31. Surah Luqman

لقمانLuqman · 34 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 31:30

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الْبَاطِلُ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ۠ Open ayah 31:30 in the Quran reader

یہ اس وجہ سے ہے کہ بلاشبہ اللہ حق ہے اور بلاشبہ لوگ اس کے علاوہ جن چیزوں کی عبادت کرتے ہیں وہ باطل ہیں اور بلاشبہ اللہ عالی شان ہے اور بڑا ہے۔

(ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْحَقُّ ) (الآیۃ) یہ اس سبب سے ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی حق ہے اس کا وجود حقیقی ہے اور اس کا معبود ہونا بھی برحق ہے لہٰذا اسی کی عبادت کرنا لازم ہے (وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہِ الْبَاطِلُ ) (اور مشرک لوگ جو اس کے علاوہ دوسروں کی عبادت کر رہے ہیں وہ باطل ہیں، نہ وہ معبود ہیں نہ معبود ہونے کے قابل ہیں) (وَ اَنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْعَلِیُّ الْکَبِیْرُ ) (اور بلاشبہ اللہ عالیشان ہے اور بڑا ہے) کوئی اس کے برابر و ہمسر نہیں لہٰذا اس کے علاوہ کوئی بھی مستحق عبادت نہیں۔
Ayahs 31:31–32

اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ لِیُرِیَكُمْ مِّنْ اٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 31:31 in the Quran reader

اے مخاطب کیا تو نے نہیں دیکھا کہ بلاشبہ کشتی اللہ کی نعمت کے ساتھ سمندر میں چلتی ہے تاکہ وہ تمہیں اپنی نشانیوں میں سے دکھلائے، بلاشبہ اس میں ہر ایسے شخص کے لیے نشانیاں ہیں جو خوب صبر کرنے والا خوب شکر کرنے والا ہو،

وَ اِذَا غَشِیَهُمْ مَّوْجٌ كَالظُّلَلِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ فَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا كُلُّ خَتَّارٍ كَفُوْرٍ Open ayah 31:32 in the Quran reader

اور جب انہیں موج ڈھانپ لیتی ہے جو سائبانوں کی طرح ہوتی ہے تو وہ خالص اعتقاد کرکے اللہ ہی کو پکارنے لگتے ہیں، پھر جب وہ انہیں نجات دے کر خشکی کی طرف لے آتا ہے تو ان میں سے بعض لوگ راہ اعتدال پر چلتے ہیں، اور ہماری آیتوں کا ہر وہ شخص انکار کرتا ہے جو عہد کا بہت جھوٹا بہت ناشکرا ہو۔

