Ayah 11:81(11:81) لن یصلوا الیک یہ (لوگ) تجھ تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ ای لن یصلوا الیک بضرر ولا مکروہ۔ یعنی وہ تمہیں کوئی گزند یا تکلیف نہیں پہنچا سکیں گے۔
اسر۔ تو رات کو لے کر چل۔ اسراء سے جس کے معنی رات کو لے کر چلنے کے اور رات کو سفر کرنے کے ہیں۔ امر ۔ واحد مذکر حاضر۔ قرآن مجید میں ہے سبحان الذی اسری بعبدہ لیلا (17:1) پاک ہے وہ ذات جو لے گیا اپنے بندہ کو راتوں رات۔
بقطع من اللیل۔ القطع فی اخر الیل۔ رات کے پچھلے حصہ میں وقیل من اول الیل۔ رات کے پہلے حصہ میں۔ لا یلتفت۔ نہی واحد مذکر غائب۔ التفات (افتعال) مصدر۔ لفت مادہ مڑ کر نہ دیکھے ۔
الا امرأتک۔ الا۔ حرف استثناء امرأتک مضاف مضاف الیہ مل کر مستثنیٰ ۔ اہلک۔ مستثنیٰ منہ۔ یعنی رات کو اپنے گھر والوں کو لے کر چل پڑو ماسوائے اپنی بیوی کے (یعنی اس کو نہ لے جانا) ۔ مصیبھا۔ اسم فعل واحد مذکر۔ مضاف۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب مضاف الیہ۔ اس کو پالینے والا۔ اس پر پہنچ جانے والا۔ اصاب یصیب سے۔
موعدہم۔ موعد اسم ظرف زمان ۔ مضاف ۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب مضاف الیہ ان کے وعدہ کا وقت۔
Ayah 11:82(11:82) سجیل۔ کنکر۔ فارسی سنگ وگل ۔ جو عربی میں آکر سجیل بن گیا۔ سجیل کا لفظ سجل سے بنا ہے بمعنی جاری کرنا۔ دے دینا۔ یعنی ہر پتھر دیا ہوا یا بھیجا ہوا تھا۔ یا سجل سے بنا ہے بمعنی لکھا ہوا۔ یعنی اللہ نے پتھروں پر لکھ دیا تھا۔ بعض نے کہا ہے کہ سجیل اصل میں سجین تھا ن کو ل میں بدلا گیا۔ دوزخ کا ایک طبقہ۔
منضود۔ اسم مفعول۔ واحد مذکر۔ تہ برتہ۔ نضدت المتاع بعضہ علی بعض کے معنی ہیں سامان کو قرینے سے اوپر نیچے رکھنا۔ قرینے سے رکھے ہوئے سامان کو منضود یا نضد کہتے ہیں۔ جس تخت پر سامان جوڑ کر رکھا جائے اسے بھی نضید کہتے ہیں۔ اس سے استعارۃ فرمایا طلع نضید (50:10) جن کا گابھا تہ برتہ ہوتا ہے۔ یا طلح منضود (56:29) اور تہ بر تہ کیلوں۔
Ayah 11:83(11:83) مسومۃ۔ اسم مفعول واحد مؤنث تسویم (تفعیل) مصدر۔ نشان زدہ حجارۃ کی صفت ہے۔ سیمۃ۔ سومۃ وسیما۔ علامت ۔ نشانی۔ ھی۔ ضمیر واحد مؤنث غائب حجارۃ مسومۃ کی طرف راجع ہے۔
Ayah 11:84(11:84) لا تنقصوا۔ فعل نہی۔ جمع مذکر حاضر۔ نقص (باب نصر) سے تم مت گھٹائو۔ تم مت کم کرو۔ المکیال۔ اسم آلہ۔ مفرد۔ غلہ کو ماپنے کا پیمانہ۔ کیل۔ مصدر۔ (باب ضرب) فاوف لنا الکیل۔ (12:88) آپ ہمیں (اس کے عوض) پورا ماپ غلہ کا دیجئے۔
المیزان۔ اسم آلہ ۔ وزن کرنے کا آلہ ۔ ترازو۔ مصدر۔ وزن کرنا۔ (باب ضرب) جمع موازین۔ انی ارکم بخیر۔ میں دیکھتا ہوں تم بخیر ہو۔
(1) یعنی تم صاحب مال و دولت ہو۔ تمہیں ڈنڈی مارنے اور کم ماپنے یا تولنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
(2) میں تم کو اچھا بھلا خوشحال پاتا ہوں لہٰذا تم اپنی مذموم حرکات اور افعال سے یہ خداداد نعمت زائل مت کرو۔
یوم محیط۔ وہ دن جو مجرم کو ہر طرف سے گھیر کر اسے مجبور اور بےبس کر دے گا۔ عذاب یوم محیط۔ اس دن کا عذاب جو ہر چیز کو گھیرنے والا ہے۔
روح البیان میں ہے وصف الیوم بالاحاطۃ والمراد العذاب۔ محیط لفظاً یوم کی صفت ہے لیکن مراد اس سے عذاب ہے یعنی میں ڈرتا ہوں اس دن سے کہ تم پر عذاب محیط آجائے۔
Ayah 11:85(11:85) اوفوا۔ ایفاء (افعال) اوفی یوفی ایفائ۔ وفی (لفیف مفروق) فعل امر جمع مذکر حاضر۔ تم پورا کرو۔ ولا تبخسوا۔ فعل نہی۔ جمع مذکر حاضر۔ تم کم نہ دو ۔ بخس سے باب فتح۔
ولا تعثوا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ تم فساد نہ کرو۔ العیث والعثی۔ سخت فساد پیدا کرنا۔ جس فساد کا ادراک حسی ہو عیث وعثو کہلاتا ہے اور جس فساد کا ادراک حکمی ہوا سے عشی کہتے ہیں۔ عیث وعثو۔ باب نصر کے مصدر ہیں اور عثی وعثی (باب سمع) کے۔ دوسری جگہ قرآن مجید میں بھی آیا ہے ولا تعثوا فی الارض مفسدین (2:160) اور ملک میں فساد اور انتشار مت پیدا کرو
Ayah 11:86(11:86) بقیت اللہ۔ ای ما ابقی اللہ لکم من الحلال۔ حلال کی روزی اللہ جو بحث دیوے۔ (ھو) خیرلکم (مماتاخذونہ بالتطفیف) وہ بہتر ہے تمہارے لئے اس بحث سے جو تم ڈنڈی مار کر حاصل کرو۔
Ayah 11:87(11:87) اصلوتک تامرک (مخول سے کہتے ہیں کیا) تمہاری نماز میں تمہیں یہی حکم دیتی ہے ۔ او ان نفعل فی اموالنا ما نشؤ۔ ای اوان نترک فعلنا فی اموالنا ما نشؤ۔ (کہ ہم اپنے مالوں میں اپنی مرضی کے مطابق تصرف کرنا چھوڑدیں۔ الکشاف ذیلی نوٹ نمبر 3)
