47. Surah Muhammad

محمدMuhammad · 38 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 47:36

اِنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ١ؕ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا یُؤْتِكُمْ اُجُوْرَكُمْ وَ لَا یَسْئَلْكُمْ اَمْوَالَكُمْ Open ayah 47:36 in the Quran reader

دنیا والی زندگی بس لہو و لعب ہے اور اگر تم ایمان پر جمے رہے اور تم نے تقویٰ اختیار کیا تو وہ تمہیں تمہارے اجور عطاء فرما دے گا اور وہ تم سے تمہارے مال طلب نہیں فرماتا،

دنیاوی زندگی لہو و لعب ہے، کنجوسی کا وبال بخل کرنے والے پر ہی ہے، اللہ غنی ہے اور تم فقراء ہو ! گزشتہ آیت میں مومنین سے خطاب تھا کہ تم سست نہ بنو اور کافروں سے صلح کرنے کی طرف نہ جھکو اللہ تمہارے ساتھ ہے وہ تمہارے اعمال کو ضائع نہ فرمائے گا ان آیات میں مسلمانوں کو چند تنبیہات فرمائی ہیں کچھ عام احوال سے اور کچھ فی سبیل اللہ اموال خرچ کرنے سے متعلق ہیں اول تو یہ فرمایا کہ دنیا کھیل ہے نفوس کو بہلانے والی چیز ہے سورة العنکبوت میں بھی یہ مضمون ہے وہاں یہ بھی فرمایا ہے ﴿وَ اِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ ﴾ (اور بلاشبہ آخرت والا گھر ہی زندگی ہے) کھیل کود سے مقاصد حقیقیہ حاصل نہیں ہوتے مقصد حقیقی یعنی ہمیشہ نعمتوں اور فرحتوں اور لذتوں میں رہنا یہ موت کے بعد دار آخرت ہی میں نصیب ہوگا اسی کے لیے کوشش کرنا لازم ہے انہیں اعمال میں مشغول ہو جو وہاں کام آئیں پھر فرمایا ﴿ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا يُؤْتِكُمْ اُجُوْرَكُمْ ﴾ اور اگر تم ایمان پر جمے رہے اور تقویٰ اختیار کیا (جس میں فرائض اور واجبات کی ادائیگی اور ترک معاصی سب داخل ہیں) تو اللہ تمہارے اعمال کے اجور عطاء فرمائے گا۔ مفسر قرطبی (رح) نے اس کے کئی معنی لکھے ہیں اول یہ کہ اللہ تمہیں یہ حکم نہیں دے گا کہ پورے اموال زکوٰۃ میں دے دو ، اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ تمہارے اموال کو اپنی راہ میں خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے اس کا ثواب تمہیں کو مل جائے گا اور ایک یہ مطلب لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کسی جگہ مال خرچ کرنے کا حکم ہوتا ہے تو وہ تمہارے اموال کا سوال نہیں ہے وہ تو اسی کا مال ہے اسی نے تم کو عطاء فرمایا وہی مالک حقیقی ہے اپنی رضا کے لیے جو مال بھی خرچ کرنے کا حکم فرمائے اس پر راضی رہنا چاہیے کیونکہ اس نے اپنا مال طلب فرمایا۔ ﴿لَا يَسْـَٔلْكُمْ اَمْوَالَكُمْ 0036﴾ کا ترتب ﴿اِنْ تُؤْمِنُوْا ﴾ پر جیسا کہ اس کے جزا ہونے کا مقتضا ہے بایں معنی نہیں ہے کہ اگر ایمان نہ لاؤ تو تمہارا مال لے لے گا بلکہ بایں معنی ہے کہ ایمان نہ لانے والے سے تو ہماری کوئی خصوصیت ہی نہیں اس میں تو سوال اموال کا احتمال ہی نہیں، البتہ شاید ایمان لانے کی صورت میں ڈرتا ہے کہ کہیں دوستی میں فرمائشیں نہ ہونے لگیں جیسا کہ اکثر اہل دنیا میں مشاہدہ کیا جاتا ہے۔
Ayah 47:37

اِنْ یَّسْئَلْكُمُوْهَا فَیُحْفِكُمْ تَبْخَلُوْا وَ یُخْرِجْ اَضْغَانَكُمْ Open ayah 47:37 in the Quran reader

اگر وہ تم سے مال طلب کرے پھر انتہاء درجہ تک طلب فرمائے تو تم بخل کرنے لگو گے اور اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں کی ناگواری کو ظاہر فرما دے گا،

