42. Surah Ash-Shura

الشورىConsultation · 53 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayahs 42:41–44

وَ لَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهٖ فَاُولٰٓئِكَ مَا عَلَیْهِمْ مِّنْ سَبِیْلٍؕ Open ayah 42:41 in the Quran reader

اور البتہ جو شخص مظلوم ہوجانے کے بعد بدلہ لے لے سو یہ ایسے لوگ ہیں جن پر کوئی الزام نہیں،

اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَظْلِمُوْنَ النَّاسَ وَ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 42:42 in the Quran reader

الزام انہیں پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور دنیا میں ناحق سرکشی کرتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے درد ناک عذاب ہے،

وَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۠ Open ayah 42:43 in the Quran reader

اور البتہ جس نے صبر کیا اور معاف کردیا بلاشبہ یہ ہمت کے کاموں میں سے ہے۔

وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ وَّلِیٍّ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ تَرَى الظّٰلِمِیْنَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ یَقُوْلُوْنَ هَلْ اِلٰى مَرَدٍّ مِّنْ سَبِیْلٍۚ Open ayah 42:44 in the Quran reader

اور اللہ جس کو گمراہ کرے اس کے لیے اس کے بعد کوئی چارہ ساز نہیں اور جب ظالم لوگ عذاب کو دیکھیں گے تو اے مخاطب تو انہیں اس حال میں دیکھے گا کہ یوں کہہ رہے ہوں گے کیا واپس کیے جانے کا کوئی راستہ ہے ؟

قیامت کے دن ظالموں کی بدحالی، ہلاکت اور ذلت کا سامنا یہ چار آیات کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ جسے گمراہ کردے یعنی ہدایت سے محروم فرما دے تو اس کے لیے کوئی ایسا نہیں ہے جو اس کا ولی اور کارساز بنے، کوئی شخص اسے ہدایت نہیں دے سکتا اور کوئی اس کی مدد نہیں کرسکتا پھر ظالموں یعنی کافروں کی بدحالی کا تذکرہ فرمایا کہ قیامت کے دن جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو یوں کہیں گے کہ کیا ایسا کوئی راستہ ہے کہ ہم واپس کردئیے جائیں یعنی دنیا میں چلے جائیں پھر وہاں ایمان لائیں کفر اختیار نہ کریں، لیکن وہاں سے واپسی کا کوئی قانون نہیں مزید فرمایا کہ یہ لوگ جب دوزخ پر پیش کیے جائیں گے یعنی اس میں داخل کیے جانے لگیں گے تو ذلت سے جھکے ہوئے ہوں گے اور نیچی نظر سے دیکھ رہے ہوں گے اہل ایمان کہیں گے کہ آج تو علی الاعلان پتہ چل گیا کہ اہل کفر سراسر خسارہ میں ہیں یہ اپنی جانوں کا بھی نقصان کر بیٹھے اور اپنی اہل و عیال کا بھی ان کی جانیں بھی ہلاک ہوئیں اور ان کے متعلقین کی بھی، تمام کافروں کے لیے دوزخ ہے چھوٹے درجہ کے لوگ ہوں یا سردار ہوں یہ لوگ اپنی جانوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے اور اہل و عیال سے بھی اور وہاں کا عذاب تھوڑا سا نہیں اور تھوڑے سے دن کا نہیں ان کے لیے بڑا عذاب ہے اور دائمی ہے اور اسی کو فرمایا ﴿اَلَاۤ اِنَّ الظّٰلِمِيْنَ فِيْ عَذَابٍ مُّقِيْمٍ 0045﴾ اور اس کے بعد فرمایا ﴿وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ اَوْلِيَآءَ يَنْصُرُوْنَهُمْ۠ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ 1ؕ﴾ (اور ان کے لیے مددگار نہ ہوں گے جو ان کی مدد کریں اللہ کو چھوڑ کر) یعنی کوئی شخص اگر یہ چاہے کہ اللہ کے فیصلے کے خلاف کوئی ان کی مدد کرے یعنی انہیں دوزخ سے چھڑا دے تو ایسا نہیں ہوسکتا۔ ﴿ ٖوَ مَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ سَبِيْلٍؕ0046﴾ (اور جسے اللہ گمراہ کردے اس کے لیے کوئی راستہ ہی نہیں) یعنی اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ كما قال تعالیٰ فی سورة الکھف ﴿وَ مَنْ يُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ وَلِيًّا مُّرْشِدًا (رح) 0017﴾ اس آیت میں سابق مضمون کو دہرا دیا ہے جو تاکید کے لیے ہے۔
Ayahs 42:45–47

