16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsانوار البیان

Ayah 16:81

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلٰلًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْجِبَالِ اَكْنَانًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ سَرَابِیْلَ تَقِیْكُمُ الْحَرَّ وَ سَرَابِیْلَ تَقِیْكُمْ بَاْسَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُوْنَ Open ayah 16:81 in the Quran reader

اور خدا ہی نے تمہارے (آرام کے) لئے اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں کے سائے بنائے اور پہاڑوں میں غاریں بنائیں اور کرتے بنائے جو تم کو گرمی سے بچائیں اور (ایسے) کرتے (بھی) جو تم کو (اسلحہ) جنگ (کے ضرر) سے محفوظ رکھیں۔ اسی طرح خدا پنا احسان تم پر پورا کرتا ہے تاکہ تم فرماں بردار بنو۔

(16:81) ظللا۔ بوجہ مفعول منصوب ہے۔ ظل کی جمع۔ سائے۔ ان المتقین فی ظلل وعیون (77:41) بیشک پرہیزگار لوگ سایوں اور چشموں میں ہوں گے۔ اکنانا۔ بوجہ مفعول منصوب ہے اکنان جمع ، اس کی واحد کن ہے چھپنے کی جگہ، حفاظت کی جگہ۔ کن یکن (نصر) کن کنون واکن گھر میں چھپانا۔ دھوپ سے بچانا۔ الکن ہر وہ چیز جس میں کسی چیز کو محفوظ رکھا جائے۔ کننت الشیٔ کنا۔ میں نے چیز کو کن میں محفوظ کردیا۔ کننت (ثلاثی مجرد) خصوصیت کے ساتھ کسی مادّی شے کو گھر یا کپڑے وغیرہ میں چھپانے پر بولا جاتا ہے۔ مثلاً کانہم لؤلؤ مکنون (52:24) جیسے چھپائے ہوئے موتی۔ آیہ ہذا : وجعل لکم من الجبال اکنانا۔ اور اس نے تمہارے لئے پہاڑوں میں غاریں (پناہ گاہیں) بنائیں۔ سرابیل۔ سربال کی جمع۔ کرتے۔ قمیص، پیراہن۔ پوشاک۔ دوسری دفعہ سرابیل سے مراد زرہ بکتر لی گئی ہے۔ وہ بھی ایک قسم کا پیراہن ہی ہے۔ تقیکم۔ مضارع واحد مؤنث غائب۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ وہ تمہیں بچاتی ہے۔ وفی یقی (ضرب۔ لفیف مفروق) وقایۃ بچانا۔ نگاہ رکھنا۔ باسکم۔ تمہاری لڑائی میں۔ مضاف مضاف الیہ۔ تسلمون۔ تم فرماں بردار رہو۔ تم اطاعت کرتے رہو۔ اسلام (افعال) سے مضارع جمع مذکر حاضر۔
Ayahs 16:82–83

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 16:82 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ اعراض کریں تو (اے پیغمبر) تمہارا کام فقط کھول کر سنا دینا ہے۔

یَعْرِفُوْنَ نِعْمَتَ اللّٰهِ ثُمَّ یُنْكِرُوْنَهَا وَ اَكْثَرُهُمُ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 16:83 in the Quran reader

یہ خدا کی نعمتوں سے واقف ہیں مگر (واقف ہو کر) ان سے انکار کرتے ہیں اور یہ اکثر ناشکرے ہیں۔

(16:82) فان تولوا۔ اگر یہ روگردانی کرتے رہیں۔
Ayah 16:84

وَ یَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا ثُمَّ لَا یُؤْذَنُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 16:84 in the Quran reader

اور جس دن ہم ہر امت میں سے گواہ (یعنی پیغمبر) کھڑا کریں گے تو نہ تو کفار کو (بولنے کی) اجازت ملے گی اور نہ ان کے عذر قبول کئے جائیں گے۔

(16:84) یوم۔ کا نصب محذوف عبارت کی وجہ سے ہے۔ ای اذکر یوم۔۔ تبعث۔ مضارع جمع متکلم بعث مصدر۔ (باب فتح) ہم کھڑا کریں گے۔ ہم قائم کریں گے۔ لا یؤذن۔ مضارع منفی مجہول واحد مذکر غائب اجازت نہیں دی جائے گی۔ (عذرومعذرت پیش کرنے کی) ۔ ولا ہم یستعتبون۔ مضارع منفی مجہول کا صیغہ جمع مذکر غائب العتب اصل میں اس جگہ کو کہتے ہیں جو وہاں اترنے والے کے لئے ناسازگار ہو۔ پھر استعارہ کے طور پر عتب کے معنی ناراضگی سختی۔ خفگی کے آجاتے ہیں۔ عتب یعتب (نصر) عتب یعتب (ضرب) عتب خفگی کرنا۔ ناراض ہونا۔ غصہ ہونا۔ اعتاب (باب افعال) میں سلب ماخذ کی خصوصیت کی وجہ سے معنی ہونگے عتاب کو دور کرنا۔ ناراضگی۔ غصہ۔ خفگی کو دور کرنا۔ باب استفعال میں طلب ماخذ کی خصوصیت ہے جیسے استغفر زید (زید نے مغفرت مانگی) ۔ لہٰذا استعتاب کا مطلب ہوا۔ طلبِ عتاب یعنی ناراضگی کو دور کرنے کی طلب۔ یعنی کسی سے خواہش کرنا کہ وہ تیری ناراضگی کو دور کر دے اور تجھے رضا مند بنا لے۔ باب افعال (ثلاثی مزید فیہ) سے باب استفعال بنانا غیر قیاسی ہے کیونکہ قیاساً باب استفعال ثلاثی مجرد سے بنایا جاتا ہے۔ ولاہم یستعتبون۔ (اور نہ ہی ان سے اللہ تعالیٰ کے راضی کرنے کی فرمائش کی جائے گی) اور نہ ہی ان سے توبہ لی جائے گی ! نیز ملاحظہ ہو لغات القرآن۔ ندوۃ المصنفین اور نیزاضواء البیان جلد سوم تفسیر آیۃ ہذا۔
Ayah 16:85

وَ اِذَا رَاَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الْعَذَابَ فَلَا یُخَفَّفُ عَنْهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 16:85 in the Quran reader

اور جب ظالم لوگ عذاب دیکھ لیں گے تو پھر نہ تو ان کے عذاب ہی میں تحفیف کی جائیگی اور نہ ان کو مہلت ہی دی جائے گی

(16:85) واذا رأالذین ظلموا العذاب۔ اور جب وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا (یعنی کافر) دیکھ لیں گے عذاب کو۔ مطلب یہ ہے کہ جب وہ عذاب ان پر آپڑے گا (تو نہ اس میں تخفیف ہوگی اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔ چاہے وہ کتنا ہی روئیں پیٹیں یا چلائیں۔
Ayah 16:86

وَ اِذَا رَاَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا شُرَكَآءَهُمْ قَالُوْا رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ شُرَكَآؤُنَا الَّذِیْنَ كُنَّا نَدْعُوْا مِنْ دُوْنِكَ١ۚ فَاَلْقَوْا اِلَیْهِمُ الْقَوْلَ اِنَّكُمْ لَكٰذِبُوْنَۚ Open ayah 16:86 in the Quran reader

اور جب مشرک اپنے (بنائے ہوئے) شریکوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے کہ پروردگار ! یہ وہی ہمارے شریک ہیں جن کو ہم تیرے سوا پکارا کرتے تھے۔ تو وہ (ان کے کلام کو مسترد کردیں گے اور) ان سے کہیں گے کہ تم تو جھوٹے ہو۔

