Ayah 19:41(19:41) واذکر۔ فعل امر۔ واحد مذکر حاضر۔ اور تو ذکر کر (اپنی قوم سے) یعنی اہل مکہ سے ۔ فی الکتب۔ ای فی القران۔
ابراہیم ای قصۃ ابراہیم مع ابیہ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ ان کے باپ کے ساتھ۔ صدیقا۔ بہت سچا ۔ جو کبھی جھوٹ نہ بولے۔ صدق سے بروزن فعیل مبالغہ کا صیغہ ہے۔ منصوب بوجہ خبر کان۔
Ayah 19:42(19:42) یابت۔ یا حرف ندا۔ ابت اصل میں ابی تھا۔ تا کو یاء کے عوض لایا گیا۔ اور اب بوجہ منادی مضاف منصوب ہوا۔
Ayahs 19:43–44(19:43) اھدک۔ مضارع واحد متکلم ھدایۃ مصدر کضمیر مفعول واحد مذکر حاضر اھد اصل میں اھدی تھا یکو حذف کیا گیا ہے ۔ صراطا سویا۔ ای صراطا مستقیما۔ سیدھا راستہ۔ (میں تجھے سیدھا راستہ بتائوں گا) ۔
Ayah 19:45(19:45) یمسک۔ مس یمس سے مضارع واحد مذکر غائب (منصوب بوجہ عمل ان) ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ کہ تجھے لگ جائے۔ یا تجھے پہنچے۔ فتکون للشیطن ولیا۔ تو تو بن جائے شیطان کا ساتھی۔
Ayahs 19:46–47(19:46) اراغب انت۔ الف استفہامیہ۔ راغب اسم فاعل رغب فیہ ورغب الیہ کے معنی کسی چیز پر رغبت اور حرص کرنے کے ہیں۔ جیسے انا الی اللہ راغبون (9:59) ہم تو اللہ ہی کی طرف راغب ہیں۔ ہم تو اللہ سے لو لگائے بیٹھے ہیں۔ اور اگر عن کے ساتھ آئے تو بےرغبتی کے معنی دیتا ہے مثلاً ومن یرغب عن ملۃ ابراہیم (2:130) اور کن ہے جو حضرت ابراہیم کے طریقے انحراف کرے۔ اراغب انت عن الھتی یا براہیم۔ اے ابراہیم کیا تو میرے معبودوں سے پھرا ہوا ہے۔ یا پھرنے والا ہے۔ برگشتہ ہے۔
لم تنتہ۔ مضارع نفی حجد بلم۔ تنتہ اصل میں تنتھی تھا۔ لم کے آنے سے یحرف علت گرگیا۔ تو باز نہ آیا۔ لئن لم تنتہ اگر تو باز نہ آیا۔ لا رجنمنکلام تاکید ارجمن مضارع واحد متکلم۔ بانون ثقیلہ۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر۔ تو میں تجھے ضرور سنگسار کر دوں گا
اھجرنی۔ فعل امر واحد مذکر حاضر باب نصر۔ ن وقایہ یضمیر واحد متکلم۔ تو میرے پاس سے دور ہوجا۔ تو مجھے چھوڑ جا۔
ملیا۔ اسم منصوب۔ زمانہ دراز۔ ملومادہ۔ الاملاء کے معنی ڈھیل دینے کے ہیں۔ اسی سے ملاوۃ من الدھریا ملی من الدھر کا محاورہ ہے جس کے معنی عرصہ دراز کے ہیں۔ واھجرنی ملیا اور تو ہمیشہ کے لئے مجھ سے دور ہوجا انہی معنوں میں اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے الشیطن سول لہم واملی لہم (47:25) شیطان نے یہ کام ان کو مزین کر دکھایا اور انہوں طول (عمر کا وعدہ) دیا۔
ساستغفرلک۔ میں تیرے لئے مغفرت کی دعا کروں گا۔ صیغہ واحد متکلم ۔ حفیا۔ حفی۔ بحث کرنے والا۔ متلاشی۔ کسی چیز سے پورے طور پر باخبر۔ بڑا مہربان حفاوۃ مصدر۔ تلاش کے ساتھ کسی کا حال پوچھنا۔ مہربان ہونا۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔
اور جگہ قرآن میں آیا ہے یسئلونک کانک حفی عنہا۔ (7:187) وہ تم سے یوں پوچھتے ہیں گویا تم تاریخ وقوع سے واقف ہو۔ یا تم اس کی خوب تحقیق کرچکے ہو۔ حفی عن الشیئ۔ کے معنی ہیں اس نے اس چیز کے متعلق سوال کیا۔ چونکہ بہت سوالات کرنے والا اور بات کا کھوج لگانے والا علم میں پختہ ہوتا ہے اسی لئے حفیکا لفظ عالم کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے حفومادہ۔ حفی بی۔ میرے ساتھ نہایت مہربان ہے نیز ملاحظہ ہو (7:178) ۔
Ayah 19:48(19:48) اعتزلکم۔ مضارع واحد متکلم کمضمیر مفعول جمع مذکر حاضر اعتزال مصدر افتعال۔ میں تم کو چھوڑتا ہوں۔ اعتزال۔ کنارہ کرنا۔ الگ ہوجانا۔ ایک طرف ہوجانا۔ وما تدعون من دون اللہ۔ مفعول ثانی۔ اور ان کو (بھی) جن کی تم عبادت کرتے ہو۔ اللہ کو چھوڑ کر۔ تدعون مضارع جمع مذکر حاضر۔ دعوۃ سے تم پکارتے ہو (حاجت روائی کے لئے) ۔
ارعوا۔ مضارع واحد متکلم دعوۃ سے میں پکارتا ہوں۔ عسی۔ امید ہے۔ توقع ہے۔ یقین ہے۔ الا اکون۔ ان لا اکون۔ کہ میں نہیں ہوں گا کہ میں نہیں رہوں گا۔ بدعاء ربی۔ میں اپنے رب سے دعا کر کے۔ میں اپنے رب کو پکار کر (حاجت روائی کے لئے)
