Ayahs 30:33–35رحمت اور زحمت کے بارے میں انسان کا ایک خاص مزاج
ان آیات میں اول تو انسان کی ایک عادت کا تذکرہ فرمایا ہے اور وہ یہ ہے کہ ان پر جب کوئی مصیبت آتی ہے اور کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور پوری توجہ کے ساتھ اسے پکارتے ہیں کہ یہ مصیبت دور ہوجائے، یہ تو مصیبت کے وقت ان کا عمل ہوتا ہے، پھر جب اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے نوازتا ہے تو اچانک ان میں سے ایک گروہ اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتا ہے، جس کا حاصل یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں۔ ان لوگوں سے خطاب فرمایا (فَتَمَتَّعُوْافَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ) (کہ تم مزے اڑا لو عنقریب کفر و شرک اور ناشکری کا نجام دیکھ لو گے) یہ مضمون سورة عنکبوت کے ختم کے قریب بھی گزر چکا ہے۔
یہ لوگ جو شرک کرتے ہیں خود ان کے نزدیک بھی ان کے باطل معبود کسی نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں، اگر ان باطل معبودوں سے انہیں کوئی نفع ہونا یا دکھ درد میں کام آنے والے ہوتے تو مصیبت کے وقت میں انہیں کیوں چھوڑ دیتے اور صرف رب تعالیٰ شانہ ہی کی طرف کیوں متوجہ ہوتے۔ ان کی عقل خود یہ بتاتی ہے کہ غیر اللہ کی پرستش اور پوجا بالکل حماقت ہے، عقلی طور پر بھی باطل معبودوں کا باطل ہونا ان کی سمجھ میں آچکا ہے، اور اس اعتبار سے بھی یہ لوگ باطل پر ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے پاس کوئی سند نہیں آئی یعنی کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی، جس نے شرک کرنا بتایا ہو یا ان کے شرک کرنے کی تحسین کی ہو ؟ یہ لوگ ہر اعتبار سے گمراہی میں ہیں۔ شرک کے درست ہونے کی نہ ان کے پاس عقلی دلیل ہے اور نہ خالق کائنات جل مجدہ کی طرف سے انہیں سند ملی ہے، اسی کو فرمایا (اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَیْھِمْ سُلْطٰنًا) (الآیۃ)
Ayahs 30:36–37پھر فرمایا (وَ اِذَآ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَۃً فَرِحُوْابِھَا) (الآیۃ) کہ جب ہم لوگوں کو اپنی رحمت چکھا دیتے ہیں تو اس پر خوش ہوتے ہیں اور پھولے نہیں سماتے، ان کی یہ خوشی غفلت اور مستی کی حد تک پہنچ جاتی ہے اور نعمت دینے والے کو بھول جاتے ہیں اور اس کی نافرمانیوں میں لگ جاتے ہیں، اسی خوشی اور مستی کے بارے میں (اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْفَرِحِیْنَ ) فرمایا۔ (بلاشبہ اللہ تعالیٰ اترانے والوں کو دوست نہیں رکھتا) یہ تو ہوا رحمت الٰہی کے ساتھ انسان کا معاملہ۔ اب اس کے مزاج کا دوسرا رخ یہ ہے کہ جب انہیں ان کے اپنے کرتوتوں کی وجہ سے کوئی مصیبت پہنچ جاتی ہے تو ناامید ہو کر آس توڑ بیٹھے رہتے ہیں، گویا کہ اب ان کو کوئی نعمت نہ ملے گی اور کوئی خیر نہ پہنچے گی۔
Ayah 30:38رشتہ دار، مسکین اور مسافر کو دینے کا حکم، اللہ کی رضا میں خرچ کرنے کی فضیلت
یہ چار آیات ہیں، پہلی آیت میں تو یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ شانہ اپنے بندوں کو رزق دیتا ہے اور رزق دینے میں وہ جس کو چاہتا ہے زیادہ رزق دیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے رزق میں تنگی فرما دیتا ہے، اور کھلی ہوئی بات ہے جو سب کے سامنے ہے، اہل ایمان اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں، دیکھا جاتا ہے کہ بعض لوگوں کو تھوڑی سی محنت سے اور بعض لوگوں کو بلامحنت ہی میراث یا ہبہ کے ذریعہ بہت زیادہ مال مل جاتا ہے، اور بعض لوگ بہت زیادہ محنت کرتے ہیں، طرح طرح کی تجارت میں ہاتھ ڈالتے ہیں، بڑی بڑی اسکیمیں سوچتے ہیں لیکن ان کا اصل مال بھی ختم ہوجاتا ہے، ایک شخص تجارت لے کر بیٹھتا ہے، تھوڑا سا مال لگاتا ہے اس کا مال خوب زیادہ ہوجاتا ہے، یہ سب کچھ اللہ کی مشیت اور ارادہ سے ہوتا ہے۔ وہ اپنی حکمت سے جس کے لیے چاہتا ہے رزق بڑھا دیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے اس میں دونوں فریقوں کا امتحان بھی ہوتا ہے۔ مال و اولاد کی کثرت کی وجہ سے احکام الٰہیہ سے غافل ہوا اور گناہوں میں لگ گیا تو امتحان میں فیل ہوگیا اور ناشکروں میں شمار ہوگیا اور جس پر رزق میں تنگی کی گئی اس پر صبر لازم ہے، جزع فزع نہ کرے، زبان سے برے کلمات نہ نکالے، تنگدستی کی وجہ سے احکام شرعیہ کی خلاف ورزی نہ کرے جو اس سے متعلق ہیں، کسب مال کے لیے حرام طریقے اختیار نہ کرے۔
