Ayahs 56:81–82﴿اَفَبِهٰذَا الْحَدِيْثِ اَنْتُمْ مُّدْهِنُوْنَۙ0081﴾ لفظ مُدْھِنُوْنَ کا ترجمہ صاحب روح المعانی نے متھاونون کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ تم قرآن کو معمولی چیز سمجھتے ہو پھر لکھا ہے کہ یہ لفظ ادھان سے ماخوذ ہے چمڑے کو تیل وغیرہ لگا کر جو نرم کرتے ہیں اس کو ادھان کہتے ہیں، بطور مجاز یا بطور استعارہ یہ لفظ لایا گیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ قرآن کریم کی طرف جو مضبوط توجہ ہونی چاہئے تمہارے اندر وہ توجہ نہیں ہے اور ہمزہ استفہام لاکر اس پر توبیخ فرمائی۔ ” یوں ہی سرسری بات سمجھتے ہو۔ “ یہ اس کا اصل ترجمہ ہے : (وَتَجْعَلُوْنَ رِزْقَكُمْ اَنَّكُمْ تُكَذِّبُوْنَ 0082) اس کا ایک ترجمہ اور مطلب تو وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا کہ تمہیں نزول قرآن کی نعمت پر شکر کرنا چاہئے تھا شکر کی بجائے تم نے جھٹلانے ہی کو اختیار کرلیا۔ اب تمہارا نصیب یہی رہ گیا کہ تم تکذیب کیا کرو اس صورت میں رزقکم بمعنی شکر کم یا بمعنی حظکم لیا جائے گا۔
قال صاحب الروح و قیل معنی الآیة وتجعلون شکر کم لنعمة القرآن انکم تکذبون بہ ویشیر الی ذلک ما رواہ قتادہ عن الحسن بئس ما اخذ القوم لانفسھم لم یرزقوا من کتاب اللّٰہ تعالیٰ الا التکذیب۔
یہ اس صورت میں ہے جبکہ ﴿فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِۙ0075﴾ سے لے کر ﴿ وَ تَجْعَلُوْنَ رِزْقَكُمْ اَنَّكُمْ تُكَذِّبُوْنَ 0082﴾ تک تمام آیات کا تعلق نزول قرآن مجید ہی سے ہو۔ ( صحیح مسلم صفحہ 59: ج 1) میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ (ایک مرتبہ) رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں بارش ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ آج صبح کچھ لوگ شاکر ہوئے اور کچھ لوگ کافر ہوئے جن لوگوں نے یوں کہا کہ یہ بارش اللہ کی رحمت ہے وہ لوگ شاکر ہوئے اور جن لوگوں نے یوں کہا کہ فلاں فلاں ستارہ کے سقوط یعنی نیچے جانے کی وجہ سے بارش ہوئی وہ لوگ کافر ہوئے اس پر ﴿ فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِۙ0075 سے وَ تَجْعَلُوْنَ رِزْقَكُمْ اَنَّكُمْ تُكَذِّبُوْنَ 0082﴾ تک آیات نازل ہوئیں۔ اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ﴿ وَ تَجْعَلُوْنَ رِزْقَكُمْ ﴾ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جو بارش نازل فرماتا ہے جو تمہارے لیے رزق کا سبب بنتی ہے اس کا شکر ادا کرنے کی بجائے تم اللہ کی نعمت کی تکذیب کرتے ہو یعنی بارش کی نعمت کو ستاروں کی طرف منسوب کرتے ہو اللہ تعالیٰ کی نعمت نہیں مانتے، علامہ نووی (رح) نے شرح مسلم میں شیخ ابوعمر ابن الصلاح سے نقل کیا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ پانچوں آیات ستاروں ہی کے بارے میں نازل ہوئیں، (جن کے سقوط اور غروب کو اہل عرب بارش کا ذریعہ سمجھتے تھے) کیونکہ پوری آیات کی تفسیر اس کی موافقت نہیں کرتی، بات یہ ہے کہ بارش کے بارے میں آیت کریمہ ﴿ وَ تَجْعَلُوْنَ رِزْقَكُمْ اَنَّكُمْ تُكَذِّبُوْنَ 0082 ﴾ نازل ہوئی اور باقی آیات میں دوسرے مضامین بیان کیے گئے ہیں، چونکہ سب آیات بیک وقت نازل ہوئی تھیں اس لیے حضرت ابن عباس ؓ نے ان سب کی تلاوت کردی۔
صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ آیت کی یہ تفسیر کہ تم نعمت قرآن کا شکر ادا کرنے کے بجائے تکذیب کو اختیار کرتے ہو، سبب نزول کے خلاف نہیں ہے کیونکہ قرآن حکیم میں دنیاوی اور اخروی دونوں قسم کی نعمتوں کا بیان ہے۔
قرآن کریم میں جو نعمتیں بیان کی گئی ہیں ان کو سامنے رکھ کر خالق تعالیٰ شانہ کا شکر ادا کرنا لازم تھا لیکن تم شکر کی بجائے تکذیب اور انکار میں لگے ہوئے ہو اسی ناشکری میں یہ بات بھی ہے کہ بارش ہوتی ہے تو تم اسے ستاروں کیطرف منسوب کرتے ہو حالانکہ قرآن کریم میں بار ہا بتایا گیا کہ تمہارا عقیدہ صحیح عقیدہ کے خلاف ہے، بارش برسانے والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں۔
قال صاحب الروح : فما جاء من تفسیر تکذبون بتقولون مطرنا بنوء کذا و كذا لیس المراد منہ الایمان نوع اقتضاہ الحال من التکذیب بالقرآن المنعوت بتلک النعوت الجلیلة وکون ذلک علی الوجہ الذی یزعمہ الکفار تکذیبا بہ مما لا ینطح فیہ کبشان وھذالا تمحل فیہ (صفحہ 157 ج : 27)
Ayahs 56:83–87اگر تمہیں جزا ملنی نہیں ہے نہیں ہے تو موت کے وقت روح کو کیوں واپس نہیں لوٹا دیتے
ان آیات میں اولاً انسانوں کی بےبسی ظاہر فرمائی ہے جو موت کے وقت ظاہر ہوتی ہے، ثانیاً انسانوں کی انہیں تینوں جماعتوں کا عذاب وثواب بیان فرمایا ہے جن کا پہلے رکوع میں تذکرہ فرمایا تھا۔
اللہ تعالیٰ شانہٗ نے انسانوں کو پیدا فرمایا اور انہیں بہت سے اعمال کرنے کا حکم دیا اور بہت سے اعمال سے منع فرمایا تاکہ بندوں کی فرمانبرداری اور نافرمانی کا امتحان لیا جائے، سورة الملک میں فرمایا ﴿خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَيٰوةَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ﴾ (موت اور حیات کو پیدا فرمایا تاکہ وہ آزمائے کہ تم میں اچھے عمل والا کون ہے ؟ )
لہٰذا زندگی کے بعد موت بھی ضروری ہے اور ان دونوں میں سے بندوں کو کسی کے بارے میں کچھ بھی اختیار نہیں اللہ تعالیٰ نے زندگی دی، وہی موت دے گا، اس نے دونوں کا وقت مقرر اور مقدر فرما دیا ہے کسی کو اختیار نہیں کہ خود سے پیدا ہوجائے یا وقت مقرر سے پہلے مرجائے۔
خالق تعالیٰ شانہٗ کی قضاء اور قدر کے خلاف اور اس کی مشیت کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا
ارشاد فرمایا ﴿ فَلَوْ لَاۤ اِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُوْمَۙ0083﴾ (الآت الخمس) کہ جب مرنے والے کی روح حلق کو پہنچ جاتی ہے تو تم وہاں موجود ہوتے ہو اسے حسرت کی آنکھوں سے ٹک ٹک دیکھا کرتے ہو اور اس پر ترس کھاتے ہو اور تمہاری آرزو ہوتی ہے کہ اسے موت نہ آئے اور ہم بہ نسبت تمہارے مرنے والے سے زیادہ قریب ہوتے ہیں (کیونکہ تم اس کی طرف ظاہری حالت کو دیکھتے ہو اور ہم اس کی باطنی حالت پر بھی مطلع ہوتے ہیں) لیکن تم نہیں سمجھتے اگر تم یہ سمجھتے ہو اور اپنے خیال میں سچے ہو کہ تمہیں اعمال کے بدلے دیئے جانے والے نہیں ہیں تو مرنے والے کی موت کو روک کر دکھا دو ۔
اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کی موت کا وقت مقرر فرمایا ہے وہ اپنے فرشتے بھیجتا ہے جو روح نکالتے ہیں حاضرین بےبس ہیں کچھ نہیں کرسکتے جس طرح یہاں بےبس ہیں اسی طرح اس وقت بھی بےبس ہوں گے جب اللہ تعالیٰ شانہ ٗ اعمال کی جزا دینے کے لیے جسموں میں روحیں ڈالے گا، یہ عاجز بندے نہ دنیا میں کسی مرنے والے کی روح کو واپس کرسکتے ہیں نہ قیامت کے دن دوبارہ زندگی کو روک سکتے ہیں، یہ دوبارہ زندہ ہونا اور پہلی زندگی کے اعمال کا بدلہ دیا جانا خالق تعالیٰ شانہ کی طرف سے طے شدہ ہے تم قیامت ہونے اور دوبارہ زندہ ہونے اور اعمال کا بدلہ دیا جانے کے منکر ہو اور اس انکار کی تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے اگر تمہیں موت سے بچنے بچانے کی قدرت ہوتی تو یہ کہنے کا بھی موقع تھا کہ ہم دوبارہ زندہ نہ ہونگے اور جزا اور سزا کے لیے پیشی نہ ہوگی، جب اسی دنیا میں اپنی عاجزی دیکھ رہے ہو تو دوبارہ زندہ ہونے اور قیامت کی پیشی کا انکار کس بنیاد پر کر رہے ہو جبکہ خالق جل مجدہ نے اپنی کتاب میں واضح طور پر بتادیا ہے کہ تم سب کو مرنا ہے اور اعمال کی جزا ملنی ہے۔
كذا فسر حکیم الامة قدس سرہ فی بیان القرآن وان ردہ صاحب روح المعانی وقال : انہ لیس بشی، ثم فسر بتفسیر اٰخر وجعل المدینین بمعنی مربوبین وقال : التقدیر فلو لا ترجعونھا اذا بلغت الحلقوم، وحاصل المعنی انکم ان کنتم غیر مربوبین کما تقتضیة اقوالکم وافعالکم فما لکم لا ترجعون الروح الی البدین اذا بلغت الحلقوم و تردونھا کما کانت بقدرتکم او بواسطة علاج للطبیعۃ 1 ھ والاقرب الی السیاق ما ذکر فی بیان القرآن۔ وقال القرطبی صفحہ 211: ج 17 ای فھلا ان کنتم غیر محاسبین ولا مجزین باعمالکم ای ولن ترجعوھا فبطل زعمکم انکم غیر مملوکین ولا محاسبین ثم قال : ترجعونھا جواب لقولہ تعالیٰ فلو لا اذا بلغت الحلقوم ولقولھہ فلو لا ان کنتم غیر مدینین اجیبا بجوابٍ واحد قالہ الفراء اور بما اعادت العرب الحرفین ومعناھما واحد وقیل حذف احدھما لدلالہ الآخر علیہ انتھی ـ
Ayahs 56:88–91مقربین اور صالحین کا انعام :
اس کے بعد فرمایا ﴿ فَاَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِيْنَ۠ۙ0088 فَرَوْحٌ وَّ رَيْحَانٌ1ۙ۬ وَّ جَنَّتُ نَعِيْمٍ 0089﴾ کہ قیامت کے دن حاضر ہونے والے بندوں میں جو مقربین ہوں گے وہ بڑے آرام میں ہوں گے ان کو رزق ملتا رہے گا اور نعمتوں والی جنت میں داخلہ ہوگا ﴿ وَ اَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنْ اَصْحٰبِ الْيَمِيْنِۙ0090﴾ اور جو بندے اصحاب یمین ہوں گے ان سے کہا جائے گا کہ اے اصحاب یمین ! تمہارے لیے سلامتی ہو۔
Ayahs 56:92–95مکذبین اور ضالین کا عذاب :
پھر کافروں و مشرکوں کا عذاب بیان فرمایا ﴿وَ اَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُكَذِّبِيْنَ۠ الضَّآلِّيْنَۙ0092 فَنُزُلٌ مِّنْ حَمِيْمٍۙ0093 وَّ تَصْلِيَةُ جَحِيْمٍ 0094﴾ اور جو شخص جھٹلانے والے گمراہوں میں سے ہوگا (یہ اصحاب الشمال میں سے ہوگا) اس کے لیے سخت کھولتا ہوا گرم پانی ہوگا، جس کا دوسرے رکوع میں ذکر ہوا اور دہکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگا۔ ﴿ اِنَّ هٰذَا لَهُوَ حَقُّ الْيَقِيْنِۚ0095﴾ (بےشک یہ تحقیقی بات ہے) ۔
