11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsانوار البیان

Ayah 11:41

وَ قَالَ ارْكَبُوْا فِیْهَا بِسْمِ اللّٰهِ مَجْرٖؔىهَا وَ مُرْسٰىهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 11:41 in the Quran reader

(نوح نے) کہا کہ خدا کا نام لیکر (کہ اسی کے ہاتھ میں) اس کا چلنا اور ٹھہرنا (ہے) اس میں سوار ہوجاؤ۔ بیشک میرا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے۔

(11:41) قال۔ ای قال نوح۔ ارکبوا۔ تم سوار ہوجاؤ۔ رکوب سے امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ رکوب کے اصل معنی جانور کی پشت پر سوار ہونے کے ہیں۔ لیکن یہاں کشتی پر سوار ہونے کے لئے مستعمل ہے۔ فیہا۔ ای فی الفلک۔ مجرھا۔ مجری۔ مصدر میمی مضاف ھا ضمیر واحد مؤنث غائب مضاف الیہ۔ جری یجری (باب ضرب) سے۔ اس کا پانی کی طرح ہمواری کے ساتھ رواں ہونا۔ یا مجری ظرف مکان یا ظرف زمان بھی ہوسکتا ہے۔ یعنی کشتی کے چلنے کی جگہ۔ یا چلنے کا وقت مرسھا۔ مرسی مضاف ھا ضمیر واحد مؤنث غائب۔ مضاف الیہ۔ مصدر میمی۔ اس کا ٹھہرانا اس کا جمانا۔ مادہ رسو۔ رسا یرسو (باب نصر) رسو کا معنی ٹھہرنا۔ جگہ پر جم جانا۔ اس سے مصدر میمی مرسا آتا ہے۔ باب افعال سے مصدر ارشاء اور مصدر میمی مرسا آتا ہے۔ ٹھہرانا جمانا۔ کشتی کا لنگر ڈالنا۔ مرسیٰ ظرف مکان یا ظرف زمان بھی ہوسکتا ہے۔ ارکبوا میں جو ضمیر فاعل ہے وہ ذوالحال ہے اور بسم اللہ ۔۔ الخ حال ہے۔ یعنی کشتی میں یہ کہتے ہوئے سوار ہو۔ بسم اللہ ۔۔ الخ۔ مجری ومرسی ظرف زمان اور ظرف مکان دونوں ہوسکتے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا نام لیتا ہوں جہاں وہ چلتی ہے اور جہاں وہ رکتی ہے۔ بصورت ہر دو کے مصدر میمی ہونے کے مضاف (وقت) محذوف ماننا پڑے گا۔ ای وقت جریھا وارسائھا۔ جری یجری ثلاثی مجرد ہے اور ارسی یرسی ثلاثی مزیدفیہ۔
Ayah 11:42

وَ هِیَ تَجْرِیْ بِهِمْ فِیْ مَوْجٍ كَالْجِبَالِ١۫ وَ نَادٰى نُوْحُ اِ۟بْنَهٗ وَ كَانَ فِیْ مَعْزِلٍ یّٰبُنَیَّ ارْكَبْ مَّعَنَا وَ لَا تَكُنْ مَّعَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 11:42 in the Quran reader

اور وہ انکو لیکر (طوفان کی) لہروں میں چلنے لگی (لہریں کیا تھیں) گویا پہاڑ (تھے) اس وقت نوح نے اپنے بیٹے کو کہ (کشتی سے) الگ تھا ' پکارا کہ بیٹا ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور کافروں میں شامل نہ ہو۔

(11:42) معزل۔ اسم ظرف مکان۔ الگ جگہ، عزل مصددر الگ کردینا۔
Ayah 11:43

قَالَ سَاٰوِیْۤ اِلٰى جَبَلٍ یَّعْصِمُنِیْ مِنَ الْمَآءِ١ؕ قَالَ لَا عَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ١ۚ وَ حَالَ بَیْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِیْنَ Open ayah 11:43 in the Quran reader

اس نے کہا کہ میں (ابھی) پہاڑ سے جا لگوں گا وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج خدا کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں (اور نہ کوئی بچ سکتا ہے) مگر اس پر جس پر خدا رحم کرے۔ اتنے میں دونوں کے درمیان لہر آ حائل ہوئی اور وہ ڈوب کر رہ گیا۔

(11:43) ساوی۔ اوی یاوی (باب ضرب) اویا۔ کسی جگہ نزول کرنا۔ کسی جگہ پناہ حاصل کرنا۔ اوی الیٰ کسی کے ساتھ مل جانا اور منضم ہوجانا۔ اواہ (باب افعال) ایوائ۔ کسی کو جگہ دینا ساوی الیٰ جبل میں (ابھی) پہاڑ سے جا لگوں گا۔ اور باب افعال سے وتؤدی الیک من تشاء (23:51) اور جسے چاہو اپنے پاس ٹھکانہ دو ۔ یعصمی۔ عصم یعصم (باب ضرب) عصمۃ مصدر۔ وہ مجھے بچا لیگا۔
Ayahs 11:44–45

وَ قِیْلَ یٰۤاَرْضُ ابْلَعِیْ مَآءَكِ وَ یٰسَمَآءُ اَقْلِعِیْ وَ غِیْضَ الْمَآءُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ وَ اسْتَوَتْ عَلَى الْجُوْدِیِّ وَ قِیْلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 11:44 in the Quran reader

اور حکم دیا گیا کہ اے زمین اپنا پانی نگل جا اور اے آسمان تھم جا۔ تو پانی خشک ہوگیا اور کام تمام کردیا گیا۔ اور کشتی کوہ جودی پر جا ٹھہری۔ اور کہہ دیا گیا کہ بےانصاف لوگوں پر لعنت۔

وَ نَادٰى نُوْحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابْنِیْ مِنْ اَهْلِیْ وَ اِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَ اَنْتَ اَحْكَمُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 11:45 in the Quran reader

اور نوح نے اپنے پروردگار کو پکارا اور کہا کہ پروردگار ! میرا بیٹا بھی میرے گھر والوں میں ہے (تو اسکو بھی نجات دے) تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب سے بہتر حاکم ہے۔

