Ayah 36:41کشتی اللہ کی نعمت ہے، اللہ تعالیٰ حفاظت فرماتا ہے اور ڈوبنے سے بچاتا ہے
ان آیات میں کشتی کی سواری کا ذکر ہے، کشتیوں کا دریاؤں میں چلنا (مطلق کشتی ہر چھوٹے بڑے جہاز کو شامل ہے) انسانوں کا ان پر سوار ہونا اور سامان لادنا، ایک براعظم سے دوسرے براعظم تک سفر کرنا اس میں اللہ تعالیٰ کا انعام عظیم بھی ہے اور قدرت قاہرہ پر دلالت بھی ہے۔ کشتی کی سواری کے ساتھ یوں بھی فرما دیا۔ (وَخَلَقْنَا لَہُمْ مِّنْ مِّثْلِہٖ مَا یَرْکَبُوْنَ ) (اور ہم نے ان کے لیے کشتی جیسی ایسی چیزیں پیدا فرمائیں جن پر یہ لوگ سوار ہوتے ہیں) یہ سواریاں گھوڑے، خچر اور گدھے ہیں جن کا سورة النحل میں ذکر ہے (وَّالْخَیْلَ وَ الْبِغَالَ وَ الْحَمِیْرَ لِتَرْکَبُوْھَا وَ زِیْنَۃً ) اور اب تو ریل گاڑی اور پٹرول سے چلنے والی گاڑیاں اور ہوائی جہاز بھی سواریوں کا کام دے رہے ہیں اور بوجھ بھی لے جاتے ہیں۔ سورة النحل میں ان نئی سواریوں کی بلکہ ان کے بعد جو سواریاں پیدا ہوں گی ان کے بارے میں پیش گوئی فرما دی (وَیَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ ) (اور اللہ وہ چیزیں پیدا فرمائے گا جو تم نہیں جانتے۔ )
Ayahs 36:42–43مزید فرمایا کہ یہ لوگ جو جہازوں اور کشتیوں میں امن وامان کے ساتھ سفر کرتے ہیں، یہ امن وامان سے رکھنا اور ڈوبنے سے حفاظت کرنا ہمارا ہی انعام ہے۔ (وَاِِنْ نَّشَاْ نُغْرِقْہُمْ فَلاَ صَرِیْخَ لَہُمْ ) (اور اگر ہم چاہیں تو انہیں غرق کردیں پھر انہیں کوئی فریاد رس نہ ملے) (وَلاَ ھُمْ یُنْقَذُوْنَ ) (اور نہ انہیں خلاصی دی جائے) (اِِلَّا رَحْمَۃً مِّنَّا وَمَتَاعًا اِِلٰی حِیْنٍ ) (مگر یہ کہ ہماری مہربانی ہوجائے اور ایک وقت معین تک انہیں فائدہ دینا منظور ہو) اللہ تعالیٰ اپنی مہربانی سے محفوظ فرماتا ہے اور وقت معین تک فائدہ پہنچاتا ہے۔
Ayahs 36:44–45اعراض کرنے والوں کی محرومی
پھر فرمایا (وَاِذَا قِیْلَ لَہُمُ اتَّقُوْا مَا بَیْنَ اَیْدِیْکُمْ وَمَا خَلْفَکُمْ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ ) اور جب مکذبین و منکرین سے کہا جاتا ہے کہ تم اس عذاب سے ڈرو جو تمہارے سامنے ہے (یعنی غرق کیا جانا یا زمین میں دھنسایا جانا یا مقتول ہونا وغیرہ) اور اس عذاب سے ڈرو جو تمہارے پیچھے ہے یعنی آخرت میں آنے والا ہے تمہارا یہ ڈرنا تم پر رحمت کا سبب بن جائے گا، تو وہ لوگ نصیحت پر کان نہیں دھرتے اور اس سے اعراض کرتے ہیں۔
Ayah 36:46(وَمَا تَاْتِیْہِمْ مِّنْ اٰیَۃٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّہِمْ اِِلَّا کَانُوْا عَنْہَا مُعْرِضِیْنَ ) (اور ان کے پاس ان کے رب کی نشانیوں میں سے جو بھی نشانی آتی ہے اس سے اعراض کرنے والے بن جاتے ہیں۔ )
یہ تو ان کا معاملہ عقیدہ توحید کے ساتھ ہوا جسے وہ قبول کرنے کو تیار نہیں۔ آگے مالی انعامات ہوتے ہوئے جو کنجوسی اور ناشکری کرتے تھے اس کا تذکرہ فرمایا کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ اللہ نے تمہیں دیا ہے اس میں سے مسکینوں اور حاجت مندوں پر خرچ کرو، تو خرچ کرنے کی بجائے شرارت سے اور مذاق اڑانے کی نیت سے کافروں نے یوں کہا کیا ہم ان لوگوں کو کھلائیں جو تمہارے ساتھ ایمان قبول کرچکے ہیں اللہ چاہے تو انہیں کھلا دے ان کا مطلب یہ تھا کہ تم کہتے ہو کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی رزق دینے والا ہے تو بس وہی انہیں رزق دیدے گا۔ ان لوگوں نے یہ بھی کہا کہ تم جو ہمیں خرچ کرنے کو کہہ رہے ہو، یہ کھلی ہوئی گمراہی ہے۔