انک لانت الحلیم الرشید۔ الحلیم۔ بردباد ۔ تحمل والا۔ باوقار۔ الحلم سے جس کے معنی ہیں نفس و طبیعت پر ایسا ضبط رکھنا کہ غیظ وغضب کے موقع پر بھڑک نہ اٹھے۔ بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے اس کی جمع احلام ہے۔ آیت ام تأمرہم احلامہم (52:32) میں بعض کے نزدیک عقلیں مراد ہیں۔ اصل میں حلم کے معنی متانت کے ہیں مگر چونکہ متانت بھی عقل کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ اس لئے حلم کا لفظ بول کر عقل مراد لیتے ہیں جیسا کہ مسبب بول کر سبب مراد لے لیا جاتا ہے۔ آیت ہذا میں اکثر مفسرین نے حلیم کے معنی عقل مند دانا لیا ہے گو بعض نے اس کے اصلی معنوں میں لیا یعنی بردبار۔ تحمل والا۔ جو دوسروں کے گناہ اور غلطیوں کو تحمل کے ساتھ برداشت کرے۔
الرشید۔ نیک چال ۔ راست باز۔ شائستہ۔ رشد سے بروزن فعیل بمعنی فاعل ہے۔ الرشد والرشد۔ غی کی ضد ہے۔ اور ہدایت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے باب نصر۔ سمع۔ دونوں سے آتا ہے۔ اس جملہ کا لفظی ترجمہ یوں ہے۔ تحقیق تو بڑا عقلمند اور راستباز دیندار ہے۔ لیکن یہ الفاظ استہزاء کہے گئے ہیں مراد ان کی ان صفات کی ضد ہے یعنی تم تو بڑے احمق اور کج راہ ہو یہ ایسے ہی ہے جیسے ہم کسی کنجوس مکھی چوس کو کہیں کہ کیا کہنے تمہاری سخاوت کے اگر حاتم طائی بھی تمہیں دیکھ لے تو تمہارے آگے سجدہ میں گرپڑے۔
یا یہ کہ تم تو اچھے بھلے سمجھ دار اور دیندار آدمی ہو تم سے ایسی باتوں کی امید نہ تھی۔ کہ طعن و تشنیع کا نشانہ ہمیں ہی بنائو۔ یا یہ کہ تم تو بردباد حلیم الطبع اور راست رو آدمی ہو جو دوسروں کی غلطیاں دیکھ کر تحمل سے کام لیتا ہے لیکن تم ہو کہ ان صفات سے متصف ہوتے ہوئے بھی ہمیں نکتہ چینی کا ہدف بناتے ہو۔
Ayah 11:88(11:88) ارء یتم۔ جب ہمزہ استفہام رایت پر داخل ہوتا ہے تو اس حالت میں رؤیت کا آنکھوں یا دل سے دیکھنے کے معنی میں آنا ممنوع ہوتا ہے اور ارایت کے معنی ہوتے ہیں اخبرنی لہٰذا ارایتم بمعنی اخبرونی ہے بھلا مجھے یہ تو بتائو۔
منہ۔ من لدنہ۔ اپنی (خدا) کی طرف سے۔
رزقا حسانا۔ عمدہ زروی۔ رزق حلال، نجس اور تطفیف سے مبرا یا اس سے مراد نبوت و رسالت ہے جو حضرت شعیب (علیہ السلام) کو عطا ہوئی تھی۔ ارأیتم ان کنت علی بینۃ من ربی ورزقنی منہ رزقا حسنا۔ میں جواب شرط محذوف ہے۔ یعنی اخبرونی ان کنت علی ضھۃ واضحۃ و یقین من ربی وکنت نبیا علی الحقیقۃ ایصح لی ان لاامرکم بترک عبادۃ والاوثان ولکف عن المعاصی۔ بھلا بتاؤ تو سہی اگر میرے پاس میرے رب کی طرف سے واضح دلیل ہو اور میں سچا نبی منجانب اللہ ہوں تو کیا یہ درست ہوگا کہ میں تمہیں بت پرستی کو ترک کرنے اور گناہوں سے بچنے کے لئے نہ کہوں۔
اخالفکم۔ مخالفۃ (باب مفاعلۃ) سے مضارع واحد متکلم کا صیغہ ہے اور کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ میں تمہاری مخالفت کروں ۔ کہا جاتا ہے خالفی فلان عن کذا۔ جب کہ وہ اعراض کر دہا ہو اور تم اس چیز کا قصد کر رہے ہو۔ اور خالفنی الی کذا۔ جبکہ تم اعراض کرنے والے ہو اور وہ قصد کرنے والا ہو۔
ما انھکم عنہ۔ جس سے میں تم کو منع کرتا ہوں۔ ما ارید ان اخالفکم الی ما انھکم عنہ۔ میرا یہ مقصد نہیں کہ جس بات سے میں تم کو منع کرتا ہوں اس کا خود ارتکاب کروں۔ یعنی جس بات سے میں تم کو منع کرتا ہوں تمہیں راہ راست کی ترغیب دے کر الٹا اس بات کی طرف خود جھک جاؤں۔
توفیقی۔ مضاف مضاف الیہ۔ میری توفیق۔ میری مقدرت۔ مجھ سے بن آنا۔ توفیق کا معنی ہے اچھے مقصد کے حصول کے لئے اسباب کا مہیا کردینا۔ یعنی میری کامیابی انحصار محض اللہ کی اعانت و تائید پر ہے۔
انیب۔ اناب ینیب (افعال) انایۃ (بوب مادہ) سے مضارع واحد متکلم ۔ میں رجوع کرتا ہوں۔ النوب کسی چیز کا بار بار لوٹ کر آنا۔ ثلاثی مجرد میں باب نصر سے آتا ہے۔
Ayah 11:89(11:89) لایجرمنکم۔ فعل نہی واحد مذکر غائب بانون ثقیلہ تاکید جرم مصدر باب ضرب۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ ہرگز تم کو نہ اکسائے۔ شقاقی۔ مضاف مضاف الیہ۔ میری مخالفت۔ میری عداوت۔ شقاقی۔ بمعنی ضد۔ مخالفت۔ اپنے دوست کی شق کو چھوڑ کر دوسری شق میں ہونا۔
ان یصیبکم۔ مبادا کہ پہنچے تمہیں۔ ان بمعنی کہ۔ یصیب۔ واحد مذکر غائب مضارع منصوب بوجہ عمل ان۔ اصاب یصیب اصابۃ (باب افعال) کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ کہ تم کو مصیبت پہنچے۔