دوسری آیت میں ارشاد فرمایا (ذَا الْقُرْبٰی) یعنی رشتہ داروں کو ان کا حق دے دو اور مسکینوں کو بھی دو اور مسافر کو بھی۔ علماء تفسیر نے فرمایا ہے کہ اس سے صلہ رحمی کے طور پر خرچ کرنا اور نفلی صدقہ دینا مراد ہے کیونکہ سورة الروم مکیہ ہے اور زکوٰۃ کی فرضیت مدینہ منورہ میں ہوئی تھی، ان لوگوں پر اللہ کی رضا کے لیے خرچ کیا جائے، اللہ کے لیے خرچ کریں گے تو یہ بہتر ہوگا، ریاکاری کے لیے خرچ نہ کریں اور جس کو مال دیں اسے عمل سے یا قول سے تکلیف نہ پہنچائیں اور اس پر احسان نہ دھریں محض اللہ کی رضا کے لیے دیں، اللہ سے ثواب لینے کی نیت رکھیں، اسی کو فرمایا (ذٰلِکَ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ وَجْہَ اللّٰہِ ) (یہ ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو اللہ کی رضا چاہتے ہیں) (وَ اُولٰٓءِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ) (اور یہی لوگ کامیاب ہیں۔ )
ذَا الْقُرْبٰی اور یَتَامٰی اور مَسَاکِیْن اور مُسَافِرِیْن پر خرچ کرنے کا ثواب کسی قدر تفصیل سے سورة بقرہ کی آیت شریفہ (لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ ) کے ذیل میں اور سورة بنی اسرائیل کی آیت (فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰی حَقَّہٗ وَ الْمِسْکِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ ) کے ذیل میں بھی بیان ہوچکا ہے۔ (انوار البیان) نیز انفاق مال کے احکام و آداب کے بارے میں سورة بقرہ رکوع (36) اور (37) کی تفسیر بھی دیکھ لی جائے۔ (انوار البیان)
تیسری آیت میں فرمایا (وَ مَآ اٰتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًالِّیَرْبُوَاْ فِیْٓ اَمْوَال النَّاسِ فَلَا یَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰہِ ) (تم جو کچھ بڑھنے والی چیز دو گے تاکہ وہ لوگوں کے مالوں میں شامل ہو کر بڑھ جائے سو وہ اللہ کے نزدیک نہیں بڑھے گی) پہلے یہ سمجھنا چاہیے کہ لفظ ربوا اصل میں ربو ہے جس کا معنی زائد چیز کا ہے، یہ فعل کے وزن پر ہے اس کا ماضی مضارع (رَبٰی یَرْبُوْا) ہے۔ لغت میں تو اس کا ترجمہ یہی ہے جو اوپر لکھا گیا ہے یعنی بڑھنے والی چیز پھر یہ لفظ عام طور سے سود کے لیے استعمال ہونے لگا جیسا کہ سورة بقرہ (رکوع 38) میں کئی جگہ یہ لفظ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ مال چونکہ بڑھنے والی چیز ہے سلیقہ سے اسے کاروبار میں لگایا جائے اور شرعی طریقہ کے مطابق خرچ کیا جائے تو اس میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ اس لیے اس آیت بالا میں ربوا سے تعبیر فرمایا۔ بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس آیت میں سود لینے کی ممانعت بیان فرمائی ہے اور اس کی بےبرکتی کو واضح فرمایا ہے اور مطلب یہ ہے کہ جب تم کسی کو قرض کے طور پر مال دو گے تاکہ وہ دوسروں کے مال میں شامل ہو کر زائد مال لے کر آئے تو اگرچہ تمہارے خیال میں اس سے مال میں اضافہ ہوا لیکن اللہ کے نزدیک اس میں کوئی اضافہ نہیں۔ اول تو سود لینے کی نیت سے دینا ہی حرام ہے پھر جو زائد مال مل گیا وہ بھی حرام ہے اور جو بظاہر زیادہ ہوا ہے وہ تمہاری نظر میں زیادہ ہوا ہے۔ چونکہ یہ مال حلال نہیں ہے اس لیے قانون شرعی میں تمہارے لیے کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ یہ زائد مال کا واپس کرنا واجب ہے پھر اگر تم نے واپس نہ کیا تو وہ بےبرکت ہوگا اور حرام خوری کا گناہ اپنی جگہ پر رہا۔ یہ تفسیر آیت کریمہ (یَمْحَقُ اللّٰہُ الرِّبٰوا وَ یُرْبِی الصَّدَقٰتِ ) کے مطابق ہے۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ اگرچہ سود بہت ہوجائے لیکن اس کا انجام کمی ہی کی طرف ہوگا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 246)
سود سے جو مال جمع ہوتا ہے اس سے اسباب معیشت تو جمع ہوجاتے ہیں لیکن سکون و اطمینان سلب ہوجاتا ہے، سودی اموال ہلاک ہوجاتے ہیں، بینکوں کا دیوالیہ ہوجاتا ہے، مالوں سے بھرے ہوئے جہاز ڈوب جاتے ہیں، پھر اگر کسی سود خور کا مال دنیا میں ہلاک و برباد نہ ہوا تو آخرت میں تو پوری طرح بربادی ہے ہی، وہاں تو یہ مال بالکل ہی کام نہ دے گا بلکہ دوزخ میں لے جانے کا ذریعہ بنے گا۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو بھی کوئی شخص حرام مال کما کر صدقہ کرے گا تو وہ قبول نہ ہوگا اور جو کچھ اس میں سے خرچ کرے گا اس میں برکت نہ ہوگی اور اپنے پیچھے چھوڑ کر جائے گا تو وہ اس کے لیے دوزخ کی آگ میں لے جانے والا توشہ بنے گا۔ (رواہ احمد کما فی المشکوٰۃ ص 242) مزید توضیح کے لیے سورة بقرہ رکوع 38 کی تفصیل کا مطالعہ کرلیا جائے۔ (انوار البیان جلد اول)
بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ آیت کریمہ میں وہ بخشش اور عطیہ مراد ہے جس میں دینے والے نے یہ نیت کی ہو کہ جسے میں بخشش کر رہا ہوں وہ مجھے اس سے زائد دے گا۔ اپنے کسی عزیز قریب کو یا کسی استاذ یا شیخ کو یا کسی دوست کو جو بھی کچھ پیش کیا جائے اس سے صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہونی چاہیے، دوسری جانب سے مال ملنے کی نیت نہ رکھے، اگر دوسری جانب سے مال ملنے کی نیت کی تو یہ اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرنا نہ ہوا لہٰذا یہ مال اللہ کے نزدیک نہیں بڑھے گا اور اس کا ثواب نہیں ملے گا۔ کیونکہ خرچ کیے ہوئے مال کا بڑھنا اسی مال کے ساتھ مخصوص ہے جو محض اللہ کی خوشنودی کے لیے خرچ کیا جائے۔ آیت کے الفاظ میں جو عموم ہے اس کے اعتبار سے یہ معنی اور مفہوم مراد لینا بھی صحیح ہے، البتہ اتنی بات یاد رہے کہ ہدیہ دینے والے کو تو صرف اللہ کی رضا کے لیے دینا چاہیے لیکن جسے ہدیہ دیا گیا ہو اسے چاہیے کہ ذہن میں رکھے کہ مجھے فلاں شخص نے ہدیہ دیا تھا پھر جب موقع دیکھے اس کا بدلہ دے دے لیکن اسے نہ جتائے کہ یہ تمہارے ہدیہ کا بدلہ میں ہے، اور جزاک اللہ کی دعا تو اسی وقت دے دے جب کسی نے کچھ دیا ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (مَنْ اُعْطِیَ عَطَاءَ فَوَجَدَ فلیجز بہ ومن لَّمْ یَجِدْ فَلْیُثْنِ فان من اثنی فَقَدْ شَکَرَ وَمَنْ کَتَمَ فَقَدْ کَفَرَ ) (یعنی جسے بطور بخشش کچھ دیا جائے اور اسے مقدور ہو تو اس کا بدلہ دے دے اور جسے بدلہ دینے کا مقدور نہ ہو وہ لوگوں کے سامنے بیان کردے کہ فلاں شخص نے ہمارے ساتھ یہ سلوک کیا ہے، جس نے اس کے احسان کو بیان کیا اس نے شکریہ ادا کردیا اور جس نے پوشیدہ رکھا اس نے ناشکری کی) (مشکوٰۃ المصابیح ص 261) یہ تو ہدیہ لینے والے کی طرف سے ہونا چاہیے اور جو شخص ہدیہ دے اسے مال زیادہ ملنے کی امید تو کیا شکریہ تک کی امید سے غافل ہوجانا چاہیے، جیسا کہ سورة الدہر میں فرمایا (اِِنَّمَا نُطْعِمُکُمْ لِوَجْہِ اللّٰہِ لاَ نُرِیْدُ مِنْکُمْ جَزَآءً وَّلاَ شُکُوْرًا) (ہم تمہیں صرف اللہ کی رضا کے لیے کھلاتے ہیں ہم تم سے کوئی بدلہ یا شکریہ نہیں چاہتے۔ )
رسول اللہ ﷺ ہد یہ قبول فرماتے تھے پھر اس کے بدلہ میں اس سے زیادہ دیتے تھے ایک اعرابی نے آپ ﷺ کو ایک جوان اونٹ ہدیۃً دیا تھا تو آپ نے اسے چھ جوان اونٹ عطا فرمائے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 261)
Ayah 30:39آیت کے ختم پر فرمایا (وَ مَآ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَکٰوۃٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْہَ اللّٰہِ فَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الْمُضْعِفُوْنَ ) (اور جو بھی تم زکوٰۃ دو گے جس سے اللہ کی رضا مقصود ہو تو ایسا عمل کرنے والے ہی بڑھانے والے ہیں) اس میں مفسرین نے لفظ زکوٰۃ سے صدقہ نافلہ مراد لیا ہے (کیونکہ سورة روم مکیہ ہے اور زکوٰۃ بمعنی معروف مدینہ منورہ میں فرض ہوئی تھی) چونکہ اللہ تعالیٰ کے لیے مال کا خرچ کرنا نفس کے بخل سے پاک کرنے کے لیے بھی ہے اس لیے عام صدقات کو بھی زکوٰۃ سے تعبیر کردیا جاتا ہے، جیسا کہ نیک کام ہونے کی وجہ سے زکوٰۃ مفروضہ کو بھی صدقہ سے تعبیر فرمایا ہے۔ کَمَا فِیْ قَوْلِہٖ تَعَالیٰ : (اِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَآءِ ) آیت کریمہ میں یہ بتایا کہ تم جو کچھ بھی کوئی صدقہ اللہ کو راضی کرنے کی نیت سے دو گے اس میں اضافہ کردیا جائے گا۔ اس اضافہ کو لفظ (الْمُضْعِفُوْنَ ) سے تعبیر فرمایا۔ یہ لفظ اضْعَاف سے اسم فاعل کا صیغہ ہے جس کا مادہ ضِعْفٌ ہے۔ ضِعْف عربی میں دوگنے کو کہتے ہیں اور اس کی جمع اَضْعَافْ آتی ہے، جب کوئی چیز بہت زیادہ بڑھ جائے اور چند در چند ہوجائے تو اسے (اَضْعَافًا مُّضَاعَفَۃ) کہا جاتا ہے۔ اس تشریح کو سامنے رکھ کر آیت کریمہ کا مطلب سمجھ لیں کہ جو شخص اللہ کی رضا کے لیے کوئی صدقہ دے گا تو اس کا یہ صدقہ الہض تعالیٰ کے ہاں مقبول ہوجاتا ہے اور اس کا ثواب بڑھ کر ملتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ تو عام قانون ہے (مَنْ جَآء بالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِھَا) (جو شخص ایک نیکی کرے اس کے لیے دس گنا ہے) یہ قانون تو ہر نیکی کو شامل ہے اور اس سے زائد جس قدر بھی اللہ تعالیٰ چاہے بڑھا چڑھا کر ثواب عطا فرماتا ہے جسے سورة بقرہ کی آیت کریمہ (وَاللّٰہُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ ) میں بیان فرما دیا ہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے حلال کمائی سے ایک کھجور کے برابر صدقہ کیا تو اللہ تعالیٰ اسے قبول فرما لیتا ہے، پھر اسے صدقہ دینے والے کے لیے بڑھاتا رہتا ہے جیسا کہ تم میں سے کوئی شخص اپنے گھوڑے کے بچہ کی تربیت کرتا رہتا ہو، یہ صدقہ جو کھجور کے برابر کیا تھا بڑھتے بڑھتے پہاڑ کے برابر ہوجاتا ہے۔ (رواہ البخاری) جب صدقہ دینے والے کو قیامت کے روز ثواب دیا جانے لگے گا تو اسے اس تھوڑے سے صدقہ کا اتنا بڑا ثواب ملے گا جیسے اس نے پہاڑ کے برابر صدقہ کیا ہو۔