(11:44) ابلعی۔ بلع یبلع (فتح) امر واحد مؤنث حاضر۔ تو نگل جا۔ بلع سے جس کے معنی نگلنے کے ہیں۔ اقلعی۔ تو تھم جا۔ تو رک جا۔ (بارش سے رک جا) اقلاع (افعال) سے ۔ امر واحد مؤنث حاضر۔ غیض۔ غاض یغیض غیض (باب ضرب) سے ماضی مجہول واحد مذکر گا ئب پانی کو زمین میں جذب کردیا گیا۔ پانی خشک کردیا گیا۔ پانی اتر گیا۔ استوت۔ استوی یستوی استواء (افتعال) ماضی واحد مؤنث غائب۔ وہ (کشتی) ٹھہر گئی۔ جب یہ علیٰ کے ساتھ متعدی ہو تو اس کے معنی کسی چیز پر چڑھنے۔ قرار پکڑنے اور مستوی ہونے کے ہوتے ہیں۔ جیسے کہتے ہیں استوی فلان علی عمالتہ فلاں نے اپنا عہدہ سنبھال لیا۔ قرآن میں ہے فاستوی علی سوقہ (49:29) اور پھر وہ اپنی نال پر سیدھی ہوگئی۔ یا آیت ہذا میں ۔ واستوت علی الجوری اور وہ جودی پہاڑ پر ٹھہر گئی۔ بعدا۔ بعد دوری۔ ہلاکت۔ لعنت۔ البعد کے معنی دوری کے ہیں۔ یہ قرب کی ضد ہے۔ بعد (سمع) کے معنی مرنا کے ہیں۔ اور عموماً البعد ہلاک ہونے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا کما بعدت ثمود (11:95) جیسے ثمود تباہ ہوگئے۔ چونکہ موت و ہلاکت اور لعنت میں بھی دوری ہوتی ہے اس لئے بعد اور بعد کے معنی اکثر ہلاکت اور تباہی اور لعنت کے آتے ہیں۔ بعد اللقوم الظالمین۔ ہلاکت اور بربادی ہو ظالموں کے لئے۔ قضی الامر۔ قصہ تمام ہوا۔ حکم کی تعمیل ہوچکی۔ کام پورا ہوگیا۔ یعنی جنہوں نے ہلاک ہونا تھا ہلاک ہوگئے اور جنہوں نے بچایا جانا تھا بچالئے گئے۔
Ayahs 11:46–47

قَالَ یٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَیْسَ مِنْ اَهْلِكَ١ۚ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ١ۖ٘ۗ فَلَا تَسْئَلْنِ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنِّیْۤ اَعِظُكَ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 11:46 in the Quran reader

خدا نے فرمایا کہ نوح وہ تیرے گھر والوں میں نہیں ہے۔ وہ تو ناشائستہ افعال ہے۔ تو جس چیز کی تم کو حقیقت معلوم نہیں اس کے بارے میں مجھ سے سوال ہی نہ کرو۔ اور میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بنو۔

قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِكَ اَنْ اَسْئَلَكَ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ اِلَّا تَغْفِرْ لِیْ وَ تَرْحَمْنِیْۤ اَكُنْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 11:47 in the Quran reader

نوح نے کہا پروردگار میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں کہ ایسی چیز کا تجھ سے سوال کروں جس کی مجھے حقیقت معلوم نہیں۔ اور اگر تو مجھے نہیں بخشے گا اور مجھ پر رحم نہیں کرے گا تو میں تباہ ہوجاؤں گا۔

(11:46) انہ عمل غیر صالح۔ ای انہ ذوعمل فاسد۔ وہ صاحب اعمال فاسدہ ہے۔ یعنی اس کے اعمال اچھے نہیں ہیں غیر صالح ہیں۔ ذو۔ کو مبالغہ کی خاطر حذف کیا گیا ہے۔ فلا تسئلن اصل میں فلاتسئلنی تھا۔ لاتسئل فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ نون وقایہ اور ی متکلم مفعول کے لئے ہے تو مجھ سے سوال مت کر۔ مجھ سے درخواست نہ کر۔ اعظل۔ وعظ یعظ وعظ (ضرب) سے مضارع واحد متکلم ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ میں تجھ کو نصیحت کرتا ہوں۔
Ayahs 11:48–49

قِیْلَ یٰنُوْحُ اهْبِطْ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَ بَرَكٰتٍ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنْ مَّعَكَ١ؕ وَ اُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ یَمَسُّهُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 11:48 in the Quran reader

حکم ہوا کہ نوح ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ (جو) تم پر اور تمہارے ساتھ کی جماعتوں پر (نازل کی گئی ہیں) اتر آؤ۔ اور کچھ اور جماعتیں ہونگی جن کو ہم (دنیا کے فوائد سے) محظوظ کریں گے پھر انکو ہماری طرف سے عذاب الیم پہنچے گا۔

تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهَاۤ اِلَیْكَ١ۚ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَاۤ اَنْتَ وَ لَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هٰذَا١ۛؕ فَاصْبِرْ١ۛؕ اِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 11:49 in the Quran reader

یہ (حالات) من جملہ غیب کی خبروں کے ہیں جو ہم تمہاری طرف بھیجتے ہیں (اور) اس سے پہلے نہ تم ہی ان جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم (ہی ان سے واقف تھی) تو صبر کرو کہ انجام پرہیزگاروں ہی کا (بھلا) ہے۔

(11:48) اھبط۔ تواتر (یعنی اب کشتی سے اتر جاؤ۔ ھبوط سے (باب ضرب) امر واحد مذکر حاضر۔ علی امم ممن معکان لوگوں پر جو تیرے ساتھیوں میں سے ہیں یعنی جو تیرے ساتھ ہیں امم۔ امۃ کی جمع ہے بمعنی جماعت وامم۔ امم۔ مبتدا ۔ خبر محذوف ہے تقدیر کلام :۔ ومنھم امم سنمتعھم۔ ان میں بعض ایسے لوگ بھی ہوں گے جن کو ہم مال و متاع دیں گے۔ اپنی نعمتوں سے ان کو نوازیں گے۔
Ayahs 11:50–51

وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ Open ayah 11:50 in the Quran reader

اور ہم نے عدا کی طرف ان کے بھائی ہود کو (بھیجا) انہوں نے کہا کہ میری قوم ! خدا ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تم (شرک کرکے خدا پر) محض بہتان باندھتے ہو۔

یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى الَّذِیْ فَطَرَنِیْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 11:51 in the Quran reader

میری قوم ! میں اس (وعظ ونصیحت) کا تم سے کچھ صلہ نہیں مانگتا۔ میرا صلہ تو اس کے ذمے ہے جس نے مجھے پیدا کیا۔ بھلا تم سمجھتے کیوں نہیں ؟

(11:50) والی عاد اخاہم ھودا۔ اس کا عطف ارسلنا نوحا الی قومہ (آیۃ 25) پر ہے۔ گویا آیت کی تقدیر ہے وارسلنا الی عاد اخاھم ھودا۔ اخاہم (ان کا بھائی) یعنی انہیں کے نسب سے۔ مفترون۔ جھوٹے بہتان باندھنے والے۔ اصل میں افتراء سے مفتریون تھا۔ اس کو احد مفتری ہے۔
Ayah 11:52

وَ یٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًا وَّ یَزِدْكُمْ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمْ وَ لَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 11:52 in the Quran reader

