48. Surah Al-Fath

الفتحThe Victory · 29 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 48:21

وَّ اُخْرٰى لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَیْهَا قَدْ اَحَاطَ اللّٰهُ بِهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرًا Open ayah 48:21 in the Quran reader

اور ایک فتح اور بھی ہے جو تمہارے قابو میں نہیں آئی خدا تعالیٰ اس کو احاطہ علمی میں لیے ہوئے ہے، اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے،

وَ يَهْدِيَكُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِيْمًا ھو الثقۃ بفضل اللّٰہ تعالیٰ والتوکل علیہ فی کل ما تاتون و تذرون ﴿وَّ اُخْرٰى لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَيْهَا قَدْ اَحَاط اللّٰهُ بِهَا ﴾ (اور ان کے علاوہ بھی فتوحات ہوں گی جن پر تم ابھی قادر نہیں ہوئے۔ ) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اس سے وہ فتوحات مراد ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے بعد مسلمانوں کو نصیب ہوئیں مثلاً فارس اور روم فتح ہوئے اور ان کے علاوہ بھی بہت سے علاقے اور ممالک ان کے قبضے میں آئے۔ حضرت حسن (رح) نے فرمایا کہ اس سے فتح مکہ مراد ہے اور حضرت عکرمہ (رح) کا قول ہے کہ اس سے فتح حنین مراد ہے اور حضرت مجاہد (رح) نے فرمایا کہ قیامت تک مسلمانوں کو جو بھی فتوحات نصیب ہوں گے وہ سب مراد ہیں یہ اقوال مفسر قرطبی (رح) نے لکھے ہیں۔ ﴿ لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَيْهَا﴾ ظاہری معنی تو یہ ہے کہ اس وقت تو تم کو ان پر قدرت حاصل نہیں ہوئی اور بعض حضرات نے یوں ترجمہ کیا ہے کہ لن تکونو ترجونھا کہ تمہیں ان کے فتح ہونے کی امید نہ تھی بعض حضرات نے اسی کا اردو ترجمہ یوں کیا ہے کہ وہ فتوحات تمہارے خواب و خیال میں بھی نہ تھیں۔ ﴿ قَدْ اَحَاط اللّٰهُ بِهَا ﴾ (اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے کہ تم انہیں فتح کرو گے اس نے مقدر فرما دیا ہے کہ ان پر تمہارا قبضہ ہوگا۔ ) ﴿ وَ كَان اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرًا 0021﴾ (اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے اللہ جب چاہے جسے چاہے جو ملک اور مملکت نصیب فرمائے۔ )
Ayah 48:22

وَ لَوْ قٰتَلَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوَلَّوُا الْاَدْبَارَ ثُمَّ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 48:22 in the Quran reader

اور اگر کافر لوگ تم سے جنگ کرتے تو پشت پھیر لیتے پھر نہ کوئی کارساز پاتے اور نہ کوئی مددگار،

اس کے بعد فرمایا ﴿ وَ لَوْ قٰتَلَكُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوَلَّوُا الْاَدْبَارَ ﴾ (اور اگر کفار تم سے جنگ کرتے تو پشت پھیر کر چلے جاتے) حضرت قتادہ ؓ کا قول ہے کہ اس سے کفار قریش مراد ہیں اور بعض حضرات نے فرمایا کہ بنی غطفان اور بنی اسد مراد ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے خیبر تشریف لے جانے کے بعد مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا۔ ﴿ ثُمَّ لَا يَجِدُوْنَ وَلِيًّا وَّ لَا نَصِيْرًا 0022﴾ (پھر وہ کوئی اپنا دوست اور مددگار نہ پاتے۔ )
Ayah 48:23

سُنَّةَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ١ۖۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا Open ayah 48:23 in the Quran reader

یہ پہلے سے اللہ کا دستور رہا ہے اور اے مخاطب تو اس کے دستور میں تبدیلی نہ پائے گا۔

﴿سُنَّةَ اللّٰهِ الَّتِيْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ 1ۖۚ﴾ (یہ پہلے سے اللہ کی عادت رہی ہے کہ کارخیر کے ساتھ انجام حضرات انبیاء کرام کے حق میں رہا ہے اپنے اولیاء کی اس نے مدد فرمائی ہے اور دشمنوں کو مغلوب کیا ہے) ﴿ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِيْلًا 0023﴾ (اور تم اللہ کی عادت میں تبدیلی نہ پاؤ گے) صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ آیت کا یہ مطلب معلوم ہوتا ہے کہ اچھا انجام ہمیشہ حضرات انبیاء (علیہ السلام) کے حق میں ہی ہوا یہ مطلب نہیں ہے کہ جب کبھی بھی کافروں سے قتال ہوا تو کافروں پر غلبہ ہوا ہو، ولعل المراد ان سنة تعالیٰ ان تکون العاقبة للانبیاء علیھم السلام لا انھم کلما قاتلوا الکفار غلبوھم وھزموھم 1 ھ (شاید مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ انجام کار فتح انبیاء (علیہ السلام) کی ہوتی ہے یہ مطلب نہیں کہ جب بھی کفار سے لڑائی ہو تو یہ ان پر غالب آجائیں اور انہیں شکست دیدیں۔ )
Ayah 48:24

وَ هُوَ الَّذِیْ كَفَّ اَیْدِیَهُمْ عَنْكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًا Open ayah 48:24 in the Quran reader

