Ayahs 35:41–42اس کے بعد اللہ جل شانہٗ کی قوت قاہرہ ایک اور طریقہ پر بیان فرمائی اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں کو اور زمینوں کو تھامے ہوئے ہے، ان کی جو جگہ مقرر ہے وہاں سے نہیں ٹل سکتے (اپنے محور ہی میں رہتے ہیں) اور اگر بالفرض اپنی مقررہ جگہ کو چھوڑ دیں تو اس کے علاوہ کوئی ان کو تھام نہیں سکتا، آسمان و زمین اسی کی مخلوق ہیں، اسی نے ان کی جگہ مقرر فرمائی ہے، کسی کو ان میں ذرا سے تصرف کا بھی اختیار نہیں ہے وہی ان کی حفاظت فرماتا ہے ہی ان کا مالک ہے، ان میں جو چیزیں ہیں وہ ان کا بھی خالق ومالک ہے پھر اس کے علاوہ دوسرا کوئی مستحق عبادت کیسے ہوسکتا ہے۔ (اِنَّہٗ کَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا) (بےشک وہ حلیم ہے (عذاب دینے میں جلدی نہیں فرماتا) غفور بھی ہے) سب کچھ معاف کرنے والا ہے۔
آسمان و زمین کے تھامنے کی تشریح میں یہ جو عرض کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے جو ان کی جگہ مقرر فرما دی ہے اس کے علاوہ دوسری جگہ منتقل نہیں ہوسکتے، اس معنی کو لینے سے آسمان اور زمین کی حرکت کے بارے میں کوئی اشکال نہیں رہتا وہ اسی جگہ میں رہتے ہوئے حرکت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے مقرر فرمائی ہے دونوں حرکت کرتے ہوں یا ایک متحرک ہو (حسب ما یقول اصحاب الفلسفۃ القدیمۃ والجدیدۃ) بہرحال اللہ تعالیٰ کی مقرر فرمودہ حد میں رہتے ہیں۔
Ayah 35:43قریش مکہ نے قسم کھا کر کہا کہ ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا آگیا تو ہم دوسروں سے بڑھ کر ہدایت والے ہوں گے، پھر جب ڈرانے والا آگیا تو متکبر بن گئے اور حق سے منحرف ہوگئے
قریش مکہ مشرک تھے، تجارت کے لیے شام جایا کرتے تھے وہاں نصاریٰ کی حکومت تھی اور یہودیوں کا بھی انہیں کچھ علم تھا جب انہیں یہ پتہ چلا کہ ان دونوں قوموں نے اللہ کے پیغمبروں کی تکذیب کی ہے تو کہنے لگے کہ یہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت ہو ان کے پاس اللہ کے رسول آئے تو انہیں جھٹلا دیا ہم اللہ کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ اگر ہمارے پاس کوئی رسول آگیا تو ان لوگوں سے بڑھ کر ہدایت پر ہوں گے، یہ بات انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے کہی تھی، پھر جب آپ کی بعثت ہوئی تو نہ صرف یہ کہ آپ کی تکذیب کی بلکہ آپ کی تکذیب کی اور تنفر ہی کو اختیار کرلیا، اور نفرت اختیار کرنے کا باعث یہ تھا کہ ایمان قبول کرنے کو اپنی شان کے خلاف سمجھتے تھے جو سراسر تکبر تھا، یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے خلاف بری بری تدبیریں کرتے تھے، پھر جو تدبیریں کیں وہ خود الٹی انہیں کے گلے پڑیں، جن حضرات کو اسلام سے روکتے تھے ان کے روکنے میں کامیاب نہ ہوئے اور یہ روکنے والے غزوہ بدر میں مقتول ہوئے اور سارا تکبر دھرا رہ گیا۔ اللہ تعالیٰ نے بطور قاعدہ کلیہ اس کو یوں بیان فرمایا : (وَلَا یَحِیْقُ الْمَکْرُالسَّیِّئُ اِلَّا بِاَھْلِہٖ ) (اور بری تدبیروں کا وبال ان تدبیر والوں ہی پر پڑتا ہے) یہ تکوینی قانون ہے کہ جو شخص کسی کو دکھ دینے کی تدبیریں کرے گا وہ خود اسی پر پڑے گی، عموماً ایسا دیکھا جاتا رہا ہے اور اس کے بارے میں یہ جملہ مشہور ہوگیا ہے : (من حفر بئر لاخیہ فقد وقع فیہ) (جو شخص اپنے بھائی کے لیے کنواں کھودے گا وہ خود اسی میں گرے گا۔ )
(فَھَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا سُنَّتَ الْاَوَّلِیْنَ ) (سو کیا وہ پرانے لوگوں کے دستور کا انتظام کر رہے ہیں) (فَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰہِ تَبْدِیْلًا) (سو آپ ہرگز اللہ کے دستور میں تبدیلی نہ پائیں گے) (وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰہِ تَحْوِیْلًا) (اور آپ ہرگز اللہ کے دستور میں منتقل ہونا نہ پائیں گے) یعنی اللہ کا یہ دستور ہے کہ کافروں پر عذاب ہوگا خواہ دنیا و آخرت دونوں میں ہو، خواہ صرف آخرت میں ہو، اور یہ بھی دستور ہے کہ جو عذاب کا مستحق ہو اسی کو عذاب ہوتا ہے، ایسا نہیں کہ انہیں چھوڑ کر کسی دوسری قوم کو عذاب ہوجائے جو مستحق عذاب نہ ہو، ان کا ڈھنگ اور طریقہ کار ایسا ہے جیسے عذاب کے منتظر ہوں اور وجہ اس کی عناد اور باطل پر اصرار ہے، چونکہ عذاب میں مبتلا ہونے کا یقین نہیں اس لیے عذاب کے انتظار میں بیٹھے ہیں، انتظار کرنے سے عذاب سے حفاظت نہ ہوجائے گی آنے والا عذاب آکر رہے گا۔
Ayah 35:44زمین میں چل پھر کر دیکھتے ہیں پھر بھی سابقہ امتوں کے انجام سے عبرت حاصل نہیں کرتے، لوگوں کے اعمال کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مواخذہ فرماتا تو زمین کی پشت پر کسی کو بھی نہ چھوڑتا
مکہ والے تجارت کے لیے شام کے اسفار میں جایا کرتے تھے راستہ میں قوم ثمود کی برباد شدہ بستیاں پڑتی تھیں اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم بستی (سدوم) کے پاس سے بھی گزر ہوتا تھا اس لیے انہیں یاد دہانی فرمائی، اور فرمایا کہ کیا یہ لوگ زمین میں نہیں چلے پھرے تاکہ ان لوگوں کا انجام دیکھ لیتے جو ان سے پہلے تھے، یعنی جن قوموں پر عذاب آیا اور ہلاک کیے گئے ان کا حال انہیں معلوم ہے ؟ ان کی آبادیوں کے نشان دیکھتے ہوئے گزرتے ہیں پھر بھی عبرت حاصل نہیں کرتے، اور عبرت کے لیے مزید بات یہ ہے کہ وہ لوگ ان سے قوت میں بڑھے ہوئے تھے جب وہ ہلاک کردئیے گئے تو ان کی تو حیثیت ہی کیا ہے۔
(وَمَا کَان اللّٰہُ لِیُعْجِزَہٗ مِنْ شَیْءٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَلَا فِی الْاَرْضِ ) اور اللہ تعالیٰ کو پوری پوری قدرت ہے جو چاہے کرے اور جسے چاہے عذاب دے، آسمانوں اور زمین میں اسے کوئی چیز عاجز نہیں کرسکتی۔
(اِنَّہٗ کَانَ عَلِیْمًا قَدِیْرًا) (بلاشبہ وہ بڑے علم والا ہے بڑی قدرت والا ہے) کوئی شخص یا کوئی جماعت یہ نہ سمجھے کہ اسے ہمارے کرتوتوں کا علم نہیں ہے اور یہ بھی نہ سمجھے کہ وہ عذاب دینے پر قدرت نہیں رکھتا، وہ تو ہر چیز پر قادر ہے اس کی گرفت سے بچ کر کوئی کہیں نہیں جاسکتا۔
