69. Surah Al-Haaqqa

الحاقةThe Reality · 52 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayahs 69:40–42

اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِیْمٍۚۙ Open ayah 69:40 in the Quran reader

بلاشبہ یہ قرآن کلام ہے ایک معزز فرشتے کا لایا ہوا

وَّ مَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 69:41 in the Quran reader

اور وہ کسی شاعر کا کلام نہیں ہے تم بہت کم ایمان لاتے ہو،

وَ لَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَؕ Open ayah 69:42 in the Quran reader

اور وہ کسی کاہن کا کلام نہیں ہے تم بہت کم سمجھتے ہو،

﴿ اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍۚۙ0040﴾ رسول کریم ﷺ سے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) مراد ہیں اور مطلب یہ ہے یہ کلام جس کے واسطہ سے تم لوگوں تک پہنچ رہا ہے وہ اللہ کا بھیجا ہوا قاصد ہے جو اللہ کے یہاں گرامی قدر ہے جس کا مرتبہ ہے وہ اس کلام کو لے کر اللہ کی زمین والے رسول کے پاس آیا ہے یعنی بواسطہ جبرائیل (علیہ السلام) حضرت سیدنا محمد ﷺ پر نازل ہوا اور بعض حضرات نے فرمایا کہ رسول کریم ﷺ سے خود رسول کریم ﷺ کی ذات گرامی مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ ہمارا یہ کلام تمہیں ہمارا رسول سناتا ہے جسے اللہ تعالیٰ شرف رسالت سے نواز دے وہ سچا ہی ہوتا ہے۔
Ayah 69:43

تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 69:43 in the Quran reader

یہ اتارا ہوا ہے رب العالمین کی طرف سے،

ثانیاً : یہ فرمایا ﴿ تَنْزِيْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ 0043﴾ (یہ کلام رب العلمین کی طرف سے اتارا ہوا ہے) اس میں کلام سابق کی تاکید بھی ہے اور توضیح بھی ہے کوئی كم فہم قول رسول کریم کا مطلب یہ سمجھ سکتا تھا کہ یہ ان کا ذاتی کلام ہے لہٰذا واضح فرما دیا کہ یہ کلام تمہارے سامنے نکلا تو ہے رسول کریم کی زبان سے لیکن اتارا ہوا رب العلمین کی طرف سے ہے۔
Ayahs 69:44–47

وَ لَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِیْلِۙ Open ayah 69:44 in the Quran reader

اور اگر یہ شخص ہمارے ذمہ کچھ باتیں لگا لیتا

لَاَخَذْنَا مِنْهُ بِالْیَمِیْنِۙ Open ayah 69:45 in the Quran reader

تو ہم اس کا داہنا ہاتھ پکڑ لیتے

ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِیْنَ٘ۖ Open ayah 69:46 in the Quran reader

پھر اس کے دل کی رگ کاٹ دیتے

فَمَا مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ عَنْهُ حٰجِزِیْنَ Open ayah 69:47 in the Quran reader

پھر تم میں سے کوئی اسے سزا سے بچانے والا نہ ہوگا،

ثالثاً یہ فرمایا : ﴿ وَ لَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْلۙ0044 لَاَخَذْنَا مِنْهُ بالْيَمِيْنِۙ0045 ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِيْنَٞۖ0046 فَمَا مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ عَنْهُ حٰجِزِيْنَ 0047﴾ (اور اگر یہ شخص ہمارے ذمہ کچھ باتیں لگا دیتا تو ہم اس کا داہنا ہاتھ پکڑ لیتے پھر ہم اس کے دل کی رگ کاٹ ڈالتے پھر تم میں سے کوئی اسے سزا سے بچانے والا نہ ہوتا) ۔ ان آیات میں رسول اللہ ﷺ کے دعویٰ نبوت کو سچا ثابت فرمایا ہے ارشاد فرمایا کہ یہ شخص جو دعویٰ کرتا ہے کہ میں اللہ کا رسول اور نبی ہوں اور یہ دعویٰ کرتا ہے کہ مجھ پر اللہ تعالیٰ نے کتاب نازل فرمائی ہے اگر یہ ہماری طرف کچھ جھوٹی باتیں منسوب کردیتا یعنی نبوت کا جھوٹا دعویدار ہوتا اور ہماری طرف کسی ایسی بات کی نسبت کردیتا جو ہماری طرف سے نازل نہیں کی گئی تو ہم اس کا داہنا ہاتھ پکڑ لیتے اور اس کے دل کی رگ کاٹ ڈالتے یعنی اس کی گرفت فرما لیتے اور اس کو موت دے دیتے جب اس کو ہم سزا دیتے تو اس کو تم میں سے کوئی شخص بچا نہیں سکتا، صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ موت دینے کو اس طرح جو تعبیر فرمایا کہ ہم اس کا داہنا ہاتھ پکڑ لیتے اور اس کے دل کی رگ کو کاٹ ڈالتے اس میں ہلاک کرنے کی ایک رسوا کن تصویر بیان فرمائی، جب بادشاہ کسی پر غصہ ہوتے تھے تو اس کے قتل کرنے کے لیے جلاد کو حکم دیتے تھے جلاد یوں کرتا تھا کہ پہلے مقتول کے داہنے ہاتھ کو پکڑتا تھا پھر اس کی گردن مار دیتا تھا اس کے بعد حضرت حسن سے نقل کیا ہے کہ : ان المعنی لقطعنا یمینہ ثم لقطعن وتینة عبرة و نکالا یعنی ہم اولاً ، اس کے دہانے ہاتھ کو کاٹ دیتے پھر ہم اس کی رگ جان کو کاٹ دیتے تاکہ دوسروں کے لیے عبرت ناک سزا ہوجائے۔
Ayah 69:48