Ayah 30:40چوتھی آیت میں پھر توحید کی طرف متوجہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں پیدا فرمایا ہے پھر تمہیں رزق دیا، اس رزق کو کھاتے پیتے ہو اور زندہ رہتے ہو، پھر اس زندگی کے بعد تمہیں موت دے گا پھر زندہ فرمائے گا، اسی کی قدرت کے یہ سب مظاہرے ہیں اور وہی مستحق عبادت ہے، وحدہٗ لا شریک ہے تم لوگوں نے جو اس کے لیے شریک بنا رکھے ہیں کیا ان میں سے کوئی ایسا ہے جسے ان چیزوں پر قدرت ہو ؟ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بھی یہ کام نہیں کرسکتا، جب اس کے علاوہ کوئی بھی قدرت رکھنے والا نہیں ہے تو پھر عبادت میں دوسروں کو شریک کیوں کرتے ہو، (سُبْحٰنَہٗ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ ) (وہ ان کے شرک سے پاک ہے اور برتر ہے)
Ayah 30:41لوگوں کے اعمال بد کی وجہ سے بحر وبر میں فساد ظاہر ہوگیا
اللہ تعالیٰ نے انسان کو دنیا میں بھیجا اور اسے ایمان اور اعمال صالحہ اختیار کرنے کا حکم فرمایا، امتحان کے لیے اس میں خیر و شر کے اپنانے کی قوت رکھ دی، اس کے اندر ایسے جذبات ہیں جو اسے اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کی طرف کھینچتے ہیں اور شیطان بھی ساتھ لگا ہوا ہے وہ لوگوں کو ایمان سے اور اعمال صالحہ سے ہٹاتا ہے اور کفر اور شرک کی راہ پر ڈالتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کے ذریعہ یہ بتادیا کہ کفر اور شرک اور برے اعمال کا نتیجہ برا ہے، کفر اور شرک کی سزا دنیا میں بھی مل جاتی ہے اور آخرت میں بھی ملے گی اور کفر اور شرک کے علاوہ جو برے اعمال ہیں ان کی سزا بھی دونوں جہاں میں مل سکتی ہے، انسانوں کا مزاج کچھ ایسا ہے کہ عموماً برائیوں کی طرف زیادہ ڈھلتے ہیں اور یہ برائیاں طرح طرح کی مصیبتوں کا سبب بن جاتی ہیں، دنیا میں امن وامان قائم نہیں رہتا اور ایسے ایسے انقلاب آتے رہتے ہیں جن کی وجہ سے دنیا مصیبتوں کی آماجگاہ بنی رہتی ہے۔ آیت کریمہ (ظَھَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ) میں اسی مضمون کو بیان فرمایا ہے کہ خشکی (جس میں آبادیاں اور جنگل سب شامل ہیں) اور سمندر میں فساد ظاہر ہوگیا، آپس میں قتل و خون ہوتا اور قحط آتا ہے، مہلک امراض کا عام ہوجانا، نئے نئے امراض کا پیدا ہوجانا، آندھیوں کا چلنا، کھیتوں کو کیڑوں کا کھا جانا اور زلزلوں کا آنا اور سخت سردی سے تباہ ہوجانا (جسے بعض علاقوں میں پالا مارنا کہتے ہیں) اور اس طرح کی بہت سی مصیبتوں کا ظہور ہونا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ سزائیں دی جاتی ہیں تاکہ بندے ہوش میں آئیں، کفر و شرک اور گناہوں کو چھوڑیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں اور یہ انسانوں کے پورے اعمال کی سزا نہیں ہے بلکہ بعض اعمال کی سزا ہے۔ اسی لیے فرمایا ہے (لِیُذِیْقَھُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُوْنَ ) (تاکہ اللہ انہیں ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے) اگر تمام اعمال پر گرفت کی جائے تو زمین پر کوئی چلنے پھرنے والا زندہ نہ بچے۔ سورة فاطر میں فرمایا : (وَلَوْ یُؤَاخِذُ اللّٰہُ النَّاسَ بِمَا کَسَبُوْا مَا تَرَکَ عَلٰی ظَھْرِھَا مِنْ دَآبَّۃٍ وَّ لٰکِنْ یُّؤَخِّرُھُمْ الآی اَجَلٍ مُّسَمًّی) (اور اگر اللہ لوگوں کا مواخذہ فرمائے ان کے اعمال کی وجہ سے تو زمین کی پشت پر کسی بھی چلنے پھرنے والے کو نہ چھوڑے اور لیکن وہ انہیں مقررہ میعاد تک مؤخر فرماتا ہے) اور سورة شوریٰ میں فرمایا : (وَمَا اَصَابَکُمْ مِّنْ مُّصِیبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیکُمْ وَیَعْفُو عَنْ کَثِیْرٍ ) (اور جو کچھ تمہیں کوئی مصیبت پہنچ جائے سو وہ تمہارے اعمال کے سبب سے ہے اور اللہ بہت سے اعمال کو معاف فرما دیتا ہے۔ )
