Ayahs 49:15–16اس کے بعد فرمایا ﴿ اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا باللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ﴾ (الآیۃ) اس آیت میں یہ بتایا کہ واقعی اور سچے مومن وہی ہیں جو اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے یعنی انہوں نے سچے دل سے تصدیق کی ﴿ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوْا ﴾ پھر انہوں نے شک نہیں کیا ﴿ وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ 1ؕ﴾ (اور انہوں نے اللہ کی راہ میں اپنی جانوں اور مالوں سے جہاد کیا) اس میں کافروں سے اور اپنے نفس سے جہاد کرنا اور اپنے کو غیر شرعی کاموں سے اور اپنے خاندان اور دیگر افراد کو شریعت اسلامیہ پر چلانے کے سلسلہ میں محنت اور کوشش کرنا سب داخل ہے اپنے نفس کو دینی تقاضوں پر لگانا اس بارے میں مال و جان خرچ کرنا بڑے مجاہدہ کی بات ہے نفس پر قابو پانے کے لیے فکر مند رہنا لازم ہے۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں :
فی سبیل اللّٰہ فی طاعة اللّٰہ عزوجل علی تکثیر فنونھا من العبادات البدنیة المحضة والمالیة الصرفة والمشتملة علیھما معًا کالحج والجھاد۔ (فی سبیل اللہ کا مطلب ہے مختلف شکلوں میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں خواہ وہ محض عبادت بدنی ہو خواہ محض مالی ہو خواہ مالی و بدنی دونوں قسم کی ہو جیسے جہاد اور حج۔ )
﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَ 0015﴾ یہ وہ لوگ ہیں جو سچے ہیں یعنی ان کا دعویٰ ایمان سچا ہے وہ دیہاتی لوگ جنہوں نے اوپر کے دل سے دنیا سازی کے لیے اٰمَنَّا كہہ دیا یہ لوگ مومن نہیں ہیں لفظ اِنَّمَا جو حصر پر دلالت کرتا ہے اس سے یہ معنی مفہوم ہوتا ہے۔
یاد رہے کہ آیت بالا میں ان لوگوں کو مومن بتایا ہے جو اللہ پر بھی ایمان لائے اور اس کے رسولوں پر اور انہیں اپنے ایمان میں شک بھی نہ ہو اس میں واضح طور پر یہ بتادیا کہ محض اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اور توحید کا قائل ہوجانا ایمان نہیں ہے جو اللہ کے یہاں معتبر ہے اور جس پر نجات کا وعدہ ہے مومن ہونے کے لیے محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانا بھی فرض ہے اس میں ان لوگوں کی تردید ہے جو وحدث ادیان کے قائل ہیں اور کہتے ہیں کہ بس اللہ کو مان لینا آخرت کی نجات کے لیے کافی ہے یہ ان لوگوں کی گمراہی ہے۔
Ayah 49:17معالم التنزیل اور روح المعانی میں لکھا ہے کہ جب آیت بالا نازل ہوئی تو وہ دیہاتی لوگ جنہوں نے اٰمَنَّا کہا تھا خدمت عالی میں حاضر ہوئے اور رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ واقعی ہم سچے دل سے اسلام لائے ہیں اس پر آیت کریمہ ﴿يَمُنُّوْنَ عَلَيْكَ اَنْ اَسْلَمُوْا ﴾ (الآیۃ) نازل ہوئی یعنی وہ آپ پر اس بات کا احسان دھرتے ہیں کہ انہوں نے اسلام قبول کرلیا۔
