Ayah 41:40ملحدین ہم پر پوشیدہ نہیں ہیں، جو چاہو کرلو اللہ دیکھتا ہے !
قرآن مجید سے نفع حاصل کرنے والے اہل ایمان ہیں اور دو جماعتیں ایسی ہیں جو قرآن کی دشمن ہیں ایک جماعت تو وہ ہے جو قرآن کو اللہ کی کتاب مانتے ہی نہیں یہ لوگ منکرین ہیں اور دوسری جماعت وہ ہے جو یوں نہیں کہتے کہ قرآن اللہ کی کتاب نہیں ہے لیکن ان کی دشمنی اس طرح ظاہر ہوتی ہے کہ وہ قرآن کا مطلب اپنی طرف سے تجویز کرتے ہیں اور اپنی خواہشوں کے مطابق آیات اور کلمات کا مطلب بتاتے ہیں یہ لوگ ملحدین ہیں جو قرآن میں کجروی نکالتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے الحاد کا یہی مطلب بتایا اور فرمایا یَصَفُون الکلام فی غیر موضعہٖ یعنی آیات کا مطلب اپنی طرف سے تجویز کرتے ہیں متشابہات کے پیچھے پڑنا اپنی نکالی ہوئی بدعتوں اور خواہشوں کے مطابق قرآن کی تفسیر کرنا یہ سب الحاد کی صورتیں ہیں۔ حضرت حکیم الامت تھانوی ؓ مسائل سلوک میں حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل فرمانے کے بعد لکھتے ہیں ودخل فیہ غلاۃ الصوفیۃ نفیھم التفسیر المنقول و اختراھم ما یخالف الاصول یعنی اس میں غلو والے صوفی بھی داخل ہیں جو منقول تفسیر کی نفی کرتے ہیں اور اپنے پاس سے وہ چیزیں نکالتے ہیں جو اصول کے خلاف ہیں۔ اللہ تعالیٰ جل شانہٗ نے فرمایا کہ جو لوگ ہماری آیات میں کجروی اختیار کرتے ہیں ان کا حال ہم پر پوشیدہ نہیں ہے انہیں الحاد اور بےدینی کی سزا ملے گی۔ اس کے بعد فرمایا (اَفَمَنْ یُّلْقَی فِی النَّارِ ) قیامت کے دن دو قسم کے لوگ ہوں گے جو امن و اطمینان کے ساتھ بےخوف ہوں گے اور جنت میں داخل کردئیے جائیں گے اور بہت سے لوگ ایسے ہوں گے جو حیرانی پریشانی اور گھبراہٹ کے ساتھ قبروں سے نکل کر میدان حشر میں حاضر ہوں گے پھر دوزخ میں داخل کردئیے جائیں گے اب بتانے والے بتائیں اور سمجھدار لوگ جواب دیں کہ جو شخص دوزخ میں ڈالا جائے گا وہ بہتر ہے یا وہ شخص بہتر ہے جو امن و چین اور اطمینان اور سکون سے قیامت کے دن حاضر ہوگا اور پھر جنت میں بھی اسی شان سے داخل ہوگا قیامت کے دن بھی سکون اور اطمینان اور اس کے بعد بھی امن و چین کے ساتھ خوش و خرم رہے گا۔ جَعَلَنَا اللّٰہ منھم
(اعْمَلُوْا مَا شِءْتُمْ اِِنَّہٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ) (کرلو جو چاہو بیشک اللہ تمہارے کاموں کو دیکھنے والا ہے اس میں تہدید ہے کہ قرآن کے مخالفین اور منکرین جو چاہیں کرلیں، اپنے کیے کی سزا پائیں گے وہ یہ نہ سمجھیں کہ ہم جو کچھ کرلیں گے اس کی خبر نہ ہوگی اللہ جل شانہٗ ان کے اعمال کو دیکھتا ہے وہ ان کے اعمال کی سزا دے گا۔
Ayah 41:41(اِِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بالذِّکْرِ ) (الآیۃ) (بلاشبہ جن لوگوں نے ذکر یعنی قرآن کا انکار کیا، جب کہ وہ ان کے پاس آگیا تو انہوں نے غور و فکر نہ کیا) اگر غور و فکر کرتے تو منکر نہ ہوتے (وَاِِنَّہٗ لَکِتٰبٌ عَزِیْزٌ) (اور بلاشبہ وہ عزت والی کتاب ہے)