Ayah 56:96یہ آیت سورة الواقعہ کی آخری آیت ہے اس سے پہلا رکوع بھی انہیں الفاظ پر ختم ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں دنیاوی واخروی بیان کرنے اور کافروں کو تذکیر و تنبیہ فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا کہ آپ اپنے رب کی تسبیح بیان کیجئے جو عظیم ہے ہر عیب اور ہر نقص سے پاک ہے اس کی طرف سے جو اخبار اور تبشیر ہے سب صحیح ہے یوں تو ہمیشہ ہی اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کی جائے اور اس کی حمدوثناء میں لگے رہیں۔ لیکن جن مواقع میں خصوصیت کے ساتھ تسبیح اور تحمید کا خصوصی اہتمام کرنے کو فرمایا ہے ان مواقع میں خاص طور سے اسکا خیال رکھنا چاہئے۔ حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ جب ﴿ فَسَبِّحْ باسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيْمِ (رح) 0096﴾ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ( اجعلوھا فی رکو عكم) کہ اسے اپنے رکوع میں مقرر کرلو (یعنی رکوع میں (سبحان ربی العظیم) کہا کرو پھر جب ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَىۙ001﴾ نازل ہوئی تو فرمایا کہ اسے اپنے سجدے میں پڑھنے کے لیے مقرر کرلو (یعنی سجدہ میں سبحان ربی الاعلی کہا کرو)ـ (مشکوۃ المصابیح : ص 82)
فائدہ : حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص ہر رات کو سورة واقعہ پڑھ لے اسے کبھی بھی فاقہ نہ ہوگا یعنی تنگدستی لاحق نہ ہوگی۔ حضرت ابن مسعود ؓ اپنی لڑکیوں کو حکم دیتے تھے کہ روزانہ ہر رات کو اس سورة کو پڑھا کریں۔ (راجع شعب الایمان ص 492: ج 2)
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے مرض وفات میں حضرت عثمان غنی ؓ عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔ حضرت عثمان ؓ نے پوچھا : فما تشتھی (یعنی آپ کیا چاہتے ہیں) فرمایا رحمۃ ربی (یعنی اپنے رب کی رحمت چاہتا ہوں) پھر حضرت عثمان ؓ نے فرمایا میں آپ کے لیے کسی طبیب (معالج) کو بلالوں ؟ فرمایا : (الطبیب امرضنی) مجھے طبیب ہی نے بیمار کیا ہے یعنی طبیب حقیقی اللہ تعالیٰ ہی ہے اسی نے مجھے بیماری دی ہے اس کے سوا کس طبیب کو بلاؤ گے پھر حضرت عثمان ؓ نے فرمایا کہ میں آپ کے لیے کوئی عطیہ بھیج دوں، فرمایا مجھے کوئی حاجت نہیں، حضرت عثمان نے فرمایا قبول کرلو اپنے گھر والوں کے لیے چھوڑ جانا، فرمایا میں نے انہیں ایک چیز سکھا دی ہے اسے پڑھتے رہیں گے تو کبھی محتاج نہ ہوں گے رسول اللہ ﷺ سے میں نے سنا ہے کہ (من قراء الواقعة كل لیلة لم یفتقر) (جو شخص ہر رات سورة واقعہ پڑھ لے گا کبھی محتاج نہ ہوگا) ۔ (البیہقی فی شعب الایمان صفحہ 491: ج 4)
علموا نسائكم سورة الواقعة فانھا سورة الغنی۔ (کہ اپنی عورتوں کو سورة واقعہ سکھاؤ، کیونکہ وہ غنی (یعنی مالداری) لانے والی سورت ہے) ۔ (کنزالعمال صفحہ 592: ج 1)
ولقد تم تفسیر سورة الواقعة بفضل اللہ تعالیٰ فالحمدلہ اولاوآخرًا و باطنا وظاھرًا