36. Surah Yaseen

يسYaseen · 83 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 36:41

وَ اٰیَةٌ لَّهُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّیَّتَهُمْ فِی الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ Open ayah 36:41 in the Quran reader

اور ان لوگوں کے لیے ایک نشانی یہ ہے کہ ہم نے ان کی اولاد کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا۔

کشتی اللہ کی نعمت ہے، اللہ تعالیٰ حفاظت فرماتا ہے اور ڈوبنے سے بچاتا ہے ان آیات میں کشتی کی سواری کا ذکر ہے، کشتیوں کا دریاؤں میں چلنا (مطلق کشتی ہر چھوٹے بڑے جہاز کو شامل ہے) انسانوں کا ان پر سوار ہونا اور سامان لادنا، ایک براعظم سے دوسرے براعظم تک سفر کرنا اس میں اللہ تعالیٰ کا انعام عظیم بھی ہے اور قدرت قاہرہ پر دلالت بھی ہے۔ کشتی کی سواری کے ساتھ یوں بھی فرما دیا۔ (وَخَلَقْنَا لَہُمْ مِّنْ مِّثْلِہٖ مَا یَرْکَبُوْنَ ) (اور ہم نے ان کے لیے کشتی جیسی ایسی چیزیں پیدا فرمائیں جن پر یہ لوگ سوار ہوتے ہیں) یہ سواریاں گھوڑے، خچر اور گدھے ہیں جن کا سورة النحل میں ذکر ہے (وَّالْخَیْلَ وَ الْبِغَالَ وَ الْحَمِیْرَ لِتَرْکَبُوْھَا وَ زِیْنَۃً ) اور اب تو ریل گاڑی اور پٹرول سے چلنے والی گاڑیاں اور ہوائی جہاز بھی سواریوں کا کام دے رہے ہیں اور بوجھ بھی لے جاتے ہیں۔ سورة النحل میں ان نئی سواریوں کی بلکہ ان کے بعد جو سواریاں پیدا ہوں گی ان کے بارے میں پیش گوئی فرما دی (وَیَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ ) (اور اللہ وہ چیزیں پیدا فرمائے گا جو تم نہیں جانتے۔ )
Ayahs 36:42–43

وَ خَلَقْنَا لَهُمْ مِّنْ مِّثْلِهٖ مَا یَرْكَبُوْنَ Open ayah 36:42 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے لیے کشتی جیسی چیزیں پیدا کیں جن پر یہ لوگ سوار ہوتے ہیں۔

وَ اِنْ نَّشَاْ نُغْرِقْهُمْ فَلَا صَرِیْخَ لَهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْقَذُوْنَۙ Open ayah 36:43 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں تو انہیں ڈبو دیں سو ان کی کوئی بھی فریاد رسی کرنے والا نہ ہو اور نہ انہیں چھٹکارا دیا جائے۔

مزید فرمایا کہ یہ لوگ جو جہازوں اور کشتیوں میں امن وامان کے ساتھ سفر کرتے ہیں، یہ امن وامان سے رکھنا اور ڈوبنے سے حفاظت کرنا ہمارا ہی انعام ہے۔ (وَاِِنْ نَّشَاْ نُغْرِقْہُمْ فَلاَ صَرِیْخَ لَہُمْ ) (اور اگر ہم چاہیں تو انہیں غرق کردیں پھر انہیں کوئی فریاد رس نہ ملے) (وَلاَ ھُمْ یُنْقَذُوْنَ ) (اور نہ انہیں خلاصی دی جائے) (اِِلَّا رَحْمَۃً مِّنَّا وَمَتَاعًا اِِلٰی حِیْنٍ ) (مگر یہ کہ ہماری مہربانی ہوجائے اور ایک وقت معین تک انہیں فائدہ دینا منظور ہو) اللہ تعالیٰ اپنی مہربانی سے محفوظ فرماتا ہے اور وقت معین تک فائدہ پہنچاتا ہے۔
Ayahs 36:44–45

اِلَّا رَحْمَةً مِّنَّا وَ مَتَاعًا اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 36:44 in the Quran reader

مگر یہ کہ ہماری مہربانی ہوجائے اور ایک وقت مقررہ تک فائدہ دینا منظور ہو۔

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّقُوْا مَا بَیْنَ اَیْدِیْكُمْ وَ مَا خَلْفَكُمْ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 36:45 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم اس سے ڈرو جو تمہارے آگے ہے اور جو پیچھے ہے تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

اعراض کرنے والوں کی محرومی پھر فرمایا (وَاِذَا قِیْلَ لَہُمُ اتَّقُوْا مَا بَیْنَ اَیْدِیْکُمْ وَمَا خَلْفَکُمْ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ ) اور جب مکذبین و منکرین سے کہا جاتا ہے کہ تم اس عذاب سے ڈرو جو تمہارے سامنے ہے (یعنی غرق کیا جانا یا زمین میں دھنسایا جانا یا مقتول ہونا وغیرہ) اور اس عذاب سے ڈرو جو تمہارے پیچھے ہے یعنی آخرت میں آنے والا ہے تمہارا یہ ڈرنا تم پر رحمت کا سبب بن جائے گا، تو وہ لوگ نصیحت پر کان نہیں دھرتے اور اس سے اعراض کرتے ہیں۔
Ayah 36:46

وَ مَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَ Open ayah 36:46 in the Quran reader

اور ان کے رب کی نشانیوں میں سے جو نشانی بھی ان کے پاس آتی ہے اس کی طرف سے اعراض کرنے والے بن جاتے ہیں۔

