Ayah 59:18اللہ تعالیٰ سے ڈرنے اور آخرت کے لئے فکر مند ہونے کا حکم
ان آیات میں اہل ایمان کو موت کے بعد کے احوال درست کرنے اور وہاں کے لئے فکر مند ہونے کا حکم دیا ہے، ارشاد فرمایا۔ اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور ہر جان یہ غور کرلے کہ اس نے کل کے لئے اپنے آگے کیا بھیجا ہے پھر دوبارہ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ فرمایا اور اللہ سے ڈرنے کا حکم دیا، بعض علماء نے فرمایا ہے کہ پہلا اتَّقُوا اللّٰهَ گزشتہ گناہوں سے توبہ کرنے کے لئے فرمایا ہے اور دوسرا اتَّقُوا اللّٰهَ جو فرمایا ہے اس میں آئندہ گناہ کرنے سے پرہیز کرنے کا حکم دیا ہے اور ایک قول یہ ہے کہ پہلا حکم ادائے فرائض اور واجبات کی اہمیت دلانے کے لئے ہے اور دوسرا حکم گناہوں سے بچنے کے لئے ہے۔ آیت کے ختم ہونے پر فرمایا کہ بلاشبہ اللہ ان کاموں سے باخبر ہے جو تم کرتے ہو، اس کا عموم ہر طرح کے اعمال کو شامل ہے اللہ تعالیٰ کو ہر شخص کے اچھے اعمال کی بھی خبر ہے وہ ان کی اچھی جزادے گا اور اسے بندوں کے برے اعمال کا بھی پتہ ہے۔ مشرکین و کفار اور گناہگارو بدکار، یہ نہ سمجھیں کہ ہمارے اعمال سے اللہ تعالیٰ شانہ بیخبر ہے اسے سب کچھ علم ہے، اپنے علم اور حکمت کے مطابق سزادے گا یہ جو فرمایا کہ ہر جان غور کرلے کہ اس نے کل کے لئے کیا بھیجا ہے ؟ یہ بہت اہم نصیحت ہے، لوگ دنیا میں آگئے یہاں ہمیشہ رہنا نہیں ہے سب کو مرنا ہے اور یہاں سے جانا ہے۔ قیامت کے دن حاضری ہوگی حساب کتاب ہوگا اچھے برے اعمال پیش ہوں گے اور دوزخ و جنت میں جانے کے فیصلے ہوں گے۔
زندگی کی قدر کرو :
ایمان والوں کو خطاب کر کے فرمایا تم غور کرلو۔ دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کے لئے کیا بھیجا ؟ جو شخص جو بھی کوئی عمل کرلے گا اس کا بدلہ پالے گا اگر نیکیاں بھیجی ہیں اور کم بھیجی ہیں تو اصول کے مطابق ان کا ثواب مل جائے گا اور اگر نیک کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے تو ان کا ثواب بھی خوب زیادہ ملے گا، جو گناہ بھیجے ہیں وہ وبال ہوں گے۔ عذاب بھگتنے کا ذریعہ بنیں گے، انسان اس دنیا میں آیا کھایا پیا اور یہیں چھوڑا، یہ کوئی کامیاب زندگی نہ ہوئی۔ اعمال صالحہ جتنے بھی ہوجائیں اور اموال طیبہ جتنے بھی اللہ کے لیے خرچ ہوجائیں اس سے دریغ نہ کیا جائے فرائض اور واجبات کی ادائیگی کے بعد ذکر تلاوت عبادت و سخاوت جتنی بھی ہو سکے کرتا رہے۔ اپنی زندگی کو گناہوں میں لایعنی کاموں میں بربادنہ کرے۔
ذكر اللہ کے فضائل :
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر میں یوں کہوں سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر تو مجھے یہ ان سب چیزوں سے زیادہ محبوب ہے جن پر سورج طلوع ہوتا ہے۔ (رواہ مسلم کمافی المشکوۃ صفحہ 200)
معلوم ہوا کہ ہر شخص کو چاہئے کہ اپنی زندگی کے ہر منٹ اور ہر سیکنڈ کو یاد خدا میں لگائے رکھے اور زندگی کے ان سانسوں کی قدر کرے اور ان کو اپنی آخرت کی زندگی سدھارنے کے لئے صرف کرے، جو لوگ اپنی مجلسوں کو بیکار باتوں اور اشتہاری خرافات اور اخباری کذبات میں صرف کردیتے ہیں اور اللہ کی یاد سے غافل رہتے ہیں یہ مجلسیں ان کے لئے سراسر خسران اور گھاٹے کے اسباب ہیں۔