وَ تَرٰىهُمْ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا خٰشِعِیْنَ مِنَ الذُّلِّ یَنْظُرُوْنَ مِنْ طَرْفٍ خَفِیٍّ١ؕ وَ قَالَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ فِیْ عَذَابٍ مُّقِیْمٍ Open ayah 42:45 in the Quran reader

اور تو انہیں اس حال میں دیکھے گا کہ وہ دوزخ پر پیش کیے جا رہے ہوں گے ذلت کی وجہ سے جھکے ہوئے چھپی ہوئی نظر سے دیکھتے ہوں گے، اور ایمان والے کہیں گے بلاشبہ پورے خسارہ میں پڑجانے والے وہ ہیں جو اپنی جانوں سے اور اپنے گھر والوں سے قیامت کے دن خسارہ میں پڑگئے، خبردار اس میں شک نہیں کہ ظالم لوگ دائمی عذاب میں رہیں گے،

وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ اَوْلِیَآءَ یَنْصُرُوْنَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ سَبِیْلٍؕ Open ayah 42:46 in the Quran reader

اور ان کے لیے اللہ کے سوا مددگار نہ ہوں گے جو ان کی مدد کریں اللہ کو چھوڑ کر، اور جسے اللہ گمراہ کردے اس کے لیے کوئی راستہ ہی نہیں۔

اِسْتَجِیْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ یَّوْمَئِذٍ وَّ مَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِیْرٍ Open ayah 42:47 in the Quran reader

تم اپنے رب کا حکم مانو اس سے پہلے کہ وہ دن آجائے جس میں اللہ کی طرف سے واپس کرنا نہ ہوگا، تمہارے لیے اس دن پناہ لینے کی جگہ نہ ہوگی نہ کوئی نکیر کرنے والا ہوگا،

قیامت آنے سے پہلے اپنے رب کا حکم مانو ان آیات میں اولاً یہ ارشاد فرمایا کہ جب قیامت کا دن آئے گا تو واپس نہیں کیا جائے گا وہ واقع ہوگیا سو ہوگیا اس دن کے آنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی بات مان لو، ایمان بھی قبول کرو اور عمل صالحہ بھی اختیار کرو جب قیامت کا دن ہوگا تو کسی کے لیے کوئی پناہ نہ ہوگی اللہ جس کو پناہ دے اسی کو پناہ مل سکے گی اور کافروں کے لیے کوئی پناہ کی جگہ نہیں، اس دن جس شخص کے ساتھ جو بھی معاملہ ہوگا اس میں کسی کو بھی کسی کے بارے میں یہ کہنے کا اختیار نہ ہوگا کہ یہ کیوں ہوا اور کیوں ہو رہا ہے۔ قولہ تعالیٰ : وَّ مَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ قال القرطبی ؓ ای لا یجدون منکرا یومئذٍ بما ینزل بکم من العذاب اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ آپ کی دعوت اور تبلیغ کے بعد مخاطب لوگ اگر اعراض کریں تو آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں آپ فکر نہ کریں اور غم میں نہ پڑیں آپ کو ان پر نگران بنا کر نہیں بھیجا گیا اگر ایمان نہ لائیں تو آپ سے اس کی کوئی باز پرس نہیں ہے آپ نے پہنچا دیا آپ کا کام ختم ہوا آپ کی ذمہ داری اتنی سی ہے کہ آپ پہنچا دیں اور بس۔
Ayah 42:48

فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا١ؕ اِنْ عَلَیْكَ اِلَّا الْبَلٰغُ١ؕ وَ اِنَّاۤ اِذَاۤ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً فَرِحَ بِهَا١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَاِنَّ الْاِنْسَانَ كَفُوْرٌ Open ayah 42:48 in the Quran reader

