Ayahs 79:40–44اب دوسرا رخ لیجئے، ارشاد فرمایا : ﴿ وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰى ۙ0040 فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَاْوٰىؕ0041﴾ (اور جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا یعنی وہاں کے حساب سے خوف زدہ ہوا اور اپنے نفس کو خواہشوں سے روکا تو اس کا ٹھکانہ جنت ہے) ۔
بات یہ ہے کہ انسان گناہوں کو چھوڑنا چاہتا ہے۔ حرام سے بچنے کا ارادہ کرتا ہے فرائض و واجبات کا اہتمام کرنا چاہتا ہے تو اس کا نفس آڑے آجاتا ہے، نفس کو آرام چاہیے مزہ اور لذت چاہیے اسے ہری بھری دنیا محبوب ہے، آخرت میں کیا بنے گا اسے اس کی فکر ہی نہیں لہٰذا وہ گناہوں میں منہمک رہنے ہی کو پسند کرتا ہے، جو لوگ اپنے نفس پر قابو پاتے ہیں اسے گناہوں سے روکتے ہیں حرام سے بچاتے ہیں اور صرف جائز مال اور حلال لذت پر اکتفاء کرلیتے ہیں ایسے لوگ مبارک ہیں ان کے لیے جنت کا وعدہ ہے جہاں ہر خواہش پوری ہوگی قیامت کے دن کے حساب کتاب کا جس نے دھیان رکھا اور وہاں کی پیشی سے خوف زدہ ہوا اس کے لیے جنت کا داخلہ ہے اور اسے دو باغ ملیں گے جیسے کہ سورة الرحمٰن میں فرمایا ﴿ وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِۚ0046﴾ (اور جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا رہا اس کے لیے دو باغ ہوں گے) حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے اپنی امت پر سب سے زیادہ اس بات کا خوف ہے کہ نفس کی خواہشوں پر چلیں گے اور لمبی لمبی امیدیں باندھ کر رہیں گے، پھر فرمایا کہ نفس کی خواہش حق سے روکتی ہے اور امید کی درازی آخرت کو بھلا دیتی ہے۔ مزید فرمایا کہ یہ دنیا برابر جا رہی ہے اور یہ آخرت کے سفر میں ہے برابر چلی آرہی ہے اور دونوں میں سے ہر ایک کے بیٹے ہیں سو اگر تم سے ہو سکے کہ دنیا کے بیٹے نہ بنو تو ایسا کرلو، کیونکہ آج تم دار العمل میں ہو اور حساب نہیں ہے اور کل کو دار آخرت میں ہوں گے اور وہاں عمل نہیں ہوگا اور ایک حدیث میں یوں ہے کہ آخرت کے بیٹے بنو دنیا کے بیٹے مت بنو کیونکہ آج عمل ہے اور حساب نہیں اور کل کو حساب ہوگا اور عمل نہیں۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 444)
﴿ يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَيَّانَ مُرْسٰىهَاؕ0042﴾ (وہ لوگ آپ سے دریافت کرتے ہیں کہ قیامت کا وقوع کب ہوگا ؟ ) ان لوگوں کا یہ سوال بظاہر سوال تھا اور حقیقت میں قیامت کا انکار کرنا مقصود تھا۔ اللہ تعالیٰ شانہ نے اپنے نبی ﷺ کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا : ﴿ فِيْمَ اَنْتَ مِنْ ذِكْرٰىهَاؕ0043﴾ (اس کے بیان کرنے سے آپ کا کیا تعلق) یعنی آپ کو تو اس کے وقت وقوع کا علم ہی نہیں لہٰذا آپ اس کا وقت نہیں بتاسکتے۔ ﴿ اِلٰى رَبِّكَ مُنْتَهٰىهَاؕ0044﴾ (اس کا منتہائے علم آپ کے رب کی طرف ہے) یعنی قیامت کے واقع ہونے کا وقت معین اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے سورة الاعراف میں جو ﴿قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّيْ 1ۚ لَا يُجَلِّيْهَا لِوَقْتِهَاۤ اِلَّا هُوَ﴾ فرمایا ہے۔ یہاں بھی وہی مضمون مذکور ہے۔
Ayahs 79:45–46﴿اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرُ مَنْ يَّخْشٰىهَاؕ0045﴾ (آپ تو صرف ایسے شخص کے ڈرانے والے ہیں جو قیامت سے ڈرتا ہو) یعنی آپ کی بات مان کر ایمان لے آئے اور قیامت کے مواخذہ اور محاسبہ سے خوف زدہ ہو، جسے ماننا نہیں ہے آپ کا ڈرانا اس کے حق میں مفید نہیں۔ ﴿ كَاَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوْۤا اِلَّا عَشِيَّةً اَوْ ضُحٰىهَا (رح) 0046﴾ (جس دن وہ اس کو دیکھیں گے ایسا معلوم ہوگا کہ گویا صرف ایک دن کے آخری حصہ میں رہے ہوں یا اس کے اول حصہ میں) آج تو بار بار پوچھ رہے ہیں کہ قیامت کب آئے گی اور بطور استہزا اور تمسخر یوں کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا جب قیامت آئے گی اس وقت دنیا والی زندگی (جس میں برسہا برس گزارے تھے) ۔ تھوڑی سی معلوم ہوگی اور یوں سمجھیں گے کہ ہم نے جو عذاب کی جلدی مچائی تھی وہ واقعی جلدی آگیا، وقوع کے وقت جلدی ہی سمجھیں گے اگرچہ اب یوں کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا۔
وھذا آخر تفسیر سورة النازعات والحمد للہ الذی بنعمتہ تتم الصالحات والصلوٰة والسلام علی سید الکائنات وعلی آلہ وصحبہ رواة الآیات الھداة الی الجنات