34. Surah Saba

سبإSheba · 54 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 34:28

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 34:28 in the Quran reader

اور ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر سارے انسانوں کے لیے بشیر و نذیر بنا کر، لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے۔

رسول اللہ ﷺ کی بعثت عامہ کا اعلان اس آیت کریمہ میں نبی امی سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت عامہ کا ذکر ہے، چونکہ آپ کی بعثت عامہ ہے اس لیے ہر فرد و بشر کے لیے آپ اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول ہیں، آپ کا دامن پکڑے بغیر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کو راضی نہیں کرسکتا خواہ کتنی ہی عبادت کرتا ہو، جو ہدایت اللہ کے یہاں معتبر ہے وہ خاتم النبیین رسول الانس والجان کے اتباع میں مرکوز ہے اور منحصر ہے۔ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت عامہ کا دیگر مواضع میں بھی قرآن مجید میں تذکرہ فرمایا ہے، سورة اعراف میں فرمایا : (قُلْ یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعَانِ الَّذِیْ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ یُحْیٖ وَیُمِیْتُ فَاٰمِنُوْا باللّٰہِ وَرَسُوْلِہِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ باللّٰہِ وَکَلِمٰتِہٖ وَاتَّبِعُوْہُ لَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَ ) (آپ فرما دیجیے کہ اے لوگو ! بلاشبہ میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں، جس کے لیے بادشاہت ہے آسمانوں کی اور زمین کی، اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ زندہ کرتا ہے اور موت دیتا ہے، سو ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر جو نبی امی ہے جو ایمان لاتا ہے اللہ پر اور اس کے کلمات پر، اور اس کا اتباع کرو تاکہ تم ہدایت پا جاؤ۔ ) سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کو جو اللہ تعالیٰ شانہٗ نے خصوصی امتیازات اور فضائل عطا فرمائے ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپ کی بعثت عام ہے۔ حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے پانچ وہ چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں۔ (1) رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی، ایک ماہ کی مسافت تک دشمن مجھ سے ڈرتے ہیں۔ (2) پوری زمین میرے لیے سجدہ گاہ اور پاک کرنے والی بنا دی گئی (کہ مسجد کے علاوہ بھی ہر پاک جگہ نماز ہوتی ہے، پانی نہ ہونے کی صورت میں تیمم سے حدث اصغر اور حدث اکبر دور ہوجاتے ہیں) سو میری امت کے جس شخص کو جہاں بھی نماز کا وقت ہوجائے نماز پڑھ لے۔ (3) میرے لیے غنیمت کے مال حلال کردئیے گئے اور مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں کیے گئے۔ (4) اور مجھے شفاعت عطا کی گئی (یعنی شفاعت کبریٰ ) جو قیامت کے دن ساری مخلوق کے لیے ہوگی۔ (5) اور مجھ سے پہلے نبی خاص کر اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا اور میں عامۃً تمام انسانوں کی طرف مبعوث ہوا ہوں۔ (رواہ البخاری جلد 1: ص 48) آپ نے یہ بھی ارشاد فرمایا : (والذی نفس محمد بیدہ لا یسمع بی احد من ھذہ الامۃ یھودی ولا نصرانی ثم یموت ولم یؤمن بالذی ارسلت بہ الاکان من اصحاب لنار) (رواہ مسلم ج 1: ص 86) (قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد کی جان ہے اس امت میں جس کسی کو بھی میری بعثت کا علم ہو خواہ یہودی ہو خواہ نصرانی ہو پھر وہ اس حالت میں مرجائے کہ میں جو دین دے کر بھیجا گیا ہوں اس کو نہ مانا تو وہ ضرور دوزخ میں سے ہوگا۔ ) سورۂ آل عمران میں فرمایا : (اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلَامُ ) (بےشک دین اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہے) اور فرمایا (وَمَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ وَ ھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ) (اور جو شخص اسلام کے علاوہ کسی دوسرے دین کو چاہے گا وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ آخرت میں تباہ کار لوگوں میں سے ہوگا۔ ) جب سے آپ کی بعثت ہوئی ہے یہودی، نصرانی، فرقہ صابئین اور ہر قوم اور ہر اہل مذہب کے لیے معیار نجات صرف سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اور کسی قسم کا کوئی ایمان معتبر نہیں صرف یہی ایمان معتبر ہے کہ آنحضرت ﷺ پر ایمان لائے اور آپ نے جو کچھ بتایا ہے اس کو دل سے مانے اور تسلیم کرے۔
Ayahs 34:29–30

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 34:29 in the Quran reader

اور وہ کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو،

قُلْ لَّكُمْ مِّیْعَادُ یَوْمٍ لَّا تَسْتَاْخِرُوْنَ عَنْهُ سَاعَةً وَّ لَا تَسْتَقْدِمُوْنَ۠ Open ayah 34:30 in the Quran reader

آپ فرما دیجیے کہ تمہارے لیے ایک خاص دن کا وعدہ ہے اس سے نہ ایک ساعت پیچھے ہٹ سکتے ہو اور نہ آگے بڑھ سکتے ہو۔