کفار بھی یہ بات مانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی رزق دینے والا ہے اور کھلانے والا ہے لیکن اس بات کو انہوں نے بطور طنز کے ذکر کیا اور مقصد ان کا یہ تھا کہ تم تو یوں کہتے ہو کہ جسے اللہ تعالیٰ چاہے کھلا دے تو اپنے قول کے مطابق اللہ تعالیٰ ہی سے مانگ لو اور انہیں کھلا دو ۔
Ayahs 36:47–48منکرین بعث کا قول اور ان کی تردید
توحید کے دلائل اور منکرین کے اعراض کا بیان فرمانے کے بعد وقوع قیامت کے یقینی ہونے کا اور منکرین کے استبعاد کا تذکرہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا (وَیَقُوْلُوْنَ مَتٰی ھٰذَا الْوَعْدُ اِِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ) (اور وہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب ہوگا اگر تم سچے ہو) یعنی تم جو یوں کہتے ہو کہ قیامت آئے گی ہمارے خیال میں یہ تمہاری باتیں ہی باتیں ہیں آتی ہوتی تو کب کی آچکی ہوتی، اس کے واقع ہونے کی جو تم خبر دے رہے ہو اگر تم اس خبر میں سچے ہو تو وقت طے کردو کہ قیامت فلاں وقت آئے گی، یہ بات کہنے سے ان کا مقصود وقوع قیامت کا انکار کرنا تھا، اس انکار کو انہوں نے استفہام انکاری کے پیرایہ میں بیان کیا، اللہ جل شانہٗ نے فرمایا (مَا یَنظُرُوْنَ اِِلَّا صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً تَاْخُذُھُمْ وَھُمْ یَخِصِّمُوْنَ ) یہ لوگ جو قیامت کا انکار کر رہے ہیں ان کے انکار کرنے سے قیامت کا آنا رک نہیں جائے گا، بس یہ لوگ ایک چیخ کے انتظار میں ہیں جو انہیں پکڑ لے گی اور اس وقت یہ لوگ آپس میں جھگڑ رہے ہوں گے اس وقت جو جہاں ہوگا وہیں دھرا رہ جائے گا اور وہیں مرجائے گا، اس وقت نہ کوئی وصیت کرسکیں گے اور نہ اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ سکیں گے۔ (یہ نفخہ اولیٰ یعنی پہلی بار صور پھونکنے کے وقت ہوگا۔ )
Ayahs 36:49–51نفخ صور کے وقت حیرانی اور پریشانی
مزید فرمایا (وَنُفِخَ فِی الصُّورِ فَاِِذَا ھُمْ مِنَ الْاَجْدَاثِ اِِلٰی رَبِّہِمْ یَنْسِلُوْنَ ) (اور صور میں پھونکا جائے گا تو وہ اچانک قبروں سے نکل کر اپنے رب کی طرف (یعنی حساب کی جگہ کے لیے) جلدی جلدی چلنے لگیں گے۔ )
قبروں سے اٹھنے والے (جن کو اللہ تعالیٰ امن وامان نہ دے، گھبراہٹ سے محفوظ نہ فرمائے، وہ) کہیں گے (یٰوَیْلَنَا مَنْ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا) (ہائے ہماری کم بختی ہمیں لیٹنے کی جگہ سے کس نے اٹھا دیا) فرشتے جواب میں کہیں گے (ھٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمٰنُ وَصَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ ) (یہ وہی قیامت کا دن ہے جس کا رحمن نے وعدہ فرمایا تھا اور پیغمبروں نے سچی خبر دی تھی۔ )