(وَمَا تَاْتِیْہِمْ مِّنْ اٰیَۃٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّہِمْ اِِلَّا کَانُوْا عَنْہَا مُعْرِضِیْنَ ) (اور ان کے پاس ان کے رب کی نشانیوں میں سے جو بھی نشانی آتی ہے اس سے اعراض کرنے والے بن جاتے ہیں۔ ) یہ تو ان کا معاملہ عقیدہ توحید کے ساتھ ہوا جسے وہ قبول کرنے کو تیار نہیں۔ آگے مالی انعامات ہوتے ہوئے جو کنجوسی اور ناشکری کرتے تھے اس کا تذکرہ فرمایا کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ اللہ نے تمہیں دیا ہے اس میں سے مسکینوں اور حاجت مندوں پر خرچ کرو، تو خرچ کرنے کی بجائے شرارت سے اور مذاق اڑانے کی نیت سے کافروں نے یوں کہا کیا ہم ان لوگوں کو کھلائیں جو تمہارے ساتھ ایمان قبول کرچکے ہیں اللہ چاہے تو انہیں کھلا دے ان کا مطلب یہ تھا کہ تم کہتے ہو کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی رزق دینے والا ہے تو بس وہی انہیں رزق دیدے گا۔ ان لوگوں نے یہ بھی کہا کہ تم جو ہمیں خرچ کرنے کو کہہ رہے ہو، یہ کھلی ہوئی گمراہی ہے۔ کفار بھی یہ بات مانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی رزق دینے والا ہے اور کھلانے والا ہے لیکن اس بات کو انہوں نے بطور طنز کے ذکر کیا اور مقصد ان کا یہ تھا کہ تم تو یوں کہتے ہو کہ جسے اللہ تعالیٰ چاہے کھلا دے تو اپنے قول کے مطابق اللہ تعالیٰ ہی سے مانگ لو اور انہیں کھلا دو ۔
Ayahs 36:47–48

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ۙ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنُطْعِمُ مَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ اَطْعَمَهٗۤ١ۖۗ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 36:47 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس میں سے خرچ کرو جو اللہ نے تمہیں دیا ہے تو کافر لوگ اہل ایمان سے کہتے ہیں کہ کیا ہم لوگ ان لوگوں کو کھلائیں جنہیں اللہ چاہے تو کھلا دے، بات یہی ہے کہ تم کھلی ہوئی گمراہی میں ہو۔

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 36:48 in the Quran reader

اور وہ کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب ہوگا اگر تم سچے ہو۔

منکرین بعث کا قول اور ان کی تردید توحید کے دلائل اور منکرین کے اعراض کا بیان فرمانے کے بعد وقوع قیامت کے یقینی ہونے کا اور منکرین کے استبعاد کا تذکرہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا (وَیَقُوْلُوْنَ مَتٰی ھٰذَا الْوَعْدُ اِِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ) (اور وہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب ہوگا اگر تم سچے ہو) یعنی تم جو یوں کہتے ہو کہ قیامت آئے گی ہمارے خیال میں یہ تمہاری باتیں ہی باتیں ہیں آتی ہوتی تو کب کی آچکی ہوتی، اس کے واقع ہونے کی جو تم خبر دے رہے ہو اگر تم اس خبر میں سچے ہو تو وقت طے کردو کہ قیامت فلاں وقت آئے گی، یہ بات کہنے سے ان کا مقصود وقوع قیامت کا انکار کرنا تھا، اس انکار کو انہوں نے استفہام انکاری کے پیرایہ میں بیان کیا، اللہ جل شانہٗ نے فرمایا (مَا یَنظُرُوْنَ اِِلَّا صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً تَاْخُذُھُمْ وَھُمْ یَخِصِّمُوْنَ ) یہ لوگ جو قیامت کا انکار کر رہے ہیں ان کے انکار کرنے سے قیامت کا آنا رک نہیں جائے گا، بس یہ لوگ ایک چیخ کے انتظار میں ہیں جو انہیں پکڑ لے گی اور اس وقت یہ لوگ آپس میں جھگڑ رہے ہوں گے اس وقت جو جہاں ہوگا وہیں دھرا رہ جائے گا اور وہیں مرجائے گا، اس وقت نہ کوئی وصیت کرسکیں گے اور نہ اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ سکیں گے۔ (یہ نفخہ اولیٰ یعنی پہلی بار صور پھونکنے کے وقت ہوگا۔ )
Ayahs 36:49–51

مَا یَنْظُرُوْنَ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً تَاْخُذُهُمْ وَ هُمْ یَخِصِّمُوْنَ Open ayah 36:49 in the Quran reader

وہ لوگ بس ایک سخت آواز کے انتظار میں ہیں جو ان کو پکڑ لے اور وہ آپس میں جھگڑ رہے ہوں۔

فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ تَوْصِیَةً وَّ لَاۤ اِلٰۤى اَهْلِهِمْ یَرْجِعُوْنَ۠ Open ayah 36:50 in the Quran reader

سو نہ تو وہ کوئی وصیت کرسکیں گے اور نہ اپنے گھروں کے پاس لوٹ کر جاسکیں گے۔

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَاِذَا هُمْ مِّنَ الْاَجْدَاثِ اِلٰى رَبِّهِمْ یَنْسِلُوْنَ Open ayah 36:51 in the Quran reader

اور صور پھونکا جائے گا سو وہ سب یکایک قبروں سے نکل کر اپنے رب کی طرف جلدی جلدی چلنے لگیں گے۔

نفخ صور کے وقت حیرانی اور پریشانی مزید فرمایا (وَنُفِخَ فِی الصُّورِ فَاِِذَا ھُمْ مِنَ الْاَجْدَاثِ اِِلٰی رَبِّہِمْ یَنْسِلُوْنَ ) (اور صور میں پھونکا جائے گا تو وہ اچانک قبروں سے نکل کر اپنے رب کی طرف (یعنی حساب کی جگہ کے لیے) جلدی جلدی چلنے لگیں گے۔ ) قبروں سے اٹھنے والے (جن کو اللہ تعالیٰ امن وامان نہ دے، گھبراہٹ سے محفوظ نہ فرمائے، وہ) کہیں گے (یٰوَیْلَنَا مَنْ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا) (ہائے ہماری کم بختی ہمیں لیٹنے کی جگہ سے کس نے اٹھا دیا) فرشتے جواب میں کہیں گے (ھٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمٰنُ وَصَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ ) (یہ وہی قیامت کا دن ہے جس کا رحمن نے وعدہ فرمایا تھا اور پیغمبروں نے سچی خبر دی تھی۔ )
Ayahs 36:52–53