Ayah 11:90(11:90) ودود۔ صیغہ مبالغہ، محبت کرنے والا۔ ثواب دینے والا۔ الود۔ کے معنی ہیں کسی چیز سے محبت کرنا اور اس کے ہونے کی تمنا کرنا۔ ودیود (سمع) ود و مودۃ مصدر۔
Ayah 11:91(11:91) مانفقۃ۔ مضارع منفی جمع متکلم ۔ ہم نہیں سمجھتے۔ فقہ۔ مصدر۔ فقہ یفقہ (سمع) فقہ۔ الثقۃ کے معنی علم حاضر سے علم غائب تک پہنچنے کے ہیں اور یہ علم سے اخص ہے۔ قرآن میں ہے فمال ھؤلاء القوم لایکادون یفقھون حدیثا (4:78) ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ بات ہی نہیں سمجھ سکتے۔ علم الفقہ احکام شریعت کے جاننے کا نام ہے۔ فقہ سمجھ۔ دانش علم ۔ فقیۃ۔ عقل مند۔ دانشور۔ عالم دین۔ سمجھ دار۔
رھطک۔ مضاف مضاف الیہ۔ تیری برادری۔ تیرے بھائی بند۔ رھط بمعنی نفر۔ شخص قبیلہ۔ برادری۔ بھائی بند۔ نفر اور شخص کے معنوں میں آیا ہے۔ تسعۃ رھط یفسدون (27:48) تو آدمی تھے جو ملک میں فساد کرتے تھے۔ برادری۔ قطیلہ۔ بھائی بند کے معنوں میں آیت ہذا۔ اور اس سے اگلی آیت (11:92) یقوم ارھطی اعز علیکم من اللہ۔ اے میری قوم ! کیا میری برادری کے لوگ تمہیں (اللہ تعالیٰ سے زیادہ عزیز ہیں) ۔ اور آیت ہذا کا ترجمہ :۔ اگر تیری برادری کے لوگ نہ ہوتے تو ہم تجھے سنگسار کردیتے۔
علامہ قرطبی لکھتے ہیں :۔ رھط خاندان کے ان افراد کو کہتے ہیں جو کسی شخص کی تقویت کا باعث ہوں اور دکھ سکھ میں اس کے شریک ہوں۔ رھط الرجل عشیرتہ الذی یستند علیہم ویتقوی بھم۔
وما انت سلینا بعزیز۔ عزیز کے معنی محبوب۔ غالب۔ عزت والا۔ زبردست۔ قوی۔ گرامی قدر۔ سبھی ہیں۔ عزیز۔ فعیل کے وزن پر عزۃ سے بمعنی فاعل مبالغہ کا صیغہ ہے یعنی یہ تو ہمارا انتا لاڈلا ہے کہ ہم تیری زیادتیوں کو محبت کی خاطر برداشت کرتے رہیں۔ نہ تو ہم پر اتنا غالب اور اتنا طاقتور ہے کہ ہم اپنی کمزوری کے پیش نظر چپ رہیں۔ اور نہ تو اتنا معزز اور گرامی قدر ہے کہ ہم تیرا لحاظ کریں۔ ہم تو محض تیری برادری کی وجہ سے تیرا لحاظ کر رہے ہیں۔
Ayah 11:92(11:92) اعز۔ عز (بمعنی عزت) سے افعل التفضیل کا صیغہ ہے زیادہ عزت والا۔ زیادہ طاقت ور۔ علیکم۔ ای عندکم۔
اتخذتموہ۔ اصل میں اتخذتم تھا۔ ضمیر ہ کے اتصال کی بنا پر واؤ لایا گیا ہے تم نے اس کو ٹھہرایا۔ تم نے اس کو ڈال دیا۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع اللہ ہے۔
وراء کم۔ ورائ۔ مصدر ہے جس کا معنی آڑ۔ حد فاصل۔ کسی چیز کا آگے ہونا۔ پیچھے ہونا۔ علاوہ۔ اور سواء کے ہیں۔ فصل اور حد نبوی پر دلالت کرتا ہے۔ اس لئے سب معنی میں مستعمل ہے۔ ویکفرون بما وراء ہ (2:91) اور وہ انکار کرتے ہیں اس سے جو اس کے سوا ہے۔ نبذ فریق من الذین اوتوا الکتب کتب اللہ وراء ظھورہم (2:101) اہل کتاب میں سے ایک جماعت نے کتاب اللہ کو اپنی پشت کے پیچھے ڈال دیا۔ پھینک مارا۔ آیت ہذا می بھی پس پشت ڈالنے۔ ناقابل لحاظ اور ناقابل اعتناء سمجھنے کے معنی میں آیا ہے اور آگے ہونے کے معنی میں قرآن میں آیا ہے۔ وکان وراء ہم ملک یاخذ کل سفینۃ غصبا۔ (18:79) اور ان کے سامنے (کی طرف) ایک بادشاہ تھا جو ہر ایک کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا۔
اوٹ اور آڑ کے معنوں میں آیا ہے او من وراء جدر (59:14) یا دیواروں کی اوٹ میں۔
ظھریا۔ بھولا بسرا۔ فراموش شدہ۔ پیٹھ پیچھے ڈالا ہوا۔ علامہ زمخشری لکھتے ہیں کہ ۔ والظھری منسوب الی الظھرو الکسر من تغیرات النسب ونظیرہ فی قولہم فی التسبۃ الی امس۔ امسی۔ ظھری ظھر کی طرف منسوب ہے۔ اور کسرہ نسبت کے تغیرات میں سے ہے۔ جیسے کہ امس (کل گزشتہ) کی نسبت کرتے ہیں تو امسی بولتے ہیں۔ منتہی الارب میں ہے امسی بکسر ہمزہ منسوب است بامس برخلاف قیاس۔ ظھریا منصوب بوجہ مفعول ہونے کے ہے یہ مفعول ثانی ہے۔ اتخذتموہ کی ہ ضمیر واحد مذکر غائب مفعول اول ہے۔
محیط۔ اسم فاعل واحد مذکر احاطۃ مصدر حوط مادہ باب افعال۔ ہر طرف سے گھیرے میں لے لینے والا۔
Ayah 11:93(11:93) اعملوا علی مکانتکم۔ (1) اپنے طریقہ کے مطابق عمل کرو۔ (2) اپنے حدّ امکان تک کوشش کرو (3) اپنی حالت کے مطابق کام کرو۔ (4) اپنی جگہ پر کام کرو۔
انی عامل۔ ای انی عامل علی مکانتی۔ یخزیہ۔ (جو) اس کو رسوا کرے گا۔
ارتقبوا امر جمع مذکر حاضر۔ ارتقاب مصدر باب افتعال۔ تم انتظار کرو۔ رقیب بروزن فعیل بمعنی فاعل۔ انتظار کرنیوالا، منتظر
Ayah 11:94(11:94) امرنا۔ ہمارا حکم۔ یعنی ہمارا عذاب۔ الصیحۃ۔ چیخ ۔ کڑک۔ ہولناک آواز ۔ ( ملاحظہ ہو 11:67)
جثمین۔ اوندھے پڑے ہوئے۔ (ملاحظہ ہو 11:67)