شقیا۔ شقاوۃ سے فعیل کے وزن پر صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ شقی کی جمع اشقیائ۔ بدبخت ۔ محروم۔ عسی الا۔۔ شقیا۔ یقین ہے کہ میں اپنے پروردگار کو (حاجت روائی کے لئے ) پکار کر محروم نہیں رہوں گا۔
Ayah 19:49(19:49) کلا۔ ای کل واحد من اسحاق و یعقوب و ابراہیم۔
Ayahs 19:50–51(19:50) لسان صدق علیا۔ لسان صدق مضاف مضاف الیہ۔ لسان منصوب بوجہ جعلناکے مفعول ہونے ہے۔
لسان سے مراد ذکر ہے صدق کے معنی سچائی۔ قوت۔ خیر۔ خلوص۔ شرف۔ سچی بات فضیلت کے ہیں۔ یہ صدق یصدق کا مصدر ہے۔ علیا لسان کی صفت ہے۔ لسان صدق علیاکا مطلب ہوا سچائی و صداقت کا وہ ذکر جو ارفع واعلیٰ ہو۔
اور جگہ قرآن مجید میں ہے واجعل لی لسان صدق فی الاخرین (26:84) اور میرا ذکر نیک پچھلے (آنے والے) لوگوں میں جاری رکھ۔ نیز ملاحظہ ہو (10:2) ۔ چناچہ آج تک ان ہر سہ پیغمبر ان کا نام یہود و نصاریٰ اور مسلمانوں میں جس تقدیس و تحریم کے ساتھ لیا جاتا ہے کسی بیان کا محتاج نہیں۔ اس سے زیادہ اس کی تفسیر اور کیا ہوگی۔ کہ خطہ ارضی پر جہاں کہیں مسلمان موجود ہیں اپنی پنجگانہ نماز میں کما صلیت علی ابراہیم وعلی ال ابراہیم کا ذکر کرتے ہیں۔
مخلصا۔ اسم مفعول۔ منصوب بوجہ خبر کان۔ مخلص برگزیدہ، چنا ہوا۔ بےکھوٹ خالص۔ یعنی جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی نوازشات ونبوت کے لئے چن لیا۔ منتخب کرلیا تھا۔ یا جو کفر وشرک و دیگر فواحش سے پاک رکھا گیا ہو۔
رسولا نبیا۔ (اور وہ) رسول اور نبی تھے۔ رسول کا لغوی معنی فرستادہ یا پیغامبر ہے اور اصطلاحی لحاظ سے رسول وہ ہے جو صاحب شریعت ہو خواہ وہ شریعت اس رسول کے اعتبار سے جدید ہو یا سابقہ رسول کی شریعت جو دوسرا رسول کسی قوم کی طرف پہلی دفعہ لایا ہو۔ جیسے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) قوم جرہم کی طرف شریعت ابراہیمیہ لے کر آئے تھے۔
نبی۔ یا تو النبوۃ سے مشتق ہے جس کا معنی بلندی۔ رفعت ہے۔ کیونکہ نبی اپنی شان اور رتبہ میں دوسرے لوگوں سے ارفع اور اعلیٰ ہوتا ہے۔ یا ۔ یہ نبأ سے مشتق ہے۔ نبأ کا معنی ہے خبر دینا۔ اور نبی دوسرے لوگوں کو خداوند تعالیٰ کے احکام کی خبر دیتا ہے خواہ وہ احکام اسے بذریعہ وحی اللہ تعالیٰ سے موصول ہوں خواہ کسی دوسرے رسول کی شریعت کے احکام ہوں جن کے احیاء کے لئے خدا وند تعالیٰ نے اسے نبوت سے سرفراز فرمایا ہو۔
Ayah 19:52(19:52) نادینہ۔ ماضی جمع متکلم۔ ندائمصدر۔ ہُ ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ ہم نے اسے پکارا۔ من جانب الطور الایمن۔ الطور الایمن۔ موصوف صفت دائیں پہاڑی موصوف صفت مل کر مضاف جانب مضاف الیہ۔ مضاف الیہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مجرور من حرف جار۔ دائیں پہاڑی کی جانب سے ۔ یعنی جو پہاڑی حضرت موسیٰ کے دائیں طرف تھی۔
بالایمن۔ الایمن سے ہے جس کے معنی بابرکت ہونے کے ہیں۔ اور یہ جانب کی صفت ہے ترجمہ ہوگا : ہم نے اسے پہاڑی کی بابرکت جانب سے پکارا۔ الطورمصر اور مدین کے درمیان ایک پہاڑ ہے۔
قربناہ۔ ماضی جمع متکلم ہُ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ ہم نے اس کو قریب بلایا۔ نجیا۔ صفت مشبہ۔ چپکے چپکے سرگوشیاں کرنے والے۔ چپکے چپکے مشورہ کرنے والے۔ چپکے چپکے راز کی باتیں کرنے والے۔ یہ قربناہ کی ضمیر ہُ سے حال ہے۔ اور بدیں وجہ منصوب ہے۔ قربناہ نجیا۔ اس سے راز کی باتیں کرنے کے لئے ہم نے اسے قریب بلایا۔ یا قرب بخشا۔ نجیا۔ نجو سے مشتق ہے۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے فلما استیئسوا منہ خلصوا نجیا۔ (12:80) جب وہ اس سے ناامید ہوگئے تو الگ ہو کر مشورہ کرنے لگے۔
Ayahs 19:53–54(19:53) اخاہ ھرون نبیا۔ اخاہ۔ اس کا بھائی۔ مضاف مضاف الیہ مل کر وھبنا کا مفعول ہے۔ ھرونبدل اخاہکا۔ اور نبیا حال ہے۔ ووھبنالہ من رحمتنا اخاہ ھرون نبیا۔ اور ہم نے اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون کو نبی کی حیثیت سے ان کو بخشا۔
