھی وہی معنی ہیں جو آیت (61) متذکرہ بالا میں بیان ہوئے یہاں یہ لفظ مکرر اس کی ایک دوسری صفت بیان کرنے کے لئے لایا گیا ہے یعنی نصرت مؤمنین و دیگر صفات کے اثبات کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ بان اللہ ھو الحق کہ وہ الحق ہے اس کا دین حق ہے اس کی عبادت حق ہے اور وہ اپنے قول وفعل میں حق ہے۔ اور مشرکین خود جھوٹے ان کے بت جھوٹے اور ان کا مذہب باطل۔ گویا آیات 56 تا 60 میں جو صفات مذکور ہوئی ہیں ان کے اثبات میں مندرجہ ذیل دلائل لائے گئے ہیں۔ (1) اس کا ایلاج لیل ونہار پر قادر ہونا۔ (2) اس کا سمیع وبصیر ہونا۔ (3) اس کا الحق ہونا۔ (4) ماسوی اللہ کا پکارنا باطل ہونا۔ (5) اس کا العلی الکبیر ہونا۔
Ayah 22:63

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١٘ فَتُصْبِحُ الْاَرْضُ مُخْضَرَّةً١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌۚ Open ayah 22:63 in the Quran reader

کیا تم نہیں دیکھتے کہ خدا آسمان سے مینہ برساتا ہے تو زمین سرسبز ہوجاتی ہے ؟ بیشک خدا باریک بین اور خبردار ہے

(22:63) فتصبح۔ میں فاء تعقیب کی ہے یا سببیہ بھی ہوسکتی ہے۔ تصبح۔ مضارع کا صیغہ واحد مؤنث غائب اصباح (افعال) مصدر۔ ہو ہوجاتی ہے وہ ہوجائے گی ! مخضرۃ۔ الخضرۃ۔ ایک قسم کا رنگ جو سیاہی اور سفیدی کے بین بین ہوتا ہے مگر سیاہی غالب ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسود (سیاہ) اور اخضر (سبز) ایک دوسرے کی جگہ استعمال ہوتے ہیں۔ عراق کا وہ علاقہ جو بہت سرسبز ہے سواد العراق کہلاتا ہے۔ خضر (سمع) بمعنی سرسبز ہوگیا اور اخضر (افعال) سبز کردیا ۔ باب افعلال (اخضرار) سے اخضر سبز ہوگیا۔ سیاہ ہوگیا۔ اسی سے مخضوۃ اسم فاعل واحد مؤنث کا صیغہ ہے یعنی سبز۔ سیاہی مائل رنگ۔ بہت سبز۔ لطیف۔ لطف سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے دقیقہ رس۔ امور دقیقہ کو جاننے والا۔ بندوں پر نہایت مہربان۔
Ayah 22:64

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠ Open ayah 22:64 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اسی کا ہے اور بیشک خدا بےنیاز اور قابل ستائش ہے

(22:64) الحمید۔ حمد سے بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے ۔ ستو وہ۔ تعریف کیا ہوا۔ بمعنی مفعول۔ یعنی محمود۔ صفت کیا گیا۔ سزاوار حمد وثنائ۔
Ayah 22:65

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ وَ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ یُمْسِكُ السَّمَآءَ اَنْ تَقَعَ عَلَى الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 22:65 in the Quran reader

کیا تم نہیں دیکھتے کہ جتنی چیزیں زمین میں ہیں (سب) خدا نے تمہارے زیر فرمان کر رکھی ہیں ؟ اور کشتیاں (بھی) اسی کے حکم سے دریا میں چلتی ہیں اور وہ آسمان کو تھامے رہتا ہے کہ زمین پر (نہ) گرپڑے مگر اسکے حکم سے بیشک خدا لوگوں پر نہایت شفقت کرنے والا مہربان ہے

