53. Surah An-Najm

النجمThe Star · 62 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 53:32

اَلَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِكُمْ اِذْ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اِذْ اَنْتُمْ اَجِنَّةٌ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ١ۚ فَلَا تُزَكُّوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى۠ Open ayah 53:32 in the Quran reader

وہ لوگ ایسے ہیں جو بڑے گناہوں سے بچتے ہیں مگر ہلکے گناہ، بیشک آپ کا رب بڑی وسیع مغفرت والا ہے، وہ تمہیں خوب جانتا ہے جب اس نے تمہیں زمین سے پیدا فرمایا اور جب تم ماؤں کے پیٹوں میں تھے سو تم اپنی جانوں کو پاک باز نہ بتاؤ وہ تقویٰ والوں کو خوب جاننے والا ہے۔

آیت شریفہ میں کبیرہ گناہوں سے اور فواحش سے بچنے والوں کو ﴿ الَّذِيْنَ اَحْسَنُوْا ﴾ کا مصداق بتایا ہے۔ کبیرہ گناہ کون سے ہیں ان کی تفصیل سورة نساء کی آیت ﴿ اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَآىِٕرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ ﴾ کے ذیل میں لکھ چکے ہیں۔ بڑے گناہوں سے بچنے کے ساتھ فواحش سے بچنے کا بھی تذکرہ فرمایا۔ فواحش سے بچنا بھی اچھے بندوں کی صفت ہے اور فواحش بھی كَبٰٓىِٕرَ الْاِثْمِ میں داخل ہیں لیکن الگ سے بھی ان کا تذکرہ فرما دیا تاکہ ان کبیرہ گناہ سے بھی بچیں جو بےحیائی اختیار کرنے کی وجہ سے سرزد ہوتے ہیں۔ مردوں اور عورتوں سے جو بےحیائی کے اعمال صادر ہوتے ہیں لفظ الفواحش ان سب کو شامل ہے دیگر گناہوں کے ساتھ بےحیائی والے اعمال سے بچنے کا خاص اہتمام کریں۔ كبائر اور فواحش کے تذکرہ کے ساتھ ﴿ اِلَّا اللَّمَمَ ﴾ بھی فرمایا جس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائی کے کاموں سے بچتے ہیں اور کبھی کبھی ان سے گناہ صغیرہ سرزد ہوجائے تو اس کی وجہ سے ﴿ الَّذِيْنَ اَحْسَنُوْا ﴾ کی صفت میں خلل نہیں آتا جو لوگ گناہوں سے بچنے کا اہتمام کرتے ہیں ان سے کبھی کبھی صغیرہ گناہوں کا صدور ہوجاتا ہے۔ چونکہ ان کا دینی مزاج ہوتا ہے اور دل پر خوف و خشیت کا غلبہ رہتا ہے اس لیے جلد ہی توبہ و استغفار بھی کرلیتے ہیں اور گناہ پر اصرار بھی نہیں کرتے اور چھوٹے گناہ نیکیوں سے بھی معاف ہوتے رہتے ہیں جیسا کہ سورة ہود میں ﴿ اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاٰتِ ﴾ فرمایا ہے۔ صاحب بیان القرآن لکھتے ہیں مطلب اسثناء کا یہ ہے کہ ﴿ الَّذِيْنَ اَحْسَنُوْا ﴾ کی جو محبوبیت یہاں بقرینہ مقام مدح مذکور ہے اس کا مصداق بننے کے لیے کبائر سے بچنا تو شرط ہے لیکن صغائر کا احیاناً صدور اس کے لیے موقوف علیہ نہیں البتہ عدم اصرار شرط ہے اور استثناء کا یہ مطلب نہیں کہ صغائر کی اجازت ہے اور نہ اشتراط کا یہ مطلب ہے کہ الذین احسنوا کا مجزی بالحسنی ہونا موقوف ہے اجتناب عن الکبائر پر کیونکہ مرتکب کبائر بھی جو حسنہ کرے گا اس کی جزا پائے گا لقولہ تعالیٰ ﴿ فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗؕ007﴾ پس اشتراط کا معنی یجزیٰ کے اعتبار سے نہیں بلکہ تلقیب بالمحسن اور محبویت خاصہ کے اعتبار سے ہے جس پر عنوان احسنوا دال ہے۔ اھ بیان القرآن میں یہ جو فرمایا کہ استثناء جو فرمایا ہے اس میں صغیرہ گناہوں کی اجازت نہیں دی گئی یہ تنبیہ واقعی ضروری ہے، صغیرہ گناہ اگرچہ صغیرہ ہیں اور نیکیوں کے ذریعہ معاف ہوجاتے ہیں پھر بھی صغیرہ گناہ کرنے کی اجازت نہیں ہے اگر کسی چھوٹے بڑے گناہ کی اجازت ہوجائے تو وہ گناہ ہی کہاں رہا۔ حضرت عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اے عائشہ ! حقیر گناہوں سے بھی بچنا کیونکہ اللہ کی طرف سے ان کے بارے میں بھی مطالبہ کرنے والے ہیں (یعنی اللہ کی طرف سے جو فرشتے اعمال لکھنے پر مامور ہیں وہ ان کو بھی لکھتے ہیں اور ان کے بارے میں محاسبہ اور مواخذہ ہوسکتا ہے) ۔ (رواہ ابن ماجہ والد ارمی والبیہقی فی شعب الایمان کمافی المشکوٰۃ صفحہ 485) ﴿ اِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ 1ؕ﴾ (بلاشبہ آپ کا رب بڑی وسیع مغفرت والا ہے) جو لوگ گناہوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں یوں نہ سمجھیں کہ بس عذاب میں جانا ہی ہوگا۔ اللہ تعالیٰ بہت بڑے فضل والا ہے بڑی مغفرت والا ہے اس کی طرف رجوع کریں توبہ استغفار کو لازم پکڑیں اور ضائع شدہ حقوق کی تلافی کریں۔ یہ بندہ کا کام ہے۔ یوں تو اللہ تعالیٰ کو اختیار ہے جسے چاہے بغیر توبہ کے بھی معافی فرما دے لیکن کفروشرک معاف نہیں ہوگا۔ ﴿ هُوَ اَعْلَمُ بِكُمْ اِذْ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اِذْ اَنْتُمْ اَجِنَّةٌ فِيْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ ﴾ (وہ تمہیں خوب اچھی طرح جانتا ہے جب اس نے تمہیں زمین سے پیدا فرمایا یعنی تمہارے باپ آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا فرمایا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹوں میں تھے۔ ) یہ بنی آدم کی ابتدائی تخلیق تھی اس کے بعد نسل در نسل انسان پیدا ہوتے رہے بڑھتے رہے پھر ہر انسان کی انفرادی تخلیق کو بھی اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے مردو عورت جو اپنی ماؤں کے پیٹوں میں مختلف اطوار سے گزرتے ہیں ان کی ان حالتوں کا بھی اللہ تعالیٰ کو علم ہے۔ اپنا تزکیہ کرنے کی ممانعت : ﴿فَلَا تُزَكُّوْۤا اَنْفُسَكُمْ 1ؕ﴾ (لہٰذا تم اپنے نفسوں کو پاکباز نہ بتاؤ) ﴿ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى (رح) 0032﴾ (جو لوگ شرک اور کفر سے بچتے ہیں وہ انہیں خوب جانتا ہے جسے تمہارے تخلیق سے پہلے تمہارے حالات کا علم ہے ہر شخص کا اور ہر شخص کے اعمال کا علم ہے اور اعمال کی خوبی اور اچھائی اور اعمال کے کھوٹ اور نقص کا بھی علم ہے، وہ ہر شخص کو اپنے علم کے مطابق اس کے عمل کے موافق جزا دے دے گا یہ کہتے پھرنے کی کیا ضرورت ہے کہ میں نے ایسا ایسا عمل کیا اتنے روزے رکھے اتنی نمازیں پڑھیں اور اتنے حج کیے اور فلاں موقع پر حرام سے بچا، بندہ جیسا بھی عمل کرلے وہ اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق ہو ہی نہیں سکتا، عموماً جو متقی اور صالح بندے عمل کرتے ہیں ان میں بھی کچھ نہ کچھ لچک خرابی اور کھوٹ کی ملاوٹ رہتی ہی ہے پھر اپنی تعریف کرنے کا کسی کو کیا مقام ہے ؟ حضرت شیخ سعدی فرماتے ہیں ؎ بندہ ہماں بہ کہ بتقصیر خویش عذر بدرگاہ خدا آورد ورنہ سزاوار خداوندیش كس نتواند کہ بجا آورد اپنا تزکیہ کرنا اور اپنی تعریف کرنا یعنی اپنے اعمال کو اچھا بتانا اور اپنے اعمال کو بیان کرکے دوسروں کو معتقد بنانا یا اپنے اعمال پر اترانا اور فخر کرنا آیت شریفہ سے ان سب کی ممانعت معلوم ہوگئی، رسول اللہ ﷺ کو ایسا نام رکھنا بھی پسند نہ تھا جس سے اپنی بڑائی اور خوبی کی طرف اشارہ ہوتا ہو، سیّدہ زینب بنت ابی سلمہ ؓ نے بیان کیا کہ میرا نام برہ تھا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اپنی جانوں کا تزکیہ نہ کرو یعنی یوں نہ کہو کہ میں نیک ہوں اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ تم میں نیکی والے کون ہیں اس کا نام زینب رکھ دو ۔ (رواہ مسلم صفحہ 208: ج 2) مطلب یہ ہے کہ کسی کا نام برہ (نیک عورت) ہوگا تو اس سے جب پوچھا جائے گا کہ تو کون ہے تو وہ کہے گی کہ انا برۃ یعنی میں نیک عورت ہوں اس میں بظاہر صورتاً خود اپنی زبان سے نیک ہونے کا دعویٰ ہوجاتا ہے لہٰذا اس سے منع فرما دیا۔ یاد رہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جس طرح ایک لڑکی کا نام زینب رکھ دیا جس کا پہلا نام ” برہ “ تھا اسی طرح آپ نے ایک لڑکی کا نام جمیلہ رکھ دیا جس کا پہلا نام عاصیہ (گناہگار) تھا۔ (رواہ مسلم) معلوم ہوا کہ اپنی نیکی کا ڈھنڈورا بھی نہ پیٹے اور اپنا نام اور لقب بھی ایسا اختیار نہ کرے جس سے گناہ گاری ٹپکتی ہو مومن نیک ہوتا ہے لیکن نیکی کو بگھارتا نہیں پھرتا اور کبھی گناہ ہوجاتا ہے تو توبہ کرلیتا ہے نیز اپنی ذات کے لیے کوئی ایسا نام و لقب بھی تجویز نہیں کرتا جس سے گناہ گاری کی طرف منسوب ہوتا ہو۔ بہت سے لوگ تواضع میں اپنے نام کے ساتھ العبد العاصی یا عاصی پر معاصی لکھتے ہیں یہ طریقہ رسول اللہ ﷺ کی ہدایات سے جوڑ نہیں کھاتا۔
Ayahs 53:33–36

اَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ تَوَلّٰىۙ Open ayah 53:33 in the Quran reader

اے مخاطب کیا تو نے اسے دیکھا جس نے روگردانی کی

وَ اَعْطٰى قَلِیْلًا وَّ اَكْدٰى Open ayah 53:34 in the Quran reader

اور تھوڑا مال دیا اور بند کردیا،

اَعِنْدَهٗ عِلْمُ الْغَیْبِ فَهُوَ یَرٰى Open ayah 53:35 in the Quran reader

کیا اس کے پاس علم غیب ہے کہ وہ دیکھ رہا ہے،

اَمْ لَمْ یُنَبَّاْ بِمَا فِیْ صُحُفِ مُوْسٰىۙ Open ayah 53:36 in the Quran reader

کیا اسے ان مضامین کی خبر نہیں دی گئی جو موسیٰ کے صحیفوں میں ہیں

کافر دھوکہ میں ہیں کہ قیامت کے دن کسی کا کام یا عمل کام آجائے گا روح المعانی صفحہ 65: ج 27 میں حضرت مجاہد تابعی (رح) سے نقل کیا ہے کہ ولید بن مغیرہ نے رسول اللہ ﷺ کی قرات سنی تو متاثر ہوا اور اسلام کے قریب ہوگیا رسول اللہ ﷺ کو بھی اس کے اسلام کے قبول کرنے کی امید بندھ گئی پھر اسے مشرکین میں سے ایک شخص نے ملامت کی اور کہا کیا تو اپنے باپ دادوں کے دین سے ہٹ رہا ہے تو سمجھتا ہے کہ محمد ﷺ کا دین قبول نہ کیا تو موت کے بعد عذاب میں مبتلا ہوگا ایسا کر تو اپنے دین پر واپس آجا اور تجھے جو عذاب کا ڈر ہے تیری طرف سے برداشت کرلوں گا مگر یوں ہی مفت میں نہیں شرط یہ ہے کہ تو مجھے اتنا مال دیدے۔ ولید اس پر راضی ہوگیا اور جو کچھ تھوڑابہت ارادہ اسلام قبول کرنے کا کرلیا تھا اس سے باز آگیا اور جس شخص نے اس سے یہ بات کہی تھی اسے کچھ مال دیدیا ابھی اتنا مال نہیں دیا تھا جتنے مال کی بات ہوئی تھی کہ کنجوسی سوار ہوگئی اور باقی مال جس کا وعدہ کیا تھا وہ روک لیا، اللہ تعالیٰ شانہٗ نے آیات کریمہ نازل فرمائیں۔ ﴿اَفَرَءَيْتَ الَّذِيْ تَوَلّٰىۙ0033﴾ (اے مخاطب کیا تو نے اسے دیکھا جس نے روگردانی کی) ﴿ وَ اَعْطٰى قَلِيْلًا وَّ اَكْدٰى0034﴾ (اور تھوڑا مال دیا اور بند کردیا) ﴿ اَعِنْدَهٗ عِلْمُ الْغَيْبِ فَهُوَ يَرٰى 0035﴾ (کیا اس کے پاس علم غیب ہے کہ وہ دیکھ رہا ہے) یعنی اس کو کیسے پتہ چلا کہ قیامت کے دن کوئی شخص کسی کا عذاب اپنے سر لے سکتا ہے اور کافروں نے جو کفر اور شرک کا جرم کیا ہے اس کے بجائے دوسرے شخص کو عذاب دے دے گا ان کے پاس علم غیب تو ہے نہیں پھر قیامت کے دن کے فیصلہ کا انہیں کیسے علم ہوا ؟ نہ انہیں علم غیب ہے نہ وہاں ایسا ہونے والا ہے اپنے پاس سے باتیں بناتے ہیں اور یوں سمجھتے ہیں کہ ہم جس طرح چاہیں گے اس طرح ہوجائے گا۔ (العیاذ باللہ) ﴿اَمْ لَمْ يُنَبَّاْ بِمَا فِيْ صُحُفِ مُوْسٰىۙ0036 وَ اِبْرٰهِيْمَ الَّذِيْ وَفّٰۤىۙ0037 اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰىۙ0038 وَ اَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى ۙ0039 وَ اَنَّ سَعْيَهٗ سَوْفَ يُرٰى۪0040 ثُمَّ يُجْزٰىهُ الْجَزَآءَ الْاَوْفٰى ۙ0041 ﴾ (کیا اسے ان مضامین کی خبر نہیں دی گئی جو موسیٰ کے صحیفوں میں ہیں اور جو ابراہیم کے صحیفوں میں ہیں جس نے پوری بجا آوری کردی کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا اور یہ کہ انسان کے لیے نہیں ہے مگر وہی جو کچھ اس نے کمایا اور یہ کہ اسی کی سعی عنقریب دیکھ لی جائے گی پھر اسے پورا پورا بدلہ دیا جائے گا) مشرکین مکہ حضرت اسماعیل بن ابراہیم (علیہما السلام) کی اولاد تھے اور مدینہ منورہ میں جو یہودی تھے وہ اپنے کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت پر بتاتے تھے دونوں قوموں نے رسول اللہ ﷺ سے جھگڑا کیا لہٰذا ان دونوں حضرات کے صحیفوں کا تذکرہ فرمایا کہ ان کے صحیفوں میں تو یہ لکھا ہے کہ ہر شخص اپنا بوجھ خود اٹھائے گا دوسرا کوئی شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا ہر شخص کو اپنے ایمان اور کفر کی جزا سزا ملے گی۔ کوئی شخص کسی دوسرے کی طرف سے عذاب بھگتنے کو تیار نہ ہوگا ﴿وَ مَا هُمْ بِحٰمِلِيْنَ مِنْ خَطٰيٰهُمْ مِّنْ شَيْءٍ ﴾ اور نہ اللہ تعالیٰ کے قانون میں یہ بات ہے کہ کسی ایک شخص کو دوسرے شخص کے بدلہ عذاب دیدیا جائے جو شخص جیسا کرے گا ویسا بھرے گا، مومن ایمان کا پھل پائے گا اور کافر کو کفر کی سزا ملے گی، ہر شخص کی محنت اور سعی سامنے آجائے گی لہٰذا اس بل بوتہ پر کفر پر جما رہنا کہ میں دنیا میں کسی کو مال دے دیتا ہوں وہ میری طرف سے عذاب بھگت لے گا یا کسی سے یوں کہہ دینا کہ میں تیری طرف سے عذاب بھگت لوں گا قانون الٰہی کے خلاف ہے، دنیا میں بیٹھ کر باتیں بنالینے اور خود ہی فیصلے کرلینے سے عذاب آخرت سے چھٹکارا نہ ہوگا۔ اس مضمون کی تفصیل کے لیے سورة النحل رکوع 3 اور سورة العنکبوت رکوع 1 کی تفسیر کی مراجعت کرلی جائے۔ یہ جو فرمایا ہے ﴿ وَ اَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى ۙ0039 ی﴾ (کہ ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے کوشش کی) اس پر جو یہ اشکال ہوتا ہے کہ پھر ایصال ثواب کا کوئی فائدہ نہ رہا کیونکہ جو شخص عمل کرتا ہے آیت کریمہ کی رو سے اس کا ثواب صرف اسی کو پہنچنا چاہے نہ کہ کسی دوسرے شخص کو۔ اس اشکال کو حل کرنے کے لیے بعض اکابر نے فرمایا ہے کہ آیت کریمہ میں جو ﴿ اِلَّا مَا سَعٰى ﴾ فرمایا ہے اس سے ایمان مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ ہر شخص کو اپنے ہی ایمان کا ثواب ملے گا اس بات کو سامنے رکھ کر ایصال ثواب کا اشکال ختم ہوجاتا ہے کیونکہ کسی شخص کا ایمان کسی ایسے شخص کو فائدہ نہیں دے سکتا جو کافر ہو اور کافر کو ایصال کرنے سے بھی ثواب نہیں پہنچتا۔ ذریت کو جو آباء کے ایمان کا ثواب پہنچے گا (جس کا سورة طور میں ذکر ہے اور حضرت ابن عباس ؓ کی توجیہہ میں آرہا ہے) اس میں ﴿ اتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُمْ ﴾ کے ساتھ بایمان بھی مذکورہ ہے۔ بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ آیت کا مفہوم عام نہیں ہے بلکہ عام مخصوص منہ البعض ہے کیونکہ احادیث شریفہ میں حج بدل کرنے کا ذکر ہے اور حج بدل دوسرے شخص کا عمل ہے پھر بھی اس کا حج ادا ہوجاوے گا جس کی طرف سے حج ادا کیا ہے اور بعض احادیث میں (جو سند کے اعتبار سے صحیح ہیں) دوسرے کی طرف سے صدقہ کرنے کا ذکر بھی ملتا ہے۔ اگر کوئی شخص ذکر یا تلاوت کا ثواب پہنچائے جبکہ ذکر و تلاوت محض اللہ کی رضا کے لیے ہو کسی طرح کا پڑھنے والے کو مالی لالچ نہ ہو تو اس میں ائمہ کرام علیہم الرحمہ کا اختلاف ہے حضرت حنفیہ اور حنابلہ کے نزدیک بدنی عبادات کا ثواب بھی پہنچتا ہے اور حضرت شوافع اور مالکیہ کے نزدیک نہیں پہنچتا، جن حضرات کے نزدیک ثواب پہنچتا ہے وہ حج بدل اور صدقات پر قیاس کرتے ہیں اور اس بارے میں حضرت ابوہریرہ ؓ کا ارشاد بھی مروی ہے : فقد روی ابوداوٗد بسندہ عن ابی ھریرة ؓ قال من یضمن لی منکم ان یضمن لی فی مسجد العشار رکعتین او اربعا ویقول ھذا لابی ہریرہ سمعت خلیلی ابا القاسم ﷺ یقول ان اللہ یبعث من مسجد العشار یوم القیامة شھداء لا یقوم مع شھداء بدر غیر ھم قال ابوداوٗد ھذا المسجد ممایلی النھرـ (ای القرات صفحہ 236 ج 2) قال فی الدر المختار الاصل ان کل من اتی بعبادة مالہ جعل ثوابھا لغیرہ وان نواھا عندالفعل لنفسہ لظاھر الادلة واما قولہ تعالیٰ (وان لیس للانسان الاماسعی) ای الا اذا وھبہ لہ (انتھی) قال الشامی فی ردالمحتار (قولہ لہ جعلی ثوابھا لغیرہ) خلافا للمعتزلة فی کل العبادات والمالک والشافعی فی العبادات البدنیة المحضة کالصلوٰة والتلاوة فلا یقولان بوصولھا بخلاف غیرھا کالصدقة والحج، ولیس الخلاف فی ان لہ ذلک اولا کما ھو ظاھر اللفظ بل فی انہ یجعل بالجعل اولا بل یلغو جعلہ افادہ فی الفتح ای الخلاف فی وصول الثواب وعدمہ (قولہ لغیرہ) ای من الاحیاء والاموات (بحر عن البدائع) (صفحہ 236: ج 2) وقد اطال الکلام فی ذلک الحافظ ابن تیمیة فی فتاواہ (صفحہ 306 الی صفحہ 324: ج 24) وقال یصل الی المیت قرأة اھلہ تسبیحھم وتکبیر ھم وسائر ذکر ھم للہ تعالیٰ واجاب عن استدلال المانعین وصول الثواب بآیة سورة النجم ثم اطال الکلام فی ذلک صاحبہ ابن القیم فی کتاب الروح (من صفحہ 156 الی صفحہ 192) والیک ماذکر فی فتاوی الحافظ ابن تیمیة فی آخر البحث، وسئل ھل القرأة تصل الی المیت من الولد اولا ؟ علی مذھب الشافعی ـ فاجاب : اماوصول ثواب العبادات البدنیة : کالقرأة، والصلاة، والصوم ـ فھذھب احمد، وابی حنیفة، وطائفة من اصحاب مالک، والشافعی، الی انھا تصل، وذھب اکثر اصحاب مالک، والشافعی، الی انھالاتصل، واللّٰہ اعلم وسئل : عن قرأة اھل المیت تصل الیہ ؟ والتسبیح والتحمید، والتھلیل والتکبیر، اذا اھداہ الی المیت یصل الیہ ثوابھا ام لا ؟ فاجاب : یصل الی المیت قراة اھلہ، وتسبیحھم، وتکبیر ھم، وسائر ذکر ھم اللہ، اذا اھدوہ الی المیت، وصل الیہ، واللہ اعلم (صفحہ 324: ج 24) وقال ابن القیم فی آخر البحث (صفحہ 192) وسرا المسالة ان الثواب ملک للعامل فاذا تبرع بہ واھداہ الی اخیہ المسلم او صلہ اللہ الیہ، فما الذی خص من ھذا ثواب قرأة القرآن وحجر علی العبدان یوصلہ الی اخیہ وھذا عمل الناس حتی المنکرین فی سائر الاعصار والامصار من غیر نکیر من العلماء حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ آیت کریمہ کا عموم منسوخ ہے کیونکہ دوسری آیت میں ﴿ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ اتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُمْ بِاِيْمَانٍ اَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ ﴾ فرمایا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آباء کے ایمان کا ان کی ذریت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ صاحب روح المعانی نے لکھا ہے کہ والئی خراساں نے حضرت حسین بن الفضل سے دریافت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک طرف ﴿وَ اللّٰهُ يُضٰعِفُ لِمَنْ يَّشَآءُ﴾ فرمایا ہے اور دوسری طرف ﴿ وَ اَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى ۙ0039﴾ فرمایا ہے دونوں میں تطبیق کی کیا صورت ہے حضرت حسین بن الفضل نے فرمایا کہ سورة نجم کی آیت میں عدل الٰہی کا تذکرہ ہے کہ جو بھی کوئی اچھا عمل کرے اسے بقدر عمل ضروری اجر ملے گا اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ اس کا استحقاق ہے اس کے اجر کو ضائع نہیں فرمائے گا اور ﴿وَ اللّٰهُ يُضٰعِفُ لِمَنْ يَّشَآءُ﴾ میں فصل کا بیان ہے وہ جسے جتنا چاہے زیادہ سے زیادہ دیدے اسے اختیار ہے۔ والئی خراساں کو یہ جواب پسند آیا اور حضرت حسین بن الفضل کا سر چوم لیا صاحب روح المعانی نے بھی اس جواب کو پسند کیا پھر فرمایا ہے کہ حضرت ابن عطیہ سے بھی اسی طرح منقول ہے۔ علامہ قرطبی لکھتے ہیں کہ یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ ﴿ وَ اَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى ۙ0039﴾ صرف گناہ کے ساتھ مخصوص ہے نیکی کا ثواب تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خوب بڑھا چڑھا کردیا جائے گا جس کی تفصیلات حدیثوں میں آئی ہیں اور قرآن مجید میں جو ﴿وَ اللّٰهُ يُضٰعِفُ لِمَنْ يَّشَآءُ﴾ اعمال صالحہ سے متعلق ہے جو شخص گناہ کرے گا اسکا گناہ اتنا ہی لکھاجائے گا جتنا اس نے کیا ہے اور اسی پر مواخذہ ہوگا گناہ بڑھا کر نہیں لکھا جاتا۔ (وہذاتوجیہ حسن) ۔ صاحب معالم التنزیل نے حضرت عکرمہ ؓ سے ایک جواب یوں نقل کیا ہے سورة النجم کی آیت حضرت ابراہیم اور موسیٰ ( علیہ السلام) کی قوم کے بارے میں ہے کیونکہ یہ مضمون بھی ان حضرات کے صحیفوں میں ہے ان کی قوموں کو صرف اپنے ہی کیے ہوئے عمل کا فائدہ پہنچتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ کی امت پر اللہ تعالیٰ نے یہ فضل بھی فرمایا کہ کوئی دوسرا مسلمان ثواب پہنچانا چاہے تو وہ بھی اسے پہنچ جائے گا۔ لیکن اس میں یہ اشکال ہوتا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے لیے اور اپنے والدین کے لیے اور مومنین کے لیے جو ان کے گھر میں داخل ہوں مغفرت کی دعا کی جیسا کہ سورة نوح کی آخری آیت میں مذکور ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے بھائی کے لیے اور اپنی قوم کے لیے مغفرت کی دعا کی جو سورة اعراف رکوع 18 میں مذکور ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امم سابقہ میں ایک دوسرے کے لیے دعاء قبول ہوتی تھی (ہاں اگر دعائے مغفرت کو مستثنیٰ کیا جائے تو یہ دوسری بات ہے) ۔ یہ جو حدیث شریف میں فرمایا ہے کہ جب انسان مرجاتا ہے تو اس کا عمل ختم ہوجاتا ہے اور تین چیزوں کا ثواب جاری رہتا ہے (1) صدقہ جاریہ (2) وہ علم جس سے نفع حاصل کیا جاتا ہو (3) وہ صالح اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی ہو۔ (اور بعض روایات میں سات چیزوں کا ذکر ہے) ان کا ثواب پہنچنے سے کوئی اشکال نہیں ہوتا کیونکہ یہ مرنے والے کے اپنے کیے ہوئے کام ہیں، اولاد صالح جو دعاء کرتی ہے اس میں والد کا بڑا دخل ہے کیونکہ اسی کی کوششوں سے اولاد نیک بنی اور دعاء کرنے کے لائق ہوئی۔
Ayahs 53:37–38