Ayah 35:45سورت کے ختم پر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ عذاب دینے میں جلدی نہیں فرماتا، دنیا میں لوگوں کا حال یہ ہے کہ اپنے کفر کی وجہ سے بربادی کے مستحق ہیں اگر اللہ تعالیٰ ان کا مواخذہ فرمائے تو زمین پر کسی چلنے پھرنے والے کو نہ چھوڑے، لیکن اس کے یہاں تاخیر ہے اور ڈھیل ہے اس نے جو اجل اور میعاد مقرر فرما رکھی ہے جب وہ آئے گی تو عذاب آجائے گا۔ اور کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ کتنے کافر گزر گئے اور کتنوں نے بد عملی کرلی ان سب کی فہرست کہاں ہے اور ہر ایک کا مواخذہ کیسے ہوگا، جو شخص ایسا خیال کرتا ہے یہ اس کی جہالت کی بات ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ شانہٗ اپنے ہر ہر بندہ کو دیکھتا ہے اور سب کچھ اس کے علم میں ہے، جب مقررہ میعاد آجائے گی تو اپنے علم کے مطابق سزا دے دے گا۔ اسی کو فرمایا : (فَاِذَا جَآءَ اَجَلُھُمْ فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِعِبَادِہٖ بَصِیْرًا) (سو جب ان کی اجل آجائے گی تو اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ اپنے بندوں کو دیکھنے والا ہے۔ )
یہاں جو یہ اشکال ہوتا ہے کہ زمین کے باشندوں میں سب کی ہلاکت ہوگی تو اہل ایمان کو بھی شامل ہوگی، وہ ہلاکت میں کیوں شریک کیے جائیں گے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تکوینی قانون کے مطابق ہلاک تو سبھی ہوں گے لیکن قیامت کے دن اپنے اپنے اعمال کے مطابق اٹھائے جائیں گے، اہل کفر دوزخ میں اور اہل ایمان جنت میں جائیں گے۔
حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم پر عذاب نازل فرماتا ہے تو جو بھی لوگ وہاں موجود ہوں ان سب کو عذاب پہنچ جاتا ہے پھر اپنے اپنے اعمال کے مطابق قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے۔ (رواہ البخاری ص 1053)
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ایک لشکر کعبہ شریف پر حملہ کرنے کے لیے آئے گا جب وہ میدان میں ہوں گے تو اول سے آخر تک سب کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اول سے آخر تک سب کو کیسے دھنسا دیا جائے گا حالانکہ ان میں وہ لوگ بھی ہوں گے جو خریدو فروخت کے لیے نکلے ہوں گے اور وہ لوگ بھی ہوں گے جو ان میں شامل نہ ہوں گے، آپ نے فرمایا کہ دھنسائے تو جائیں گے سب ہی پھر اپنی اپنی نیت پر اٹھائے جائیں گے۔ (رواہ البخاری ج 1: ص 284)
کہیں لکھا تو نہیں دیکھا لیکن اللہ تعالیٰ کی رحمت کے پیش نظر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اہل ایمان کے لیے یہ ہلاکت باعث اجر وثواب ہوگی اور محض ایمان و اعمال صالحہ پر جو اجر ملتا ہے اس مجموعی عذاب میں شامل کیے جانے کی وجہ سے مزید اجر ملے گا اور اس تکلیف کو مستقل ثواب کا سبب بنا دیا جائے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم
ھذا اٰخر التفسیر من سورة فاطر فی السباع من ایام ربیع الاول
1417 ھ من الھجرۃ النبویۃ علی صاحبھا الصلوٰۃ والتحیۃ