پس اگر وہ اعراض کریں تو ہم نے آپ کو ان پر نگران بنا کر نہیں بھیجا آپ کے ذمہ صرف پہنچانا ہے، اور بلاشبہ بات یہ ہے کہ جب ہم انسان کو اپنی طرف سے رحمت چکھا دیتے ہیں تو اس پر خوش ہوتا ہے اور اگر ان کے کرتوتوں کی وجہ سے انہیں کوئی مصیبت پہنچ جائے تو بلاشبہ انسان ناشکری کرنے لگتا ہے،

انسان کا خاص مزاج رحمت کے وقت خوش اور تکلیف میں ناشکرا ! اس کے بعد انسان کا ایک مزاج بتایا اور وہ یہ ہے کہ جب اسے نعمت ملتی ہے اور رحمت الٰہی کا مظاہرہ ہوتا ہے تو خوب خوش اور مگن ہوجاتا ہے اور اگر کوئی تکلیف پہنچ جاتی ہے جو انسانوں کے اپنے کرتوتوں کی وجہ سے پہنچتی ہے تو وہ ناشکرا بن جاتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی ناشکری کرتا ہے اور ایسے بول بولتا ہے کہ جو سابقہ نعمتیں تھیں گویا وہ اسے ملی ہی نہ تھیں، اللہ تعالیٰ کی موجودہ نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتا اور معاصی سے توبہ بھی نہیں کرتا۔
Ayah 42:49

لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ الذُّكُوْرَۙ Open ayah 42:49 in the Quran reader

اللہ ہی کے لیے آسمانوں کا اور زمین کا ملک ہے وہ پیدا فرماتا ہے جو چاہے جسے چاہے بیٹیاں عطا فرماتا ہے اور جسے چاہے بیٹے دیتا ہے

اللہ تعالیٰ کی شان خالقیت کا بیان، وہ اپنی مشیت کے مطابق اولاد عطا فرماتا ہے اس کے بعد فرمایا کہ آسمانوں اور زمین کا ملک اللہ ہی کے لیے ہے وہی ان کا خالق اور مالک ہے وہ جو چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے انسانوں کی جو اولاد ہوتی ہے یہ سب اللہ تعالیٰ کی مشیت ہی سے ہوتی ہے کسی کو مجال نہیں جو اس کی مشیت کے سامنے دم مار سکے، دیکھو اللہ تعالیٰ نے جو جوڑے بنائے ہیں یعنی مرد اور عورت ان میں کسی کے ہاں صرف لڑکیاں پیدا ہوتی ہیں اور کسی کے ہاں صرف لڑکے پیدا ہوتے ہیں اور کسی کو اللہ تعالیٰ بیٹا، بیٹی دونوں جنسیں عطا فرما دیتا ہے اور ضروری نہیں کہ مرد عورت کا میل ملاپ ہوجائے تو اولاد ہو ہی جائے اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے بانجھ بنا دیتا ہے وہ علیم بھی اور قدیر بھی ہے وہ سب کے حال جانتا ہے حکمت کے مطابق عطا فرماتا ہے اور جو چاہے کرسکتا ہے اسے ہر چیز پر قدرت ہے اسے کوئی روک نہیں سکتا، اس کی قدرت سب پر غالب ہے۔
Ayahs 42:50–51

اَوْ یُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّ اِنَاثًا١ۚ وَ یَجْعَلُ مَنْ یَّشَآءُ عَقِیْمًا١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ Open ayah 42:50 in the Quran reader

یا بیٹے اور بیٹیاں دونوں جنسوں کو جمع کردیتا ہے اور جسے چاہے بانجھ بنا دیتا ہے، بلاشبہ وہ جاننے والا ہے اور قدرت والا ہے۔

وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِهٖ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیٌّ حَكِیْمٌ Open ayah 42:51 in the Quran reader

اور کسی بشر کے لیے یہ موقعہ نہیں ہے کہ وہ اللہ سے بات کرے ہاں وحی کے ذریعہ یا وہ پردہ کے پیچھے سے یا اس طرح بات ہوسکتی ہے کہ اللہ کسی رسول کو بھیج دے پھر وہ رسول اس کی اجازت سے اس کی مشیت کے مطابق وحی پہنچا دے، بیشک وہ برتر ہے حکمت والا ہے،