اور اے قوم ! اپنے پروردگار سے بخشش مانگو پھر اس کے آگے توبہ کرو۔ وہ تم پر آسمان سے موسلادھار مینہ برسائے اور تمہاری طاقت بڑھائے گا۔ اور (دیکھو) گنہگار بن کر روگردانی نہ کرو۔

(11:52) یرسل۔ مضارع مجزوم بوجہ جواب شرط (مکسور بالوصل) واحد مذکر غائب ہے ۔ بھیجے گا ۔ ارسال (افعال) سے۔ السمآئ۔ آسمان ۔ ابر۔ بارش۔ مدرارا۔ صیغہ مبالغہ ۔ بہت برسنے والا۔ اصل میں مدرار۔ در اور درۃ سے ہے جس کے معنی دودھ کے ہیں پھر بطور استعارہ بارش کے لئے استعمال ہونے لگا۔ یرسل السماء علیکم مدرارا وہ تم پر موسلا دھار بارش بھیجے گا۔ یا تم پر بار بار بارش برسانے والے بادل بھیجے گا۔ یا آسمان سے تم پر موسلا دھار بارش بھیجے گا۔ لاتتولوا۔ (جس کی طرف میں تمہیں دعوت دیتا ہوں) اسے سے روگردانی نہ کرو۔ منہ نہ موڑو اعراض مت کرو۔ مجرمین۔ ای مصرین علی ما انتم علیہ من الاجرام۔ اپنے جرموں پر اصرار کرتے ہوئے میری دعوت سے روگردانی مت کرو۔
Ayah 11:53

قَالُوْا یٰهُوْدُ مَا جِئْتَنَا بِبَیِّنَةٍ وَّ مَا نَحْنُ بِتَارِكِیْۤ اٰلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِكَ وَ مَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 11:53 in the Quran reader

وہ بولے ہود تم ہمارے پاس کوئی دلیل ظاہر نہیں لائے اور ہم (صرف) تمہارے کہنے سے نہ اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے ہیں اور نہ تم پر ایمان لانے والے ہیں۔

(11:53) تار کی۔ تارک کی جمع بحالت نصب و جر مضاف الہتنا (مضاف مضاف الیہ) مضاف الیہ۔ تار کی اصل میں تارکین تھا۔ ن بوجہ اضافت کے حذف ہوگیا۔ (ہم) اپنے خداؤں کو چھوڑنے والے (نہیں) یعنی نہیں چھوڑیں گے۔
Ayahs 11:54–55

اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْٓءٍ١ؕ قَالَ اِنِّیْۤ اُشْهِدُ اللّٰهَ وَ اشْهَدُوْۤا اَنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 11:54 in the Quran reader

ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے کہ ہمارے کسی معبود نے تمہیں آسیب پہنچا (کر دیوانہ کر) دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں خدا کو گواہ کرتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ جن کو تم (خدا کا) شریک بناتے ہو میں ان سے بیزار ہوں۔

مِنْ دُوْنِهٖ فَكِیْدُوْنِیْ جَمِیْعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 11:55 in the Quran reader

(یعنی جن کی) خدا کے سوا (عبادت کرتے ہو تو) تم سب مل کر میرے بارے میں (جو) تدبیر (کرنی چاہو) کرلو اور مجھے نہ دو ۔

(11:54) اعترک۔ اعتری۔ ماضی ۔ واحد مذکر غائب ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ اعتری یعتری (افتعال) اعتائ۔ کسی شے کی طرف قصد کرنا اور اس پر چھا جانا۔ اعتری (رنج والم کا) کسی پر چھا جانا۔ اعترک۔ تجھ پر غلبہ کرلیا ہے۔ تجھ پر چھا گیا ہے۔ عدو۔ عدی مادہ ۔ ان نقول میں ان نافیہ ہے۔ بسوئ۔ با تعدیہ کے لئے لایا گیا ہے۔ ان نقول ۔۔ بسوئ۔ ہم (کچھ) نہیں بولتے سوائے اس کہ ہمارے کسی خدا نے تم کو کسی خرابی میں مبتلا کردیا ہے۔ اشھد۔ اشھد یشھد اشھاد۔ گواہ کرنا۔ میں گواہ کرتا ہوں ۔ میں گواہ بناتا ہوں۔ اشھدوا۔ تم گواہ رہو۔ شھد یشھد (سمع) سے امر جمع مذکر حاضر۔ شھادۃ مصدر ۔ تشرکون من دونہ (تشرکون پر وقف نہ کیا جائے) تم شریک ٹھہراتے ہو اس کے (خدا کے) سوا۔ انی بریٔ۔ میں بیزار ہوں۔ میں بری الذمہ ہوں۔ میرا کوئی سروکار نہیں۔
Ayah 11:56

اِنِّیْ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ١ؕ مَا مِنْ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِیَتِهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 11:56 in the Quran reader

میں خدا پر جو میرا اور تمہارا (سب کا) پروردگار ہے بھروسہ رکھتا ہوں (زمین پر) جو چلنے پھرنے والا ہے وہ اس کو چوٹی سے پکڑے ہوئے ہے۔ بیشک میرا پروردگار سیدھے راستے پر ہے۔

(11:56) ھو۔ ای اللہ۔ اخذ بناصی تھا۔ پکڑنے والا ہے اسے پیشانی کے بالوں سے پکڑے ہوئے اس کو اس کی چوٹی سے۔ یعنی وہ سب پر قدرت رکھتا ہے اور جس طرح چاہتا ہے اس پر اپنا تصرف رکھتا ہے۔
Ayahs 11:57–58

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖۤ اِلَیْكُمْ١ؕ وَ یَسْتَخْلِفُ رَبِّیْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۚ وَ لَا تَضُرُّوْنَهٗ شَیْئًا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ Open ayah 11:57 in the Quran reader

اگر تم رودگرانی کرو گے تو جو پیغام میرے ہاتھ تمہاری طرف بھیجا گیا ہے وہ میں نے تمہیں پہنچا دیا ہے اور میرا پروردگار تمہاری جگہ اور لوگوں کو لابسائے گا۔ اور تم خدا کا کچھ نقصان نہیں کرسکتے۔ میرا پروردگار تو ہر چیز پر نگہبان ہے۔

وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا هُوْدًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا١ۚ وَ نَجَّیْنٰهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 11:58 in the Quran reader

اور جب ہمارا حکم (عذاب) آپہنچا تو ہم نے ہود کو اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے تھے انکو اپنی مہربانی سے بچا لیا۔ اور انھیں عذاب شدید نجات دی۔