عمر انسان کے پاس ایک پونجی ہے جس کو لے کر دنیا کے بازار میں تجارت کرنے کے لئے آتا ہے، جہاں دوزخ یا جنت کے ٹکٹ خریدے جاتے ہیں اور ہر دن اور رات اور گھنٹہ اور منٹ اسی عمر کی پونجی کے اجزا اور ٹکڑے ہیں جو ہر گھڑی انسان کے پاس سے جدا ہوتے جارہے ہیں کوئی اس کے بدلہ جنت کا پروانہ (عمل صالح) خریدتا ہے اور کوئی دوزخ کا پروانہ (برا عمل) خرید لیتا ہے، افسوس ہے اس شخص پر جس کی پونجی اس کی ہلاکت کا سبب بنے۔ وہاں جب نیکیوں کا اجرو ثواب ملنا شروع ہوگا تو آنکھیں پھٹی رہ جائیں گی اور افسوس ہوگا کہ ہائے ہائے ہم نے یہ عمل نہ کیا اور یہ عمل نہ کیا، حسرت اور افسوس سے کوئی فائدہ نہ ہوگا لہٰذا جو کچھ کرسکتے ہیں وہ کرلیں اور یہیں کرلیں۔
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص سبحان اللّٰہ العظیم وبحمدہ کہے اس کے لئے جنت میں ایک درخت لگ جاتا ہے۔ (الترغیب والترہیب) اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ جس رات مجھ کو سیر کرائی گئی (یعنی معراج کی رات) میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ملا تو انہوں نے فرمایا کہ اے محمد ﷺ اپنی امت کو میر اسلام کہہ دیجیو اور ان کو بتلا دیجیو کہ جنت کی اچھی مٹی ہے اور میٹھا پانی ہے اور وہ چٹیل میدان ہے اور اس کے پودے یہ ہیں : سبحان اللّٰہ والحمدللّٰہ ولا الہ الا اللّٰہ واللّٰہ اکبر (مشکوۃ)
مطلب یہ ہے کہ جنت میں اگرچہ درخت بھی ہیں، پھل اور میوے بھی مگر ان کے لئے چٹیل میدان ہے جو نیک عمل سے خالی ہیں، جنت کی ایسی مٹی ہے جیسے کوئی زمین کھیتی کے لائق ہو اس کی مٹی اچھی ہو اس کے پاس میٹھا پانی ہو اور جب اس کو بودیا جائے تو اس کی مٹی کی اپنی صلاحیت اور پانی کے سینچاؤ اور قدرت خداوندی کی وجہ سے اس میں اچھے عمدہ درخت اور بہترین غلہ پیدا ہوجائے بالکل اسی طرح جنت کو سمجھ لو کہ جو کچھ یہاں بودو گے وہاں کاٹ لوگے ورنہ وہ خالی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کو جو شخص صبح کو سو مرتبہ سبحان اللہ کہے اور شام کو سو مرتبہ سبحان اللہ کہے، اس کو سو حج کا ثواب ملے گا اور جو شخص سو مرتبہ صبح کو اللہ کی حمد بیان کرے (الحمدللہ کہے) اور سو مرتبہ شام کو اللہ کی حمد بیان کرے تو اسے مجاہدین کو سو گھوڑے دینے کا ثواب ملے گا اور جس نے سو مرتبہ صبح کو اور سو مرتبہ شام کو لا الٰہ الا اللہ کہا اس کو اسمعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے سو غلام آزاد کرنے کا ثواب ہوگا اور جس نے سو مرتبہ صبح کو اور سو مرتبہ شام کو اللہ اکبر کہا تو اس دن کوئی دوسرا شخص اس کے برابر عمل کرنے والا نہ ہوگا سوائے اس شخص کے جس نے اس کے برابر یا اس سے زیادہ (یہ مذکورہ) کلمات کہے ہوں۔
(مشکوۃ المصابیح صفحہ 202 عن الترمذی عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ وقال حسن عریب)
عہد نبوت کا ایک واقعہ :