قیامت کا وقت مقرر ہے اس میں تقدیم و تاخیر نہیں ہوسکتی ہے قیامت کے منکرین وقوع قیامت کا انکار کرتے ہوئے یوں بھی کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا اور قیامت کس دن آئے گی ؟ مقصود ان کا یہ تھا کہ قیامت آنے والی ہوتی تو آجاتی اور اگر آنے میں دیر ہے تو اس کی تاریخ بتادو، مقصد یہ تھا کہ نہ تو اب تک قیامت آئی ہے نہ آنے کی تاریخ بتاتے ہو، معلوم ہوا کہ یہ محض باتیں ہی باتیں ہیں، ان کے جواب میں فرمایا کہ تمہارے لیے ایک خاص دن مقرر ہے وہ اسی دن آئے گا نہ اس سے پیچھے ہٹ سکتے ہو نہ آگے بڑھ سکتے ہو، اپنے مقررہ وقت پر آہی جائے گی، تمہیں تاریخ نہ بتائی جائے تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس کا وقوع ہی نہیں ہوگا۔
Ayahs 34:31–33

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ بِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ لَا بِالَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ١ؕ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۖۚ یَرْجِعُ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضِ اِ۟لْقَوْلَ١ۚ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا لَوْ لَاۤ اَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 34:31 in the Quran reader

اور کافروں نے کہا کہ ہم ہرگز اس قرآن پر اور اس سے پہلے جو کتابیں تھیں ان پر ایمان نہ لائیں گے اور اگر آپ اس وقت کی حالت دیکھ لیں جبکہ یہ ظالم لوگ اپنے رب کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے، ہر ایک دوسرے پر بات کو ڈال رہا ہوگا۔ نیچے درجہ والے لوگ بڑے لوگوں سے کہیں گے اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور ایمان لائے ہوتے،

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْۤا اَنَحْنُ صَدَدْنٰكُمْ عَنِ الْهُدٰى بَعْدَ اِذْ جَآءَكُمْ بَلْ كُنْتُمْ مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 34:32 in the Quran reader

بڑے لوگ چھوٹے درجے کے لوگوں سے کہیں گے کیا ہم نے تمہیں ہدایت سے روک دیا تھا اس کے بعد کہ تمہارے پاس ہدایت آئی، بلکہ بات یہ ہے کہ تم مجرم تھے،

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا بَلْ مَكْرُ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ اِذْ تَاْمُرُوْنَنَاۤ اَنْ نَّكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ نَجْعَلَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ؕ وَ جَعَلْنَا الْاَغْلٰلَ فِیْۤ اَعْنَاقِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 34:33 in the Quran reader

اور نیچے درجے والے ان لوگوں سے کہیں گے جو بڑے تھے بلکہ رات دن تمہاری مکاری نے روکا تھا جبکہ تم ہمیں حکم دیتے تھے کہ ہم اللہ کے ساتھ شرک کریں اور اس کے لیے شریک قرار دیں اور جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو ندامت کو چھپالیں گے، اور ہم کافروں کی گردنوں میں طوق ڈال دیں گے، انہیں صرف انہیں کاموں کا بدلہ دیا جائے گا جو وہ کیا کرتے تھے،

عذاب کی وجہ سے کافروں کی بدحالی اور ایک دوسرے پر جرم کو ٹالنے کی گفتگو ان آیات میں قیامت کے دن کا ایک منظر بیان فرمایا ہے جو کافروں کے آپس کے سوال و جواب سے متعلق ہے وہاں سبھی چھوٹے بڑے موجود ہوں گے، کفر کی سزا سامنے ہوگی، دوزخ کا داخلہ یقینی ہوچکا ہوگا، ان میں سے جو لوگ دنیا میں چھوٹے یعنی کم درجہ کے لوگ تھے وہ اپنے بڑوں سے (جن کی دنیا میں بات مانتے تھے) کہیں گے کہ تم نے ہی ہمیں برباد کیا اگر تم نہ ہوتے تو ہم اللہ کے نبیوں پر اور اس کی کتابوں پر ایمان لے آتے اور آج کے دن پر بھی ایمان لاتے، ان کے بڑے کہیں گے کہ اپنا قصور ہمارے سر کیوں منڈھ رہے ہو، اپنی کرنی ہمارے ذمہ کیوں لگاتے ہو ؟ کیا ہم نے تمہیں ہدایت سے روکا تھا، جب تمہارے پاس ہدایت آگئی تو ہم نے کوئی زبردستی نہیں کی تھی اور کسی جبر واکراہ سے کام لے کر تمہیں ایمان سے نہیں روکا تھا، ایسا تو نہیں ہوا کہ تم نے ایمان قبول کرنے کا ارادہ کیا ہو اور ہم نے تمہیں جبر واکراہ کے ساتھ روک دیا ہو، اپنی آئی ہم پر کیوں لگاتے ہو ؟ بات یہ ہے کہ تم خود ہی مجرم ہو۔ یہ جواب سن کر چھوٹے بڑوں سے کہیں گے کہ تم نے تلوار لے کر جبر واکراہ کے ساتھ تو ہمیں ایمان سے نہیں روکا لیکن رات دن تم مکاری کرتے تھے اور ایسی تدبیریں کرتے تھے کہ ہم ایمان نہ لائیں اور کفر پر جمے رہیں تاکہ تمہاری جماعت سے نہ نکلیں تم ہمیں حکم دیتے تھے کہ ہم اللہ کے ساتھ کفر کریں اور اللہ کے لیے شریک تجویز کریں۔ تمہاری یہ محنتیں اور تدبیریں اپنا کام کرگئیں اور ہم کفر پر جمے رہے اور موت آنے تک کفر ہی پر رہے، تمہاری ان حرکتوں کی وجہ سے آج ہم اس مصیبت میں پھنسے ہیں دونوں فریق چھوٹے اور بڑے جب عذاب دیکھیں گے تو نادم و پشیمان ہوں گے لیکن ندامت کا اظہار نہ کریں گے اپنے دلوں ہی میں پشیمان ہوتے رہیں گے۔ (لیکن پشیمانی کچھ فائدہ نہ دے گی۔ ) اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دئیے جائیں گے اور اسی حالت میں دوزخ میں داخل کردئیے جائیں گے اور ہر ایک کو اپنے کیے کا بدلہ ملے گا ایسا نہ ہوگا کہ بغیر کسی جرم کے سزا مل جائے یا جرم سے زیادہ سزا دے دی جائے۔
Ayahs 34:34–35