Ayah 41:42(لاَ یَاْتِیْہِ الْبَاطِلُ مِنْ بَیْنِ یَدَیْہِ وَلاَ مِنْ خَلْفِہِ ) (باطل بات نہ اس کے آگے سے آسکتی ہے نہ اس کے پیچھے سے) یعنی کسی پہلو اور کسی جہت سے اس کا احتمال نہیں (تَنْزِیْلٌ مِّنْ حَکِیْمٍ حَمِیْدٍ ) وہ اتاری گئی ہے حکمت والے کی طرف سے جس کی ذات وصفات محمود ہیں۔
Ayah 41:43رسول اللہ ﷺ کو تسلی
(مَا یُقَالُ لَکَ اِِلَّا مَا قَدْ قِیْلَ للرُّسُلِ مِنْ قَبْلِکَ ) اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی ہے مطلب یہ ہے کہ آپ کے بارے میں جو کافر لوگ معاندانہ طریقے پر کچھ کہتے ہیں جس سے آپ کو تکلیف ہوتی ہے یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے آپ سے پہلے جو رسول گزرے ہیں ان کے بارے میں ایسی باتیں کہی گئی ہیں ان حضرات نے صبر کیا آپ بھی صبر کریں (اِِنَّ رَبَّکَ لَذُو مَغْفِرَۃٍ ) (بلاشبہ آپ کا رب بڑی مغفرت والا ہے) (وَّذُو عِقَابٍ اَلِیْمٍ ) (اور درد ناک عذاب والا ہے) آپ کے مخالفین اگر اپنی حرکتوں سے باز آگئے اور ایمان قبول کرلیا تو دیگر اہل ایمان کے ساتھ ان کی بھی مغفرت ہوجائے گی اور اگر ان لوگوں نے توبہ نہ کی اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے ایمان قبول نہ کیا تو درد ناک عذاب میں مبتلا ہوں گے۔
Ayah 41:44مکذبین کا عنا
(وَلَوْ جَعَلْنٰہُ قُرْاٰنًا اَعْجَمِیًّا لَّقَالُوْا لَوْلاَ فُصِّلَتْ اٰیٰتُہٗ ) (اور اگر ہم اس کو قرآن عجمی بنا دیتے تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس کی آیات کو کیوں واضح طریقہ پر بیان نہیں کیا گیا)
جس کو حق سے بیزار ہو اور عناد پر کمر باندھ لے اس کا نفس اور شیطان طرح طرح کے شوشے چھوڑتے رہتے ہیں قریش مکہ نے ایک یہ شوشہ چھوڑا کہ یہ قرآن عربی ہی میں کیوں ہے عجمی یعنی غیر عربی زبان میں بھی ہوتا تو اس کا معجزہ ہونا اور زیادہ ظاہر ہوجاتا، اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید میں ارشاد فرمایا کہ اگر ہم قرآن عجمی زبان میں نازل کرتے تو یہ لوگ پھر بھی ایمان لانے والے نہ تھے۔ یہ لوگ اس وقت یہ حجت نکالتے کہ ہم تو عرب ہیں ہمارے سامنے تو عربی ہی میں آیات ہوتیں جن میں صاف صاف بیان ہوتا اور یہ اعتراض اٹھاتے (ءَ اَعْجَمِیٌّ وَّعَرَبِیٌّ) یعنی یوں کہتے کیا بات ہے کتاب عجمی اور رسول عربی ہے ؟ اب جو قرآن عربی میں ہے تو کہتے ہیں کہ عربی کیوں ہے اور عجمی ہوتا تو کہتے کہ عربی کیوں نہیں مقصود محض اعتراض ہے قبول حق نہیں اسی لیے بےتکی باتیں کرتے ہیں۔ (قال صاحب الروح وحاصلہ انہ لو نزل کما یریدون لاَنکروا ایضًا وقالوا مالک وللعجمۃ اومالنا وللعجمۃ) ” صاحب روح المعانی فرماتے ہیں اور حاصل یہ ہے کہ اگر قرآن انہیں کی خواہش کے مطابق نازل کیا جاتا تو بھی یہ انکار کرتے اور کہتے آپ کیا لگیں اور عجمی کیا لگے یا کہتے ہمیں غیر عربی زبان سے کیا واسطہ ؟ “ (ص 129: ج 24)
قرآن مومنین کے لیے ہدایت ہے اور شفا ہے