قَالُوْا یٰوَیْلَنَا مَنْۢ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا١ؐٚۘ هٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمٰنُ وَ صَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 36:52 in the Quran reader

وہ کہیں گے کہ ہائے ہماری کم بختی ہمیں کس نے ہماری لپیٹنے کی جگہ سے اٹھا دیا، یہ وہی ہے جس کا رحمن نے وعدہ فرمایا اور پیغمبروں نے سچی خبر دی۔

اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ Open ayah 36:53 in the Quran reader

بس وہ ایک چیخ ہوگی سو وہ سب ہمارے پاس حاضر کر دئیے جائیں گے۔

(اِِنْ کَانَتْ اِِلَّا صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً فَاِِذَا ھُمْ جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ ) (بس وہ نفخہ ثانیہ ایک زور کی آواز ہوگی جس سے یکایک سب جمع ہو کر ہمارے پاس حاضر کیے جائیں گے) یہ جمع ہونا حساب کتاب کے لیے ہوگا، حساب ہونے پر جس کو جو سزا ملے گی اس میں کسی جان پر کچھ ظلم نہ ہوگا، نہ کسی کی کوئی نیکی کم کی جائے گی جو لائق ثواب ہو اور نہ کسی کے گناہوں میں کسی ناکردہ گناہ کا اضافہ ہوگا۔ سورة کہف میں فرمایا (وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا وَ لَا یَظْلِمُ رَبُّکَ اَحَدًا) (اور انہوں نے جو عمل کیے تھے ان کو حاضر پائیں گے اور آپ کا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔ )
Ayahs 36:54–55

فَالْیَوْمَ لَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا وَّ لَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 36:54 in the Quran reader

سو اس دن کسی جان پر ذرا سا بھی ظلم نہ ہوگا اور تمہیں صرف انہیں کاموں کا بدلہ ملے گا جو تم کرتے تھے۔

اِنَّ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ الْیَوْمَ فِیْ شُغُلٍ فٰكِهُوْنَۚ Open ayah 36:55 in the Quran reader

بلاشبہ آج جنت والے اپنے مشغلوں میں خوش ہوں گے۔

اہل جنت کی نعمتوں کا تذکرہ، وہ اپنی بیویوں کے ساتھ سایوں میں تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے ان آیات میں اہل جنت کی بعض نعمتوں کا تذکرہ فرمایا، اول تو یہ فرمایا کہ یہ لوگ اپنے اپنے مشغلوں میں خوش ہوں گے۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں : (والمراد بہ ما ھم فی من النعیم الذی شغلھم عن کل ما یخطر بالبال) یعنی شغل سے وہاں کی نعمتوں میں مشغول رہنا مراد ہے، وہاں کی نعمتیں ہر اس چیز کے تصور سے بےپرواہ کردیں گی جن کا تصور آسکتا ہو۔ (فَاکِھُوْنَ ) کا ایک ترجمہ تو وہی ہے جو اوپر لکھا گیا ہے یعنی وہ اپنی نعمتوں میں خوش ہوں گے۔ اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے تمتع اور تلذذ مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ ان کے پاس میوے موجود ہوں گے جن میں سے کھایا کریں گے۔ (روح المعانی) پھر فرمایا کہ اہل جنت اور ان کی بیویاں سایوں میں ہوں گے جہاں ناگوار گرمی ذرا نہ ہوگی (اَراءِکِ ) یعنی مسہریوں پر ہوں گے، یہ (اَرِیْکَۃٌ) کی جمع ہے، (اریکہ) مسہری کو کہتے ہیں۔ (مُتَّکِؤُنَ ) تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے۔ سورة الواقعہ میں فرمایا (عَلٰی سُرُرٍ مَّوْضُوْنَۃٍ مُّتَّکِءِیْنَ عَلَیْہَا مُّتَقَابِلِیْنَ ) (وہ لوگ سونے کے تاروں سے بنے ہوئے تختوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے۔ )
Ayahs 36:56–57

هُمْ وَ اَزْوَاجُهُمْ فِیْ ظِلٰلٍ عَلَى الْاَرَآئِكِ مُتَّكِئُوْنَ Open ayah 36:56 in the Quran reader

وہ اور ان کی بیویاں سایوں میں ہوں گے، مسہریوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے۔

لَهُمْ فِیْهَا فَاكِهَةٌ وَّ لَهُمْ مَّا یَدَّعُوْنَۚۖ Open ayah 36:57 in the Quran reader

اس میں ان کے لیے میوے ہوں گے اور جو کچھ طلب کریں گے انہیں وہ ملے گا۔

مزید فرمایا (لَہُمْ فِیْہَا فَاکِہَۃٌ وَّلَہُمْ مَّا یَدَّعُوْنَ ) (اس میں ان کے لیے میوے ہوں گے اور جو کچھ طلب کریں گے انہیں وہ ملے گا) اس میں یہ بتادیا کہ اہل جنت کی جن نعمتوں کا صریح طور پر تذکرہ کردیا گیا ہے صرف انہی نعمتوں میں انحصار نہیں ہے، وہ لوگ وہاں جو کچھ بھی طلب کریں گے سب کچھ حاضر کردیا جائے گا۔ سورة الزخرف میں فرمایا (وَفِیْہَا مَا تَشْتَہِیْہِ الْاَنْفُسُ وَتَلَذُّ الْاَعْیُنُ ) (اور اس میں وہ چیزیں ملیں گی جن کی ان کے نفسوں کو خواہش ہوگی اور جن سے آنکھوں کو لذت ہوگی۔ )
Ayah 36:58

سَلٰمٌ١۫ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ Open ayah 36:58 in the Quran reader