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤ١ۙ اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 34:34 in the Quran reader

اور کسی بستی میں ہم نے کوئی ڈرانے والا نہیں بھیجا مگر ہوا یہ کہ ان کے خوشحال لوگوں نے کہا کہ بلاشبہ تم جو کچھ دے کر بھیجے گئے ہو ہم اسے نہیں مانتے،

وَ قَالُوْا نَحْنُ اَكْثَرُ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا١ۙ وَّ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ Open ayah 34:35 in the Quran reader

اور انہوں نے کہا کہ ہمارے اموال و اولاد تم سے زیادہ ہیں اور ہمیں عذاب ہونے والا نہیں ہے۔

(وَمَآ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَۃٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ ) (الآیتین) اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے جس کسی بھی بستی میں کوئی ڈرانے والا یعنی اپنا کوئی رسول بھیجا تو وہاں کے خوشحال لوگوں نے (جنہیں مال اور دولت پر گھمنڈ تھا اور رزق کی وسعت اور نعمت کثیرہ کی وجہ سے مست تھے) یوں کہا کہ تم لوگ جو دین لے کر آئے ہو ہم اسے نہیں مانتے، مال کے غرور نے انہیں نبیوں پر ایمان لانے سے روکا اور کہنے لگے کہ ہم ہی اللہ کے مقبول بندے ہیں، اگر ہم سے اللہ ناراض ہوتا تو ہمیں زیادہ مال اور زیادہ اولاد سے کیوں نوازتا، مال اور اولاد میں ہم تم سے بڑھ کر ہیں، جب دنیا میں ہمارا یہ حال ہے تو آخرت میں بھی ہمارا حال اچھا ہی رہے گا نہ یہاں تکلیف ہے نہ وہاں عذاب ہوگا۔ (اول تو وہ قیامت کے قائل ہی نہ تھے لیکن بطور فرض و تقدیر انہوں نے کہا کہ اگر قیامت آہی گئی تو ہم وہاں بھی عذاب سے محفوظ رہیں گے۔ )
Ayah 34:36

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 34:36 in the Quran reader

آپ فرما دیجیے کہ بلاشبہ میرا رب جس کے لیے چاہے روزی کو فراخ کردیتا ہے اور جس کے لیے چاہے تنگ کردیتا ہے اور لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے۔

ان کی تردید میں فرمایا : (قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ ) (الآیۃ) آپ فرما دیجیے کہ میرا رب جس کے لیے چاہے رزق فراخ کردیتا ہے اور جس کے لیے چاہے تنگ کردیتا ہے۔ دنیا میں رزق کا زیادہ ہونا اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول ہونے کی دلیل نہیں ہے جیسا کہ رزق کا تنگ ہونا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں نامقبول ہونے کی دلیل نہیں ہے، وہ اپنی حکمت کے مطابق کبھی نافرمان کی روزی وسیع فرما دیتا ہے اور فرمانبرداروں کی روزی تنگ فرما دیتا ہے اور اس کا عکس بھی ہوتا رہتا ہے، بات یہ ہے کہ اکثر لوگ اللہ تعالیٰ کی حکمتوں کو نہیں جانتے اور یہ بھی نہیں جانتے کہ رزق کی فراخی اللہ تعالیٰ کے ہاں معزز ہونے کی اور رزق کی تنگی اللہ تعالیٰ کے ہاں ذلیل ہونے کی دلیل نہیں ہے۔
Ayah 34:37

وَ مَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ بِالَّتِیْ تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْفٰۤى اِلَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا١٘ فَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ جَزَآءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا وَ هُمْ فِی الْغُرُفٰتِ اٰمِنُوْنَ Open ayah 34:37 in the Quran reader