اور اللہ وہ ہے جس نے ان کے ہاتھوں کو تم سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے مکہ میں ہوتے ہوئے روک دیا اس کے بعد کہ تمہیں ان پر قابو دے دیا تھا اور اللہ تمہارے کاموں کو دیکھنے والا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے مومنوں اور کافروں کو ایک دوسرے پر حملہ کرنے سے باز رکھا علامہ قرطبی نے اپنی تفسیر میں آیت بالا کا سبب نزول بتاتے ہوئے متعدد اقوال لکھے ہیں صحیح مسلم میں ایک واقعہ حضرت سلمہ بن اکوع ؓ سے اور دوسرا حضرت انس ؓ سے مروی ہے اور دونوں کو آیت بالا کا سبب نزول بتایا ہے حضرت سلمہ بن اکوع ؓ نے بیان کیا کہ جب ہمارے اور اہل مکہ کے درمیان صلح ہوگئی تو میں ایک درخت کے نیچے کانٹے ہٹا کر لیٹ گیا اس وقت اہل مکہ میں سے چار مشرکین وہاں پہنچ گئے جو رسول اللہ ﷺ کے بارے میں ناشائستہ کلمہ کہنے لگے مجھے برا لگا اور میں جگہ چھوڑ کر دوسرے درخت کے نیچے چلا گیا ان لوگوں نے اپنے ہتھیار لٹکا دئیے اور لیٹ گئے میں نے اپنی تلوار لی اور ان چاروں آدمیوں کے ہتھیاروں پر قبضہ کرلیا اور ان سے کہا کہ دیکھو قسم ہے اس ذات کی جس نے محمد ﷺ کو عزت بخشی ہے اگر تم میں سے کوئی شخص سر اٹھائے گا اس کا سر تن سے جدا کردوں گا اس کے بعد میں انہیں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے آیا اور میرے چچا ستر آدمی قید کرکے لائے جن کا نام عامر تھا اس کے گرفتار کردہ لوگوں میں مکرز نامی بھی ایک شخص تھا اس کے ساتھ اور افراد بھی تھے جو مشرکین میں سے تھے جن کی تعداد ستر افراد تھی آپ نے ان کو معاف کردیا اور اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ ﴿وَ هُوَ الَّذِيْ كَفَّ اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَ اَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ ﴾ (الآیۃ) نازل فرمائی۔ (صحیح مسلم) اور حضرت انس ؓ سے یوں روایت ہے کہ اہل مکہ میں سے اسی 80 آدمی جبل تنعیم سے اتر کر آگئے یہ لوگ ہتھیار پہنے ہوئے تھے ان کا ارادہ یہ تھا کہ غفلت کا موقع پاکر رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ پر حملہ کردیں آپ ﷺ نے ان لوگوں کو پکڑ لیا وہ لوگ قابو میں آگئے تو اپنی جانوں کو سپرد کردیا آپ نے ان کو زندہ چھوڑ دیا اس پر اللہ تعالیٰ شانہٗ نے آیت مذکوہ بالا نازل فرمائی (صحیح مسلم 116 ج 2) مفسر ابن کثیر ؓ لکھتے ہیں کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ شانہٗ نے اپنے مومن بندوں پر احسان جتایا ہے کہ اس نے مشرکین کے ہاتھوں سے تمہیں محفوظ رکھا اور ان کی طرف سے کوئی تکلیف نہ پہنچنے دی اور مومنین کے ہاتھوں کو بھی مشرکین تک نہ پہنچنے دیا۔ اس کے بعد آیت کا ترجمہ دوبارہ پڑھ لیجیے اللہ تعالیٰ کی حکمتیں ہیں کہ کس کی کس طرح حفاظت فرمائے اور مخالف کے قبضہ ہونے کے بعد اس کے حملہ سے کس طرح بچائے اور قلوب کو جس طرح چاہے پلٹ دے رسول اللہ ﷺ نے جن لوگوں سے نرمی کا معاملہ فرمایا اور معاف کردیا عموماً وہ لوگ بعد میں مسلمان ہوگئے۔
Ayah 48:25

هُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ الْهَدْیَ مَعْكُوْفًا اَنْ یَّبْلُغَ مَحِلَّهٗ١ؕ وَ لَوْ لَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُوْنَ وَ نِسَآءٌ مُّؤْمِنٰتٌ لَّمْ تَعْلَمُوْهُمْ اَنْ تَطَئُوْهُمْ فَتُصِیْبَكُمْ مِّنْهُمْ مَّعَرَّةٌۢ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۚ لِیُدْخِلَ اللّٰهُ فِیْ رَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ لَوْ تَزَیَّلُوْا لَعَذَّبْنَا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 48:25 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تم کو مسجد حرام سے روکا اور قربانی کے جانور کو روک دیا جو رکا ہوا رہ گیا اس کے موقع میں پہنچنے سے روکا، اور اگر بہت سے مسلمان مرد اور بہت سی مسلمان عورتیں جن کی تم کو خبر نہ تھی یعنی ان کے پس جانے کا احتمال نہ ہوتا جس پر ان کی وجہ سے تم کو بیخبر ی میں ضرر پہنچ جاتا تو سب قصہ طے کردیا جاتا، تاکہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت میں جس کو چاہے داخل کرے۔ یہ مسلمان مرد و عورت جدا ہوجاتے تو ہم ان کو درد ناک عذاب دیتے جو اہل مکہ میں سے کافر تھے۔