(11:57) ان تولوا فقد بلغتکم ما ارسلت بہ الیکم۔ ای فان تولوا فقد ابلغتکم ما ارسلت بہ الیکم۔ اگر تم پھر روگردانی کرو تو میں جو پیغام دے کر بھیجا گیا تھا وہ تم کو پہنچا چکا ہوں۔ یستخلف۔ مضارع واحد مذکر غائب (باب استفعال) وہ جانشین بنا دیگا۔ حفیظ۔ نگہبان۔ نگہداشت کرنے والا۔
Ayah 11:59

وَ تِلْكَ عَادٌ١ۙ۫ جَحَدُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ عَصَوْا رُسُلَهٗ وَ اتَّبَعُوْۤا اَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ Open ayah 11:59 in the Quran reader

یہ (وہی) عاد ہیں جنہوں نے خدا کی نشانیوں سے انکار کیا اور اس کے پیغمبروں کی نافرمانی کی اور ہر متکبر وسرکش کا کہا مانا۔

(11:59) جحدوا۔ انہوں نے انکار کیا۔ وہ منکر ہوئے۔ جحدو جحودا۔ سے (باب فتح) ماضی جمع مذکر غائب۔ جبار۔ سرکش۔ زبردست۔ دوسرے کو مجبور کردینے والا۔ متکبر۔ خود اختیار۔ جبار ذات باری تعالیٰ کے لئے صفت مدح ہے۔ اور انسان کے لئے صفت ذم۔ عنید۔ عناد رکھنے والا۔ مخالف۔ برازن فعیل بمعنی فاعل صفت مشبہ کا صیغہ ہے اس کی جمع عند ہے عنید۔ ضدی جو حق کو پہنچاننے جاننے سے انکار کرے۔ جو جان بوجھ کر حق کا انکار کرے۔ اذا ابی ان یقبل الشیء وان عرفہ جانتے ہوئے کسی شے کو ماننے سے انکار کرے۔
Ayah 11:60

وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّعَادٍ قَوْمِ هُوْدٍ۠ Open ayah 11:60 in the Quran reader

تو اس دنیا میں بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہی اور قیامت کے دن بھی (لگی رہے گی) دیکھو عاد نے اپنے پروردگار سے کفر کیا۔ (اور) سن رکھو ہود کی قوم عاد پر پھٹکار ہے۔

(11:60) اتبعوا۔ اتباع (افتعال) سے ماضی مجہول جمع مذکر غائب ان کے پیچھے لگا دیا گیا۔ ان کے پیچھے لگا دی گئی۔ بعدا۔ دوری۔ ہلاکت ۔ بربادی۔ (ملاحظہ ہو 11:44) قوم ھود۔ (ہود کی قوم) عطف بیان ۔ اپنے متبوع عاد کی وضاحت کے لئے آیا ہے یعنی وہ قوم عاد جو لعنت دارین کی مستحق ہوئی۔ قوم عاد دو قبیلوں سے منسوب ہے عاد اولیٰ جو حضرت ہود کی قوم تھی۔ اور عاد ثانی جو عمالقی تھے۔ یہ دونوں شاخیں عاد بن عوص ارم بن سام بن نوح (علیہ السلام) کی اولاد سے ہیں۔
Ayah 11:61

وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ هُوَ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اسْتَعْمَرَكُمْ فِیْهَا فَاسْتَغْفِرُوْهُ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ Open ayah 11:61 in the Quran reader

اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو (بھیجا) تو انہوں نے کہا کہ قوم ! خدا ہی کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ اسی نے تم کو زمین سے پید کیا اور اس میں آباد کیا۔ تو اس سے مغفرت مانگو اور اس کے آگے توبہ کرو۔ بیشک میرا پروردگار نزدیک (بھی ہے اور دعا کا) قبول کرنے والا (بھی) ہے۔

(11:61) والی ثمود اخاھم صلحا۔ آیت 11:50 کی طرح اس کا عطف بھی ارسلنا نوحا الیٰ قومہ (11:25) پر ہے۔ ای وارسلنا الی ثمود اخاھم صلحا۔ اور ہم نے قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی (یعنی ان میں سے) صالح کو پیغمبر بنا کر بھیجا۔ انشاکم۔ انشا ینشی انشاء (افعال) اس نے پیدا کیا۔ ماضی واحد مذکر غائب کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ اس نے تم کو پیدا کیا۔ استعمرکم۔ اس نے تم کو آباد کیا۔ استعمر یستعمر استعمار (استفعال) سے ماضی واحد مذکر غائب کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ العمارۃ۔ خراب کی ضد ہے۔ عمر ارضہ یعمرھا عمارۃ۔ اس نے اپنی زمین آباد کی۔ قرآن مجید میں ہے وعمارۃ المسجد الحرام (9:19) اور مسجد محرم (یعنی خانہ کعبہ) کو آباد کرنا۔ اور والبیت المعمر (52:40) اور قسم ہے آبار کئے ہوئے گھر کی۔ العمر والعمر۔ اس مدت کو کہتے ہیں جس میں بدن زندگی کے ساتھ آباد رہتا ہے۔ مجیب۔ اسم فاعل۔ واحد مذکر ۔ نکرہ۔ اجابۃ۔ مصدر (باب افعال) جوب مادہ۔ دعا قبول کرنے والا۔
Ayah 11:62

قَالُوْا یٰصٰلِحُ قَدْ كُنْتَ فِیْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هٰذَاۤ اَتَنْهٰىنَاۤ اَنْ نَّعْبُدَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا وَ اِنَّنَا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ Open ayah 11:62 in the Quran reader

انہوں نے کہا صالح اس سے پہلے ہم تم سے (کئی طرح کی) امیدیں رکھتے تھے (اب وہ منقطع ہوگئیں) کیا تم ہم کو ان چیزوں کے پوچنے سے منع کرتے ہو جن کو ہمارے بزرگ پوجتے آئے ہیں۔ اور جس بات کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو اس میں ہمیں قومی شبہہ ہے۔

(11:62) مرجوا۔ اسم مفعول حالت نصب رجو ناقص وادی۔ (باب نصر) سے اصل میں مفعول کے وزن پر مرجوا تھا۔ دو واؤ اکٹھے ہوئے ایک کو دوسرے میں مدغم کیا مرجو ہوگیا۔ حالت نصب میں مرجوا۔ رجا یرجوا رجاء ورجو۔ امیدوار رہنا۔ امید کرنا۔ خوف کرنا۔ مرجو۔ وہ جس سے امیدیں وابستہ ہوں۔ (حضرت صالح کی شرافت۔ متانت۔ ذہانت و فطانت کو دیکھ کر ان کو امیدیں تھیں کہ وہ سیادت و قیادت و مشاورت میں سرمایہ قوم ثابت ہوگا اور ان کے دین سے موافقت کرکے اس کے عروج کا باعث بنے گا۔ لیکن جب انہوں نے خدا کی وحدانیت پر ایمان لانے کا حکم دیا۔ تو ان کی تمام امیدوں پر پانی پھر گیا) ۔ اتنھنا۔ الف استفہامیہ تنھی واحد مذکر حاضر نا ضمیر جمع متکلم ۔ کیا تو ہم کو منع کرتا ہے ہم کو روکتا ہے نھی (باب نصر، فتح، ضرب) روکنا۔ منع کرنا۔ تدعونا۔ تو ہم کو بلاتا ہے۔ تو ہم کو پکارتا ہے دعاء سے مضارع واحد مذکر حاضر۔ نا ضمیر جمع متکلم۔ دعو مادہ۔ مریب۔ اسم فاعل ارابۃ (باب افعال) ریب مادہ۔ متردد بنانے والا ۔ تردد میں ڈالنے والا۔ بےچین کردینے والا۔ یہاں شک کی صفت ہے فی شک مریب (ہم) ایک ایسے شک میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ جو بےچین کردینے والا ہے۔
Ayah 11:63