Ayahs 36:52–53(اِِنْ کَانَتْ اِِلَّا صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً فَاِِذَا ھُمْ جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ ) (بس وہ نفخہ ثانیہ ایک زور کی آواز ہوگی جس سے یکایک سب جمع ہو کر ہمارے پاس حاضر کیے جائیں گے) یہ جمع ہونا حساب کتاب کے لیے ہوگا، حساب ہونے پر جس کو جو سزا ملے گی اس میں کسی جان پر کچھ ظلم نہ ہوگا، نہ کسی کی کوئی نیکی کم کی جائے گی جو لائق ثواب ہو اور نہ کسی کے گناہوں میں کسی ناکردہ گناہ کا اضافہ ہوگا۔ سورة کہف میں فرمایا (وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا وَ لَا یَظْلِمُ رَبُّکَ اَحَدًا) (اور انہوں نے جو عمل کیے تھے ان کو حاضر پائیں گے اور آپ کا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔ )
Ayahs 36:54–55اہل جنت کی نعمتوں کا تذکرہ، وہ اپنی بیویوں کے ساتھ سایوں میں تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے
ان آیات میں اہل جنت کی بعض نعمتوں کا تذکرہ فرمایا، اول تو یہ فرمایا کہ یہ لوگ اپنے اپنے مشغلوں میں خوش ہوں گے۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں : (والمراد بہ ما ھم فی من النعیم الذی شغلھم عن کل ما یخطر بالبال) یعنی شغل سے وہاں کی نعمتوں میں مشغول رہنا مراد ہے، وہاں کی نعمتیں ہر اس چیز کے تصور سے بےپرواہ کردیں گی جن کا تصور آسکتا ہو۔ (فَاکِھُوْنَ ) کا ایک ترجمہ تو وہی ہے جو اوپر لکھا گیا ہے یعنی وہ اپنی نعمتوں میں خوش ہوں گے۔ اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے تمتع اور تلذذ مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ ان کے پاس میوے موجود ہوں گے جن میں سے کھایا کریں گے۔ (روح المعانی)
پھر فرمایا کہ اہل جنت اور ان کی بیویاں سایوں میں ہوں گے جہاں ناگوار گرمی ذرا نہ ہوگی (اَراءِکِ ) یعنی مسہریوں پر ہوں گے، یہ (اَرِیْکَۃٌ) کی جمع ہے، (اریکہ) مسہری کو کہتے ہیں۔
(مُتَّکِؤُنَ ) تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے۔ سورة الواقعہ میں فرمایا (عَلٰی سُرُرٍ مَّوْضُوْنَۃٍ مُّتَّکِءِیْنَ عَلَیْہَا مُّتَقَابِلِیْنَ ) (وہ لوگ سونے کے تاروں سے بنے ہوئے تختوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے۔ )
Ayahs 36:56–57مزید فرمایا (لَہُمْ فِیْہَا فَاکِہَۃٌ وَّلَہُمْ مَّا یَدَّعُوْنَ ) (اس میں ان کے لیے میوے ہوں گے اور جو کچھ طلب کریں گے انہیں وہ ملے گا) اس میں یہ بتادیا کہ اہل جنت کی جن نعمتوں کا صریح طور پر تذکرہ کردیا گیا ہے صرف انہی نعمتوں میں انحصار نہیں ہے، وہ لوگ وہاں جو کچھ بھی طلب کریں گے سب کچھ حاضر کردیا جائے گا۔ سورة الزخرف میں فرمایا (وَفِیْہَا مَا تَشْتَہِیْہِ الْاَنْفُسُ وَتَلَذُّ الْاَعْیُنُ ) (اور اس میں وہ چیزیں ملیں گی جن کی ان کے نفسوں کو خواہش ہوگی اور جن سے آنکھوں کو لذت ہوگی۔ )
Ayah 36:58اور ان سب سے بڑھ کر یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلام آئے گا جسے (سَلٰمٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ ) فرما کر بتایا ہے، کیا کہنے ان بندوں کے لیے کہ ان کے رب کا سلام آئے۔
حضرت جابر ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اس کے درمیان کہ اہل جنت اپنی نعمتوں میں ہوں گے اچانک ایک نور کی چمک ہوگی اوپر کو اپنے سر اٹھائیں گے تو دیکھیں گے کہ رب جل شانہٗ نے ان پر توجہ فرمائی ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہوگا۔ (اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ یَا اَھْلَ الْجَنَّۃِ ) (مشکوٰۃ المصابیح ص 502 از ابن ماجہ)
