80. Surah Abasa

عبسHe frowned · 42 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayahs 80:33–42

فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُ٘ Open ayah 80:33 in the Quran reader

سو جب خوب زور دار آواز والی آجائے گی

یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ Open ayah 80:34 in the Quran reader

جس روز انسان اپنے بھائی سے بھاگے گا

وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِۙ Open ayah 80:35 in the Quran reader

اور اپنی ماں سے اور اپنے باپ سے

وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِیْهِؕ Open ayah 80:36 in the Quran reader

اور اپنی بیوی سے اور اپنے بیٹوں سے

لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ یَوْمَئِذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْهِؕ Open ayah 80:37 in the Quran reader

ان میں سے ہر شخص کی ایسی حالت ہوگی جو کسی طرف متوجہ نہ ہونے دے گی

وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌۙ Open ayah 80:38 in the Quran reader

اس روز بہت سے چہرے روشن ہوں گے،

ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌۚ Open ayah 80:39 in the Quran reader

ہنس مکھ ہوں گے خوش ہوں گے

وَ وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ عَلَیْهَا غَبَرَةٌۙ Open ayah 80:40 in the Quran reader

اور اس دن بہت سے چہرے ایسے ہوں گے جن پر کدورت ہوگی،

تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌؕ Open ayah 80:41 in the Quran reader

ان پر ظلمت چھائی ہوگی

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْكَفَرَةُ الْفَجَرَةُ۠ Open ayah 80:42 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہوں گے جو کافر تھے فاجر تھے

ان آیات میں روز قیامت کے بعض مناظر بیان فرمائے ہیں۔ الصاخہ سخت آواز سے بولنے والی چیز کو کہتے ہیں اور بعض حضرات نے یہ فرمایا ہے کہ ایسی سخت آواز کو کہتے ہیں جو کانوں کو بہرا کر دے اس سے نفخہ ثانیہ مراد ہے جب یہ سخت آؤاز آئے گی تو انسان اپنی مصیبت میں ایسا مبتلا ہوگا کہ اسے کسی کی طرف کوئی توجہ نہ ہوگی جو خاص اپنے لوگ تھے ان سے بھی بھاگے گا ہر شخص کا اپنا حال جدا ہوگا۔ ایمان اور اعمال صالحہ کی وجہ سے نیک بندوں کے چہرے روشن ہوں گے ان کی صورتوں سے بشاشت اور خوشی ظاہر ہو رہی ہوگی اور جن نالائقوں نے دنیا میں خدا کو فراموش کیا ایمان اور اعمال صالحہ کے نور سے علیحدہ رہے اور کفر و فجور کی سیاہی میں گھسے رہے قیامت کے دن ان کے چہروں پر سیاہی چڑھی ہوگی ذلت اور رسوائی کے ساتھ حاضر محشر ہوں گے اپنے اعمال بد کی وجہ سے اداس ہو رہے ہوں گے اور خوف زدہ ہو کر یہ سوچتے ہوں گے کہ یہاں ہم سے برا برتاؤ ہونے والا ہے اور وہ آفت آنے والی ہے جو کمر توڑ دینے والی ہوگی ﴿ تَظُنُّ اَنْ يُّفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌؕ0025﴾۔ سورة ٴ آل عمران میں فرمایا : ﴿يَّوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوْهٌ وَّ تَسْوَدُّ وُجُوْهٌ1ۚ فَاَمَّا الَّذِيْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْهُهُمْ 1۫ اَكَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ 00106 وَ اَمَّا الَّذِيْنَ ابْيَضَّتْ وُجُوْهُهُمْ فَفِيْ رَحْمَةِ اللّٰهِ 1ؕ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ 00107﴾ ” اس روز بعض چہرے سفید ہوں گے اور بعض چہرے سیاہ ہوں گے جن کے چہرے سیاہ ہوں گے ان سے کہا جائے گا کیا تم لوگ کافر ہوگئے تھے اپنے ایمان لانے کے بعد سو سزا چکھو بسبب اپنے کفر کے، اور جن کے چہرے سفید ہوں گے وہ اللہ کی رحمت میں ہوں گے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ “ آخر تفسیر سورة عبس، والحمد للّٰہ اولاً وآخرًا