Ayah 13:41(13: 41) تاتی۔ اتی یاتی (باب ضرب) اتیان مصدر۔ مضارع جمع متکلم۔ ہم آتے ہیں۔ ہم چلے آتے ہیں۔ اتیان کے معنی ” آنا “ کے ہیں خواہ کوئی بذاتہٖ آئے یا اس کا حکم پہنچے۔ یا اس کا نظم ونسق اور حکم عملاً جاری ہو۔ جیسے فاتی اللہ بنیانہم من القواعد (16:26) سو اللہ نے ان کی ساری عمارت جڑ سے اکھاڑ دی۔ اتیتہ بکذا واتیتہ کذا۔ کے معنی کوئی چیز لانا اور دینا کے ہیں۔
ننقصھا۔ ننقص۔ مضارع جمع متکلم۔ نقص مصدر (باب نصر) ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب۔ ہم اس کو کم کرتے ہیں
انا ناتی الارض ننقصھا من اطرافھا۔ میں ننقصھا من اطرافھا حال ہے ناتی کا۔ یعنی ہم زمین کو اس کی تمام طرفوں سے کم کرتے چلے آتے ہیں۔ (یہاں اتیان مصدر اس معنی میں استعمال ہوا ہے جس طرح (16:26) متذکرہ بالا میں) مطلب یہ کہ اہل کفار کے علاقے آہستہ آہستہ اہل اسلام کے اثرونفوذ میں چلے آرہے ہیں (علاقوں سے جغرافیائی۔ اعتقادی۔ تمدنی۔ سبھی حدود مراد لی جاسکتی ہیں) ۔
معقب۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ تعقیت (تفعیل) سے عقب مادّہ۔
ردکر دینے والا۔ لوٹا دینے والا۔ لا معقب لحکمہ ۔ اللہ کے فیصلہ کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا اور نہ اس پر بحث کرسکتا ہے۔ یہ عقب الحاکم علی حکم من قبلہ۔ کے محاورہ سے ماخوذ ہے۔ یعنی حاکم نے اپنے پیشرو کے خلاف فیصلہ دے دیا۔ (الکشاف) نیز ملاحظہ ہو 13:11 ۔ اور 13:22) ۔
Ayah 13:42(13:42) مکر۔ ماضی واحد مذکر۔ اس نے تدبیر چلی۔ اس نے چال چلی۔ اس نے حیلہ سے کام لیا۔ المکر۔ حیلہ۔ تدبیر۔ چال۔ اچھے کام کے لئے ہو تو محمود۔ برے کام کے لئے ہو تو مذموم ۔
عقبی الدار۔ ملاحظہ ہو 13:22 ۔ نیک انجام۔
Ayah 13:43(13:43) مرسلا۔ اسم مفعول ۔ واحد مذکر منصوب۔ ر س ل۔ مادّہ ۔ بھیجا ہوا۔ پیغامبر پیغمبر رسول۔
کفی ۔ ماضی۔ واحد مذکر غائب۔ (باب ضرب) صیغہ ماضی کا ہے لیکن مراد استمرار ہے۔ کفایۃ مصدر۔ اور اسم مصدر بھی ہے الکفایۃ ہر وہ چیز جس سے ضرورت پوری ہوجائے۔ اور مراد حاصل ہوجائے اور مزید حاجت نہ رہے۔
کفی باللہ شھیدا (گواہ ہونے کے لئے اللہ تعالیٰ ہی کافی ہے) میں ب زائدہ ہے۔ بغیر باء کے انہی معنوں میں قرآن مجید میں ہے وکفی اللہ المؤمنین القتال (33:5) اور خدا مؤمنوں کے لئے جنگ کی ضروریات کے سلسلے میں کافی ہوا۔ اور انا کفینک المستھزء ین (15:95) ہم تمہیں ان لوگوں کے شرّ سے بچانے کے لئے جو تم سے استہزاء کرتے ہیں کافی ہیں۔
ومن عندہ دلم الکتاب۔ وائو حرف عطف ۔ من اسم موصول عندہ علم من الکتب۔ صلہ۔ صلہ وموصول مل کر معطوف۔ اللہ معطوف علیہ۔ (اور وہ جس کے پاس کتاب کا علم یعنی اللہ تعالیٰ ) الکتاب سے مراد لوح محفوظ ہے۔
اس کے متعلق علماء کے مختلف اقوال ہیں۔ بعض کے نزدیک من عندہ علم من الکتب سے مراد علمائے اہل کتاب ہیں۔ اور الکتاب سے مراد توریت و انجیل ہے بعض کے مطابق مومنین ہیں جو قرآن حکیم کا علم رکھتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں من عندہ سے مراد جبرائیل (علیہ السلام) ہیں۔