مہربان رب کی طرف سے ان پر سلام ہوگا۔

اور ان سب سے بڑھ کر یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلام آئے گا جسے (سَلٰمٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ ) فرما کر بتایا ہے، کیا کہنے ان بندوں کے لیے کہ ان کے رب کا سلام آئے۔ حضرت جابر ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اس کے درمیان کہ اہل جنت اپنی نعمتوں میں ہوں گے اچانک ایک نور کی چمک ہوگی اوپر کو اپنے سر اٹھائیں گے تو دیکھیں گے کہ رب جل شانہٗ نے ان پر توجہ فرمائی ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہوگا۔ (اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ یَا اَھْلَ الْجَنَّۃِ ) (مشکوٰۃ المصابیح ص 502 از ابن ماجہ)
Ayah 36:59

وَ امْتَازُوا الْیَوْمَ اَیُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 36:59 in the Quran reader

اور اے مجرمو ! آج علیحدہ ہوجاؤ۔

مجرمین سے خطاب اور ان کے عذاب کا تذکرہ اہل جنت کا اکرام اور انعام بیان فرمانے کے بعد اہل دوزخ کی تباہی اور بربادی کو بیان فرمایا جو قیامت کے دن ان کے سامنے آئے گی۔ اول تو یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ان سے خطاب ہوگا کہ اے مجرمو ! آج تم علیحدہ ہوجاؤ، دنیا میں تم اہل ایمان کے ساتھ ملے جلے رہتے تھے اور قبروں سے نکل کر بھی میدان حشر میں اکٹھے جمع ہوئے ہو اب تم ان سے علیحدہ ہوجاؤ کیونکہ ان کو جنت میں جانا ہے اور تم کو دوزخ میں جانا ہے۔ (یہ آیت بہت زیادہ فکر مند بنانے والی ہے، حضرت امام ابوحنیفہ ؓ ایک مرتبہ پوری رات نفل نماز میں کھڑے رہے اور اسی آیت مبارکہ کو پڑھتے رہے) اس میں فکر کی بات یہ ہے کہ جس وقت یہ حکم ہوگا اس وقت میں کن لوگوں میں ہوں گا مجرمین میں ہوں گا یا مومنین میں۔ کافروں سے یہ خطاب بھی ہوگا (اَلَمْ اَعْہَدْ اِِلَیْکُمْ ) (الآیۃ) اے آدم کی اولاد کیا میں نے تمہیں یہ تاکید نہیں کی تھی کہ شیطان کی عبادت مت کرنا یعنی اس کی فرمانبرداری مت کرنا اور اس کے کہنے کے مطابق عمل نہ کرنا، بیشک وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے اور تمہیں تاکید کی تھی کہ میری عبادت کرنا یہ سیدھا راستہ ہے (تم اس سیدھے راستہ سے ہٹ گئے) (وَلَقَدْ اَضَلَّ مِنْکُمْ ) (الآیۃ) اور یہ بات واقعی ہے کہ شیطان نے تم میں سے کثیر مخلوق کو گمراہ کردیا، کیا تم سمجھ نہیں رکھتے تھے۔ (اب اس گمراہی کا بدلہ ملے گا۔ ) (ھٰذِہٖ جَہَنَّمُ الَّتِیْ کُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ ) یہ جہنم ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ (اِصْلَوْھَا الْیَوْمَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْفُرُوْنَ ) (آج اس میں داخل ہوجاؤ اس وجہ سے کہ تم کفر کرتے تھے۔ )
Ayahs 36:60–65

اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَیْكُمْ یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّیْطٰنَ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 36:60 in the Quran reader

اے بنی آدم کیا میں نے تمہیں تاکید نہیں کی تھی کہ شیطان کی عبادت مت کرنا، بلاشبہ وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے

وَّ اَنِ اعْبُدُوْنِیْ١ؔؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 36:61 in the Quran reader

اور میری عبادت کرنا، یہ سیدھا راستہ ہے۔

وَ لَقَدْ اَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلًّا كَثِیْرًا١ؕ اَفَلَمْ تَكُوْنُوْا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 36:62 in the Quran reader

اور یہ واقعی بات ہے کہ شیطان نے تم میں سے کثیر مخلوق کو گمراہ کردیا، کیا تم سمجھ نہیں رکھتے تھے۔

هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 36:63 in the Quran reader

یہ جہنم ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔

اِصْلَوْهَا الْیَوْمَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 36:64 in the Quran reader

آج تم اس میں داخل ہوجاؤ اپنے کفر کی وجہ سے،

اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰۤى اَفْوَاهِهِمْ وَ تُكَلِّمُنَاۤ اَیْدِیْهِمْ وَ تَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 36:65 in the Quran reader

آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے اور ہم سے ان کے ہاتھ کلام کریں گے اور ان کے پاؤں اس کی گواہی دیں گے جو کچھ وہ کیا کرتے تھے۔

مجرمین کے خلاف ان کے اعضاء کی گواہی کافروں کی سزا بیان فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا (اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰٓی اَفْوَاھِہِمْ ) (ہم آج کے دن ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے) (وَتُکَلِّمُنَآ اَیْدِیْہِمْ ) (اور ہم سے ان کے ہاتھ کلام کریں گے) (وَتَشْہَدُ اَرْجُلُہُمْ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ) اور ان کے پاؤں ان کاموں کی گواہی دیں گے جو وہ کیا کرتے تھے۔ ) اس آیت سے معلوم ہوا کہ مجرمین کی زبانوں پر مہر لگا دی جائے گی اور ہاتھ پاؤں ان کے اعمال بد کی گواہی دیں گے۔ اور سورة النور میں فرمایا (یَوْمَ تَشْہَدُ عَلَیْہِمْ اَلْسِنَتُہُمْ وَاَیْدِیْہِمْ وَاَرْجُلُہُمْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اعمال بد کی گواہی زبان بھی دے گی اس میں کوئی تعارض نہیں ہے کیونکہ قیامت کے دن احوال مختلف ہوں گے، کسی وقت ہاتھ پاؤں بلکہ ان کے چمڑے تک ان کے خلاف گواہی دے دیں گے اور زبان نہ بول سکے گی اور جب زبان کھول دی جائے گی تو زبان سے بھی اپنی نافرمانی کے اقراری ہوجائیں گے۔
Ayah 36:66