(22:65) والفلک ای الم تر ان الفلک تجری۔۔ الخ۔ اس کا عطف اسم ان پر ہے۔ یمسک۔ مضارع واحدمذکر غائب امساک (افعال) سے ، وہ تھامے ہوئے ہے وہ روکے ہوئے ہے ۔ وہ سنبھالے ہوئے ہے۔ ان تقع۔ میں ان مصدریہ ہے تقع۔ دقع یقع (فتح) منصوب بوجہ عمل ان اس سے قبل عن حرف جار محذوف ہے۔ ای یمسک السماء عن ان تقع علی الارض۔ وہ آسمان کو زمین پر گرنے سے روکے ہوئے ہے۔ رؤف رافۃ سے۔ بروزن فعول ۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے بہت شفقت کرنے والا۔ بڑا مہربان۔
Ayah 22:66

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَحْیَاكُمْ١٘ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ Open ayah 22:66 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے تم کو حیات بخشی پھر تم کو مارتا ہے پھر تمہیں زندہ بھی کرے گا۔ اور انسان تو بڑا ناشکرا ہے

(22:66) کفور۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ ناشکرا ۔ کافر۔
Ayah 22:67

لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا هُمْ نَاسِكُوْهُ فَلَا یُنَازِعُنَّكَ فِی الْاَمْرِ وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَ١ؕ اِنَّكَ لَعَلٰى هُدًى مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 22:67 in the Quran reader

ہم نے ہر ایک امت کے لئے ایک شریعت مقرر کردی جس پر وہ چلتے ہیں تو یہ لوگ تم سے اس امر میں جھگڑا نہ کریں اور تم (لوگوں کو) اپنے پروردگار کی طرف بلاتے رہو بیشک تم سیدھے راستے پر ہو

(22:67) منسکا۔ شریعت۔ طریق عبادت ۔ قربانی کرنا۔ (یا قربانی کرنے کا طریقہ) (نیز ملاحظہ ہو 22:34) ناسکوہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ ناسکو اصل میں ناسکون تھا۔ اضافت کی وجہ سے نون گرادیا گیا۔ نسک ینسک (باب نصر) سے اسم فاعل جمع مذکر۔ عبادت یا شریعت کے طریقہ پر چلنے والے۔ خدا کے لئے قربانی کرنے والے۔ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جس کا مرجع منسکا ہے۔ ہم ناسکوہ جس پر وہ چلنے والے ہیں۔ فلا ینازعنک۔ فعل نہی جمع مذکر غائب بانون ثقیلہ۔ منازعۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ وہ تجھ سے جھگڑا نہ کریں۔ سوا نہیں نہ چاہیے کہ تجھ سے جھگڑا کریں۔ فی الامر۔ ای فی امر الدین۔ دین کے بارہ میں ۔ دین کے معاملہ میں۔ یا فی امر الذبائح (خازن) ذبیحہ کے معاملہ میں۔ بدیل بن ورقائ۔ بشر بن سفیان ۔ یزید بن خنیس۔ حضور ﷺ کے اصحاب سے جھگڑتے تھے کہ یہ کیا بات ہے کہ اپنے ہاتھ سے مارے ہوئے کو تو کھالیتے ہو اور خدا کے مارے ہوئے (مردہ) کو نہیں کھاتے۔ حکم ہوتا ہے کہ تم ان سے ان فضول باتوں پر جھگڑا مت کرو۔ ھدی۔ ھدایۃ سے ہدایت، رہنمائی ھو علی ھدی۔ وہ سیدھی راہ پر ہے۔ انک لعلی ھدی مستقیم۔ علی حرف جار۔ ھدی موصوف۔ مستقیم صفت۔ موصوف صفت مل کر مجرور۔ بیشک آپ سیدھی راہ پر ہیں۔
Ayahs 22:68–69

وَ اِنْ جٰدَلُوْكَ فَقُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 22:68 in the Quran reader

اگر یہ تم سے جھگڑا کریں تو کہہ دو کہ جو عمل تم کرتے ہو خدا ان سے خوب واقف ہے

اَللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 22:69 in the Quran reader

جن باتوں میں تم اختلاف کرتے ہو خدا قیامت کے روز ان کا فیصلہ کر دے گا

(22:68) جادلوک۔ جادلوا ماضی جمع مذکر غائب مجادلۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ اگر وہ تجھ سے جھگڑا کریں۔
Ayah 22:70

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ فِیْ كِتٰبٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 22:70 in the Quran reader