Ayahs 19:55–56(19:55) مرضیا۔ اسم مفعول واحد مذکر منصوب۔ پسند کیا ہوا۔ پسندیدہ۔
Ayah 19:57(19:57) مکانا علیا۔ بلند مقام ۔ یعنی شان ومرتبت میں بلند ۔ یعنی مرتبہ نبوت و تقرب الی اللہ۔
Ayah 19:58(19:58) اولئک۔ یہ اشارہ ہے ان تمام انبیاء کی جانب جن کا ذکر حضرت زکریا سے لے کر۔ حضرت ادریس (علیہم السلام) تک اوپر اس سورت میں آچکا ہے۔
سجدا وب کیا۔ دونوں خروا کی ضمیر فاعل کے حال ہیں۔ اور بدیں وجہ منصوب ہیں۔ سجدا جمع ہے ساجد کی۔ اور بکی جمع ہے با کی کی۔ (رونے والا۔ غم و اندوہ سے آنسو بہانے والا) اصل میں بروزن فعول جیسے ساجد سے سجود۔ راکع سے رکوع اور قاعد سے قعود، بکی بھی بکوی تھا۔ وائو اور یاء کے اجتماع کے سبب وائو کو یاء سے بدلا۔ یاء کو یا میں مدغم کیا۔ اور یا کی مناسبت سے کاف کو کسرہ کی حرکت دی۔ بکی ہوگیا۔
اذا تتلی علیہم۔۔ سجدا او ب کیا۔ جب ان کے سامنے خدائے رحمان کی آیتیں پڑھی جاتی تھیں تو وہ سجدہ کرتے ہوئے اور روتے ہوئے زمین پر گرپڑتے تھے۔ اولئک الذین انعم اللہ علیہم من النبین من ذریۃ ادم ومن حملنا مع نوح ومن ذریۃ ابراہیم واسرائیل وممن ھدینا واجتبینا اذا تتلی علیہم ایت الرحمن خروا سجدا و ب کیا۔
اولئک۔ اسم اشارہ من النبیین میں من بیانیہ ہے۔ کیونکہ جملہ انبیاء (علیہم السلام) منعم علیہم تھے۔ اس لئے من تبعیضیہ نہیں ہوسکتا۔ جیسا کہ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے وعد اللہ الذین امنوا وعملوا الصلحت منہم مغفرۃ واجرا عظیما (48:29) اور اللہ تعالیٰ نے ان سے جو ایمان لائے ہیں اور نیک کام کئے ہیں مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ کر رکھا ہے۔ (یعنی ان سب سے مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ کر رکھا ہے) اسی طرح من النبیین سے مراد سارے نبی ہیں۔
من ذریۃ ادم میں من تبعیضیہ ہے یعنی ذریتہ آدم میں سے بعض۔ ان بعض میں سے صرف حضرت ادریس (علیہ السلام) یہاں مذکور ہوئے ہیں۔ حضرت ادریس (علیہ السلام) حضرت نوح کے جد امجد تھے۔ اور ان سے بہت قبل ہوئے ہیں۔
ممن حملنا مع نوح۔ اس میں بھی من تبعیض کے لئے ہے اور ان بعض میں سے حضرت اسماعیل حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب (علیہم السلام) یہاں مذکور ہوئے ہیں۔ واسرائیل۔ اس کا عطف ابراہیم پر ہے۔ ای ومن ذریۃ اسرائیل اور اس ذریۃ اسرائیل (یعقوب) میں سے حضرت موسیٰ ۔ حضرت ہارون ۔ حضرت زکریا۔ حضرت یحییٰ وحضرت عیسیٰ (علیہم السلام) (کیونکہ حضرت مریم آل یعقوب میں سے تھیں) مذکور ہوئے ہیں۔
وممن ھدینا واجتبینا میں بھی من برائے تبعیض ہے (ای من جملۃ من ھدینا والی الحق واخترناہم للنبوۃ والکرامۃ) اس کا عطف ذریۃ ادم پر ہے یعنی اور تمام وہ جن کو ہم صراط حق پر گامزن کیا اور جن کو ہم نے نبوت کے لئے منتخب کیا۔ یہ تمام انبیاء (علیہم السلام) جو اولئک کے مشار الیہم ہیں۔
اولئک مبتداء ہے اور (1) الذین۔۔ اجتبینا خبر ہے۔ اس صورت میں اذا تتلی علیہم۔۔ ب کیا تک جملہ مستانفہ ہے
بعض کے نزدیک پہلا کلام اسرائیل پر ختم ہے۔ اس صورت میں ممن ھدینا واجتبینا خبر ہے اور اس کا مبتدا محذوف ہے ۔ اور جملہ اذا تتلی علیہم۔۔ ب کیا تک اس مبتدا محذوف کی صفت ہے۔ کلام یوں ہے وممن ھدینا واجتبینا قوم اذا تتلی علیہم ایت الرحمن خروا سجدا وب کیا۔
Ayahs 19:59–60(19:59) خلف ماضی واحد مذکر غائب خلافۃ سے باب نصر۔ جس کے معنی جانشین ہونے کے ہیں یا پیچھے آنے کے۔ خلف وہ جانشین ہوا۔ وہ پیچھے آیا۔ خلف۔ ناخلف۔ برے جانشین۔ اضاعوا ماضی جمع مذکر غائب (باب افعال) انہوں نے ضائع کردیا۔ انہوں نے کھو دیا۔
الشھوات۔ شھو سے مشتق ہے الشھوۃ کے معنی ہیں نفس کا اس چیز کی طرف کھینچے چلے جانا جسے وہ چاہتا ہے۔ خواہشات دنیوی دو قسم پر ہیں صادقہ اور کاذبہ۔ سچی خواہش وہ ہے جس کے حصول کے بغیر بدن کا نظام مختل ہوجاتا ہے جیسے بھوک کے وقت کھانے کی اشتہائ۔ اور جھوٹی خواہش وہ ہے جس کے عدم حصول سے بدن میں کوئی خرابی پیدا نہیں ہوتی۔ پھر شہوۃ کا لفظ کبھی اس چیز پر بولا جاتا ہے جس کی طرف طبیعت کا میلان ہو اور کبھی خود اس قوت شہویہ پر۔