زمین کے خشک حصہ میں جو فساد اور بگاڑ ہے وہ تو نظروں کے سامنے ہے سمندر میں جو فساد ہے اس سے کیا مراد ہے ؟ اس کے بارے میں تفسیر قرطبی میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا گیا ہے جب بارش ہوتی ہے تو سمندر میں جو سیپیاں ہیں ان کا منہ کھل جاتا ہے اور جس سیپی میں بارش کا قطرہ گرجائے وہ موتی بن جاتا ہے اور بارشیں انسانوں کے گناہوں کی وجہ سے رک جاتی ہیں لہٰذا موتیوں کی پیدائش بھی کم ہوجاتی ہے اور یہ موتی جو انسان کے کام آتے ہیں ان سے انسان محروم ہوجاتے ہیں۔
صاحب روح المعانی نے حضرت مجاہد (رح) (تابعی) سے یوں نقل کیا ہے کہ ظالم لوگ غریب کشتی والوں کی کشتیاں چھین لیتے تھے۔ آیت میں اسی کو بیان فرمایا ہے۔ (اور یہ کشتی چھیننا بطور مثال کے ہے، سمندر کی سطح پر کشتیوں اور جہازوں میں جو لوگوں پر ظلم ہوتے ہیں، ٹیکس لیے جاتے ہیں اور ملکوں کی آپس کی لڑائیوں کی وجہ سے جو گولہ باری ہوتی ہے، جہاز تباہ ہوتے ہیں، ہر فریق کے آدمی مرتے ہیں اور سامانوں سے بھرے ہوئے جہاز ڈبو دئیے جاتے ہیں، یہ سب فساد فی البحر کے ذیل میں آتا ہے۔ )
یاد رہے کہ آیت کریمہ میں عمومی فساد کا ذکر ہے جب گناہوں کی وجہ سے عمومی مصیبتیں آتی ہیں تو ان کی وجہ سے مومن اور کافر، نیک اور بد حتیٰ کہ جانور بھی متاثر ہوتے ہیں۔
حضرت ابوہریرہ ؓ نے سنا کہ ایک شخص یوں کہہ رہا ہے کہ ظالم شخص صرف اپنی ہی جان کو نقصان پہنچاتا ہے، اس پر حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ یہ بات نہیں ہے بلکہ دوسری مخلوق بھی اس سے متاثر ہوتی ہے یہاں تک کہ حباری (ایک پرندہ کا نام ہے) بھی اپنے گھونسلہ میں ظالم کے ظلم کی وجہ سے دبلی ہو کر مرجاتی ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 436)
جب بارش نہ ہوگی تو زمین میں پانی کی بھی کمی ہوگی۔ بارش کا پانی جو جگہ جگہ ٹھہر جاتا ہے جس سے انسان اور جانور سب ہی پیتے ہیں وہ نہ ہوگا تو پیاس سے مریں گے اور بارش نہ ہونے کی وجہ سے جب کھیتوں میں پیداوار نہ ہوگی تو انسان اور جانور سب ہی مصیبت میں پڑجائیں گے۔
یاد رہے کہ آیت کریمہ میں ان تکلیفوں کا ذکر نہیں ہے جو نیک بندوں کو ان کے گناہ معاف کرنے یا درجات بلند کرنے کے لیے پیش آتی ہیں۔ ان حضرات کو آلام و امراض سے تکلیف تو ہوتی ہے لیکن یہ ان کے حق میں مفید ہوتی ہے اس لیے مصیبت نہیں رہتی۔ پھر یہ لوگ صبر کرتے ہیں اس کا بھی ثواب پاتے ہیں اور گناہوں پر متنبہ ہو کر توبہ و استغفار کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، لہٰذا یہ تکلیفیں ان پر بطور قہر نہیں ہوتیں، ان کے حق میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمت اور مہربانی ہوتی ہے اور صبر اور توبہ و استغفار کا مستقل ثواب ملتا ہے۔
Ayah 30:42پھر فرمایا (قُلَ فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ ) (الآیۃ) کہ آپ اپنے مخاطبین یعنی مشرکین مکہ وغیرہ ہم سے فرما دیجیے کہ تم زمین میں چل پھر کر دیکھ لو۔ تم سے پہلے جو قومیں تھیں ان کا کیا انجام ہوا ؟ ان لوگوں میں اکثر مشرک تھے، ان لوگوں کے کفر اور شرک کی وجہ سے عام عذاب آیا اور ہلاک و برباد ہوئے، ان کے گھروں کے نشانات تمہارے سامنے ہیں، چلو پھرو، دیکھو اور عبرت حاصل کرو۔ اس آیت میں جو (کَانَ اَکْثَرُھُمْ مُّشْرِکِیْنَ ) فرمایا اس میں یہ بتادیا کہ ان برباد ہونے والوں میں اکثر تو مشرکین تھے اور بعض ایسے تھے جو کفر کی دوستی میں مبتلا تھے۔ اور اس میں اس طرف بھی اشارہ فرما دیا کہ شرک کفر کی بدترین اقسام میں سے ہے اس کا وبال بہت بڑا ہے۔
Ayah 30:43اس کے لیے فرمایا کہ (فَاَقِمْ وَجْھَکَ للدِّیْنِ الْقَیِّمِ ) (الآیۃ) اے مخاطب ! اپنا رخ دین قیم کی طرف رکھ یعنی توحید پر جما رہ، اس سے پہلے کہ ایسا دن آجائے یعنی اللہ کی طرف سے عذاب والا دن آجائے اور اس عذاب کو ہٹایا نہ جائے گا (اس سے قیامت کا دن مراد ہے) اس دن لوگ متفرق یعنی جدا جدا ہوجائیں گے، نیک اعمال والے الگ اور برے اعمال والے الگ ہوں گے۔
Ayah 30:44پھر فرمایا (مَنْ کَفَرَ فَعَلَیْہِ کُفْرُہٗ ) (کہ جو شخص کفر کرے اس کا وبال اسی پر پڑے گا) (وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًافَلِاَنْفُسِھِمْ یَمْھَدُوْنَ ) (اور جو شخص نیک کام کرے سو ایسے اپنی ہی جانوں کے لیے راہ ہموار کر رہے ہیں) یعنی پیشگی سامان کر رہے ہیں۔
Ayah 30:45(لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْ فَضْلِہٖ ) (تاکہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اپنے فضل سے جزا دے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے) اللہ تعالیٰ کے اس فضل سے کافر محروم ہوں گے، (اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الْکٰفِرِیْنَ ) (بلاشبہ اللہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا) جب دنیا میں کافر اللہ کی ذات پر ایمان نہ لایا، اس کے انعامات کا شکریہ ادا نہ کیا اور مزید یہ کہا کہ دوسروں کو اس کی عبادت میں شریک کرلیا تو قیامت کے دن اس کی سزا پائیں گے، ایمان لاتے تو اللہ کے محبوب ہوتے، اب انہیں کفر کی سزا دی جائے گی اور دوزخ میں داخل ہوں گے۔
