16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsانوار البیان

Ayah 16:41

وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا لَنُبَوِّئَنَّهُمْ فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً١ؕ وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 16:41 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ظلم سہنے کے بعد خدا کے لئے وطن چھوڑا ہم ان کو دنیا میں اچھا ٹھکانہ دیں گے۔ اور آخرت کا اجر تو بہت بڑا ہے۔ کاش وہ (اسے) جانتے۔

(16:41) لنبوئنہم۔ مضارع بلام تاکید ونون ثقیلہ جمع متکلم۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب یوء یبوء تبوئۃ (باب تفعیل) سے ہم ان کو ضرور جگہ دیں گے۔ ہم ان کو ضرور ٹھہرائیں گے۔ ہم ان کو ضرور اتاریں گے۔ اور جگہ آیا ہے : ولقد بوأنا بنی اسرائیل مبوأ صدق۔ (10:93) اور ہم نے بنی اسرائیل کو رہنے کے لئے عمدہ جگہ دی۔ لو کانوا یعلمون۔ میں ضمیر فاعل جمع مذکر غائب کافروں کی طرف راجع ہے۔
Ayah 16:42

الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ Open ayah 16:42 in the Quran reader

یعنی وہ لوگ جو صبر کرتے ہیں اور اپنے پروردگار پر بھروسا کرتے ہیں۔

(16:42) الذین صبروا۔ علی ربہم یتوکلون دونوں الذین ھاجروا فی اللہ کی مدح ہیں۔
Ayah 16:43

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ فَسْئَلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 16:43 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے مردوں ہی کو پیغمبر بنا کر بھیجا تھا جن کی طرف ہم وحی بھیجا کرتے تھے۔ اگر لوگ نہیں جانتے تو اہل کتاب سے پوچھ لو۔

(15:43) اہل الذکر۔ ای اھل الکتاب۔ قبلک میں ضمیر واحد مذکر کا مرجع رسول کریم ﷺ ہیں۔
Ayah 16:44

بِالْبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ١ؕ وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الذِّكْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْهِمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 16:44 in the Quran reader

(اور ان پیغمبروں کو) دلیلیں اور کتابیں دے کر (بھیجا تھا) اور ہم نے تم پر بھی یہ کتاب نازل کی ہے تاکہ جو (ارشادات) لوگوں پر نازل ہوئے ہیں وہ ان پر ظاہر کردو تاکہ وہ غور کریں۔

(16:44) بینت۔ بمعنی معجزات و شواہد صدق پیغمبر ۔ واضح دلائل۔ الزبر۔ الکتاب۔ کتابیں۔ اس کا واحد زبور ہے۔ بالبیت والزبر۔ اس کے متعلقات کے متعلق متعدد اقوال ہیں۔ لیکن آیت کے سیاق وسباق سے اس کا تعلق ارسلنا ہی سے ہے کہ جو انبیاء بھیجے گئے ان کی تائیدو تصدیق روشن دلائل اور معجزات سے بھی کی گئی۔ اور احکام شرعیہ جن کی انہوں نے تبلغ کی۔ وہ اس کتاب الہٰیہ میں بیان کئے گئے جو ان کو دی گئی۔ ای ارسلنا ہم بالبینت والزبر۔ الذکر۔ یہاں اس سے مراد قرآن مجید ہے۔ نصیحت نامہ۔ لتبین۔ میں لام تعلیل کا ہے۔ تبین۔ مضارع واحد مذکر حاضر۔ تاکہ تو بیان کرے (کھول کھول کر) یتفکرون۔ مضارع جمع مذکر غائب (تاکہ ) وہ غوروخوض کریں۔ اور حقائق کو سمجھیں۔
Ayah 16:45

اَفَاَمِنَ الَّذِیْنَ مَكَرُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّخْسِفَ اللّٰهُ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ یَاْتِیَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 16:45 in the Quran reader

کیا جو لوگ بری بری چالیں چلتے ہیں اس بات سے بےخوف ہیں کہ خدا ان کو زمین میں دھنسا دے یا (ایسی طرف سے) ان پر عذاب آجائے جہاں سے ان کو خبر ہی نہ ہو ؟

(16:45) انا من۔ ہمزہ استفہامیہ۔ امن یامن۔ (سمع) امن۔ مصدر سے ماضی واحد مذکر غائب (بمعنی جمع) کیا وہ محفوظ ہیں۔ کیا وہ بےفکر اور نڈر ہوگئے ہیں۔ مکروا السیئات۔ مکروا ماضی جمع مذکر غائب۔ السیئات یا تو مصدر محذوف کی صفت ہے ۔ ای مکروا المکرات السیئات جو مذموم منصوبے باندھتے رہتے ہیں۔ یا مکروا کا مفعول بہٖ ہے۔ ان یخسف۔ یخسف۔ مضارع منصوب بوجہ عمل ان۔ واحد مذکر غائب۔ خسف مصدر (باب ضرب) کہ دھنسا دے۔ غرق کر دے۔ ان یخسف بہم الارض ان کو زمین میں دھنسا دے۔ حیث۔ مبنی بر ضمہ ہے۔ ظرف زمان ومکان ۔
Ayahs 16:46–47

اَوْ یَاْخُذَهُمْ فِیْ تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُمْ بِمُعْجِزِیْنَۙ Open ayah 16:46 in the Quran reader

یا ان کو چلتے پھرتے پکڑ لے ؟ وہ (خدا کو) عاجز نہیں کرسکتے

اَوْ یَاْخُذَهُمْ عَلٰى تَخَوُّفٍ١ؕ فَاِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 16:47 in the Quran reader

یا جب ان کو عذاب کا ڈر پیدا ہوگیا ہو تو ان کو پکڑلے ؟ بیشک تمہارا پروردگار بہت شفقت کرنے والا اور مہربان ہے۔

(16:46) تقلبہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کی آمدوشد۔ ان کا چلنا پھرنا۔ ان کے سفر۔ جیسا کہ قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے۔ فلا یغررک تقلبہم فی البلاد۔ (40:4) سو ان لوگوں کا شہروں میں چلنا پھرنا یعنی سفر کرنا تجھے دھوکہ میں نہ ڈال دے۔ تقلب (تفعل) سے۔ (ان) یأخذہم فی تقلبہم۔ وہ ان کو چلتے پھرتے میں پکڑ لے۔ معجزین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ عاجز بنا دینے والے ۔ ناکام کردینے والے۔ تخوف۔ (تفعل) ڈرانا۔ خوف دلانا۔ خوف ظاہر کرنا۔ اس کا تعدیہ بذریعہ علی آیا ہے۔ باب تفعل کی خاصیتوں میں سے ایک خاصیت تدریج بھی ہے یعنی کسی چیز کو درجہ بدرجہ کرنا جیسے تجرع زید۔ زید نے گھونٹ گھونٹ کر پیا۔ یہاں بھی انہی معنوں میں آیا ہے یعنی اللہ تعالیٰ بار بار ظالموں کو انتباہ کرتا ہے۔ جو زلزلوں کی صورت میں یا آندھیوں کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اگر پھر بھی وہ سبق حاصل نہ کریں اور باز نہ آئیں تو تدریجاً وہ ہلاک ہوجاتے ہیں۔ صاحب ضیاء القرآن نے قرطبی کے حوالہ سے تحریر کیا ہے کہ :۔ ایک روز حضرت فاروق اعظم ؓ منبر پر تشریف فرما تھے۔ آپ نے پوچھا : اے لوگو ! اویاخذہم علی تخوف۔ کا کیا مطلب ہے۔ سب خاموش ہوگئے ۔ بنی ہذیل کا ایک بوڑھا اٹھا اور اس نے عرض کی اے امیر المؤمنین یہ ہماری لغت ہے یہاں التخوف کا معنی التنقّص ہے، یعنی آہستہ آہستہ کسی چیز کا گھٹتے چلے جانا (اور اس نے اس کی تائید میں ابوبکر ہذلی کا یہ شعر پڑھا :۔ تخوف الرجل منہا تامکا قردا کما تخوف عود النبعۃ السفن ترجمہ :۔ کچاوے نے میری اونٹنی کی موٹی تازی اونچی کوہان کو گھسا کر کم کردیا ہے جس طرح نبعہ درخت کی لکڑی کو گھسانے والا آلہ گھسا کر چھوٹا کردیتا ہے) ۔ علی تخوف یہ من حیث لا یشعرون کا دوسرا رخ ہے۔ فان ربکم لرء وف رحیم۔ یہ اخذ علی تخوف کی تعلیل ہے۔ یعنی وہ انتباہ کر کے بار بار مصیبتیں لا کر ظالموں کو توبہ ورجوع کا موقعہ میسر کرتا ہے۔ کیونکہ وہ رؤف ورحیم ہے۔
Ayahs 16:48–49