کافروں نے مسلمانوں کو مسجد حرام میں داخل ہونے سے روکا ان پر حمیت جاہلیہ سوار ہوگئی، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر سکینہ نازل فرمائی اور انہیں تقویٰ کی بات پر جما دیا ! ان آیات میں چند امور بیان فرمائے اول مشرکین کی مذمت فرمائی کہ انہوں نے مسلمانوں کو مسجد حرام تک پہنچنے سے روک دیا اور وہ جو قربانی کے جانور ساتھ لائے تھے ان کو ان کے موقع ذبح میں نہ جانے دیا (ان کی حرکتوں کا تقاضا یہ تھا کہ ان سے جنگ کی جاتی اور انہیں سزا دی جاتی۔ ) تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے کہ ہدی کے جانور جو رسول اللہ ﷺ اپنے ساتھ لے گئے تھے ان کی تعداد ستر تھی عمرہ کرکے انہیں مکہ معظمہ میں ذبح کیا جانا تھا قریش آڑے آئے لہٰذا حدیبیہ ہی میں حلق کرنا پڑا اور ہدی کے جانور وہیں ذبح فرما دئیے دوسرے یہ فرمایا کہ مکہ معظمہ میں ایسے مومن مرد اور مومن عورتیں موجود تھیں جن کا تمہیں علم نہ تھا ہوسکتا تھا کہ تم بےعلمی میں اپنے قدموں سے انہیں روند ڈالتے اور اس کی وجہ سے تم کو ضرر پہنچ جاتا اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ضعیف مومنین اور مومنات کی وجہ سے صلح کی صورت پیدا فرما دی اگرچہ قریش مکہ کی حرکت ایسی تھی کہ ان سے جنگ کی جاتی۔ صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ لو لا کا جواب محذوف ہے۔ و جواب لو لا محذوف لدلالة الکلام علیہ، والمعنی علی ما سمعت اولا لو لا کراھة ان تھلکو مومنین بین ظھر انی الکفار جاھلین بھم فیصیبکم باھلاکھم مکروہ لما کف ایدیکم عنھم، وحاصلہ انہ تعالیٰ ولولم یکف ایدیکم عنھم لانجر الامرالیٰ اھلاک مومنین بین ظھرانیھم فیصیبکم من ذلک مکروہ وھو عزوجل یکرہ ذٰلك۔ (لَوْلاَ کا جواب محذوف ہے۔ اس بناء پر معنی یہ ہے کہ اگر یہ خدشہ نہ ہوتا کہ انجانے میں تم کافروں کے درمیان مومن لوگوں کو قتل کرو گے اور ان کی ہلاکت سے تمہیں تکلیف ہوگی تو ان سے تمہارے ہاتھ نہ روکے جاتے حاصل یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان سے تمہارے ہاتھ نہ روکتا تو معاملہ کا نتیجہ یہ ہوتا کہ کافروں کے درمیان رہنے والے مومن ہلاک ہوتے اور اس سے تمہیں تکلیف ہوتی اور اللہ تعالیٰ بھی اس بات کو ناپسند کرتے ہیں۔ ) ﴿ فَتُصِيْبَكُمْ مِّنْهُمْ مَّعَرَّةٌۢ بِغَيْرِ عِلْمٍ ﴾ جو فرمایا اس میں لفظ مَعَرَّةُ وارد ہوا ہے اس کا ترجمہ ضرر اور مکروہ اور مشقت اور گناہ کیا گیا ہے بعض حضرات نے اس کی تشریح کرتے ہوئے یوں فرمایا ہے کہ اگر جنگ ہوتی تو مومن مرد اور عورتیں اس کی زد میں آجاتے تو اہل ایمان کو رنج پہنچتا اور دکھ ہوتا اور کافروں کو یوں کہنے کا موقعہ مل جاتا کہ دیکھو مسلمانوں نے اپنے اہل دین ہی کو قتل کردیا۔ بعض حضرات نے یہ مطلب بتایا ہے کہ ان کے قتل کرنے سے گناہ میں مبتلا ہوجاتے اور بعض حضرات کا قول ہے کہ دیت واجب ہوجاتی لیکن صاحب روح المعانی نے ابن عطیہ سے نقل کیا ہے کہ یہ دونوں ضعیف ہیں طبری کا قول ہے کہ اس سے قتل خطا کا کفارہ مراد ہے صاحب روح المعانی نے اس پر کلام کیا ہے اور بعض حضرات کا تعصب نقل کیا ہے۔ (فراجعہ ان شئت) تیسرے ﴿ لِيُدْخِلَ اللّٰهُ فِيْ رَحْمَتِهٖ مَنْ يَّشَآءُ ﴾ فرمایا یعنی اللہ شانہ نے اہل ایمان کو جنگ کرنے سے بچا دیا تاکہ وہ اس کے ذریعہ جنگ کے بغیر جسے چاہے اپنی رحمت میں داخل فرما دے یعنی اس نے اہل ایمان کو جنگ سے بھی بچالیا اور انہیں اپنی رحمت میں بھی داخل فرما دیا جو ضعیف مومن اور مومنات مکہ میں تھے ان کے پرامن رہنے کی بھی صورت نکل آئی اور مشرکین کی طرف سے جو انہیں ضعیف سمجھ کر تکلیفیں دی جاتی تھیں ان سے بھی چھٹکارہ حاصل ہوگیا اور پوری طرح عبادت کرنے لگے اور مشرکین بھی مراد ہیں کیونکہ انہیں سوچنے اور سمجھنے اور اسلام قبول کرنے کا موقعہ دے دیا گیا۔ (راجع روح المعانی ص 115 ج 26) چوتھے یہ فرمایا ﴿ لَوْ تَزَيَّلُوْا لَعَذَّبْنَا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِيْمًا 0025﴾ اگر وہ مومنین اور مومنات کافروں سے علیحدہ ہوجاتے جو مکہ معظمہ میں موجود تھے اور ضعف کی وجہ سے ہجرت نہیں کرسکتے تھے تو ہم کافروں کو درد ناک عذاب دے دیتے یعنی کافر مقتول ہوتے اور قیدی بنالیے جاتے۔
Ayah 48:26

