14. Surah Ibrahim

ابراهيمAbraham · 52 ayahsانوار البیان

Ayahs 14:38–41

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِیْ وَ مَا نُعْلِنُ١ؕ وَ مَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ Open ayah 14:38 in the Quran reader

اے پروردگار جو بات ہم چھپاتے اور ظاہر کرتے ہیں تو سب جانتا ہے۔ اور خدا سے کوئی چیز مخفی نہیں (نہ) زمین میں نہ آسمان میں۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ وَهَبَ لِیْ عَلَى الْكِبَرِ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَسَمِیْعُ الدُّعَآءِ Open ayah 14:39 in the Quran reader

خدا کا شکر ہے جس نے مجھ کو بڑی عمر میں اسماعیل اور اسحاق بخشے۔ بیشک میرا پروردگار دعا سننے والا ہے۔

رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوةِ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ١ۖۗ رَبَّنَا وَ تَقَبَّلْ دُعَآءِ Open ayah 14:40 in the Quran reader

اے پروردگار مجھ کو ایسی (توفیق عنایت) کر کہ نماز پڑھتا رہوں۔ اور میری اولاد کو بھی (یہ توفیق بخش) اے پروردگار میری دعا قبول فرما۔

رَبَّنَا اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَابُ۠ Open ayah 14:41 in the Quran reader

اے پروردگار حساب (کتاب) کے دن مجھ کو اور میرے ماں باپ کو اور مومنوں کو مغفرت کیجئیو۔

(14:38) نخفی۔ مضارع جمع متکلم (باب افعال) اخفاء مصدر۔ (جو) ہم چھپاتے ہیں۔ چھپا کر کرتے ہیں۔ چھپا کر رکھتے ہیں۔ نعلن۔ مضارع جمع متکلم۔ (باب افعال) اعلان مصدر ہم ظاہر کرتے ہیں۔ وھب۔ ماضی۔ واحد مذکر غائب۔ وھب۔ ھبۃ۔ مصدر۔ (باب فتح) اس نے بخشا۔ وھاب بہت عطا کرنے والا۔ علی الکبر۔ بڑھاپے میں۔ باوجود بڑھاپے کے۔ من ذریتی۔ ای بعض ذریتی۔ (میری اولاد میں سے بھی بعض کو) بعض اس واسطے کہا کہ ان کو منجانب اللہ علم تھا کہ آئندہ اولاد میں سے کافر بھی ہوسکتے ہیں۔ جیسا کہ خداوند تعالیٰ نے فرمایا کہ میں تم کو (حضرت ابراہیم کو) لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں۔ تو حضرت ابراہیم نے کہا قال ومن ذریتی۔ (کیا میری نسل سے بھی) حکم ہوا۔ قال لا ینال عھدی الظلمین (2:124) کہا میرا وعدہ نافرمانوں کو نہیں پہنچتا۔ تقبل۔ امر ۔ واحد مذکر حاضر۔ تقبل (تفعل) سے (تو قبول کر) ۔ دعائ۔ ای دعایٔ۔ میری دعا۔ (یعنی یہ دعا کہ مجھے اور میری اولاد کو نماز کا پابند کردے) ۔ یا دعا سے مراد عبادت بھی ہوسکتا ہے۔ کہ اے رب میں اور میری اولاد میں سے بعض جو عبادت کریں اسے شرف قبولیت عطا فرما۔
Ayah 14:42

وَ لَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا یَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ١ؕ۬ اِنَّمَا یُؤَخِّرُهُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیْهِ الْاَبْصَارُۙ Open ayah 14:42 in the Quran reader

اور (مومنو ! ) مت خیال کرنا کہ یہ ظالم جو عمل کر رہے ہیں خدا ان سے بیخبر ہے۔ وہ ان کو اس دن تک مہلت دے رہا ہے جب کہ (دہشت کے سبب) آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔

(14:42) لا تحسبن۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر بانون ثقیلہ حسبان سے۔ تو خیال نہ کر۔ تو گمان نہ کر۔ یؤخرہم۔ مضارع واحد مذکر غائب ہم ضمیر جمع مذکر غائب۔ وہ ان کو مہلت دیتا ہے۔ وہ ان کو مہلت دے رہا ہے۔ ڈھیل دے رہا ہے۔ ہم ضمیر کا مرجع الظلمون ہے۔ تشخص۔ مضارع واحد مؤنث غائب۔ وہ ٹکٹکی باندھ کر دیکھے گی۔ ضمیر فاعل البصار کے لئے ہے وہ ٹکٹکی باندھ کر دیکھیں گی۔ وہ دہشت کے سبب کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔ اور جگہ آیا ہے۔ شاخصۃ ابصار الذین کفروا۔ (21:97) کافروں کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔ شخوص مصدر۔ بمعنی آنکھوں کا کھلا رہنا۔ ٹکٹکی باندھ کر دیکھنا۔
Ayah 14:43

مُهْطِعِیْنَ مُقْنِعِیْ رُءُوْسِهِمْ لَا یَرْتَدُّ اِلَیْهِمْ طَرْفُهُمْ١ۚ وَ اَفْئِدَتُهُمْ هَوَآءٌؕ Open ayah 14:43 in the Quran reader

(اور لوگ) سر اٹھائے ہوئے (میدان قیامت کی طرف) دوڑ رہے ہوں گے۔ ان کی نگاہیں انکی طرف لوٹ نہ سکیں گی اور انکے دل (مارے خوف کے) ہوا ہو رہے ہونگے۔

(14:43) مھطعین : اسم فاعل جمع مذکر۔ مھطع واحد۔ اھطاع (افعال) مصدر۔ سرجھکائے تیزی سے دوڑنے والے۔ مطھع عاجزی اور ذلت سے نظر نہ اٹھانے والا۔ بلانے والے کی طرف خاموشی سے چلا جانے والا۔ گردن دراز کر کے نظر جمائے تیزی سے چلنے والا۔ مقنعی۔ اسم فاعل جمع مذکر منصوب۔ مضاف۔ اصل میں مقنعین تھا۔ اضافت کی وجہ سے نون گرگیا۔ اقناع (افعال) سے مصدر قنع مادہ۔ اٹھانے والے۔ اٹھائے ہوئے۔ اقنع رأسہ۔ اس نے اپنے سر کو اونچا کیا۔ مقنعی رؤسہم۔ اپنے سروں کو اوپر اٹھانے والے۔ لا یرتد۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب ۔ نہیں لوٹے گی۔ ضمیر فاعل کا مرجع طرفہم ہے۔ ان کی نگاہ۔ ان کی آنکھ ۔ یعنی ان کی آنکھ جھپک تک نہ سکے گی۔ ھوائ۔ اسم۔ خالی۔ خوف کے سبب سمجھ سے خالی۔ اصل میں ھواء اس فضاء اور خلاء کو کہتے ہیں۔ جو آسمان اور زمین کے درمیان ہے لیکن محاورہ میں قلب کی صفت واقع ہوتی ہے۔ اور جو ڈرپوک ہو جرأت مند نہ ہو۔ اس کو قلب ھواء کہتے ہیں افئدتہم ھواء ۔ ان کے دل ہوا ہو رہے ہوں گے۔ اس آیۃ میں یوم حشر کی ہولناکی اور دہشت انگیزی کا منظر بیان ہوا ہے یعنی لوگ گردن آگے کو بڑھائے خوف وہراس سے ٹکٹکی لگائے دوڑے جا رہے ہوں گے۔ سر اوپر کو شدت اضطراب سے اٹھے ہوئے ہوں گے۔ اور آنکھیں پتھرائی ہوں گی کہ پلکیں اوپر اٹھی ہوئی ہیں تو وہاں ہی جم کر رہ جائے گی۔ اور نیچے واپس نہ آسکیں گی۔ اور دل ہوا ہوئے جارہے ہوں گے۔ اور اس حالت میں لوگ موقف حساب کی طرف دوڑ رہے ہوں گے۔
Ayah 14:44