حضرت جریر بن عبداللہ ؓ نے بیان کیا کہ ہم ایک روز دن کے شروع حصہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے آپ کے پاس ایسے لوگ آئے جن کے پاس کپڑے نہیں تھے انہوں نے اون کی چادریں یا عبائیں پہنی ہوئی تھی، گردنوں میں تلواریں لٹکائی ہوئی تھیں ان میں سے اکثر افراد بلکہ سب ہی قبیلہ بنی مضر میں سے تھے۔ ان کی حاجت مندی کا حال دیکھ کر رسول اللہ ﷺ کا چہرہ مبارک متغیر ہوگیا، آپ اندر گھر میں تشریف لے گئے پھر باہر تشریف لائے۔ (اتنے میں زوال ہوچکا تھا) آپ نے بلال کو اذان دینے کا حکم دیا انہوں نے اذان دی اقامت کہی آپ نے نماز پڑھائی پھر خطبہ دیا اور سورة نساء کی آیت ﴿يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ ﴾ آیت کے ختم یعنی ﴿ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيْبًا 001﴾ تک تلاوت فرمائی اور دوسری آیت سورة حشر کی یعنی ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ ﴾ تلاوت فرمائی اور حاضرین کو صدقہ کرنے کا حکم فرمایا (لوگوں نے صدقہ دینا شروع کیا) کوئی شخص دینار لایا کسی نے درہم کا صدقہ کیا، کسی نے کپڑا دے دیا۔ اور کوئی شخص گیہوں کا ایک صاع لے آیا اور کسی نے چھواروں کا ایک صاع پیش کردیا (حسب توفیق حاضرین چیزیں لاتے رہے) یہاں تک کہ راوی نے آدھی کھجور کا تذکرہ بھی کیا یعنی لوگ آدھی کھجور لے آئے۔ تھوڑی دیر میں انصار میں سے ایک شخص (دراہم یا دنانیر) کی تھیلی لے کر آیا جو اتنی بھاری تھی کہ اس کا ہاتھ اٹھانے سے عاجز ہوچکا تھا، پھر دیگر افراد بھی لگاتار مختلف چیزیں لاتے رہے یہاں تک کہ میں نے کھانوں کی چیزوں اور کپڑوں کے دو ڈھیر دیکھ لئے یہ سب کچھ دیکھ کر رسول اللہ ﷺ کا چہرہ کھل اٹھا۔ گویا کہ اس پر سونے کا پانی پھیر دیا گیا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ جاری کردیا اسے اس کا ثواب ملے گا اور جس نے اس کے بعد اس پر عمل کیا اسے اس کا بھی ثواب ملے گا اور دوسرے کے ثواب میں سے کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔
(مزید فرمایا) جس نے اسلام میں برا طریقہ جاری کردیا اس کو اس کے جاری کرنے کا بھی گناہ ملے گا اور اس کے بعد جو لوگ اس پر عمل کریں گے اس کے عمل کا بھی اسے گناہ ہوگا اور عمل کرنے والوں کے گناہوں میں سے کمی نہیں کی جائے گی۔ (صحیح مسلم صفحہ 327: ج 1)
Ayah 59:19وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ نَسُوا اللّٰهَ :
(ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جو اللہ تعالیٰ کو بھول گئے) جنہوں نے اللہ کے حکموں پر عمل کرنا چھوڑ دیا اور گمراہی کی زندگی اختیار کی اور غفلت میں ایسے پڑے کہ اللہ کو بھول گئے انہیں اللہ نے اس بھولنے پر یہ سزادی کہ انہیں ان کی جانوں ہی کو بھلا دیا یعنی انہیں یہ دھیان نہ رہا کہ موت کے بعد ہمارا کیا بنے گا، دنیا کی لذتوں میں پڑ کر انہوں نے آخرت کی نعمتوں سے محروم ہونا منظور کرلیا اور وہاں کی لذتوں سے محروم رہ گئے۔ (قال صاحب معالم التنزیل فانساھم انفسھم ای حظوظ انفسھم حتی لم یقدموا لھا خیراً ) ۔
پھر فرمایا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ 0019﴾ یہ لوگ فاسق ہیں، صاحب روح المعانی نے اس کی تفسیر میں لکھا ہے الکاملون فی الفسوق یعنی یہ وہ لوگ ہی جو انتہائی درجہ کے فاسق ہیں۔
Ayah 59:20اصحاب الجنۃ اور اصحاب النار برابر نہیں ہیں :
