Ayahs 46:30–32﴿ وَ مَنْ لَّا يُجِبْ دَاعِيَ اللّٰهِ ﴾ (الآیۃ) یہ جنات کے کلام کا تتمہ ہے یا جملہ مستانفہ ہے دونوں صورتیں ہوسکتی ہیں اس میں یہ اعلان فرما دیا کہ جو کوئی شخص اللہ کے داعی کی بات نہ مانے یعنی ایمان نہ لائے تو وہ اپنا ہی نقصان کرے گا اور عذاب میں گرفتار ہوگا اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب گرفت ہوگی تو کہیں بھاگ کر نہیں جاسکے گا اور اللہ کے سوا کوئی مدد نہ کرسکے گا جس نے اللہ کے داعی کی نافرمانی کی وہ واضح گمراہی میں ہے۔
جو لوگ توحید کے منکر ہوتے ہیں وقوع قیامت کے بھی قائل نہیں ہوتے لہٰذا دعوت توحید کے بعد وقوع کا قیامت کا بھی تذکرہ فرمایا اور منکرین کا استبعاد دور کرتے ہوئے فرمایا کیا تم نے غور نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا فرمایا، اس کو تو تم مانتے ہو اتنی بڑی بڑی چیزوں کو پیدا فرمایا اور اسے ذرا بھی تھکن نہیں ہوئی جس نے ان کو پیدا فرما دیا کیا وہ اس پر قادر نہیں ہے کہ وہ انسانوں کو اور دوسری چیزوں کو موت دے کر دوبارہ زندہ فرمائے ؟ تم تو غور ہی نہیں کرتے اور غور کرو گے تو یہ بات بآسانی سمجھ میں آجائے گی ﴿ بَلٰۤى﴾ وہ ضرور دوبارہ پیدا کرسکتا ہے مردوں کو زندہ کرسکتا ہے ﴿ اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ0033﴾ (بےشک وہ ہر چیز پر قادر ہے)
Ayahs 46:33–34اس کے بعد کافروں کو یاد دہانی فرمائی کہ قیامت کے دن جب اہل کفر آگ پر پیش کیے جائیں گے یعنی اس میں داخل ہونے لگیں گے تو ان سے کہا جائے گا کیا یہ حق نہیں ہے ؟ دنیا میں جب تم سے کہا جاتا تھا کہ کفر کی سزا دوزخ ہے تو تم اسے نہیں مانتے تھے اور جو حضرات اس بات کی خبر دیتے تھے تم ان کا مذاق بناتے تھے اب بولو کیا کہتے ہو کیا یہ آگ جو تمہارے سامنے ہیں اس کا سامنا ہونا اور تمہارا اس میں داخل ہونا حق ہے یا نہیں ﴿ قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَا 1ؕ ﴾ وہ اس پر کہیں گے کہ ہاں واقعی یہ حق ہے ہم مانتے ہیں تصدیق کرتے ہیں وہ اس بات کو قسم کھا کر کہیں گے لیکن اس وقت اقرار اور قسم سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا ﴿ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ 0034﴾ ارشاد ربانی ہوگا کہ اپنے کفر کی وجہ سے عذاب چکھ لو۔
Ayah 46:35رسول اللہ ﷺ کو تسلی اور صبر کی تلقین
رسول اللہ ﷺ کی دعوت اور محنت اور جدوجہد برابر جاری رہی آپ کے مخاطبین انکار وعناد پر تلے ہوئے تھے اس سے آپ کو رنج ہوتا تھا اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دینے اور صبر کی تلقین کرنے کے لیے فرمایا ﴿ فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ ﴾ (سو آپ صبر کیجیے جیسے ہمت والے پیغمبروں نے صبر کیا) ﴿ وَ لَا تَسْتَعْجِلْ لَّهُمْ 1ؕ﴾ (ان لوگوں کے لیے جلدی نہ کیجیے) یعنی ان پر جلدی عذاب آجائے اس فکر میں نہ پڑئیے ﴿ كَاَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَ مَا يُوْعَدُوْنَ 1ۙ لَمْ يَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنْ نَّهَارٍ 1ؕ﴾ جس دن یہ لوگ وعدہ کی چیز کو دیکھیں گے گویا کہ دن کی ایک گھڑی سے زیادہ نہیں ٹھہرے یعنی عذاب میں دیر لگ رہی ہے وہ اس کی وجہ سے یہ سمجھ رہے ہیں کہ عذاب نہیں آئے گا لیکن جب عذاب آجائے گا تو وہ یوں سمجھیں گے کہ دنیا میں جو زندگی گزاری وہ صرف ایک گھڑی ہی تھی دنیا کی لمبی زندگی کو جس میں خوب مزے کیے اسے شدت عذاب کی وجہ سے بھول جائیں گے۔ ﴿ بَلٰغٌ1ۚ﴾ یہ مبتداء محذوف کی خبر ہے یعنی یہ جو کچھ تمہیں بتایا گیا سنایا گیا نصیحت اور موعظت کے اعتبار سے کافی ہے، بعض حضرات نے فرمایا کہ ھٰذا جو محذوف ہے اس کا مشار الیہ قرآن مجید ہے، مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم نے اللہ کی طرف سے تمہیں حق پہنچا دیا ثواب کی چیزیں بھی بتادیں گناہ کے کاموں سے بھی آگاہ کردیا تبلیغ کا حق ادا کردیا اب عمل نہ کرو گے تو عذاب میں گرفتار ہوگے۔
﴿ فَهَلْ يُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الْفٰسِقُوْنَ (رح) 0035﴾ (سو عذاب کے ذریعہ فاسق لوگ ہی ہلاک ہوں گے) جو اللہ کے باغی ہیں اس کی فرمانبرداری سے دور ہیں۔
فائدہ : آیت کریمہ میں جو ﴿ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ ﴾ فرمایا ہے بعض حضرات کے نزدیک مِنْ بیانیہ ہے اور ان حضرات کے نزدیک آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تمام رسول اولوالعزم یعنی ہمت اور حوصلہ والے تھے جیسے ان حضرات نے صبر کیا آپ بھی صبر کیجیے اس کی تفسیر کی بناء پر تمام انبیاء کرام اور رسل عظام (علیہ السلام) اولوا العزم کی صفت سے متصف تھے اور بعض حضرات نے فرمایا کہ مِنْ تبعیضیہ ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو رسول بھیجے تھے ان میں جو اولوالعزم تھے آپ ان کا اتباع کیجیے جب یہ تفسیر کردی گئی تو یہ سمجھنے کی ضرورت محسوس ہوئی کہ ان حضرات میں کون کون اولوا العزم تھے پھر ان حضرات کے نام تجویز کیے گئے کسی نے صرف حضرت یونس (علیہ السلام) کا استثناء کیا اور کہا کہ وہ اہل عزم نہیں تھے کیونکہ انہوں نے اپنی قوم کو چھوڑ کر چلے جانے میں جلدی کی تھی اور اللہ تعالیٰ شانہٗ نے نبی اکرم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے ﴿وَلَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ ﴾ فرمایا ہے اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اولوا العزم سے وہ حضرات مراد ہیں جو سورة انعام کی آیات ﴿وَ تِلْكَ حُجَّتُنَاۤ ﴾ میں مذکور ہیں اور یہ اٹھارہ ہیں ان کا ذکر فرما کر اللہ تعالیٰ شانہٗ نے فرمایا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ ﴾ اللہ تعالیٰ نے ان کو ہدایت دی اور آپ ان کی ہدایت کا اتباع کیجیے اور حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ اولوا العزم سے وہ حضرات مراد ہیں جو اصحاب شرائع تھے یعنی حضرت نوح اور حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) یہ چار ہیں پانچویں صاحب شریعت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب
قال العبد الفقیر ان القول الاوّل اصح لان سیاق الکلام یدل علی کثرتھم لا علی عدد قلیل فتدبر (بندہ عاجز کہتا ہے کہ پہلا قول زیادہ صحیح ہے کیونکہ سیاق کلام ان کی کثرت پر دلالت کرتا ہے نہ کہ قلت پر، پس غور کرنا چاہیے۔ )
وھذا آخر تفسیر سورة الاحقاف انعم اللّٰہ بتمامہ وحسن ختامہ وصلی اللّٰہ تعالیٰ
علی سید رسلہ محمد المصطفیٰ وعلی آلہ وصحبہ اولی الاحلام والنھی۔