کیا تم نہیں جانتے کہ جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے خدا اس کو جانتا ہے ؟ یہ (سب کچھ) کتاب میں (لکھا ہوا) ہے بیشک یہ سب خدا کو آسان ہے

(22:70) کتب۔ ای لوح محفوظ۔ یسیر۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے واحد مذکر یسر سے بروزن فعیل۔ آسان سہل۔
Ayah 22:71

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ مَا لَیْسَ لَهُمْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ Open ayah 22:71 in the Quran reader

اور (یہ لوگ) خدا کے سوا ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جن کی اس نے کوئی سند نازل نہیں فرمائی اور نہ انکے پاس اس کی کوئی دلیل ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہوگا

(22:71) مالم ینزل بہ سلطنا۔ میں ما موصولہ ہے لم ینزل مضارع نفی حجد بلم واحد مذکر غائب کا صیغہ بہ میں ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع ما ہے۔ سلطنا لم ینزلکا مفعول ہے۔ جس کی الوہیت کے متعلق اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل یا سند نازل نہیں کی۔ (یہ دلیل سمعی ہے جو من جہت الوحی حاصل ہوسکتی ہے) ۔ وما لیس لہم بہ علم۔ اور نہ ہی خود انہیں اس کے متعلق کوئی علم ہے (یہ دلیل عقلی ہوئی) ۔ وما للظلمین من نصیر۔ میں ما نافیہ ہے۔ اور ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔
Ayah 22:72

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الْمُنْكَرَ١ؕ یَكَادُوْنَ یَسْطُوْنَ بِالَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ؕ قُلْ اَفَاُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكُمْ١ؕ اَلنَّارُ١ؕ وَعَدَهَا اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 22:72 in the Quran reader

اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو (ان کی شکل بگڑ جاتی ہے اور) تم ان کے چہروں پر صاف طور پر ناخوشی کے (آثار) دیکھتے ہو قریب ہوتے ہیں کہ جو لوگ انکو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں ان پر حملہ کردیں کہہ دو کہ میں تم کو اس سے بھی بری چیز بتاؤں ؟ وہ دوزخ کی آگ ہے جس کا خدا نے کافروں سے وعدہ کیا ہے اور (وہ) برا ٹھکانا ہے