﴿ لَا يَسْتَوِيْۤ اَصْحٰبُ النَّارِ وَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ﴾ (دوزخ والے اور جنت والے برابر نہیں ہیں) میدان آخرت میں حاضر ہوں گے تو اہل جنت اپنے باغوں میں جائیں گے اور دوزخ والے اپنے ٹھکانوں میں پہنچ جائیں گے ان کو دائمی سزا ملے گی۔
آخر میں فرمایا ﴿ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَآىِٕزُوْنَ۠0020﴾ (جنت والے ہی کامیاب ہوں گے) ۔ فاسقون فائزون کے مرتبہ کو کہاں پہنچ سکتے ہیں۔
Ayah 59:21قرآن مجید کی صفت جلیلہ :
اس کے بعد فرمایا ﴿ لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰى جَبَلٍ لَّرَاَيْتَهٗ ﴾ (الآیۃ) اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر نازل کردیتے تو اے مخاطب تو اسے اس حال میں دیکھتا کہ یہ اللہ کے خوف سے دب جاتا اور پھٹ جاتا)
صاحب روح المعانی (صفحہ 61: ج 28) اس کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس سے انسان کی قساوت قلبی اور تلاوت قرآن کے وقت خشوع و تدبر کی کمی پر متنبہ کیا ہے قرآن میں جو جھنجھوڑنے والی آیات ہیں انسان ان کی طرف دھیان نہیں دیتا حالانکہ اگر یہی قرآن کسی پہاڑ پر اتارا جاتا اور اسے عقل دے دی جاتی تو وہ خشوع اختیار کرتا اور پھٹ جاتا۔
صاحب معالم التنزیل (صفحہ 236: ج 4) نے یہ بات بھی لکھی ہے اور یہ بات بڑھادی ہے کہ پہاڑ اپنی سختی کے باوجود اس ڈر سے ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا کہ قرآن کریم کا جو حق اللہ تعالیٰ نے لازم فرمایا ہے وہ مجھ سے ادا نہ ہو سکے گا۔ یہ انسان ہی ہے جو قرآن کو پڑھتا ہے اور سنتا ہے اور اس کی ذمہ داری کو محسوس نہیں کرتا حالانکہ یہ مضامین عجیبہ اللہ تعالیٰ اس لئے بیان فرماتا ہے تاکہ لوگ فکر کریں۔
ولا حاجة ان یفرض ترکب العقل فیہ لان الجبال فیھا ادراک کما ذکر اللہ تعالیٰ فی آخر سورة الاحزاب ” فَاَبَيْنَ اَنْ يَّحْمِلْنَهَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْهَا وَ حَمَلَهَا الْاِنْسَانُ “ وقال تعالیٰ فی سورة البقرة : ” وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا يَشَّقَّقُ فَيَخْرُجُ مِنْهُ الْمَآءُ 1ؕ وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا يَهْبِطُ مِنْ خَشْيَةِ اللّٰهِ ۔ “
Ayah 59:22اللہ تعالیٰ کے لئے اسمائے حسنیٰ ہیں جو اس کی صفات جلیلہ کا مظہر ہیں
ان آیات میں اللہ تعالیٰ شانہ کی شان الوہیت بیان کی ہے اور یہ بتایا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے جو لوگ اس کی ذات وصفات میں اور اس کی شان الوہیت میں جس کسی کو بھی شریک بناتے ہیں وہ ان شرک کرنے والوں کے شرک سے پاک ہے۔
اللہ تعالیٰ کی صفات بیان کرتے ہوئے اولاً عٰلِمُ الْغَيْبِ وَ الشَّهَادَةِ فرمایا یعنی وہ غائب کی چیزوں کو بھی جانتا ہے اور جو چیزیں ظاہر ہیں اس کی مخلوق کے سامنے ہیں انہیں بھی جانتا ہے غیب کے مفہوم عام میں سب کچھ آجاتا ہے جو چیزیں پیدا ہو کرنا پید ہوگئیں اور جو آئندہ وجود میں آئیں گی، ازل سے ابد تک اسے ہر چیزیں کا علم ہے، جو چیزیں وجود میں کبھی بھی آئیں گی اسے ان کا بھی علم ہے اور جو چیزیں ممتنع الوقوع ہیں اسے ان کا بھی علم ہے۔ الشہادۃ کا مفہوم بھی عام ہے مخلوق کو جن چیزوں کا علم ہے اور جن چیزوں کا مخلوق کو علم نہیں وہ انہیں بھی جانتا ہے اور ان کے نہ جاننے کو بھی جانتا ہے۔