Ayah 11:95(11:95) کان لم یغنوا فیہا۔ (ملاحظہ ہو 1:68) ۔ بعدا۔ دوری۔ ہلاکت (نیز ملاحظہ ہو 11:44) ۔ بعدث۔ وہ تباہ ہوئی۔ اس پر لعنت ہوئی وہ دور ہوئی (باب سمع) بعد مصدر۔ ماضی واحد مؤنث غائب۔
Ayah 11:96(11:96) بایتنا۔ وہی الایات السنع (یہ نو نشانیاں تھیں) (1) العصا۔ (2) الید البیضأ۔ (3) الطوفان۔ (4) الجراد (مڈی) (5) القمل غلہ کو کھا جانے والا کیڑا چچڑی۔ (6) الضفادع (مینڈک) ۔ (7) الدم (خون) ۔ (8) النقص من الثمرات (پھلوں میں کمی) ۔ (9) النقص من الانفس (جانوروں کی تلفی)
سلطن مبین۔ برھان مبین۔ برہان قاطع ۔ حجۃ باہرہ۔ صریح دلیل۔ کھلی سند (یعنی معجزہ) مادہ سلط (ثلاثی مجرد) یا سلطن (رباعی مجرد) ۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ قرآن مجید میں ہر ایک جگہ سلطن سے حجت مراد ہے۔
Ayah 11:97(11:97) ملائہ۔ اس کے سرداروں کی جماعت۔ الملأ اسم جمع معرف باللام۔ ملأ۔ بمعنی بھر دینا۔ قوم کے سردار اور اہل الرائے اشخاص اپنی رائے کی خوبی اور ذاتی محاسن سے لوگوں کی خواہش کو بھر دیتے ہیں یا آنکھوں میں روشنی اور دلوں میں ہیبت بھر دیتے ہیں اسی لئے ان کو ملأ کہتے ہیں۔ نیز ملاحظہ ہو 11:87) ۔
رشید ۔ ہدایت والی راہ۔ درست۔ اور فرعون کی بات کچھ راہ کی بات تو تھی ہی نہیں ۔ نیز ملاحظہ ہو 11:87 ۔
Ayah 11:98(11:98) یقدم قومہ۔ مضارع واحد مذکر غائب قدوم مصدر باب نصر۔ وہ پیشوائی کریگا وہ آگے آگے ہوگا۔ اپنی قوم سے۔
اودرہم۔ اور د۔ ایدار (افعال) سے ماضٰ واحد مذکر غائب اس نے پہنچایا۔ وہ لے آیا۔ اس نے لاڈلا۔ ایراد کے اصل معنی گھاٹ پر لانے کے ہیں مگر بعد میں اس کا استعمال مطلق حاضر کرنے اور لے آنے کے لئے ہونے لگا۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب وہ ان کو لاڈالے گا آتش (جہنم) میں۔ الورد۔ اسم ۔ اترنے کی جگہ۔ وارد ہونے کی جگہ۔ پانی کا گھاٹ۔ یا گھاٹ کا پانی۔ پانی کا حصہ اس کا مصدر ورود ہے جس کا معنی ہے پانی کی تلاش میں جانا۔ قصد کرنا۔ پھر ہر جگہ کا قصد کرنے پر بولا جاتا ہے اور پانی پر پہنچنے والے کو وارد کہتے ہیں اور اس کو بھی کہتے ہیں جو قافلے کے آگے جاکر پانی کی تلاش کرتا ہے اور مہیا کرتا ہے۔ جیسے قرآن میں ہے فارسلوا واردھم (12:19) اور انہوں نے (پانی کے لئے) اپنا سقہ بھیجا۔
المورود۔ ورد کی صفت ہے مفعول کے وزن پر ۔ یعنی وارد ہونے کی جگہ ۔ جس جگہ کا (پانی کے لئے) قصد کیا گیا ہو۔ ورد المورود۔ پانی کا وہ حصہ یا جگہ جسے قصداً (تلاش کرکے حاصل کیا گیا ہو۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں :۔ ولورد نصیب من الماء والمورود صفتہ والمخصوص بالذم محذوف وھو النار۔ ورد کا معنی ہے پانی کا حصہ ۔ یہ موصوف ہے اور المورود اس کی صفت ہے اور مخصوص بالذم محذوف ہے ۔ اور وہ النار (آتش جہنم ہے) ورد اور مورود دونوں مل کر بئس کا فاعل ہیں تفسیر ماجدی میں اس کا ترجمہ یوں کیا گیا ہے :۔ اور بری ہے وہ جگہ اترنے کی جہاں یہ اتارے جائیں گے۔ کیا ہی برا ہے وہ گھاٹ پانی کا جہاں وہ لوگ اپنی پیاس بجھانے کیلئے لیجائے جائیں گے۔
Ayah 11:99(11:99) اتبعوا۔ ماضی مجہول جمع مذکر غائب اتباع (افعال) مصدر۔ ان کے پیچھے لگا دیا گیا۔ ان کا پیچھا کیا جاتا رہے گا۔ (ماضی بمعنی مضارع) لعنۃ۔ لعنت اور پھٹکار کے ساتھ ۔ یعنی ان پر لعنت بھیجی جاتی رہے گی۔
فی ھذہ۔ ای فی الدنیا۔
الرفد (باب نصر) کے معنی عطا اور مدد کے ہیں۔ رفد یرفد (باب ضرب) مدد دینا۔ عطا کرنا۔ مرفد اس چیز کو کہتے ہیں جس میں عطیہ ڈال کردیا جائے اسی بناء پر مرفد بمعنی پیالہ بھی آتا ہے۔ الرفد۔ عطیہ۔ انعام۔ بخشش۔ مدد۔ ارفاد۔ رفود۔ جمع۔ الموفود۔ اسم مفعول واحد مذکر۔ عطا کی گئی ۔ انعام میں دی گئی۔ بئس الرفد المرفود۔ بہت ہی برا عطیہ ہے جو انہیں دیا جائے گا۔
Ayah 11:100(11:100) ابناء القری۔ ابناء بنأ کی جمع۔ خبریں۔ حقیقیں۔ القری قریۃ کی جمع ہے۔ بستیاں۔ دیہات۔
منھا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب القری کے لئے ہے۔
قائم ۔ آباد۔ حصید حصاد سے بروزن فعیل بمعنی مفعول صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ کھیتی کٹی ہوئی۔
الحصد والحصاد۔ کے معنی کھیتی کاٹنے کے ہیں ۔ آیت واتوا حقہ یوم حصارہ (6:141) اور جس دن پھل توڑو اور کھیتی کاٹو خدا کا حق بھی اس میں سے ادا کرو۔ میں وہ کھیتی مراد ہے جو اس کے صحیح وقت پر کاٹی گئی ہو۔ لیکن آیت فجعلناھا حصیدا کان لم تغن باالامس (10:24) تو ہم نے کاٹ کر ایسا کر ڈالا کہ گویا وہاں کل کچھ تھا ہی نہیں۔ میں حصید سے مراد وہ کھیتی ہے جو کہ بےوقت فساد اور تباہی کی غرض سے کاٹی گئی ہو۔ اسی طرح آیت ہذا میں بھی حصید سے مراد بتاہ اور برباد کردی ہوئی بستیاں ہیں۔