(22:72) تتلی۔ مضارع مجہول واحد مؤنث غائب۔ بمعنی جمع مؤنث غائب تلاوۃ مصدر (جب) وہ پڑھی جاتی ہیں۔ یا اس کی تلاوت کی جاتی ہے۔ بینت۔ وضاحت کے ساتھ۔ کھول کھول کر۔ صاف صاف (ایت سے حال ہے) تعرف۔ مضارع واحد مذکر حاضر۔ تو پہچان لے گا۔ تو پہچانا گا۔ (بمعنی تو دیکھے گا) تو پہچان لیتا ہے۔ معرفۃ وعرفان مصدر۔ (باب ضرب) ۔ المنکر۔ ناخوشی۔ ناخوشی ونفرت کے آثار ۔ اسم مفعول واحد مذکر۔ وہ قول وفعل جس کو عقل سلیم برا جانتی ہو یا شریعت نے اسے برا قرار دیا ہو۔ (یعنی جب ہماری آیات ان کو وضاحت کے ساتھ کھول کھول کر سنائی جاتی ہیں تو تو ان کے چہرے پر ناپسندیدگی اور نفرت کے آثار دیکھے گا) ۔ یکادون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ کاد یکاد کود (باب سمع) کاد اصل میں کود تھا۔ افعال مقاربہ میں سے ہے۔ اور افعال ناقصہ کی طرح عمل کرتا ہے۔ فعل مضارع پر داخل ہوتا ہے۔ کاد اگر بصورت اثبات ہو تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعد کو آنے والا فعل واقع نہیں ہوا گو قریب الوقوع ضرور تھا۔ جیسے کاد یزیغ قلوب فریق منہم۔ (9:117) ان میں سے ایک گروہ کے دل کج ہونے کے قریب پہنچ ہی گئے تھے۔ (لیکن ابھی کج نہیں ہوئے تھے) اور اگر بصورت نفی مذکور ہو تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعد کو آنے والا فعل واقع ہوگیا لیکن عدم وقوع کے قریب تھا۔ جیسے فذبحوھا وما کادوا یفعلون (2:71) پھر انہوں نے اسے ذبح کیا۔ گو وہ ذبح نہ کرنے کی حد تک پہنچ گئے تھے۔ (یعنی بہانے بنا چکے تھے) کبھی یہ زائد ہوتا ہے اور صرف وصل کلام کے لئے آتا ہے۔ جیسے اذا اخرج یدہ لم یکد یرھا۔ (24:40) جب آدمی اپنا ہاتھ نکالتا ہے تو اسے دیکھ نہیں پاتا۔ ای لم یرھا۔ یسطون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ سطوۃ مصدر۔ وہ حملہ کردیں۔ سطایسطو۔۔ بہ وعلیہ۔ کسی پر حملہ کر کے مغلوب کرنا۔ سطو وسطوۃ مصدر۔ یکادون یسطون بالذین یتلون علیہم ایتنا۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ (کافر لوگ) ان پر جو کافروں کو ہماری آیات پڑھ کر سناتے ہیں جھپٹ ہی پڑیں گے (ایتنا جمع مؤنث سالم کا اعراب بحالت نصب وجر کسرہ کے ساتھ آتا ہے) ۔ افانبئکم۔ ہمزہ استفہامیہ۔زائد انبیء مضارع واحد متکلم تنبئۃ سے تفعیل مصدر کضمیر ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ کیا میں تم کو بتائوں۔ کیا میں تم کو خبر دوں۔ لشر۔ برائی۔ شر۔ شر وہ چیز ہے جس سے ہر ایک کراہت کرتا ہے۔ خیر کی ضد ہے یہاں بمعنی افعل آیا ہے یعنی بدتر۔ زیادہ نقصان دہ۔ مکروہ تر۔ اسی سے شریر وشرارۃ ہے کہ ہر دو میں کراہت و نقصان کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ اور اس سے شرر بمعنی چنگاری ہے۔ آگ کی چنگاری کو شرر اس لئے کہتے ہیں کہ اس سے بھی نقصان کا اندیشہ ہے۔ قرآن مجید میں ہے ترمی بشرر کالقصر (77 : 32) اس سے آگ کی (اتنی اتنی بڑی) چنگاریان اڑتی ہیں جیسے محل۔ النار۔ النارھی النار۔ (کبر جس کا مبتدا محذوف ہے) ۔ المصیر۔ ٹھکانہ۔ لوٹنے کی جگہ۔ قرار گاہ۔ صار یصیر (ضرب) سے اسم ظرف مکان نیز مصدر بھی ہے۔
Ayah 22:73

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّ لَوِ اجْتَمَعُوْا لَهٗ١ؕ وَ اِنْ یَّسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَیْئًا لَّا یَسْتَنْقِذُوْهُ مِنْهُ١ؕ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَ الْمَطْلُوْبُ Open ayah 22:73 in the Quran reader

لوگو ! ایک مثال بیان کی جاتی ہے اس کو غور سے سنو کہ جن لوگوں کو خدا کے سوا پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی نہیں بنا سکتے اگرچہ اس کے لئے سب مجتمع ہوجائیں اور اگر ان سے کوئی مکھی چھین کرلے جائے تو اسے اس سے چھڑا نہیں سکتے طالب اور مطلوب (یعنی عابد اور معبود دونوں) گئے گزرے ہیں