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ یَّتَفَیَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ الشَّمَآئِلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَ هُمْ دٰخِرُوْنَ Open ayah 16:48 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے خدا کی مخلوقات میں سے ایسی چیزیں نہیں دیکھیں جن کے سائے دائیں سے (بائیں کو) اور بائیں سے (دائیں کو) لوٹتے رہتے ہیں (یعنی) خدا کے آگے عاجز ہو کر سجدہ میں پڑے رہتے ہیں۔

وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ دَآبَّةٍ وَّ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 16:49 in the Quran reader

اور تمام جاندار جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہیں سب خدا کے آگے سجدہ کرتے ہیں اور فرشتے بھی۔ اور وہ ذرا غرور نہیں کرتے۔

(16:48) یتفیئوا۔ مضارع واحد مذکر غائب تفیء (تفعل) مصدر۔ فیء مادہ جھکے جاتے ہیں۔ لوٹتے ہیں۔ الفیء والفیئۃ معنی اچھی حالت کی طرف لوٹ کر آنا کے ہیں۔ مثلاً فان فاء وا۔ (2:226) اگر وہ (اس عرصہ میں قسم سے) رجوع کرلیں۔ اسی سے فاء الظل ہے جس کے معنی سایہ کے (زوال کے بعد) لوٹ آنے کے ہیں۔ اور فیء اس سایہ کو کہا جاتا ہے جو (زوال کے بعد) لوٹ کر آتا ہے۔ سجدا۔ الظلال کا حال ہے۔ سجدہ کرتے ہوئے۔ داخرون۔ دخر۔ سے اسم فاعل جمع مذکر۔ ذلیل و خوار ہونے والے ۔ عاجزی کرنے والے۔ الدخور۔ ای الصغار والذل۔ یعنی عاجزی ودرماندگی۔ وہم داخرون۔ میں وائو حالیہ ہے۔ یعنی اس حال میں کہ وہ اظہار عجز کر رہے ہیں۔ یعنی سائے اپنے خالق کے حکم کی اطاعت میں بےچون وچرا ادلتے بدلتے رہتے ہیں۔ کہ تخلیق کائنات میں یہی سنت اللہ ہے۔
Ayah 16:50

یَخَافُوْنَ رَبَّهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ۠۩ Open ayah 16:50 in the Quran reader

اور پنے پروردگار سے جو ان کے اوپر ہے ڈرتے ہیں۔ اور جو ان کو ارشاد ہوتا ہے اس پر عمل کرتے ہیں۔

(16:50) من فوقہم۔ ان کے اوپر سے۔ خداوند تعالیٰ کی بالادستی اور اس کے علو مرتبت اور فضیلت کے اظہار کے لئے ہے۔ جیسے کہ اور جگہ آیا ہے وھو القاہر فوق عبادہ (6:18) اور وہ اپنے بندوں کے اوپر غالب ہے۔
Ayah 16:51

وَ قَالَ اللّٰهُ لَا تَتَّخِذُوْۤا اِلٰهَیْنِ اثْنَیْنِ١ۚ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَاِیَّایَ فَارْهَبُوْنِ Open ayah 16:51 in the Quran reader

اور خدا نے فرمایا ہے کہ دو دو معبود نہ بناؤ۔ معبود وہی ایک ہے تو مجھی سے ڈرتے رہو

(16:51) لا تتخذوا الھین اثنین۔ دو معبود مت اختیار کرو یہ تعدد کی نفی ہے دو کثرت و تعداد کا ادنیٰ درجہ ہے جب دو کی نفی ہوئی تو اس سے زیادہ کی نفی خود بخود ہوگئی ۔ فارھبون۔ امر۔ جمع مذکر حاضر۔ ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم محذوف ۔ تم مجھ سے ڈرو۔ (باب سمع) رھبۃ سے۔ بےتابی اور بےچینی کے ساتھ ڈرنا۔ انما ھو الہ واحد فایای فارھبون۔ صیغہ غائب کے معاً بعد صیغہ متکلم کی طرف انتقال صفت ِ التفات کہلاتا ہے۔ اور عربی اسلوب بلاغت میں یہ ایک اعلیٰ صفت ہے اس کی کئی مثالیں ہیں۔ مثلاً اسی سورت کی آیت نمبر 75 ملاحظہ ہو۔ غائب سے متکلم کی طرف التفات اپنی کبریائی اور عنایات کی طرف توجہ دلانا۔ یا ترہیب میں شدت پیدا کرنا مقصود ہوتا ہے۔
Ayah 16:52

وَ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَهُ الدِّیْنُ وَاصِبًا١ؕ اَفَغَیْرَ اللّٰهِ تَتَّقُوْنَ Open ayah 16:52 in the Quran reader

اور جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور اسی کی عبادت لازم ہے۔ تو تم خدا کے سوا اوروں سے کیوں ڈرتے ہو ؟

(16:52) واصبا۔ اسم فاعل واحد مذکر منصوب۔ دوامی ۔ ہمیشہ۔ جاودانی۔ لازوال۔ قائم رہنے والا۔ الدین ضمیر کا حال ہے۔ یہاں الدین سے مراد اطاعت ہے۔ ولہ الدین واصبا ط۔ اطاعت ہمیشہ اسی کو سزاوار ہے۔ واصبا وصوب سے مشتق ہے۔ (باب ضرب) اور اگر بذریعہ علی مصدر سمع ہو تو بیمار ہونا کے معنی ہوتے ہیں۔ لیکن یہاں پہلے معنی ہی میں مستعمل ہے۔ افغیر اللہ تتقون (تو کیا اللہ کے سوا غیروں سے ڈرتے ہو) میں الف استفہامیہ ہے اور تعجب اور توبیخ کے لئے ہے۔ معنی یہ ہیں کہ : کیا اس ذات حق سبحانہ وتعالیٰ کی وحدانیت کے علم کے باوجود اور اس علم کے باوجود کہ وہی حاجت روا ہے تم دوسرے معبودانِ باطل سے ڈرتے ہو ؟
Ayah 16:53

وَ مَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ثُمَّ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَاِلَیْهِ تَجْئَرُوْنَۚ Open ayah 16:53 in the Quran reader

اور جو نعمتیں تم کو میسر ہیں سب خدا کی طرف سے ہیں۔ پھر جب تم کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اسی کے آگے چلاتے ہو۔

(16:53) وما بکم من نعمۃ اور جو کچھ تمہارے پاس ہے نعمتوں میں سے۔ یعنی تمہارے پاس جتنی بھی نعمتیں ہیں۔ تجئرون۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ جأر یجئر (فتح) جؤار۔ الجؤار کے اصلی معنی جنگلی جانوروں کے چلاّنے کے ہیں۔ بلند آواز سے مدد کے لئے پکارنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ جأر (ج ء ر) مادہ۔ تجئرون تم گڑ گڑا کر چیخ چیخ کر مدد کے لئے اس کو پکارتے ہو۔ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے لا تجئروا الیوم انکم منا لا تنصرون (23:45) آج چلا چلا کر مدد کے لئے مت پکارو۔ ہماری طرف سے تمہاری مطلق مدد نہ ہوگی۔
Ayah 16:54