اور تمہارے اموال اور اولاد ایسے نہیں ہیں جو تمہیں ہمارا مقرب بنا دیں مگر ہاں جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے، سو ان لوگوں کے لیے ان کے اعمال کی وجہ سے ایسا صلہ ہے جو بڑھا چڑھا کردیا جائے گا اور وہ بالا خانوں میں امن و چین سے ہوں گے۔

اس کے بعد ایک قاعدہ کلیہ بیان فرمایا (وَمَآ اَمْوَالُکُمْ وَلَآ اَوْلَادُکُمْ ) (الآیۃ) ارشاد فرمایا کہ تمہارے اموال اور اولاد تمہیں ہمارا مقرب بنانے والے نہیں ہیں، جو کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ چونکہ میرے پاس مال اولاد زیادہ ہے اس لیے اللہ کا مقرب ہوں، اور اپنے اعمال کو نہیں دیکھتا وہ شخص احمق ہے اور گمراہ ہے، (اِلَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا) اللہ تعالیٰ کے ہاں تو وہ مقرب ہے جو ایمان لایا اور اعمال صالحہ میں لگا۔
Ayah 34:38

وَ الَّذِیْنَ یَسْعَوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ Open ayah 34:38 in the Quran reader

اور جو لوگ ہماری آیتوں کے بارے میں ہرانے کی کوشش کرتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو عذاب میں حاضر کیے جائیں گے،

جو مومن بندے ہوں گے اور ایمان کے ساتھ اعمال صالحہ میں بھی لگے ہوں گے، ان کے ایمان اور اعمال کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں بڑھ چڑھ کر بدلہ دیا جائے گا جس میں نیکی کا ثواب کم از کم دس گنا ہوگا اور یہ حضرات جنت کے بالا خانوں میں امن و چین کے ساتھ رہیں گے۔ آگے مخالفین کی سزا کا تذکرہ ہے (وَالَّذِیْنَ یَسْعَوْنَ فِیْٓ اٰیٰتِنَا) (الایۃ) اور جو لوگ ہماری آیتوں کے بارے میں ہرانے کی کوشش کرتے ہیں یعنی ہماری آیتوں میں طعن کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ انکار کرکے کہیں دور نکل جائیں گے اور (العیاذ باللہ) اللہ کو ہرا دیں گے اور اس کی قدرت اور گرفت سے باہر ہوجائیں گے، یہ لوگ عذاب میں حاضر کردئیے جائیں گے، یہ ان لوگوں کے لیے وعید ہے جو اللہ تعالیٰ کی آیات سن کر تکذیب بھی کرتے تھے، ان کا مذاق بھی اڑاتے تھے۔ اور طعن وتشنیع بھی کرتے تھے اور یوں سمجھتے تھے کہ ہمارا کچھ نہیں بگڑے گا، انہیں واضح طور پر بتادیا کہ تم پکڑے جاؤ گے اور عذاب میں حاضر کیے جاؤ گے، بھاگ کر کہیں نہیں جاسکتے۔
Ayahs 34:39–40

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ لَهٗ١ؕ وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَهُوَ یُخْلِفُهٗ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 34:39 in the Quran reader

آپ فرما دیجیے کہ میرا رب اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہے روزی کو فراخ کردیتا ہے اور جس کے لیے چاہے تنگ کردیتا ہے اور جو بھی کوئی چیز تم خرچ کرو گے سو وہ اس کے بعد اس کا عوض دے گا اور وہ سب سے بہتر روزی دینے والا ہے۔

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ یَقُوْلُ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اَهٰۤؤُلَآءِ اِیَّاكُمْ كَانُوْا یَعْبُدُوْنَ Open ayah 34:40 in the Quran reader

اور جس دن اللہ ان سب کو جمع فرمائے گا پھر فرشتوں سے فرمائے گا کیا یہ لوگ تمہاری عبادت کرتے ہیں ؟

(قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ ) (الآیۃ) اس میں اہل ایمان کو فی سبیل اللہ خرچ کرنے کی ترغیب بھی ہے اور جو کچھ للہ فی اللہ خرچ کریں گے اس کا بدلہ دئیے جانے کا وعدہ بھی ہے، جو شخص اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرتا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے بہت کچھ ملتا ہے، دنیا میں بھی صلہ دیا جاتا ہے اور آخرت میں تو بہت زیادہ دیا جائے گا۔ (وَھُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ ) (اور اللہ تعالیٰ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے) حقیقی رازق تو وہی ہے، عربی کے محاورات میں غیر اللہ کے لیے بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے کہتے ہیں کہ (رزق الامیر الجندی) اسی لیے مفسرین نے (خیر الرازقین) کا یہ ترجمہ کیا ہے کہ رزق پہنچانے والوں میں وہ سب سے بہتر ہے۔ (قال صاحب روح و معنی الرازقین الموصلین للرزق والموھبین لہ فیطلق الرزاق حقیقۃ اللّٰہ عزوجل وعلیٰ غیرہ ویشعر بذلک) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب بھی صبح ہوتی ہے دو فرشتے نازل ہوتے ہیں، ایک کہتا ہے (اَللّٰھُمَّ اَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا) (اے اللہ خرچ کرنے والے کو اس کے بعد اور مال دے) اور دوسرا کہتا ہے (اَللّٰھُمَّ اَعْطِ مُمْسِکًا تَلَفًا) (اے اللہ روک رکھنے والے کا مال تلف فرما دے۔ ) (رواہ البخاری و مسلم کما فی المشکوٰۃ ص 164) نیز حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ صدقہ کرنے سے کبھی مال میں کمی نہیں ہوتی، اور جس کسی بندے نے کسی کو معاف کردیا تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کی عزت بڑھا دے گا، اور جو شخص اللہ کے لیے تواضع اختیار کرے گا تو اللہ اس کو بلند فرمائے گا۔ (رواہ مسلم ص 321)
Ayah 34:41