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ مِنْهُ رَحْمَةً فَمَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ عَصَیْتُهٗ١۫ فَمَا تَزِیْدُوْنَنِیْ غَیْرَ تَخْسِیْرٍ Open ayah 11:63 in the Quran reader

صالح نے کہا قوم ! بھلا دیکھو تو اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے کھلی دلیل پر ہوں اور اس نے مجھے اپنے ہاں سے (نبوت کی) نعمت بخشی ہو تو اگر میں خدا کی نافرمانی کروں تو اسکے سامنے میری کون مدد کریگا ؟ تم تو (کفر کی باتوں سے) میرا نقصان کرتے ہو۔

(11:63) ارء یتم۔ بھلا بتاؤ تو سہی۔ بھلا یہ تو بتاؤ۔ تزیدوننی۔ تم میرے لئے زیادہ کرتے ہو۔ زیادۃ (باب ضرب) سے مضارع جمع مذکر حاضر ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم۔ تخسیر (باب تفعیل) مصدر ہے۔ زیاں کاری۔ نقصان پہنچانا۔ ہلاک کرنا (یعنی تم تو میرے نقصان میں اضافہ ہی کر رہے ہو
Ayah 11:64

وَ یٰقَوْمِ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ قَرِیْبٌ Open ayah 11:64 in the Quran reader

اور (یہ بھی کہا کہ) اے قوم ! یہ خدا کی اونٹنی تمہارے لئے ایک نشانی (یعنی معجزہ) ہے تو اس کو چھوڑ دو کہ خدا کی زمین میں (جہاں چاہے) چرے اور اسکو کسی طرح کی تکلیف نہ دینا ورنہ تمہیں جلد عذاب آپکڑے گا۔

(11:64) یقوم ھذہ ناقۃ اللہ لکم ایۃ۔ یہ کفار ثمود کے مطالبہ فات بایۃ ان کنت من الصدقین (26:154) کے جواب میں ہے۔ ایۃ بوجہ حال کے منصوب ہے۔ فذروھا۔ تم اس کو چھوڑ دو ۔ امر۔ جمع مذکر حاضر ھا ضمیر واحد مؤنث غائب۔ تاکل۔ فعل مجزوم۔ جواب طلب کی وجہ سے ہے۔ فیاخذکم۔ میںحرف ناصبہ ہے جو فعل مضارع پر تبقدیر ان داخل ہوا کرتی ہے۔ جیسے زرنی فاکرمک۔
Ayahs 11:65–66

فَعَقَرُوْهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوْا فِیْ دَارِكُمْ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعْدٌ غَیْرُ مَكْذُوْبٍ Open ayah 11:65 in the Quran reader

مگر انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔ تو (صالح نے) کہا کہ اپنے گھروں میں تین دن (اور) فائدے اٹھالوں۔ یہ وعدہ ہے کہ جھوٹا نہ ہوگا۔

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا صٰلِحًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ مِنْ خِزْیِ یَوْمِئِذٍ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ Open ayah 11:66 in the Quran reader

جب ہمارا حکم آگیا تو ہم نے صالح کو اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے تھے ان کو اپنی مہربانی سے بچا لیا اور اس دن کی رسوائی سے (محفوظ رکھا) بیشک تمہارا پروردگار طاقتور اور زبردست ہے۔

(11:65) فعقروھا۔ انہوں نے اس (اونٹنی) کی کونچیں کاٹ دیں۔ تمتعوا۔ تم لطف اٹھالو۔ تم (دنیاوی مال و متاع کا) فائدہ اٹھالو۔
Ayah 11:67

وَ اَخَذَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ Open ayah 11:67 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو چنگھاڑ (کی صورت میں عذاب) نے آپکڑا تو وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔

(11:67) الصیحۃ۔ چیخ ۔ کڑک۔ ہولناک آواز۔ چنگھاڑ۔ صاح یصیح (ضرب) کا مصدر ہے۔ چونکہ زور کی آواز سے آدمی گھبرا اٹھتا ہے۔ اس لئے بمعنی گھبراہٹ اور عذاب کے بھی اس کا استعمال ہوتا ہے۔ جثمین۔ اوندھے پڑنے والے۔ زانو کے بل گرنے والے۔ جثوم سے جس کے معنی سینہ کے بل اوندھے منہ زمین پر پڑنے کے ہیں۔ اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر۔ اس کی واحد جاثم ہے۔
Ayah 11:68

كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ؕ اَلَاۤ اِنَّ ثَمُوْدَاۡ كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّثَمُوْدَ۠ Open ayah 11:68 in the Quran reader

گویا کبھی ان میں بسے ہی نہ تھے۔ سن رکھو کہ ثمود نے اپنے پروردگار سے کفر کیا۔ اور سن رکھو ثمود پر پھٹکار ہے

(11:68) لم یغنوا۔ مضارع نفی جحد بلم۔ جمع مذکر غائب۔ غنی مصدر۔ (باب سمع) انہوں نے قیام نہیں کیا۔ وہ نہیں ٹھہرے۔ غنی بالمکان۔ وہ مکان میں ٹھرا۔ مغنی۔ فرودگاہ۔ کان لم یغنوا فیہا۔ گویا وہ ان گھروں میں کبھی بسے ہی نہ تھے۔ فیہا میں ھا ضمیر واحد مؤنث کا مرجع من دیارھم ہے۔ بعدا۔ دوری۔ ہلاکت۔ ملاحظہ ہو 11:44، 11:60 ۔
Ayah 11:69

وَ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى قَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَآءَ بِعِجْلٍ حَنِیْذٍ Open ayah 11:69 in the Quran reader

اور ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس بشارت لے کر آئے تو سلام کہا۔ انہوں نے بھی (جواب میں) سلام کہا۔ ابھی کچھ وقفہ نہیں ہوا تھا کہ (ابرہیم) بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔

(11:69) ابراہیم۔ ای الی ابراہیم۔ منصوب بوجہ غیر منصرف ہونے کے (عجمہ اور معرفہ ہونے کی وجہ سے غیر منصرف ہے) ۔ بشری۔ خوشخبری۔ ایسی خبر جس کو سن کر بشرہ (چہرہ) پر مست اور خوشی کے آثار نمایاں ہوجائیں ۔ قالوا سلما۔ سلاما کے نصب کی حسب ذیل دو صورتیں ہوسکتی ہیں۔ (1) یہ بطور مصدر استعمال ہوا ہے اور اس کا فعل محذوف ہے ای نسلم علیک سلاما ہم تجھ کو سلام کہتے ہیں۔ (2) سلاما۔ قالوا کا مفعول ہے انہوں نے سلام کہا۔ قال سلام۔ سلام مبتدا ہے اس کی خبر محذوف ۔ تقدیر یہ ہے۔ سلام علیکم۔ لبث۔ ماضی واحد مذکر غائب (سمع) وہ رہا۔ وہ ٹھہرا رہا۔ قرآن مجید میں ہے قال کم لبثتم (23:113) خدا تعالیٰ پوچھے گا۔ تم کتنے برس رہے۔ ما لبث ان جائ۔ لفظی ترجمہ ہوگا وہ نہ ٹھہرا کہ آگیا۔ یعنی جلدی ہی آگیا۔ حینذ۔ بریاں۔ تلا ہوا۔ بھونا ہوا۔ حنذ سے بروزن فعیل بمعنی مفعول صفت مشبہ ہے۔ جیسے حمید بمعنی محمود ہے۔ عجل۔ بچھڑا۔ گائے کا بچہ۔
Ayah 11:70

فَلَمَّا رَاٰۤ اَیْدِیَهُمْ لَا تَصِلُ اِلَیْهِ نَكِرَهُمْ وَ اَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةً١ؕ قَالُوْا لَا تَخَفْ اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمِ لُوْطٍؕ Open ayah 11:70 in the Quran reader

جب دیکھا کہ ان کہ ہاتھ کھانے کی طرف نہیں جاتے (یعنی وہ کھانا نہیں کھاتے) تو ان کو اجنبی سمجھ کر دل میں خوف کیا۔ (فرشتوں نے) کہا کہ خوف نہ کیجئے ہم قوم لوط کی طرف (انکے ہلاک کرنے کو) بھیجے گئے ہیں

(11:70) الیہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع عجل۔ نکرہم۔ الا نکار۔ عرفان کی ضد ہے اس نے نہ پہچانا۔ اس نے اجنبی خیال کیا۔ وہ ان کی طرف سے شبہ میں پڑگیا۔ انکار عدم معرفت ہے۔ لیکن بعض اوقات انسان جانتے ہوئے بھی انکار کردیتا ہے۔ اسے کذب کہتے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے یعرفون نسمۃ اللہ ثم ینکروھا (16:83) یہ خدا کی نعمتوں سے واقف ہیں مگر واقف ہوکر انکار کرتے ہیں۔ المنکر۔ ہر اس فعل کو کہتے ہیں کہ جسے عقل سلیم قبیح خیال کرے۔ یا عقل کو اس کے حسن و قبیح میں توقف ہو۔ مگر شریعت نے اس کے قبیح ہونے کا حکم دیا ہو۔ قرآن مجید میں ہے وتاتون فی نادیکم المنکر (29:29) اور تم اپنی مجلسوں میں ناپسندیدہ کام کرتے ہو۔ اوجس۔ اس نے محسوس کیا۔ ایجاس سے جس کے معنی دل میں محسوس کرنے اور قلب میں پاشیدہ آواز پانے کے ہیں۔ ماضٰ کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ وجس مادہ۔ اوجس منھم خیفۃ۔ ان کی طرف سے دل میں ڈر محسوس کیا۔ ایک اور جگہ آیا ہے فاوجس فی نفسہ خیفۃ موسیٰ (20:60) (اس وقت) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے دل میں خوف محسوس کیا۔ بعض مفسرین کے نزدیک یہ خوف اس بنا پر تھا کہ جب ان نوواردوں نے کھانے میں تامل کیا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کی نیت پر شبہ ہونے لگا ۔ کہ کہیں یہ دشمنی کے ارادے سے تو نہیں آئے۔ کیونکہ عرب میں جب کوئی کسی کی ضیافت قبول کرنے سے انکار کرتا تو یہ سمجھا جاتا تھا کہ وہ مہمان کی حیثیت سے نہیں آیا بلکہ قتل و غارت کی نیت سے آیا ہے۔ لیکن بعد کی تفسیر اس کی تائید نہیں کرتی ۔ بلکہ اندازکلام سے ظاہرہوتا ہے کہ کھانے کی طرف ہاتھ نہ بڑھنے سے ہی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تاڑ گئے تھے کہ یہ فرشتے ہیں اور چونکہ فرشتوں کا علانیہ انسانی شکل میں آنا غیر معمولی حالات میں ہی ہوا کرتا ہے اس لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو خوف جس بات کا ہوا وہ دراصل یہ تھی کہ کہیں آپ کے گھروالوں سے یا آپ کی بستی کے لوگوں سے یا خود آپ سے کوئی ایسا قصور تو نہیں ہوگیا جس پر گرفت کے لئے فرشتے اس صورت میں بھیجے گئے ہیں اگر بات وہ ہوتی جو بعض مفسرین نے سمجھی ہے تو فرشتے یوں کہتے کہ ڈرو نہیں ہم تمہارے رب کے بھیجے گئے ہیں اگر بات وہ ہوتی جو بعض مفسرین نے سمجھی ہے تو فرشتے یوں کہتے کہ ڈرو نہیں ہم تمہارے رب کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں۔ لیکن جب انہوں نے آپ کا خوف دور کرنے کے لئے کہا کہ ” ہم تو قوم لوط (علیہ السلام) کی طرف بھیجے گئے ہیں “ تو اس سے معلوم ہوا کہ ان کا فرشتہ ہونا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پہلے ہی جان گئے تھے (تفہیم القرآن)
Ayah 11:71

وَ امْرَاَتُهٗ قَآئِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ١ۙ وَ مِنْ وَّرَآءِ اِسْحٰقَ یَعْقُوْبَ Open ayah 11:71 in the Quran reader

اور ابراہیم کی بیوی (جو پاس) کھڑی تھی ہنس پڑی تو ہم نے اس کو اسحاق اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوش خبری دی۔