ثُمَّ اِذَا كَشَفَ الضُّرَّ عَنْكُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْكُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 16:54 in the Quran reader

پھر جب وہ تم سے تکلیف کو دور کردیتا ہے تو کچھ لوگ تم میں سے خدا کے ساتھ شریک کرنے لگتے ہیں

(16:54) کشف۔ ماضی (بمعنی حال) واحد مذکر غائب (باب ضرب) وہ دور کردیتا ہے وہ ہٹا دیتا ہے، زائل کردیتا ہے۔ الکشف مصدر جس کے معنی ہیں چہرہ وغیرہ سے پردہ اٹھانا مجازاً غم و اندوہ یا تکلیف کے دور کرنے پر بھی بولا جاتا ہے۔ اذا۔۔ اذا کشف میں شرطیہ ہے بمعنی جب اور اذا فریق میں اذا فجائیہ ہے۔ یعنی اچانک۔ یکایک۔ فورًا۔ یک لخت۔ تو۔
Ayah 16:55

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ؕ فَتَمَتَّعُوْا١۫ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:55 in the Quran reader

تاکہ جو (نعمتیں) ہم نے ان کو عطا فرمائی ہیں ان کی ناشکری کریں تو (مشرکو) دنیا میں فائدے اٹھالو عنقریب تم کو (اسکا انجام) معلوم ہوجائیگا۔

(16:55) لیکفروا۔ میں لام عاقبت کا ہے یعنی شرک سے ان کی غرض اللہ کی نعمت سے انکار تھا۔ کانہم جعلوا غرضہم فی الشرک کفران النعمۃ۔ بما اتینہم۔ جو ہم نے ان کو عطا کیا تھا۔ یعنی نعمت کشف عن الضر تکلیف سے نجات دینے کی نعمت۔ فتمتعوا۔ پس تم فائدہ اٹھا لو۔ تم مزے اڑالو۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تمتح مصدر ۔ آیات 53 ۔ 54 ۔ 55 ۔ میں التفاتِ ضمائر ہے۔ وما بکم سے لے کر اذا کشف الضر تک مخاطبین کے لئے ضمیر جمع مذکر حاضر لائی گئی ہے اس میں اپنی عنایت پروری اور کرم فرمائی کا ذکر مخاطبین سے کیا جارہا ہے لیکن پھر ان کی ناشکری اور کفران نعمت کے سبب اپنی ناراضگی کا اظہار کرنے کے لئے مخاطبین کو اپنی حاضری سے دور کر کے ضمیر جمع مذکر غائب لائی گئی ہے اور یشرکون۔ لیکفروا۔ اتینہم۔ استعمال ہوئے ہیں۔ پھر تہدید اور زجر میں شدت پیدا کرنے کے لئے اور اپنی ناراضگی کو ان کے ذہن نشین کرانے کے لئے ان کو پھر اپنے سامنے لایا گیا ہے اور جمع مذکر حاضر کے صیغے استعمال کئے گئے ہیں جیسے فتمتعوا۔ فسوف تعلمون اس طرح محض التفات ضمائر سے مختلف احوال کا اظہار فرمایا گیا ہے۔
Ayah 16:56

وَ یَجْعَلُوْنَ لِمَا لَا یَعْلَمُوْنَ نَصِیْبًا مِّمَّا رَزَقْنٰهُمْ١ؕ تَاللّٰهِ لَتُسْئَلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَفْتَرُوْنَ Open ayah 16:56 in the Quran reader

اور ہمارے دیئے ہوئے مال میں سے ایسی چیزوں کا حصہ مقرر کرتے ہیں جن کو جانتے ہی نہیں۔ (کفرو ! ) خدا کی قسم کہ جو تم افترا کرتے ہو اس کی تم سے ضرور پرسش ہوگی۔

(16:56) ویجعلون اس کا عطف یشرکون پر ہے۔ بما لا یعلمون میں ما موصولہ ہے جو اکثر غیر ذوی العقول کے لئے مستعمل ہوتا ہے۔ مراد اس سے وہ اوثان۔ بُت۔ معبودانِ باطل ہیں جن کو مشرکین نے الوہیّت کا درجہ و مرتبہ دے رکھا تھا اور ان کا اعتقاد تھا کہ یہ ان کے نفع نقصان پر قدرت رکھتے ہیں حالانکہ یہ حقیقت نہ تھی وہ تو محض خود ساختہ۔ بےجان۔ بےشعور چیزیں تھیں۔ یا ضمیر فاعل کا مرجع مشرکین ہیں جو نہیں جانتے تھے کہ یہ بت محض بےجان چیزیں ہیں اور کچھ نہیں کرسکتے۔ ویجعلون لما لا یعلمون نصیبا مما رزقنہم۔ اور یہ لوگ اس رزق میں سے جو ہم نے انہیں دیا ہے ایک حصہ ان چیزوں (معبودان باطل ) کے لئے مخصوص کرتے ہیں۔ جو کچھ بھی نہیں جانتیں۔ ان ہی میں اور جگہ ارشاد ہے وجعلوا للہ مما ذرأ من الحرث والانعام نصیبا فقالوا ھذا للہ بزعمہم وھذا الشرکائنا۔ الخ (6:136) اور ان لوگوں نے کھیتی اور مویشیوں میں سے جو اللہ ہی نے پیدا کئے ہیں کچھ حصہ اللہ کا مقرر کر رکھا ہے اور اپنے خیال کے مطابق کہتے ہیں کہ یہ حصہ اللہ کا ہے اور یہ حصہ ہمارے دیوتائوں کا۔۔ تاللہ۔ ت حرف قسم ہے۔ خدا کی قسم۔ حرف قسم کا ت کے ساتھ لانا لفظ اللہ کے ساتھ ہی مخصوص ہے۔ لتسئلن۔ مضارع مجہول بلام تاکید ونون ثقیلہ۔ جمع مذکر حاضر۔ تم سے ضرور باز پرس ہوگی۔ تم سے ضرورپوچھا جائے گا۔ تم سے ضرور سوال کیا جائے گا (یعنی آخرت کے دن) ۔ کنتم تفترون۔ ماضی استمراری۔ تم بہتان باندھا کرتے تھے۔ تم افتراء پر دازی کیا کرتے تھے۔ اس آیت میں بھی التفاتِ ضمائر ہے۔ شدت توبیخ وتہدید کے اظہار کے لئے جمع مذکر غائب سے جمع مذکر حاضر کی طرف التفات کیا گیا ہے۔
Ayah 16:57

وَ یَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ الْبَنٰتِ سُبْحٰنَهٗ١ۙ وَ لَهُمْ مَّا یَشْتَهُوْنَ Open ayah 16:57 in the Quran reader

اور یہ لوگ خدا کیلئے تو بیٹیاں تجویز کرتے ہیں (اور) وہ ان سے پاک ہے اور پنے لئے (بیٹے) جو مرغوب (و دل پسند) ہیں۔

(16:57) سبحنہ۔ جملہ معترضہ ہے ای یجعلون للہ البنت ولہم ما یشتھون ان لوگوں نے اللہ کے لئے تو بیٹیاں تجویز کر رکھی ہیں اور اپنے لئے اپنی پسند کی چیز (یعنی بیٹے) سبحنہ (حالانکہ وہ ذات ان باتوں سے پاک ومنزہ ہے۔ )
Ayah 16:58

وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِالْاُنْثٰى ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌۚ Open ayah 16:58 in the Quran reader