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ اَنْتَ وَلِیُّنَا مِنْ دُوْنِهِمْ١ۚ بَلْ كَانُوْا یَعْبُدُوْنَ الْجِنَّ١ۚ اَكْثَرُهُمْ بِهِمْ مُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 34:41 in the Quran reader

فرشتے عرض کریں گے کہ آپ پاک ہیں، آپ ہمارے ولی ہیں ان سے ہمارا کچھ تعلق نہیں، بلکہ بات یہ ہے کہ یہ لوگ جنات کی عبادت کرتے تھے، ان میں سے اکثر ان پر ایمان لائے ہوئے تھے۔

کافروں کا عناد اور انکار اور عذاب و انجام کار قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سب کو جمع فرمائے گا ان میں غیر اللہ کی عبادت کرنے والے بھی ہوں گے، ان میں وہ لوگ بھی موجود ہوں گے جو دنیا میں فرشتوں کی عبادت کرتے تھے، اللہ تعالیٰ فرشتوں سے سوال فرمائیں گے کہ کیا یہ لوگ تمہاری عبادت کرتے تھے ؟ یہ سوال مشرکین کی سرزنش کرنے اور ان کی گمراہی ظاہر کرنے کے لیے ہوگا فرشتے عرض کریں گے کہ (سُبْحٰنَکَ ) آپ پاک ہیں (آپ کا کوئی شریک نہیں) (اَنْتَ وَلِیُّنَا) آپ ہمارے ولی ہیں (مِنْ دُوْنِھِمْ ) ان سے ہمارا کوئی تعلق نہیں (نہ ہم نے انہیں شرک پر ڈالا نہ ہم ان کے اس عمل سے راضی ہیں) (بَلْ کَانُوْا یَعْبُدُوْنَ الْجِنَّ ) (بلکہ بات یہ ہے کہ یہ لوگ جنات کی یعنی شیاطین کی پرستش کرتے تھے) شیاطین جو ڈراؤنی صورتیں بنا بنا کر ان کے سامنے آتے تھے ان کی شکلوں کی مورتیاں بنا کر پوجا کرتے تھے اور دوسروں کی عبادت بھی اسی لیے کرتے تھے کہ شیاطین انہیں اس کا حکم دیتے تھے، فرمانبرداری کے اعتبار سے یہ بھی شیاطین کی عبادت ہوئی، شیاطین ہی کی بات مانتے ہوئے انہوں نے اللہ تعالیٰ کے علاوہ دوسرے معبود تجویز کیے اور ان کی عبادت کی (اَکْثَرُھُمْ بِھِمْ مُّؤْمِنُوْنَ ) (ان میں اکثر شیاطین پر ہی ایمان لائے) یعنی ان ہی کے معتقد تھے، ان ہی کی بات مانتے تھے۔
Ayah 34:42

فَالْیَوْمَ لَا یَمْلِكُ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ نَّفْعًا وَّ لَا ضَرًّا١ؕ وَ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّتِیْ كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 34:42 in the Quran reader

سو آج تم میں سے بعض بعض کے لیے کسی نفع یا ضرر کا مالک نہیں، اور ہم ظالموں سے کہیں گے کہ دوزخ کا عذاب چکھ لو جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔

چونکہ مشرکین غیر اللہ کی عبادت اس عقیدہ سے بھی کرتے تھے کہ وہ آخرت میں سفارش کریں گے اور عذب سے بچالیں گے، اس لیے ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا : (فَالْیَوْمَ لَا یَمْلِکُ بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ نَّفْعًا وَّ لَا ضَرًّا) (سو آج تم میں سے بعض بعض کے کسی نفع یا ضرر کا مالک نہیں) لہٰذا غیر اللہ کی عبادت کرکے جو امیدیں باندھ رکھی تھیں وہ سب جھوٹی نکلیں اور اپنے بنائے ہوئے خیال سب باطل نکلے۔ (وَ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَاب النَّارِ الَّتِیْ کُنْتُمْ بِھَا تُکَذِّبُوْنَ ) (اور ہم ظالموں سے کہیں گے کہ دوزخ کے عذاب کو چکھ لو جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ )
Ayahs 34:43–44

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّا رَجُلٌ یُّرِیْدُ اَنْ یَّصُدَّكُمْ عَمَّا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُكُمْ١ۚ وَ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكٌ مُّفْتَرًى١ؕ وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 34:43 in the Quran reader