آیت کریمہ زین للناس حب الشھوات (3:14) لوگوں کے لئے ان کی خواہش کی چیزیں (مرغوبات) خوشنما کردی گئی ہیں۔ اس میں شھوات سے مراد ہر دو قسم کی خواہشات ہیں۔ اور واتبعوا الشھوات (آیۃ ہذا) اور وہ خواہشات نفسانی کے پیچھے لگ گئے۔ اس میں جھوٹی خواہشات مراد ہیں۔ یعنی ان چیزوں کی خواہش جن سے استغناء ہوسکتا ہے۔
سوف یلقون۔ سوف مستقبل قریب کے لئے ہے۔ یلقون مضارع جمع مذکر غائب۔ وہ پائیں گے۔ وہ (اس سے) دوچار ہوں گے۔ غیا۔ غوی سے مشتق ہے الغی اس جہالت کو کہتے ہیں جو غلط اعتقاد پر مبنی ہو۔ جیسے کہ ما ضل صاحبکم وما غوی (53: 12) تمہارے رفیق (محمد ﷺ ) نہ راستہ بھولے ہیں اور بھٹکے ہیں۔ اور کبھی عقیدہ کو اس میں دخل نہیں ہوتا۔ جیسے وعصی ادم ربہ فغوی (20:121) اور آدم نے اپنے پروردگار کے خلاف کیا اور جہالت کا ارتکاب کیا۔
آیۃ ہذا میں غی سے مراد عذاب ہے کیونکہ گمراہی عذاب کا سبب بنتی ہے۔ یعنی کسی شے کو اس کے سبب کے نام سے موسوم کردینا۔ جیسا کہ اور جگہ قرآن مجید میں ہے ومن یفعل ذلک یلق اثاما (25:67) اور جو کوئی ایسا کرے گا وہ سزا سے دوچار ہوگا (یعنی اس کا گناہ سزا کا سبب ہوگا) فسوف یلقون غیا۔ سو وہ عنقریب گمراہی کی سزا سے دو چار ہوں گے۔
Ayah 19:61(19:61) جنت عدن۔ سدا بہار باغات۔ یا ہمیشہ رہنے کے باغات۔ عدن (باب نصر۔ ضرب) کے معنی کسی جگہ ٹھہرنے اور قرار پانے کے ہیں۔ المعدن (کان ) جواہرات یا دیگر معدنیات کے ٹھہرنے اور پائے جانے کی جگہ۔ جنت عدن۔ میں الجنۃ کا بدل ہے۔
ماتیا۔ اسم مفعول بمعنی اسم فاعل ہے منصوب بوجہ کان کی خبر ہے۔ ماتی اصل میں ماتوی تھا وائو اور یا اکٹھے ہوئے وائو کو یاء سے بدلا۔ یاء کو یاء میں مدغم کیا تاء کو یاء کی مناسبت سے کسرہ دیا۔ ماتی ہوگیا۔ بمعنی آنے والا۔ ہوکر رہنے والا۔ ضرور آکر رہنے والا۔ اتیان مصدر۔ اتی مادہ۔
Ayah 19:62(19:62) فیھا۔ میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب جنت عدن کے لئے ہے۔ بکرۃ وعشیا۔ صبح وشام۔ یہاں صبح وشام سے مراد ہمیشگی اور دوام ہے۔ کیونکہ جنت میں شام جو تاریکی کو مستلزم ہے اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ وہاں تو نور ہی نور ہے۔
Ayah 19:63(19:63) نورث۔ مضارع جمع متکلم۔ ایراث (افعال) مصدر۔ ورث مادہ۔ ہم وارث بنائیں گے۔ ہم مالک بنادیں گے۔ تقیا۔ پرہیزگار۔ متقی ۔ وقایۃ (افعال) مصدر جس کے معنی ہر اس چیز سے حفاظت کرنے کے ہیں جو ایذاء دے۔ یا ضرر پہنچائے۔
Ayah 19:64(19:64) ما نتنزل۔ مضارع منفی جمع متکلم۔ تنزل (تفعل) مصدر۔ ہم نہیں اترتے ہیں۔ نسیا۔ نسیان سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ بھولنے والا۔
Ayah 19:65(19:65) رب السموت والارض وما بینہما۔ میں ربخبر ہے جس کا مبتدا محذوف ہے۔ یعنی ھو رب السموتالخ یا یہ ربک (آیہ 64) کا بدل ہے۔ اصطبر۔ امر۔ واحد مذکر حاضر۔ اصطبار (افتعال) مصدر۔ تو قائم رہ۔ تو سہتا رہ تو صبر کر۔
سمیا۔ نظیر ۔ ہمنام۔ ھل تعلم لہ سمیا۔ (کیا تم کوئی اس کا ہمنام جانتے ہو) میں سمیا کے معنی نظیر کے ہیں جو اس نام کی مستحق ہو اور حقیقۃً اللہ تعالیٰ کی صفات کے ساتھ متصف ہو۔ اس کے یہ معنی نہیں کہ کیا تم کسی کو ایسا بھی پاتے ہو جو اس کے نام سے موسوم ہو کیونکہ ایسے تو اللہ کے بہت سارے نام ہیں جن کا غیر اللہ پر بھی اطلاق ہوسکتا ہے یا ہوتا ہے لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان سے معنی بھی وہی مراد ہوں جو اللہ تعالیٰ پر اطلاق کے وقت ہوتے ہیں۔
آیات 64 و 65 ۔ پورا پیراگراف ایک جملہ معترضہ ہے جو ایک سلسلۂ کلام کو ختم کر کے دوسرا سلسلہ کلام شروع کرنے سے پہلے ارشاد ہوا ہے۔ اس کی شان نزول میں مختلف اقوال ہیں۔ لیکن جمہو رمفسرین کے نزدیک اس کی شان نزول کے متعلق وہ روایت ہے جو کہ بخاری نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے۔ کہ