(قُلْ ھُوَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ھُدًی وَّشِفَآءٌ) (آپ فرما دیجیے کہ یہ قرآن ایمان والوں کے لیے ہدایت اور شفاء ہے) (وَالَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ فِیْ آذَانِہِمْ وَقْرٌ وَّھُوَ عَلَیْہِمْ عَمًی) اور جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں ڈاٹ ہے اور وہ ان کے حق میں اندھے پن کا سبب بنا ہوا ہے (اُولٰٓءِکَ یُنَادَوْنَ مِنْ مَّکَانٍ بَعِیْدٍ ) (یہ لوگ دور جگہ سے بلائے جاتے ہیں) یعنی یہ لوگ ایسے ہیں کہ جیسے کسی کو پکارا جائے وہ آواز تو سنے لیکن بات نہ سمجھے حق کی آواز کانوں میں پڑتی ہے لیکن اسے سمجھنا اور قبول کرنا نہیں چاہتے۔
یُنَادَوْنَ مِنْ مَّکَانٍ بَعِیْدٍ کی تفسیر
صاحب روح المعانی لکھتے ہیں (اُولٰٓءِکَ یُنَادَوْنَ مِنْ مَّکَانٍ بَعِیْدٍ ) کا یہ مطلب (جو اوپر لکھا گیا ہے) حضرت علی ؓ اور حضرت مجاہد سے مروی ہے، اور بعض مفسرین نے اس کا یہ مطلب بتایا ہے کہ قیامت کے دن یہ لوگ کفر اور اعمال بد کی وجہ سے برے ناموں کے ساتھ پکارے جائیں گے اور یہ پکار دور سے ہوگی تاکہ اہل موقف بھی اس آواز کو سن لیں جس سے ان لوگوں کی شہرت ہوجائے کہ یہ لوگ ایسے ایسے تھے۔
Ayah 41:45ہر شخص کا نیک عمل اس کے لیے مفید ہے اور برے عمل کا وبال برا عمل کرنے والے ہی پر ہے
اوپر آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ معاندین کی طرف سے آپ کے بارے میں وہی باتیں کہی جاتی ہیں جو آپ سے پہلے رسولوں سے کہی گئیں اس کے بعد گذشتہ رسولوں میں سے ایک رسول یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا ارشاد فرمایا کہ ہم نے موسیٰ کو کتاب یعنی توریت شریف دی اس کتاب میں اختلاف کیا گیا کسی نے اس کی تصدیق کی اور کسی نے اسے جھٹلایا آپ کے ساتھ اور قرآن کے ساتھ جو آپ کے مخاطبین کا معاملہ ہے یہ پہلے بھی ہوچکا ہے پھر فرمایا کہ آپ کے رب کی طرف سے ایک بات طے ہوچکی ہے اور وہ یہ کہ جھٹلانے والوں پر مقررہ وقت پر عذاب آئے گا اگر یہ طے شدہ بات نہ ہوتی تو ان کے درمیان فیصلہ کردیا جاتا یعنی گزشتہ امتوں کی طرح عذاب بھیج کر ان کو ختم کردیا جاتا (وَاِِنَّہُمْ لَفِیْ شَکٍّ مِنْہُ مُرِیبٍ ) اور یہ لوگ قرآن کے بارے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں اور یہ شک باعث تردد اور باعث اضطراب بنا ہوا ہے۔
بعض حضرات نے مِنْہُ کی ضمیر عذاب کے فیصلے کی طرف راجع کی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ عذاب موعود کے بارے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں اس شک نے ان کو تردد میں ڈال رکھا ہے عذاب کی وعید سنتے ہیں لیکن یقین نہیں کرتے۔
(مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِہٖ ) (جو شخص نیک کام کرے گا اس کا یہ عمل اس کے لیے نفع مند ہوگا اور اس پر ثواب ملے گا)
(وَمَنْ اَسَاءَ فَعَلَیْہَا) (اور جو شخص برا عمل کرے گا تو اس کا وبال اسی پر پڑے گا) (وَمَا رَبُّکَ بِظَلَّامٍ لِلْعَبِیدِ ) (اور آپ کا رب بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے) وہ ہر چھوٹی بڑی نیکی کا بدلہ دے گا اور ایسا نہ ہوگا کہ جو کوئی برائی نہ کی ہو وہ اس کے اعمال نامہ میں لکھ دی جائے اور پھر اس کی وجہ سے عذاب دیا جائے۔
Ayahs 41:46–47قیامت کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، اس دن مشرکین کی حیرانی و بربادی