حالانکہ جب ان میں سے کسی کو بیٹی (کے پیدا ہونے) کی خبر ملتی ہے تو اس کا منہ (غم کے سبب) کالا پڑجاتا ہے اور اس کے دل کو دیکھو تو وہ اندوزناک ہوجاتا ہے

(16:58) ظل وجھہ مسودا۔ اس کا چہرہ سیاہ پڑجاتا ہے۔ ظل فعل ناقص ہے۔ ظللت وظلت اصل میں اس کام کے متعلق استعمال ہوتا ہے جو دن کے وقت کیا جائے جس طرح بات یبیت کا استعمال رات گذارنے یا رات کے وقت میں کسی کام کو کرنے کے لئے ہے۔ ظل وظلول مصدر باب سمع وفتح سے آتا ہے یہاں ظل بمعنی صار ہے ۔ ہوگیا۔ ماضی واحد مذکر غائب ۔ لیکن یہاں مضارع کے معنی دیتا ہے ” ہوجاتا ہے “۔ مسودا۔ اسم مفعول ۔ واحد مذکر۔ اسوداد مصدر (باب افعلال۔ سیاہ۔ غم کی وجہ سے) رنگ بگڑا ہوا۔ کظیم۔ صفت مشبہ۔ کظم و کظوم مصدر۔ سخت غمگین جو اپنے غم کو دبا کر رکھے اور ظاہر نہ کرے۔ الکاظم۔ روکنے والا۔ دبانے والا۔ کا ظم الغیظ غصہ کو پی جانے والا۔ غصہ کو روکنے والا۔ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے اذ نادی وھو مکظوم (68:48) جب اس نے (اپنے پروردگار کو) پکارا۔ اس حال میں کہ وہ غم میں گھٹ رہا تھا۔
Ayah 16:59

یَتَوَارٰى مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوْٓءِ مَا بُشِّرَ بِهٖ١ؕ اَیُمْسِكُهٗ عَلٰى هُوْنٍ اَمْ یَدُسُّهٗ فِی التُّرَابِ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 16:59 in the Quran reader

اور اس خبر بد سے (جو وہ سنتا ہے) لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے (اور سوچتا ہے) کہ آیا ذلت برداشت کر کے لڑکی کو زندہ رہنے دے یا زمین میں گاڑ دے۔ دیکھو یہ جو تجویز کرتے ہیں بہت بری ہے۔

(16:59) یتواریٰ ۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ تواری (تفاعل) مصدر۔ وہ چھپتا ہے۔ وری اور ورء مادّہ وراء کے معنی آڑ ۔ حدّ فاصل۔ کسی چیز کا آگے پیچھے ہونا۔ علاوہ۔ سوا ۔ من سوئ۔ برائی۔ بری بات۔ عیب۔ سوء ہر وہ چیز جو غم میں ڈال دے۔ ایمس کہ۔ الف استفہامیہ۔ یمسک مضارع واحد مذکر غائب۔ امساک (افعال) سے روکے رکھنا۔ کسی چیز کے ساتھ چمٹ جانا اور رد کے رکھنا۔ ہُ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جس کا مرجع ما بشر بہ ہے۔ کیا اس (بچی) کو بحفاظت اپنے پاس رکھے۔ ھون۔ اسم۔ ذلت۔ رسوائی۔ خواری۔ علی ھون یعنی ذلت سہہ کر۔ مطلب یہ کہ۔ کیا قوم کی نظروں میں ذلیل ہونا برداشت کر کے بچی کو زندہ رہنے دے اور اپنے پاس رکھے یا۔۔ یدسہ مضارع واحد مذکر غائب دس یدس (نصر) دس ایک چیز کو دوسری چیز میں زبردستی داخل کرنا۔ دس الشیء فی التراب او تحت التراب۔ کسی شے کو مٹی کے نیچے چھپانا۔ ام یدسہ فی التراب یا اس کو مٹی میں گاڑ دے۔ یمس کہ اور یدسہ میں ضمیر مفعول کو مذکر ما کی رعایت سے لایا گیا ہے۔ الا۔ حرف تنبیہ۔ آہ۔ خبردار ہو جائو۔ سن رکھو۔ ساء ۔ برا ہے۔ ساء یسوء (نصر) فعل ذم ہے بمعنی برا ہے۔ ماضی واحد مذکر غائب ۔ ما یحکمون جو وہ فیصلہ کرتے ہیں۔ حکم یحکم (نصر) حکما۔ فیصلہ کرنا۔ الاساء ما یحکمون۔ آہ کتنا ناروا اور بھونڈا ان کا یہ فیصلہ ہے۔
Ayah 16:60

لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ مَثَلُ السَّوْءِ١ۚ وَ لِلّٰهِ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 16:60 in the Quran reader

جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے انہی کے لئے بری باتیں (شایان) ہیں۔ اور خدا کو صفت اعلی (زیب دیتی ہے) اور وہ غالب حکمت والا ہے۔

(16:60) مثل۔ یہاں اس کا معنی صفت ہے۔ السوئ۔ ساء یسوء (نصر) کا مصدر ہے۔ برا ہونا۔ مثل السوئ۔ مضاف مضاف الیہ۔ برائی کی صفت۔ یعنی وہ صرف برائی اور بری اور مذموم صفات سے ہی متصف ہیں کوئی خوبی یا اچھی صفت ان میں نہیں ہے۔ المثل الاعلی۔ موصوف صفت۔ بہت بلند صفت۔ بہت بڑی خوبی۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ آخرت پر یقین وایمان نہیں رکھتے وہ نہایت بری صفات کے مالک ہیں اور باری تعالیٰ اعلیٰ صفات کے مالک ہیں۔ المثل (معرّف باللام) صرف دو جگہ قرآن مجید میں آیا ہے۔ اور دونوں جگہ اللہ کی شان میں ہے ایک اس آیت میں اور دوسرا پارہ نمبر 21 میں ولہ المثل الاعلی فی السموت والارض۔ (30:27) اور آسمانوں اور زمین میں اسی کی شان اعلیٰ وارفع ہے۔
Ayah 16:61

وَ لَوْ یُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ مَّا تَرَكَ عَلَیْهَا مِنْ دَآبَّةٍ وَّ لٰكِنْ یُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 16:61 in the Quran reader

اور اگر خدا لوگوں کو ان کے ظلم کے سبب پکڑنے لگے تو ایک جاندار کو زمین پر نہ چھوڑے لیکن ان کو ایک وقت مقرر تک مہلت دیئے جاتا ہے۔ جب وہ وقت آجاتا ہے تو ایک گھڑی نہ پیچھے رہ سکتے ہیں نہ آگے بڑھ سکتے ہیں۔

(16:61) دآبۃ۔ جاندار۔ جانور۔ چلنے والا۔ رینگنے والا۔
Ayah 16:62

وَ یَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ مَا یَكْرَهُوْنَ وَ تَصِفُ اَلْسِنَتُهُمُ الْكَذِبَ اَنَّ لَهُمُ الْحُسْنٰى١ؕ لَا جَرَمَ اَنَّ لَهُمُ النَّارَ وَ اَنَّهُمْ مُّفْرَطُوْنَ Open ayah 16:62 in the Quran reader

اور یہ خدا کے لئے ایسی چیزیں تجویز کرتے ہیں جن کو خود ناپسند کرتے ہیں اور زبان سے جھوٹ بکے جاتے ہیں کہ ان کو (قیامت کے دن) بھلائی (یعنی نجات) ہوگی۔ کچھ شک نہیں کہ ان کیلئے (دوزخ کی) آگ (تیار) ہے اور یہ (دوزخ میں) سب سے آگے بھیجے جائیں گے۔