منھا قائم وحصید ان میں سے بعض تو قائم ہیں اور بعض کا تہس نہس ہوگیا۔
Ayahs 11:101–102فما اغنت عنھم ۔۔ من شیٔ ان کے کسی کان نہ آئے۔ یعنی اللہ کے عذاب سے کچھ بچت بھی کہ کرسکے۔
لما۔ جب۔ تتبیب۔ خسارہ میں رہنا۔ گھاٹا میں رہنا۔ تباہ و برباد کرنا۔ ہلاک کرنا۔ خسارہ۔ تباہی و بربادی ۔ ہلاکت۔ التب والتباب (ضرب) کے معنی مسلسل خسارہ میں رہنے کے ہیں۔ قرآن مجدی میں ہے تبت یدا ابی لہب (111:1) ابو لہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹیں۔ (یعنی وہ ہمیشہ خسارے میں رہے) ۔
Ayah 11:103(11:103) فی ذلک میں اشارہ ان امتوں کے قصوں کی طرف ہے جو اپنی نافرمانی اور عصیاں کی وجہ سے برباد ہوگئیں اور جن کا ذکر خدا تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ اور ذلک یوم میں اشارہ یوم القیامۃ کی طرف ہے۔
لہ۔ اس (دن) میں مجموع لہ الناس اس دن (روز قیامت) کل انسان جمع کئے جائیں گے۔
المشھوداسم مفعول واحد مذکر۔ حاضر کیا گیا۔ المشھود والشھادۃ کے معنی کسی چیز کے مشاہدہ کرنے کے ہیں خواہ بصر سے ہو یا بصیرت سے ہو اور صرف حاضر ہونے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے جیسے عالم الغیب والشھادۃ (59:12) پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا۔ لیکن اولیٰ یہ ہے کہ شھود کے معنی صرف حاضر ہونا ہوں اور شھادۃ میں حاضر ہونے کے ساتھ مشاہدہ کا بھی اعتبار کیا جائے۔ یہاں مشھود بمعنی مشھود فیہ ہے۔ (جب کہ ہ ضمیر واحد مذکر غائب یوم کیلئے ہے) یعنی وہ دن جب تمام انسان حاضر کئے جائیں گے
Ayah 11:104(11:104) وما نؤخرہ۔ ہم نے اس (یوم قیامت) کو ملتوی نہیں کر رکھا الا (مگر) لاجل معدود۔ ایک وعدہ کے لئے جو مقرر شدہ ہے
Ayah 11:105(11:105) یوم۔ ای اذکر یوم۔ یعنی بوجہ اذکر منصوب ہے۔
یات۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ اتیان مصدر۔ (باب ضرب) اصل میں یاتی تھا۔ مقام شرط میں واقع ہونے کی وجہ سے یا کو حذف کردیا گیا۔ فعل لازم ہے (اگر اس کے بعد مفعول پر باء آئے تو فعل متعدی ہوتا ہے) ۔ یات کا فاعل کون ہے ؟ اس کے متعلق صاحب الکشاف لکھتے ہیں :۔ فان قلت فاعل یاتی ماھو ؟ قلت اللہ عزوجل۔ اس صورت میں یوم یأت کا ترجمہ ہوگا۔ (یاد کرو وہ) دن جب اللہ تعالیٰ جلوہ افروز ہوگا۔
اور مدارک التنزیل میں ہے۔ فاعل یأت ضمیر یرجع الی قولہ یوم مجموع لہ الناس۔ یعنی اس فعل کا فاعل وہ دن ہے جس دن تمام انسان جمع کئے جائیں گے۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا :۔ (یاد کرو دہ) دن جب حشر کا دن آئے گا۔
لاتکلم۔ مضارع منفی واحد مؤنث غائب ” وہ نہیں بولے گی۔ وہ بات نہیں کرے گی “۔ تکلم (تفعل) سے۔ اصل میں تتکلم تھا۔ ایک تاء حذف ہوگئی (کوئی شخص بول نہ سکے گا) ۔
الا باذنہ۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع اللہ ہے۔ جیسا کہ دوسری جگہ قرآن مجید میں آیا ہے۔ لا یتکلمون الا من اذن لہ الرحمن (78:38) کوئی نہ بول سکے گا بجز اس کے کہ جس کو خدائے رحمن اجازت دے۔
فمنھم۔ من تبعیضیہ ہے۔ یعنی ان میں سے بعض ۔ من جار۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب الناس۔ کے لئے جو مجموع لہ الناس میں مذکور ہے۔ یعنی اہل محشر۔ مجرور۔ جار مجرور مل کر خبر مقدم شقی۔ مبتدا فمنہم شقی۔ ان میں سے بعض شقی ہوں گے۔
شقی۔ شقاوۃ سے بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ اس کی جمع اشقیاء ہے۔ الشقاوۃ بدبختی۔ یہ سعادت کی ضد ہے۔ شقی (سمع) شقوۃ وشقاوۃ وشقاء کے معنی بدبخت ہونے کے ہیں۔ غلبت علینا شقوتنا (23:106) ہم پر ہماری بدبختی غالب ہوگئی۔ یہاں آیۃ ہذا میں شقی سے مراد الذی وجبت لہ النار لاساء تہ جس کی بداعمالیوں کی وجہ سے جہنم اس پر واجب ہوگئی۔ اسی طرح العید الذی وجبت لہ الجنۃ لاحسانہ۔ سعید وہ جس پر اس کے نیک اعمال کے سبب جنت واجب ہوگئی۔ خوش نصیب ۔ خوش بخت۔ سزادار جنت۔
Ayah 11:106(11:106) شقوا۔ شقاوۃ سے ماضی جمع مذکر غائب۔ وہ بدبخت ہوئے۔ فیہا۔ ای فی النار۔
زفیر۔ چلانا۔ زفر یزفر (ضرب) کا مصدر ہے۔ زفیر اور زھیق دونوں گدھے کی آوازیں ہیں۔ قال الحضاک والمقاتل والفراء الزفیر اول نھیق الحمار والشھیق اخرہ۔ زفیر گدھے کی شروع کی آواز ہے اور شہیق اس کی آخری آواز ہے