قیامت کا علم اللہ تعالیٰ ہی کی طرف حوالہ کیا جاتا ہے یعنی قیامت کب واقع ہوگی اس کا علم اللہ عالی کے سوا کسی کو نہیں، سور الاعراف میں فرمایا (يَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَيَّانَ مُرْسٰىهَا ۭقُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّيْ ۚ لَا يُجَلِّيْهَا لِوَقْتِهَآ اِلَّا هُوَ ) وہ آپ سے قیامت کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہ کب ہے اس کا واقعہ ہونا، آپ فرما دیجیے کہ اس کا علم صرف میرے رب کے پاس ہے اس کو ظاہر نہیں فرمائے گا مگر وہی۔ ایک مرتبہ جبرئیل (علیہ السلام) رسول اللہ کے پاس انسانی صورت میں آئے اور متعدد سوالات کیے ان میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ قیامت کے بارے میں ارشاد فرمایئے وہ کب آئے گی ؟ آپ نے فرامیا (ما المسول عنھا باعلم من السائل) کہ جس سے دریافت کیا وہ دریافت کرنے والے سے زیادہ جاننے والا نہیں۔ یعنی اس معاملہ میں میں اور تم برابر ہیں نہ مجھے اس کے وقوع کا وقت معلوم ہے اور نہ تمہیں پس اگر کسی سے پوچھا جائے کہ قیامت کب آئے گی تو یہی جواب دے دو کہ اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں : ای اذا سئل عنھا قیل اللہ تعالیٰ یعلم اولا یعلمھا الا اللہ عزوجل۔ یعنی جب قیامت کے بارے میں پوچھا جائے تو کہا جائے اللہ تعالیٰ جانتا ہے یا کہا جائے اسے نہیں جانتا مگر اللہ تعالیٰ ہی۔
اس کے بعد بعض دیگر اشیاء کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ ان کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے جب درخت پر پھل آتے ہیں اولا ایک غلاف کی سی صورت بنتی ہے ابتداء میں پھل ذرا سا ہوتا ہے پھر بڑھتا رہتا ہے اور بڑھتے بڑھتے اپنے غلاف سے باہر آجاتا ہے۔ ارشاد فرمایا کہ جو بھی کوئی پھل اپنے غلاف سے باہر نکلتا ہے اور جس کسی عورت کو حمل قرار پاتا ہے اور جو بھی کوئی عورت بچہ جنتی ہے اللہ تعالیٰ ان سب کو علم ہے اس میں چند چیزوں کا ذکر ہے دوسری آیات میں ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جانتا ہے۔
جو لوگ دنیا میں شرک کرتے ہیں دلائل قدرت کو دیکھ کر بھی توحید کے قائل نہیں ہوتے یہ لوگ قیامت کے دن حاضر ہوں گے اور ان سے اللہ تعالیٰ کا سوال ہوگا کہ تم نے جو اپنے خیال میں میرے شرکاء بنا رکھتے تھے وہ کہاں ہیں وہ لوگ جواب دیں گے کہ ہم آپ کو خبر دے رہے ہیں کہ یہاں اس وقت ہم میں کوئی بھی اس بات کی گواہی دینے والا نہیں کہ آپ کا کوئی شریک تھا دنیا میں تو پوری ضد کے ساتھ شرک کرتے تھے اور جب سمجھایا جاتا تھا تو حق نہیں مانتے تھے لیکن میدان قیامت میں شرک سے منکر ہوجائیں گے اور یوں کہیں گے (واللہ ربنا ما کنا مشرکین) اور جب سمجھ لیں گے کہ انکار کچھ فائدہ نہیں دے سکتا تو اقراری ہو کر یوں کہیں گے (ھولائ الذین کنا ندعوا من دونک) کہ یہ وہ ہیں جن کی ہم آپ کے علاوہ عبادت کیا کرتے تھے اور ان سے جو مدد کی امید رکھتے تھے وہ کوئی بھی مدد نہ پہنچا سکیں گے (وظنوا مالھم من محیص) اور یقین کرلیں گے کہ ان کے لیے بھاگنے کا کوئی موقع نہیں۔
Ayahs 41:48–49انسان کا حب دنیا اور ناشکری کا مزاج اور وقوع قیامت کا انکار