(16:86) شرکاء ہم۔ اور شرکاء نا میں شریکوں سے مراد وہی دیوی دیوتا اور معبودانِ باطل ہیں جنہیں وہ شریک خدائی سمجھتے تھے۔ کنا ندعوا۔ ماضی استمراری جمع متکلم ” ہم پکارا کرتے تھے ہم عبادت کیا کرتے تھے۔ القوا۔ ماضی جمع مذکر غائب القائ۔ (باب افعال) سے۔ انہوں نے ڈالا۔ انہوں نے پھینکا۔ القاء کے معنی ہیں کسی چیز کو اس طرح ڈال دینا کہ وہ دوسرے کو سامنے نظر آئے۔ جیسے قالوا یموسی اما ان تلقی واما ان نکون نحن الملقین قال القوا فلما القوا سحروا اعین الناس۔ (7:115 ۔ 116) جادوگروں نے کہا اے موسیٰ یا تو تم (پہلے) ڈالو۔ ورنہ ہم ہی پہلے ڈالنے والے ہوجاتے ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ تم ہی ڈالو ! پس جب انہوں نے ڈالا تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا۔ القی قولاً الی ۔۔ کسی سے کلام کرنا۔ والقی مودۃ الی۔ کسی سے دوستی یا محبت بڑھانا جیسے تلقون الیہم بالمودۃ (60:1) تم ان کو دوستی کے پیغام بھیجتے ہو۔ والقی سلما الی۔۔ عاجزی پیش کرنا۔ جیسے والقوا الی اللہ یومئذن السلم۔ (16:87) اور وہ اس دن خدا کے حضور عاجزی پیش کردیں گے۔ اس کے سامنے سرنگوں ہوجائیں گے اس کے سامنے صلح و اطاعت کی طرح ڈال دیں گے۔ القوا میں ضمیر فاعل معبودانِ باطل کی طرف راجع ہے۔ اور الیہم میں ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع الذین اشرکوا ہے۔ فالقوا الیہم القول انکم لکذبون۔ معبودانِ باطل مشرکین سے کہیں گے۔ یقینا تم جھوٹ بول رہے ہو۔
Ayah 16:87

وَ اَلْقَوْا اِلَى اللّٰهِ یَوْمَئِذِ اِ۟لسَّلَمَ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 16:87 in the Quran reader

اور اس دن خدا کے سامنے سرنگوں ہوجائیں گے اور جو طوفان وہ باندھا کرتے تھے سب ان سے جاتا رہے گا۔

(16:87) القوا میں ضمیر فاعل کا مرجع مشرکین۔ نیز اوپر 16:86 ۔ ملاحظہ ہو۔ ضل۔ ضل یضل (باب ضرب) سے ماضی واحد مذکر غائب۔ ضلال وضلالۃ مصدر۔ گمراہ ہونا۔ بھٹک جانا راہ حق سے۔ مر کر مٹی میں گل سڑ جانا۔ (کوشش کا) برباد جانا۔ راستے سے بہک جانا۔ فراموش کرنا۔ ضائع کرنا۔ ضائع ہونا۔ گم ہونا۔ ہلاک ہوجانا۔ ضالۃ ج ضوال۔ گم شدہ چیز جس کی تلاش کی جائے۔ الحکمۃ۔ ضالۃ المؤمن فھو احق بھا حیث وجدھا۔ ضل عنہم ما کانوا یفترون۔ اور جو افتراء پردازی وہ کیا کرتے تھے وہ سب کافور ہوجائے گی۔ یعنی اپنے معبودانِ باطل سے جو امیدیں انہوں نے وابستہ کر رکھی تھیں وہ سب دھری کی دھری رہ جائیں گی۔
Ayah 16:88

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ زِدْنٰهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یُفْسِدُوْنَ Open ayah 16:88 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) خدا کے راستے سے روکا ہم ان کو عذاب پر عذاب دیں گے اس لئے کہ شرارت کیا کرتے تھے۔

(16:88) صدوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ انہوں نے روکا۔ صد وصدود مصدر انہوں نے (دوسروں کو) روکا۔
Ayah 16:89

وَ یَوْمَ نَبْعَثُ فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا عَلَیْهِمْ مِّنْ اَنْفُسِهِمْ وَجِئْنَا بِكَ شَهِیْدًا عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ١ؕ وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ تِبْیَانًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 16:89 in the Quran reader

اور (اس دن کو یاد کرو) جس دن ہم ہر امت میں سے خود ان پر گواہ کھڑے کریں گے اور (اے پیغمبر ﷺ تم کو ان لوگوں پر گواہ لائیں گے۔ اور ہم نے تم پر (ایسی) کتاب نازل کی ہے کہ (اس میں) ہر چیز کا بیان (مفصل) ہے اور مسلمانوں کے لئے ہدایت اور رحمت اور بشارت ہے۔

(16:89) یوم ۔ اس کا نصب فعل محذوف کا مفعول ہونے کی وجہ سے ہے۔ ای اذکر یوم یاد کرو وہ دن۔ تبیانا۔ بان یبین (ضرب) کا مصدر ہے۔ بیان ۔ وضاحت۔
Ayah 16:90

اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ وَ اِیْتَآئِ ذِی الْقُرْبٰى وَ یَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ وَ الْبَغْیِ١ۚ یَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 16:90 in the Quran reader

خدا تم کو انصاف اور احسان کرنے اور رشتہ داروں کو (خرچ سے مدد) دینے کا حکم دیتا ہے اور بےحیائی اور نامعقول کاموں اور سرکشی سے منع کرتا ہے (اور) تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم یاد رکھو۔

(16:90) ایتآیٔ۔ دینا ۔ عطا کرنا۔ ایتآیٔ ذی القربی اہل قرابت کو دینا۔ اسی آیت کے متعلق حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں۔ ھذہ اجمع ایۃ فی القران لخیر یتمثل ولشریجتنب۔ یہ قرآن کی جامع ترین آیت ہے اس میں ہر وہ اچھی چیز جس پر عمل کرنا ضروری ہے مذکور ہے۔ اسی طرح ہر وہ بری چیز جس سے اجتناب ضروری ہے موجود ہے ۔
Ayah 16:91

وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ اِذَا عٰهَدْتُّمْ وَ لَا تَنْقُضُوا الْاَیْمَانَ بَعْدَ تَوْكِیْدِهَا وَ قَدْ جَعَلْتُمُ اللّٰهَ عَلَیْكُمْ كَفِیْلًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 16:91 in the Quran reader

اور جب خدا سے عہد واثق کرو تو اس کو پورا کرو۔ اور جب پکی قسمیں کھاؤ تو ان کو مت توڑو کہ تم خدا کو اپنا ضامن مقرر کرچکے ہو۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو جانتا ہے۔

(16:91) لا تنقضوا الایمان۔ فعل نہی۔ جمع مذکر حاضر۔ ایمان۔ یمین کی جمع۔ قسموں کو مت توڑو۔ نقض ینقض (نصر) توڑنا۔ اصل میں نقض کے معنی ہیں عمارت۔ رسی یا ہار کی گرہ کھولنا۔ پراگندہ کرنا۔ عمارت کو مسمار کرنا۔ کفیلا۔ ذمہ دار۔ ضامن۔ ایفاء عہد کے لئے گواہ۔ مذکر مؤنث واحد جمع سب کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اگرچہ اس کی جمع کفلاء آئی ہے۔
Ayahs 16:92–93

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّتِیْ نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ اَنْكَاثًا١ؕ تَتَّخِذُوْنَ اَیْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَیْنَكُمْ اَنْ تَكُوْنَ اُمَّةٌ هِیَ اَرْبٰى مِنْ اُمَّةٍ١ؕ اِنَّمَا یَبْلُوْكُمُ اللّٰهُ بِهٖ١ؕ وَ لَیُبَیِّنَنَّ لَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 16:92 in the Quran reader

اور اس عورت کی طرح نہ ہونا جس نے محنت سے تو سوت کاتا پھر اس کو توڑ توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ کہ تم اپنی قسموں کو آپس میں اس بات کا ذریعہ بنانے لگو کہ ایک گروہ دوسرے گروہ سے زیادہ غالب رہے۔ بات یہ ہے کہ خدا تمہیں اس سے آزماتا ہے۔ اور جن باتوں میں تم اختلاف کرتے ہو قیامت کو اس کی حقیقت تم پر ظاہر کر دے گا۔

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ یُّضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ لَتُسْئَلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:93 in the Quran reader

اور اگر خدا چاہتا تو تم سب کو ایک ہی جماعت بنا دیتا لیکن وہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اور جو عمل تم کرتے ہو (اس دن) ان کے بارے میں تم سے ضرور پوچھا جائیگا۔