سمندر میں کشتیوں کا چلنا اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے، مشرکین کو جب موج گھیر لیتی ہے تو اخلاص کے ساتھ دعا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنا انعام بیان فرمایا ہے کہ سمندر میں جو کشتی چلتی ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و انعام ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں۔ دیکھو آدھا تولہ لوہا سمندر میں ڈالو تو اسی وقت ڈوب جائے گا اور سو من کی لکڑی جو کشتی کی صورت میں ہے وہ نہیں ڈوبتا، یہ کشتیاں ایک شہر سے دوسرے شہر اور ایک براعظم سے دوسرے براعظم تک لے جاتی ہیں، سامان لاتی ہیں، ضرورت کی چیزیں ان کے آنے جانے کی وجہ سے فراہم ہوتی ہیں، اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے انہیں ہواؤں کے تھپیڑوں کے ذریعہ اس حال میں کردیتا ہے کہ ان کا چلنا تیرنا مشکل ہوجاتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ ہواؤں کا رخ بدل دیتا ہے تو آرام سے چلتی ہیں، یہ سب عبرت کی چیزیں ہیں ان کے ذریعہ خالق کائنات جل مجدہٗ کی معرفت حاصل کرنی چاہیے، جو لوگ صبر اور شکر کا مزاج رکھتے ہیں وہی اللہ کی آیات سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔ بہت مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ چلتی ہوئی کشتی کو پانی کا طوفان گھیر لیتا ہے، بڑی بڑی موجیں جو سائبانوں اور بادلوں کی طرح ہوتی ہیں وہ ڈھانپ لیتی ہیں۔ اس صورت میں انسان کو اپنے بچاؤ کا کوئی راستہ سمجھ میں نہیں آتا جو مومن بندے ہیں وہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف اخلاص کے ساتھ رجوع ہوتے ہی ہیں اور اس سے دعا مانگتے ہیں لیکن جو لوگ غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں اس وقت وہ بھی صرف اللہ تعالیٰ ہی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور پوری سچائی اور پھر پورے اعتقاد کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہیں ان میں جو مومن بندے ہوتے ہیں وہ برابر اللہ تعالیٰ ہی کی طرف متوجہ رہتے ہیں خشکی میں آکر غیر اللہ کو نہیں پکارتے اور شرک میں مبتلا نہیں ہوتے، ان کے بارے میں فرمایا (فَمِنْھُمْ مُّقْتَصِدٌ) (کہ کشتی سے اتر کر خشکی میں آنے والے بعض لوگ اعتدال والی راہ اختیار کرنے والے ہوتے ہیں یعنی توحید پر ہی برقرار رہتے ہیں جو سیدھا اور اعتدال والا راستہ ہے، اور جو لوگ خشکی میں آکر اس مصیبت کو بھول جاتے ہیں جو کشتی میں پیش آئی تھی یعنی کشتی ڈوبنے کے قریب تھی یہ لوگ پھر شرک اختیار کرلیتے ہیں۔ سورة عنکبوت میں اسی کو فرمایا (فَلَمَّا نَجّٰھُمْ اِلَی الْبَرِّ اِذَا ھُمْ یُشْرِکُوْنَ ) (سو جب وہ انہیں خشکی کی طرف نجات دے دیتا ہے تو وہ فوراً ہی شرک کرنے لگتے ہیں۔ ) (وَمَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَآ اِلاَّ کُلُّ خَتَّارٍ کَفُوْرٍ ) (اور ہماری آیتوں کا ہر وہ شخص انکار کرتا ہے جو عہد کا بہت جھوٹا بہت ناشکرا ہو) ان جھوٹے عہد کرنے والوں میں وہ بھی ہوتے ہیں جو کشتی میں اخلاص کے ساتھ توحید کا عہد کرتے ہیں پھر کشتی سے باہر خشکی میں آکر توڑ دیتے ہیں، بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو بڑے بڑے دلائل اور آیات کو دیکھ کر بھی ایمان نہیں لاتے اور توحید کی دعوت کو قبول نہیں کرتے اور نہ صرف یہ کہ حق کو قبول نہیں کرتے بلکہ جھوٹ بھی بولتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ناشکری بھی کرتے ہیں، آیت کے آخر میں اسی کو بیان فرمایا۔
Ayah 31:33

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ وَ اخْشَوْا یَوْمًا لَّا یَجْزِیْ وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِهٖ١٘ وَ لَا مَوْلُوْدٌ هُوَ جَازٍ عَنْ وَّالِدِهٖ شَیْئًا١ؕ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ٙ وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 31:33 in the Quran reader

اے لوگو ! اپنے رب سے ڈرو اور اس دن سے ڈرو جس دن باپ اپنے بیٹے کی طرف سے بدلہ نہ دے گا اور نہ کوئی بیٹا اپنے باپ کی طرف سے کچھ بھی بدلہ دینے والا ہوگا، بلاشبہ اللہ کا وعدہ حق ہے، سو تمہیں دنیا والی زندگی ہرگز دھوکے میں نہ ڈال دے، اور ہرگز تمہیں اللہ کا نام لے کر بڑا دھوکہ باز دھوکہ میں نہ ڈالے۔