بندے اللہ تعالیٰ سے کیسے ہم کلام ہوسکتے ہیں ؟ معالم التنزیل ج، ص 132 میں لکھا ہے کہ یہودیوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ اگر آپ نبی ہیں تو آپ اللہ سے بات کیوں نہیں کرتے اور اللہ کو دیکھتے کیوں نہیں جیسا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کو دیکھا آپ کی تائید میں یہ آیت نازل ہوئی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کسی بشر کے لیے یہ بات حاصل نہیں کہ اللہ سے بات کرے بجز تین طریقوں کے، ایک طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو الہام فرما دے یعنی قلب میں کوئی بات ڈال دے یا خواب میں کوئی بات بتادے (مفسرین نے وحیاً کا مصداق بتاتے ہوئے یہ دو صورتیں لکھی ہیں) یا اللہ تعالیٰ پردہ کے پیچھے سے کلام فرمائے جیسا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کوہ طور پر کلام فرمایا تھا یا کسی فرشتہ کو بھیج دے جو اللہ کا پیغام لے کر آجائے اور اللہ کے حکم سے اللہ کی مشیت کے مطابق کسی رسول کو بطور وحی پیغام پہنچا دے یہ تین صورتیں اس دنیا میں اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کی ہیں۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) وحی لے کر خاتم النبیین ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے اور اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتے تھے ﴿اِنَّهٗ عَلِيٌّ حَكِيْمٌ0051﴾ (بیشک اللہ برتر ہے) مخلوق کو اس سے بات کرنے کا معائنہ کے طور پر تحمل نہیں ہے اور وہ حکیم بھی ہے اپنی حکمت کے مطابق مذکورہ تین طریقوں میں سے اس نے جس طرح چاہا کلام فرمایا۔ فائدہ 1 وَحْيًا کی تفسیر منام اور الہام سے جو کی گئی ہے اس میں یہ تفصیل ہے کہ حضرات انبیاء کرام کا منام اور الہام تو قطعی ہے اور انبیائے کرام کے علاوہ دوسروں کو جو خواب میں بتایا گیا یا بطور الہام دل میں ڈالا گیا ہو وہ ظنی ہے اور کسی کو اس پر شریعت کے خلاف عمل کرنا اور دوسروں سے عمل کرانا جائز نہیں ہے۔ فائدہ 2 آیت کریمہ میں جو ﴿اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ ﴾ فرمایا ہے اس سے نورانی حجاب مراد ہے صحیح مسلم میں ہے : حجابہ النور (اس کا پردہ نور ہے) لو کشفہ لا حرقت سبحات وجھھہ ما انتھیٰ الیہ بصرہ من خلقہ (مشکوٰۃ المصابیح ص 21) اگر وہ اسے کھول دے تو اس کی وجہ کریم کے انوار اس کی مخلوق کو وہاں تک جلا دیں جہاں تک اس کی نظر پہنچتی ہے) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پردہ کے پیچھے سے کلام کیا تھا اللہ تعالیٰ نے اس کا تحمل نہیں دیا کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کو دیکھ لیں اور دیکھنے کی حالت میں بات چیت کرلیں جنت میں اللہ تعالیٰ شانہٗ قوت برداشت عطا فرما دے گا وہاں اللہ کو دیکھیں گے۔
Ayah 42:52

وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا١ؕ مَا كُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْكِتٰبُ وَ لَا الْاِیْمَانُ وَ لٰكِنْ جَعَلْنٰهُ نُوْرًا نَّهْدِیْ بِهٖ مَنْ نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَا١ؕ وَ اِنَّكَ لَتَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍۙ Open ayah 42:52 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف اپنے حکم سے قرآن کی وحی کی، آپ نہیں جانتے تھے کہ کیا ہے کتاب اور کیا ہے ایمان ؟ اور لیکن ہم نے اسے نور بنا دیا ہے اس کے ذریعہ ہم اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں ہدایت دیتے ہیں اور بلاشبہ آپ صراط مستقیم کی طرف ہدایت دیتے ہیں