وَ اِنَّهٗ لَتَذْكِرَةٌ لِّلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 69:48 in the Quran reader

اور بلاشبہ و متقیوں کے لیے نصیحت ہے

رابعاً یہ فرمایا ﴿ وَ اِنَّهٗ لَتَذْكِرَةٌ لِّلْمُتَّقِيْنَ۠0048﴾ (اور بلاشبہ یہ قرآن نصیحت ہے تقویٰ اختیار کرنے والوں کے لیے)
Ayah 69:49

وَ اِنَّا لَنَعْلَمُ اَنَّ مِنْكُمْ مُّكَذِّبِیْنَ Open ayah 69:49 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم ضرور جانتے ہیں کہ تم میں جھٹلانے والے ہیں

خامساً یہ فرمایا ﴿ وَ اِنَّا لَنَعْلَمُ اَنَّ مِنْكُمْ مُّكَذِّبِيْنَ 0049﴾ (اور بلاشبہ ہم یہ جانتے ہیں تم میں وہ لوگ بھی ہیں جو جھٹلانے والے ہیں) لہٰذا ان جھٹلانے والوں کو ان کے جھٹلانے کی سزا ملے گی۔
Ayah 69:50

وَ اِنَّهٗ لَحَسْرَةٌ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 69:50 in the Quran reader

اور بلاشبہ یہ کافروں کے حق میں حسرت ہے

سادساً یہ فرمایا ﴿ وَ اِنَّهٗ لَحَسْرَةٌ عَلَى الْكٰفِرِيْنَ 0050﴾ (اور بلاشبہ یہ قرآن کافروں کے لیے بہت بڑی حسرت کا سبب ہے) جب قیامت کے دن اہل ایمان کو قرآن کے ماننے اور اس پر ایمان لانے کی وجہ سے اور اس کے مطابق اعمال اختیار کرنے کی وجہ سے ثوب ملے گا اور جنت کی نعمتوں سے مستفید اور منتفع ہوں گے اس وقت کافروں کو حسرت ہوگی اور خیال ہوگا کہ ہائے كاش ہم نے بھی قرآن کو مان لیا ہوتا اور عذاب سے بچ جاتے۔
Ayah 69:51

وَ اِنَّهٗ لَحَقُّ الْیَقِیْنِ Open ayah 69:51 in the Quran reader

اور بلاشبہ وہ بالیقین حقیقی بات ہے

سابعاً ﴿ وَ اِنَّهٗ لَحَقُّ الْيَقِيْنِ 0051﴾ فرمایا (اور بلاشبہ یہ قرآن یقینی طور پر حق ہے) جس کے حق اور سچا ہونے میں ذرا سا بھی شک و شبہ کرنے کی گنجائش نہیں۔
Ayah 69:52

فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 69:52 in the Quran reader

سو آپ اپنے رب عظیم کے نام کی پاکی بیان کیجیے

سورت کے ختم پر فرمایا ﴿ فَسَبِّحْ باسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيْمِ (رح) 0052﴾ (اپنے رب عظیم کے نام کی پاکی بیان کیجئے) اللہ سب سے بڑا ہے اس کا نام بھی سب ناموں سے بڑا ہے اس کی پاکی بیان کریں اور اس کی تسبیح میں لگے رہیں اس کی کمال ذات اور کمال صفات کو بیان کرتے رہیں۔ تنبیہ : خاتم النّبیین سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد (جن پر نبوت ختم کرنے کا سورة ٴ احزاب رکوع نمبر 6 میں اعلان فرما دیا ہے) بہت سے آدمیوں نے نبوت کے دعوے کیے یہ ظاہر ہے کہ دعوے جھوٹے تھے ایسے لوگ آتے گئے مقتول بھی ہوئے اور کیفر کردار تک پہنچے، ان میں سے ایک شخص مسلیمہ پنجاب بھی تھا جو قادیان ضلع گورداسپور کا رہنے والا تھا اس نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا اور جھوٹی پیشین گوئیوں کا سہارا لیا اور اس کی ہر پیشین گوئی جھوٹی ثابت ہوئی اور خاص کر جس جس پیشین گوئی پر سچا ہونے کا مدار رکھا تھا خاص کر وہ تو دنیا کے سامنے کھل کر واضح طور پر جھوٹی ثابت ہوگئی۔ اس جھوٹے مدعی نبوت نے اپنے نبی ہونے پر سورة الحاقہ کی مذکورہ بالا آیت سے استدلال کرتے ہوئے یوں کہا کہ اگر میں جھوٹا ہوتا تو اب تک مجھے سزا مل گئی ہوتی، میں مرچکا ہوتا اور میری رگ جان کٹ چکی ہوتی۔ آیت کریمہ میں صرف محمد رسول اللہ خاتم النبیین ﷺ کی نبوت اور رسالت کا ذکر ہے اور یہ فرمایا ہے کہ اگر ان کا دعویٰ صحیح نہ ہوتا تو ہم ان کو سزا دے دیتے اس میں یہ کہیں بھی نہیں ہے کہ آپ کے بعد جو بھی کوئی شخص نبوت کا دعویٰ کرے گا ہم اسے موت دے دیا کریں گے اور اس کی رگ جان کاٹ دیا کریں گے۔ آیت کا یہ مفہوم اس جھوٹے شخص نے اور اس کے مشورہ دینے والوں نے خود سے نکالا ہے اللہ تعالیٰ کسی کا پابند نہیں اور یہ ضروری نہیں کہ ہر ایک کے ساتھ یکساں معاملہ ہو آنحضرت ﷺ کے بعد بہت سے نبوت کے دعویدار گزرے ہیں ان کے ساتھ یہ معاملہ نہیں ہوا جس کا آیت کریمہ میں ذکر ہے تو کیا العیاذ باللہ وہ سب سچے ہوگئے ؟ پھر ایک سمجھدار آدمی کے لیے یہ کافی ہے کہ اگر یہ پنجاب کا مدعی نبوت جلد ہی مرجاتا تو اس سے اس کی ذلت زیادہ ظاہر نہ ہوتی، ہوا یہ کہ جیسے جیسے اس کے دعوے بڑھتے گئے پیشین گوئیاں جھوٹی ثابت ہوتی چلی گئیں وہ برابر ذلیل ہوتا گیا اور اسہال میں مرگیا۔ اس جھوٹے مدعی نبوت کو سورة النساء کی آیت کریمہ ﴿نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَ نُصْلِهٖ جَهَنَّمَ ﴾ نظر نہ آئی جس میں واضح طور پر یہ بتادیا گیا ہے کہ جو شخص رسول کی مخالفت کرے اس کے بعد کہ اس کے لیے ہدایت ظاہر ہوچکی ہو اور وہ مسلمانوں کے راستہ کے خلاف کسی دوسرے راستہ کا اتباع کرے تو ہم اس طرف پھیرے رکھیں گے جس طرف وہ پھرا اور اس کو جہنم میں داخل کردیں گے۔ بات یہ ہے کہ جو شخص گمراہی کو اختیار کرتا ہے اور تنبیہ کرنے والوں کی تنبیہ پر واپس نہیں آتا اللہ جل شانہٗ اس کے دل میں مزید زیغ اور گمراہی ڈال دیتا ہے جیسا کہ سورة ٴ صف میں فرمایا : ﴿فَلَمَّا زَاغُوْۤا اَزَاغ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ ﴾ رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی بھی مدعی نبوت اور کوئی بھی ملحد اور زندیق اور گمراہی کا داعی اور ضلال اور عقائد باطلہ کا پیشوا اس دھوکہ میں نہ رہے کہ چونکہ میں جی رہا ہوں اور کھا رہا ہوں اور پی رہا ہوں اور میرے ماننے والے بڑھ رہے ہیں اور مجھے کوئی سزا نہیں مل رہی ہے اس لیے میں صحیح راہ پر ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا قانون ﴿ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى ﴾ بھی سامنے رکھنا لازم ہے اللہ تعالیٰ نے بتادیا کہ مومنین کے راستے سے ہٹ کر جو بھی کوئی شخص گمراہی کا راستہ اختیار کرے گا ہم اسے اس پر رہنے دیں گے اور ساتھ ہی ﴿وَ نُصْلِهٖ جَهَنَّمَ ﴾ کا استحضار رہنا بھی لازم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا کہ ہم ایسے شخص کو دوزخ میں داخل کریں گے۔ سورة ٴ نساء کی آیت سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ مومنین کے راستہ کے علاوہ دوسرا راستہ اختیا رکرنا دوزخ میں جانے کا سبب ہے۔ الحمد للّٰہ علی تمام تفسیر ھذہ سورة الحاقة اولا وآخرًا و باطنًا وظاھرًا