غرضیکہ ہر ممتنع اور ہر موجود اور ہر غیر موجود کا اسے علم ہے۔ جو علم اللہ نے کسی کو دے دیا اور جتنا دیدیا، اسے اسی قدر مل گیا۔ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کو جو کچھ علم غیب دیا گیا وہ انہیں اللہ تعالیٰ کے دینے سے ہی ملا اور اتنا ہی ملا جتنا اللہ تعالیٰ نے دیا، کماقال اللہ تبارک و تعالیٰ ﴿ وَ مَا كَان اللّٰهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ يَجْتَبِيْ مِنْ رُّسُلِهٖ مَنْ يَّشَآءُ (الآیۃ) وقال تعالیٰ : عٰلِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلٰى غَيْبِهٖۤ اَحَدًاۙ0026 اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ﴾ (الآیۃ)
ثانیاً : صفت رحمت کو بیان کیا اور فرمایا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِيْمُ کہ وہ رحمن بھی ہے رحیم بھی ہے۔ مفسرین کرام نے فرمایا ہے کہ یہ دونوں مبالغہ کے صیغے ہیں اور رحمت سے مشتق ہیں چونکہ دونوں کے معنی میں مبالغہ ہے اس لئے ترجمہ میں بھی مبالغہ کا خیال رکھنا جاتا ہے، اکثر علماء فرماتے ہیں لفظ رحمن میں لفظ رحیم سے زیادہ مبالغہ ہے دنیا میں بھی اس کی رحمت کا بہت زیادہ مظاہرہ ہوتا رہتا ہے اور آخرت میں بھی اس کا بہت بڑا مظاہرہ ہوگا۔
Ayah 59:23ثالثاً : اَلْمَلِكُ فرمایا ملک بادشاہ کو کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ شانہ حقیقی بادشاہ ہے دنیا میں جو بادشاہ ہیں وہ سب اس کے بندے ہیں اور سب اس کی مخلوق ہیں۔ وہ ملک الملوک یعنی سب بادشاہوں کا بادشاہ ہے اور وہ ہر چیز کا مالک ہے اور سارا ملک اسی کا ہے۔ سورة یٰسین میں فرمایا : ﴿ فَسُبْحٰنَ الَّذِيْ بِيَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَيْءٍ وَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ (رح) 0083﴾
رابعاً : الْقُدُّوْسُ فرمایا، یعنی وہ ہر نقصان اور ہر عیب سے بہت زیادہ پاک ہے، یہ بھی مبالغہ کا صیغہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ وتروں کا سلام پھیر کر تین مرتبہ ذرا اونچی آواز سے سبحان الملک القدوس پڑھا کرتے تھے اور القدوس کی دال کے پیش کو کھینچ کر پڑھتے تھے یعنی واؤ ساکن جو حرف مدہ ہے۔ اس کے مد کو مد طبیعی سے زیادہ ادا کرتے تھے۔
خامساً : السَّلٰمُ فرمایا۔ یہ لفظ مصدر ہے، علماء نے لفظ السَّلٰمُ کے کئی معنی لکھے ہیں اول یہ کہ وہ باسلامت ہے ہر طرح سالم ہے اس کی ذات وصفات میں کبھی بھی کوئی کمی آنے والی نہیں ہے۔ بعض حضرات نے اس کا ترجمہ یوں کیا ہے کہ وہ سلامتی دینے والا ہے۔
سادساً : الْمُؤْمِنُ فرمایا اس کا ایک معنی تو یہ ہے کہ وہ امن وامان دینے والا ہے، دنیا میں اپنے بندوں کو امن وامان سے رکھتا ہے، اہل ایمان کے قلوب کو اطمینان عطاء فرماتا ہے، نیک بندوں کو قیامت کے دن اطمینان عطا فرمائے گا، جس کے بارے میں ﴿لَا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ ﴾ فرمایا اور یہ بھی فرمایا کہ ﴿ يٰعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَۚ0068﴾ اور بعض حضرات نے الْمُؤْمِنُ کا یہ معنی بتایا ہے کہ اس نے اپنی مخلوق سے وعدہ فرما لیا ہے کہ وہ کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔
وقال بعضھم معناہ ھو ذوالامن من الزوال لا ستحالة علیہ سبحانہ وتعالیٰ وفی معناہ اقوال اخری ذکرھا صاحب الروح۔
سابعًا : الْمُهَيْمِنُ فرمایا اس کے معنی ہے نگران اللہ تعالیٰ شانہ اپنی ساری مخلوق کا نگران اور نگہبان ہے۔ قال صاحب الروح ای الرقیب الحافظ لکل شی مُفَیعِلٌ من الامن بقلب ھمزتہ ھاء والیہ ذھب غیر واحد ثم استعمل بمعنی الرقیب والحفیظ علی الشی۔
ثامنا : الْعَزِيْزُ ، فرمایا یعنی وہ غالب ہے زبردست ہے اس کے ارادہ سے اسے کوئی چیز روکنے والی نہیں وہ جو چاہے کرے اسے ہر چیز کا اختیار ہے اور وہ ہر طرح صاحب اقتدار ہے۔
تاسعا : الْجَبَّار فرمایا، یہ بھی مبالغہ کا صیغہ ہے جو جبر یجبر سے ماخوذ ہے بعض حضرات نے اس کو معروف معنی میں لیا ہے یعنی وہ جبار اور قہار ہے وہ اپنی مخلوق میں جو بھی تصرف کرنا چاہے کرسکتا ہے اسے کوئی بھی کسی تصرف سے روک نہیں سکتا۔
اور بعض حضرات نے اس کو مصلح کے معنی میں لیا ہے یعنی اللہ تعالیٰ خرابیوں کو درست کرنے والا ہے ٹوٹی ہوئی چیزوں کو جوڑنے والا ہے۔ احوال کی اصلاح کرنے والا ہے۔
عاشراً : الْمُتَكَبِّرُ فرمایا، یہ باب تفعل سے اسم فاعل کا صیغہ ہے اس کا معنی ہے الکامل فی الکبریاء اسی لئے اوپر اس کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ وہ بڑی عظمت والا ہے۔ مخلوق کے لئے یہ لفظ بولتے ہیں تو یہ باب تفعل تکلف کے معنی میں ہوتا ہے اس کا معنی یہ ہوتا ہے کہ فلاں شخص بڑا بنتا ہے، بڑائی اللہ تعالیٰ ہی کو زیب دیتی ہے مخلوق کو بڑائی بگھارنا جائز نہیں۔ اگر کسی مخلوق میں کوئی بڑائی ہے تو اللہ تعالیٰ نے دی ہے۔ جس نے دی ہے اس کا شکر ادا کرے نہ یہ کہ اس کی مخلوق کو حقیر جانے اور اپنے آپ کو بڑا سمجھے۔
سورۃ الجاثیہ کے ختم پر فرمایا ﴿وَلَہُ الْكبْرِیَآئُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكیْمُ﴾ (اسی کے لئے بڑائی ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور وہ زبردست ہے حکمت والا ہے) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : الکبریاء ردائی والعظمة ازاری فمن نازعنی وا حدا منھا ادخلتہ النار (رواہ المسلم) یعنی کبریائی اور عظمت میری خاص صفات ہیں سو جو شخص ان میں سے کسی ایک کے بارے میں بھی منازعت کرے گا میں اسے دوزخ میں ڈال دوں گا۔
Ayah 59:24الحادی عشر : الْخَالِقُ پیدا کرنے والا۔
الثانی عشر : الْبَارِئُ پیدا کرنے والا۔
ان دونوں کلمات کا ترجمہ قریب قریب ہے بعض حضرات نے الْخَالِقُ کا معنی بالکل صحیح ٹھیک اندازے کے مطابق بنانے والا کیا اور الْبَارِئُ کا معنی کیا ہے کہ وہ عدم سے و جود بخشنے والا ہے۔
علامہ قرطبی نے الخالق ھاھنا المقدر والباری المنشی والمخترع لکھا ہے۔ ملا علی قاری (رح) مرقات شرح مشکوۃ میں لکھتے ہیں : الخالق من الخلق واصلہ التقدیر المستقیم ویستعمل بمعنی الابداع وایجاد شی من غیر اصل کقولہ تعالیٰ؍ خلق السماوات والارض و بمعنی التکوین کقولہ عزوجل : خلق الانسان من نطفة وقولہ بمعنی انہ مقدرہ اومو جدہ من اصل او من غیر اصل۔