اس کے بعد فرمایا ﴿ وَ كَذٰلِكَ اَوْحَيْنَاۤ اِلَيْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا﴾ اور جس طرح ہم نے آپ سے پہلے انبیاء کرام (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی اسی طرح آپ کی طرف بھی روح یعنی نبوت کی وحی بھیجی۔ بعض مفسرین نے روح سے نبوت اور بعض حضرات نے روح سے قرآن مراد لیا ہے ﴿ مَا كُنْتَ تَدْرِيْ مَا الْكِتٰبُ وَ لَا الْاِيْمَانُ ﴾ (آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے) یعنی نبوت ملنے سے پہلے آپ کو یہ پتہ نہ تھا کہ اللہ کی کتاب کیا ہے اور نہ آپ کو ایمانیات کا تفصیلی علم دیا گیا تھا جب آپ کو نبوت عطا کی گئی اللہ کی کتاب نازل ہوئی اور ایمان کی تفصیلات بتادی گئیں اس وقت آپ کو اللہ کی کتاب کا اور ایمانیات کا علم ہوا گو اجمالی ایمان پہلے سے حاصل تھا۔ قال القرطبی والصواب انھم معصومون قبل النبوة من الجھل باللّٰہ وصفاتہ والتشکک فی شیٔ من ذلک وقد تعاضدت الاخبار والاثار علی الانبیاء بتنزیھھم عن ھذہ النقیصة منذولدوا، نشاتھم علی التوحید والایمان بل علی اشراق انوار المعارف ونفحات الطاف السعادة ومن طالع سیرھم منذصباھم الی مبعثھم حقق ذلک (علامہ قرطبی ؓ فرماتے ہیں اور صحیح بات یہ ہے کہ انبیاء ( علیہ السلام) نبوت ملنے سے پہلے بھی اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کے بارے میں جہالت اور کسی قسم کے شک و شبہ سے پاک ہوتے ہیں۔ ولادت سے ہی اس قسم کی نقائص سے پاک ہونے کے بارے میں خود انبیائے کرام سے احادیث و آثار کثرت سے مروی ہیں۔ ان کی نشوونما توحید و ایمان ہی پر ہوتی ہے بلکہ انوارات و معارف اور سعادت کے الطاف کے ساتھ ہوتی ہے جس نے ولادت سے نبوت تک ان کی سیرتوں کا مطالعہ کیا ہے اس پر یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے۔ ) ﴿وَ لٰكِنْ جَعَلْنٰهُ نُوْرًا نَّهْدِيْ بِهٖ مَنْ نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَا 1ؕ﴾ (اور لیکن ہم نے آپ کو قرآن دیا اور اس قرآن کو ایک نور بنا دیا جس کے ذریعہ ہم اپنے بندوں میں سے جسے چاہیں ہدایت دیں) ﴿وَ اِنَّكَ لَتَهْدِيْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍۙ0052﴾ (اور بلاشبہ آپ سیدھے راستہ کی ہدایت بتاتے ہیں جس میں کوئی كجی نہیں ہے۔ )
Ayah 42:53

صِرَاطِ اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِلَى اللّٰهِ تَصِیْرُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 42:53 in the Quran reader

جو اللہ کا راستہ ہے جس کے لیے وہ سب کچھ ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے خبردار اللہ ہی کی طرف تمام امور لوٹتے ہیں۔

﴿صِرَاط اللّٰهِ الَّذِيْ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ 1ؕ﴾ (جو اللہ کا راستہ ہے جس کے لیے وہ سب کچھ ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے) یہ راستہ اسی کا تجویز کیا ہوا ہے اور وہ اس پر چلنے والوں سے راضی ہے لہٰذا اسی پر چلیں ﴿اَلَاۤ اِلَى اللّٰهِ تَصِيْرُ الْاُمُوْرُ (رح) 0053﴾ (خبر دار تمام امور اللہ ہی کی طرف لوٹیں گے) وہ اپنے علم اور حکمت کے مطابق جزا یا سزا دے گا۔ ولقد تم تفسیر سورة الشوریٰ بحمد اللّٰہ تعالیٰ وحسن توفیقہ والحمد للّٰہ تعالیٰ علی التمام وحسن الختام والصلوٰة والسلام علی سید الانام وعلیٰ اٰلہ وصحبہ البررة الکرام