(16:62) تصف السنتہم الکذب۔ ان کی زبانیں جھوٹ بکتی ہیں کہ ان لہم الحسنی کہ ان کے لئے بھلائی ہی مقدر ہے۔ لاجرم۔ یقینا اور حقاً کا ہم معنی ہے۔ ضروری ۔ یقینی۔ ناگزیر۔ مفرطون۔ اسم مفعول ۔ جمع مذکر۔ افراط (افعال) مصدر۔ آگے بھیجے ہوئے۔ آگے روانہ کئے جانے والے۔ فرط یفرط (باب نصر) آگے بڑھ جانا۔ اور افرط فلان اعجلہ۔ کسی کو آگے جلدی بھیجنا۔ مفرطون۔ ای مقدمون ومعجلون۔ جلدی آگے بھیجے جانے والے۔ وانہم مفرطون۔ اور ان کو (دوزخ میں) پہلے بھیجا جائے گا۔ افراط (باب افعال) زیادتی کرنا۔ عمداً وقصداً آگے بڑھنا۔ تجاوز کرنا۔ اور باب تفعیل سے تفریط کوتاہی کرنا۔
Ayah 16:63

تَاللّٰهِ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَزَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِیُّهُمُ الْیَوْمَ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 16:63 in the Quran reader

خدا کی قسم ہم نے تم سے پہلے امتوں کی طرف پیغمبر بھیجے تو شیطان نے ان کے کردار (ناشائستہ) ان کو آراستہ کر دکھائے تو آج بھی وہی ان کا دوست ہے اور وہ ان کے لئے عذاب الیم ہے۔

(16:63) ارسلنا الی امم۔ ای ارسلنا رسلا الی امم۔ ہم نے رسولوں کو مختلف قوموں کی طرف بھیجا۔ اعمالہم۔ ای اعمال الکفرو التکذیب۔ انکار اور تکذیب کے اعمال۔ الیوم۔ سے مراد آج بھی ہوسکتا ہے یعنی رسول ِ اکرم کا زمانہ۔ اور اس سے مراد مطلقاً زمانہ دنیا بھی ہوسکتا ہے اور اس سے مراد ” آج قیامت کے دن “ بھی ہوسکتا ہے۔ ولہم عذاب الیم۔ ای ولہم عذاب الیم فی الاخرۃ اور (آخرت کے دن ) ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔
Ayahs 16:64–65

وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ اِلَّا لِتُبَیِّنَ لَهُمُ الَّذِی اخْتَلَفُوْا فِیْهِ١ۙ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 16:64 in the Quran reader

اور ہم نے جو تم پر کتاب نازل کی ہے تو اس کے لئے کہ جس امر میں ان لوگوں کو اختلاف ہے تو اس کا فیصلہ کردو اور (یہ) مومنوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔

وَ اللّٰهُ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ۠ Open ayah 16:65 in the Quran reader

اور خدا ہی نے آسمان سے پانی برسایا پھر اس سے زمین کو اس مرنے کے بعد زندہ کیا۔ بیشک اس میں سننے والوں کے لئے نشانی ہے۔

(16:64) لتبین لام تعلیل کا ہے۔ تبین مضارع واحد مذکر حاضر۔ تاکہ تو صاف صاف بیان کرے۔ ھدی ورحمۃ۔ انزلنا کے مفعول لہ ہونے کی وجہ سے منصوب ہیں۔ یعنی ہم نے اسے ہدایت اور رحمت بنا کر نازل کیا۔
Ayah 16:66

وَ اِنَّ لَكُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً١ؕ نُسْقِیْكُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِهٖ مِنْۢ بَیْنِ فَرْثٍ وَّ دَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَآئِغًا لِّلشّٰرِبِیْنَ Open ayah 16:66 in the Quran reader

اور تمہارے لئے چارپایوں میں بھی (مقام) عبرت (وغور) ہے کہ ان کے پیٹوں میں جو گوبر اور لہو ہے اس سے ہم تم کو خالص دودھ پلاتے ہیں جو پینے والوں کے لئے خوشگوار ہے۔

(16:66) عبرۃ۔ العبر کے اصل معنی ہیں ایک حالت سے دوسری حالت تک پہنچ جانا۔ مگر العبور کا لفظ خاص کر پانی عبور کرنے پر استعمال ہوتا ہے۔ خواہ کسی طریقہ سے کیا جائے بذریعہ اونٹ ۔ کشتی۔ پل ۔ یا تیر کر یا پیدل۔ العبرۃ اور الاعتبار اس حالت کو کہتے ہیں کہ جس کے ذریعے کسی دیکھی چیز کی وساطت سے ان دیکھے نتائج تک پہنچا جائے۔ امام رازی کے مطابق عبرۃ وہ نشانی ہے کہ جس کے ذریعہ سے جہالت کے مقام کو عبور کر کے علم تک رسائی ہوتی ہے۔ عبرت نصیحت حاصل کرنا۔ دوسرے کے حال سے اپنا حال قیاس کرنا۔ عبرۃ بوجہ عمل ان منصوب ہے۔ بطونہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اس کے پیٹ ۔ بطون بطن کی جمع ہے ہٖ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع الانعام ہے۔ الانعام مذکر مؤنث دونوں طرح مستعمل ہے۔ آیت ہذا میں مذکر آیا ہے۔ لیکن سورة المومنون میں بطور مؤنث استعمال ہوا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ان لکم فی الانعام لعبرۃ نسقیکم مما فی بطونہا ولکم فیھا منافع کثیرۃ۔ (23:21) یعنی لفظ کے لحاظ سے مذکر اور اسم جنس کے لحاظ سے مؤنث۔ اسی طرح النخل مذکر بھی آیا ہے جیسے کانہم اعجاز نخل منقعر (54:20) اور مؤنث بھی جیسے کانہم اعجاز نخل خاویۃ (69:7) ۔ فرث۔ واحد۔ وہ گوبر جو جانور کی آنتوں کے اندر ہو اس کی جمع فروک ہے۔ سائغا۔ خوشگوار سوغ سے جس کے معنی آسانی کے ساتھ کھانے پینے کی چیز کا حلق سے نیچے اتر جانا۔ سائغا۔ مزے سے حلق سے نیچے اتر جانے والا۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ نسقیکم مما فی بطورنہ من بین فرث ودم لبنا۔۔ گوبر اور خون کی مابین حالت میں جو (اجزائے خوراک) ان کے شکموں میں ہوتے ہیں ان میں سے خالص اور خوشگوار دودھ (پیدا کر کے) ہم تم کو پلاتے ہیں۔
Ayah 16:67

وَ مِنْ ثَمَرٰتِ النَّخِیْلِ وَ الْاَعْنَابِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْهُ سَكَرًا وَّ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 16:67 in the Quran reader

اور کھجور اور انگور کے میووں سے بھی (تم پینے کی چیزین تیار کرتے ہو) کہ ان سے شراب بناتے ہو اور عمدہ رزق (کھاتے ہو) جو لوگ سمجھ رکھتے ہیں ان کیلئے ان (چیزوں) میں (قدرت خدا کی) نشانی ہے

(16:67) ومن ثمرات النخیل محذوف سے متعلق ہے تقدیر کلام ہے ونسقیکم من ثمرات النخیل۔۔ یا تتخذون سے متعلق ہے اس صورت میں منہ کا تکرار تاکید کے لئے ہے۔ پہلی صورت میں ترجمہ ہوگا (ہم پلاتے ہیں تمہیں) کھجور اور انگور کے پھلوں سے۔ تم بناتے ہو اس سے میٹھا رس۔ دوسری صورت میں ترجمہ ہوگا۔ اور تم کھجور اور انگور کے پھلوں سے میٹھا رس بناتے ہو۔ ای تتخذون من ثمرات النخیل والاعناب سکرا۔۔ سکرا۔ لغت میں شراب کو کہتے ہیں جس چیز سے نشہ ہو۔ نبیذ۔ لیکن بعض علماء کے نزدیک سکر سے مراد کھجور اور انگور کا میٹھا رس ہے۔ السکر العصیر الحلو۔ سکر بمعنی میٹھا رس۔ الاتقان جلد اول (نوع 38) میں آیا ہے : ابن مردویہ نے عوفی کے طریق پر ابن عباس سے روایت کی ہے کہ سکر حبشہ کی زبان میں سرکہ کو کہتے ہیں۔
Ayahs 16:68–69