﴿قُلْ لَّا تَمُنُّوْا عَلَيَّ اِسْلَامَكُمْ ﴾ آپ فرما دیجیے کہ مجھ پر اپنے مسلمان ہونے کا احسان مت جتاؤ ﴿ بَلِ اللّٰهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ اَنْ هَدٰىكُمْ لِلْاِيْمَانِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ 0017﴾ (بلکہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی ہدایت دے دی اگر تم واقعی ایمان میں سچے ہو) جس کا اب دوبارہ دعویٰ کر رہے ہو تو تمہیں اللہ کا احسان ماننا لازم ہے اللہ تعالیٰ کو ظاہر اور باطن سب کا پتہ ہے تمہارے دین کا بھی علم ہے۔ اللہ کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ ہمارا دین اسلام ہے اگر سچے مسلمان ہو گے تو اللہ تعالیٰ کے علم میں مسلمان شمار ہوجاؤ گے پھر وہ اس کی جزا دیدے گا تمہیں اپنے دلوں کی تلاشی لینا چاہیے کہ واقعی مومن ہیں یا نہیں ؟
اس آیت میں جو ﴿ يَمُنُّوْنَ عَلَيْكَ اَنْ اَسْلَمُوْا ﴾ فرمایا ہے اس کے بارے میں یہ سوال ہوتا ہے کہ انہوں نے تو اٰمنَّا کہا تھا ان کی بات کو لفظ اَسْلَمُوْا سے تعبیر کرنے میں کیا حکمت ہے ؟ اس کے بارے میں ایک بات تو یہ سمجھ میں آئی کہ انہوں نے جو اٰمنا کہا تھا ان کا پہلی بار بھی دعوائے ایمان صحیح نہ تھا اور دوبارہ جو انہوں نے یوں کہا کہ ہم واقعی سچے دل سے اسلام لائے ہیں یہ بھی اوپر ہی کے دل سے تھا لفظ اَسْلَمُوْا نے اس بات کو ظاہر کردیا اور ایک بات اور سمجھ میں آئی وہ یہ کہ اس میں احسان دھرنے والوں کو تنبیہ ہے کہ جب سچے دل سے ایمان لانے والوں کے لیے اسلام قبول کرنے پر احسان دھرنا صحیح نہیں تو اوپر کے دل سے اسلام کا دعویٰ قبول کرنے والوں کو اللہ پر اور اس کے رسول ﷺ پر احسان دھرنا کیونکر صحیح ہوسکتا ہے۔
اس میں رہتی دنیا تک آنے والوں اور دین اسلام قبول کرنے کا دعویٰ کرنے والوں کو تنبیہ کردی گئی کہ جو شخص اسلام قبول کرتا ہے اگر سچے دل سے قبول کرے گا تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین اسلام کا ماننے والا فرد تسلیم کیا جائے گا اور اس کے ساتھ یہ بات بھی بتادی کہ جو شخص اسلام قبول کرتا ہے وہ اپنے بھلے کے لیے قبول کرتا ہے وہ مسلمانوں پر احسان نہ دھرے کہ میں مسلمان ہوگیا لہٰذا تم لوگ میرے لیے چندہ کرو اور روٹی رزق کا انتظام کرو، مسلمانوں کو چاہیے تو سہی کہ وہ اس کی مدد کریں لیکن اسے چاہے کہ مسلمانوں پر احسان نہ دھرے اور نہ ان سے کچھ طلب کرے خود کمائے كھائے آخر زمانہ کفر میں بھی تو کسب کرتا تھا۔
Ayah 49:18آخر میں فرمایا ﴿اِنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ غَيْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ 1ؕ﴾ (اور بیشک اللہ جانتا ہے آسمانوں اور زمین کے غیب کو) یعنی چھپی ہوئی باتوں اور چھپی ہوئی چیزوں کو وہ خوب جانتا ہے ﴿ وَ اللّٰهُ بَصِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ (رح) 0018﴾ (اور تمہارے سب کاموں کو دیکھنے والا ہے)
وھذا آخر تفسیر سورة الحجرات، والحمد للّٰہ الذی بعزتہ ونعمتہ تتم الصالحات وقد فرغت
منہ فی الیلة السابعة من شھر شعبان فی 1418 ھ والحمد للّٰہ اولًا واٰخرًا باطنًا وظاھرًا۔