وَ لَوْ نَشَآءُ لَطَمَسْنَا عَلٰۤى اَعْیُنِهِمْ فَاسْتَبَقُوا الصِّرَاطَ فَاَنّٰى یُبْصِرُوْنَ Open ayah 36:66 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو ان کی آنکھوں کو مٹا دیتے سو وہ راستے کی طرف دوڑتے پھرتے سو ان کو کہاں نظر آتا۔

اس کے بعد فرمایا (وَلَوْ نَشَآءُ لَطَمَسْنَا عَلٰی اَعْیُنِہِمْ ) (الآیۃ) اگر ہم چاہیں تو ان کی آنکھوں کو ختم کردیں پھر وہ راستے کی طرف دوڑیں سو ان کو کہاں نظر آئے۔ (وَلَوْ نَشَآءُ لَمَسَخْنٰہُمْ ) (الآیۃ) اور اگر ہم چاہیں تو ان کی جگہوں پر ہی ان کی صورتوں کو مسخ کردیں تو انہیں نہ گزرنے کی طاقت رہے نہ واپس ہوسکیں۔ ان دو آیتوں میں یہ بتایا کہ ہم دنیا میں بھی سزا دینے پر قدرت رکھتے ہیں اور ان سزاؤں کی بہت سی صورتیں ہوسکتی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ ہم ان کی آنکھوں کو ختم کردیں یعنی چہرہ کو سپاٹ بنا دیں آنکھیں باقی ہی نہ رہیں، آگے بڑھنا چاہیں تو کچھ بھی نظر نہ آئے، اسی طرح ہم ان ہی کی جگہ رکھتے ہوئے انہیں مسخ بھی کرسکتے ہیں یعنی ان کی صورتیں بدل سکتے ہیں جیسے گذشتہ امتوں میں سے بعض لوگ بندر اور خنزیر بنا دئیے گئے، جب جانور ہی بن جائیں تو جہاں تھے وہیں رہ جائیں نہ آگے بڑھ سکیں نہ پیچھے ہٹ سکیں، جو مقاصد دنیاویہ لے کر نکلے تھے ان کا ہوش ہی نہ رہے گا۔
Ayahs 36:67–68

وَ لَوْ نَشَآءُ لَمَسَخْنٰهُمْ عَلٰى مَكَانَتِهِمْ فَمَا اسْتَطَاعُوْا مُضِیًّا وَّ لَا یَرْجِعُوْنَ۠ Open ayah 36:67 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو انہیں ان کی جگہ پر مسخ کردیتے اس طرح پر کہ وہ جہاں ہیں وہیں رہ جاتے جس کی وجہ سے یہ نہ آگے چل سکتے اور نہ پیچھے کو لوٹ سکتے،

وَ مَنْ نُّعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِی الْخَلْقِ١ؕ اَفَلَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 36:68 in the Quran reader

اور ہم جس کو زیادہ عمر دے دیتے ہیں اسے طبعی حالت پر لوٹا دیتے ہیں، کیا یہ لوگ نہیں سمجھتے۔

انسان قوت کے بعد دوبارہ ضعف کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے اس کے بعد فرمایا (وَمَنْ نُّعَمِّرْہُ ) (الآیۃ) کہ ہم جسے طویل عمر دے دیتے ہیں اس کی حالت طبعی جو اسے پہلے دی گئی تھی اسے الٹ دیتے ہیں یعنی جوانی میں جو قوتیں دی گئی تھیں وہ چلی جاتی ہیں اور ضعف بڑھتا چلا جاتا ہے، سننے اور دیکھنے کی قوتیں ضعیف ہوجاتی ہیں، سمجھنے اور سوچنے کی طاقت بھی کمزور ہوجاتی ہے، گوشت گھل جاتا ہے، کھال لٹک جاتی ہے، یہ تو سب کے سامنے ہے، اسی سے سمجھ لینا چاہیے کہ ہم آنکھوں کو ختم کرسکتے ہیں اور صورتیں مسخ کرسکتے ہیں : (اَفَلاَ یَعْقِلُوْنَ ) (کیا یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی نہیں سمجھتے ہیں۔ ) (قولہ تعالیٰ مضیّاً اصلہ مضوی اجتمعت الواو ساکنۃ مع الیاء فقلبت یاء کما ھو القاعدۃ وادغمت الیاء فی الیاء وقلبت ضمۃ الضاد کسرۃ لتخف وتناسب الیاء) (اللہ تعالیٰ کا قول (مُضیّاً ) یہ اصل میں (مُضْوِیٌ) تھا واؤ ساکنہ اور یاء جمع ہوگئیں تو واؤ کو یا کردیا جیسا کہ قانون ہے پھر یاء کو یاء میں ادغام کیا اور ضاد کے ضمہ کو تخفیف بالیا کی مناسبت کی وجہ سے کسرہ سے تبدیل کردیا۔ )
Ayah 36:69

وَ مَا عَلَّمْنٰهُ الشِّعْرَ وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لَهٗ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ وَّ قُرْاٰنٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 36:69 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو شعر نہیں سکھایا اور نہ شعر ان کے لائق ہے، وہ تو بس ایک نصیحت ہے اور قرآن مبین ہے،