﴿اِنْ يَّسْـَٔلْكُمُوْهَا فَيُحْفِكُمْ تَبْخَلُوْا وَ يُخْرِجْ اَضْغَانَكُمْ 0037﴾ (اگر وہ تم سے تمہارے مال طلب کرے اور انتہاء درجہ تک طلب فرمائے تو تم بخل کرو گے اور اللہ تعالیٰ تمہاری ناگواری کو ظاہر فرما دے گا) یعنی تم اس صورت میں مال خرچ نہ کرو گے اور خرچ کرنے کا حکم ہوتے ہوئے خرچ نہ کرنے کی ظاہری بےعملی سے تمہارے اندر کی ناگواری ظاہر ہوجائے گی اور یہ بات ظاہر ہوجائے گی کہ حکم کے مطابق عمل کرنے پر دل سے راضی نہیں ہو مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے طور پر 1/40 خرچ کرنے کا حکم ہوا ہے اسے خرچ کرنے سے بھی جان چراتے ہیں دینداری کے دعویدار بھی پورا حساب کرکے پوری زکوٰۃ دینے کو تیار نہیں اگر پورے اموال کا خرچ کرنے کا حکم ہوتا تو کیا حال ہوتا خوب سمجھ لیا جائے
Ayah 47:38

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ فَمِنْكُمْ مَّنْ یَّبْخَلُ١ۚ وَ مَنْ یَّبْخَلْ فَاِنَّمَا یَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ الْغَنِیُّ وَ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ١ۚ وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۙ ثُمَّ لَا یَكُوْنُوْۤا اَمْثَالَكُمْ۠ Open ayah 47:38 in the Quran reader

خبردار تم ایسے لوگ ہو کہ تمہیں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی دعوت دی جاتی ہے سو تم میں سے بعض لوگ بخل کرتے ہیں اور جو شخص بخل کرتا ہے تو وہ اپنی جان کی طرف سے بخل کرتا ہے اور اللہ غنی ہے تم محتاج ہو، اور اگر تم رو گردانی کرو گے تو اللہ تمہارے بدلہ دوسری قوم کو لے آئے گا پھر وہ تمہارے جیسے نہ ہوں گے۔