الخازن بغدادی لکھتے ہیں :۔ الزفیر تردید النفس فی الصدر حتی تنتفخ منہ الضلوع والشھیق رد النفس الی الصدر۔ زفیر سانس کا سینہ میں اندر باہر آنا جانا ہے (اس شدت سے) کہ پسلیاں اس سے پھولنے لگیں۔ اور شہیق سانس کا سینہ کے اندر لے جانا ہے۔ (والزفیر مذہ واخراجہ من الصدر) اور زفیر سانس کو کھینچ کر سینہ سے باہر نکالنا ہے۔ مراد یہ ہے کہ اہل دوزخ طرح طرح کی دردناک آوازوں میں چیختے چلاتے رہیں گے۔
شھیق۔ دھاڑنا۔ چلانا۔ مصدر ہے۔ شھیق یشھق (ضرب) گدھے کا آواز نکالنا۔ نیز باب سمع اور فتح سے بھی آتا ہے۔
Ayah 11:107(11:107) فعال۔ صیغہ مبالغہ فاعل سے۔ زبردست کام کرنے والا۔ خودمختاری سے کرنے والا۔
Ayah 11:108(11:108) سعدوا۔ سعد سے ماضی مجہول جمع مذکر غائب وہ نیک بخت بنائے گئے۔ (باب فتح) سعد (باب فتح) کے معنی نیک بخت کرنا۔ میں اہل لغت نے اختلاف کیا ہے۔ بعض نے آیۃ ہذا سے استدلال کرتے ہوئے ان معنوں کو جائز رکھا ہے لیکن محققین اہل لغت نے اس سے انکار کیا ہے ان کا بیان ہے کہ ان معنی میں عرب کا محاورہ اسعدہ اللہ (اللہ اس کو نیک بخت کرے) ہے۔ اور یہ کہ سعادۃ۔ شقاوۃ کی طرح لازم ہے۔
سیبویہ نے کہا ہے کہ یہ لغت قیاس سے خارج ہے ۔ یا یہ باب فعل فعلتہ سے ہوگی یعنی لازم بھی اور متعدی بھی۔ جیسے کہ غاض وہ گھٹ گیا۔ اور غضتہ میں نے اس کا گھٹا دیا۔ اسی طرح سعد وہ نیک بخت ہوا۔ اور سعدتہ میں نے اس کو نیک بخت کیا۔ لیکن لغت الفرائد الدریہ اور لغت المنجد میں سعد (باب سمع) اور سعد کا مصدر سعارۃ لکھا ہے۔ بمعنی نیک بخت ہونا۔ خوش نصیب ہونا۔
صاحب روح المعانی لکھتے ہیں ۔ وذکران الفراء حکی ان ھذیلا تقول : سعدہ اللہ بمعنی اسعدہ۔ یعنی قبیلہ ہذیل کے لوگ سعد کو بمعنی اسعد بولتے ہیں یعنی بطور فعل متعدی لیتے ہیں۔ پس سعدوا (بصورت فعل مجہول) کے معنی ہوں گے۔ وہ نیک بخت بنائے گئے۔ بصورت فعل لازم ۔ جو نیک بخت ہیں۔
عطائ۔ عطاء بخشش۔ عطیہ۔ انعام ۔ صلہ۔ اس کی جمع اعطیۃ اور اعطیات ہے۔ عطاء اعطاء سے اسم ہے اس کی اصل عطاء تھی (کیونکہ اس کا مادہ عطو ہے) مگر اہل عرب کا دستور ہے کہ جب الف کے بعد واؤ اور یاء آتے ہیں تو ان کو ہمزہ بنا لیتے ہیں۔ جیسے رد ای سے ردائ۔ عطاء یہاں بطور مصدر استعمال ہوا ہے۔ تقدیر کلام یوں ہے اعطوا ۔ عطاء اور حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔
غیر مجذود۔ مجذوذ۔ اسم مفعول واحد مذکر۔ جذ مصدر۔ باب نصر۔ منقطع ۔ غیر مجذوذ غیر منقطع۔ دوامی۔ لازوال ۔ الجذ کے اصل معنی کسی چیز کو توڑنے اور ریزہ ریزہ کرنے کے ہیں۔ اور پتھر یا سونے کے ریزوں کو جذاذ کہا جاتا ہے۔ اسی معنی میں قرآن میں آیا ہے۔ فجعلہم جذاذا (21: 158) پھر ان کو توڑ کر ریزہ ریزہ کردیا۔
Ayah 11:109(11:109) فلاتک تو مت ہو۔ کون فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ تک اصل میں تکون تھا لاء نہی کے عمل سے واؤ حرف علت حذف ہوگیا اور نون کو خلاف قیاس حرف علت کے مشابہ مان کر کثرت استعمال کے سبب تخفیف کے لئے حذف کردیا گیا۔
مریۃ۔ المریۃ کے معنی کسی معاملہ میں تردد کرنے کے ہیں۔ اور یہ شک سے خاص ہوتا ہے فلا تک فی مریۃ مما یعبد ھؤلائ۔ سو یہ لوگ جو غیر خدا کی پرستش کرتے ہیں اس سے تم خلجان میں نہ پڑنا۔ یعنی مذہب شرک شک و تذبذب کا مستحق نہیں صاف صاف قطعی انکار کے قابل ہے۔
لموفوہم۔ لام تاکید کے لئے ہے موفوا اسم فاعل جمع مذکر۔ توفیۃ (تفعیل) مصدر وفی مادہ۔ اصل میں موفیون تھا۔
غیر منقوص۔ منقوصاسم مفعول واحد مذکر۔ نقص مصدر۔ (باب نصر) کم کیا ہوا غیر منقوص۔ پورا پورا ۔ بلاکم و کاست
نقص نقصان تنقاص مصدر۔ باب نصر۔ کم ہونا۔ کم کرنا۔ (لازم ومتعدی)
Ayah 11:110(11:110) لولا کلمۃ سبقت من ربک۔ اگر تیرے رب کی طرف سے پہلے ہی بات طے نہ ہوچکی ہوتی۔ اس میں کلمۃ اللہ سے اس حکم ازلی کی طرف اشارہ ہے جس کی حکمت الٰہی مقتضی تھی اور یہ کہ کلمات الٰہیہ کو کوئی تبدیل نہیں کرسکتا ۔ اور نہ ہی ان میں تغیر کی گنجائش ہوتی ہے۔ دوسری جگہ آیا ہے۔ ولولا کلمۃ سبقت من ربک الی اجل مسمی لقضی بینھم (42:14) اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے پہلے ہی ایک وقت مقررہ تک لے لئے یہ بات نہ ٹھہر چکی ہوتی تو ان کے درمیان فیصلہ ہوگیا ہوتا۔ یہاں کلمہ کا اشارہ عذاب الٰہی کی طرف ہے جس کا وعدہ قرآن میں کیا گیہا ہے کہ منکرین کو آخرت میں دیا جائے گا۔
لقضی بینھم۔ انکے درمیان فیصلہ ہوگیا تھا۔ تو ان کے درمیان معاملہ چکا دیا گیا ہوتا۔ یعنی ان کو اسی دنیا میں عذاب دیدیا گیا ہوتا