اللہ تعالیٰ سے ڈرو، قیامت کے دن کی حاضری کا فکر کرو، شیطان دھوکہ باز تمہیں دھوکہ نہ دیدے اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا حکم فرمایا ہے اور یہ بھی فرمایا کہ قیامت کے دن سے ڈرو یعنی اس دن کی بےبسی اور بےکسی کا دھیان کرو اور اس کا انتظام کرو اور وہ انتظام یہ ہے کہ ایمان لاؤ اور اعمال صالحہ اختیار کرو، اس دن بےکسی کا یہ عالم ہوگا کہ آپس میں کوئی کسی کی طرف سے کوئی بدلہ دینے کو تیار نہ ہوگا، سب سے بڑا قریب تر رشتہ باپ اور بیٹے کا ہے، قیامت کا دن بڑا ہولناک ہوگا۔ سب کو اپنی اپنی فکر لگی ہوئی ہوگی، جب محاسبہ ہونے لگے گا اور کفر پر اور اعمال بد پر سزا ملنے کا فیصلہ ہوگا تو نہ باپ بیٹے کی طرف سے کوئی بدلہ دے گا اور نہ بیٹا باپ کی طرف سے، کسی کو بھی یہ گوارا نہ ہوگا کہ یہ عذاب سے بچ جائے اور اس کا جو عذاب ہونا ہے وہ مجھ پر آجائے۔ قیامت کے بارے میں جو کچھ بیان کیا جا رہا ہے کوئی شخص اسے یوں ہی چلتی ہوئی بات نہ سمجھے، اللہ تعالیٰ کا وعدہ حق ہے ضرور واقع ہوگا۔ اب ہر شخص کو اپنے واقعی اصلی مفاد کے لیے متفکر ہونا ضروری ہے کہ میرا آخرت میں کیا بنے گا ؟ بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں دنیاوی زندگی کی مشغولیت آخرت کی تیاری نہیں کرنے دیتی، اسی کو فرمایا (فَلَا تَغُرَّنَّکُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا) (سو تمہیں ہرگز دنیا والی زندگی دھوکہ میں نہ ڈال دے) الفاظ کا عموم ان لوگوں کو بھی شامل ہے جو دنیا کا جاہ و مال چھوٹ جانے کے ڈر سے اسلام قبول نہیں کرتے اور ان کو بھی شامل ہے جو مسلمان ہونے کا دم بھرتے ہیں لیکن دنیا ہی کو انہوں نے مقصود حقیقی بنا رکھا ہے اور اسی کے لیے سوچتے ہیں، اسی کے لیے جیتے ہیں اور اسی کے لیے مرتے ہیں، انہیں ہری بھری دنیا پسند ہے، فرائض اور واجبات کو بھی چھوڑتے ہیں اور دنیا جمع کرنے کے لیے خیانت، چوری، غصب، ظلم، حرام کاروبار سب کچھ کر گزرتے ہیں۔ نفس اور شیطان دونوں کا دوستانہ ہے دونوں انسان کو دھوکہ دیتے رہتے ہیں اور اللہ کا نام لے کر انسان کو دھوکہ دیتے ہیں اور ورغلاتے ہیں اور یوں کہتے ہیں کہ اس وقت نماز چھوڑ دو ، روزہ توڑ دو ، اگلے سال زکوٰۃ دے دینا اس سال حج کو نہ جاؤ ابھی تو جوانی ہے گناہ کرکے مزے اڑالو، اللہ تعالیٰ بڑا مہربان ہے گناہ کرلیا تو کیا ہے بعد میں توبہ کرلینا، اس طرح کی باتیں نفس اور شیطان اور گمراہی کے لیڈر سامنے لاتے رہتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے کہ دھوکہ دینے والا تمہیں دھوکہ میں نہ ڈال دے، اپنی فکر خود کرو، مومن بنو، اللہ کی عبادت میں لگو، اس کی فرمانبرداری کرو، ہوشیار بندہ وہی ہے جو نفس و شیطان کے کہنے میں نہ آئے اور کسی کے بھی بہلانے پھسلانے سے اپنی آخرت تباہ نہ کرے۔
Ayah 31:34

اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ١ۚ وَ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ١ۚ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ١ؕ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّا ذَا تَكْسِبُ غَدًا١ؕ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌۢ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 31:34 in the Quran reader

بلاشبہ اللہ کے پاس قیامت کا علم ہے، اور وہ بارش کو نازل فرماتا ہے، اور وہ جانتا ہے جو ماؤں کے ارحام میں ہے، اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کو کیا کرے گا، اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ اسے کس زمین میں موت آئے گی، بلاشبہ اللہ جاننے والا باخبر ہے۔