اور جب ان پر ہماری واضح آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ شخص تو یہی چاہتا ہے کہ تم لوگوں کو ان چیزوں سے روک دے جن کی تمہارے باپ دادے عبادت کیا کرتے تھے، اور انہوں نے کہا کہ یہ تو محض ایک تراشا ہوا جھوٹ ہے، اور کافروں نے حق کے بارے میں کہا جب ان کے پاس آگیا کہ یہ محض ایک جادو ہے کھلا ہوا۔

وَ مَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ كُتُبٍ یَّدْرُسُوْنَهَا وَ مَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمْ قَبْلَكَ مِنْ نَّذِیْرٍؕ Open ayah 34:44 in the Quran reader

اور ہم نے انہیں کتابیں نہیں دی تھیں جن کو وہ پڑھتے پڑھاتے ہوں، اور ہم نے آپ سے پہلے ان کی طرف کوئی ڈرانے والا نہیں بھیجا

اس کے بعد مشرکین کی تکذیب والی باتیں نقل فرمائیں : (وَ اِذَا تُتْلٰی عَلَیْھِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ ) (الآیۃ) اور جب ان پر ہماری آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ شخص (جو قرآن کی تلاوت کرتا ہے) یہ تو بس ایک ایسا ہی آدمی ہے جو تمہیں ان چیزوں سے روکتا ہے جن کو تمہارے باپ دادے پوجتے تھے، اور دوسری بات یہ کہتے تھے کہ یہ تو ایک تراشا ہوا جھوٹ ہے، اور تیسری بات یہ کہتے تھے کہ محمد ( رسول اللہ ﷺ جو کچھ سناتے ہیں یہ تو کھلا ہوا جادو ہے، ان کے بارے میں فرمایا : (وَمَآ اٰتَیْنٰھُمْ مِّنْ کُتُبٍ یَّدْرُسُوْنَھَا وَمَآ اَرْسَلْنَآ اِلَیْھِمْ قَبْلَکَ مِنْ نَّذِیْرٍ ) (اور ہم نے انہیں کتابیں نہیں دی تھیں جن کو وہ پڑھتے پڑھاتے ہوں اور ہم نے پہلے ان کی طرف کوئی ڈرانے والا نہیں بھیجا تھا) لہٰذا انہیں اللہ کی اس نعمت کی قدر کرنا لازم تھا کیونکہ اس نے ان کی طرف نبی کو مبعوث فرمایا اور نبی بھی وہ ہے جو انہیں میں سے ہے، اس سے پہلے تو قسم کھا کھا کر کہتے تھے کہ (لَءِنْ جَآءَ ھُمْ نَذِیْرٌلَّیَکُوْنُنَّ اَھْدٰی مِنْ اِحْدَی الْاُمَمِ ) (اگر ہمارے پاس ڈرانے والا آجائے تو ہم دوسری امتوں کے مقابلے میں ہر امت سے زیادہ ہدایت قبول کرنے والے ہوں گے) ان لوگوں نے وعدہ پورا نہ کیا اور الٹے تکذیب پر اتر آئے اور نبی اکرم ﷺ کے بارے میں نازیبا کلمات کہنے لگے۔
Ayah 34:45

وَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۙ وَ مَا بَلَغُوْا مِعْشَارَ مَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ فَكَذَّبُوْا رُسُلِیْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ۠ Open ayah 34:45 in the Quran reader

اور جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے تکذیب کی، اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا تھا یہ لوگ اس کے دسویں حصہ کو بھی نہیں پہنچے، سو انہوں نے میرے رسولوں کو جھٹلایا، سو کیسا ہوا میرا عذاب ؟

اس کے بعد مشرکین مکہ کے لیے وعید ذکر فرمائی : (وَکَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ وَمَا بَلَغُوْا مِعْشَارَ مَآ اٰتَیْنٰھُمْ ) (اور ان لوگوں نے جھٹلایا جو ان سے پہلے تھے اور حال یہ ہے کہ ان لوگوں کو جو کچھ ہم نے دیا تھا یہ لوگ اس کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے) (فَکَذَّبُوْا رُسُلِیْ فَکَیْفَ کَانَ نَکِیْرِ ) (سو ان لوگوں نے میرے رسولوں کو جھٹلایا سو کیسا تھا میرا عذاب) مطلب یہ ہے کہ سابقہ امتیں تکذیب کی وجہ سے ہلاک ہوئی ہیں ان کے پاس تو حکومتیں بھی تھیں، اموال بھی تھے، طرح طرح کے سامان بھی ان کے پاس تھے، قلعے تھے، بڑے بڑے مکانات تھے اور ان کی عمریں بھی بڑی تھیں انہیں ان پر گھمنڈ بھی تھا یہ لوگ جو تکذیب پر اڑے ہوئے ہیں اور عناد پر جمے ہوئے ہیں ان کے پاس تو ان نعمتوں کا دسواں حصہ بھی نہیں ہے جو ہم نے گزشتہ امتوں کو دی تھیں، ان لوگوں کے احوال انہیں معلوم ہیں، اسفار میں جاتے ہیں تو ان کے نشانات دیکھتے ہیں، تکذیب رسل کی وجہ سے وہ ہلاک کردئیے گئے انہیں بھی اپنا انجام سوچ لینا چاہیے جبکہ ان کے سامنے ان کی اہمیت کچھ بھی نہیں۔
Ayahs 34:46–50