شک مریب۔ موصوف وصفت۔ ایسا شک کہ جس میں بیچینی اور خلجان ہو۔ مریب اسم فاعل۔ واحد مذکر ۔ ارایۃ (باب افعال) سے ہے۔ ریب مادہ۔ بےچین کرنے والا۔ متردد بنا دینے والا۔
Ayah 11:111(11:111) کلا۔ تمام ۔ سارے۔ ہر ایک۔ کلا کا نصب بوجہ عمل ان اور تنوین بعوض مضاف الیہ ہے۔ اسی ان کل المختلفین المؤمنین والکافرین۔
لما۔ اس کی دو صورتیں ہیں۔ (ا) (1) یہ اصل میں لمن ما تھا۔ نون کو میم سے بدلا گیا۔ لمما ہوگیا تین میم جمع ہوگئے پہلے میم کو حذف کیا گیا۔ لما ہوگیا۔ (2) یہ لم سے لم یلم (باب نصر) لما مصدر ہے بمعنی جمع کرنا۔ تنوین کے عوض تخفیف کے لئے الف آگیا۔ لما ہوگیا۔ اس صورت میں معنی ہوگا۔ ان کلا جمیعا۔
(ب) لما میں لام لام قسم ہے۔ ما زائدہ ہے لیوفینھم۔ جواب قسم ۔ اور تقدیر کلام یوں ہے وان جمیعہم واللہ لیوفینھم۔ خدا کی قسم ہے وہ ان سب کو ضرور پورا پورا معاوضہ دیگا پس صدیقین کو ان کی تصدیق و یقین کا بدلہ جنت ملے گا۔ اور مکذبین کو ان کی تکذیب کے بدلہ میں جہنم ملے گی۔
(ج) اکثر قراء نے لما کو مخفف پڑھا ہے۔ ان مخفف پڑھا جائے تو ان نافیہ اور لما تشدید میم کے ساتھ استثنائیہ ہوگا۔ نہیں ہے کوئی مگر تیرا رب اس کے اعمال کا بدلہ ضرور دے گا۔
لیوفینہم۔ میں لام برائے تاکید۔ یوفین مضارع واحد مذکر غائب میں ن ثقیلہ برایء تاکید۔ وفی یوفی توفیۃ (تفعیل) سے وفی مادہ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب وہ ضرور ہی ان کو پورا پورا دے گا۔
Ayah 11:112(11:112) فاستقم۔محذوف عبارت پر دلالت کرتا ہے تقدیر عبارت یوں ہے لما بین امر المختلفین فاستقم کما امرت۔ جب ہر دو امر (حق و باطل) بین طور پر واضح ہوگئے ہیں تو ہمارے حکم کے مطابق (حق پر) قائم ہوجاؤ۔ استقم۔ تو قائم رہ۔ تو ثابت قدم رہ استقامۃ سے باب افتعال سے امر و احد مذکر حاضر ۔ امرت۔ امر سے۔ ماضی مجہول واحد مذکر حاضر۔ کما امرت جیسا تجھے حکم دیا گیا
ومن تاب معک۔ اور جو تائب ہوکر تیرے ہمراہ ہوگئے ہیں۔ و حرف عطف تاب معک کا عطف استقم پر ہے ای فاستقم انت ولیستقم من تاب من الکفر ورجع الی اللہ مخلصا۔ یعنی تو ثابت قدم رہ اور وہ لوگ بھی ثابت قدم رہیں جنہوں نے کفر سے توبہ کرکے خالص اللہ کی طرف رجوع کیا (اور آپ کے ہمراہ ہیں)
لاتطغوا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ تم سرکشی نہ کرو۔ تم زیادتی نہ کرو۔ طغیان مصدر طغا یطغوا (باب نصر) طغوا طغوانا ظغیانا۔ حد سے گزرنا ۔ بغی یطغی (باب سمع) طغیا وطغیانا۔ ظلم و نافرمانی میں حد سے گزر جانا۔
Ayah 11:113(11:113) لا ترکنوا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ تم مت جھکو۔ تم مت مائل ہو۔ رکن یرکن (سمع) سے رکون سے مادہ رکن (باب نصر) سے بھی آتا ہے رکون ۔۔ الیہ کسی کی طرف مائل ہونا۔ جھکنا۔ کسی پر بھروسہ کرنا۔ آرام لینا۔ سہارا لینا۔ اسی سورة میں آیا ہے لو ان لی بکم قوۃ او اوی الی رکن شدید (11:80) اے کاش مجھ میں تمہارے مقابلہ کی طاقت ہوئی یا میں کسی زبردست سہارے کا آسرا پکڑتا۔
فتمسکم النار۔جواب نہی میں واقع ہے۔ یعنی ایسا مت کرو ورنہ ۔۔ مسکم مس۔ ماضی واحد مذکرغائب کم ضمیر مفعول جمع مذکرحاضر۔ تم کو پہنچے گی ۔ تم کو چھوئے گی۔ مس یمس (باب نصر) مس۔ مصدر۔
وما لکم من دون اللہ من اولیائ۔ یہ جملہ فتمسکم النار کا حال ہے۔ اور حالت یہ ہوگی کہ اس وقت جب تمہیں آگ آچھوئے گی تمہارا اللہ کے سوا کوئی مدد گار نہ ہوگا۔ ثم لا تنصرون۔ پھر تمہاری مدد بھی نہ کی جائے گی۔
Ayahs 11:114–115(11:114) طرفی النھار۔ مضاف مضاف الیہ۔ طرفی اصل میں طرفین تھا اضافت کی وجہ سے نون گرگیا۔ طرف سے تثنیہ ۔ دن کے دونوں کنارے۔ زلفا۔ زلفۃ کی جمع بحالت نصب ۔ بمعنی ساعت۔ منزلت۔ قربت۔ پاس۔ قریب۔ زلفا من اللیل۔ اور رات کی ساعتوں میں۔ ذکر۔ نصیحت کرنا ۔ ذکر کرنا۔ یاد ۔ پند۔ موعظت۔ (باب نصر) سے مصدر۔ کثرت ذکر کے لئے ذکری بولا جاتا ہے یہ ذکر سے زیادہ بلیغ ہے۔
Ayah 11:116(11:116) فلولا۔ لولا کا استعمال دو طرح پر ہے۔ ایک شے کے پائے جانے سے دوسری شے کا ممتنع ہونا۔ اس کی خبر ہمیشہ محذوف ہوتی ہے۔ اور لولا کا جواب قائمقام خبر کے ہوتا ہے جیسے لولا انتم لکنا مؤمنین (34:31) اگر تم نے ہوتے تو ہم ضرور مومن ہوجاتے ۔ دوم : یہ اکثر ہلا کے معنی میں آتا ہے اور اس کے بعد متصلاً فعل کا آنا ضروری ہے مثلاً لولا ارسلت الینا رسولا (20:134) تو نے ہمارے پاس کوئی رسول کیوں نہ بھیجا ۔ نیز آیۃ ہذا میں فلولا کان من القرون من قبلکم۔ تو کیوں نہ ہوئے تمہارے سے قبل کی امتوں میں سے (ایسے زیرک۔ سمجھ دار لوگ)