وَ اِبْرٰهِیْمَ الَّذِیْ وَفّٰۤىۙ Open ayah 53:37 in the Quran reader

اور جو ابراہیم کے صحیفوں میں ہیں کہ جس نے پوری بجاآوری کردی،

اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰىۙ Open ayah 53:38 in the Quran reader

یہ کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا

﴿وَ اِبْرٰهِيْمَ الَّذِيْ وَفّٰۤىۙ0037 ﴾ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی توصیف میں الذی وفی فرمایا انہوں نے مامورات الٰہیہ کو پورا کردیا اللہ تعالیٰ نے جو انہیں رسالت کا کام سپرد کیا اور دعوت و ارشاد کے لیے انہیں مامور فرمایا اور جن اعمال کے کرنے کا حکم فرمایا ان سب کو پورا کیا سورة بقرہ میں جو ﴿ وَ اِذِ ابْتَلٰۤى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَمَّهُنَّ ﴾ فرمایا ہے اس کی تفسیر دیکھ لی جائے۔ بعض علماء نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ شانہ، نے انہیں حکم دیا ﴿ اَسْلِمْ ﴾ کہ (فرمانبردار ہوجاؤ) انہوں نے عرض کیا ﴿اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ 00131﴾ کہ (میں رب العٰلمین کا فرمانبردار ہوگیا) اس کے بعد اللہ تعالیٰ شانہ، نے انہیں امتحان میں ڈالا جان مال اور اولاد میں ایسے احوال سامنے آئے جن پر صبر کرنا اور احکام ربانیہ پر قائم رہنا بڑا اہم کام ہے۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں : وفی قصة الذبح مافیہ کفاة۔ یعنی انہوں نے جو اپنے بیٹے کو اپنے رب کے حکم سے ذبح کرنے کے لیے لٹا دیا اور اپنی طرف سے ذبح کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی رب جل شانہ، کے فرمان پر عمل کرنے کے لیے مثال قائم کرنے کے لیے یہی قصہ کافی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ ان کے زمانہ کے لوگ ایک شخص کو دوسرے شخص کے عوض پکڑ لیتے تھے جس شخص نے قتل نہ کیا ہو اسے اس کے باپ اور بیٹے اور بھائی اور چچا اور ماموں اور چچا کے بیٹے اور بیوی اور شوہر اور غلام کے قتل کردینے کے عوض قتل کردیتے تھے یعنی قصاص لینے کے لیے کسی بھی رشتہ دار کو قتل کردیتے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان لوگوں کو سمجھایا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغام پہنچایا ﴿ اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰىۙ0038 ﴾ (کہ ایک جان دوسری جان کا بوجھ نہ اٹھائے گی) ۔ بعض مفسرین نے یہاں دو حدیثیں بھی نقل کی ہیں ان میں سے ایک یہ کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) روزانہ علی الصباح چار رکعت پڑھا کرتے تھے اور انہیں اخیرتک پڑھتے رہے۔ یہ حضرت ابوامامہ ؓ سے مروی ہے ایک حدیث یوں نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم جانتے ہو اللہ تعالیٰ نے اپنے دوست ابراہیم کے بارے میں ﴿ الَّذِيْ وَفّٰۤى﴾ کیوں فرمایا ؟ پھر آپ نے خود ہی ارشاد فرمایا کہ وہ صبح شام ﴿ فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَ حِيْنَ تُصْبِحُوْنَ 0017﴾ (الایۃ) پڑھا کرتے تھے۔ (تفسیر قرطبی صفحہ 113: ج 9)
Ayahs 53:39–41