اِذْ جَعَلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْحَمِیَّةَ حَمِیَّةَ الْجَاهِلِیَّةِ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوٰى وَ كَانُوْۤا اَحَقَّ بِهَا وَ اَهْلَهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠ Open ayah 48:26 in the Quran reader

جب کہ ان کافروں نے اپنے دلوں میں عار کو جگہ دی اور عار بھی جاہلیت کی تھی سو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اور مومنین کو اپنی طرف سے تحمل عطا فرمایا، اور اللہ تعالیٰ نے ان کو تقویٰ کی بات پر جمائے رکھا اور وہ اس کے زیادہ مستحق ہیں اور اس کے اہل ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔

پھر فرمایا ﴿ اِذْ جَعَلَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ﴾ (الآیۃ) کہ ان لوگوں نے تمہیں ایسے وقت میں روکا جبکہ اپنے دلوں میں انہوں نے حمیت کو جگہ دے دی یہ جاہلیت کی حمیت تھی جس کسی چیز کو انسان اپنے لیے عار اور عجیب سمجھے پھر اس کی بنیاد پر اپنی جان کو بچانے کے لیے کوئی حرکت یا کوئی بات کرے اسے حمیت کہا جاتا ہے جب رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ ؓ کے ساتھ عمرہ کرنے کی نیت سے روانہ ہوئے اور قریش مکہ کو اس کا پتہ چل گیا تو ان پر جہالت سوار ہوگئی اور حمیت جاہلیہ کو سامنے رکھ کر انہوں نے طے کرلیا آپ کو عمرہ کرنے نہیں دیں گے ورنہ عرب میں یہ مشہور ہوجائے گا کہ محمد ﷺ مکہ والوں کی رضا مندی کے بغیر زبردستی مکہ مکرمہ میں داخل ہوگئے اس طرح سے اہل عرب ہمیں طعنہ دیں گے ان لوگوں نے حمیت جاہلیہ کی وجہ سے صلح نامہ میں بسم اللہ الرحمن الرحیم نہ لکھنے دیا اور محمد رسول اللہ ﷺ جو لکھ دیا تھا اس کی جگہ محمد بن عبد اللہ لکھونے کی ضد کی۔ ﴿فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِيْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ ﴾ سو اللہ نے اپنے رسول اور مومنین پر اطمینان نازل فرما دیا اور انہوں نے لڑائی لڑنے پر اور اسی سال عمرہ کرنے پر ضد نہ کی۔ ﴿ وَ اَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوٰى وَ كَانُوْۤا اَحَقَّ بِهَا وَ اَهْلَهَا 1ؕ﴾ اور اللہ نے تقویٰ کا کلمہ ان کے ساتھ لازم فرما دیا ﴿ وَ كَانُوْۤا اَحَقَّ بِهَا وَ اَهْلَهَا 1ؕ﴾ اور یہ لوگ کلمہ تقویٰ کے زیادہ حق دار تھے اور اس کے اہل تھے ﴿وَ كَان اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمًا (رح) 0026﴾ اور اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ کلمۃ التقویٰ سے کیا مراد ہے ؟ اس کے بارے میں امام ترمذی نے بروایۃ ابی بن کعب ؓ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ اس سے کلمہ لا الہ الا اللہ مراد ہے اس کو تقویٰ کا کلمہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ شرک سے کفر سے اور گناہوں سے بچاتا ہے مطلب یہ ہے کہ ان حضرات نے اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی توفیق سے کلمہ کو اپنالیا اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لیے اسے ان کا ساتھی بنا دیا اور اب یہ اس کے ذریعہ اللہ کو بھی یاد کرتے ہیں اور اس کے تقاضوں کو بھی پورا کرتے ہیں اور یہ جو فرمایا کہ یہ لوگ اس کلمہ کے حقدار تھے اور اہل تھے اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ تھا کہ یہ لوگ کلمہ قبول کریں گے اور اس کے تقاضوں پر چلیں گے اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی سے ان کا مزاج قبول حق کا بنا دیا تھا اسی مزاج اور طبیعت کے مطابق وہ اسی کے طرف آگے بڑھے ﴿وَ كَان اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمًا (رح) 0026﴾ (اور اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے) وہ اپنی حکمت کے مطابق جسے چاہتا ہے اہل بناتا ہے اور پھر اہلیت کے مطابق محض اپنے فضل سے خیر اور رشد و ہدایت پر جما کر رکھتا ہے۔
Ayah 48:27

لَقَدْ صَدَقَ اللّٰهُ رَسُوْلَهُ الرُّءْیَا بِالْحَقِّ١ۚ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَ١ۙ مُحَلِّقِیْنَ رُءُوْسَكُمْ وَ مُقَصِّرِیْنَ١ۙ لَا تَخَافُوْنَ١ؕ فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوْا فَجَعَلَ مِنْ دُوْنِ ذٰلِكَ فَتْحًا قَرِیْبًا Open ayah 48:27 in the Quran reader