وَ اَوْحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحْلِ اَنِ اتَّخِذِیْ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا وَّ مِنَ الشَّجَرِ وَ مِمَّا یَعْرِشُوْنَۙ Open ayah 16:68 in the Quran reader

اور تمہارے پروردگار نے شہد کی مکھیوں کو ارشاد فرمایا کہ پہاڑوں میں اور درختوں میں اور اونچی اونچی چھتریوں میں جو لوگ بناتے پیں گھر بنا۔

ثُمَّ كُلِیْ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ فَاسْلُكِیْ سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا١ؕ یَخْرُجُ مِنْۢ بُطُوْنِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ فِیْهِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 16:69 in the Quran reader

اور ہر قسم کے میوے کھا۔ اور اپنے پروردگار کے صاف راستوں پر چلی جا اس کے پیٹ سے پینے کی چیز نکلتی ہے جس کے مختلف رنگ ہوتے ہیں۔ اس میں لوگوں (کے کئی امراض) کی شفا ہے بیشک سوچنے والوں کے لئے اس میں بھی نشانی ہے۔

(16:28) النحل۔ اسم جنس ۔ شہد کی مکھی۔ مکھیاں۔ اتخذی۔ امر واحد مؤنث حاضر۔ اتخاد (افتعال) سے اخذ مادہ۔ یعرشون۔ مضارع جمع مذکر غائب باب ضرب ونصر۔ انگور کی بیلوں کے لئے بانس وغیرہ کی ٹٹیاں بناتے ہیں یا ایسی ٹیٹوں پر وہ جو بیلیں چڑھاتے ہیں۔ العرش۔ اصل میں چھت والی چیز کو کہتے ہیں۔ اس کی جمع عروش ہے۔ نیز ملاحظہ ہو 7:137 ۔ کلی۔ امر واحد مؤنث حاضر ۔ تو کھا۔ اکل یا کل (باب نصر) اکل مصدر۔ اسلکی۔ امر واحد مؤنث حاضر۔ تو چل سلوک مصدر۔ (باب نصر) ۔ سبل۔ سبیل کی جمع۔ راستے ۔ راہیں۔ ذللا۔ ذلول کی جمع ہے۔ بمعنی نرم۔ مطیع۔ مسخر ۔ آسان۔ ذل سے یہ فاسلکی کی ضمیرکا حال ہے۔ فاسلکی سبل ربک ذللا ط۔ پھر بڑی تابعداری وفرماں برداری سے بےچون وچرا اپنے رب کے بتائے راستوں (شہد کی تیاری میں ) چلتی رہ۔ یا یہ سبل کا حال ہے۔ بمعنی راستے جو تیرے لئے آسان کر دئیے ہیں۔
Ayah 16:70

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ ثُمَّ یَتَوَفّٰىكُمْ١ۙ۫ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَیْ لَا یَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 16:70 in the Quran reader

اور خدا ہی نے تم کو پیدا کیا پھر وہی تم کو موت دیتا ہے اور تم میں بعض ایسے ہوتے ہیں کہ نہایت خراب عمر کو پہنچ جاتے ہیں اور (بہت کچھ) جاننے کے بعد ہر چیز سے بےعلم ہوجاتے ہیں۔ بیشک خدا (سب کچھ) جاننے والا (اور) قدرت والا ہے۔

(16:70) یتوفکم۔ مضارع واحد مذکر غائب کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر توفی سے (باب تفعل) وہ تمہاری جانوں کو لے لیتا ہے یرد۔ مضارع مجہول واحد مذکر غائب۔ رد مصدر باب نصر۔ وہ لوٹایا جاتا ہے۔ ارذل العمر۔ عمر کا بڑھاپا۔ جب انسان کے قویٰ مضمحل اور ناکارہ ہوجاتے ہیں۔ یعنی بہت بڑی عمر تک جب جسمانی ودماغی قوتیں کمزور پڑجاتی ہیں۔ لکی میں لام عاقبت یا نتیجہ کا ہے ای نتیجۃ۔ کی حرف تعلیل ہے فعل مضارع پر داخل ہوتا ہے اور اسے نصب دیتا ہے لکی لا یعلم۔ لکی لا یعلم بعد علم شیئا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ چیزوں کا علم رکھنے کے بعد بیخبر ہوجاتا ہے۔
Ayah 16:71

وَ اللّٰهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍ فِی الرِّزْقِ١ۚ فَمَا الَّذِیْنَ فُضِّلُوْا بِرَآدِّیْ رِزْقِهِمْ عَلٰى مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَهُمْ فِیْهِ سَوَآءٌ١ؕ اَفَبِنِعْمَةِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 16:71 in the Quran reader

اور خدا نے رزق (ودولت) میں بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ وہ اپنا رزق اپنے مملوکوں کو تو دے ڈالنے والے ہی نہیں کہ (سب) اس میں برابر ہوجائیں۔ تو کیا یہ لوگ نعمت الہٰی کے منکر ہیں ؟

(16:71) فما الذین میں ما نافیہ ہے۔ ر آدی۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ بحالت ِ نصب وجر ّ ۔ اصل میں رادین تھا۔ ن اضافت کی وجہ سے ساقط ہوگیا۔ بحالت ِ رفع ر آدون کی جمع۔ رد (مضاعف) سے اسم فاعل۔ اصل میں رادد تھا ۔ دو حرف ایک جنس کے اکٹھے ہوئے۔ پہلے کو ساکن کر کے دوسرے میں مدغم کیا۔ راد ہوگیا۔ رد یرد (نصر) کے معنی ہیں۔ پھیرنا۔ واپس کرنا۔ پس اسم فاعل ر آد کے معنی ہوئے پھیرنے والا۔ واپس کرنے والا۔ فما الذین فضلوا بر آدی رزقہم علی ما ملکت ایمانہم فہم فیہ سوآئ۔ پھر جن لوگوں کو رزق میں یہ فضیلت دی گئی ہے وہ ایسے نہیں ہیں کہ اپنا رزق اپنے غلاموں (مملوک) کی طرف پھیر دیں تا کہ وہ سب اس میں (اس رزق میں) برابر برابر ہوجائیں (برابر کے حصہ دار بن جائیں) ۔ (جب یہ لوگ اس رزق میں جو ان کا اپنا بھی نہیں ہے۔ کسی اور کا (یعنی اللہ کا) دیا ہوا ہے اپنے غلاموں کو شریک بنانا پسند نہیں کرتے۔ تو افبنعمۃ اللہ یجحدون کیا اللہ ہی کی نعمتوں کا انکار کرتے ہیں۔ (یعنی اس کی نعمتوں کا صرف اسی کے لئے شکریہ ادا نہیں کرتے بلکہ اس کے بندوں اور مٹی کے خود ساختہ بتوں کو اس کا شریک وسہیم ٹھہراتے ہیں) ۔ اس آیت کے تحت تفہیم القرآن میں تفصیلی نوٹ ملاحظہ ہو۔ یجحدون۔ مضارع جمع مذکر غائب جحد وجحود مصدر باب فتح۔ وہ انکار کرتے ہیں۔
Ayah 16:72

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ بَنِیْنَ وَ حَفَدَةً وَّ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ؕ اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ هُمْ یَكْفُرُوْنَۙ Open ayah 16:72 in the Quran reader