اولوا بقیۃ۔ اولوا (والے) جمع ہے اس کا واحد نہیں آتا۔ بحالت رفع اولوا اور بحالت نصب و جر اولی۔ بقیۃ سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے رائے باقی رہے یا اس سے مراد ارباب فضل ہیں۔ فضل کو بقیہ اس لئے کہتے ہیں کہ انسان اپنے میں سے سب سے اچھی چیز کو باقی رکھنے کا خواہشمند ہے۔ اسی لئے عربی میں فلان من بقیۃ القوم اس آدمی کے لئے بولتے ہیں جو قوم میں صاحب فضل ہو یا صاحب عقل و رائے ہو۔ سب سے عمدہ ہو۔
الا قلیلا ماسوائے چند آدمیوں کے (جن کو ہم نے نجات دی) یعنی ان قدیم امتوں میں سے چند ایک ہی ایسے تھے جو دوسروں کو فساد فی الارض سے روکتے رہے اور خود بھی بچے رہتے اور انہیں ہم نے عذاب کی گرفت سے بچا لیا۔ منھم۔ ان قدیم امتوں میں سے۔
اتبع۔ اس نے اتباع کیا۔ پیروی کی۔۔ پیچھے پڑے رہے۔ اتباع (افتعال) سے تبع مادہ۔
ما اترفوا فیہ۔ یہ جملہ اتبع کا مفعول ہے۔ یعنی وہ جس ناز و نعمت میں تھے اسی کے پیچھے پڑے رہے۔ اترفوا۔ ماضی مجہول ۔ جمع مذکر غائب وہ آرام دئیے گئے۔ وہ نازو نعمت میں پالے گئے۔ اتراف سے ترف مادہ۔ الترفۃ عیش و عشرت میں فراخی اور وسعت کو کہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے اترف فلان فھو مترف۔ وہ آسودہ حال اور کثرت دولت کی وجہ سے بدمست ہے۔ قرآن مجید میں ہے واترفنھم فی الحیوۃ الدنیا (33:23) اور دنیا کی زندگی میں ہم نے ان کو آسودگی دے رکھی تھی۔
Ayah 11:117لیہلک۔ میں لام نفی کی تاکید کے لئے ہے۔
بظلم۔ اگر ظلم کو مفعول کا حال لیا جائے تو معنی ہوں گے آپ کا پروردگار ایسا نہیں کہ بستیوں کو ہلاک کر دے (محض) ان کی زیادتیوں (یا کفر و شرک) کے باعث درآں حالیکہ ان کے رہنے والے صلح و آشتی میں لگے ہوئے ہوں۔ اور اگر ظلم کو فاعل کا حال لیا جائے تو ترجمہ ہوگا۔ تیرا رب ایسا نہیں کہ بستیوں کو ناحق ہلاک کر دے جب کہ ان کے رہنے والے اصلاح میں لگے ہوں۔
واہلہا۔ میں واؤ حالیہ ہے۔ درآں حالیکہ۔
Ayah 11:118(11:118) ولا یزالون مختلفین۔ لیکن وہ اختلاف کرنے والے ہمیشہ ہی رہیں گے۔ (اس سے پہلے عبارت محذوف ہے۔ جو بدیں مطلب ہے۔ لیکن بعض حکمتوں کی وجہ سے اس نے ایسا نہ چاہا اب حقیقت یہ ہے کہ وہ لا یزالون مختلفین ۔۔ الخ
ولذلک خلقہم اور اسی لئے اس نے انہیں پیدا کیا ہے۔ صاحب ضیاء القرآن رقمطراز ہیں ــ۔ ” اس جملہ کا تعلق آیت کے کس حصہ کے ساتھ ہے ؟ بعض نے یہ لکھا ہے کہ اس کا تعلق الا ما رحم ربک کے ساتھ ہے یعنی انسان کی آفرنیش کی غایت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بہرہ ور ہوتا رہے اور ہمیشہ ہدایت کی راہ پر گامزن رہے۔ فقال ابن عباس و مجاھد وقتادۃ وضحاک ولرحمتہ خلقہم۔ اور بعض نے کہا ہے کہ اس کا تعلق اختلاف سے ہے یعنی انسان کو اسی لئے پیدا کیا گیا ہے کہ وہ اپنے اختیار سے کوئی راہ اختیار کرلے۔ اسے کسی ایک راہ پر چلنے کے لئے مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ قال الحسن والمقاتل و عطاء ۔ ایماء الاشارۃ للاختلاف ای للاختلاف خلقہم۔ ایک اور قول یہ بھی ہے کہ ذلک کا مشار الیہ اختلاف اور رحمت دونوں ہیں اور واحد اسم اشارہ کا مشار الیہ دو متضاد چیزیں ہوتی رہتی ہیں۔ جیسے قل بفضل اللہ وبرحمتہ فبذلک فلیفرحوا (10:58) آپ فرما دیجئے یہ کتاب محض اللہ کے فضل اور رحمت سے نازل ہوئی ہے پس چاہیے کہ وہ اس پر خوشی منائیں۔
علامہ قرطبی کے قول کے مطابق اہل عرب ذلک (واحد) کو واحد تثنیہ اور جمع سب کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ یعنی اب آیت کا مطلب ہوگا کہ اہل اختلاف کو اختلاف کے لئے پیدا کیا اور اہل رحمت کو رحمت کے لئے پیدا کیا گیا۔ علامہ قرطبی کہتے ہیں ھذا احسن الاقوال انشاء اللہ یہ توجیہہ سب سے بہتر ہے۔
Ayah 11:119(11:119) لاملئن۔ مضارع واحد متکلم لام تاکید اور نون ثقیلہ برائے تاکید۔ میں ضرور ضرور بھر دوں گا (جہنم کو)
Ayah 11:120(11:120) کلا۔ ای کل نبائ۔ یہ تمام خبریں ۔ قصے۔ تنوین مضاف الیہ محذوف کے عوض ہے اور نصب بوجہ مفعول فیہ ہونے کے ہے نقص علیک کا۔ من انباء الرسل مضاف الیہ محذوف کی صفت ہے من تبعیضیہ ہے یا بیانیہ ہے۔
ما نثبت بہ فؤادک۔ کلا سے بدل ہے (الکشاف) عطف بیان ہے (روح المعانی)
فی ھذہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب ان قصوں کے لئے ہے جو اس سورت میں بیان ہوئے ہیں۔
موعظۃ۔ پندو نصیحت۔ ذکری۔ یاد دہانی۔ دونوں کا الحق پر عطف ہے۔