(16:92) نقضت غزلھا۔ نقضت۔ ماضی واحد مؤنث غائب اس عورت نے توڑ ڈالا۔ بل کھول دئیے۔ غزلھا۔ مضاف مضاف الیہ۔ غزل کا تا ہوا دھاگہ۔ غزل یغزل (ضرب) غزل (روئی یا اون کا تنا۔ اغزل عورت کا چرخہ کاتنا اور باب سمع سے غزل یغزل وتغزل۔ عورتوں سے محبت جتانا۔ ان کے حسن و جمال کی تعریف کرنا۔ اسی سے غزل عشقیہ کلام ہے۔ الکاثا۔ ٹکڑے ٹکڑے نکث کی جمع جس کے معنی سوت کے اس ٹکڑے کے ہیں جو دوبارہ کاتنے کے لئے توڑا جائے۔ نقضت غزلھا من بعد قوۃ انکاثا۔ اس نے اپنے دھاگے کو مضبوط کاتنے کے بعد توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ انکاتا غزل کا حال ہے۔ مکہ میں ایک بیوقوف قریشی عورت تھی جو صبح سے دوپہر تک یا دن بھر باندیوں کو ساتھ لے کر سوت کاتا کرتی تھی اور آخر میں تمام کاتا ہوا سوت توڑ ڈالتی تھی۔ اس کا نام ریطہ بنت عمروبن سعد تھا۔ (بغوی) بعض نے دیگر مختلف نام دئیے ہیں۔ دخلا۔ بہانہ ۔ دغا۔ فساد۔ دخل یدخل (سمع) کا مصدر ہے۔ الدخل ما یدخل فی الشی ولم یکن منہ۔ الدخل۔ وہ ہے کہ جو کسی شے میں داخل ہو لیکن اس میں سے نہ ہو۔ یا الدخل ما یدخل فی الشی علی سبیل الفساد۔ الدخل وہ ہے جو فساد کے واسطے کسی شے میں داخل ہو۔ ایک چیز کو دوسری میں فساد کے لئے ملانا دخل ہے۔ کل شیٔ لم یصح فھو دخل ودخیل بمعنی المفسد والداخل ضد الخارج (جو چیز درست نہ ہو وہ دخل ہے) دخل بمعنی دغل ہے۔ ادغل فی۔ کسی کام میں غیر متعلق چیز کو داخل کر کے اسے خراب کردینا۔ دخلا بینکم۔ باہمی فساد و خیانت ودغابازی۔ دخل یدخل (نصر) دخول اندر داخل ہونا۔ تتخذون ایمانکم دخلا بینکم۔ یہ لا تکونوا کی ضمیر کا حال ہے امام رازی کے نزدیک یہ جملہ مستانفہ (نیا جملہ) ہے اور استفہامیہ ہے۔ ای أتتخذون ایمانکم دخلا بینکم کیا تم اپنی قسموں کو باہمی دھوکہ بازی کا ذریعہ بناتے ہو ؟ اربی۔ افعل التفضیل۔ کا صیغہ ہے۔ ربا یربوا۔ (نصر) رباء وربو سے جس کے معنی بڑھنے اور چڑھنے کے ہیں۔ الربو۔ سود ۔ بیاج۔ زیادتی۔ اربی تعداد میں اور مال و دولت میں بڑھ چڑھ کر ہونا۔ ان تکون امۃھی اربی من امۃ۔ اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں۔ (1) کان (تکون) تامہ ہے اورھی من امۃ۔ امۃ کی صفت ہے اور امۃ۔ تکون کا فاعل ہے۔ اس اعتبار سے معنی ہوں گے : کہ ایک قوم ایسی ہوجائے کہ جو دوسری قوم سے زیادہ طاقتور ہو۔ (2) کان یکون فعل ناقص ہے اورھی اربی من امۃ اس کی خبر ہے۔ گویا آیۃ کی تقدیر ان تکون امۃ امۃ اربی من امۃ۔ تکرار کے سقم کو دور کرنے کے لئے اسم ظاہر امۃ کی بجائےھی ضمیر لائی گئی ہے کہ ایک جماعت دوسری جماعت سے زبردست ہوجائے۔ زمانہ جاہلیت میں قریش اور دیگر قبائل ایک قوم سے معاہدہ کرلیتے پھر جب دیکھتے کہ دوسری قوم قوی ہے تو اس سے معاملہ کرلیا۔ اور پچھلے معاہدہ کو توڑ دیا۔ اس سے مسلمانوں کو منع کیا جا رہا ہے اور ایفائے عہد پر زور دیا گیا ہے ۔ یبلوکم۔ یبلو۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ (باب نصر) بلاء مصدر۔ وہ آزمائش کرتا ہے۔ وہ آزماتا ہے۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ وہ (اللہ) تم کو آزماتا ہے۔ بہ میں ہٖ ضمیر واحد مذکر حاضر کا مرجع یا تو فقرہ ان تکون امۃ بھی اربی من امۃ ہے یعنی کسی گروہ کی افزائش قوت و ثروت۔ یا یہ راجع ہے اس امرونہی کی طرف جس سے خبردار کیا جارہا ہے۔ لیبینن۔ لام تاکید کے لئے۔ مضارع بانون ثقیلہ واحد مذکر غائب تبیین (تفعیل) مصدر۔ وہ ضرور ہی کھول کر بیان کرے گا۔
Ayah 16:94

وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اَیْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَیْنَكُمْ فَتَزِلَّ قَدَمٌۢ بَعْدَ ثُبُوْتِهَا وَ تَذُوْقُوا السُّوْٓءَ بِمَا صَدَدْتُّمْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ وَ لَكُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 16:94 in the Quran reader

اور اپنی قسموں کو آپس میں اس بات کا ذریعہ نہ بناؤ کہ (لوگوں کے) قدم جم چکنے کے بعد لڑکھڑا جائیں اور اس وجہ سے کہ تم نے لوگوں کو خدا کے راستے سے روکا تم کو عقوبت کا مزا چکھنا پڑے اور بڑا سخت عذاب ملے۔

(16:94) ولا تتخذوا ایمانکم رخلا بینکم۔ اور اپنی قسموں کو آپس میں فریب دہی کا ذریعہ مت بنائو۔ نیز ملاحظہ ہو۔ 16:92 ۔ فتزل قدم۔تعلیل کا ہے بمعنی ورنہ۔ نتیجۃً ایسا نہ ہو۔ تزل مضارع واحد مؤنث غائب زل یزل (ضرب) زل سے۔ الزلۃ کے اصل معنی ہیں۔ بلا قصد قدم پھسل جانا۔ اس لئے جو گناہ بلا قصد سرزد ہوجائے اس کو بطور تشبیہ زلۃ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ چناچہ قرآن مجید میں ہے فان زللتم (2:209) اگر تم لغزش کھا جائو۔ باب استفعال سے کسی کو پھسلانے کا ارادہ کرنا۔ مثلاً انما استزلہم الشیطن (2:36) انہیں شیطان نے پھسلا دیا۔ یعنی شیطان انہیں آہستہ آہستہ پھسلانے کی کوشش کرتا رہا۔ حتی کہ وہ پھسل گئے۔ اسی معنی سے تزلزل بمعنی اضطراب کے ہیں اور اس میں تکرارِ حروف تکرارِ معنی پر دلالت کرتا ہے۔ مضارع کا نصب جوابِ نہی ہونے کی وجہ سے ہے فتزل قدم یعنی (تم اپنی قسموں کو باہمی فساد کا ذریعہ مت بنائو) ورنہ (تمہارا یا کسی کا یا لوگوں کا) قدم (جادۂ حق سے) پھسل جائے گا (یا کہیں ایسا نہ ہو کہ قدم راہ مستقیم سے پھسل جائے۔ بعد ثبوتھا۔ اس کے جم جانے کے بعد (یعنی اچھے بھلے ہدایت یافتہ قدم ڈگمگا جائیں۔ تذوقوا۔ ذاق یذوق (نصر) ذوق سے مضارع جمع مذکر حاضر۔ نون اعرابی بوجہ عامل (جواب نہی) گرگیا۔ تمہیں چکھنا پڑے۔ تمہیں بھگتنا پڑے۔ یا تمہیں چکھنا پڑے گا۔ بھگتنا پڑے گا۔ السوئ۔ عذاب۔ برا نیتجہ۔ یہاں دنیوی عذاب کی طرف اشارہ ہے۔ جہاں تک عذاب آخرت کا تعلق ہے تو آیۃ کے آخر میں ہے ولکم عذاب عظیم۔ بما ۔ بسبب ۔ بوجہ۔ صددتم ماضی جمع مذکر حاضر۔ صد مصدر۔ (باب نصر) تم نے روکا۔ تم مانع ہوئے (بوجہ عہد شکنی کے) ۔
Ayah 16:95

وَ لَا تَشْتَرُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ اِنَّمَا عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:95 in the Quran reader

اور خدا سے جو تم نے عہد کیا ہے (اس کو مت بیچو اور) اسکے بدلے تھوڑی سی قیمت نہ لو (کیونکہ ایفائے عہد کا) جو (صلہ) خدا کے ہاں مقرر ہے وہ اگر سمجھو تو تمہارے لئے بہتر ہے۔