آنحضرت ﷺ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) سے فرمایا کہ آپ میرے پاس جلدی جلدی کیوں نہیں آیا کرتے اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی۔
گویا خدا تعالیٰ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی طرف سے جواب دیا کہ ہم خود نہیں آتے بلکہ تمہارے رب کے حکم سے آیا کرتے ہیں۔۔ الخ۔
Ayahs 19:66–67(19:66) ئ۔ استفہام کے لئے ۔ کیا۔ اذا ما۔ جب۔ جب کبھی۔
Ayah 19:68(19:68) فوربک۔ سو (اے محمد ﷺ ) تیرے رب کی قسم۔ لنحشرنہم۔ لام تاکید کے لئے ہے۔ نحشرن۔ مضارع جمع متکلم بانون ثقیلہ ہم ان کو ضرور بالضرور جمع کریں گے۔
والشیطن۔ میں وائو عاطفہ بھی ہوسکتی ہے اور وائو بمعنی مع (معیۃ) بھی۔ یہاں معیت کا معنی زیادہ مناسب ہے۔ یعنی ہم انہیں بمع شیاطین کے جمع کریں گے۔ لنحضرنہم۔ مضارع جمع متکلم بالام تاکید ونون ثقیلہ ہم ضرور ان کو لا حاضر کریں گے۔
حول۔ گرد۔ حال یحول سے مصدر ہے۔ الحول کے معنی دراصل کسی چیز کے متغیر ہونے کے ہیں اور دوسری چیزوں سے الگ ہونے کے ہیں۔ تغییر کے اعتبار سے حال الشیء یحول حوولا۔ کا محاورہ استعمال ہوتا ہے جس کے معنی کسی شے کے متغیر ہونے کے ہیں ۔ اور الگ ہونے کے اعتبار سے حال بینی ووبینک کذاکا محاورہ استعمال ہوتا ہے۔ یعنی میرے اور اس کے درمیان فلاں چیز حائل ہوگئی۔ حول بمعنی سال بھی ہے۔
جثیا۔ زانو پر گرے ہوئے۔ اوندھے گرے ہوئے۔ جثا یجثوا (باب نصر) جثو وجثیا۔ الرجل۔ گھٹنوں کے بل بیٹھنا۔ یہ عتا یعتو (باب نصر) عتوا وعتیا کی طرح ہے۔ جثیا جاث صیغہ صفت کی جمع بھی ہوسکتی ہے اور مصدر بھی بمعنی اسم فاعل جاث کی جمع ہونے کی صورت میں جثی اصل میں فعول کے وزن پر جثو وتھا ضمہ کے بعد دو وائو کا اجتماع ثقیل تھا۔ لہٰذا تخفیف کے لئے ثاء کو کسرہ دیا۔ وائو اول کو بوجہ سکون وکسرہ ما قبل یاء سے بالا۔ اب وائو ما قبل یاء ساکن کو یاء سے بدلا۔ پھر یا کو یا میں مدغم کیا۔ پھر جیم کو مابعد کی رعایت سے کسرہ دیا۔ جثیہوگیا۔
Ayah 19:69(19:69) لننزعن۔ مضارع جمع متکلم بلام تاکید نون ثقیلہ ۔ نزع مصدر (باب ضرب) ہم ضرور کھینچ لیں گے۔ ہم ضرور الگ کردیں گے۔ نزع الشیء کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کی قرار گاہ سے کھینچ لینا۔ دل سے عداوت اور نفرت کو کھینچ لینے کے معنی میں بھی آتا ہے مثلاً ونزعنا ما فی صدورہم من غل (7:43) اور جو کینے ان کے دلوں میں ہوں گے ہم ان سب کو نکال ڈالیں گے۔ اور چھین لینے کے معنی میں مثلاً وتنزع الملک ممن تشائ (3:26) اور تو چھین لیتا ہے بادشاہی جس سے تو چاہے۔
شیعۃ۔ فرقہ ۔ گروہ ۔ الشیاع کے معنی منتشر ہونا اور تقویت دینے کے ہیں۔ الشیعۃ۔ وہ لوگ جن سے انسان قوت حاصل کرتا ہے اور وہ اس کے اردگرد پھیلے رہتے ہیں۔ اس کی جمع شیع و اشیاع ہے۔ جیسے قرآن مجید میں ہے وجعل اہلھا شیعا (28:4) وہاں کے باشندوں کو گروہ در گروہ کر رکھا تھا۔ اور ولقد اہلکنا اشیاعکم (54:51) اور ہم تمہارے ہم مذہبوں کو ہلاک کرچکے ہیں۔
عتیا۔ تنا یعتوا (باب نصر) کا مصدر ہے۔ عتو بھی مصدر ہے عات کی جمع بھی ہے جیسے جاث کی جمع جثی ملاحظہ ہو آیت نمبر 68 مذکروہ بالا۔ آیت ہذا کا ترجمہ ہوگا :۔
پھر ہم (چن چن کر) الگ کرلیں گے ہر گروہ سے ان لوگوں کو جو خدائے رحمن سے سرکشی میں سب سے بڑھے ہوئے تھے۔
عتیا۔ اشد کی تمیز ہے اس لئے منصوب ہے اشد افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ زیادہ سخت شدۃ سے۔ عات کی جمع کی صورت میں یہ حال ہے۔
Ayah 19:70(19:70) لنحن۔ لام تاکید کے لئے ہے۔ پھر ہم ہی ہیں (جو بہتر جانتے ہیں) ۔ اعلم۔ خوب جاننے والا۔ بہتر جاننے والا۔ افعل التفضیل کا صیغہ علم سے۔