وَ اَنْذِرِ النَّاسَ یَوْمَ یَاْتِیْهِمُ الْعَذَابُ فَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا رَبَّنَاۤ اَخِّرْنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ۙ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَ نَتَّبِعِ الرُّسُلَ١ؕ اَوَ لَمْ تَكُوْنُوْۤا اَقْسَمْتُمْ مِّنْ قَبْلُ مَا لَكُمْ مِّنْ زَوَالٍۙ Open ayah 14:44 in the Quran reader

اور لوگوں کو اس دن سے آگاہ کردو جب ان پر عذاب آجائے گا۔ تب ظالم لوگ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں تھوڑی سی مدت مہلت عطا کر تاکہ ہم تیری دعوت (توحید) قبول کریں اور تیرے پیغمبروں کے پیچھے چلیں (تو جواب ملے گا) کیا تم پہلے قسمیں نہیں کھایا کرتے تھے ؟ تم کو (اس حال سے جس میں تم ہو) زوال (اور قیامت کو حساب اعمال) نہیں ہوگا۔

(14:44) انذر۔ امر ۔ واحد مذکر حاضر۔ (اے محمد ﷺ ) تو ڈرا۔ انذار (افعال) سے مصدر۔ یوم۔ مفعول ثانی۔ الناس۔ مفعول اوّل انذر کا۔ تو ڈرا لوگوں کو اس دن سے۔ اخرنا۔ امر واحد مذکر حاضر۔ نا ضمیر مفعول جمع متکلم۔ تو ہم کو مہلت دے۔ تاخیر (تفعیل) سے۔ اجل قریب۔ مدت قلیل اجل مدت مقررہ۔ نجب۔ اجاب یجیب اجابۃ سے مضارع مجزوم جمع متکلم۔ ہم قبول کرلیں گے۔ جواب دعا ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے۔ نتبع۔ مضارع مجزوم جمع متکلم۔ اتباع (افتعال) سے ہم اتباع کریں گے۔ ہم پیروی کریں گے۔ جواب دعا ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے۔ اولم تکونوا اقسمتم من قبل۔ کیا تم اس سے پہلے قسمیں نہیں اٹھایا کرتے تھے۔ من قبل۔ قبل۔ بعد کی ضد ہے۔ بغیر اضافت کے آئے تو اس پر ضمہ ہوگا۔ مالکم من زوال۔ جواب القسم۔ یعنی تم قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے ہم کو کوئی زوال نہیں ہے۔ زال یزول زوال (باب نصر) زوال کا معنی کسی چیز کا اپنا صحیح رخ چھوڑ کر ایک جانب مائل ہوجانا۔ اپنی جگہ سے ہٹ جانا۔ زوال۔ سمت الرأس سے جھک جانا۔ جیسے کہ سورج کا نقطۂ نصف النہار سے ڈھلنا۔ نقطۂ عروج سے نیچے آنا۔ دنیاوی جاہ و جلال یا مال و دولت کی حالت سے کم ہوجانا۔ نقطۃ الراس سے انحطاط۔ من صلہ تاکید نفی کے لئے آیا ہے۔
Ayah 14:45

وَّ سَكَنْتُمْ فِیْ مَسٰكِنِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ تَبَیَّنَ لَكُمْ كَیْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَ ضَرَبْنَا لَكُمُ الْاَمْثَالَ Open ayah 14:45 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے تم ان کے مکانوں میں رہتے تھے اور تم پر ظاہر ہوچکا تھا کہ ہم نے ان لوگوں کے ساتھ کس طرح (کا معاملہ) کیا تھا اور تمہارے (سمجھانے) کیلئے مثالیں بھی بیان کردی تھیں۔