بیشک اللہ نے اپنے رسول کو سچا خواب دیکھایا جو واقع کے مطابق ہے، انشاء اللہ تم ضرور ضرور مسجد حرام میں امن وامان کے ساتھ داخل ہوگے اپنے سروں کو مونڈنے والے ہوگے اور اپنے بالوں کو کتروانے والے ہوگے تمہیں کوئی خوف نہیں ہوگا، سو اللہ نے جان لیا جو تم نے نہیں جانا، سو اس سے پہلے عنقریب ہی ایک فتح نصیب فرما دی،

اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو سچا خواب دکھایا اس نے آپ ﷺ کو ہدایت اور حق کے ساتھ بھیجا مفسرین نے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو حدیبیہ والے سفر میں روانہ ہونے سے پہلے ہی مدینہ منورہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خواب دکھا دیا گیا تھا کہ آپ اپنے صحابہ کے ساتھ امن وامان سے مسجد حرام میں داخل ہوں گے اور وہاں کچھ لوگ سر مونڈیں گے اور کچھ لوگ بال کتروائیں گے آپ نے یہ خواب صحابہ کو بتادیا تھا خواب سن کر سب بہت خوش ہوئے اور اس امید پر روانہ ہوگئے کہ اس سال مکہ معظمہ میں داخل ہوں گے اور عمرہ نصیب ہوگا جب حدیبیہ میں پہنچے اور مشرکین مکہ آڑے آگئے جس کی وجہ سے صلح کرلی گئی اور مکہ معظمہ میں داخل ہوئے بغیر واپس آگئے تو رسول اللہ ﷺ کے صلح کرنے کو حق جانتے اور مانتے ہوئے طبعی طور پر اس بات سے صحابہ کو رنج ہو رہا تھا کہ ہم مکہ مکرمہ میں داخل نہ ہوسکے بلکہ صلح کے وقت ہی حضرت عمر ؓ نے سوال کرلیا تھا کہ آپ نے تو یہ خبر دی تھی کہ مکہ معظمہ میں داخل ہوں گے یہ تو اس کے خلاف ہے رسول اللہ ﷺ نے اسی وقت اس کا جواب دے دیا تھا اس جواب سے حضرت عمر ؓ مطمئن ہوگئے تھے۔ (كما فی صحیح خطابت نفسہ ص 106 ج 2) اطمینان عقلی کے ہوتے ہوئے طبعی طور پر جو رنج تھا اس کو دور فرمانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے آیت بالا نازل فرمائی جس میں یہ بتادیا کہ اللہ تعالیٰ نے جو خواب دکھایا تھا تم انشاء اللہ مسجد حرام میں امن کے ساتھ داخل ہوگے وہاں کوئی بال منڈوائے گا اور کوئی بال کتروائے گا اور کسی کو کسی کا ڈر نہیں ہوگا یہ خواب اللہ تعالیٰ نے صحیح دکھایا تھا۔ واقعہ کے مطابق تھا جس کا آئندہ سال مظاہرہ ہوا اور چونکہ خواب میں اسی سال داخل ہونے کی خبر نہیں دی گئی تھی اس لیے خواب کے سچا ہونے پر کوئی اثر نہیں پڑا اس میں جو لفظ انشاء اللہ فرمایا ہے یہ شک کے لیے نہیں ہے بلکہ تحقیق اور تاکید کے لیے ہے۔ اور ابو عبیدہ کا قول ہے کہ ان یہاں اذ کے معنی میں ہے جس کا معنی یہ ہے کہ جب اللہ چاہے داخل ہوجاؤ گے۔ اور یہ جو فرمایا ﴿ فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوْا فَجَعَلَ مِنْ دُوْنِ ذٰلِكَ فَتْحًا قَرِيْبًا 0027﴾ (سو اللہ نے جان لیا جو تم نے نہیں جانا) اس کے بارے میں مفسرین نے لکھا ہے کہ مکہ معظمہ کے داخل ہونے میں جو تاخیر کی گئی اس میں اللہ تعالیٰ کی حکمت تھی جس کا تمہیں علم نہ تھا۔ بعض حضرات نے یہ فرمایا کہ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر اسی سال عمرہ کرنے کی ضد کرتے اور مشرکین مکہ سے قتل و قتال کیا جاتا اور صلح نہ ہوتی تو دو ڈھائی مہینے بعد جو خیبر فتح ہوا اس کے لیے سفر کرنا مشکل ہوجاتا اور اگر سفر میں چلے جاتے تو یہ خطرہ رہتا کہ اہل مکہ کہیں پیچھے سے حملہ نہ کردیں پس صلح کرنے میں اور دخول مکہ کی تاخیر میں جو فائدہ پہنچا اس کا تمہیں علم نہیں تھا ﴿ فَجَعَلَ مِنْ دُوْنِ ذٰلِكَ فَتْحًا قَرِيْبًا 0027﴾ (سو اللہ نے مکہ معظمہ کے داخل ہونے سے پہلے عنقریب ہی ایک فتح دے دی) یعنی خیبر کو فتح فرما دیا اور وہاں کے اموال غنیمت شرکاء حدیبیہ کو مل گئے۔
Ayah 48:28

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًاؕ Open ayah 48:28 in the Quran reader

اللہ وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا کہ اسے تمام دینوں پر غالب کردے، اور اللہ کافی گواہ ہے۔

اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کی بعثت کا تذکرہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ہدایت کے ساتھ اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ وہ اس دین کو دوسرے تمام دینوں پر غالب کردے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ پورا فرما دیا اس مضمون کی آیت سورة التوبہ میں بھی گزر چکی ہے وہاں تفسیر اور تشریح دیکھ لی جائے۔ ﴿وَ كَفٰى باللّٰهِ شَهِيْدًاؕ0028﴾ (اور محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت پر اللہ تعالیٰ کا گواہ ہونا کافی ہے) مشرکین نے صلح نامہ میں جو ھٰذا ما صالح علیہ محمد رسول اللّٰہ لکھنے سے انحراف کیا تو اس کی وجہ سے آپ کی نبوت و رسالت کے بارے میں کوئی فرق نہیں آتا۔ (تفسیر قرطبی 292 ج 16)
Ayah 48:29

مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا١٘ سِیْمَاهُمْ فِیْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ١ؕ ذٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ١ۛۖۚ وَ مَثَلُهُمْ فِی الْاِنْجِیْلِ١ۛ۫ۚ كَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْئَهٗ فَاٰزَرَهٗ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوٰى عَلٰى سُوْقِهٖ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ١ؕ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 48:29 in the Quran reader

محمد اللہ کے رسول ہیں، اور جو لوگ آپ کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر سخت ہیں، آپس میں مہربان ہیں، اے مخاطب تو انہیں اس حال میں دیکھے گا کہ وہ کبھی رکوع میں ہیں، کبھی سجود میں ہیں، وہ اللہ کے فضل اور رضا مندی کو تلاش کرتے ہیں، ان کی شان یہ ہے کہ ان کے چہروں میں سجدوں کے نشان ہیں، ان کی یہ مثال توریت میں ہے، اور انجیل میں ان کا یہ وصف ہے کہ جیسی کھیتی ہو اس نے اپنی سوئی نکالی پھر اس نے اسے قوی کیا پھر وہ کھیتی موٹی ہوگئی پھر اپنے تنے پر سیدھی کھڑی ہوگئی جو کسانوں کو بھلی معلوم ہونے لگی، تاکہ اللہ ان کے ذریعے کافروں کے دلوں کو جلائے، اللہ نے ان لوگوں سے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ فرمایا ہے۔

