50. Surah Qaaf

قThe letter Qaaf · 45 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 50:41

وَ اسْتَمِعْ یَوْمَ یُنَادِ الْمُنَادِ مِنْ مَّكَانٍ قَرِیْبٍۙ Open ayah 50:41 in the Quran reader

اے مخاطب اس بات کو سن لے کہ جس دن پکارنے والا قریب ہی جگہ سے پکارے گا

وقوع قیامت کے ابتدائی احوال اور رسول اللہ ﷺ کو تسلی ان آیات میں اولاً وقوع قیامت کے ابتدائی احوال بیان فرمائے ہیں پھر رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی ہے کہ آپ معاندین کی باتوں سے دلگیر نہ ہوں ہمیں ان کی سب باتوں کی خبر ہے۔ وَ اسْتَمِعْ (اور اے مخاطب سن لے) یعنی آئندہ جو قیامت کے احوال بیان ہونے والے ہیں انہیں دھیان سے سن ﴿ يَوْمَ يُنَادِ الْمُنَادِ ﴾ (جس دن پکارنے والا پکارے گا) یعنی حضرت اسرافیل (علیہ السلام) صور پھونک دیں گے، صور کی یہ آواز دور اور قریب سے سنی جائے گی یعنی ہر سننے والے کو ایسا معلوم ہوگا کہ یہیں قریب سے پکارا جا رہا ہے۔ پوری زمین کے رہنے والے زندہ اور مردے سب کے سب یکساں سنیں گے۔ پہلے زمانہ میں تو لوگ اس کو سن کر کچھ تامل کرتے تھے اور سوچتے تھے کہ ایک آواز کو پوری دنیا میں اور آسمانوں میں یکساں کیسے سنا جاسکتا ہے۔ لیکن آج کے حالات اور آلات نے بتادیا کہ اس میں کچھ بھی اشکال کی بات نہیں ہے، آلات تو بہت ہیں ایک ٹیلی فون ہی کو لے لو بآسانی اس کے ذریعہ ہلکی سی آواز بھی ایک براعظم سے دوسرے براعظم میں سنی جاتی ہے دور اور نزدیک کے سننے میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
Ayahs 50:42–45

یَّوْمَ یَسْمَعُوْنَ الصَّیْحَةَ بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُرُوْجِ Open ayah 50:42 in the Quran reader

جس روز چیخ کو حق کے ساتھ سنیں گے یہ نکلنے کا دن ہوگا۔

اِنَّا نَحْنُ نُحْیٖ وَ نُمِیْتُ وَ اِلَیْنَا الْمَصِیْرُۙ Open ayah 50:43 in the Quran reader

بیشک ہم زندہ کرتے اور موت دیتے ہیں اور ہماری طرف لوٹ کر آنا ہے

یَوْمَ تَشَقَّقُ الْاَرْضُ عَنْهُمْ سِرَاعًا١ؕ ذٰلِكَ حَشْرٌ عَلَیْنَا یَسِیْرٌ Open ayah 50:44 in the Quran reader

جس دن زمین ان کے اوپر سے پھٹ جائے گی جب کہ دوڑتے ہوں گے، یہ جمع کرنا ہم پر آسان ہے

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِجَبَّارٍ١۫ فَذَكِّرْ بِالْقُرْاٰنِ مَنْ یَّخَافُ وَعِیْدِ۠ Open ayah 50:45 in the Quran reader

ہم خوب جانتے ہیں جو یہ لوگ کہتے ہیں اور آپ ان پر زبردستی کرنے والے نہیں سو آپ قرآن کے ذریعہ ایسے شخص کو نصیحت کیجئے جو میری نصیحت سے ڈرتا ہے۔

﴿يَّوْمَ يَسْمَعُوْنَ الصَّيْحَةَ بالْحَقِّ ﴾ (جس دن حق کے ساتھ چیخ کو سنیں گے) اس سے نفخہء ثانیہ مراد ہے اور بالحق فرما کر یہ بتادیا کہ اس چیخ کو یقین کے ساتھ سنیں گے جس میں کوئی شک و شبہ کی بات نہ ہوگی۔ یہ جو دنیا میں کسی کو آواز پہنچتی ہے کسی کو نہیں پہنچتی ایسا نہ ہوگا۔ ﴿ذٰلِكَ يَوْمُ الْخُرُوْجِ 0042﴾ (یہ قبروں سے نکلنے کا دن ہوگا) ﴿ اِنَّا نَحْنُ نُحْيٖ وَ نُمِيْتُ ﴾ (بےشک ہم زندہ کرتے ہیں اور ہم موت دیتے ہیں) ﴿ وَ اِلَيْنَا الْمَصِيْرُۙ0043﴾ (اور ہماری طرف لوٹ کر آنا ہے) کہیں کسی کو بھاگ جانے اور جان بچانے کا موقعہ نہیں ملے گا۔ ﴿ يَوْمَ تَشَقَّقُ الْاَرْضُ عَنْهُمْ سِرَاعًا 1ؕ﴾ (جس روز زمین ان پر سے کھل جائے گی جبکہ وہ دوڑتے ہوں گے) ﴿ذٰلِكَ حَشْرٌ عَلَيْنَا يَسِيْرٌ0044﴾ (ہمارے نزدیک یہ جمع کرنا آسان ہے) ﴿ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا يَقُوْلُوْنَ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَيْهِمْ بِجَبَّارٍ 1۫﴾ (جو کچھ یہ لوگ کہہ رہے ہیں ہم خوب جانتے ہیں اور آپ ان پر جبر کرنے والے نہیں ہیں) ﴿فَذَكِّرْ بالْقُرْاٰنِ مَنْ يَّخَافُ وَعِيْدِ (رح) 0045﴾ (سو آپ قرآن کے ذریعہ ایسے شخص کو نصیحت کرتے رہیں جو میری وعید سے ڈرتا ہے) ۔ آپ کی تذکیر تو عام ہے جو قبول کرنے والوں اور نہ قبول کرنے والوں کے لیے برابر ہے تاہم جو لوگ وعید کو سنتے ہیں پھر ڈرتے ہیں ان کی طرف خاص توجہ فرمایئے یوں زبردستی منوا لینا آپ کے ذمہ نہیں ہے۔