Ayah 36:59مجرمین سے خطاب اور ان کے عذاب کا تذکرہ
اہل جنت کا اکرام اور انعام بیان فرمانے کے بعد اہل دوزخ کی تباہی اور بربادی کو بیان فرمایا جو قیامت کے دن ان کے سامنے آئے گی۔ اول تو یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ان سے خطاب ہوگا کہ اے مجرمو ! آج تم علیحدہ ہوجاؤ، دنیا میں تم اہل ایمان کے ساتھ ملے جلے رہتے تھے اور قبروں سے نکل کر بھی میدان حشر میں اکٹھے جمع ہوئے ہو اب تم ان سے علیحدہ ہوجاؤ کیونکہ ان کو جنت میں جانا ہے اور تم کو دوزخ میں جانا ہے۔ (یہ آیت بہت زیادہ فکر مند بنانے والی ہے، حضرت امام ابوحنیفہ ؓ ایک مرتبہ پوری رات نفل نماز میں کھڑے رہے اور اسی آیت مبارکہ کو پڑھتے رہے) اس میں فکر کی بات یہ ہے کہ جس وقت یہ حکم ہوگا اس وقت میں کن لوگوں میں ہوں گا مجرمین میں ہوں گا یا مومنین میں۔
کافروں سے یہ خطاب بھی ہوگا (اَلَمْ اَعْہَدْ اِِلَیْکُمْ ) (الآیۃ) اے آدم کی اولاد کیا میں نے تمہیں یہ تاکید نہیں کی تھی کہ شیطان کی عبادت مت کرنا یعنی اس کی فرمانبرداری مت کرنا اور اس کے کہنے کے مطابق عمل نہ کرنا، بیشک وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے اور تمہیں تاکید کی تھی کہ میری عبادت کرنا یہ سیدھا راستہ ہے (تم اس سیدھے راستہ سے ہٹ گئے) (وَلَقَدْ اَضَلَّ مِنْکُمْ ) (الآیۃ) اور یہ بات واقعی ہے کہ شیطان نے تم میں سے کثیر مخلوق کو گمراہ کردیا، کیا تم سمجھ نہیں رکھتے تھے۔ (اب اس گمراہی کا بدلہ ملے گا۔ ) (ھٰذِہٖ جَہَنَّمُ الَّتِیْ کُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ ) یہ جہنم ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ (اِصْلَوْھَا الْیَوْمَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْفُرُوْنَ ) (آج اس میں داخل ہوجاؤ اس وجہ سے کہ تم کفر کرتے تھے۔ )
Ayahs 36:60–65مجرمین کے خلاف ان کے اعضاء کی گواہی
کافروں کی سزا بیان فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا (اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰٓی اَفْوَاھِہِمْ ) (ہم آج کے دن ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے) (وَتُکَلِّمُنَآ اَیْدِیْہِمْ ) (اور ہم سے ان کے ہاتھ کلام کریں گے) (وَتَشْہَدُ اَرْجُلُہُمْ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ) اور ان کے پاؤں ان کاموں کی گواہی دیں گے جو وہ کیا کرتے تھے۔ )
اس آیت سے معلوم ہوا کہ مجرمین کی زبانوں پر مہر لگا دی جائے گی اور ہاتھ پاؤں ان کے اعمال بد کی گواہی دیں گے۔ اور سورة النور میں فرمایا (یَوْمَ تَشْہَدُ عَلَیْہِمْ اَلْسِنَتُہُمْ وَاَیْدِیْہِمْ وَاَرْجُلُہُمْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اعمال بد کی گواہی زبان بھی دے گی اس میں کوئی تعارض نہیں ہے کیونکہ قیامت کے دن احوال مختلف ہوں گے، کسی وقت ہاتھ پاؤں بلکہ ان کے چمڑے تک ان کے خلاف گواہی دے دیں گے اور زبان نہ بول سکے گی اور جب زبان کھول دی جائے گی تو زبان سے بھی اپنی نافرمانی کے اقراری ہوجائیں گے۔
Ayah 36:66اس کے بعد فرمایا (وَلَوْ نَشَآءُ لَطَمَسْنَا عَلٰی اَعْیُنِہِمْ ) (الآیۃ) اگر ہم چاہیں تو ان کی آنکھوں کو ختم کردیں پھر وہ راستے کی طرف دوڑیں سو ان کو کہاں نظر آئے۔ (وَلَوْ نَشَآءُ لَمَسَخْنٰہُمْ ) (الآیۃ) اور اگر ہم چاہیں تو ان کی جگہوں پر ہی ان کی صورتوں کو مسخ کردیں تو انہیں نہ گزرنے کی طاقت رہے نہ واپس ہوسکیں۔