اولی بھا۔ اولی افعل التفضیل کا صیغہ ولی مادہ۔ الولاء والتوالی کے معنی دو یا دو سے زیادہ چیزوں کا اس طرح یکے بعد دیگرے آنا کہ ان کے درمیان کوئی ایسی چیز نہ آئے جو ان میں سے نہ ہو۔ پھر استعارہ کے طور پر قرب کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ خواہ وہ قرب بلحاظ مکان یا نسبت یا بلحاظ دین یا دوستی یا بلحاظ اعتقاد کے ہو۔ اولی۔ زیادہ مستحق۔ زیادہ لائق۔ زیادہ قریب۔ اولی کا صلہ اگر لام واقع ہو تو یہ ڈانٹ اور دھمکی کے لئے آتا ہے اور اس صورت میں خرابی اور برائی سے زیادہ قریب اور اس کے زیادہ مستحق ہونے کے معنی ہوں گے۔ جیسے اولی لک فاولی (75:34) تیرے لئے خرابی ہی خرابی ہے۔ بھا میں ھاء ضمیر کا مرجع جہنم (آیۃ 68) ہے۔
صلیا۔ الصلی کے اصل معنی آگ جلانے کے ہیں۔ صلی النار۔ وہ آگ میں داخل ہوا وہ آگ میں جلا۔ یا اس نے آگ کی گرمی برداشت کی۔ (باب سمع سے )
اصلی یصلی اصلاء آگ میں ڈالنا۔ اصطلی یصطلیآگ تاپنا۔ صلی یصلی صلیا۔ اللحم۔ گوشت بھوننا۔ صلی کے جملہ مشتقات میں آگ کا عنصر شامل ہے۔ صلیا یا صال کی جمع ہے جیسے جاث کی جثیا۔ اور عات کی عتیا۔ یا صلی یصلی کا مصدر ہے۔ پہلی صورت میں اس کے معنی ہیں آگ میں داخل ہونے والے اور دوسری صورت میں آگ میں داخل ہونا یا سوختہ ہونا۔ الذین ہم اولی بھا صلیا۔ وہ لوگ جو جہنم کی آگ میں جلنے کے زیادہ مستحق ہیں۔
Ayah 19:71(19:71) وان منکم الا واردھا۔ میں ان نافیہ ہے منکم میں ضمیر جمع مذکر حاضر کا مرجع یا تو جمیع الناس ہیں یا وہ کفار جن کا ذکر اوپرہوا ہے۔ اوپر ان کفار سے جمع مذکر غائب کے صیغہ میں خطاب ہو رہا تھا۔ اب صیغہ جمع مذکر حاضر استعمال ہوا ہے۔ یہ التفات ضمائر اسلوب قرآن ہے۔ واردھا میں ضمیر واحد مؤنث غائب جہنم کے لئے ہے۔ و درود کے متعلق بھی اختلاف ہے کہ آیا اس سے مراد جہنم میں داخل ہونا ہے یا اس پر سے گذر جانا مراد ہے۔ ہر دو صورت ممکن ہیں اگر اول الذکر معنی مراد لئے جائیں تو بھی درست ہے اس صورت میں جہنم کی آگ مؤمنوں کے لئے ٹھنڈی اور بےضرر ہوجاوے گی۔ جس طرح حضرت ابراہیم پر ہوئی تھی۔
اور اگر مؤخر الذکر معنی لئے جاویں تو صراط علی جہنم جسے پل صراط کہا جاتا ہے اس پر سے مومن بلا ضرر تیزی سے گذر جاویں گے اور جہنمی جہنم میں گرجائیں گے۔ یا اس کی تیسری صورت یہ بھی ہے کہ وارد سے مراد نہ ہی داخلہ ہے اور نہ ہی اوپر سے گذرنا بلکہ محض جہنم تک پہنچنا یا وہاں سے گذر ہونا مراد ہے۔
کان۔ ای کان ورودہم۔ حتما۔ ضرور۔ لازم۔ قضاء مقدر یعنی طے شدہ فیصلہ۔ حتم الشیء علیہ۔ واجب کرنا۔
مقضیا۔ اسم مفعول ۔ قضاء مصدر۔ فیصلہ شدہ۔ مقرر۔ کان علی ربک حتما مقضیا۔ ای کان ورودہم واجبا۔ اوجبہ اللہ تعالیٰ علی نفسہ وقضی بہ۔ ان کا ورود لازمی امر ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر لازم کرلیا ہے اور اس کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ یعنی یہ یقینی امر ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر لازم کرلیا ہے اور اس کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ یعنی یہ یقینی امر ہے جو اللہ تعالیٰ کے اختیار و ارادہ سے ضرور پورا ہو کر رہے گا۔ اور جگہ ارشاد ہے کتب ربکم علی نفسہ الرحمۃ (6:54) تیرے پروردگار نے مہربانی فرمانا اپنے ذمہ لازم کرلیا ہے۔
Ayah 19:72(19:72) ننجی۔ مضارع جمع متکلم تنجیۃ (تفعیل) سے مصدر۔ ہم نجات دیں گے ہم بچا لیں گے۔ نجو مادہ۔
نذر۔ مضارع جمع متکلم۔ وذرمصدر (باب سمع) ہم ناقابل پرواہ سمجھ کر چھوڑ دیں گے اس کا صرف مضارع وامر مستعمل ہے اس کا ماضی مستعمل نہیں ہے۔ جثیا۔ (ملاحظہ ہو۔ 19:68)
Ayah 19:73(19:73) مقاما۔ ظرف مکان۔ کھڑے ہونے کی جگہ۔ مکان۔ منزل۔ خیر کی تمیز ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔
ندیا۔ وہ محفل جہاں لوگ بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں۔ ندی بمعنی مجلس اس کی جمع انداء واندیۃ ہے۔ دارالندوہ۔ وہ جگہ جہاں لوگ جمع ہو کر باتیں کرتے ہیں۔ مجلس کو النادی بھی کہا جاتا ہے اور نادی بمعنی ہم مجلس بھی آیا ہے۔ قرآن پاک میں آیا ہے فلیدع نادیہ (96:17) تو وہ اپنے یاران مجلس کو بلا لے۔ ندیا احسن کی تمیز ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔
Ayah 19:74(19:74) کم من قرب۔ کتنی ہی قومیں۔ یعنی بہت سی قومیں۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے ۔ کم من فئۃ قلیلۃ (2:249) کتنے ہی چھوٹے گروہ غالب آئے کثیر التعداد گروہوں پر یا وکم قصمنا من قریۃ کانت ظالمۃ (21:11) اور ہم نے بہت سی بستیوں کو جو ستمگار تھیں ہلاک کر ڈالا۔
اثاثا۔ گھر کا اسباب ومال۔ گھر کا سازو سامان۔ رء یا۔ نمود۔ خود منظر۔ سامان آرائش وزیبائش رؤیۃ سے مشتق ہے بروزن فعل جیسے طحن۔ احسن اثاثا ورء یا۔ مال و اسباب اور نمائش و آرائش کے سازوسامان میں بڑھ چڑھ کر۔ بوجہ تمیز ہونے کے اثاثا و رء یا۔ منصوب ہیں۔
Ayah 19:75(19:75) من۔ یہاں شرطیہ ہے۔ جیسے من یعمل سوءا یجز بہ۔ (4:132) اگر کوئی برائی کرے گا اس کو اس کی سزا ملے گی۔ من کان فی الضللۃ اگر کوئی گمراہی میں پڑا رہتا ہے۔ اور جواب شرط میں فرمایا فلیمدد لہ الرحمن مدا الخ ۔
فلیمدد۔ جواب من۔ لیمدد۔ فعل امر واحد مذکر غائب۔ چاہیے کہ وہ ڈھیل دے لیکن یہاں امر بمعنی مضارع یعنی انشا بمعنی خبر آیا ہے۔ اور ترجملہ ہوگا۔ وہ اس کو ڈھیل دیتا رہتا ہے۔ ای من کفر مدلہ الرحمن یعنی امھلہ واملی لہ فی العمر۔ اگر کوئی کفر کرتا ہے تو رحمن اسے عمر میں مہلت دیتا ہے اور ڈھیل دیتا ہے تاکہ وہ کفر میں اپنی من مانی کرے اور اس پر حجت تمام ہوجائے اور بوقت گرفت اس کے پاس کوئی عذر نہ رہے۔ یمدد۔ مدباب نصر سے مد یمد مد ڈھیل دینا۔ مدا مصدر کو دوبارہ تاکید کے لئے لایا گیا ہے
جندا۔ بلحاظ لشکر کے یا بلحاظ حمائتی اور مددگار کے۔ من ھو اضعف جندا۔ کون باعتبار لشکر۔ حمائتی یا مدد گار کے کمزور تر ہے۔
Ayah 19:76(19:76) اھتدوا۔ اھتداء (افتعال) سے ماضی جمع مذکر غائب انہوں نے سیدھی راہ پائی۔ انہوں نے ہدایت پائی۔ اھتداء کا استعمال کبھی ہدایت طلب کرنے یا اس کے لئے کوشش کرنے یا کسی ہدایت یافتہ کی پیروی کے متعلق بھی ہوتا ہے۔
ھدی۔ اسم ومصدر (باب ضرب) ہدایت۔ ویزید اللہ الذین اھتدوا ھدی۔ اور اللہ ہدایت والوں کی ہدایت کو بڑھاتا ہے (جیسا کہ اس کے بالمخالف من کان فی الضللۃ فلیمدد لہ الرحمن مدا آیا ہے) ۔
البقیت الصلحت۔ موصوف، صفت، باقی رہنے والی نیکیاں۔ اس سے مراد ایمان کے علاوہ کل اعمال صالحہ ہیں جن کا ثواب دائمی اور اجر غیر منقطع ہے اس سے کوئی خاص و متعین عبادت نہیں ہے۔
مردا۔ ای مرجعا وعاقبۃ۔ مرجع۔ انجام۔ لوٹنے کی جگہ۔ خیر ثوابا وخیر مردا۔ ثواب کے لحاظ سے بہتر اور انجام کے لحاظ سے بہتر۔
Ayah 19:77(19:77) افرأیت۔ أ استفہام کے لئے ہےتعقیب کے لئے ہے یعنی ازاں بعد۔کے استعمال برائے تعقیب کی مثال حسبہ فقتلہ۔ اس نے اس کو قید کیا پھر اس نے اس کو قتل کردیا۔ یا دخلت البصرۃ فبغداد میں بصرہ میں داخل ہوا پھر بغداد میں۔ یہاں اس آیت میں اس سے یہ مطلب لیا جائے گا۔ اخبر بقصۃ ھذا الکافر عقیب حدیث اولئک الذین قالوا : ای الفریقین خیر مقاما (آیۃ 73) وعقیب من قال : ء اذا ما مت الخ (آیۃ 66) یعنی ان لوگوں کے قصہ کے بعد جنہوں نے کہا : ای الفریقینالخ یا اس شخص کے قصہ کے بعد جا نے کہا۔ ء اذا ما متالخ اب اس شخص کا قصہ بتائیے (الذی کفر بایتنا) جس نے ہماری آیتوں کا انکار کیا
صاحب الاتقان فرماتے ہیں : جب ہمزہ استفہام ” رأیت “ پر داخل ہوتا ہے تو اس حالت میں رأیت کا آنکھوں یا دل سے دیکھنے کے معنی میں آنا ممنوع ہوتا ہے اور اس کے معنی ” اخبرنی “ (مجھ کو خبر دو ) کے ہوتے ہیں۔
لیکن ارایت کے اردو ترجمہ ” کیا تو نے دیکھا “ میں بھی مراد رویت بچشم یا بہ دل نہیں ہے بلکہ کہنے والا مابعد کے کلام کے متعلق خبر ہی چاہتا ہے۔ اکثر مفسرین نے اس کا ترجمہ یہی کیا ہے۔