(16:95) لا تشتروا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ تم مت خریدو۔ تم مت مول لو۔ اشتراء (افتعال) مصدر۔ انما۔ ای ان ما۔ بیشک۔ تحقیق۔ (جو بطور ثواب آخرت اللہ کے پاس ہے) ۔ ان۔ حرف مشبہ بالفعل ہے اور خبر کی تاکید اور تحقیق مزید کے لئے آتا ہے۔ حروف مشبہ بالفعل اسم کو نصب اور خبر کو رفع دیتے ہیں۔ لیکن جب ان کے بعد ما کافّہ آجائے تو ان عمل نہیں کرتا۔ اور کلمہ حصر کے معنی دیتا ہے۔ جیسے انما المشرکون نجس۔ (9:28) مشرکین تو پلید ہیں یعنی نجاست تامہ تو مشرکین کے ساتھ مختص ہے۔
Ayah 16:96

مَا عِنْدَكُمْ یَنْفَدُ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ١ؕ وَ لَنَجْزِیَنَّ الَّذِیْنَ صَبَرُوْۤا اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:96 in the Quran reader

جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ ختم ہوجاتا ہے جو خدا کے پاس ہے وہ باقی ہے (کہ کبھی ختم نہیں ہوگا) اور جن لوگوں نے صبر کیا ہم ان کو ان کے اعمال کا بہت اچھا بدلہ دیں گے۔

(16:96) ینفد۔ نفد ینفد (باب سمع) نفاد سے واحد مذکر غائب۔ ختم ہوجائے گا۔ جیسے اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے۔ قل لو کان البحر مدادا لکلمت ربی لنفد البحر قبل ان تنفد کلمت ربی۔ (18:109) آپ کہہ دیجئے کہ اگر (سارے کے سارے) سمندر روشنائی ہوجائیں میرے پروردگار کی باتیں لکھنے کے لئے تو سمندر ختم ہوجائیں گے۔ اور میرے پروردگار کی باتیں ختم نہ ہو سکیں گی۔ باق۔ باقی رہنے والا۔ اسم فاعل۔ واحد مذکر۔ ناقص یائی سے ہے۔ اصل میں باقی تھا ضمہ ی پر دشوار تھا۔ اس کو ساکن کیا۔ اب ی اور تنوین ود ساکن جمع ہوئے تو ی اجتماع ساکنین سے گرگئی باق ہوگیا۔ بقاء مصدر۔ باب سمع سے آتا ہے بقی یبقی بقاء کسی چیز کا اپنی اصلی حالت پر قائم رہنا۔ یہ فناء کی ضد ہے۔ لنجزین۔ مضارع بلام تاکیدونون ثقیلہ ۔ صیغہ جمع متکلم۔ ہم ضرور بالضرور اجر دیں گے۔ احسن۔ اسم التفضیل کا صیغہ ہے۔ بہت اچھا۔ سب سے اچھا۔ احسن ما کانوا یعملون۔ جو عمل وہ کیا کرتے تھے ان میں سے کا سب سے اچھا۔ یعنی ہم صبر کرنے والوں کو ان کے کئے کا جو بہترین عمل ہوگا اس کے مطابق اجر دیں گے۔ صاحب تفہیم القرآن رقمطراز ہیں :۔ بالفاظِ دیگر جس شخص نے دنیا میں چھوٹی اور بڑی ہر طرح کی نیکیاں کی ہوں گی اسے وہ اونچا مرتبہ دیا جائے گا جس کا وہ اپنی بڑی نیکی کے لحاظ سے مستحق ہوگا۔
Ayah 16:97

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّهٗ حَیٰوةً طَیِّبَةً١ۚ وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:97 in the Quran reader

جو شخص نیک عمل کرے گا مرد ہو یا عورت اور وہ مومن بھی ہوگا تو ہم اس کو (دنیا میں) پاک (اور آرام کی) زندگی سے زندہ رکھیں گے اور (آخرت میں) ان کے اعمال کا نہایت اچھا صلہ دیں گے۔

(16:97) لنحیینہ مضارع بلام تاکید نون ثقیلہ جمع متکلم ۔ ہُ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جس کا مرجع فعل عمل کا فاعل ہے۔ یعنی نیک صالح عمل کرنے والا۔ ہم اس کو ضرور بالضرور زندگی بخشیں گے۔ حیوۃ طیبۃ۔ پاکیزہ زندگی۔ اسی دنیا میں کہ اس میں رزق حلال حاصل ہو۔ قناعت ہو اطمینان و تسکین ہو رضاء الٰہی حاصل ہو۔ یا عالم برزخ کی زندگی کہ اس کی قبر روضۃ من ریاض الجنۃ ہو اس کی برزخ کی زندگی باغات جنت سے ایک باغ بن جائے یا اخروی زندگی۔ کہ وہاں نہ موت کا ڈر نہ نعمتوں کے ختم ہوجانے کا خدشہ جہاں صحت بلاسقم۔ سعادت بلا شقاوت حاصل ہوگی۔
Ayah 16:98

فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ Open ayah 16:98 in the Quran reader

اور جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان مردود سے پناہ مانگ لیا کرو

(16:98) استعذ۔ تو پناہ مانگ استعاذۃ (استفعال) سے مصدر۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر کہو اعوذ بااللہ من الشیطن الرجیم۔ الرجیم۔ الرجام۔ پتھر۔ اسی سے الرجم ہے جس کے معنی سنگسار کرنا کے ہیں جس کو سنگسار کیا گیا ہو اسے مرجوم کہتے ہیں۔ جیسے قرآن مجید میں ہے لتکونن من المرجومین (26:116) کہ تم ضرور سنگسار کئے جائو گے۔ پھر استعارہ کے طور پر رجم کا لفظ جھوٹے گمان۔ توہم۔ سب وشتم اور کسی کو دھتکار دینے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً قرآن مجید میں ہے رجما بالغیب (18:22) یہ سب غیب کی باتوں میں اٹکل کے تکے چلاتے ہیں۔ شیطان کی رجیم اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ ملا اعلیٰ کے مراتب سے راندہ ہوا ہے۔ فاخرج منہا فانک رجیم۔ (38:77) تو بہشت سے نکل جا کہ راندۂ درگاہ ہے۔
Ayah 16:99

اِنَّهٗ لَیْسَ لَهٗ سُلْطٰنٌ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ Open ayah 16:99 in the Quran reader

کہ جو مومن ہیں اور اپنے پروردگار پر بھروسا رکھتے ہیں ان پر اس کا کچھ زور نہیں چلتا۔

(16:99) سلطن۔ تسلط۔ استیلائ۔ زور۔ اختیار۔ برہان۔ سند۔ مثلاً فاتونا بسلطن مبین۔ (14:10) کوئی کھلی دلیل لائو۔ یعنی واضح دلیل اور حجت قائم کرو۔ لا تنفذون الا بسلطن (55:33) اور سوائے کسی سند یا اجازت نامہ کے تم نہیں نکل سکتے۔ ابن عباس سے روایت ہے کہ تمام قرآن میں سلطان بمعنی حجت کے آیا ہے۔ (16:100) یتولونہ۔ وہ اس کو دوست رکھتے ہیں۔ مضارع جمع مذکر غائب ہُ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع الشیطن ہے۔ بہ اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں۔ (1) ب تعدیہ کے لئے ہے اور ضمیر کا مرجع اللہ تعالیٰ ہے۔ ای راجع الی ربہم۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا : اور وہ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ (دوسروں کو) شریک بنانے والے ہیں۔ (2) ضمیر ہٖ کا مرجع شیطان ہے اور بہ۔ من اجلہ کا مرادف ہے یعنی اس کے سبب سے۔ ترجمہ ہوگا اور جو شیطان کے ورغلانے کی وجہ سے اللہ کے ساتھ (دوسروں کو) شریک ٹھہرانے والے ہیں۔
Ayahs 16:100–101

اِنَّمَا سُلْطٰنُهٗ عَلَى الَّذِیْنَ یَتَوَلَّوْنَهٗ وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِهٖ مُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 16:100 in the Quran reader

اس کا زور انہی لوگوں پر چلتا ہے جو اس کو رفیق بناتے ہیں اور اس کے (وسو سے کے) سبب (خدا کے ساتھ) شریک مقرر کرتے ہیں۔

وَ اِذَا بَدَّلْنَاۤ اٰیَةً مَّكَانَ اٰیَةٍ١ۙ وَّ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یُنَزِّلُ قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُفْتَرٍ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:101 in the Quran reader