(22:73) تدعون۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ تم پکارتے ہو۔ دعاء مصدر۔ لن یخلقوا۔ مضارع نفی تاکید بلن جمع مذکر غائب۔ وہ ہرگز پیدا نہیں کرسکیں گے۔ ذبابا۔ مکھی۔ اذبۃ۔ ذبان وذب۔ جمع۔ یسلبہم۔ مضارع مجزوم بوجہ ان شرطیہ واحد مذکر غائب ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب (اگر) وہ ان سے چھین لے۔ سلب مصدر جس کا مطلب ہے چھیننا۔ لا یستنقذوہ۔ لا یستنقذون۔ فعل مضارع منفی جمع مذکر غائب۔ مجزوم بحذف نون اعرابی۔ جواب شرط ہے۔ استنقاذ (استفعال) مصدر ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جس کا مرجع شیئا ہے۔ وہ اس کو نہیں چھڑا سکتے۔ اس کو واپس نہیں لے سکتے۔ اس کی خلاصہ نہیں کرسکتے ۔ انقذ ینقذ (باب افعال) چھڑانا۔ بچا لینا۔ قرآن مجید میں ہے وکنتم علی شفا حفرۃ من النار فانقذکم منھا (3:102) اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے تک پہنچ چکے تھے۔ تو خدا نے تم کو اس سے بچا لیا۔ ضعف۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ ضعف وضعف مصدر (باب نصروکرم) وہ کمزور ہوا۔ وہ ناتواں ہوا۔ یہاں باب کرم سے استعمال ہوا ہے۔ الطالب۔ مراد بتوں کے پجاری۔ المطلوب۔ مراد بت۔
Ayah 22:74

مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 22:74 in the Quran reader

ان لوگوں نے خدا کی قدر جیسی کرنی چاہیے تھی نہیں کی کچھ شک نہیں کہ خدا زبردست اور غالب ہے

(22:74) قوی۔ قوۃ سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ طاقتور۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں سے ہے۔ عزیز۔ غالب ۔ زبردست۔ قوی۔ عزۃ سے فعیل کے وزن پر بمعنی فاعل۔ مبالغہ کا صیغہ ہے۔
Ayahs 22:75–77

اَللّٰهُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ رُسُلًا وَّ مِنَ النَّاسِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌۚ Open ayah 22:75 in the Quran reader

خدا فرشتوں میں سے پیغام پہنچانے والے منتخب کرلیتا ہے اور انسانوں میں سے بھی بیشک خدا سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 22:76 in the Quran reader

جو ان کے آگے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے وہ اس سے واقف ہے اور سب کاموں کا رجوع خدا ہی کی طرف ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ارْكَعُوْا وَ اسْجُدُوْا وَ اعْبُدُوْا رَبَّكُمْ وَ افْعَلُوا الْخَیْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ۩ Open ayah 22:77 in the Quran reader

مومنو ! رکوع کرتے اور سجدے کرتے اور اپنے پروردگار کی عبادت کرتے رہو اور نیک کام کرو تاکہ فلاح پاؤ

(22:75) یصطفی۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ اصطفی مصدر باب افعال وہ چن لیتا ہے وہ منتخب کرلیتا ہے ۔ وہ برگزیدہ بنا لیتا ہے۔
Ayah 22:78

وَ جَاهِدُوْا فِی اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ١ؕ هُوَ اجْتَبٰىكُمْ وَ مَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ١ؕ مِلَّةَ اَبِیْكُمْ اِبْرٰهِیْمَ١ؕ هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِمِیْنَ١ۙ۬ مِنْ قَبْلُ وَ فِیْ هٰذَا لِیَكُوْنَ الرَّسُوْلُ شَهِیْدًا عَلَیْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ١ۖۚ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اعْتَصِمُوْا بِاللّٰهِ١ؕ هُوَ مَوْلٰىكُمْ١ۚ فَنِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ۠ Open ayah 22:78 in the Quran reader

اور خدا (کی راہ) میں جہاد کرو جیسا جہاد کرنے کا حق ہے اس نے تم کو برگذیدہ کیا ہے اور تم پر دین (کی کسی بات) میں تنگی نہیں کی (اور تمہارے لئے) تمہارے باپ ابراہیم کا دین (پسند کیا) اسی نے پہلے (یعنی پہلی کتابوں میں) تمہارا نام مسلمان رکھا تھا اور اس کتاب میں بھی (وہی نام رکھا ہے تو جہاد کرو) تاکہ پیغمبر تمہارے بارے میں شاہد ہوں اور تم لوگوں کے مقابلے میں شاہد ہو اور نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو اور خدا کے (دین کی رسی) کو پکڑے رہو وہی تمہارا دوست ہے اور خوب دوست اور خوب مددگار ہے