Ayahs 30:46–49اللہ تعالیٰ ہواؤں کو بھیجتا ہے اور بارش برساتا ہے، وہی مردوں کو زندہ فرمائے گا
ان آیات میں اول تو ہواؤں کا ذکر فرمایا جن کے چلنے سے یہ اندازہ ہوجاتا ہے کہ بارش آنے والی ہے، یہ ہوائیں بارش آنے سے پہلے بارش کی خوشخبری دے دیتی ہیں۔ پھر جب بارش ہوجاتی ہے انسان ان کے منافع سے مستفید ہوتے ہیں، منافع میں سے یہ بھی ہے کہ ان کے ذریعہ بادبانی کشتیاں چلتی ہیں۔ جب ان کشتیوں میں سوار ہو کر سفر کرتے ہیں تو ان سفروں میں اللہ تعالیٰ کا رزق بھی تلاش کرتے ہیں، تجارت کے لیے بھی مال لاتے ہیں اور آل اولاد کے کھانے پینے کے لیے بھی، ان سب چیزوں میں اللہ تعالیٰ کے انعامات بھی ہیں اور اس کی قدرت کے دلائل بھی ہیں، ان دلائل کے ذریعہ اسے پہچانیں اور اس کی جو نعمتیں ہیں ان کا شکر ادا کریں۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ہم نے آپ سے پہلے بہت سے رسول بھیجے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچایا، واضح دلائل پیش کیے لیکن جنہیں ماننا نہ تھا انہوں نے نہ مانا، انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا اور کفر پر جمے رہے ان کے جرم کی وجہ سے ہم نے انتقام لے لیا۔ وہ انتقام یہ تھا کہ یہ مجرمین ہلاک ہوئے اور اہل ایمان عذاب سے محفوظ رہے۔ جو لوگ آپ ﷺ کی مخالفت کر رہے ہیں وہ بھی مجرم ہیں ان سے بھی انتقام لیا جائے گا۔ (وَ کَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ ) (اور اہل ایمان کی مدد کرنا ہمارے ذمہ ہے) اس میں اللہ تعالیٰ نے ایک قاعدہ کلیہ بیان فرما دیا اور یہ وعدہ فرمایا کہ جس طرح ہم نے گذشتہ زمانوں میں مؤمنین کی مدد کی ہے اسی طرح آئندہ بھی مومنین کی مدد ہوتی رہے گی البتہ مدد میں حکمت کے موافق دیر بھی لگ جاتی ہے جیسا کہ انبیاء سابقین کی امتوں کے ساتھ ہوا ہے لہٰذا اہل ایمان کو ناامید اور اداس نہ ہونا چاہیے اور یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ دنیا ہی میں مدد ہوجائے۔ سب سے بڑی مدد یہ ہے کہ موت کے بعد انسان دوزخ سے بچ جائے اور جنت میں چلا جائے۔ دنیا میں جو صبر شکر کے ساتھ زندگی گزاری اور نیک اعمال کیے یہ جنت میں داخل ہونے کا ذریعہ بنیں گے۔
حضرت ابو الدرداء ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس کسی مسلمان نے اپنے بھائی کی آبرو کی طرف سے دفاع کیا (یعنی بےآبرو کرنے والے کو جواب دیا) تو یہ بات اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے کہ اس دفاع کرنے والے سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جہنم کی آگ کو دور رکھیں گے۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت (وَکَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ ) تلاوت فرمائی۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 424)
درمیان میں بطور جملہ معترضہ تسلی دینے کے طور پر کافروں سے انتقام لینے اور اہل ایمان کی مدد فرمانے کا تذکرہ فرمانے کے بعد پھر ہواؤں کے ارسال فرمانے اور ان کے بعض منافع کا تذکرہ فرمایا۔ ارشاد فرمایا کہ اللہ وہی ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے، یہ ہوائیں بادلوں کو اٹھا کر لاتی ہیں پھر اللہ تعالیٰ ان بادلوں کو جیسے چاہے پھیلا دیتا ہے اور کبھی اس کے ٹکڑے ٹکڑے کردیتا ہے پھر ان بادلوں سے بارش کو نکالتا ہے، بارش آتی ہے تو دیکھنے والے دیکھتے ہیں کہ بادل کے اندر سے بارش آرہی ہے، اسی کو فرمایا (فَتَرَی الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِہٖ فَاِذَآ اَصَابَ بِہٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہٖٓ اِذَا ھُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ ) (پھر اللہ اس بارش کو اپنے بندوں میں سے جسے چاہے پہنچا دیتا ہے جنہیں بارش پہنچ گئی وہ خوش ہوتے ہیں) (وَ اِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْھِمْ مِّنْ قَبْلِہٖ لَمُبْلِسِیْنَ ) (اور یہ بات واقعی ہے کہ وہ لوگ اس سے پہلے ناامید ہوچکے تھے) نا امیدوں کی امیدیں برلانا یہ اللہ تعالیٰ کا انعام ہے، بارش آنے پر خوشی بھی منائیں اور شکر بھی ادا کریں۔ (قرطبی)