(14:25) سکنتم۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ تم بستے رہے۔ تم آباد رہے۔ مساکن۔ مسکن کی جمع اس ظرف مکان ۔ ٹھہرنے اور رہنے کا مقام۔ تبین۔ ماضی واحد مذکر غائب ۔ وہ واضح ہوگیا۔ وہ ظاہر ہوگیا۔ وہ کھل گیا۔ (یعنی ان کے ساتھ جو سلوک ہوا اس کی روایات بھی تم پہنچی ہوں گی اور ان کے آثار سے تم نے مشاہدہ بھی کرلیا ہوگا) ۔ وضربنا لکم الامثال۔ اور ہم نے تم کو مثالیں بیان کیں۔ یعنی کتب سماویہ میں ان واقعات کو مثال کے طور پر بیان کیا۔ کہ اگر تم ایسا کرو گے تو تم بھی یہی نیتجہ پائو گے۔
Ayah 14:46

وَ قَدْ مَكَرُوْا مَكْرَهُمْ وَ عِنْدَ اللّٰهِ مَكْرُهُمْ١ؕ وَ اِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُوْلَ مِنْهُ الْجِبَالُ Open ayah 14:46 in the Quran reader

اور انہوں نے (بڑی بڑی) تدبیریں کیں اور انکی (سب) تدبیریں خدا کے ہاں (لکھی ہوئی) ہیں۔ گو وہ تدبیریں ایسی (غضب کی) تھیں کہ ان سے پہاڑ بھی ٹل جائیں۔

(14:46) مکروا مکرہم۔ انہوں نے اپنی چالیں چلیں۔ اس میں ہم ضمیر فاعل کا مرجع یا تو الذین ظلموا انفسہم ہے۔ یعنی وہ لوگ جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا اور جن کے مساکن میں تم آباد رہے۔ یا اس کا مرجع کفار قریش ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے خلاف گھنبیر چالیں چلیں۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے واذ یمکر بک الذین کفروا لیثبتوک او او یقتلوک او یخرجوک۔ (8:30) اور یاد کرو جب خفیہ تدبیریں کر رہے تھے آپ کے بارہ میں وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا تھا تاکہ آپ کو قید کردیں۔ یا آپ کو شہید کردیں یا آپ کو جلا وطن کردیں لیکن صورت اول زیادہ صحیح ہے۔ وعند اللہ مکرہم۔ اللہ تعالیٰ سے ان کی یہ چالیں مخفی نہ تھیں سب کی سب اس کے علم میں تھیں۔ یا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس ان کے مکر کا توڑ تھا۔ عندہ جزاء مکرہم وابطالا لہ۔ (مظہری) ۔ تزول۔ مضارع واحد مؤنث غائب۔ وہ اپنی جگہ سے ٹل جائے۔ وہ اپنے مقام سے ہل جائے زال یزول زوال (باب نصر) سے۔ ان ۔ کی دو صورتیں ہیں (1) یہ ان مخففہ ہے جو ان ثقیلہ سے مخفف ہو کر ان بن گیا۔ اور یہ تحقیق اور ثبوت کے معنی دیتا ہے۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا : اور واقعی ان کی چالیں ایسی تھیں کہ ان سے پہاڑ بھی ٹل جائیں۔ (2) ان نافیہ ہے اور لام تاکید نفی کے لئے آیا ہے۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا۔ اور نہیں تھیں ان کی چالیں کہ ان سے پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائیں۔
Ayah 14:47

فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍؕ Open ayah 14:47 in the Quran reader

تو ایسا خیال نہ کرنا کہ خدا نے جو اپنے پیغمبروں سے وعدہ کیا ہے۔ اسکے خلاف کریگا۔ بیشک خدا زبردست (اور) بدلہ لینے والا ہے۔