شاعری رسول اللہ ﷺ کی شان کے لائق نہیں، قرآن کریم زندہ قلوب کے لیے نصیحت ہے اور کافروں کے لیے حجت ہے مشرکین عرب اور خاص کر اہل مکہ جب قرآن مجید سنتے تھے تو یہ جانتے ہوئے کہ نہ اس میں اشعار ہیں نہ شاعرانہ خیالی مضامین ہیں پھر بھی قرآن مجید کے بارے میں یوں کہہ دیتے تھے کہ یہ شاعرانہ باتیں ہیں، ان لوگوں کی تردید کرتے ہوئے فرمایا (وَمَا عَلَّمْنٰہُ الشِّعْرَ ) (ہم نے اپنے نبی ﷺ کو شعر نہیں سکھایا) (وَمَا یَنْبَغِیْ لَہٗ ) (اور نہ شعر کہنا ان کی شان کے لائق ہے) سو جب وہ شعر کہنا جانتے ہی نہیں اور ان کی شان کے لائق ہی نہیں تو تمہارے سامنے شاعرانہ باتیں کیسے بیان کرسکتے ہیں ؟ شاعرانہ تخیلات تو جھوٹے ہوتے ہیں، ان میں جب تک ان کہنی نہ ہو اس وقت تک شعر شعر ہی نہیں ہوتا، پھر یوں بھی دیکھنا لازم ہے کہ یہ جو قرآن کریم آپ پیش فرماتے ہیں یہ شعر نہیں ہے نہ اس میں خیالی مضامین ہیں نہ شاعرانہ تک بندیاں ہیں بلکہ لفظی اعتبار سے نہایت فصیح اور بلیغ اور محکم کلام ہے اور معنوی اعتبار سے اس کے مضامین اعلیٰ درجہ کے محقق ہیں اور سراپا سچ ہیں لیکن دشمن جب اعتراض پر آجائے تو اندھا بن جاتا ہے پھر اسے حق اور ناحق کی کچھ تمیز نہیں رہتی۔ (اِِنْ ھُوَ اِِلَّا ذِکْرٌ وَّقُرْاٰنٌ مُّبِیْنٌ) (وہ تو بس ایک نصیحت ہے اور قرآن مبین ہے) (لِیُنْذِرَ مَنْ کَانَ حَیًّا) (تاکہ وہ اسے ڈرائے جو زندہ ہے) یعنی عقل رکھتا ہے اور اسے حق اور ناحق کی سوجھ بوجھ ہے، بےعقلی کی وجہ سے اموات کے درجہ کو نہیں پہنچا۔ (وَیَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ ) (اور کافروں پر حجت ثابت ہوجائے) یعنی جب قیامت کے دن کافروں کو عذاب ہونے لگے تو ان کے عذر پیش کرنے پر صاف صاف کہہ دیا جائے کہ تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کا رسول پہنچا اس نے اللہ تعالیٰ کی کتاب سنائی ایمان کی دعوت دی لیکن تم نے نہیں مانا اور خود ہی مستحق عذاب ہوئے، آج کوئی معذرت کام دینے والی نہیں۔
Ayahs 36:70–71

لِّیُنْذِرَ مَنْ كَانَ حَیًّا وَّ یَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 36:70 in the Quran reader

تاکہ وہ اسے ڈرائے جو زندہ ہے اور کافروں پر حجت ثابت ہوجائے۔

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا خَلَقْنَا لَهُمْ مِّمَّا عَمِلَتْ اَیْدِیْنَاۤ اَنْعَامًا فَهُمْ لَهَا مٰلِكُوْنَ Open ayah 36:71 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان کے لیے ان چیزوں میں سے جو ہمارے ہاتھوں نے پیدا کیں مویشی پیدا کیے ہیں سو وہ ان کے مالک ہیں۔

جانوروں میں اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں، ان میں منافع اور مشارب ہیں ایمانیات کا تذکرہ فرمانے کے بعد بعض دنیاوی منافع کا تذکرہ فرمایا، ارشاد فرمایا کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ ہم نے ان کے لیے محض اپنی قدرت سے چو پائے پیدا کیے، یہ لوگ چوپایوں کے مالک ہیں، ہر چیز کا حقیقی مالک تو اللہ تعالیٰ ہی ہے انسانوں کو بھی اس نے اپنی مخقول میں سے بعض چیزوں کا مالک بنا دیا ہے، بندے مجازی مالک ہیں اور مالک ہوتے ہوئے ان احکام کے پابند ہیں جو شریعت اسلامیہ کی طرف سے مقرر کیے گئے ہیں، جو شخص ان کی خلاف ورزی کرے گا گنہگار ہوگا، یوں نہ سمجھے کہ میں اس جانور کا مالک ہوں جو چاہوں کروں۔ جانوروں کو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے قابو میں دے دیا ہے، کچھ جانور ایسے ہیں جو سواری کا کام دیتے ہیں اور کچھ ایسے ہیں جو خوراک کے کام میں آتے ہیں ان کا گوشت کھایا جاتا ہے، جب کوئی جانور بدک جائے، یا چمک جائے، قابو سے باہر ہوجائے اس وقت انسان کو احساس ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تسخیر سے یہ جانور ہمارے قابو میں ہے اگر بےقابو ہوجائے تو ہم اس سے کام نہیں لے سکتے۔ اسی لیے تو سواری کی دعا (سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا ھٰذَا وَمَا کُنَّا لَہٗ مُقْرِنِیْنَ وَاِنَّآ اِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ ) تعلیم فرمائی۔ (سورۃ الزخرف رکوع نمبر 1)
Ayahs 36:72–73

وَ ذَلَّلْنٰهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوْبُهُمْ وَ مِنْهَا یَاْكُلُوْنَ Open ayah 36:72 in the Quran reader

اور ہم نے ان مویشیوں کو ان کا فرمانبردار بنا دیا ہے سو ان میں سے بعض ایسے ہیں جو ان کی سواریاں ہیں اور بعض ایسے ہیں جنہیں وہ کھاتے ہیں۔

وَ لَهُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ وَ مَشَارِبُ١ؕ اَفَلَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 36:73 in the Quran reader

اور ان مویشیوں میں ان کے لیے منافع ہیں اور پینے کی چیزیں ہیں، سو کیا یہ شکر ادا نہیں کرتے۔