(11:71) فضحکت فبشرنھا باسحق۔ حضرت سارہ کے ہنسنے کی دو وجوہ تھیں۔ (1) جب آپ نے محسوس کیا کہ حضرت ابراہیم کی تشویش دور ہوگئی ہے اور آپ مطمئن ہوگئے ہیں تو خوشی سے ہنس پڑیں۔ (2) عبارت میں تقدیم و تاخیر ہے۔ گویا عبارت یوں ہے فبشرناھا باسحق ۔۔ یعقوب فضحکت۔ ہم نے جب اسے اسحاق کی بشارت دی اور اسحاق کے بعد یعقوب (علیہما السلام) کی تو وہ فرط مسرت سے ہنس پڑیں۔
Ayah 11:72

قَالَتْ یٰوَیْلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَ اَنَا عَجُوْزٌ وَّ هٰذَا بَعْلِیْ شَیْخًا١ؕ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عَجِیْبٌ Open ayah 11:72 in the Quran reader

اس نے کہا اے ہے میرے بچہ ہوگا ؟ میں تو بڑھیا ہوں اور میرے میاں بھی بوڑھے ہیں۔ یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔

(11:72) یویلتی اصل میں یویلتی تھا۔ افسوس یا حسرت کی آواز کھینچے کے لئے ی کو الف سے بدل دیا گیا۔ ویل کا لغوی معنی ہلاکت ہے۔ یہاں اس سے مراد اپنے لئے بددعا کرنا نہیں محض اظہار حیرت و تعجب مقصود ہے۔ عورتیں اکثر اظہار حیرت و تعجب کے موقعہ پر ایسے کلمات بولتی ہیں ہائے میں مرگئی۔ ہائے میں مرجاؤں۔ یہ بھی ایسا ہی کلمہ ہے۔ بمعنی یاعجبا یحسرتا۔ ء الد۔ ء برائے استفہام۔ کیا میں جنوں گے۔ عجوز۔ بڑھیا۔ پیرزن۔ بعلی میرا خاوند۔ بعل مضاف۔ ی ضمیر واحد متکلم مضاف الیہ۔ شیخ بوڑھا۔ شیوخ جمع۔
Ayah 11:73

قَالُوْۤا اَتَعْجَبِیْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ رَحْمَتُ اللّٰهِ وَ بَرَكٰتُهٗ عَلَیْكُمْ اَهْلَ الْبَیْتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ Open ayah 11:73 in the Quran reader

انہوں نے کہا کیا تم خدا کی قدرت سے تعجب کرتی ہو ؟ اے اہل بیت تم پر خدا کی رحمت اور اس کی برکتیں ہی۔ وہ سزا وار تعریف اور بزرگوار ہے۔

(11:73) تعجبین۔ تو تعجب کرتی ہے۔ حمید۔ بروزن فعیل بمعنی مفعول محمود صفت مشبہ۔ ستودہ۔ تعریف کیا ہوا سراہا ہوا۔ حمد سے۔ مجید۔ مجد یمجد مجد کے معنی کرم و شرف اور بزرگی میں وسعت اور پہنائی کے ہیں۔ ذات باری تعالیٰ کا اس صفت کے ساتھ متصف ہونا اس کے وسعت فیض اور کثرت جود کے سبب سے ہے۔ مجید وسعت کرم کا مالک۔ وسیع الفضل ، کثیر الخیر، رفیع الشان۔ سب سے بڑھ کر بزرگ۔
Ayah 11:74

فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ اِبْرٰهِیْمَ الرَّوْعُ وَ جَآءَتْهُ الْبُشْرٰى یُجَادِلُنَا فِیْ قَوْمِ لُوْطٍؕ Open ayah 11:74 in the Quran reader

جب ابراہیم سے خوف جاتا رہا اور ان کو خوش خبری بھی مل گئی تو قوم لوط کے بارے میں لگے ہم سے بحث کرنے۔

(11:74) الزوع۔ خوف ۔ ڈر۔ راع یروع کا مصدر۔ یجادلنا۔ مضارع واحد مذکر۔ مجادلۃ و جدال مصدر۔ باب مفاعلۃ نا ضمیر مفعول جمع متکلم۔ وہ ہم سے (یعنی ہمارے فرشتوں سے) جھگڑا کرنے لگا۔
Ayah 11:75

اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَحَلِیْمٌ اَوَّاهٌ مُّنِیْبٌ Open ayah 11:75 in the Quran reader

بیشک ابراہیم بڑے تحمل والے ' نرم دل اور رجوع کرنیوالے تھے۔

(11:75) اواہ بروزن فعال۔ مبالغہ کا صیغہ ہے بہت آہ آہ کرنے والا اپنے گناہوں پر دوسروں کی غم خواری میں۔ گڑگڑا کر کثرت سے دعائیں کرنے والا۔ رحم دل۔ کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والا۔ منیب۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ انابۃ مصدر (باب افعال) نوب مادہ۔ اللہ کی طرف رجوع کرنے والا۔ خلوص کے ساتھ توبہ کرنے والا۔ ہر طرف سے مڑ کر اللہ کی طرف لوٹنے والا۔ ناب ینوب (نصر) کسی چیز کا بار بار لوٹنا۔۔ نوبۃ کا بھی یہی معنی ہے۔ نائیۃ وہ مصیبت جو بار بار لوٹتی ہے۔
Ayah 11:76

یٰۤاِبْرٰهِیْمُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدْ جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ١ۚ وَ اِنَّهُمْ اٰتِیْهِمْ عَذَابٌ غَیْرُ مَرْدُوْدٍ Open ayah 11:76 in the Quran reader

اے ابراہیم ! اس بات کو جانے دو ۔ تمہارے پروردگار کا حکم آپہنچا ہے۔ اور ان لوگوں پر عذاب آنے والا ہے جو کبھی نہیں ٹلنے گا۔

(11:76) اتہم۔ ان پر آنے والا ہے۔ اتی (آنے والا) مضاف ہم ضمیر جمع مذکر غائب مضاف الیہ۔ اتی یاتی سے اسم فاعل۔ غیر مردود۔ مردود (مفعول) اسم مفعول واحد مذکر۔ رد سے باب نصر۔ ٹالا جانے والا۔ لوٹا جانیوالا۔ غیر مردود۔ جو لوٹایا نہیں جائے گا۔ جو ٹالا جانے والا نہیں۔ رد کیا گیا۔ شیطان مردود۔
Ayah 11:77

وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالَ هٰذَا یَوْمٌ عَصِیْبٌ Open ayah 11:77 in the Quran reader

اور جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس آئے تو وہ ان (کے آنے) سے غمناک اور تنگ دل ہوئے اور کہنے لگے کہ آج کا دن بڑی مشکل کا دن ہے