وَ اَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰىۙ Open ayah 53:39 in the Quran reader

اور یہ کہ انسان کے لیے نہیں ہے مگر وہی جو کچھ اس نے کمایا

وَ اَنَّ سَعْیَهٗ سَوْفَ یُرٰى۪ Open ayah 53:40 in the Quran reader

اور یہ کہ اس کی سعی عنقریب دیکھ لی جائے گی

ثُمَّ یُجْزٰىهُ الْجَزَآءَ الْاَوْفٰىۙ Open ayah 53:41 in the Quran reader

پھر اسے پورا پورا بدلہ دیا جائے گا،

یہ جو فرمایا ہے ﴿ وَ اَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى ۙ0039 ی﴾ (کہ ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے کوشش کی) اس پر جو یہ اشکال ہوتا ہے کہ پھر ایصال ثواب کا کوئی فائدہ نہ رہا کیونکہ 9 جو شخص عمل کرتا ہے آیت کریمہ کی رو سے اس کا ثواب صرف اسی کو پہنچنا چاہے نہ کہ کسی دوسرے شخص کو۔ اس اشاول کو حل کرنے کے لے بعض اکابر نے فرمایا ہے کہ آیت کریمہ میں جو ﴿ اِلَّا مَا سَعٰى ﴾ فرمایا ہے اس سے ایمان مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ ہر شخص کو اپنے ہی ایمان کا ثواب ملے گا اس بات کو سامنے رکھ کر ایصال ثواب کا اشکال ختم ہوجاتا ہے کیونکہ کسی شخص کا ایمان ایسے شخص کو فائدہ نہیں دے سکتا جو کافر ہو اور کافر کو ایصال کرنے سے بھی ثواب نہیں پہنچتا۔ ذریت کو جو آباء کے ایمان کا ثواب پہنچے گا (جس کا سورة طور میں ذکر ہے اور حضرت ابن عباس ؓ کی توجیہ میں آرہا ہے) اس میں ﴿ اتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُمْ ﴾ کے ساتھ بایمان بھی مذکورہ ہے۔ بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ آیت کا مفہوم عام نہیں ہے بلکہ عام مخصوص میں البعض ہے کیونکہ احادیث شریفہ میں حج بدل کرنے کا ذکر ہے اور حج بدل دوسرے شخص کا عمل ہے پھر بھی اس کا حج ادا ہوجاوے گا جس کی طرف سے حج ادا کا بدل ہے اور بعض احادیث میں (جو سند کے اعتبار سے صحح ہں) دوسرے کی طرف سے صدقہ کرنے کا ذکر بھی ملتا ہے۔ اگر کوئی شخص ذکر یا تلاوت کا ثواب پہنچائے جبکہ ذکر و تلاوت محض اللہ کی رضا کے لیے ہو کسی طرح کا پڑھنے والے کو مالی لالچ نہ ہو تو اس میں ائمہ کرام علہم ذالرحمہ کا اختلاف ہے حضرت حنفہ اور حنابلہ کے نزدیک بدنی عبادات کا ثواب بھی پہنچتا ہے اور حضرت شوافع اور مالکیہ کے نزدیک نہیں پہنچتا، جن حضرات کے نزدیک ثواب پہنچتا ہے وہ حج بدل اور صدقات پر قیاس کرتے ہیں اور اس بارے میں حضرت ابوہریرہ ؓ کا ارشاد بھی مروی ہے : فقد روی ابوداوٗد بسندہ عن ابی ھریرة ؓ قال من یضمن لی منکم ان یضمن لی فی مسجد العشار رکعتین او اربعا ویقول ھذا لابی ہریرہ سمعت خلیلی ابا القاسم ﷺ یقول ان اللہ یبعث من مسجد العشار یوم القیامة شھداء لا یقوم مع شھداء بدر غیر ھم قال ابوداوٗد ھذا المسجد ممایلی النھرـ (ای القرات صفحہ 236 ج 2) قال فی الدر المختار الاصل ان کل من اتی بعبادة مالہ جعل ثوابھا لغیرہ وان نواھا عندالفعل لنفسہ لظاھر الادلة واما قولہ تعالیٰ (وان لیس للانسان الاماسعی) ای الا اذا وھبہ لہ (انتھی) قال الشامی فی ردالمحتار (قولہ لہ جعلی ثوابھا لغیرہ) خلافا للمعتزلة فی کل العبادات والمالک والشافعی فی العبادات البدنیة المحضة کالصلوٰة والتلاوة فلا یقولان بوصولھا بخلاف غیرھا کالصدقة والحج، ولیس الخلاف فی ان لہ ذلک اولا کما ھو ظاھر اللفظ بل فی انہ یجعل بالجعل اولا بل یلغو جعلہ افادہ فی الفتح ای الخلاف فی وصول الثواب وعدمہ (قولہ لغیرہ) ای من الاحیاء والاموات (بحر عن البدائع) (صفحہ 236: ج 2) وقد اطال الکلام فی ذلک الحافظ ابن تیمیة فی فتاواہ (صفحہ 306 الی صفحہ 324: ج 24) وقال یصل الی المیت قرأة اھلہ تسبیحھم وتکبیر ھم وسائر ذکر ھم للہ تعالیٰ واجاب عن استدلال المانعین وصول الثواب بآیة سورة النجم ثم اطال الکلام فی ذلک صاحبہ ابن القیم فی کتاب الروح (من صفحہ 156 الی صفحہ 192) والیک ماذکر فی فتاوی الحافظ ابن تیمیة فی آخر البحث، وسئل ھل القرأة تصل الی المیت من الولد اولا ؟ علی مذھب الشافعی ـ فاجاب : اماوصول ثواب العبادات البدنیة : کالقرأة، والصلاة، والصوم ـ فھذھب احمد، وابی حنیفة، وطائفة من اصحاب مالک، والشافعی، الی انھا تصل، وذھب اکثر اصحاب مالک، والشافعی، الی انھالاتصل، واللّٰہ اعلم وسئل : عن قرأة اھل المیت تصل الیہ ؟ والتسبیح والتحمید، والتھلیل والتکبیر، اذا اھداہ الی المیت یصل الیہ ثوابھا ام لا ؟ فاجاب : یصل الی المیت قراة اھلہ، وتسبیحھم، وتکبیر ھم، وسائر ذکر ھم اللہ، اذا اھدوہ الی المیت، وصل الیہ، واللہ اعلم (صفحہ 324: ج 24) وقال ابن القیم فی آخر البحث (صفحہ 192) وسرا المسالة ان الثواب ملک للعامل فاذا تبرع بہ واھداہ الی اخیہ المسلم او صلہ اللہ الیہ، فما الذی خص من ھذا ثواب قرأة القرآن وحجر علی العبدان یوصلہ الی اخیہ وھذا عمل الناس حتی المنکرین فی سائر الاعصار والامصار من غیر نکیر من العلماء حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ آیت کریمہ کا عموم منسوخ ہے کیونکہ دوسری آیت میں ﴿ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ اتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُمْ بِاِيْمَانٍ اَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ ﴾ فرمایا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آباء کے ایمان کا ان کی ذریت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ صاحب روح المعانی نے کہا ہے کہ والئی خراساں نے حضرت حسن بن الفضل سے دریافت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک طرف ﴿وَ اللّٰهُ يُضٰعِفُ لِمَنْ يَّشَآءُ﴾ فرمایا ہے اور دوسری طرف ﴿ وَ اَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى ۙ0039﴾ فرمایا ہے دونوں میں تطبقک کی کیاٰ صورت ہے حضرت حسن بن الفضل نے فرمایا کہ سورة نجم کی آیت میں عدل الٰہی کا تذکرہ ہے کہ جو بھی کوئی اچھا عمل کرے اسے بقدر عمل ضروری اجر ملے گا اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ اس کا استحقاق ہے اس کے اجر کو ضائع نہیں فرمائے گا اور ﴿وَ اللّٰهُ يُضٰعِفُ لِمَنْ يَّشَآءُ﴾ میں فصل کا بیان ہے وہ جسے جتنا چاہے زیادہ سے زیادہ دیدے اسے اختیار ہے۔ والئی خراساں کو یہ جواب پسند آیا اور حضرت حسن بن الفضل کا سر چوم لیا صاحب روح المعانی نے بھی اس جواب کو پسند کیا پھر فرمایا ہے کہ حضرت ابن عطہا سے بھی اسی طرح منقول ہے۔ علامہ قرطبی لکھتے ہیں کہ یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ ﴿ وَ اَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى ۙ0039﴾ صرف گناہ کے ساتھ مخصوص ہے نیکی کا ثواب تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خوب بڑھا چڑھا کردیا جائے گا جس کی تفصیلات حدیثوں میں آئی ہیں اور قرآن مجید میں جو ﴿وَ اللّٰهُ يُضٰعِفُ لِمَنْ يَّشَآءُ﴾ اعمال صالحہ سے متعلق ہے جو شخص گناہ کرے گا اسکا گناہ اتنا ہی لکھا جائے گا جتنا اس نے کام کیا ہے اور اسی پر مواخذہ ہوگا گناہ بڑھا کر نہیں لکھا جاتا۔ صاحب معالم التنزیل نے حضرت عرنمہ ؓ سے ایک جواب یوں نقل کا ہے سورة النجم کی آیت حضرت ابراہمہ اور موسیٰ ( علیہ السلام) کی قوم کے بارے میں ہے کون ہے یہ مضمون بھی ان حضرات کے صفحوں میں ہے ان کی قوموں کو صرف اپنے ہی كئے ہوئے عمل کا فائدہ پہنچتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ کی امت پر اللہ تعالیٰ نے یہ فضل بھی فرمایا کہ کوئی دوسرا مسلمان ثواب پہنچانا چاہے تو وہ بھی اسے پہنچ جائے گا۔ لیکن اس میں یہ اشکال ہوتا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے لئے اور اپنے والدین کے لیئے اور مومنین کے لیے جو ان کے گھر میں داخل ہوں مغفرت کی دعا کی جسا کہ سورة نوح کی آخری آیت میں مذکور ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے بھائی کے لیئے اور اپنی قوم کے لیے مغفرت کی دعا کی جو سورة اعراف رکوع 18 میں مذکور ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امت سابقہ میں ایک دوسرے کے لیے دعاء قبول ہوتی تھی (ہاں اگر دعائے مغفرت کو مستثنیٰ کیا جائے تو یہ دوسری بات ہے) ۔ یہ جو حدیث شریف میں فرمایا ہے کہ جب انسان مرجاتا ہے تو اس کا عمل ختم ہوجاتا ہے اور تین چیزوں کا ثواب جاری رہتا ہے (1) صدقہ جاریہ (2) وہ علم جس سے نفع حاصل کا جاتا ہو (3) وہ صالح اولاد جو اس کے لئے دعا کرتی ہو۔ (اور بعض روایات میں سات چیزوں کا ذکر ہے) ان کا ثواب پہنچنے سے کوئی اشکال نہیں ہوتا کیونکہ یہ مرنے والے کے اپنے کیے ہوئے کام ہیں، اولاد صالح جو دعاء کرتی ہے اس میں والد کا بڑا دخل ہے کیوں نہ ہو اسی کی کوششوں سے اولاد نیک بنی اور دعاء کرنے کے لائق ہوئی۔
Ayah 53:42