اس مضمون کو بعد والی آیت میں بیان فرمایا ارشاد ہے ﴿ هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ 1ۚ فَمِنْكُمْ مَّنْ يَّبْخَلُ ﴾ (خبردار تم ایسے لوگ ہو کہ تمہیں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی دعوت دی جاتی ہے تو تم میں سے بعض وہ ہیں جو کنجوسی کرتے ہیں۔ ) ﴿وَ مَنْ يَّبْخَلْ فَاِنَّمَا يَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِهٖ﴾ (اور جو شخص بخل اختیار کرے گا کنجوس بنے گا تو وہ خود اپنے ہی سے بخل کرتا ہے یعنی اپنی ہی جان کو خرچ کرنے کے منافع سے محروم رکھتا ہے خرچ نہ کرنے کا ضرر خود اسی کو پہنچتا ہے۔ ) ﴿وَ اللّٰهُ الْغَنِيُّ وَ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ ﴾ (اور اللہ غنی ہے اور تم محتاج ہو) اللہ تعالیٰ تمہیں عطاء فرماتا ہے اسے نہ حاجت ہے نہ ضرورت ہے وہ بےنیاز ہے تم سب اس کے محتاج ہو اس غلط فہمی میں کوئی نہ رہے کہ شرعی قوانین کے مطابق جو اموال خرچ کرنے کا حکم ہے اللہ تعالیٰ کا اس میں کوئی نفع ہے (العیاذ باللہ) اگر تم دین سے پھر جاؤ تو اللہ دوسری قوم کو لے آئے گا آخر میں فرمایا ﴿وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ﴾ (اور اگر تم رو گردانی کرو دین اسلام کی طرف سے بےرخی اختیار کرلو تو اللہ تعالیٰ تمہارے بدلہ دوسری قوم کو لے آئے گا) ﴿ثُمَّ لَا يَكُوْنُوْۤا اَمْثَالَكُمْ (رح) 0038﴾ (پھر وہ تمہارے جیسے نہ ہوں گے) اس میں ان مسلمانوں کو جو نزول آیت کے وقت موجود تھے خصوصاً اور تمام بعد میں آنے والے مسلمانوں کو عموماً تنبیہ فرما دی کہ کوئی شخص یہ نہ سمجھ لے کہ دین اسلام کی نصرت اور اس کے اعمال، انفاق مال، اور جہاد فی سبیل اللہ وغیرہ مجھ پر یا میری قوم پر موقوف ہے اللہ تعالیٰ کسی کا محتاج نہیں ہے وہ خالق ہے اور مالک بھی ہے غنی بھی ہے قادر مطلق بھی ہے جس کو چاہے جس کام میں چاہے استعمال فرما سکتا ہے۔ عجمی اقوام کی دینی خدمات سنن ترمذی میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ کون لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ اگر ہم لوگ رو گردانی کریں گے تو اللہ تعالیٰ ہمارے بدلہ ان کو اختیار فرما لے گا پھر وہ ہمارے جیسے نہ ہوں گے، اس وقت حضرت سلمان فارسی ؓ موجود تھے آپ نے حضرت سلمان فارسی ؓ کے مونڈھے پر اور ایک روایت میں ہے کہ ان کی ران پر ہاتھ مار کر فرمایا کہ یہ شخص اور اس کی قوم، اور ایک روایت میں ہے کہ یہ اور ان کے اصحاب، قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر ایمان ثریا (ستاروں) پر بھی لٹکا ہو تو فارس کے بہت سے لوگ اس کو حاصل کرلیں گے۔ (سنن ترمذی ابواب تفسیر سورة محمد ﷺ درحقیقت ایسا ہی ہوا جب اہل عرب کو اسلامی خدمات کی طرف توجہ نہ رہی تو اللہ جل شانہٗ نے فارس کے شہروں اور بستیوں سے ایسے افراد پیدا فرمائے جنہوں نے خوب بڑھ چڑھ کر علوم اسلامیہ کی خدمت کی۔ حضرت امام ابوحنیفہ ؓ ہی کو لے لو جن کا علم اور تقویٰ اور شان تفقہ عوام اور خواص سب کو معلوم ہے پھر حضرت امام بخاری ؓ کی سیرت پڑھ لو، اور مکی بن ابراہیم بلخی (رح) کا ترجمہ بھی پڑھ لو جو امام ابوحنیفہ کے شاگرد تھے ان سے امام بخاری (رح) نے گیارہ ثلاثیات کی روایت کی ہے، ابو عبید اللہ قاسم بن سلام ہروی، نعیم بن حماد مروزی، اسحاق بن ابراہیم مروزی، زہیر بن حرب، قتیبہ بن سعید بلخی، ابو جعفر محمد بن مہران رازی، ابو زکریا یحییٰ بن موسیٰ البلخی السجستانی، حافظ زکریا بن یحییٰ ، امام ابو زرعہ رازی، امام ابو حاتم الرازی، امام ابوداؤد، (صاحب السنن) سلیمان بن اشعث السجستانی، صاحب السنن، امام ترمذی ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ، امام ابو عبد اللہ محمد بن یزید القروینی ابن ماجہ، صاحب السنن، امام احمد بن شعیب النسائی، امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری، الحافظ الکبیر محمد بن اسحاق بن خزیمہ النیساپوری، الحافظ ابو عبد اللہ محمد بن یحییٰ بن مندہ الاصبہانی بلاد فارس (رحمہم اللہ علیہم) کے رہنے والے تھے، حضرت امام مسلم بن الحجاج (رح) (صاحب الصحیح) بھی نیشاپوری تھے ان کو قشیری بھی کہا جاتا ہے، تہذیب الاسماء واللغات میں لکھا ہے کہ یہ قبیلہ بنی قشیر کی طرف منسوب ہیں جو عرب کا ایک قبیلہ تھا اگر وطن کے اعتبار سے دیکھا جائے تو اہل عجم کی فہرست میں ان کا اسم گرامی بھی ذکر کیا جاسکتا ہے۔ یہ چند اسماء محدثین کرام کے ہم نے حافظ ذہبی ؓ کی ” تذکرۃ الحفاظ “ سے منتخب کرکے لکھے ہیں مزید مطالعہ کیا جائے تو فارس کے محدثین کی بڑی تعداد سامنے آجائے گی حافظ جلال الدین سیوطی ؓ نے جو تذکرۃ کاملہ لحظ الحفاظ الالحاظ کے نام سے لکھا ہے اس سے بھی انتخاب کرلیا جائے، حافظ ابو القاسم طبرانی، صاحب المعاجم اور حافظ ابو حاتم محمد بن حبان ابستی اور ابن السنی، ابوبکر دینوری اور حافظ ابو نعیم اصبہانی اور صاحب السنن امام بیہقی رحمہم اللہ علیہم کا اضافہ تو کر ہی لیں۔ یہ ہم نے چند محدثین کرام کے اسماء گرامی لکھے ہیں جو بلاد فارس کے رہنے والے تھے دوسرے بلاد عجم کے محدثین ان کے علاوہ ہیں اہل مغرب کے جن حضرات نے کتاب و سنت کی خدمت کی ہے ان کو بھی فہرست میں لے لیا جائے، حضرت امام ابو عمر و دانی، امام شاطبی، امام ابن الجزری (رح) کے اسماء گرامی کو بھی فہرست میں لکھ لیں مفسرین عظام اور فقہائے کرام کا تذکرہ باقی ہے ان کی بھی فہرست بنالی جائے امام ابوحنیفہ ؓ کے فقہ کو آگے بڑھانے والے تو اہل فارس ہی تھے جنہیں علمائے ماوراء لنہر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد تاتاریوں نے جو اسلام کی خدمات انجام دی ہیں اور ترکوں نے جو صلیبی جنگیں لڑی ہیں ان کو بھی ذہن میں رکھنا چاہیے۔ ﴿يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ﴾ کے عموم میں تمام عجمی اقوام آجاتی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے بطور مثال فارس کا تذکرہ فرما دیا ہے۔ وَھذا آخر الکلام فِیْ تفسیر سورة محمد علیہ الصلٰوة والسلام وَعلیٰ آلہٖ وصَحبہ البررة الکرام والحمد للّٰہ تعالیٰ علی التمام !