اور جب ہم کوئی آیت کی جگہ بدل دیتے ہیں اور خدا جو کچھ نازل فرماتا ہے اسے خوب جانتا ہے تو (کافر) کہتے ہیں کہ تم تو (یونہی) اپنی طرف سے بنا لاتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں اکثر نادان ہیں۔

(16:101) اعلم۔ علم سے افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ خوب جاننے والا۔ بہتر جاننے والا۔ ینزل۔ نزل ینزل تنزیل (تفعیل) سے مضارع واحد مذکر غائب وہ اتارتا ہے۔ وہ نازل کرتا ہے۔ مفتر۔ افتراء (افتعال) سے اسم فاعل واحد مذکر کا صیغہ ہے۔ اپنی طرف سے گھڑ کر بات بنانے والا۔ اصل میں مفتری تھا۔ ی پر ضمہ دشوار تھا۔ اس کو ساکن کیا۔ اب یساکن اور تنوین دو ساکن اکٹھے ہوگئے۔ یاجتماع ساکنین کی وجہ سے گرگئی مفتر بن گیا۔ اس کا مادہ فری ہے الفری کے معنی چمڑے کو سینے اور مرمت کرنے کے لئے کاٹنے کے ہیں اور افرائ (افعال) کے معنی اسے خراب کرنے کے لئے کاٹنے کے ہیں۔ افتراء (افتعال) اصلاح اور فساد دونوں کے لئے آتا ہے لیکن اس کا زیادہ تر استعمال کیا گیا ہے ۔ فری یفری (ضرب) فریا علی کسی کے خلاف بہتان باندھنا۔ جھوٹ گھڑنا۔ باب افتعال سے بھی اسی معنی میں آتا ہے۔ باب سمع سے بمعنی حیران ہونا۔ باب افتعال سے قرآن حکیم میں ہے۔ انظر کیف یفترون علی اللہ الکذب (40:5) دیکھو یہ خدا پر کیسا جھوٹ باندھتے ہیں۔ آیۃ لقد جئت شیئا فریا ط (19:27) یہ تو نے عجیب حرکت کی ہے (یہاں جئت بمعنی فعلت ہے) اس میں بعض نے کہا ہے کہ فریا کے معنی عظیم بات کے ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ عجیب بات کے ہیں اور بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی من گھڑت اور بنائی ہوئی بات کے ہیں لیکن مآل کے اعتبار سے یہ تمام اقوال ایک ہی ہیں۔ واللہ اعلم بما ینزل۔ اس آیت میں جملہ معترضہ ہے۔
Ayah 16:102

قُلْ نَزَّلَهٗ رُوْحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ لِیُثَبِّتَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 16:102 in the Quran reader

کہہ دو کہ اس کو روح القدس تمہارے پروردگار کی طرف سے سچائی کے ساتھ لیکر نازل ہوئے ہیں تاکہ یہ (قرآن) مومنوں کو ثابت قدم رکھے اور حکم ماننے والوں کے لئے تو (یہ) ہدایت اور بشارت ہے۔

(16:102) نزلہ میں ہٗ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع القران ہے۔ روح القدس۔ سے مراد حضرت جبرئیل (علیہ السلام) ہیں۔ لیثبت۔ میں لام تعلیل کے لئے ہے تا کہ۔ یثبت مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب (باب تفعیل) تاکہ ثابت قدم رکھے۔
Ayahs 16:103–104

وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ اِنَّمَا یُعَلِّمُهٗ بَشَرٌ١ؕ لِسَانُ الَّذِیْ یُلْحِدُوْنَ اِلَیْهِ اَعْجَمِیٌّ وَّ هٰذَا لِسَانٌ عَرَبِیٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 16:103 in the Quran reader

اور ہمیں معلوم ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) کو ایک شخص سکھا جاتا ہے۔ مگر جس کیطرف (تعلیم کی) نسبت کرتے ہیں اس کی زبان تو عجمی ہے اور یہ صاف عربی زبان ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ۙ لَا یَهْدِیْهِمُ اللّٰهُ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 16:104 in the Quran reader

یہ لوگ خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے ان کو خدا ہدایت نہیں دیتا اور ان کے لئے عذاب الیم ہے۔

(16:103) انما یعلمہ بشر۔ میں ہٗ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع رسول کریم ﷺ ہیں اس میں دوسرا مفعول یعنی القرآن محذوف ہے۔ ای انما یعلمہ القران بشر۔ اس کو (یعنی آنحضرت ﷺ کو) یہ قرآن ایک آدمی سکھ لاتا ہے۔ اس کا اشارہ ایک نو مسلم رومی نصرانی غلام کی طرف ہے جو انجیل وغیرہ سے واقف تھا۔ اور رسول اللہ ﷺ کی باتیں خوب توجہ اور دلچسپی کے ساتھ سنا کرتا تھا۔ تو آپ بھی کبھی اس کے پاس جا بیٹھتے تھے۔ یلحدون۔ الحد یلحد الحاد (افعال) سے جمع مذکر غائب مضارع معروف۔ اللحد اس گڑھے یا شگاف کو کہتے ہیں جو قبر کی ایک جانب میں بنایا جاتا ہے۔ پھر اصل سے ہٹ کر ایک طرف پھرنے کو بھی الحاد کہتے ہیں۔ چناچہ کہا جاتا ہے الحد فلان عن الدین۔ فلاں دین سے پھر گیا۔ اسی سے ملحد دین سے پھرا ہوا کافر ہے۔ اور الحد السھم عن الھدف۔ تیر نشانہ کے ایک پہلو میں جا لگا۔ یلحدون الیہ (حقیقت سے ہٹ کر) جس کی طرف وہ مائل تھے۔ یا جس کی طرف ان کا اشارہ تھا۔ اعجمی۔ العجمۃ کے معنی ابہام اور اخفا کے ہیں۔ یہ الابانۃ کی ضد ہے جس کے معنی واضح اور بیان کردینا کے ہیں۔ العجم غیر عرب کو کہتے ہیں اور العجمی اس کی طرف منسوب شے کو کہتے ہیں۔ الاعجم وہ آدمی جس کی زبان فصیح نہ ہو خواہ وہ عربی ہی کیوں نہ ہو۔ کیونکہ عربی لوگ عجمی کی گفتگو بہت کم سمجھتے تھے۔ اور الاعجمی۔ الاعجم کی طرف منسوب کی گئی شے۔ لسان اعجمی۔ وہ زبان جو ایک اعجم کی ہو۔ یعنی ایسے شخص کی جو فصیح ومبین زبان نہ بول سکتا ہو۔ مبین اسم فاعل واحد مذکر کھول کھول کر فصاحت و بلاغت سے بیان کرنے والا۔ ایسی زبان جو بات کو فصاحت و بلاغت سے بیان کرنے والی ہو۔
Ayah 16:105

اِنَّمَا یَفْتَرِی الْكَذِبَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 16:105 in the Quran reader

جھوٹ افترا تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے۔ اور وہی جھوٹے ہیں۔

(16:105) یفتری۔ مضارع واحد مذکر غائب وہ بہتان باندھتا ہے۔ یہاں صیغہ واحد جمع کے لئے استعمال ہوا ہے۔ نیز ملاحظہ ہو 16:101 آیت کا ترجمہ یوں ہے۔ حقیقۃً جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان نہیں لاتے وہی جھوٹ اور افتراء باندھتے ہیں۔ (انما کے حصر کے ساتھ کذب کا ارتکاب آیات قرآنی پر ایمان نہ رکھنے والوں کے لئے مخصوص ہوگیا) فی ھذہ الایۃ ولا لۃ قویۃ علی ان الکذب من اکبر الکبائر و افحش الفواحش والد لیل علیہ ان کلمۃ انما للحصروا لمعنی ان الکذب والفریۃ لا یقدم علیہما الا من کان غیر مومن بایت اللہ تعالیٰ والامن کان کافرا وھذا تھدید فی النہایۃ۔ اس آیت میں اس امر کی قوی دلیل ہے کہ کذب بدترین گناہ اور بدترین فحش ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ انما کلمہ حصر کا ہے یعنی کذب اور افتراء کے ارتکاب کی جرأت ماسوائے خدا تعالیٰ کی آیات پر ایمان نہ رکھنے والے اور کافر کے کوئی نہیں کرتا اور یہ نہایت سخت تنبیہ ہے۔ اولئک ہم الکاذبون۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب کو لا کر کذب کا فعل منکرین ِ آیات ربانی پر مختص کردیا۔ پس یہی لوگ ہیں جو (پورے کے پورے) جھوٹے ہیں۔
Ayah 16:106