وَ اَنَّ اِلٰى رَبِّكَ الْمُنْتَهٰىۙ Open ayah 53:42 in the Quran reader

اور یہ کہ تیرے رب کے پاس پہنچنا ہے،

﴿وَ اَنَّ اِلٰى رَبِّكَ الْمُنْتَهٰى ۙ0042﴾ (اور یہ کہ تیرے رب کے پاس پہنچنا ہے) اس دنیا میں جتنی بھی زندگی گزارلے آخر مرنا ہے بارگاہِ الٰہی میں حاضر ہونا ہے حسنات اور سیئات کا حساب دینا ہے یہ آیت کی ایک تفسیر ہے، دوسری تفسیر یہ کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ شانہ، کی مخلوقات میں غور کریں ان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کریں اللہ تعالیٰ کی ذات عالی کے بارے میں غور نہ کریں کیونکہ اس کا ادراک نہیں ہوسکتا صاحب روح المعانی نے اس بارے میں بعض احادیث بھی نقل کی ہیں۔
Ayahs 53:43–44

وَ اَنَّهٗ هُوَ اَضْحَكَ وَ اَبْكٰىۙ Open ayah 53:43 in the Quran reader

اور بلاشبہ اس نے ہنسایا اور رلایا،

وَ اَنَّهٗ هُوَ اَمَاتَ وَ اَحْیَاۙ Open ayah 53:44 in the Quran reader

بلاشبہ اس نے موت دی اور زندہ کیا

اللہ تعالیٰ نے ہی ہنسایا اور رلایا : ﴿وَ اَنَّهٗ هُوَ اَضْحَكَ وَ اَبْكٰىۙ0043﴾ (اور بلاشبہ اسی نے ہنسایا اور رلایا) ہنسنا اور رونا اور اس کے اسباب سب اللہ تعالیٰ ہی پیدا فرماتا ہے۔ ﴿ وَ اَنَّهٗ هُوَ اَمَاتَ وَ اَحْيَاۙ0044﴾ (اور بلاشبہ اسی نے موت دی اور زندہ کیا) زندگی بخشنے اور موت دینے کی صفات بھی اللہ تعالیٰ ہی کے لیے مخصوص ہیں اس کے علاوہ کوئی شحص کسی کو زندہ نہیں کرسکتا اور کسی کو موت نہیں دے سکتا۔
Ayahs 53:45–49

وَ اَنَّهٗ خَلَقَ الزَّوْجَیْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰىۙ Open ayah 53:45 in the Quran reader