Ayah 30:50پھر فرمایا (فَانْظُرْ الآی اٰثٰرِ رَحْمَتِ اللّٰہِ ) (الآیۃ) (کہ اے مخاطب تو اللہ کے آثار کو دیکھ لے کہ وہ زمین کو اس کی موت کے بعد کیسے زندہ کرتا ہے) اس زمین کو بار بار زندہ فرماتا ہے، بلاشبہ وہی مردوں کو زندہ فرمانے والا ہے۔ زمین کی نظیر سب کے سامنے ہے پھر مردوں کو زندہ کیے جانے میں تردد اور تامل کیوں ہے ؟ اللہ تعالیٰ ہی نے زمین کو بار بار زندہ فرمایا ہے وہی مردوں کو زندہ فرمائے گا۔ اس میں منکرین بعث بعد الموت کو تنبیہ ہے کہ بار بار اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں دیکھتے ہو پھر قیامت کے دن دوبارہ زندہ ہو کر قبروں سے نکلنے کا کیوں انکار کرتے ہو ؟
Ayah 30:51اس کے بعد فرمایا (وَ لَءِنْ اَرْسَلْنَا رٍیْحًا) (الآیۃ) اور اگر ہم خاص قسم کی ہوا چلا دیں جس سے ان کی کھیتیاں زرد نظر آنے لگیں یعنی ان کی سرسبزی اور شادابی جاتی رہے اور پتے پیلے پڑجائیں سو اس کے بعد ناشکری کرنے لگیں یعنی پچھلی نعمتوں کو بھول جائیں گے اور نئی صورتحال کو دیکھ کر ناشکری پر اتر آئیں گے۔
Ayahs 30:52–53آپ مردوں اور بہروں کو نہیں سنا سکتے اور اندھوں کو ہدایت نہیں دے سکتے
یعنی آپ کے جو مخاطبین ہیں آپ ان کے سامنے اللہ کی آیات تلاوت کرتے ہیں، ان کے سامنے دلائل پیش کرتے ہیں، یہ سننے کا ارادہ ہی نہیں کرتے۔ جس طرح آپ مردوں کو اور بہروں کو نہیں سنا سکتے جبکہ یہ بہرے پیٹھ پھیر کر چل دیں اور اشارہ کو بھی نہ دیکھیں، اسی طرح یہ لوگ ہیں ان کا سننے کا ارادہ نہیں ہے، مردوں کی طرح بنے ہوئے ہیں، پھر یہ لوگ اندھے بھی بنے ہوئے ہیں، راہ پر آنے کو تیار ہی نہیں لہٰذا آپ کی ہدایت پر نہ آئیں گے۔ (صُمٌّ بُکْمٌ عُمْیٌ فَھُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ ) آپ تو بس انہیں لوگوں کو سنا سکتے ہیں جو اللہ کی یاد پر یقین رکھتے ہیں اور اس یقین کی وجہ سے وہ فرمانبردار بنے ہوئے ہیں۔ اس میں امام الانبیاء جناب محمد رسول اللہ ﷺ کو تسلی ہے کہ جو لوگ آپ کی باتیں سن کر ان سنی کردیتے ہیں اور گونگے بہرے بنے ہوئے ہیں آپ ان کی حالت پر غم نہ کریں اور ان سے ایمان کی امید نہ رکھیں آپ کا کام دعوت دینا اور حق کو ظاہر کردینا ہے، اور جو لوگ دعوت حق قبول نہ کریں ان کی اپنی گمراہی ہے۔
آیت کریمہ میں جو (فَاِنَّکَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰی) فرمایا ہے اس کے بارے میں سورة نمل کی آیت (وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ ) کے ذیل میں ضروری بحث گذر چکی ہے۔
Ayah 30:54انسان ضعف و قوت کے مختلف احوال سے گزرتا ہے، جو صرف اللہ تعالیٰ کی تخلیق سے ہوتا ہے
آیت میں انسان کی پیدائش اور اس کی قوت وضعف کی حالت بیان فرمائی ہے۔ ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو ایسی حالت میں پیدا فرمایا کہ تم کمزور تھے یعنی بچے تھے پھر ضعف کے بعد قوت سے نواز دیا، انسان پہلے دودھ پیتا بچہ ہوتا ہے حرکت کے قابل بھی نہیں ہوتا، پھر ہاتھ پاؤں چلاتا ہے، نظریں گھماتا ہے، اپنے گھر والوں کو پہچانتا ہے، پھر لیٹے لیٹے پلٹیں کھانا شروع کردیتا ہے، پھر ٹیک لگا کر بیٹھنے کے قابل ہوتا ہے، پھر بغیر سہارے کے بیٹھنے لگتا ہے، پھر گھٹنوں کے بل چلنا شروع کردیتا ہے، پھر سہارے سے کھڑا ہوتا ہے ایک دو قدم چلنا شروع کرتا ہے پھر بلا سہارا چلنا شروع کردیتا ہے۔ ضعف کے احوال سے گزرتا ہوا جوانی میں داخل ہوتا ہے، جوانی کا زمانہ قوت اور طاقت کا ہوتا ہے، جسمانی طاقت بھی اچھی ہوتی ہے اور بچپن اور بڑھاپے کے مقابلہ میں عقل و فہم و ادراک بھی جوانی میں زیادہ ہوتا ہے، (گو بعض مرتبہ بڑھاپے میں ارذل العمر آنے سے پہلے پہلے تجربات کی بناء پر سوچ سمجھ کی قوت زیادہ ہوتی ہے) جب بڑھاپا آجاتا ہے تو پھر کمزوری آجاتی ہے بال بھی سفید ہوجاتے ہیں اور جیسے جیسے بڑھاپا بڑھتا جاتا ہے کمزوری بھی بڑھتی جاتی ہے، پھر ارذل العمر یعنی گھٹیا ترین نکمی زندگی کو پہنچ جاتا ہے اور بچپن والا ضعف آجاتا ہے، ہوش و حواس بھی باقی نہیں رہتے، واپس ہو کر پھر اسی ضعف پر پہنچ جاتا ہے جو بچپن میں تھا۔ اسی کو سورة یٰسین میں فرمایا، (وَمَنْ نُعَمِّرْہُ نُنَکِّسْہُ فِی الْخَلْقِ اَفَلاَ یَعْقِلُوْنَ ) (اور ہم جس کو زیادہ عمر دیتے ہیں اس کی خلقی حالت میں واپس کردیتے ہیں، کیا وہ نہیں سمجھتے ؟ )
(یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ ) (اللہ جو چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے) (وَھُوَ الْعَلِیْمُ الْقَدِیْرُ ) (اور وہ خوب جاننے والا ہے اور بڑی قدرت والا ہے) اسے سب کے احوال و اعمال کا علم ہے اسے پوری طرح سے قدرت ہے جس طرح چاہے پیدا فرمائے اور جس حالت میں رکھے اسے پورا اختیار ہے۔