الذی۔ یہاں کون شخص مراد ہے۔ اس آیت کے شان نزول کے متعلق مختلف روایات ہیں۔ لیکن تفصیلات میں اختلاف کے باوجود نفس مضمون میں کوئی فرق نہیں۔ ایک روایت ہے کہ اصحاب نبی کریم ﷺ میں سے چند اصحاب نے عاص بن وائل سے قرض دی ہوئی رقم لینی تھی جب انہوں نے اس سے تقاضا کیا تو اس نے کہا الستم تزعمون ان فی الجنۃ ذھبا وفضۃ وحریرا ومن کل الثمرات قالوا بلی قال موعدکم الاخرۃ واللہ لاوتین مالا وولدا (کیا آپ لوگ یقین نہیں رکھتے کہ جنت میں سونا۔ چاندی ریشم اور جملہ ثمرات ملیں گے۔ انہوں نے کہا ہاں کہنے لگا پھر تمہارے ساتھ آخرت کا وعدہ رہا۔ خدا کی قسم میں (وہاں) ضرور مال واولاد سے نوازا جائوں گا (اور اس میں سے آپ کا قرضہ چکادوں گا) اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
لاوتین۔ لام تاکید کے لئے ہے اوتین مضارع مجہول بانون ثقیلہ۔ صیغہ واحد متکلم میں ضرور بالضرور دیا جائوں گا۔ مجھے یقینا دئیے جائیں گے (مال واولاد) ایتاء مصدر۔
Ayah 19:78(19:78) اطلع۔ اس میں أ اطلع ہمزہ وصل کو تخفیفاً حذف کیاء ہمزہ استفہام قائم رہا۔ اطلع ہوا۔ کیا اس کو اطلاع ہوگئی ہے (غیب کی) کیا وہ مطلع ہوگیا ہے۔ کیا اس نے جھانک لیا ہے۔ (یعنی جھانک کر دیکھ لیا ہے) اطلاع (افتعال) سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ اطلاع مصدر بمعنی جھانکنا۔ مطلع ہونا۔
Ayah 19:79(19:79) کلا۔ حرف ردع وزجر ہے۔ اور اکثر انکار ومنع کے لئے آتا ہے جیسے کوئی کہے کفر زید تو اس کے جواب میں کہا جائے کلا ہرگز نہیں۔ یہاں انہی معنوں میں آیا ہے۔ کبھی کلا۔ حقا۔ بیشک کے معنی میں بھی آتا ہے۔ جیسے کلا سوف تعلمون (102:3) بیشک تم عنقریب جان جائو گے۔
سنکتب۔ س فعل مضارع کو مستقبل قریب کے معنی کے لئے مخصوص کردیتا ہے۔ سنکتب کے اگر ” ہم عنقریب لکھ لیں گے “ معنی لئے جائیں تو یہ قولہ تعالیٰ ما یلفظ من قول الا لدیہ رقیب عتید (50:18) وہ کوئی لفظ منہ سے نکالنے نہیں پاتا مگر یہ کہ اس کے آس پاس ہی ایک تاک میں لگا رہنے والا تیار ہے (جو اسے اس وقت لکھ لیتا ہے) کے خلاف جاتا ہے۔ اس لئے یہاں سننظر لہ ونعلمہ انا کتبنا قولہ (ہم عنقریب اس پر واضح کردیں گے اور اسے بتادیں گے کہ ہم نے جو کچھ اس نے کہا تھا لکھ لیا تھا) کے معنوں میں لایا گیا ہے۔
یا یہ تسمیۃ الشی باسم سببہ (یعنی کسی شے کو اس کے سبب سے موسوم کرنا) کی مثال ہے۔ اور اس کے قول کو رقم کرنے سے مراد استعارۃً وہ سزا و انتقام ہے جس کا وہ اپنی اس گستاخانہ گفتگو کی وجہ سے لامحالہ اس کا سزاوار ہے۔ یا جیسا کہ بعض کا قول ہے س یہاں تاکید کے لئے ہے یعنی جو کچھ وہ بولتا ہے ہم اسے بالالتزام لکھ لیتے ہیں۔
نمد۔ مضارع جمع متکلم مدد مصدر۔ باب نصر۔ المد کے اصل معنی (لمبائی) میں کھینچنے اور بڑھانے کے ہیں اسی سے عرصہ دراز کو مدۃ کہتے ہیں جیسے کہ دوسری جگہ آیا ہے الم تر الی ربک کیف مد الظل (25:45) کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارا رب سائے کو کس طرح دراز کر کے پھیلا دیتا ہے۔ باب افعال سے امد یمد بمعنی مدد دینا۔ جیسے اتمدونن بمال (27:36) کیا تم مال سے مجھے مدد دینا چاہتے ہو۔
یہاں یہ ثلاثی مجرد سے آیا ہے مدا مصدر کو تاکید کے لئے لایا گیا ہے مدا مصدر کو تاکید کے لئے لایا گیا ہے یعنی ہم اس کے لئے عذاب کو بڑھاتے ہی چلے جائیں گے اور یہ عذاب کو بڑھانا مدت کے لئے بھی ہوسکتا ہے اور شدت کے لئے بھی۔
Ayah 19:80(19:80) نرثہ مضارع جمع متکلم ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب باب حسب یحسب سے۔ الوارثہ والارث کے معنی ہیں کسی چیز کا ایک شخص کی ملکیت سے نکل کر دوسرے کی ملکیت میں چلے جانا بلا بیع وشرائ۔ بلا ہبہ وغیرہ۔ اللہ کے وارث ہونے کا معنی ہے مالک حقیقی ہونا۔ اس کو ہر چیز پر ظاہری۔ باطنی۔ صوری اور حقیقی اختیار ہونا۔ جیسے آیا ہے وللہ میراث السموت والارض (3:180) اور اللہ ہی حقیقی مالک ہے آسمانوں کا اور زمین کا ونرثہ ما یقول۔ اور اس کی کہی ہوئی بات کے ہم ہی مالک رہ جائیں گے۔ یعنی جن مال واولاد کا وہ ذکر کر رہا ہے اس کے مرنے کے بعد ہی ان کے مالک رہ جائیں گے۔
ویاتینا فردا۔ اور وہ ہمارے پاس تنہا ہی آئے گا۔ یاتینا۔ مضارع مجزوم واحد مذکر غائب۔ نا ضمیر مفعول جمع متکلم۔ فردا۔ اکیلا۔ بوجہ حال ہونے کے منصوب ہے۔