ان دو آیتوں میں یہ بتایا کہ ہم دنیا میں بھی سزا دینے پر قدرت رکھتے ہیں اور ان سزاؤں کی بہت سی صورتیں ہوسکتی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ ہم ان کی آنکھوں کو ختم کردیں یعنی چہرہ کو سپاٹ بنا دیں آنکھیں باقی ہی نہ رہیں، آگے بڑھنا چاہیں تو کچھ بھی نظر نہ آئے، اسی طرح ہم ان ہی کی جگہ رکھتے ہوئے انہیں مسخ بھی کرسکتے ہیں یعنی ان کی صورتیں بدل سکتے ہیں جیسے گذشتہ امتوں میں سے بعض لوگ بندر اور خنزیر بنا دئیے گئے، جب جانور ہی بن جائیں تو جہاں تھے وہیں رہ جائیں نہ آگے بڑھ سکیں نہ پیچھے ہٹ سکیں، جو مقاصد دنیاویہ لے کر نکلے تھے ان کا ہوش ہی نہ رہے گا۔
Ayahs 36:67–68انسان قوت کے بعد دوبارہ ضعف کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے
اس کے بعد فرمایا (وَمَنْ نُّعَمِّرْہُ ) (الآیۃ) کہ ہم جسے طویل عمر دے دیتے ہیں اس کی حالت طبعی جو اسے پہلے دی گئی تھی اسے الٹ دیتے ہیں یعنی جوانی میں جو قوتیں دی گئی تھیں وہ چلی جاتی ہیں اور ضعف بڑھتا چلا جاتا ہے، سننے اور دیکھنے کی قوتیں ضعیف ہوجاتی ہیں، سمجھنے اور سوچنے کی طاقت بھی کمزور ہوجاتی ہے، گوشت گھل جاتا ہے، کھال لٹک جاتی ہے، یہ تو سب کے سامنے ہے، اسی سے سمجھ لینا چاہیے کہ ہم آنکھوں کو ختم کرسکتے ہیں اور صورتیں مسخ کرسکتے ہیں : (اَفَلاَ یَعْقِلُوْنَ ) (کیا یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی نہیں سمجھتے ہیں۔ )
(قولہ تعالیٰ مضیّاً اصلہ مضوی اجتمعت الواو ساکنۃ مع الیاء فقلبت یاء کما ھو القاعدۃ وادغمت الیاء فی الیاء وقلبت ضمۃ الضاد کسرۃ لتخف وتناسب الیاء) (اللہ تعالیٰ کا قول (مُضیّاً ) یہ اصل میں (مُضْوِیٌ) تھا واؤ ساکنہ اور یاء جمع ہوگئیں تو واؤ کو یا کردیا جیسا کہ قانون ہے پھر یاء کو یاء میں ادغام کیا اور ضاد کے ضمہ کو تخفیف بالیا کی مناسبت کی وجہ سے کسرہ سے تبدیل کردیا۔ )
Ayah 36:69شاعری رسول اللہ ﷺ کی شان کے لائق نہیں، قرآن کریم زندہ قلوب کے لیے نصیحت ہے اور کافروں کے لیے حجت ہے
مشرکین عرب اور خاص کر اہل مکہ جب قرآن مجید سنتے تھے تو یہ جانتے ہوئے کہ نہ اس میں اشعار ہیں نہ شاعرانہ خیالی مضامین ہیں پھر بھی قرآن مجید کے بارے میں یوں کہہ دیتے تھے کہ یہ شاعرانہ باتیں ہیں، ان لوگوں کی تردید کرتے ہوئے فرمایا (وَمَا عَلَّمْنٰہُ الشِّعْرَ ) (ہم نے اپنے نبی ﷺ کو شعر نہیں سکھایا) (وَمَا یَنْبَغِیْ لَہٗ ) (اور نہ شعر کہنا ان کی شان کے لائق ہے) سو جب وہ شعر کہنا جانتے ہی نہیں اور ان کی شان کے لائق ہی نہیں تو تمہارے سامنے شاعرانہ باتیں کیسے بیان کرسکتے ہیں ؟ شاعرانہ تخیلات تو جھوٹے ہوتے ہیں، ان میں جب تک ان کہنی نہ ہو اس وقت تک شعر شعر ہی نہیں ہوتا، پھر یوں بھی دیکھنا لازم ہے کہ یہ جو قرآن کریم آپ پیش فرماتے ہیں یہ شعر نہیں ہے نہ اس میں خیالی مضامین ہیں نہ شاعرانہ تک بندیاں ہیں بلکہ لفظی اعتبار سے نہایت فصیح اور بلیغ اور محکم کلام ہے اور معنوی اعتبار سے اس کے مضامین اعلیٰ درجہ کے محقق ہیں اور سراپا سچ ہیں لیکن دشمن جب اعتراض پر آجائے تو اندھا بن جاتا ہے پھر اسے حق اور ناحق کی کچھ تمیز نہیں رہتی۔