ان آیات میں انسان کا ایک مزاج بیان فرمایا ہے اور وہ یہ کہ انسان برابر اللہ تعالیٰ سے خیر کی دعا کرتا ہے مالھی مانگتا ہے اور صحت بھی اور دوسری چیزیں بھی، جب تک یہ چیزیں پاس رہتی ہیں تو خوب خوش رہتا ہے اور اگر کوئی تکلیف پہنچ جائے، مریض ہوجائے تنگ دستی آجائے تو اس پر ناامیدی چھا جاتی ہے وہ سمجھتا ہے کہ بس اب تو میں مصیبت ہی میں رہوں گا کبھی میری حالت ٹھیک ہونے والی نہیں ہے ( یہ ان لوگوں کا حال ہوتا ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی کتاب کو نہیں پڑھا اس کے رسول کی ہدایات پر عمل نہیں کیا، نیک بندوں کی صحبت نہیں اٹھائی)
Ayah 41:50پھر فرمایا کہ اگر ہم انسان کو اپنی رحمت چکھا دیں خیر اور عافیت اور مالداری سے نواز دیں اس کے بعد کہ اسے تکلیف پہنچ چکی تھی تو کہتا ہے کہ ہاں مجھے یہ چاہئے اور میں اس کا حق دار ہوں اللہ تعالیٰ کی جو نعمت ملی اسے اللہ کا فضل نہیں بلکہ اپنے ہنر کا نتیجہ سمجھتا ہے جیسا کہ قارون نے کہا تھا (انما اوتیتہ علی علم عندی) یہ تو مجھے میرے علم کی وجہ سے دیا گیا۔ حالت ٹھیک ہوتی ہے اور مال مل جاتا ہے تو انسان قیامت ہی کا منکر ہوجاتا ہے کہتا ہے کہ میرے خیال میں تو قیامت آنے والی نہیں ہے اور اگر بالفرض قیامت آہی گئی اور میں اپنے رب کی طرف لوٹا دیا گیا تو میں وہاں بھی عزت اور کرامت سے نوازا جاؤں گا جیسا کہ دنیا میں بھی مجھے نوازا گیا ہے وہاں بھی میرا حال اچھا ہوگا دنیا میں بھی اچھی حالت کا مستحق ہوں اور آخرت میں بھی، یعنی یہ ناشکرا انسان یہ نہیں مانتا کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر فضل فرمایا ہے دنیا اور آخرت میں اچھی حالت میں رہنے کو اپنا ذاتی استحقاق مانتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کافروں کو ہم ان کے اعمال سے باخبر کردیں گے اور بتادیں گے کہ تم نے غلط سمجھا تھا تم اپنے اعمال کے اعتبار سے عزت اور کرامت کے مستحق نہیں ہو، ذلت اور اور اہانت کے مستحق ہو (ولنذیقنھم من عذاب غلیظ) اور ہم انہیں ضرور ضرور سخت عذاب چکھائیں گے۔ اس وقت جھوٹی باتوں اور جھوٹے دعوؤں کا پتہ چل جائے گا۔
Ayah 41:51اس کے بعد انسان کے مزاج کی ایک حالت بتائی اور وہ یہ کہ جب ہم انسان پر انعام کرتے ہیں یعنی جب اسے نعمتیں دیتے ہیں تو تکبر کے انداز میں ایک طرف کو دور چلا جاتا ہے یعنی وہ اللہ تعالیٰ کا شکر گزار نہیں ہوتا یہ مال اور نعمتیں جو موجب شکر تھیں ان کو تکبر کا ذریعہ بنا لیتا ہے نعمتوں کے زمانے میں اس کا یہ حال ہوتا ہے اور جب اسے تکلیف پہنچ جاتی ہے تو لمبی چوڑی دعائیں (1) کرنے لگتا ہے انسانوں کا جو حال ان آیات میں بیان فرمایا ہے عموما مشاہدہ میں آتا رہتا ہے۔
(1) صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ دعا کی جو صفت بیان کی گئی ہے اس سے لازم آتا ہے کہ دعا لمبی بھی ہو کیونکہ دعا طویل جب ہی ہوتی ہے جبکہ وہ چوڑائی سے زیادہ لمبی بھی ہو ورنہ تو طویل طویل نہ ہوگی۔
Ayah 41:52منکرین کو قرآن حکیم کے بارے میں غوروفکر کی دعوت، اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز کو محیط ہے