پانچ چیزوں کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے قرآن مجید میں جگہ جگہ یہ فرمایا ہے کہ اللہ غیب اور شہادہ کو جاننے والا ہے اور یہ بھی فرمایا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی غیب کو نہیں جانتا جس کسی کو اس نے غیب کا کچھ علم دیا ہے جس قدر عطا فرمایا ہے اسے اسی قدر علم ہے۔ یہاں پانچ امور غیبیہ کا تذکرہ فرمایا ہے، صحیح مسلم میں ہے کہ جب حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ قیامت کب آئے گی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ پوچھنے والا اور جس سے پوچھا گیا ہے اس بارے میں دونوں برابر ہیں اور ساتھ ہی آپ نے یہ بھی فرمایا (فِیْ خَمْسٍ لاَ یَعْلَمُھُنَّ الاَّ اللّٰہَ ) (کہ یہ ان پانچ چیزوں میں ہے جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا) اس کے بعد آپ ﷺ نے سورة لقمان کی یہی آخری آیت تلاوت فرمائی ہے۔ (صحیح مسلم) جن پانچ چیزوں کا آیت بالا میں ذکر ہے ان میں ایک تو قیامت قائم ہونے کا علم ہے، یہ غیب کا علم ہے جو اللہ تعالیٰ نے کسی کو بھی نہیں دیا۔ دوسرے یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بارش کو برساتا ہے، تیسرے یہ فرمایا کہ ماؤں کے ارحام میں کیا ہے، اس کا بھی اللہ ہی کو علم ہے اسے سب پتہ ہے کہ رحم مادر میں کیا ہے، لڑکا ہے یا لڑکی ہے اور کچھ ہے یا کچھ بھی نہیں ہے۔ اس کے بعد مزید دو چیزوں کا تذکرہ فرمایا اور وہ یہ کہ کسی کو یہ معلوم نہیں کہ کل کو میں کیا کروں گا، اور فرمایا کہ کسی کو یہ بھی پتہ نہیں کہ اس کی موت کہاں ہوگی اور اسے کس زمین میں موت آئے گی۔ آیت کے ختم پر فرمایا (اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ) (بلاشبہ اللہ علم والا ہے باخبر ہے۔ ) جب سے دنیا میں آلات کا رواج ہوگیا ہے اس وقت سے ایمانیات میں فرق آنے لگا ہے اور لوگ یوں کہتے ہیں کہ فضا میں جو آلات نصب کردیتے ہیں وہ بتا دیتے ہیں کہ بارش کب ہوگی، اور ایکسرے کے ذریعہ معلوم ہوجاتا ہے کہ حاملہ عورت کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ، ان لوگوں کو یہ پتہ نہیں کہ آیت شریفہ میں آلات کے ذریعہ جو علم حاصل ہو اس کا ذکر نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا جو علم ہے وہ ازل سے ہے ہمیشہ سے ہے جب دنیا میں انسان نہیں آیا تھا اس وقت بھی اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ انسانوں کی نسلیں چلیں گی اور فلاں فلاں عورت حاملہ ہوگی اور اس کے پیٹ میں نر ہوگا یا مادہ ہوگا، ناقص پیدا ہوگا یا کامل ! کہاں اللہ تعالیٰ کا علم ازلی اور کہاں بنی آدم کا علم جو آلات اور اسباب اور تجربات پر موقوف ہے پھر اس بات کو بھی جاننے والے جانتے ہیں کہ اسباب و آلات سے پتہ چلانے والوں کی پیشین گوئیاں غلط بھی ہوجاتی ہے، لہٰذا یہ کہنا کہ بندے بھی علم قطعی کے طور پر بارش آنے کا وقت بتا دیتے ہیں اور حاملہ عورتوں کے پیٹوں میں جو ہے اس سے باخبر کردیتے ہیں، یہ ان لوگوں کی جاہلانہ باتیں ہیں جو آیت کا مفہوم نہ جاننے کی وجہ سے صادر ہوتی ہیں۔ واضح رہے کہ آیت میں جو پانچ چیزوں کا ذکر ہے اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان چیزوں کے علاوہ دوسری غیب کی چیزوں کو بندے جانتے ہیں، غیب کی تمام چیزوں کو صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے، ہر غیب کا علم علم قطعی، علم ازلی، علم ذاتی، علم محیط صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ وھذا اٰخر تفسیر سورة لُقمٰن واللّٰہ المستعان وعلیہ التکلان۔