حضرات صحابہ کرام ؓ کی فضیلت اور منقبت اس سورت میں جگہ جگہ صحابہ کرام ؓ کی تعریف بیان فرمائی ہے پھر یہاں سورت کے ختم پر ان کی مزید توصیف و تعریف فرمائی ہے اولاً ارشاد فرمایا کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ آپ کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں ایک دوسرے پر رحم کرنے والے ہیں، اس مضمون کو سورة مائدہ میں ﴿اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الْكٰفِرِیْنَ﴾ میں بھی بیان کیا ہے، اہل ایمان کی یہ شان ہے کہ کافروں کے مقابلہ میں سخت رہیں اور آپس میں ایک دوسرے پر رحم کریں یہ صفت حضرات صحابہ کرام ؓ میں بہت زیادہ نمایاں تھی آج کل دیکھا جاتا ہے کہ مسلمان دشمنان اسلام کے آگے پیچھے جاتے ہیں اور ان سے ڈرتے ہیں ان سے نرمی کا برتاؤ کرتے ہیں اور مسلمانوں کے ساتھ سختی کرتے ہیں ان پر رحم نہیں کرتے دنیاوی محبت نے اس پر آمادہ کر رکھا ہے۔ حضرات صحابہ کرام ؓ کی دوسری صفت یہ بیان فرمائی ﴿ تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا ﴾ اے مخاطب تو ان کو اس حال میں دیکھے گا کہ کبھی رکوع کیے ہوئے کبھی سجدہ کیے ہوئے اس میں کثرت سے نماز پڑھنا اور نمازوں پر مداومت کرنا نوافل کا اہتمام کرنا راتوں کو نمازوں میں کھڑا ہونا سب داخل ہے۔ تیسری صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا ﴿يَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا ﴾ (یہ حضرات اللہ کا فضل اور اس کی رضا مندی تلاش کرتے ہیں) جو اعمال اختیار کرتے ہیں ان کے ذریعہ کوئی دنیاوی مقصد سامنے نہیں ہے ان کے اعمال اللہ کا فضل تلاش کرنے اور اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے ہیں۔ چوتھی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا ﴿سِيْمَاهُمْ فِيْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ ﴾ اس کا مطلب بتاتے ہوئے صاحب معالم التنزیل نے بہت سے اقوال نقل کیے ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے جو ظاہر لفظوں سے سمجھ میں آ رہا ہے کہ مٹی پر سجدہ کرنے کی وجہ سے ان کے ہاتھوں پر کچھ مٹی لگ جاتی ہے اور بعض حضرات نے یہ نقل کیا ہے کہ قیامت کے دن ان لوگوں کے چہرے روشن ہوں گے ان کے ذریعہ پہچانے جائیں گے کہ یہ لوگ نماز پڑھنے میں زیادہ مشغول رہتے تھے اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے اچھی عادت اور خصلت اور خشوع و تواضع مراد ہے جو لوگ کثرت سے نماز پڑھتے ہیں انہیں جو نماز کی برکات حاصل ہوتی ہیں ان میں سے ایک بہت بڑی صفت خوش خلقی اور تواضع بھی ہے ان کے چہروں سے ان کی یہ صفت واضح ہوجاتی ہے۔ پھر فرمایا ﴿ ذٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ ﴾ (ان کی مذکورہ صفت توریت میں بھی بیان کی گئی ہے) پھر انجیل میں جو ان کی صفت بیان کی گئی اس کو بیان فرمایا ارشاد ہے ﴿ وَ مَثَلُهُمْ فِي الْاِنْجِيْلِ 1ۛ۫ۚ كَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْـَٔهٗ ﴾ (الیٰ اٰخرہ) کہ انجیل میں ان لوگوں کی مثال یہ ہے کہ جیسے کسان نے نرم زمین میں بیج ڈالا اس زمین سے کھیتی کی سوئی نکلی یعنی ہلکا بہت پتلا تنا ظاہر ہوا، پھر یہ آگے بڑھا تو اس میں قوت آگئی پھر اور آگے بڑھا تو موٹا ہوگیا ان حالتوں سے گزر کر اب وہ ٹھیک طریقے سے اپنی پنڈلی پر اچھی طرح کھڑا ہوگیا اب یہ ہرا بھرا بھی ہے اندر سے نکل کر بڑھ بھی چکا ہے اور اس کا تنا اپنی جڑ پر کھڑا ہے کسان لوگ اسے دیکھ دیکھ کر خوش ہو رہے ہیں اس مثال میں یہ بتادیا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے صحابہ اولاً تھوڑے سے ہوں گے پھر بڑھتے رہیں گے اور کثیر ہوجائیں گے اور مجموعی حیثیت سے وہ ایک بڑی قوت بن جائیں گے چناچہ ایسا ہی ہوا حضرات صحابہ کرام ؓ پہلے تھوڑے سے تھے پھر بڑھتے رہے بڑھتے بڑھتے ہزاروں ہوگئے زمانہ نبوت ہی میں ایک لاکھ سے زیادہ ان کی تعداد ہوگئی پھر انہوں نے دین اسلام کو خوب پھیلایا قیصر و کسریٰ کے تخت الٹ دئیے ان کے مقابلہ میں کوئی جماعت جم نہیں سکتی تھی۔ ﴿لِيَغِيْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کو بڑھایا قوت و طاقت سے نوازا تاکہ ان کے ذریعہ کافروں کے دلوں کو جلا دے کافروں کو یہ گوارا نہیں تھا اور نہ اب گوارا ہے کہ اسلام اور مسلمان پھیلیں پھولیں لیکن اللہ تعالیٰ نے اسلام کو بھی بڑھا دیا اور مسلمانوں کو بھی قوت دے دی جیسا کہ سورة الصف میں فرمایا ﴿يُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّطْفِـُٔوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ يَاْبَى اللّٰهُ اِلَّاۤ اَنْ يُّتِمَّ نُوْرَهٗ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ 0032 هُوَ الَّذِيْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بالْهُدٰى وَ دِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهٖ 1ۙ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ 0033﴾ (یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے مونہوں سے بجھا دیں اور اللہ اپنے نور کو پورا کرنے والا ہے اگرچہ کافروں کو ناگوار ہو اللہ وہی ہے جس نے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے سب پر غالب فرما دے اگرچہ مشرکوں کو ناگوار ہو) یہ دوسری آیت ﴿ هُوَ الَّذِيْۤ اَرْسَلَ ﴾ سورة توبہ اور سورة فتح میں بھی ہے جس کا ترجمہ گزر چکا ہے۔ ﴿وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِيْمًا (رح) 0029﴾ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا کہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے ان کی مغفرت ہوگی اور انہیں اجر عظیم دیا جائے گا) یہ بات بطور قاعدہ کلیہ بیان فرمائی ہے لفظوں کا عموم حضرات صحابہ کو بھی شامل ہے اور ان کے بعد آنے والے اعمال صالحہ والے مومنین کو بھی۔ فائدہ : سورة الفتح میں حضرات صحابہ ؓ کی کئی جگہ تعریف فرمائی ہے اول فرمایا ﴿ هُوَ الَّذِيْۤ اَنْزَلَ السَّكِيْنَةَ فِيْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِيْنَ لِيَزْدَادُوْۤا اِيْمَانًا مَّعَ اِيْمَانِهِمْ ﴾ پھر فرمایا ﴿ لِّيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا وَ يُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ 1ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عِنْدَ اللّٰهِ فَوْزًا عَظِيْمًاۙ005﴾ پھر فرمایا ﴿ اِنَّ الَّذِيْنَ يُبَايِعُوْنَكَ اِنَّمَا يُبَايِعُوْنَ اللّٰهَ ﴾ پھر فرمایا ﴿ لَقَدْ رَضِيَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ يُبَايِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِيْ قُلُوْبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِيْنَةَ عَلَيْهِمْ وَ اَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيْبًاۙ0018﴾ پھر فرمایا ﴿ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِيْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ وَ اَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوٰى وَ كَانُوْۤا اَحَقَّ بِهَا وَ اَهْلَهَا ﴾پھر فرمایا ﴿ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ 1ؕ وَ الَّذِيْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيْنَهُمْ ﴾ (الآیۃ) پھر فرمایا لِيَغِيْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ ﴾ پھر فرمایا ﴿ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِيْمًا (رح) 0029﴾ اور سورة توبہ میں فرمایا ﴿ وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِيْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍ ﴾ (الآیۃ) قرآن مجید کی ان تصریحات کو دیکھ لو اور روافض کی دشمنی کو دیکھ لو جو دو تین صحابہ کے علاوہ باقی سب کو کافر کہتے ہیں اس فرقہ کی بنیاد ہی بغض صحابہ ؓ پر ہے جو لوگ حضرات صحابہ کو کافر کہتے ہیں وہ قرآنی تصریحات کے منکر ہونے کی وجہ سے خود کافر ہیں قرآن کے جھٹلانے کی وجہ سے جب ان لوگوں پر کفر عائد ہوگیا تو کہنے لگے یہ قرآن ہی وہ نہیں ہے جو محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا تھا وہ قرآن امام مہدی کے پاس ہے یہ کہنا خود کفر ہے اور قرآن نے بھی ان لوگوں کو کافر بتادیا جن کے دل میں صحابہ کی طرف سے بغض ہوگا ﴿ لِيَغِيْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ ﴾ کو بار بار پڑھ لیا جائے حضرت امام مالک (رح) کے سامنے کسی نے حضرات صحابہ کی شان میں کچھ کہہ دیا اس پر ارشاد فرمایا کہ جس کسی کے دل میں کسی بھی صحابہ کی طرف سے بغض ہوگا آیت کریمہ کا عموم اس کو شامل ہوگا یعنی وہ آیت کا مصداق ہوگا (یعنی اس پر کفر عائد ہوگا۔ ) (تفسیر قرطبی) بعض شیعوں نے نکتہ نکالا ہے کہ ﴿ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ﴾ کے ساتھ جو ﴿مِنْھُمْ﴾ کا اضافہ فرمایا ہے اس میں مِنْ تبعیضیہ ہے یہ ان لوگوں کی جہالت ہے حضرات صحابہ کے بغض میں یہ بات کہہ رہے ہیں اور مزید کفر کی چادر میں لپیٹ رہے ہیں سیاق کلام سے واضح ہو رہا ہے کہ من بیانیہ ہے۔ اگر بالفرض مِنْ تبعیضیہ ہو تو کیا آیات قرآنیہ سے دو تین صحابہ کا ایمان ثابت ہوتا ہے جن کے ایمان کے روافض قائل ہیں، اللہ تعالیٰ نے جو ﴿ لَقَدْ رَضِيَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ يُبَايِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ ﴾ فرمایا ہے کیا اس سے ان چودہ پندرہ سو صحابہ کا ایمان اور وعدہ رضوان ثابت نہیں ہوتا جنہوں نے حدیبیہ میں رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی جن میں حضرت ابوبکر ؓ اور عمر ؓ بھی تھے جن کے بغض میں شیعہ جل کر خاک ہوئے جا رہے ہیں سورة توبہ میں جو مہاجرین اور انصار اور ان کے متبعین (اہل السنۃ والجماعۃ) کی رضا مندی کا اعلان فرمایا ہے اس میں تو کہیں بھی منھم نہیں ہے یاد رہے کہ حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ بھی سابقین اولین میں سے تھے اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہے اور شیعہ اللہ تعالیٰ سے راضی نہیں جو حضرات انصار اور مہاجرین سے راضی ہے جو شخص قصداً قرآن کو جھٹلائے ایمان سے منہ موڑے اس سے کیا بات کی جاسکتی ہے شیعوں کا عقیدہ ہے حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ مومن نہیں تھے شیعوں کو خود اپنے ایمان کی فکر نہیں ہے کہ بغض صحابہ انہیں کچھ سوچنے نہیں دیتا عامۃ المسلمین سے ہمارا خطاب ہے ان آیات میں غور کریں تاکہ شیعوں کے کفر میں کوئی شخص شک نہ کرے۔ حضرت عبد اللہ بن مغفل ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میرے صحابہ ؓ کے بارے میں اللہ سے ڈرو (دو بار فرمایا) میرے بعد تم انہیں نشانہ نہیں بنالینا، سو جس نے ان سے محبت کی تو میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی، اور جس نے ان سے بغض رکھا مجھ سے بغض رکھنے کی وجہ سے ان سے بغض رکھا، اور جس نے انہیں اذیت دی اس مجھے اذیت دی، اور جس نے مجھے اذیت دی اس نے اللہ کو اذیت دی، اور جس نے اللہ کو اذیت دی قریب ہے کہ وہ اسے پکڑ لے گا۔ (رواہ الترمذی کما فی المشکوٰۃ 554) حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو میرے صحابہ کو برا کہہ رہے ہیں تو کہہ دو کہ تم پر اللہ کی لعنت ہے تمہارے شر کی وجہ سے۔ (ایضاً ) حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میرے صحابہ کو برا نہ کہو کیونکہ (ان کا مرتبہ اتنا بڑا ہے کہ) تم میں سے کوئی شخص اگر احد (پہاڑ) کے برابر سونا خرچ کردے تو یہ (ثواب کے اعتبار سے) ان میں سے کسی کے ایک مد یا نصف مد کو بھی نہیں پہنچے گا۔ (كذا فی المشکوٰۃ 553 عن البخاری و مسلم) اس زمانہ میں غلہ ناپنے کا ایک برتن ہوتا تھا اسے مد کہتے تھے (نئے اوزان سے ایک مد کا وزن سات سو گرام کے لگ بھگ بنتا ہے۔ 12) اللہ تعالیٰ شانہٗ ، روافض کے شر سے مسلمانوں کو محفوظ رکھے۔ وھو الھادی الی سبیل الرشاد، ھذا آخر تفسیر سورة الفتح، الحمد للّٰہ الذی فتح علینا اسرار القرآن وجعلنا ممن یدخل الجنان والصلوٰة والسلام علی خیر رسلہ محمد سید ولد عدنان، وعلی آلہ وصحبہ ما طلع النیران وتعاقب الملوان۔