(وَلَہُمْ فِیْہَا مَنَافِعُ وَمَشَارِبُ اَفَلاَ یَشْکُرُوْنَ ) (اور چوپایوں میں ان کے لیے منافع ہیں اور پینے کی چیزیں ہیں سو کیا یہ شکر نہیں کرتے) اوپر دو منافع کا ذکر تھا، ایک یہ کہ جانور سواری کا کام دیتے ہیں اور دوسرے یہ کہ ان میں سے بعض کا گوشت کھایا جاتا ہے۔ اس آیت میں دوسرے منافع کا بھی اجمالاً ذکر فرما دیا۔ مثلاً ان کی کھالیں دباغت کے بعد کام میں لاتے ہیں اور ان کے بال اور اون کاٹ کر بچھانے اور پہننے کی چیزیں تیار کرتے ہیں اور ان سے کھیتی جوتنے کا کام بھی لیتے ہیں، اور ان کے ذریعے پانی کھینچ کر کھیتوں کو سیراب کرتے ہیں۔ ساتھ ہی مشارب کا بھی ذکر فرمایا، صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ اس سے دودھ مراد ہے اور مشارب مشرب کی جمع ہے جو مشروب کے معنی میں ہے اور دودھ کی چونکہ بہت سے اقسام ہیں اس لیے جمع لایا گیا۔ پھر دودھ سے گھی بنتا ہے۔ لسی بھی بنتی ہے، دہی بھی بنائی جاتی ہے جس کو پیتے ہیں اور استعمال میں لاتے ہیں، یہ بھی جمع لانے کی ایک وجہ ہے۔ بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ مشارب ظرف کا صیغہ ہے اور اس سے برتن مراد ہیں، زمانہ قدیم میں جانوروں کے چمڑوں سے مشکیزے تو بناتے ہی تھے پیالے بھی بنالیتے تھے جس میں دودھ وغیرہ پیتے تھے۔ اگر یہ معنی مراد لیے جائیں تو یہ بھی بعید نہیں ہے اور اس سے مشارب کا جمع لانا اور زیادہ واضح ہوجاتا ہے۔
Ayah 36:74

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لَّعَلَّهُمْ یُنْصَرُوْنَؕ Open ayah 36:74 in the Quran reader

اور انہوں نے اللہ کے سوا معبود بنالیے ہیں اس امید پر کہ ان کی مدد کردی جائے گی۔

مشرکین کی بیوقوفی اس کے بعد فرمایا (وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اٰلِہَۃً لَّعَلَّہُمْ یُنْْصَرُوْنَ ) اور ان لوگوں نے اللہ کے علاوہ معبود بنا لیے ہیں جن سے یہ امید رکھتے ہیں کہ یہ ہماری مدد کریں گے۔ (لاَ یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَھُمْ ) (جن لوگوں سے مدد کی امید کر رکھی ہے وہ ان کی مدد نہیں کرسکتے) (وَھُمْ لَہُمْ جُندٌ مُّحْضَرُوْنَ ) (اور وہ ان کے لیے فریق مخالف ہوجائیں گے جو حاضر کردئیے جائیں گے) یعنی اللہ کے سوا جنہیں معبود بنا کر ان سے مدد کی امید باندھے ہوئے ہیں وہ تو ان معبود بنانے والوں کے مخالف ہوجائیں گے اور میدان قیامت میں بالاضطرار حاضر کردئیے جائیں گے اور وہاں حاضر ہو کر جنہوں نے انہیں معبود بنایا تھا ان کی مخالفت کردیں گے۔ سورة مریم میں فرمایا : (وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اٰلِھَۃً لِّیَکُوْنُوْا لَھُمْ عِزًّا کَلَّاسَیَکْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِھِمْ وَیَکُوْنُوْنَ عَلَیْھِمْ ضِدًّا) (اور ان لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر دوسرے معبود تجویز کر رکھے ہیں تاکہ ان کے لیے وہ باعث عزت ہوں، ہرگز نہیں وہ ان کی عبادت ہی کا انکار کریں گے اور ان کے مخالف ہوجائیں گے) وہاں جھوٹی آرزوؤں کی قلعی کھل جائے گی۔
Ayahs 36:75–76

لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَهُمْ١ۙ وَ هُمْ لَهُمْ جُنْدٌ مُّحْضَرُوْنَ Open ayah 36:75 in the Quran reader

وہ ان کی مدد نہیں کرسکتے اور وہ ان کے لیے ایک فریق ہوجائیں گے جو حاضر کردئیے جائیں گے۔

فَلَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ١ۘ اِنَّا نَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 36:76 in the Quran reader

سو آپ کو ان کی باتیں رنجیدہ نہ کریں بلاشبہ ہم جانتے ہیں جو کچھ یہ لوگ چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں۔

(فَلاَ یَحْزُنْکَ قَوْلُہُمْ اِِنَّا نَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَمَا یُعْلِنُوْنَ ) (سو ان کی باتیں آپ کو رنجیدہ نہ کریں بلاشبہ ہم جانتے ہیں جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں) اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی ہے کہ آپ منکرین کی باتوں سے رنجیدہ نہ ہوں، ان میں عناد ہے بات ماننے کو تیار نہیں، لہٰذا ان سے ایمان قبول کرنے کی امید رکھنا ہی غلط ہے آپ اپنے کام میں لگے رہیں اور ان کی باتوں سے آزردہ خاطر نہ ہوں ان کے دل کے حالات اور زبانی باتیں ہمیں سب معلوم ہیں ہم انہیں ان سب چیزوں کی سزا دے دیں گے۔
Ayah 36:77

اَوَ لَمْ یَرَ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 36:77 in the Quran reader

کیا انسان کو اس کا علم نہیں ہے کہ ہم نے اسے نطفہ سے پیدا کیا سو اچانک وہ علانیہ طور پر جھگڑالو ہوگیا۔