(11:77) سیٔ بھم۔ سوء سے ماضی مجہول، واحد مذکر غائب، وہ دل گیر ہوا، غمگین ہوا۔ ضاق۔ ضیق سے۔ وسعت کی ضد ہے۔ وہ تنگ ہوا۔ ذرعا۔ طاقت ۔ گنجائش۔ ہاتھ کی کشادگی۔ الذراع۔ کہنی سے لے کر درمیانی انگلی کے اخیر تک کا حصہ۔ ہاتھ (لمبائی کی اصلاح میں) ذراع جمع ۔ ذرعان واذرع۔ تفسیر الخازن میں ہے ” ازہری کا بیان ہے کہ : ذرع۔ طاقت کی جگہ استعمال کیا جاتا ہے : اور اس کی اصل یوں ہے کہ اونٹ اپنی رفتار میں اگلے قدموں کو پچھلے قدموں کی وسعت کے اعتبار سے بڑھاتا ہے اور جب اس پر طاقت سے زیادہ بوجھ ڈال دیا جاتا ہے تو اس کی وجہ سے اس کے اگلے قدم تنگ ہوجاتے ہیں اور وہ کمزور ہوکر اپنی گردن لمبی کردیتا ہے۔ پس ضیق الذرع عبارت ہے ضیق الوسع والطاقۃ سے پس ضاق بھم ذرعا سے معنی ہوئے کہ معاملہ کی خرابی سے رہائی کی صورت کوئی نہ مل سکی۔ علامہ بیضاوی (رح) لکھتے ہیں کہ : جب انسان کسی مکروہ امر سے مدافعت میں عاجز ہوجائے تو یہ الفاظ دل گرفتگی اور انقباض کے اظہار کے لئے بطور کنایہ بولے جاتے ہیں۔ عربی میں محاورہ ہے ضاق بکذا اذراعی میں اس سے عاجز ہوں۔ پس ضاق بہم ذرعا کے معنی ہوئے اس نے اپنے آپ کو ان کے سامنے بےبس پایا۔ یوم عصیب۔ عصیب۔ سخت ۔ بھاری۔ عصب سے۔ جس کے معنی سخت کس کر باندھنے اور گھیرلینے کے ہیں۔ بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ یوم عصیب سخت دن ۔ سخت بھاری دن۔
Ayah 11:78

وَ جَآءَهٗ قَوْمُهٗ یُهْرَعُوْنَ اِلَیْهِ١ؕ وَ مِنْ قَبْلُ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِیْ هُنَّ اَطْهَرُ لَكُمْ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا تُخْزُوْنِ فِیْ ضَیْفِیْ١ؕ اَلَیْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِیْدٌ Open ayah 11:78 in the Quran reader

اور لوط کی قوم کے لوگ ان کے پاس بےتحاشا دوڑتے ہوئے آئے۔ اور یہ لوگ پہلے ہی سے فعل شنیع کیا کرتے تھے۔ لوط نے کہا کہ اے قوم ! (جو) میری (قوم کی) لڑکیاں ہیں یہ تمہارے لئے (جائز اور) پاک ہیں تو خدا سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے (بارے) میں میری آبرو نہ کرو۔ کیا تم میں کوئی بھی شائستہ آدمی نہیں ؟

(11:78) یھرعون مضارع مجہول جمع مذکر غائب اھراع مصدر۔ افعال۔ تیز دوڑتے ہوئے مجہول کا صیغہ سرعت اور شدت جذبات کو ظاہر کرنے کے لئے لایا گیا ہے۔ یعنی وہ تیزی اور سرعت سے حضرت لوط (علیہ السلام) کے گھر کی طرف دوڑے جیسے انہیں کوئی بیرونی طاقت مجبور کر رہی ہے اور وہ اڑے جا رہے ہیں۔ یہ مجبوری کا مفہوم اس آیۃ میں بھی ہے فھم علی اثارہم یھرعون (37:70) سو وہ بھی ان کے نقش قدم پر تیزی سے اندھا دھند چل پڑے (یعنی ان کے شوق و رغبت کی یہ شدت تھی کہ انہوں نے دلیل صحیح کی پیروی چھوڑ کر اندھی تقلید شروع کردی گویا مجبور محض تھے) ۔ نیز ملاحظہ ہو 7:120 (والقی السحرۃ سجدین اور جادوگر بےاختیار سجدہ میں گرگئے) بنتی۔ میری بیٹیاں ۔ یعنی قوم کی عورتیں۔ (جو پیشتر قوم کے افراد سے شادہ شدہ تھیں اور باقاعدہ نکاح میں تھیں) اور جو کہ ایک نبی کے لئے بمنزلہ بیٹیاں ہی ہوتی ہیں۔ ھن اطھرلکم۔ خواہش نفسانی کو پورا کرنے کے لئے وہ زیادہ پاکیزہ اور بہتر ذریعہ ہیں۔ ولا تحزون فی ضیفی۔ یعنی میرے مہمانوں کو ذلیل کرکے مجھے ذلیل نہ کرو۔ یہ لفظ خزی سے بتا ہے بمعنی رسوائی یا کزایۃ سے بمعنی حیا۔ مطلب ہوگا مجھے شرمندہ نہ کرو۔
Ayah 11:79

قَالُوْا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِیْ بَنٰتِكَ مِنْ حَقٍّ١ۚ وَ اِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِیْدُ Open ayah 11:79 in the Quran reader

وہ بولے تم کو معلوم ہے کہ تمہاری (قوم کی) بیٹیوں کی ہمیں حاجت نہیں اور جو ہماری غرض ہے اسے تم (خوب) جانتے ہو۔

(11:79) حق۔ حق سے یہاں مراد حاجت۔ ضرورت۔ سروکا رہے۔ ای لیس لنا بھن ھاجۃ ولا لنا فیھن شھوۃ۔ یعنی نہ ہمیں ان کی ضرورت ہے اور نہ ہی ان کی خواہش۔
Ayah 11:80

قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِكُمْ قُوَّةً اَوْ اٰوِیْۤ اِلٰى رُكْنٍ شَدِیْدٍ Open ayah 11:80 in the Quran reader

لوط نے کہا کہ اے کاش مجھ میں تمہارے مقابلے کی طاقت ہوتی یا میں کسی مضبوط قلعہ میں پناہ پکڑ سکتا۔

(11:80) اوی۔ میں بیٹھوں گا۔ میں فروکش ہوجائوں گا۔ اوی سے باب ضرب اوی الی البیت۔ گھر میں اترا ۔ ٹھکانہ لیا۔ یا پناہ لی۔ قرآن میں ہے ساوی الی جبل (11:43) میں ابھی کسی پہاڑ کی پناہ لے لیتا ہوں۔ رکن۔ سہارا ۔ کسی چیز کی وہ جانب جس کے سہارے وہ قائم ہوتی ہے۔ استعارہ کے طور پر زور اور قوت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ آیۃ ہذا : اے کاش ! مجھ کو تمہارے مقابلہ کی طاقت ہوتی یا میں کسی زبردست سہارے کا آسرا پکڑ سکتا۔