(اِِنْ ھُوَ اِِلَّا ذِکْرٌ وَّقُرْاٰنٌ مُّبِیْنٌ) (وہ تو بس ایک نصیحت ہے اور قرآن مبین ہے) (لِیُنْذِرَ مَنْ کَانَ حَیًّا) (تاکہ وہ اسے ڈرائے جو زندہ ہے) یعنی عقل رکھتا ہے اور اسے حق اور ناحق کی سوجھ بوجھ ہے، بےعقلی کی وجہ سے اموات کے درجہ کو نہیں پہنچا۔ (وَیَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ ) (اور کافروں پر حجت ثابت ہوجائے) یعنی جب قیامت کے دن کافروں کو عذاب ہونے لگے تو ان کے عذر پیش کرنے پر صاف صاف کہہ دیا جائے کہ تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کا رسول پہنچا اس نے اللہ تعالیٰ کی کتاب سنائی ایمان کی دعوت دی لیکن تم نے نہیں مانا اور خود ہی مستحق عذاب ہوئے، آج کوئی معذرت کام دینے والی نہیں۔
Ayahs 36:70–71جانوروں میں اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں، ان میں منافع اور مشارب ہیں
ایمانیات کا تذکرہ فرمانے کے بعد بعض دنیاوی منافع کا تذکرہ فرمایا، ارشاد فرمایا کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ ہم نے ان کے لیے محض اپنی قدرت سے چو پائے پیدا کیے، یہ لوگ چوپایوں کے مالک ہیں، ہر چیز کا حقیقی مالک تو اللہ تعالیٰ ہی ہے انسانوں کو بھی اس نے اپنی مخقول میں سے بعض چیزوں کا مالک بنا دیا ہے، بندے مجازی مالک ہیں اور مالک ہوتے ہوئے ان احکام کے پابند ہیں جو شریعت اسلامیہ کی طرف سے مقرر کیے گئے ہیں، جو شخص ان کی خلاف ورزی کرے گا گنہگار ہوگا، یوں نہ سمجھے کہ میں اس جانور کا مالک ہوں جو چاہوں کروں۔
جانوروں کو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے قابو میں دے دیا ہے، کچھ جانور ایسے ہیں جو سواری کا کام دیتے ہیں اور کچھ ایسے ہیں جو خوراک کے کام میں آتے ہیں ان کا گوشت کھایا جاتا ہے، جب کوئی جانور بدک جائے، یا چمک جائے، قابو سے باہر ہوجائے اس وقت انسان کو احساس ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تسخیر سے یہ جانور ہمارے قابو میں ہے اگر بےقابو ہوجائے تو ہم اس سے کام نہیں لے سکتے۔ اسی لیے تو سواری کی دعا (سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا ھٰذَا وَمَا کُنَّا لَہٗ مُقْرِنِیْنَ وَاِنَّآ اِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ ) تعلیم فرمائی۔ (سورۃ الزخرف رکوع نمبر 1)
Ayahs 36:72–73(وَلَہُمْ فِیْہَا مَنَافِعُ وَمَشَارِبُ اَفَلاَ یَشْکُرُوْنَ ) (اور چوپایوں میں ان کے لیے منافع ہیں اور پینے کی چیزیں ہیں سو کیا یہ شکر نہیں کرتے) اوپر دو منافع کا ذکر تھا، ایک یہ کہ جانور سواری کا کام دیتے ہیں اور دوسرے یہ کہ ان میں سے بعض کا گوشت کھایا جاتا ہے۔ اس آیت میں دوسرے منافع کا بھی اجمالاً ذکر فرما دیا۔ مثلاً ان کی کھالیں دباغت کے بعد کام میں لاتے ہیں اور ان کے بال اور اون کاٹ کر بچھانے اور پہننے کی چیزیں تیار کرتے ہیں اور ان سے کھیتی جوتنے کا کام بھی لیتے ہیں، اور ان کے ذریعے پانی کھینچ کر کھیتوں کو سیراب کرتے ہیں۔ ساتھ ہی مشارب کا بھی ذکر فرمایا، صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ اس سے دودھ مراد ہے اور مشارب مشرب کی جمع ہے جو مشروب کے معنی میں ہے اور دودھ کی چونکہ بہت سے اقسام ہیں اس لیے جمع لایا گیا۔