قُلْ اِنَّمَاۤ اَعِظُكُمْ بِوَاحِدَةٍ١ۚ اَنْ تَقُوْمُوْا لِلّٰهِ مَثْنٰى وَ فُرَادٰى ثُمَّ تَتَفَكَّرُوْا١۫ مَا بِصَاحِبِكُمْ مِّنْ جِنَّةٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ لَّكُمْ بَیْنَ یَدَیْ عَذَابٍ شَدِیْدٍ Open ayah 34:46 in the Quran reader

آپ فرما دیجیے کہ میں تمہیں ایک ہی بات کی نصیحت کرتا ہوں وہ یہ کہ تم اللہ کے لیے کھڑے ہوجاؤ دو دو اور ایک ایک پھر تم سوچو تمہارے ساتھی کو کوئی دیوانگی نہیں ہے۔ وہ تو ایک سخت عذاب کے آنے سے پہلے تمہیں ڈرانے والا ہے۔

قُلْ مَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ فَهُوَ لَكُمْ١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 34:47 in the Quran reader

آپ فرما دیجیے کہ میں نے جو کچھ تم سے معاوضہ کا سوال کیا ہو سو وہ تمہارے لیے ہی ہے میرا اجر تو صرف اللہ پر ہے، اور وہ ہر چیز پر اطلاع رکھنے والا ہے۔

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَقْذِفُ بِالْحَقِّ١ۚ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ Open ayah 34:48 in the Quran reader

آپ فرما دیجیے کہ بیشک میرا رب حق کو غالب کردیتا ہے وہ پوری طرح غیبوں کا جاننے والا ہے۔

قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ مَا یُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَ مَا یُعِیْدُ Open ayah 34:49 in the Quran reader

آپ فرما دیجیے کہ حق آگیا اور باطل نہ کرنے کا رہا، نہ دھرنے کا۔

قُلْ اِنْ ضَلَلْتُ فَاِنَّمَاۤ اَضِلُّ عَلٰى نَفْسِیْ١ۚ وَ اِنِ اهْتَدَیْتُ فَبِمَا یُوْحِیْۤ اِلَیَّ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ سَمِیْعٌ قَرِیْبٌ Open ayah 34:50 in the Quran reader

آپ فرما دیجیے کہ اگر میں گمراہ ہوجاؤں تو میری گمراہی مجھ ہی پر پڑے گی اور اگر میں ہدایت پر رہوں تو اسی وحی کی بدولت جو اللہ میرے پاس بھیج رہا ہے، بیشک وہ سننے والا ہے قریب ہے۔