(14:47) لا تحسبن۔ فعل نہی بلام تاکید ونون ثقیلہ۔ واحد مذکر حاضر۔ تو ہرگز خیال نہ کر۔ تو ہرگز گمان نہ کر۔ (یہ خطاب حضرت محمد ﷺ سے ہے) ۔ لا تحسبن اللہ مخلف وعدہ رسلہ میں اللہ مفعول اول ہے لا تحسبن کا اور مخلف مفعول ثانی ہے۔ جبکہ رسلہ مخلفکا مفعول اوّل ہے اور وعدہ اس کا مفعول ثانی۔ گویا تقدیر کلام یوں ہے مخلف رسلہ وعدہ تو ہرگز خیال نہ کر کہ (اللہ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرنے والا ہے) ۔ یعنی جو وعدے اس نے کئے ہیں وہ ضرور پورے کرے گا۔ وعدے۔ مثلاً انا لننصر رسلنا۔ (58:21) اللہ نے یہ بات لکھ دی ہے کہ میں اور میرے پیغمبر غالب آکر رہیں گے۔ عزیز۔ غالب۔ زبردست۔ قوی۔ گرامی قدر۔ دشوار۔ عزۃ سے فعیل کے وزن پر بمعنی فاعل مبالغہ کا صیغہ ہے۔ ذوا نتقام۔ انتقام لینے والا۔ بدلہ لینے والا۔
Ayah 14:48

یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ وَ السَّمٰوٰتُ وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ Open ayah 14:48 in the Quran reader

جس دن یہ زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی (بدل دئیے جائیں گے) اور سب لوگ خدائے یگانہ و زبردست کے سامنے نکل کھڑے ہوں گے۔

(14:48) یوم۔ یا انتقام کا ظرف زمان ہے یعنی وہ انتقام اس روز ملے گا جس روز کہ زمین بدل کر دوسری زمین کردی جائے گی۔ یا یہ اذکر (محذوف کا مفعول ہے۔ یاد کرو اس دن کو۔ تبدل ۔ مضارع مجہول واحد مؤنث غائب۔ تبدیل (تفعیل) مصدر۔ وہ بدل دی جائے گی۔ غیر الارض۔ ایک دوسری زمین کی صورت میں۔ السموت۔ ای وتبدل السموت غیر السموت اور آسمان بدل کر دوسرے آسمان کر دئیے جائیں گے۔ وبرزوا۔ وہ کھلم کھلا خدا کے سامنے پیش ہوں گے (ملاحظہ ہو 14:21) ۔ القھار۔ مبالغہ کا صیغہ ہے۔ ایسا زبردست غالب جس کے مقابلہ میں سب ذلیل ہوں۔ قھر۔ مصدر۔ جس کا معنی کسی پر غلبہ پا کر اسے ذلیل کرنے کے ہیں۔
Ayah 14:49

وَ تَرَى الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَئِذٍ مُّقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِۚ Open ayah 14:49 in the Quran reader

اور اس دن تم گنہگاروں کو دیکھو گے کہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔

(14:49) مقرنین۔ اسم مفعول جمع مذکر۔ مقرن واحد۔ تقرین (تفعیل) مصدر۔ اقترات کے معنی ازرواج کی طرح دو یا دو سے زیادہ چیزوں سے کسی معنی میں مجتمع ہونے کے ہیں۔ قرن اس رسی کو کہتے ہیں جس کے ساتھ دو یا دو سے زیادہ اونٹوں کو باندھا جائے جیسے قرنت البعیر من البعیر ۔ میں نے اونٹ کو دوسرے اونٹ کے ساتھ ایک رسی سے باندھ دیا۔ قرنتہ (تفعیل) میں مبالغہ کے معنی پائے جاتے ہیں۔ وہ آدمی جو دوسرے کا ہم عمر ہو یا بہادری یا دوسرے اوصاف میں کسی کا ہم پلہ ہوا سے اس کا قرن کہتے ہیں۔ اسی سے قرین بمعنی ساتھ، ہم نشین ہے۔ مقرنین۔ باہم کس کر مضبوطی سے باندھے گئے۔ جکڑے ہوئے۔ اصفاد۔ زنجیریں ۔ بیڑیاں۔ صفد اور صفاد کی جمع۔
Ayah 14:50