پھر دودھ سے گھی بنتا ہے۔ لسی بھی بنتی ہے، دہی بھی بنائی جاتی ہے جس کو پیتے ہیں اور استعمال میں لاتے ہیں، یہ بھی جمع لانے کی ایک وجہ ہے۔
بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ مشارب ظرف کا صیغہ ہے اور اس سے برتن مراد ہیں، زمانہ قدیم میں جانوروں کے چمڑوں سے مشکیزے تو بناتے ہی تھے پیالے بھی بنالیتے تھے جس میں دودھ وغیرہ پیتے تھے۔ اگر یہ معنی مراد لیے جائیں تو یہ بھی بعید نہیں ہے اور اس سے مشارب کا جمع لانا اور زیادہ واضح ہوجاتا ہے۔
Ayah 36:74مشرکین کی بیوقوفی
اس کے بعد فرمایا (وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اٰلِہَۃً لَّعَلَّہُمْ یُنْْصَرُوْنَ ) اور ان لوگوں نے اللہ کے علاوہ معبود بنا لیے ہیں جن سے یہ امید رکھتے ہیں کہ یہ ہماری مدد کریں گے۔ (لاَ یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَھُمْ ) (جن لوگوں سے مدد کی امید کر رکھی ہے وہ ان کی مدد نہیں کرسکتے) (وَھُمْ لَہُمْ جُندٌ مُّحْضَرُوْنَ ) (اور وہ ان کے لیے فریق مخالف ہوجائیں گے جو حاضر کردئیے جائیں گے) یعنی اللہ کے سوا جنہیں معبود بنا کر ان سے مدد کی امید باندھے ہوئے ہیں وہ تو ان معبود بنانے والوں کے مخالف ہوجائیں گے اور میدان قیامت میں بالاضطرار حاضر کردئیے جائیں گے اور وہاں حاضر ہو کر جنہوں نے انہیں معبود بنایا تھا ان کی مخالفت کردیں گے۔ سورة مریم میں فرمایا : (وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اٰلِھَۃً لِّیَکُوْنُوْا لَھُمْ عِزًّا کَلَّاسَیَکْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِھِمْ وَیَکُوْنُوْنَ عَلَیْھِمْ ضِدًّا) (اور ان لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر دوسرے معبود تجویز کر رکھے ہیں تاکہ ان کے لیے وہ باعث عزت ہوں، ہرگز نہیں وہ ان کی عبادت ہی کا انکار کریں گے اور ان کے مخالف ہوجائیں گے) وہاں جھوٹی آرزوؤں کی قلعی کھل جائے گی۔
Ayahs 36:75–76(فَلاَ یَحْزُنْکَ قَوْلُہُمْ اِِنَّا نَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَمَا یُعْلِنُوْنَ ) (سو ان کی باتیں آپ کو رنجیدہ نہ کریں بلاشبہ ہم جانتے ہیں جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں) اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی ہے کہ آپ منکرین کی باتوں سے رنجیدہ نہ ہوں، ان میں عناد ہے بات ماننے کو تیار نہیں، لہٰذا ان سے ایمان قبول کرنے کی امید رکھنا ہی غلط ہے آپ اپنے کام میں لگے رہیں اور ان کی باتوں سے آزردہ خاطر نہ ہوں ان کے دل کے حالات اور زبانی باتیں ہمیں سب معلوم ہیں ہم انہیں ان سب چیزوں کی سزا دے دیں گے۔
Ayah 36:77انسان قیامت کا منکر ہے، وہ اپنی خلقت کو بھول گیا
وقوع قیامت اور بعث اور حشر نشر کا جو لوگ انکار کیا کرتے تھے ان میں سے ایک شخص عاص بن وائل بھی تھا، یہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ایک گلی سڑی ہڈی لے کر آیا، اور اس ہڈی کو اپنے ہاتھ سے چورا چورا کیا اور کہنے لگا کہ اے محمد ﷺ جب میں اس ہڈی کو اپنے ہاتھ سے پھینک دوں تو کیا اللہ تعالیٰ اسے زندہ فرما دے گا ؟ آپ نے فرمایا ہاں اللہ تعالیٰ اسے زندہ فرما دے گا پھر تجھے موت دے گا پھر تجھے زندہ فرمائے گا پھر تجھے دوزخ کی آگ میں داخل کرے گا۔ اس پر (اَوَلَمْ یَرَ الْاِِنْسَانُ ) سے لے کر ختم سورة تک آیات نازل ہوئیں جس شخص سے یہ باتیں ہوئی تھیں اس کے بارے میں دیگر اقوال بھی ہیں جو روح المعانی جلد 23: ص 53 میں مذکور ہیں۔