انفرادی اور اجتماعی طور پر غور و فکر کرنے کی دعوت رسول اللہ ﷺ کے اولین مخاطبین جو آپ کی تکذیب کرتے تھے وہ آپ کو دیوانگی کی طرف منسوب کرتے تھے، اللہ جل شانہٗ نے فرمایا کہ آپ ان سے فرما دیجیے کہ میں تمہیں صرف ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں یہ نصیحت محض تمہاری ہمدردی کے لیے ہے، تم دو دو آدمی مل کر یا علیحدہ علیحدہ تنہائیوں میں سوچو اور غور و فکر کرو تمہارا یہ سوچنا صرف اللہ کی رضا کے لیے ہو، اس میں نفسانیت اور تعصب کا دخل نہ ہو، تم لوگ یہ سوچ لو کہ جو شخص یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ میں نبی ہوں اور تمہیں توحید کی دعوت دے رہا ہے وہ دیوانہ نہیں ہے، اس کے احوال دیکھ لو، اس کی بات سن لو، وہ قرآن سناتا ہے اسے سنو اور یہ بھی سمجھ لو کہ باوجود چیلنج کے تم اس جیسا بنا کر نہیں لاسکتے۔ اگر تم غور و فکر کرو گے تو تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ یہ دعوت دینے والا شخص دیوانہ نہیں ہے وہ تو تم کو ایک سخت عذاب کے آنے سے پہلے ڈراتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے چند باتوں کا حکم دیا کہ آپ ان لوگوں سے کہہ دیں : اول یہ کہ تم یہ بتاؤ کہ میں نے تم سے کوئی معاوضہ تو طلب نہیں کیا ؟ اگر میں نے تم سے معاوضہ کا کوئی سوال کیا ہو تو وہ مجھے نہیں چاہیے وہ تم ہی رکھو، میرا اجر وثواب تو صرف اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے اس نے مجھ سے ثواب دینے کا وعدہ فرمایا ہے وہ مجھے ضرور عطا فرمائے گا اور یہ بھی سمجھ لو کہ وہ ہر چیز پر اطلاع رکھنے والا ہے، جو میری محنتیں ہیں اس کا بھی اسے علم ہے اور جو تمہاری حرکتیں ہیں وہ ان سے بھی باخبر ہے۔ دوسری بات کہہ دیں کہ میرا رب حق کو غالب فرما دیتا ہے، میں جو حق لے کر آیا ہوں وہ غالب ہو کر رہے گا، انشاء اللہ تعالیٰ ، تم اپنی مغلوبیت کو سوچ لو، وہ علام الغیوب ہے اسے پہلے سے سب کچھ معلوم ہے۔ تیسری بات یہ فرمائی کہ آپ فرما دیجیے کہ حق آگیا اور باطل کسی کام کا نہ رہا یعنی اس کا ذکر فکر ختم ہوگیا، فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ نے آیت کریمہ (وَقُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَزَھَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَھُوْقًا) اور یہ آیت (قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَمَا یُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا یُعِیْدُ ) تلاوت فرمائی تھی۔ (کما روی البخاری فی تفسیر سورة الاسراء ج 2: ص 686) کیونکہ اس وقت بالکل اس کا مظاہرہ ہوگیا تھا کہ حق ظاہر ہوا اور باطل چلتا بنا۔ چوتھی بات یہ ہے کہ آپ ان لوگوں سے فرما دیجیے کہ اگر میں گمراہ ہوجاؤں تو اس کا وبال مجھ ہی پر ہوگا (میں جو دین لایا ہوں وہ حق ہے جو اس کا منکر ہوگا گمراہ ہوگا) بالفرض اگر میں بھی اس دین کو چھوڑ دوں تو میں بھی گمراہ ہوجاؤں گا اور مجھ پر اس کا وبال پڑے گا اس میں نام اپنا ہے اور سنانا ان کو ہے جو علیٰ اسلوب الحکیم ہے، یعنی میں تو اسی راہ پر ہوں تم اس کے منکر ہو لہٰذا تم گمراہ ہو اور اس کا وبال تم پر پڑے گا اور اگر میں ہدایت پر ہوں تو اس قرآن کی بدولت ہوں جس کی وحی میرا رب میری طرف بھیج رہا ہے، یہ بھی علیٰ اسلوب الحکیم ہے، مطلب یہ ہے کہ تم ہدایت چاہو تو تمہیں بھی اسی راہ پر آنا پڑے گا۔ (اِنَّہٗ سَمِیْعٌ قَرِیْبٌ) بیشک میرا رب سننے والا ہے بہت نزدیک ہے) میری باتیں بھی سنتا ہے اور تمہاری باتیں بھی۔
Ayahs 34:51–54

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ فَزِعُوْا فَلَا فَوْتَ وَ اُخِذُوْا مِنْ مَّكَانٍ قَرِیْبٍۙ Open ayah 34:51 in the Quran reader

اور اگر اس وقت کو آپ دیکھیں جب یہ لوگ گھبرا جائیں گے پھر چھوٹنے کی کوئی صورت نہ ہوگی اور قریب ہی جگہ سے پکڑ لیے جائیں گے۔

وَّ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖ١ۚ وَ اَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍۚۖ Open ayah 34:52 in the Quran reader

اور کہیں گے کہ ہم اس پر ایمان لائے اور اتنی دور جگہ سے ان کے ہاتھ آنا کہاں ممکن ہے

وَّ قَدْ كَفَرُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ یَقْذِفُوْنَ بِالْغَیْبِ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 34:53 in the Quran reader

حالانکہ وہ اس سے پہلے اس کا انکار کرچکے ہیں، اور دور ہی دور سے بےتحقیق باتیں پھینکا کرتے ہیں۔

وَ حِیْلَ بَیْنَهُمْ وَ بَیْنَ مَا یَشْتَهُوْنَ كَمَا فُعِلَ بِاَشْیَاعِهِمْ مِّنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا فِیْ شَكٍّ مُّرِیْبٍ۠ Open ayah 34:54 in the Quran reader

اور ان کی آرزوؤں کے درمیان آڑ کردی جائے گی جیسا کہ ان سے پہلے ان کے ہم مشربوں کے ساتھ کیا گیا، بلاشبہ وہ تردد میں ڈالنے والے شک میں تھے۔

آخری آیتوں میں منکرین کے لیے وعید ہے، فرمایا (وَلَوْ تَرٰٓی اِذْ فَزِعُوْا) (الی اخر السورۃ) (اور اگر آپ اس وقت کو دیکھیں جب یہ لوگ گھبرا جائیں گے تو پھر چھوٹنے کی کوئی صورت نہ ہوگی اور قریبی جگہ سے پکڑ لیے جائیں گے اور کہیں گے کہ ہم اس پر ایمان لائے اور اتنی دور سے ان کے ہاتھ آنا کہاں ممکن ہے حالانکہ وہ اس سے پہلے اس کا انکار کرچکے ہیں، اور دور ہی دور سے بےتحقیق باتیں پھینکا کرتے ہیں اور ان کے اور ان کی آرزو کے درمیان آڑ کردی جائے گی۔ بلاشبہ وہ تردد میں ڈالنے والے شک میں تھے۔ بتوفیق اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ سورة سبا کی تفسیر تمام ہوئی والحمد للّٰہ اولاً واخرًا و باطناً وظاھرًا والسلام علی من ارسل طیبًا وطاھرًا