انسان قیامت کا منکر ہے، وہ اپنی خلقت کو بھول گیا وقوع قیامت اور بعث اور حشر نشر کا جو لوگ انکار کیا کرتے تھے ان میں سے ایک شخص عاص بن وائل بھی تھا، یہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ایک گلی سڑی ہڈی لے کر آیا، اور اس ہڈی کو اپنے ہاتھ سے چورا چورا کیا اور کہنے لگا کہ اے محمد ﷺ جب میں اس ہڈی کو اپنے ہاتھ سے پھینک دوں تو کیا اللہ تعالیٰ اسے زندہ فرما دے گا ؟ آپ نے فرمایا ہاں اللہ تعالیٰ اسے زندہ فرما دے گا پھر تجھے موت دے گا پھر تجھے زندہ فرمائے گا پھر تجھے دوزخ کی آگ میں داخل کرے گا۔ اس پر (اَوَلَمْ یَرَ الْاِِنْسَانُ ) سے لے کر ختم سورة تک آیات نازل ہوئیں جس شخص سے یہ باتیں ہوئی تھیں اس کے بارے میں دیگر اقوال بھی ہیں جو روح المعانی جلد 23: ص 53 میں مذکور ہیں۔ ارشاد فرمایا کیا انسان کو معلوم نہیں ہے کہ ہم نے اسے نطفہ منی سے پیدا کیا ؟ اس کو تو وہ جانتا ہے مانتا ہے، جب نطفہ منی سے اسے پیدا کرسکتے ہیں تو بوسیدہ ہڈیوں کو مرکب کرکے ان میں جان کیوں نہیں ڈال سکتے ؟ قیامت اور حشر نشر کی سچی خبر جو حضرات انبیائے کرام (علیہ السلام) نے دی اس کی تصدیق کرنے کی بجائے انسان بڑا جھگڑالو بن گیا اور ایسا جھگڑالو بنا کہ واضح طور پر وقوع قیامت اور موت کے بعد زندہ ہونے کا انکار کرنے لگا، جب اسے اپنے مبدء فطرت کا علم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ذلیل پانی سے پیدا فرمایا ہے تو اسے جھگڑنے اور یہ بات کہنے کا کیا مقام ہے کہ میں بوسیدہ ہڈیوں سے کیسے پیدا کیا جاؤں گا۔
Ayah 36:78

وَ ضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّ نَسِیَ خَلْقَهٗ١ؕ قَالَ مَنْ یُّحْیِ الْعِظَامَ وَ هِیَ رَمِیْمٌ Open ayah 36:78 in the Quran reader

اور ہمارے بارے میں مثل بیان کرنے لگا اور اپنی پیدائش کو بھول گیا، اس نے کہا کہ ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا حالانکہ وہ بوسیدہ ہوچکی ہوں گی،

اسی کو فرمایا (وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا) اور اس نے ہمارے بارے میں ایک مثل بیان کردی اور ایسی بات کہہ دی جو فی نفسہ عجیب ہے۔ (وَّنَسِیَ خَلْقَہٗ ) اور وہ یہ بھول گیا کہ وہ کیسے پیدا کیا گیا ہے، (قَالَ مَنْ یُّحْیِ الْعِظَامَ وَھِیَ رَمِیْمٌ) کہ ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا حالانکہ وہ بوسیدہ ہوچکی ہوں گی۔ یہ ہے وہ عجیب مضمون جسے اس نے اللہ کی شان میں بیان کیا، بجائے یہ سمجھنے کے کہ میں جس طرح پیدا ہوا ہوں اسی طرح میرا خالق دوبارہ پیدا فرما دے گا ایسی بات کہنے لگا جس سے انکار بعثت مقصود ہے۔
Ayah 36:79

قُلْ یُحْیِیْهَا الَّذِیْۤ اَنْشَاَهَاۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ؕ وَ هُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِیْمُۙ Open ayah 36:79 in the Quran reader

آپ فرما دیجیے کہ انہیں وہی زندہ فرمائے گا جس نے انہیں پہلی مرتبہ پیدا فرمایا اور وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے

(قُلْ یُحْیِیْہَا الَّذِیْ اَنشَاَھَا اَوَّلَ مَرَّۃٍ ) (آپ جواب میں فرما دیجیے کہ ان ہڈیوں کو وہی زندہ فرمائے گا جس نے انہیں پہلی بار پیدا فرمایا) (وَّھُوَ بِکُلِّ خَلْقٍ عَلِیْمٌ) (اور وہ ہر مخلوق کو جاننے والا ہے) اس میں منکرین کا یہ اشکال دور کردیا کہ ہڈیاں گل جائیں گی ان کے ریزے کہاں کہاں پہنچے ہوں گے پھر کیسے جمع کیے جائیں گے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا کہ جس نے پیدا کیا تھا اسے سب پتہ ہے کہ کون سی چیز کہاں ہے، اسے اس کا علم ہے کہ کون سا ذرہ کہاں پہنچا اور کس جگہ میں ہے۔
Ayah 36:80

اِ۟لَّذِیْ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الشَّجَرِ الْاَخْضَرِ نَارًا فَاِذَاۤ اَنْتُمْ مِّنْهُ تُوْقِدُوْنَ Open ayah 36:80 in the Quran reader

جس نے تمہارے لیے ہرے درخت سے آگ پیدا کی سو اچانک تم اس میں سے جلاتے ہو۔

(الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمْ مِّنَ الشَّجَرِ الْاَخْضَرِ نَارًا فَاِِذَا اَنْتُمْ مِّنْہُ تُوْقِدُوْنَ ) (جس نے تمہارے لیے ہرے درخت سے آگ پیدا کی۔ سو اچانک تم اس میں سے جلاتے ہو) یعنی جس ذات پاک نے ہرے درخت میں سے آگ نکالی حالانکہ درخت پانی کے اثر سے ہرا بھرا ہوتا ہے اور درخت کو نچوڑیں تو اس میں سے پانی نکلتا ہے اور آگ اور پانی آپس میں ضد ہیں، اس کے لیے جماد یعنی ایسی بےجان چیز میں جان ڈالنا کیا مشکل ہے جس میں ظاہری اعتبار سے اس کے مخالف اور منافی کوئی چیز موجود نہیں ہے اور وہ ایک بار زندگی پاچکی ہے۔ صاحب روح المعانی نے لکھا ہے کہ مرخ اور عفار دو درخت ہوتے تھے اور سرسبز ہوتے تھے جن میں سے پانی ٹپکتا تھا، ان میں سے ایک ٹہنی لے کر دوسری کی ٹہنی پر مارتے تھے تو اس سے آگ نکلتی تھی پھر اس آگ سے اپنی ضرورت کے لیے آگ جلا لیتے تھے۔ ان دو درختوں میں سے ایک کا دوسرے پر مارا جانا چقماق کا کام دیتا تھا۔ اسی کو فرمایا (فَاِِذَا اَنْتُمْ مِّنْہُ تُوْقِدُوْنَ ) (سو اچانک تم اس میں سے آگ جلاتے ہو۔ )