سَرَابِیْلُهُمْ مِّنْ قَطِرَانٍ وَّ تَغْشٰى وُجُوْهَهُمُ النَّارُۙ Open ayah 14:50 in the Quran reader

ان کے کرتے گندھک کے ہوں گے اور انکے من ہوں کو آگ لپٹ رہی ہوگی۔

(14:50) سرابیل۔ کرتے ۔ پیراہن۔ قمیصیں۔ سربال کی جمع۔ قطران۔ رال۔ تارکول۔ گندھگ۔ تغشی۔ مضارع واحد مؤنث غائب۔ وہ ڈھانکے لیتی ہے۔ وہ ڈھانک لے گی۔ غشی وغشایۃ (باب سمع) بمعنی ڈھانکنا۔ چھپانا۔ تغشی وجوہہم النار۔ آگ ان کے چہروں کو چھپائے ہوئے ہوگی۔
Ayah 14:51

لِیَجْزِیَ اللّٰهُ كُلَّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 14:51 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ خدا ہر شخص کو اسکے اعمال کا بدلہ دے۔ بیشک خدا جلد حساب لینے والا ہے۔

(14:51) لیجزی۔ تاکہ وہ بدلہ دے۔ (جزا دے) لام تعلیل یجزی واحد مذکر غائب۔ جزی یجزی (باب ضرب) ۔
Ayah 14:52

هٰذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ وَ لِیُنْذَرُوْا بِهٖ وَ لِیَعْلَمُوْۤا اَنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّ لِیَذَّكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 14:52 in the Quran reader

یہ (قرآن) لوگوں کے نام (خدا کا پیغام) ہے تاکہ ان کو اس سے ڈرایا جائے اور تاکہ وہ جان لیں کہ وہی اکیلا معبود ہے اور تاکہ اہل عقل نصیحت پکڑیں۔

(14: 52) ھذا ۔ ھذا القران ۔ یہ قرآن۔ بلغ۔ بلغ یبلغ بلغا۔ (باب نصر) مصدر۔ البلغ۔ کے معنی مقصد اور منتہیٰ کے آخری حد تک پہنچنے کے ہیں۔ عام اس سے کہ وہ مقصد کوئی مقام ہو یا زمانہ۔ یا اندازہ کئے ہوئے امور میں سے کوئی امر ہو۔ مگر کبھی محض قریب تک پہنچنے پر بھی بولا جاتا ہے گو انتہا تک نہ بھی پہنچا ہو۔ چناچہ انتہا تک پہنچنے کے معنی میں قرآن مجید میں ہے۔ حتی اذا بلغ اشدہ وبلغ اربعین سنۃ۔ (46:15) یہاں تک کہ جب خوب جوان ہوتا ہے اور چالیس برس کو پہنچ جاتا ہے۔ بلغ۔ کے معنی کافی ہونے کے بھی آتا ہے۔ مثلاً ان فی ھذا لبلغا لقوم عبدین۔ (21:106) عبادت کرنے والے لوگوں کے لئے اس میں (خدا کے حکموں کی) پوری پوری تبلیغ ہے۔ ھذا بلغ للناس۔ (آیۃ ہذا) یہ (قرآن) لوگوں کے نام (خدا کا) پیغام ہے۔ ولینذروا۔ معطوف ہے محذوف پر یعنی لینصخوا ولینذروا۔ تاکہ انہیں نصیحت کی جائے اور ان کو ڈرایا جائے۔ بہ میں ہٖ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع بلغ ہے یعنی اس قرآن کے ذریعہ سے۔ ولیذکر۔ مضارع واحد مذکر غائب تذکر (تفعل ) مصدر اصل میں یتذکر۔ اولوا الالباب۔ صاحب عقل۔ اہل فہم۔ عقل وفہم والے۔