مَنْ كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ اِیْمَانِهٖۤ اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَ قَلْبُهٗ مُطْمَئِنٌّۢ بِالْاِیْمَانِ وَ لٰكِنْ مَّنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَیْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰهِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 16:106 in the Quran reader

جو شخص ایمان لانے کے بعد خدا کے ساتھ کفر کرے وہ نہیں جو (کفر پر زبردستی) مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان کیساتھ مطمئن ہو۔ بلکہ وہ جو (دل سے اور) دل کھول کر کفر کرے تو ایسوں پر اللہ کا غضب ہے اور ان کو بڑا سخت عذاب ہوگا۔

(16:106) من کفر باللہ بعد ایمانہ۔ مبتدا۔ فعلیہم غضب۔ خبر (محذوف) جس نے ایمان لانے کے بعد اللہ سے انکار کیا (یعنی اس کی وحدانیت سے اس کے رسول سے قرآن کے کلام الٰہی ہونے سے اور عقیدۂ حشر سے) اس پر غضب الٰہی ہوگا۔ الا من اکرہ۔ مستثنیٰ ہے ماسوائے اس کے جسے مجبور کیا گیا۔ اکرہ۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب۔ اس پر زبردستی کی گئی۔ اکراہ (افعال) مصدر ۔ وقلبہ مطمئن بالایمان۔ درآں حالیکہ اس کا دل ایمان پر مطمئن ہے۔ یہ جملہ الا من اکرہ کا حال ہے۔ شرح۔ ماضی واحد مذکر غائب اس نے دل کھولا۔ شرح کے معنی گوشت وغیرہ کے پھیلنے کے ہیں۔ صدرا بمعنی صدرا۔ مبتداء اور فعلیہم غضب من اللہ۔ خبر ہے ۔ اور اگر من شرطیہ ہے تو پہلا جملہ شرط اور دوسرا جملہ جواب شرط ہوگا۔
Ayahs 16:107–109

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اسْتَحَبُّوا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَى الْاٰخِرَةِ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 16:107 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ انہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلے میں عزیز رکھا۔ اور اس لئے کہ خدا کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ سَمْعِهِمْ وَ اَبْصَارِهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ Open ayah 16:108 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر اور کانوں پر اور آنکھوں پر خدا نے مہر لگا رکھی ہے اور یہی غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔

لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 16:109 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ یہ آخرت میں خسارہ اٹھانے والے ہوں گے۔

(16:107) طبع علی۔ مہر لگانا۔ طبع اللہ علی قلبہ اس کے دل پر اللہ تعالیٰ نے مہر لگا دی۔ یعنی وہ نیکی کی توفیق سے محروم ہوگیا۔ الغافلون۔ الکاملون فی الغفلۃ۔ نتائج و عواقب سے غفلت۔ غفلت کی انتہا ہے۔
Ayah 16:110

ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِیْنَ هَاجَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا فُتِنُوْا ثُمَّ جٰهَدُوْا وَ صَبَرُوْۤا١ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 16:110 in the Quran reader

پھر جن لوگوں نے ایذائیں اٹھانے کے بعد ترک وطن کیا پھر جہاد کئے اور ثابت قدم رہے تمہارا پروردگار ان کو بیشک ان (آزمائشوں) کے بعد بخشنے والا (اور ان پر) رحمت والا ہے۔

(16:110) ثم ان ربک۔ یہ دلالت کرتا ہے اس امر پر کہ غافلون، خاسرون کا حال بلحاظ مرتبت ان اصحاب سے کتنا بعید ہے جن کا آیہ ہذا میں ذکر ہے۔ ان کے لئے غضب الٰہی و خسران اور ان کے لئے مغفرت ورحمت رب تعالیٰ ۔ ثم۔ پھر حرفِ عطف ہے۔ پہلی چیز سے دوسری کے متاخر ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ یہ تاخیر خواہ بااعتبار زمانہ ہو یا بااعتبار مرتبہ۔ یا بلحاظ وضع ونسبت ہو یا بااعتبار نظام صناعی جیسے الا ساس اولا ثم البناء یعنی پہلے اساس (بنیاد) رکھی جاتی ہے پھر اس پر عمارت کھڑی کی جاتی ہے۔ دوسری دفعہ جو ثم آیا ہے وہ بااعتبار زمانہ تاخیر پر دلالت کرتا ہے۔ من بعد ما قتنوا۔ آزمائش میں ڈالے جانے کے بعد (یعنی کفار کے ہاتھوں مصائب و آلام میں ڈالے جانے کے بعد ) جیسے حضرت حمار بن یاسر اور ان جیسے دیگر صحابہ کرام ؓ جن کو اسلام سے مرتد کرنے کے لئے روح فرسا تکالیف دی گئی تھیں۔ من بعدھا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب مذکوراتِ بالا۔ یعنی آزمائش میں پڑنے اور ہجرت اور جہاد اور صبر کی طرف راجع ہے۔ صاحب ضیاء القرآن فرماتے ہیں : یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ یہ سورت تو مکی ہے اس میں ہجرت اور جہاد کا ذکر کیسا۔ لیکن اول تو ابن عطبہ کی روایت میں ہے کہ یہ آیت مدنی ہے (اور مکی سورتوں میں مدنی آیتوں کی آمیزش کی مثالیں قرآن میں کثرت سے موجود ہیں) ۔ اور ہجرت سے مراد ہجرت حبشہ بھی ہوسکتی ہے اور جہاد اپنے لغوی معنوں میں (یعنی جدوجہد) پھر ان کے علاوہ صیغہ ماضی سے اخبار مستقبل کی مثالیں بھی قرآن میں شاذ نہیں۔
Ayah 16:111

یَوْمَ تَاْتِیْ كُلُّ نَفْسٍ تُجَادِلُ عَنْ نَّفْسِهَا وَ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 16:111 in the Quran reader

جس دن ہر متنفس اپنی طرف سے جھگڑا کرنے آئے گا اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور کسی کا نقصان نہیں کیا جائے گا۔

(16:111) یوم۔ منصوب بوجہ رحیم کا ظرف زمان ہونے کے ہے یعنی اس کی یہ مغفرت ورحمت اس روز ہوگی جس روز۔۔ یا یہ اذکر (محدوذف) کا مفعول بہٖ ہے لیکن اول الذکر زیادہ راجح ہے۔ کیونکہ خسرون کے وقت سزا کے لئے فی الاخرۃ آیا ہے۔ (فی الاخرۃ ہم الخسرون) اور یہہاں بھی یوم سے مراد یوم قیامت ہی ہے۔ تاتی۔ مضارع واحد مؤنث غائب۔ وہ آئے گی۔ اتیان سے ضمیر فاعل کل نفس کے لئے ہے۔ کل نفس۔ ہر جان۔ تجادل۔ مضارع واحد مؤنث غائب۔ مجادلۃ (مفاعلۃ) سے وہ جھگڑا کرے گی وہ جھگڑا کرتی ہے، وہ جھگڑتی ہے۔ مجادلۃ باہم جھگڑنا۔ یہاں مجادلہ عذر۔ معذرت۔ اور صفائی پیش کرنے کے معنی میں ہے۔ عن نفسھا۔ اپنی ذات کے متعلق۔ پہلا نفس (کل نفس) جان یا شخص کے مترادف ہے اور دوسرے نفس کے معنی اس جان یا شخص کی ذات ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع کل نفس ہے ۔ توفی۔ مضارع مجہول واحد مؤنث غائب۔ توفیۃ (تفعیل) سے ہے پورا پورا دیا جائے گا۔ پورا (بدلہ ) دیا جائے گا۔ وہم لا یظلمون۔ اور ان پر (ذرا بھی) طلم نہ کیا جائے گا۔ اس میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب جملہ نفوس کے لئے ہے۔
Ayah 16:112

وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْیَةً كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَئِنَّةً یَّاْتِیْهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَ الْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 16:112 in the Quran reader

اور خدا ایک بستی کی مثال بیان فرماتا ہے کہ (ہر طرح) امن چین سے بستی تھی ہر طرف سے رزق بافراغت چلا آتا تھا مگر ان لوگوں نے خدا کی نعمتوں کی ناشکری کی تو خدا نے ان کے اعمال کے سبب ان کو بھوک اور خوف کا لباس پہنا کر (ناشکری کا) مزہ چکھا دیا۔