اور خدا ہی نے تم میں سے تمہارے لئے عورتیں پیدا کیں اور عورتوں سے تمہارے بیٹے اور پوتے پیدا کئے اور کھانے کو تمہیں پاکیزہ چیزیں دیں تو کیا یہ بےاصل چیزوں پر اعتقاد رکھتے اور خدا کی نعمتوں سے انکار کرتے ہیں ؟

(16:72) ازواجا۔ جوڑے۔ ہم مثل چیزیں۔ زوج کی جمع ہے۔ یہاں بیویاں مراد ہیں۔ حفدۃ۔ حافد کی جمع۔ حفد سے اسم فاعل حفد یحفد (باب ضرب) خدمت کے لئے دوڑتے ہوئے حاضر ہونا۔ یہاں اس سے مراد پوتے ہیں کیونکہ ان کی خدمت زیادہ سچی ہوتی ہے۔ بنو سعد العشیرہ کی لغت میں حفدۃ نواسوں کو کہتے ہیں۔ اور لفظی معنی کے لحاظ سے ہر وہ شخص خواہ رشتہ دار ہو یا نہ ہو۔ جو دوڑتے ہوئے خدمت میں حاضر ہو۔ حافد کہلاتا ہے۔ باطل۔ حق کے مقابلہ میں۔ اس سے مراد جھوٹے خدا معبود انِ باطل بھی ہوسکتا ہے۔ وبنعمت اللہ ہم یکفرون۔ میں ہم ضمیر کو تاکید اور زور کا فائدہ حاصل کرنے کے لئے لایا گیا ہے۔ ورنہ تو مضمون اس کے بغیر بھی ادا ہوجاتا تھا۔
Ayah 16:73

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقًا مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ شَیْئًا وَّ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَۚ Open ayah 16:73 in the Quran reader

اور خدا کے سوا ایسوں کو پوجتے ہیں جو ان کو آسمانوں اور زمین میں روزی دینے کا ذرا بھی اختیار نہیں رکھتے اور نہ (کسی اور طرح کا) مقدور رکھتے ہیں۔

(16:73) لا یستطیعون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب۔ استطاعۃ (استفعال) وہ طاقت نہیں رکھتے ۔ وہ استطاعت نہیں رکھتے ۔ وہ استطاعت نہیں رکھتے ۔ وہ قدرت نہیں رکھتے۔
Ayah 16:74

فَلَا تَضْرِبُوْا لِلّٰهِ الْاَمْثَالَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:74 in the Quran reader

تو (لوگو) خدا کے بارے میں (غلط) مثالیں نہ بناؤ (صحیح مثالوں کا طریقہ) خدا ہی جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

(16:74) فلا تضربوا للہ الامثال۔ اللہ کے لئے مثالیں مت گھڑو۔ ضرب المثل کا معنی ہے ایک حال کو دوسرے حال سے تشبیہ دینا۔ تشبیہ حال بحال یہاں منع کیا جا رہا ہے کہ اس کو کسی کے ساتھ تشبیہ نہ دی جاوے کیونکہ اس کی ذات فہم انسانی سے ماوراء ہے اور ہر اعتبار سے غیر محدود اور ہر حدود نہایت سے برتر ہے اس لئے اس کی مثال دی ہی نہیں جاسکتی اور نہ ہی اس کی کوئی شبیہ ہوسکتی ہے۔
Ayah 16:75

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوْكًا لَّا یَقْدِرُ عَلٰى شَیْءٍ وَّ مَنْ رَّزَقْنٰهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًا فَهُوَ یُنْفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَّ جَهْرًا١ؕ هَلْ یَسْتَوٗنَ١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:75 in the Quran reader

خدا یک اور مثال بیان فرماتا ہے کہ ایک غلام ہے جو (بالکل) دوسرے کے اختیار میں ہے اور کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا۔ اور ایک ایسا شخص ہے جس کو ہم نے اپنے ہاں سے (بہت سا) مال طیب عطا فرمایا ہے۔ اور وہ اس میں سے (رات دن) پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتا رہتا ہے تو کیا یہ دونوں شخص برابر ہیں ؟ (ہرگز نہیں) الحمد للہ لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں سمجھ رکھتے۔

(16:75) مملوکا۔ اسم مفعول واحد مذکر۔ ملک مادّۃ (باب ضرب) وہ جو کسی کی ملکیت میں ہو۔ یعنی غلام۔ من اسم ہے اور بطور مصوف استعمال ہوا ہے اور عبدا کی مطابقت میں نکرہ آیا ہے۔ کانہ قیل وحرا رزقناہ (عبدا کے مقابلہ میں حرا) یعنی اللہ تعالیٰ مثال دیتا ہے ایک عبد مملوک کی اور ایک آزاد شخص کی جسے خدا نے رزق حسن عطا کر رکھا ہے۔ ھل یستوٗن۔ میں استفہام انکاری ہے۔ کیا یہ برابر ہوسکتے ہیں ؟ یعنی یہ برابر نہیں ہوسکتے یہاں صیغہ تثنیہ کی بجائے جمع کا آیا ہے کیونکہ مقصود یہاں محض دو فرد ہی نہیں بلکہ اس قبیل کے کل اشخاص ہیں جو متضاد صفات کے مالک ہیں۔ یہ دونوں قسم کے اشخاص ایک جیسے نہیں ہوسکتے۔ الحمد للہ۔ اس مثال کے بعد یہی جواب دیں گے کہ ہرگز برابر نہیں۔ اس پر فرماتا ہے الحمد للہ کہ اس قدر تو سمجھ ہے کہ دونوں برابر نہیں۔ مگر اکثرہم لا یعلمون اکثر کو تو یہ بھی خبر نہیں اس قدر جاہل وبے تمیز ہیں ۔۔ تفسیر حقانی۔ صاحب تفہیم القرآن رقمطراز ہیں۔ سوال اور الحمد للہ کے درمیان ایک لطیف خلا ہے جسے پُر کرنے کے لئے خود لفظ الحمد للہ ہی میں بلیغ اشارہ موجود ہے۔ ظاہر ہے کہ نبی کریم ﷺ کی زبان ِ مبارک سے یہ سوال سن کر مشرکین کے لئے اس کا یہ جواب دینا تو کسی طرح ممکن نہ تھا کہ دونوں برابر ہیں لامحالہ اس کے جواب میں کسی نے صاف صاف اقرار کیا ہوگا کہ واقعی دونوں برابر نہیں ہیں۔ اور کسی نے اس اندیشے سے خاموشی اختیار کرلی ہوگی۔ کہ اقراری جواب دینے کی صورت میں اس کے منطقی نتیجے کا بھی اقرار کرنا ہوگا اور اس سے خود بخود ان کے شرک کا ابطال ہوجائے گا۔ لہٰذا نبی کریم ﷺ نے دونوں کا جواب پا کر فرمایا الحمد للہ اقرار کرنے والوں کے اقرار پر بھی الحمد للہ اور خاموش رہ جانے والوں کی خاموشی پر بھی الحمد للہ۔ پہلی صورت میں معنی یہ ہوئے کہ خدا کا شکر ہے اتنی بات تو تمہاری سمجھ میں آگئی۔ دوسری صورت میں اس کا مطلب یہ ہے کہ۔ خاموش ہوگئے ! الحمد للہ اپنی ساری ہٹ دھرمی کے باوجود دونوں کو برابر کہہ دینے کی ہمت تم بھی نہ کرسکے۔ مگر اکثر لوگ (اس سیدھی بات کو) نہیں جانتے۔
Ayah 16:76

وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلَیْنِ اَحَدُهُمَاۤ اَبْكَمُ لَا یَقْدِرُ عَلٰى شَیْءٍ وَّ هُوَ كَلٌّ عَلٰى مَوْلٰىهُ١ۙ اَیْنَمَا یُوَجِّهْهُّ لَا یَاْتِ بِخَیْرٍ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیْ هُوَ١ۙ وَ مَنْ یَّاْمُرُ بِالْعَدْلِ١ۙ وَ هُوَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۠ Open ayah 16:76 in the Quran reader

اور خدا یک اور مثال بیان فرماتا ہے کہ دو آدمی ہیں ایک ان میں سے گونگا (اور دوسرے کی ملک) ہے (بےاختیار و ناتواں) کہ کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا اور اپنے مالک کو دوبھر ہو رہا ہے وہ جہاں اسے بھیجتا ہے (خیر سے کبھی) بھلائی نہیں لاتا۔ کیا ایسا (گونگا بہرا) اور وہ شخص جو (سنتا بولتا اور) لوگوں کو انصاف کرنے کا حکم دیتا ہے اور خود سیدھے راستے پر چل رہا ہے دونوں برابر ہیں ؟

(16:76) ایکم۔ مادرزاد گونگا۔ بکم سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ اس کی جمع بکم ہے صم بکم (2:18) یہ بہرے اور گونگے ہیں کل ۔ واحد وجمع۔ گراں بار۔ اہل و عیال۔ یتیم ۔ بےوالد یا بےاولاد آدمی۔ چھری یا تلوار کی پشت۔ بےفیض آدمی۔ سب پر بار۔ کل یکل (ضرب) کلا وکلۃ۔ کلالا وکلالۃ۔ تھکنا۔ کمزور ہونا۔ صرف دور کے رشتہ دار رکھنے والا۔ بےاولاد وبے والد کے ہونا۔ تلوار کا کند ہونا۔ کلالۃ۔ وہ آدمی جس کے مرنے پر نہ اس کی اولاد نہ اس کا ماں باپ ہو جو اس کا وارث بن سکے۔ کل علی مولہ ۔ جو اپنے مالک پر بوجھ ہو۔ یوجھہ۔ مضارع واحد مذکر غائب وجہ یوجہ توجیہ (باب تفعیل) ہُ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ وہ اس کو بھیجتا ہے۔ اینما یوجھہ۔ وہ اس کو جہاں بھی بھیجتا ہے۔ لایات بخیر۔ وہ درست کر کے نہیں لاتا۔ وھو۔ ای وھو فی نفسہ۔ اور وہ خود بھی۔
Ayahs 16:77–78

وَ لِلّٰهِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَاۤ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 16:77 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین کا علم خدا ہی کو ہے اور (خدا کے نزدیک قیامت کا آنا یوں ہے جیسے آنکھ کا جھپکنا بلکہ (اس سے بھی) جلد تر۔ کچھ شک نہیں کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے۔

وَ اللّٰهُ اَخْرَجَكُمْ مِّنْۢ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَیْئًا١ۙ وَّ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 16:78 in the Quran reader

اور خدا ہی نے تم کو تمہاری ماؤں کے شکم سے پیدا کیا کہ تم کچھ نہیں جانتے تھے۔ اور اس نے تم کو کان اور انکھیں اور دل (اور انکے علاوہ اور) اعضا بخشے تاکہ تم شکر کرو۔

(16:77) امر الساعۃ۔ یعنی قیامت برپا ہونے کا معاملہ۔ لمح۔ اسم مصدر۔ پلک جھپکنا۔ لمح البرق۔ بجلی چمکی۔ یا جھپکی۔
Ayah 16:79

اَلَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ مُسَخَّرٰتٍ فِیْ جَوِّ السَّمَآءِ١ؕ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 16:79 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے پرندوں کو نہیں دیکھا کہ آسمان کی ہوا میں گھرے ہوئے (اڑتے رہتے) ہیں ؟ ان کو خدا ہی تھامے رکھتا ہے۔ ایمان والوں کے لئے اس میں (بہت سی) نشانیاں ہیں۔

(16:79) مسخرات۔ اسم مفعول جمع مؤنث مسخرۃ واحد تسخیر (تفعیل) مصدر تابع۔ فرمانبردار بنائے گئے۔ مطیع۔ جو۔ فضائ۔ ہوا۔ اس کی جمع جواء اور اجواء ہے۔ یمسکہن۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ ھن ضمیر مفعول جمع مؤنث غائب۔ امساک (افعال) مصدر۔ روکنا۔ تھامے رکھنا۔ امساک کے اصل معنی کسی چیز سے چمٹ جانا اور اس کی حفاظت کرنا۔
Ayah 16:80

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْۢ بُیُوْتِكُمْ سَكَنًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ جُلُوْدِ الْاَنْعَامِ بُیُوْتًا تَسْتَخِفُّوْنَهَا یَوْمَ ظَعْنِكُمْ وَ یَوْمَ اِقَامَتِكُمْ١ۙ وَ مِنْ اَصْوَافِهَا وَ اَوْبَارِهَا وَ اَشْعَارِهَاۤ اَثَاثًا وَّ مَتَاعًا اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 16:80 in the Quran reader

اور خدا ہی نے تمہارے لئے گھروں کو رہنے کی جگہ بنایا اور اسی نے چوپایوں کی کھالوں سے تمہارے لئے ڈیرے بنائے جن کو تم سبک دیکھ کر سفر اور حضر میں کام لاتے ہو۔ اور ان کی اون اور ریشم اور بالوں سے تم اسباب اور برتنے کی چیزیں (بناتے ہو جو) مدت تک (کام دیتی ہیں)

(16:80) سکنا۔ فعل بمعنی مفعول۔ ای موضعا تسکنون فیہ وقت اقامتکم۔ وہ جگہ جہاں تم بوقت اقامت تسکین پاتے ہو۔ بیوتا ۔ مفعول بیت کی جمع۔ یہاں گھر سے مراد چمڑے کے بنے ہوئے خیمے جو مسافری کے دوران گھر کا کام دیتے ہیں۔ تستخفونھا۔ مضارع جمع مذکر حاضر ھا ضمیر واحد مؤنث غائب (اس کا مرجع بیوتا ہے تم اسے ہلکا پاتے ہو۔ استخفاف (استفعال) مصدر۔ جس کا مطلب ہلکا سمجھنا۔ ” الخفیف “ ” الثقیل “ کے مقابلہ میں ہے۔ ظعنکم۔ مضاف مضاف الیہ۔ تمہارا سفر۔ ظعن مصدر۔ ومن اصوافھا واوبارھا واشعارھا اس کا عطف ومن جلود پر ہے اور ھا ضمیر کا مرجع الانعام ہے۔ اصوافھا۔ ان کی اُون۔ صوف کی جمع ہے۔ بھیڑوں کی اُون۔ اوبارھا۔ ان کی اُون۔ وبر کی جمع اونٹ کی اون کو وبر کہتے ہیں۔ اشعارھا۔ ان کے بال۔ شعر کی جمع۔ بکری۔ کے بال۔ ھا ضمیر کا مرجع جیسا کہ اوپر بیان ہوا الانعام ہے جس میں بھیڑیں بکریاں اونٹ سب شامل ہیں۔ اثاثا۔ اثاثہ۔ گھر کا سامان۔ مال و اسباب۔ اث سے مشتق ہے۔ اث یؤث (نصر) بمعنی زیادہ یا گنجان ہونا۔ پھر یہ لفظ اثاث ہر قسم کے فراوان مال پر بولا جانے لگا۔ متاع کی طرح اس کا بھی واحد نہیں آتا۔ اس کی جمع اثاث (بکسر ہمزہ) قرآن مجید ہے ہم احسن اثاثا وریئا (19:74) وہ سازو سامان میں زیادہ تھے اور خوش منظر بھی۔ الی حین۔ مدت تک۔ مدت العمر۔ الی ان تموتوا۔ تمہاری موت تک۔