ارشاد فرمایا کیا انسان کو معلوم نہیں ہے کہ ہم نے اسے نطفہ منی سے پیدا کیا ؟ اس کو تو وہ جانتا ہے مانتا ہے، جب نطفہ منی سے اسے پیدا کرسکتے ہیں تو بوسیدہ ہڈیوں کو مرکب کرکے ان میں جان کیوں نہیں ڈال سکتے ؟ قیامت اور حشر نشر کی سچی خبر جو حضرات انبیائے کرام (علیہ السلام) نے دی اس کی تصدیق کرنے کی بجائے انسان بڑا جھگڑالو بن گیا اور ایسا جھگڑالو بنا کہ واضح طور پر وقوع قیامت اور موت کے بعد زندہ ہونے کا انکار کرنے لگا، جب اسے اپنے مبدء فطرت کا علم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ذلیل پانی سے پیدا فرمایا ہے تو اسے جھگڑنے اور یہ بات کہنے کا کیا مقام ہے کہ میں بوسیدہ ہڈیوں سے کیسے پیدا کیا جاؤں گا۔
Ayah 36:78اسی کو فرمایا (وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا) اور اس نے ہمارے بارے میں ایک مثل بیان کردی اور ایسی بات کہہ دی جو فی نفسہ عجیب ہے۔ (وَّنَسِیَ خَلْقَہٗ ) اور وہ یہ بھول گیا کہ وہ کیسے پیدا کیا گیا ہے، (قَالَ مَنْ یُّحْیِ الْعِظَامَ وَھِیَ رَمِیْمٌ) کہ ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا حالانکہ وہ بوسیدہ ہوچکی ہوں گی۔ یہ ہے وہ عجیب مضمون جسے اس نے اللہ کی شان میں بیان کیا، بجائے یہ سمجھنے کے کہ میں جس طرح پیدا ہوا ہوں اسی طرح میرا خالق دوبارہ پیدا فرما دے گا ایسی بات کہنے لگا جس سے انکار بعثت مقصود ہے۔
Ayah 36:79(قُلْ یُحْیِیْہَا الَّذِیْ اَنشَاَھَا اَوَّلَ مَرَّۃٍ ) (آپ جواب میں فرما دیجیے کہ ان ہڈیوں کو وہی زندہ فرمائے گا جس نے انہیں پہلی بار پیدا فرمایا) (وَّھُوَ بِکُلِّ خَلْقٍ عَلِیْمٌ) (اور وہ ہر مخلوق کو جاننے والا ہے) اس میں منکرین کا یہ اشکال دور کردیا کہ ہڈیاں گل جائیں گی ان کے ریزے کہاں کہاں پہنچے ہوں گے پھر کیسے جمع کیے جائیں گے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا کہ جس نے پیدا کیا تھا اسے سب پتہ ہے کہ کون سی چیز کہاں ہے، اسے اس کا علم ہے کہ کون سا ذرہ کہاں پہنچا اور کس جگہ میں ہے۔
Ayah 36:80(الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمْ مِّنَ الشَّجَرِ الْاَخْضَرِ نَارًا فَاِِذَا اَنْتُمْ مِّنْہُ تُوْقِدُوْنَ ) (جس نے تمہارے لیے ہرے درخت سے آگ پیدا کی۔ سو اچانک تم اس میں سے جلاتے ہو) یعنی جس ذات پاک نے ہرے درخت میں سے آگ نکالی حالانکہ درخت پانی کے اثر سے ہرا بھرا ہوتا ہے اور درخت کو نچوڑیں تو اس میں سے پانی نکلتا ہے اور آگ اور پانی آپس میں ضد ہیں، اس کے لیے جماد یعنی ایسی بےجان چیز میں جان ڈالنا کیا مشکل ہے جس میں ظاہری اعتبار سے اس کے مخالف اور منافی کوئی چیز موجود نہیں ہے اور وہ ایک بار زندگی پاچکی ہے۔
صاحب روح المعانی نے لکھا ہے کہ مرخ اور عفار دو درخت ہوتے تھے اور سرسبز ہوتے تھے جن میں سے پانی ٹپکتا تھا، ان میں سے ایک ٹہنی لے کر دوسری کی ٹہنی پر مارتے تھے تو اس سے آگ نکلتی تھی پھر اس آگ سے اپنی ضرورت کے لیے آگ جلا لیتے تھے۔ ان دو درختوں میں سے ایک کا دوسرے پر مارا جانا چقماق کا کام دیتا تھا۔ اسی کو فرمایا (فَاِِذَا اَنْتُمْ مِّنْہُ تُوْقِدُوْنَ ) (سو اچانک تم اس میں سے آگ جلاتے ہو۔ )