(22:78) اجتبکم۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ اس نے تم کو پسند کیا۔ اجتباء مصدر (افتعال) سے۔ ج ب۔ ی مادہ۔ حرج۔ تنگی۔ مضائقہ۔ گناہ۔ الحرج والحراج کے اصل معنی اشیاء کے مجتمع یعنی جمع ہونے کی جگہ کو کہتے ہیں۔ اور جمع ہونے میں چونکہ تنگی کا تصور موجود ہے اس لئے تنگی اور گناہ کو بھی حرج کہتے ہیں۔ جیسا کہ آیہ ہذا میں :۔ وما جعل علیکم فی الدین من حرج۔ اور اس نے تم پر دین (کی کسی بات) میں تنگی نہیں کی۔ ملۃ ابیکم۔ ابیکم۔ مضاف مضاف الیہ دونوں مل کر مضاف الیہ ملۃ مضاف تمہارے باپ (ابراہیم) کی ملت۔ ملت سے مراد دین ۔ دستور اور اکثر اس سے مراد دین الٰہی ہی لیا جاتا ہے۔ بعض جگہ قرآن مجید میں اس سے مراد مذہب وشرک بھی لیا گیا ہے۔ مثلا :۔ (1) لنخرجنک یشعیب والذین امنوامعک من قریتنا او لتعودن فی ملتنا (7:88) کہ اے شعیب ہم تم کو اور جو لوگ تمہارے ساتھ ایمان لائے ہیں ان کو اپنی بستی سے نکال کر رہیں گے یا یہ کہ تم ہمارے مذہب میں پھر آجائو (ان کا مذہب صریحاً شرک تھا) ۔ (2) انی ترکت ملۃ قوم لا یؤمنون باللہ (12:37) میں تو ان لوگوں کا مذہب (پہلے ہی) چھوڑے ہوئے ہوں۔ جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے ۔ وغیرہ۔ ملۃ سے قبل اتبعوا محذوف ہے ای اتبعوا ملۃ ابیکم ابراہیم اپنے باپ ابراہیم کی ملت کی پیروی کرو۔ ھو سمکم۔ اسی نے تمہارا نام مسلم رکھا۔ ھو ضمیر کا مرجع کون ہے۔ اس میں دو اقوال ہیں۔ حضرت ابن عباس۔ حضرت مجاہد ۔ حضرت عطائ۔ حضرت ضحاک۔ السدی۔ مقاتل ابن حبان۔ قتادہ۔ سب اس طرف گئے ہیں کہ ضمیر ھو کا مرجع اللہ تعالیٰ ہے۔ عبدالرحمن بن زید کا قول ہے کہ اس کا مرجع ابراہیم ہے۔ لیکن سیاق وسباق وقرینہ سے اول الذکر اصح ہے اور اکثریت اسی طرف گئی ہے۔ من قبل ای من قبل نزول القران وذلک فی الکتب السماویۃ کا التوراۃ والانجیل ۔ یعنی نزول قرآن سے پہلے تورات و انجیل جیسی آسمانی کتابوں میں یہ مذکور ہے۔ فی ھذا۔ ای فی القران۔ یعنی اس قرآن مجید میں بھی تمہیں مسلمون سے موسوم کیا گیا ہے۔ لیکون ۔ میں لام تعلیل کا ہے۔ تاکہ ہوجائے۔ تھیدا۔ گواہ۔ اس امر کا کہ اس نے اللہ کا کلام من وعن لوگوں تک پہنچا دیا تھا۔ اور مخاطب مومنوں کی گواہی کہ انہوں نبی اکرم ﷺ سے حاصل کردہ تعلیم و کلام کو دوسرے لوگوں تک بلا کم وکاست پہنچا دی۔ اعتصموا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ اعتصام مصدر۔ عصم مادہ (باب افتعال) تم مضبوط پکڑو۔ اعتصام کے معنی کسی چیز کو پکڑ کر مضبوطی سے تھام لینا۔ العصم کے معنی روکنے کے ہیں۔ عاصم کے معنی روکنے کے ہیں۔ عاصم روکنے والا۔ بچانے والا۔ جیسے کہ قرآن مجید میں ہے لا عاصم الیوم من امر اللہ۔ (11:43) آج خدا کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں۔