اس کے بعد الباری کے بارے میں لکھتے ہیں : الھمزہ فی آخرہ ای الذی خلق الخلق بری من التفاوت۔
اس تصریح سے معلوم ہوگیا کہ خالق کا معنی یہ بھی ہے کہ اس نے بالکل ابتداء بغیر کسی اصل کے پیدا فرمایا اور یہ بھی ہے کہ اس نے پہلے سے کوئی چیز پیدا فرمائی ہو پھر اس سے کوئی چیز پیدا فرما دی اور ٹھیک اندازہ کے مطابق پیدا فرمانے کا معنی بھی ہے اور باری کا معنی یہ ہے کہ جو کچھ پیدا فرمایا وہ تفاوت سے بری ہے۔
الثالث عشر : الْمُصَوِّرُ ، یعنی تصویریں بنانے والا، اجسام کی جتنی بھی تصویریں ہیں وہ سب اللہ کی بنائی ہوئی ہوتی ہیں یہ سب اس کی قدرت کاملہ کے مظاہرے ہیں۔ سورة الانفطار میں فرمایا ﴿خَلَقَكَ فَسَوّٰىكَ فَعَدَلَكَۙ007 فِيْۤ اَيِّ صُوْرَةٍ مَّا شَآءَ رَكَّبَكَؕ008﴾ (جس نے تجھ کو پیدا فرمایا پھر تیرے اعضاء کو درست کیا پھر تجھ کو اعتدال پر بنایا جس صورت میں چاہا تجھ کو ترکیب دیدیا) ۔
پھر فرمایا ﴿ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى ﴾ (یعنی اللہ تعالیٰ کے اچھے اچھے نام ہیں) جن اسماء وصفات پر یہ اسماء دلالت کرتے ہیں اللہ تعالیٰ شانہ ان سے متصف ہے۔ سورة الاعراف میں فرمایا ﴿ وَ لِلّٰهِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا ﴾ (اور اللہ کے لئے اچھے نام ہیں سو ان کے ذریعہ اس کو پکارو) اور سورة الاسراء میں فرمایا ﴿ قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ 1ؕ اَيًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى﴾ (آپ فرما دیجئے کہ اللہ کہہ کر پکارو یا رحمن کہہ کر پکارو جس نام سے بھی پکارو اس کے لئے اچھے اچھے نام ہیں)
صحیح بخاری میں ہے کہ اللہ کے ننانوے نام ہیں جو شخص انہیں اچھی طرح یاد کرلے گا۔ جنت میں داخل ہوگا۔
مزید تشریح و توضیح کے لئے انوار البیان اور علامہ جزری (رح) تعالیٰ کی کتاب الحصن الحصین اور اس کا ترجمہ ملاحظہ کرلیں۔ سنن ترمذی میں ننانوے نام مروی ہیں اور سنن ابن ماجہ میں بھی ہیں ان میں بعض نام وہ ہیں جو سنن ترمذی کی روایت سے زائد ہیں یعنی ان میں سے بہت سے نام وہ ہیں جو سنن ترمذی میں مروی نہیں ہیں۔
﴿ يُسَبِّحُ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ 1ۚ وَ هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ (رح) 0024﴾ (سب چیزیں اس کی تسبیح بیان کرتی ہیں جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور وہ زبردست ہے حکمت والا ہے) ۔
فائدہ : حضرت معقل بن یسار ؓ کا بیان ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص صبح کو تین مرتبہ اعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطن الرجیم پڑھ کر سورة حشر کی یہ آخری تین آیات پڑھ لے تو اس کے لئے اللہ تعالیٰ شانہ ستر ہزار فرشتے مقرر فرما دے گا جو شام تک اس پر رحمت بھیجتے رہیں گے اور اگر اس دن مرجائے تو شہید مرے گا اور جو شخص شام کو یہ عمل کرے تو اس کے لئے اللہ تعالیٰ شانہ ستر ہزار فرشتے مقرر فرما دے گا جو اس پر صبح تک رحمت بھیجتے رہیں گے اور اگر وہ اس رات میں مرجائے گا تو شہید مرے گا۔ (ترمذی)
تم تفسیر سورة الحشر والحمدللہ اولا وآ؍را وبطنا و ظاھرا