اور یہ کہ اسی نے جوڑے پیدا کیے یعنی مذکر اور مونت

مِنْ نُّطْفَةٍ اِذَا تُمْنٰى۪ Open ayah 53:46 in the Quran reader

نطفے سے جب کہ وہ ڈالا جاتا ہے،

وَ اَنَّ عَلَیْهِ النَّشْاَةَ الْاُخْرٰىۙ Open ayah 53:47 in the Quran reader

اور یہ کہ اس کے ذمہ ہے دوبارہ پیدا کرنا

وَ اَنَّهٗ هُوَ اَغْنٰى وَ اَقْنٰىۙ Open ayah 53:48 in the Quran reader

اور یہ کہ اس نے غنی کیا اور سرمایہ باقی رکھا

وَ اَنَّهٗ هُوَ رَبُّ الشِّعْرٰىۙ Open ayah 53:49 in the Quran reader

اور یہ کہ وہ شعریٰ کا رب ہے

اللہ تعالیٰ ہی نے جوڑے پیدا کیے : ﴿وَ اَنَّهٗ خَلَقَ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰى ۙ0045 ﴾ (اور بیشک اسی نے دو جوڑے پیدا کیے مذکر اور مونث، مذکر مونث کے لیے اور مونث مذکر کے لیے جوڑا ہے) ۔ ﴿مِنْ نُّطْفَةٍ اِذَا تُمْنٰى0046﴾ مرد عورت دونوں کو نطفہ سے پیدا فرمایا وہ کود کر اندر رحم میں پہنچتا ہے تو اس سے حمل ٹھہرتا ہے۔ ﴿وَ اَنَّ عَلَيْهِ النَّشْاَةَ الْاُخْرٰى ۙ0047 ﴾ (اور بلاشبہ اس کے ذمہ ہے دوبارہ پیدا کرنا) یعنی زندگی کے بعد یوں ہی مرکھپ کر ختم نہیں ہوجانا ہے، دوبارہ پھر زندہ ہوں گے حساب و کتاب، عذاب وثواب کا مرحلہ درپیش ہوگا اس کو یوں ہی چلتی ہوئی بات نہ سمجھیں دوبارہ زندہ ہونا اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے ذمہ ضروری قرار دے رکھا ہے۔ قال صاحب روح المعانی : ناقلا عن البحر لما کانت ھذہ النشاة ینکرھا الکفار بولغ لقولہ تعالیٰ علیہ کانہ تعالیٰ اوجب ذلک علی نفسہ (روح المعافی صفحہ 69: ج 27) ﴿وَ اَنَّهٗ هُوَ اَغْنٰى وَ اَقْنٰىۙ0048﴾ (اور یہ کہ اس نے غنی کیا اور سرمایہ باقی رکھا) یعنی اللہ تعالیٰ نے مال بھی دیا او مالیات میں وہ چیزیں بھی عطا فرمائیں جو باقی رہتی ہیں ذخیرہ کے طور پر کام دیتی رہتی ہیں جیسے باغیچے اور عمارتیں وغیرہ۔ ﴿وَ اَنَّهٗ هُوَ رَبُّ الشِّعْرٰى ۙ0049 ﴾ (اور یہ کہ وہ شعریٰ کا رب ہے) شعریٰ ایک ستارہ کا نام ہے جس کی اہل عرب عبادت کرتے تھے اور اس عالم میں اس کی تاثیر کے معتقد تھے۔ روح المعانی میں لکھا ہے کہ بنی حمیر اور بنی خزاعہ اس کی عبادت میں مصروف رہتے تھے اور نقل کیا ہے کہ بنی خزاعہ میں ایک شخص ابوکبشہ تھا اس نے سب سے پہلے شعریٰ کی عبادت شروع کی تھی جسے ابوکبشہ کہا جاتا تھا۔ اللہ جل شانہ، نے ان کی تردید فرمائی اور فرمایا کہ شعریٰ میں کوئی تاثیر نہیں ہے اللہ تعالیٰ شانہ، جیسے سب چیزوں کا رب ہے، شعریٰ کا بھی رب ہے لہٰذا شعریٰ کی عبادت کرنے والے غیر اللہ کی عبادت کو چھوڑیں اور اللہ تعالیٰ شانہ، کی عبادت میں لگیں۔
Ayahs 53:50–54

وَ اَنَّهٗۤ اَهْلَكَ عَادَا اِ۟لْاُوْلٰىۙ Open ayah 53:50 in the Quran reader

اور یہ کہ اسی نے عاد اولیٰ کو ہلاک کیا

وَ ثَمُوْدَاۡ فَمَاۤ اَبْقٰىۙ Open ayah 53:51 in the Quran reader

اور ثمود کو بھی سو باقی نہیں رکھا،

وَ قَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا هُمْ اَظْلَمَ وَ اَطْغٰىؕ Open ayah 53:52 in the Quran reader

اور اس سے پہلے نوح کی قوم کو بیشک یہ لوگ خوب بڑھ کر ظالم اور سرکش تھے

وَ الْمُؤْتَفِكَةَ اَهْوٰىۙ Open ayah 53:53 in the Quran reader

اور الٹی ہوئی بستیوں کو پھینک دیا،

فَغَشّٰىهَا مَا غَشّٰىۚ Open ayah 53:54 in the Quran reader

سو ان بستیوں کو ڈھانپ لیا، جس چیز نے ڈھانپا

اللہ تعالیٰ ہی نے عاد اولیٰ اور ثمود کو ہلاک فرمایا اور لوط (علیہ السلام) کی بستیوں کو الٹ دیا ﴿وَ اَنَّهٗۤ اَهْلَكَ عَادَا ا۟لْاُوْلٰى ۙ0050 ﴾ (اور بیشک اس نے عاد اولیٰ کو ہلاک فرمایا) ﴿ وَ ثَمُوْدَاۡ فَمَاۤ اَبْقٰى ۙ0051 ﴾ (اور ثمود کو بھی ہلاک کیا سو ان کو باقی نہ چھوڑا) ۔ ان دونوں آیتوں میں قوم عاد اور قوم ثمود کی ہلاکت اور بربادی کا ذکر فرمایا ہے قوم عاد کے لوگ کہتے تھے کہ ہم سے بڑھ کر کون طاقتور ہے اور قوم ثمود کے لوگ پہاڑوں کو تراش کر گھر بنا لیتے تھے ان دونوں قوموں کی قوت اور طاقت کچھ بھی کام نہ آئی کفر کی سزا میں ہلاک اور برباد کردیئے گئے۔ ﴿ وَ قَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُ ﴾ اور ان سے قبل نوح (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کیا۔ ﴿ اِنَّهُمْ كَانُوْا هُمْ اَظْلَمَ وَ اَطْغٰىؕ0052﴾ (بیشک یہ لوگ بڑے ہی ظالم اور بڑے ہی سرکش تھے۔ ﴿ وَ الْمُؤْتَفِكَةَ اَهْوٰىۙ0053﴾ (اور اللہ تعالیٰ نے الٹی ہوئی بستیوں کو پھینک مارا) اس سے حضرت لوط (علیہ السلام) کی بستیاں مراد ہیں ان کی قوم کے لوگ کافر بھی تھے اور بدکاری میں بہت زیادہ مبتلا تھے مرد مردوں سے شہوت پوری کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کی زمین کا تختہ الٹ دیا جس کی وجہ سے سب کافر ہلاک ہوگئے چونکہ یہ بہت سخت عذاب تھا تختہ الٹے جانے کے ساتھ ساتھ پتھروں کی بارش بھیج دی گئی اس لیے فرمایا ﴿فَغَشّٰىهَا مَا غَشّٰىۚ0054 ﴾ (انہیں اس چیز نے ڈھانپ لیا جس نے ڈھانپا) اس میں عذاب کی سختی اور وحشت کو بیان فرمایا ہے جیسا کہ فرعون اور اس کے لشکروں کی ہلاکت کا تذکرہ فرماتے ہوئے ﴿ فَغَشِيَهُمْ مِّنَ الْيَمِّ مَا غَشِيَهُمْؕ0078﴾ فرمایا ہے۔
Ayah 53:55

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكَ تَتَمَارٰى Open ayah 53:55 in the Quran reader

سو تو اپنے رب کی کن کن نعمتوں میں شک کرتا رہے گا۔

﴿ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكَ تَتَمَارٰى 0055﴾ (سو اے انسان تو اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں میں شک کرے گا) اللہ تعالیٰ نے تجھے پیدا کیا مرد اور عورت کے جوڑے بنائے ہنسایا اور رلایا، موت دی پھر زندہ فرمائے گا اس نے مال دیا ذخیرہ رکھنے کی چیزیں دیں اور سابقہ امتوں کی بربادی سے باخبر فرمایا اب بھی تو اس کی نعمتوں میں شک کرتا ہے اور عبرت حاصل نہیں کرتا۔ قال القرطبی : ای فبای نعم ربک تشک والمخاطبة للانسان المکذب۔ فائدہ : قوم عاد کی صفت بیان کرتے ہوئے ﴿الاولی﴾ فرمایا۔ صاحب روح المعانی نے ﴿الاولی﴾ کا ترجمہ القدماء کیا ہے اور یوں فرمایا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے بعد چونکہ قوم عاد ہلاک ہونے میں بعد میں آنے والی امتوں سے پہلے ہلاک کی گئی اس لیے صفت الاولی لائی گئی پھر مفسر طبری سے نقل کیا ہے کہ قبائل سابقہ میں ایک دوسرا قبیلہ تھا، اسے بھی عاد کہا جاتا تھا یہ قبیلہ مکہ مکرمہ میں عمالیق کے ساتھ مقیم تھا، پھر مبرد سے نقل کیا ہے کہ عاد اولیٰ ثمود کے مقابلہ میں لایا گیا ہے کیونکہ قوم ثمود عاد اخری تھی۔
Ayah 53:56