(16:112) مثلا۔ تشبیہی قصّہ۔ تمثیل۔ نصب بوجہ ضرب کے مفعول ہونے کے ہے۔ قریۃ۔ اصل میں ضرب اللہ مثلا مثل قریۃ تھا۔ مثل قریۃ مضاف مضاف الیہ ہے۔ مضاف کو حذف کیا گیا اور مضاف الیہ کو قائم رکھا گیا۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مثلا کا بدل ہے۔ مبدل منہ کی رعائت سے قریۃ منصوب ہوا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ضرب بمعنی جعل ہے اور قریۃ اس کا مفعول اول ہے اور مثلاً مفعول ثانی ہے۔ قریۃ کو بعد میں اس لئے لایا گیا ہے کہ اس کے اور اس کی صفات مذکورہ (کانت امنۃ۔۔ ) کے درمیان فصل واقع نہ ہو۔ امنۃ۔ پرامن۔ دل جمعی والی۔ چین والی۔ اور مطمئنۃ اسم فاعل واحد مؤنث ۔ مگن۔ چین والی۔ ہر دو بوجہ کان کی خبر ہونے کے منصوب ہیں۔ یاتیھا۔ اس تک آتا تھا۔ اس تک پہنچتا تھا۔ مضارع بمعنی ماضی۔ صیغہ واحد مذکر غائب ھا ضمیر واحد مؤنث غائب قریۃ کی طرف راجع ہے۔ رغدا۔ بافراغت۔ وسیع۔ بکثرت ۔ خوب ۔ اچھی طرح۔ یہ اصل میں رغد یرغد (سمع) سے مصدر ہے۔ بمعنی بہت نعمت ہونے کے اور صفت مشبہّ ہو کر مستعمل ہے نیز راغد کی جمع بھی ہے جیسے خادم کی جمع خدم ہے۔ فکفرت۔ پس اس نے انکار کیا۔ اس نے ناشکری کی۔ یعنی اس کے باشندوں نے۔ کفر وکفران۔ مصدر۔ انعم۔ نعمۃ کی جمع۔ نعمتیں۔ احسانات۔ فاذاقھا۔ اس نے ان کو چکھایا۔ (ھا ضمیر واحد مؤنث غائب بستی کی طرف راجع ہے۔ مراد اس سے بستی کے باشندے ہیں) ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ اذاقۃ واذاقۃ مصدر۔ چکھانا۔ ذوق۔ مصدر ( اجوف وادی) مادّہ۔ ذاق یذوق (نصر) چکھنا۔ لباس الجوع والخوف۔ بھوک اور خوف کا لباس۔ یعنی ایسی بھوک اور خوف کہ لباس کی طرح ان کا احاطہ کئے ہوئے تھی۔ اب اس آیت کا ترجمہ ہوگا : اور اللہ تعالیٰ ایک بستی کی مثال بیان کرتا ہے جو امن و امان اور اطمینان ودلجمعی کی زندگی بسر کر رہی تھی۔ اس کو (یعنی اس میں رہنے والوں کو) رزق بافراط ہر طرف سے پہنچ رہا تھا مگر اس (کے بسنے والوں) نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو بھوک اور خوف کے ایسے عذاب کا مزہ چکھایا جو کہ انہیں ہر طرف سے گھیرے ہوئے تھا۔ (اور یہ) بوجہ ان کارستانیوں کے تھا جو وہ کر رہے تھے۔
Ayahs 16:113–114

وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْهُمْ فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 16:113 in the Quran reader

اور ان کے پاس انہی میں سے ایک پیغمبر آیا تو انہوں نے اس کو جھٹلا سو ان کو عذاب نے آپکڑا اور وہ ظالم تھے۔

فَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَیِّبًا١۪ وَّ اشْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 16:114 in the Quran reader

پس خدا نے جو تم کو حلال طیب رزق دیا ہے اسے کھاؤ اور اللہ کی نعمتوں کا شکر کرو اگر اسی کی عبادت کرتے ہو۔

(16:113) وہم ظلمون حال ہے فاخذہم العذاب سے۔ یعنی پس ان کو عذاب نے آلیا درآں حالیکہ وہ (اپنے ہی حق میں) ظلم کر رہے تھے۔
Ayah 16:115

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 16:115 in the Quran reader

اس نے تم پر مردار اور لہو اور سور کا گوشت حرام کردیا ہے اور جس چیز پر خدا کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے (اس کو بھی) ہاں اگر کوئی ناچار ہوجائے تو بشرطیکہ گناہ کرنے والا نہ ہو اور نہ حد سے نکلنے والا تو خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

(16:115) ما اھل لغیر اللہ بہ۔ الہلال سے ہے الہلالمہینے کی پہلی اور دوسری تاریخ کے چاند کو کہتے ہیں۔ پھر اس کے بعد اسے قمر کہا جاتا ہے اس کی جمع اھلۃ ہے الاھلال کے معنی چاند نظر آنے پر آواز کرنے کے ہیں۔ پھر یہ لفظ عام آواز بلند کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور اسی سے محاورہ ہے اہل الصبی ولادت کے وقت بچے نے رونے میں آواز بلند کی۔ اور حاجیوں کے بآواز بلند لبیک اللہم لبیک کہنے کو بھی اھلال کہا جاتا ہے۔ اسی طرح پکارنا۔ آواز لگانا۔ بلند آواز سے ذکر کرنا۔ نامزد کرنا۔ کسی چیز کو شہرت دینا سب کے معنی میں مستعمل ہے۔ اھل۔ اھلال سے ماضی مجہول کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے اس جملہ میں ما اسم موصول ہے اور بہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع ہے۔ ما اھل بہ جس کا نام لے کر آواز بلند کی گئی۔ جس کا نام پکارا گیا۔ یعنی ذبح کرتے وقت جس کا نام لیا گیا۔ اھل بمعنی ذبح کی سند کے لئے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا یہ قول پیش کیا گیا ہے۔ اذا سمعتم الیھود والنصاری یھلون لغیر اللہ فلا تاکلوھا واذا لم تسمعوہم فکلوا فان اللہ قد احل ذبائہم وھو یعلم ما یقولون۔ (جب تم سنو کہ یہود و نصاریٰ غیر خدا کا نام لے کر ذبح کرتے ہیں تو ان کا ذبیحہ نہ کھائو اور اگر نہ سنو تو کھالو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ذبیحہ کو حلال کیا ہے اور وہ جانتا ہے جو کچھ وہ کہتے ہیں۔ تو گویا ما اھل بہ کا ترجمہ ہوا۔ ذبح کے وقت جس کا نام پکارا گیا۔ اور ما اھل لغیر اللہ بہ جسے نام لے کر غیر اللہ کے لئے ذبح کیا گیا۔ مثلاً میں ذبح کرتا ہوں لات کے لئے (کہ ذبح لات کے نام پر ہوا ہے خدا کی ذات کے لئے نہیں) ذکر عند ذبحہ اسم غیرہ تعالیٰ (محمد مخلوف) اضطر۔ اضطرار (افتعال) سے ماضی مجہول واحد مذکر غائب۔ وہ بےاختیار کیا گیا وہ لاچار کیا گیا الضر (ض رر) کے معنی بدحالی کے ہیں خواہ اس کا تعلق انسان کے نفس سے ہو جیسے علم وفضل وعفت کی کمی۔ خواہ بدن سے ہو جیسے کسی عضو کا ناقص ہونا۔ یا قلت مال کے سبب ظاہری حالت کا برا ہونا۔ اضطرار کے معنی کسی کو نقصان دہ کام پر مجبور کرنے کے ہیں اور عرف میں اس کا استعمال ایسے کام پر مجبور کرنے کے ہیں جسے وہ ناپسند کرتا ہو۔ اس کی دو صورتیں ہیں : (1) ایک یہ کہ مجبوری کسی خارجی سبب کی بناء پر ہو۔ مثلا مارپٹائی کی جائے یا دھمکی دی جائے حتی کہ وہ کام کرنے پر رضا مند ہوجائے یا زبردستی پکڑ کر اس سے کوئی کام کروایا جائے۔ مثلاً ثم اضطرہ الی عذاب النار۔ (2:126) پھر میں اس کو عذاب دوزخ کے بھگتنے کے لئے لاچار کر دوں گا۔ (2) دوسری صورت یہ ہے کہ وہ مجبوری کسی داخلی سبب کی بناء پر ہو۔ اس کی بھی دو قسمیں ہیں (الف) کسی ایسے جذبے کے تحت وہ کام کر جسے نہ کرنے سے اسے ہلاک ہونے کا خوف ہو۔ مثلاً شراب یا قمار بازی کی خواہش سے مغلوب ہو کر شراب نوشی یا قمار بازی کا ارتکاب کر بیٹھے۔ (ب) کسی ایسی مجبوری کے تحت اس کا ارتکاب کرے کہ جس کے نہ کرنے سے اسے جان کا خطرہ ہو مثلاً بھوک سے مجبور ہو کر مردار کا گوشت کھانا۔ فمن اضطر فی مخمصۃ (5:3) ہاں جو شخص بھوک میں ناچار ہوجائے۔ آیۃ ہذا میں بھی یہی صورت ہے (نیز ملاحظہ ہو 6:145) باغ وعاد اصل میں باغی وعادو تھا۔ باغی۔ ضمہ ی پر دشوار تھا۔ جس کی وجہ سے گرگیا۔ یساکن ہوا۔ اب ی ساکن اور تنوین دو ساکن اکٹھے ہوئے ی اجتماع ساکنین کی وجہ سے گرگئی باغ ہوا۔ عادو کی واو اسم فاعل میں کلمہ کے آخر میں واقع ہونے کی وجہ سے اور ما قبل مکسور ہونے کی وجہ سے یہو گئی اور پھر عمل متذکرہ بالا سے یگر گئی۔ غیر باغ ولا عاد جو لذت کا جو یا نہ ہو۔ اور نہ ہی حد سے تجاوز کرنے والا ہو۔ فمن اضطر غیر باغ ولا عاد کے بعد فلا اثم علیہ محذوف ہے یعنی بحالتِ لاچاری گناہ نہیں۔ (نیز ملاحظہ ہو 2:173) ۔
Ayah 16:116

وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هٰذَا حَلٰلٌ وَّ هٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ Open ayah 16:116 in the Quran reader

اور یونہی جھوٹ جو تمہاری زبان پر آجائے مت کہہ دیا کرو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ خدا پر جھوٹ بہتان باندھنے لگو۔ جو لوگ خدا پر جھوٹ بہتان باندھتے ہیں ان کا بھال نہیں ہوگا۔

(16:116) ولا تقولوا لما تصف السنتکم الکذب ھذا حلال وھذا حرام اس میں لام تعلیل کے لئے ہے ما مصدریہ ہے الکذب تصف کا مفعول۔ اور ھذا حلل وھذا حرام مقول القول یعنی ای لا تقولوا ھذا حلل وھذا حرام لاجل وصف السنتکم الکذب (روح المعانی) لتفتروا۔ اس میں لام عاقبت کا ہے یعنی نتیجۃً تم (اللہ تعالیٰ پر) تہمت اور بہتان کا ارتکاب کرو گے۔ تفتروا۔ تم افتراء کرو۔ تم جھوٹ باندھ لو۔ افتراء (افتعال) سے مضارع جمع مذکر حاضر۔ نون اعرابی لام کی وجہ سے گرگیا ہے ۔ لا یفلحون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب افلاح (افعال) سے وہ کامیاب نہیں ہوں گے وہ فلاح نہیں پائیں گے۔
Ayah 16:117

مَتَاعٌ قَلِیْلٌ١۪ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 16:117 in the Quran reader

(جھوٹ کا) فائدہ تو تھوڑا سا ہے مگر (اسکے بدلے) ان کو عذاب الیم بہت ہوگا۔

(16:117) متاع قلیل۔ ذک (محذوف) مبتدائ۔ متاع خبر۔ قلیل صفت خبر۔ یہ قلیل اور چند روزہ منفعت ہے۔ ای منفعۃ قلیلۃ منقطعۃ عن قریب۔ یعنی قلیل عیش ومنفعت جو کہ عنقریب ختم ہوجانے والی ہے۔ مطلب یہ کہ اس افتراء سے ان کو کوئی طویل المدت نفع کثیر حاصل نہیں ہوگا بلکہ قلیل المدت وقلیل المقدار فائدہ ہو تو ہو۔
Ayah 16:118

وَ عَلَى الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَیْكَ مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 16:118 in the Quran reader

اور جو چیزیں ہم تم کو پہلے بیان کرچکے ہیں وہ ہم نے یہودیوں پر حرام کردی تھیں۔ اور ہم نے ان پر کچھ ظلم نہیں کیا بلکہ وہی اپنے آپ پر ظلم کیا کرتے تھے۔

(16:118) وعلی الذین ھادوا حرمنا ما قصصنا علیک من قبل کا اشارہ سورة الانعام کی آیت 146 کی طرف ہے۔ جہاں ارشاد باری تعالیٰ ہے :۔ وعلی الذین ھادوا حرمنا کل ذی ظفر ومن البقر والغنم حرمنا علیہم شحومھما الا ما حملت ظہورھما او الحوایا او ما اختلط بعظم ذلک جزینہم ببغیہم انا لصدقون۔ (6:146) اور جو لوگ کہ یہودی ہوئے ان پر ہم نے سب کھر والے جانور حرام کر دئیے تھے اور گائے اور بکری میں سے ہم نے ان پر ان دونوں کی چربیاں حرام کی تھی بجز اس (چربی) کے جو ان کی پشتوں پر یا ان کی انتڑیوں میں لگی ہوئی ہو یا جو ہڈیوں سے ملی ہوئی ہو۔ ہم نے یہ سزا ان کو ان کی شرارت پر دی تھی اور ہم ہی یقینا سچے ہیں۔ من قبل یا حرمنا سے متعلق ہے۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا۔ اس سے قبل ہم نے یہودیوں پر وہ چیزیں حرام کی تھیں جن کا ذکر ہم نے تجھ سے کیا ہے۔ یا یہ قصصنا سے متعلق ہے اور ترجمہ یوں ہے ہم نے یہودیوں پر وہ چیزیں حرام قرار دے دی تھیں جن کا ذکر ہم تجھ سے قبل ازیں کرچکے ہیں۔
Ayah 16:119

ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِیْنَ عَمِلُوا السُّوْٓءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْۤا١ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 16:119 in the Quran reader

پھر جن لوگوں نے نادانی سے برا کام کیا پھر اس کے بعد توبہ اور نیکو کار ہوگئے تو تمہارا پروردگار (ان کو) توبہ کرنے اور نیکوکار ہوجانے کے بعد بخشنے والا اور (ان پر) رحمت کرنے والا ہے۔

(16:119) من بعدھا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع توبہ ہے (جیسا کہ ثم تابوا من بعد ذلک سے ظاہر ہے) یا اس کا مرجع الاصلاح ہے جو کہ توبہ میں مندرج ہے اور توبہ کی تکمیل کے لئے شرط ہے۔
Ayah 16:120

اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلّٰهِ حَنِیْفًا١ؕ وَ لَمْ یَكُ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 16:120 in the Quran reader

بیشک ابراہیم (لوگوں کے) امام (اور) خدا کے فرمانبرادار تھے۔ جو ایک طرف کے ہو رہے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔

(16:120) امۃ۔ یعنی اللہ کی عبادت و فرمانبرداری اور طاعات وحسنات میں پوری ایک جماعت کے برابر اور قائم مقام۔ دوسرے معنی میں امام یا مقتدا کے ہیں جو امور خیر میں بطور نمونہ کام دے۔ علمبردار صداقت وحق۔ نیز جو دنیا بھر سے الگ تھلگ ہو۔ اس قوم کو بھی امۃ کہتے ہیں جس کی طرف کوئی رسول بھیجا گیا ہو۔ جماعت ۔ طریقہ۔ دین اور مدت کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ ہر وہ جماعت کہ جس میں کسی قسم کا کوئی رابطۂ اشتراک موجود ہے اسے بھی امت کہا جاتا ہے خواہ یہ اتحادواشتراک مذہبی وحدت کی بنا پر ہو یا جغرافیائی اور عصری وحدت کی وجہ سے ہو۔ قانتا۔ قنوت سے اسم فاعل۔ حالت نصب۔ فرماں بردار۔ اطاعت گذار۔؎ القنوت (باب نصر) کے معنی خضوع کے ساتھ اطاعت کا التزام کرنے کے ہیں جیسے کہ وقوموا للہ قنتین (2:238) اور خدا کے حضور ادب سے کھڑے رہا کرو۔ خشوع اور خضوع اور خاموشی کے ساتھ۔ حنیفا۔ یکسوئی سے حق کی طرف مائل ہونے والا۔ سب سے بےتعلق ہو کر ایک خدا کا ہو رہنے والا۔ حنیف کی جمع حنفائ۔ ہر وہ شخص جو بیت اللہ کا حج کرتا اور ختنہ کراتا۔ عرب کے لوگ اسے حنیف کہہ کر پکارتے تھے۔ یعنی یہ دین ابراہیم کا پابند ہے۔ امۃ۔ قانتا۔ حنیفا۔ شاکرا بوجہ عمل کان منصوب ہیں۔