سورة حم سجدہ ختم ہورہی ہے شروع سورت میں قرآن مجید کی تنزیل اور تفصیل بیان فرمائی اور درمیان میں بھی قرآن مجید کی توصیف فرمائی اب آخر میں ارشاد فرمایا کہ آپ اپنے مخاطبین سے فرما دیجیے کہ تم عقلمندوں کے طریقے پر سوچ لو اور اپنے نفع و نقصان کو سمجھ لو یہ قرآن مجید اللہ کی کتاب ہے میرا یہ دعوی ہے اور دلیل سے ثابت ہوچکا تم اس کے منکر ہو اب تم غور کرلو اور سوچ کر بتاؤ کہ اگر یہ قرآن اللہ کی طرف سے ہوا (یعنی آخرت میں اس کا من عنداللہ ہونا ثابت ہوگیا اور تم اس کا انکار کر بیٹھے تو یہ مخالفت تم پر کس قدر بھاری پڑے گی تم عناد کی وجہ سے آج اس کے منکر ہورہے ہو اور یہ صریح گمراہی ہے بتاؤ اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہے جو حق سے دور ہوتا چلا جائے، جو شخص حق سے دور ہوگا وہ آخرت کے عذاب میں مبتلا ہوگا آخرت میں پہنچنے سے پہلے اسی دنیا میں غور کرلو اور اپنے انکار کا انجام خود سوچ لو۔
Ayah 41:53(سَنُرِيْهِمْ اٰيٰتِنَا فِي الْاٰفَاقِ وَفِيْٓ اَنْفُسِهِمْ ) ہم عنقریب انہیں آفاق میں اور ان کے نفسوں میں نشانیاں دکھائیں گے۔ آفاق جمع ہے افق کی، افق کنارے کو کہتے ہیں اس سے آسمانوں اور زمین کے کنارے چاند سورج ستارے اشجار و انہار مراد ہیں بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے امم سابقہ کے واقعات مراد ہیں یعنی زمین میں جو سفر کرتے ہیں اور ہلاک شدہ اقوام کے کھنڈروں پر گزرتے ہیں یہ بھی آفاق میں داخل ہے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ہم انہیں اپنی نشانیاں آفاق میں دکھا دیں گے اور ان کے نفسوں میں بھی انسانوں کے نفسوں میں جو امراض آتے رہتے ہیں اور حالات بدلتے رہتے ہیں یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہے یہ سب چیزیں سامنے آتی ہیں اور سامنے آتی رہیں گی سمجھدار انسان کا کام ہے کہ وہ آیات آفاقیہ سے بھی عبرت حاصل کرلے اور آیات انفسیہ سے بھی۔
(حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ ) یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ یہ قرآن حق ہے۔ قرآن کا حق ہونا سمجھداروں پر ظاہر ہوگیا، ماننا نہ ماننا ار بات ہے دشمن بھی جانتے ہیں گو مانتے نہیں۔
(اَوَلَمْ يَكْفِ بِرَبِّكَ اَنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ شَهِيْدٌ) کیا آپ کے رب کی یہ بات کافی نہیں ہے کہ وہ ہر چیز پر شاہد ہے۔ اس نے آپ کی رسالت کی بار بار گواہی دی ہے آپ کے لیے اللہ تعالیٰ کا گواہی دینا کافی ہے آپ ان لوگوں کے انکار اور عناد سے مغمون نہ ہوں۔
Ayah 41:54(اَلَآ اِنَّهُمْ ) الایۃ۔ خبردار یہ لوگ اپنے رب کی ملاقات کی طرف سے شک میں پڑے ہیں انہیں وقوع قیامت کا یقین نہیں اس لیے انکار پر کمر باندھ رکھی ہے لیکن یہ نہ سمجھیں کہ ان کی حرکتوں کا اللہ تعالیٰ کو علم نہیں ہے وہ ہر چیز کو اپنے احاطہ علمی میں لیے ہوئے ہے لہذا وہ ان کی حرکتوں اور کرتوتوں پر سزا دے گا۔
وھذا آخر ما یسر اللہ تعالیٰ لنا فی تفسیر سورة حم السجدہ۔ لیلۃ الثانی والعشرین فی محرم الحرام سنۃ 1318 ھ۔ من ھجرۃ سید الانام البدر التمام ﷺ الی یوم القیام و علی الہ و اصحابہ البررۃ الکرام