هٰذَا نَذِیْرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْاُوْلٰى Open ayah 53:56 in the Quran reader

یہ ایک ڈرانے والا ہے پرانے ڈرانے والوں میں سے،

قیامت قریب آگئی اس بات سے تعجب کرتے ہو اور تکبر میں مبتلا ہو، اللہ کو سجدہ کرو اور اس کی عبادت کرو هٰذَا کا اشارہ رسول کریم ﷺ یا قرآن عظیم کی طرف ہے مطلب یہ ہے کہ اوپر جو کچھ قرآن کریم میں بیان کیا گیا جسے لے کر رسول اللہ ﷺ تشریف لائے ہیں یہ پرانے ڈرانے والوں میں سے ہی ایک ڈرانے والا ہے یعنی قرآن میں جو ڈرانے والے مضامین ہی یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے پہلے بھی حضرات انبیائے کرام (علیہ السلام) آتے رہے اللہ تعالیٰ نے ان پر کتابیں نازل فرمائی ہیں پرانی اقوام نے بھی تکذیب کی ہے اور انہیں ڈرایا گیا ہے جب انہیں ڈرایا گیا تو ایمان نہ لائے پھر اس کی سزا میں ہلاک ہوئے اب جو قرآن کریم کے مخاطب ہیں انہیں بھی اپنا انجام سوچ لینا چاہیے۔ قال القرطبی فان اطعتموہ افلحتم والاحل بکم بمکذبی الرسل السابقة۔
Ayahs 53:57–58

اَزِفَتِ الْاٰزِفَةُۚ Open ayah 53:57 in the Quran reader

جلدی آنے والی قریب آپہنچی،

لَیْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ كَاشِفَةٌؕ Open ayah 53:58 in the Quran reader

اللہ کے سوا اس کا کوئی ہٹانے والا نہیں،

﴿اَزِفَتِ الْاٰزِفَةُۚ0057﴾ (جلد آنے والی چیز یعنی قیامت قریب آپہنچی) ﴿ لَيْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ كَاشِفَةٌؕ0058﴾ (جب وہ جائے گی تو اللہ کے سوا اس کا کوئی ہٹانے والا نہیں ہوگا) ۔ قال القرطبی وقد سمیت القیامة غاشیة، فاذا کانت غاشیة کان ردھا کشفًا، فالکاشفة علی ھذا نعت مونث محذوف، ای نفس کاشفة او فرقة کاشفة او حال کاشفة وقیل ان کاشفة بمعنی کاشف والھاء للمبالغة مثل راویة وداھیة ـ قیامت پر ایمان نہیں لاتے لیکن اس کا آنا ضروری ہے اور اس کا وقت قریب ہے (قرب اور بعد اضافی چیز ہے) ۔ اللہ تعالیٰ کے علم اور قضاء قدر کے مطابق جو چیز وجود میں آنے والی ہے وہ ضرور آئے گی کسی کے نہ ماننے سے اس کا آنارک نہیں سکتا اور آئے گی بھی اچانک اسے کوئی بھی رد نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ ہی کو رد کرنے کا اختیار ہے لیکن وہ رد نہیں فرمائے گا لہٰذا اس کے لیے فکر مند ہونا لازم ہے جھٹلانے سے اور باتیں بنانے سے نجات ہونے والی نہیں۔
Ayahs 53:59–61

اَفَمِنْ هٰذَا الْحَدِیْثِ تَعْجَبُوْنَۙ Open ayah 53:59 in the Quran reader

کیا اس بات سے تعجب کرتے ہو

وَ تَضْحَكُوْنَ وَ لَا تَبْكُوْنَۙ Open ayah 53:60 in the Quran reader

اور ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو

وَ اَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ Open ayah 53:61 in the Quran reader

اور تم تکبر کرتے ہو،

﴿اَفَمِنْ هٰذَا الْحَدِيْثِ تَعْجَبُوْنَۙ0059﴾ (کیا تم اس بات سے تعجب کرتے ہو) ﴿ وَ تَضْحَكُوْنَ وَ لَا تَبْكُوْنَۙ0060 ﴾ (اور ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو) ﴿ وَ اَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ 0061﴾ (اور تم تکبر کرتے ہو) ۔ یہ قرآن اور اس کا ڈرانا اور وقوع قیامت کی خبر دینا کیا تم اس سے تعجب کرتے ہو اور ساتھ ہی ہنستے بھی ہو اور روتے نہیں تمہیں تو کفر چھوڑ کر ایمان لانا لازم ہے سابقہ زندگی پر روؤ اور کفر سے توبہ کرو، ایمان اور قرآن کے نام سے ہنستے ہو یہ چیز تمہارے لیے دنیا و آخرت میں بربادی کا سبب ہے تکبر تمہیں لے ڈوبے گا۔ تکبر کی وجہ سے تم اپنے کفر پر جمے ہوئے ہو اور ایمان لانے میں اپنی بےآبروئی محسوس کرتے ہو تمہارا یہ انکار اور ہنسنا اور تکبر کرنا، دنیا اور آخرت میں عذاب لانے کا سبب ہے۔ سمدون کا ترجمہ متکبرون کیا گیا ہے۔ مفسرین نے اس کے دوسرے معانی بھی لکھے ہیں۔ اس کا مصدر سمود ہے جس کا معنی تکبر کی وجہ سے سر اٹھانا ہے۔ گانا، لہو و لعب میں مشغول ہونا، غصے میں پھول جانا وغیرہ معانی بھی لکھے ہیں۔
Ayah 53:62

فَاسْجُدُوْا لِلّٰهِ وَ اعْبُدُوْا۠۩ Open ayah 53:62 in the Quran reader

سو اللہ کو سجدہ کرو اور عبادت کرو۔

﴿ فَاسْجُدُوْا لِلّٰهِ وَ اعْبُدُوْا (رح) 006﴾ (سو اللہ کے لیے سجدہ کرو اور اس کی عبادت کرو) ۔ یہ سورة نجم کی آخری آیت ہے مطلب یہ ہے کہ جب تمہارے سامنے حقائق بیان کردیئے گئے اللہ تعالیٰ کی صفت خالیقت اور صفت علم اور صفت قدرت تمہیں بتادی گئی اور بعض اقوام سابقہ کی ہلاکت اور بربادی بیان کردی گئی اور یہ بتادیا گیا کہ قیامت آنی ہے اور ضرور آنی ہے تو ہر عقلمند کی عقل کا تقاضا یہ ہے کہ تکذیب اور انکار کو چھوڑے اور قرآن کریم کی دعوت کو تسلیم کرے، اور اپنے رب پر ایمان لائے لہٰذا تمام مخاطبین پر لازم ہے کہ اللہ ہی کے لیے سجدہ کریں اور اسی کی عبادت کریں۔ ایمان لانے کا سب سے بڑا تقاضا اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کرنا اور اس کی عبادت کرنا ہی ہے۔ قال صاحب الروح واذا کان الامر کذلک فاسجدوا للّٰہ تعالیٰ الذی انزلہ واعبدوہ جل جلالہ بعض حضرات نے فاسجدوا کا ترجمہ اطیعوا کیا ہے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کرو۔ سورة النجم کی آخری آیت، آیت سجدہ ہے امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک اس آیت کو پڑھ کر یا سن کر سجدہ کرنا واجب ہے۔ وقد انتھی تفسیر سورة النجم بفضل الملیک الحنان المنان والصلوٰة والسلام علی رسولہ سید الانسان والجان وعلی من تبعہ باحسان الی یوم یدخل فیہ المومنون الجنان ویجارون ویدخل الکفرة النیران