Ayahs 30:55–57قیامت کے دن مجرمین کی جھوٹی قسما دھرمی اور اہل ایمان کی حق بیانی
یہ تین آیات ہیں، پہلی آیت میں یہ بتایا کہ جب قیامت قائم ہوگی اور زندہ ہو کر قبروں سے نکلیں گے تو اس وقت مجرمین یعنی کافر لوگ قسمیں کھا کر کہیں گے کہ ہم تو موت کے بعد قبروں میں تھوڑی سی ہی دیر رہے ہیں۔ اور بعض مفسرین نے بتایا کہ اس سے دنیا کی زندگی مراد لیں گے اور ان کے کہنے کا مطلب یہ ہوگا کہ دنیا میں ہم ذرا دیر ہی رہے تھے، عمریں تو اچھی خاصی گزاریں لیکن ایمان نہ لائے اور نیک عمل نہ کیے، اتنی بڑی زندگی بیکار ہی چلی گئی، جو چیز زیادہ ہو اور اس سے نفع نہ اٹھایا جائے تو وہ قلیل مانی جاتی ہے جیسا کہ قلیل چیز نفع مند ہو تو اسے کثیر کہا جاتا ہے۔ (ذکر صاحب الروح)
ان لوگوں کا کہنا کہ ہم دنیا میں یا برزخ میں صرف ذرا دیر ہی رہے جھوٹ ہی ہوگا اور یہ ان کا پہلا جھوٹ نہیں ہوگا بلکہ دنیا میں جب ان کے سامنے حق آتا تھا تو اس سے اعراض کرتے تھے اور اس کی تکذیب کرتے تھے اور الٹی ہی چال چلتے تھے، شیطان اور نفس انہیں حق کی تکذیب پر آماہ کرتے تھے۔ جن لوگوں کو اللہ نے علم دیا اور ایمان دیا (ان میں فرشتے بھی ہیں اور بنی آدم میں سے وہ افراد بھی ہیں جنہیں علم اور ایمان کے لیے منتخب فرمالیا) یہ حضرات ان سے یوں کہیں گے کہ تم اللہ کے نوشتہ میں یعنی اللہ کی کتاب میں بعث کے دن تک ٹھہرے رہے ہو، اللہ تعالیٰ شانہ نے جو لوح محفوظ میں لکھ دیا تھا اور اپنی کتاب میں جو (وَمِنْ وَّرَآءِہِمْ بَرْزَخٌ اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ ) فرما دیا تھا تم اسی کے مطابق بعث کے دن تک ٹھہرے رہے ہو۔ یَوْمِ الْبَعْثسے قبروں سے اٹھائے جانے کا دن مراد ہے۔
اہل علم و ایمان مجرمین سے خطاب کرتے ہوئے یوں کہیں گے کہ یہ یَوْمِ الْبَعْث ہے، قبروں سے زندہ ہو کر اٹھائے جانے کا دن ہے، تم جس کے منکر تھے وہ سامنے آگیا اور آج واضح ہوگیا کہ تمہارا انکار کرنا باطل تھا لیکن تم نہیں جانتے تھے، جو حضرات قیامت واقع ہونے اور وہاں کی پیشی ہونے کی باتیں کرتے تھے تم ان کو جھٹلاتے تھے اور مذاق اڑاتے تھے، ان کی بات مانتے تو تمہیں آج کے دن کا اور آج کے دن کے حالات کا علم ہوتا۔
تیسری آیت میں فرمایا کہ جن لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، کفر اختیار کیا، قیامت کے دن پر ایمان نہ لائے اب جو بھی کوئی معذرت کریں وہ قبول نہیں ہوگی اور معذرت انہیں کوئی نفع نہ دے گی اور نہ ان کو اس کا موقع دیا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرلیں کیونکہ کفر پر مرنے کے بعد توبہ کرنے کا کوئی موقع نہیں اور ایسے لوگوں سے اللہ تعالیٰ کبھی ناراض نہیں ہوگا۔
Ayahs 30:58–60قرآن عمدہ مضامین پر مشتمل ہے، معاندین کو حق ماننا نہیں ہے آپ صبر سے کام لیں، اللہ کا وعدہ حق ہے
یہ تین آیات کا ترجمہ ہے۔ اول تو یہ بتایا کہ ہم نے اس قرآن میں ہر طرح کی عمدہ باتیں بتادی ہیں ان میں جو کوئی شخص غورو فکر کرے گا تو اس کے ذہن پر یہ وارد ہوگا کہ قرآن حق ہے اور قرآن کا ہر بیان حق ہے، قرآن اور صاحب القرآن ﷺ کی دعوت حق ہے، لیکن جو لوگ انکار پر تلے ہوئے ہیں اور ضد وعناد اور ہٹ دھرمی پر کمر باندھ رکھی ہے وہ بات ماننے والے نہیں ہیں، یہ قرآن خود ایک معجزہ ہے، اس کے علاوہ بھی جتنے معجزے اور آیات آپ پیش فرما دیں کافر لوگ آپ ﷺ کے اور آپ ﷺ کے ساتھیوں کے بارے میں یوں ہی کہیں گے کہ تم لوگ باطل والے ہو۔
اہل باطل کا یہ طریقہ ہے کہ خود بھی حق قبول نہیں کرتے اور اہل حق کو اہل باطل بتاتے ہیں، ان لوگوں کے بارے میں فرمایا کہ ان لوگوں کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے، جیسے ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی اسی طرح اللہ ان لوگوں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے جو نہیں جانتے یعنی جاننا نہیں چاہتے اور حق قبول کرنے کی بجائے اپنی خرافات پر ہی مصر رہتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ کو مکذبین و معاندین کی باتوں سے تکلیف ہوتی تھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ صبر کیجیے بلاشبہ اللہ کا وعدہ حق ہے، اس نے جو آپ سے مدد کا اور دین اسلام کو غالب کرنے کا اور کلمہ حق کو بلند کرنے کا وعدہ فرمایا ہے وہ ضرور پورا ہوگا، آپ کے صبر میں فرق نہ آئے پوری طرح ثابت قدم رہیں، یہ لوگ جو یقین نہیں کرتے، آپ کی دعوت کو نہیں مانتے، ان کے اس طرز عمل سے کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کے پائے ثبات میں لغزش آجائے، یہ لوگ آپ کو بےصبری پر آمادہ نہ کردیں۔