Ayahs 25:41–43اس کے بعد قریش مکہ کی سر کشی بیان فرمائی اور وہ یہ کہ یہ لوگ صرف آپ کی تکذیب ہی نہیں کرتے آپ کا مذاق بھی بناتے ہیں اور مسخرہ پن کرتے ہیں اور یوں کہتے ہیں (اَھٰذَا الَّذِیْ بَعَثَ اللّٰہُ رَسُوْلًا) (کیا یہی شخص ہے جسے اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے) یہ ایسا ہی ہے جیسے قوم ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) کے بارے میں کہا تھا (ءَاُلْقِیَ الذِّکْرُ عَلَیْہِ مِنْ بَیْنِنَا) (کیا ہمارے درمیان سے صرف اسی شخص پر ذکر نازل کیا گیا) مکذبین اور معاندین کا یہ عجیب سوال رہا کہ فلاں شخص ہی کو نبی کیوں بنایا گیا ؟ دوسرے شخص کو عہدہ کیوں نہیں دیا گیا یہ جہالت اور حماقت کا سوال ہے جس کسی بھی شخص کو رسالت کی ذمہ داری سونپی جائے اس کے بارے میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اس کو رسول کیوں بنایا گیا اس طرح سے تو نبوت کا سلسلہ قائم ہی نہ ہوتا سورة انعام میں ان سب کا جواب دے دیا کہ (اَللّٰہُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہٗ ) (اللہ خوب جاننے والا ہے اس موقع کو جہاں اپنا پیغام بھیجے) نبی ﷺ نے فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ کا نبی ہوں اور معجزات پیش فرما دیئے جن میں بہت بڑا معجزہ قرآن مجید ہے جس کے مقابل بنا کر لانے سے تمام فصحاء بلغاء عاجز رہ گئے ان معجزات کو دیکھیں اور یہ بھی دیکھیں کہ ان کی دعوت کیا ہے وہ شرک چھڑا رہے ہیں توحید کی دعوت دے رہے ہیں موت کے بعد جی اٹھنے اور اعمال کا بدلہ دیئے جانے سے باخبر فرما رہے ہیں ان کی دعوت میں غور فکر کرنا لازم ہے یہ تو کوئی بات نہ ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں کو رسول بنا کر کیوں بھیجا۔
Ayah 25:44اہل مکہ اپنے کفر و شرک پر خوش تھے اور اس میں بڑا کمال سمجھتے تھے کہ ہم نے توحید کی دعوت قبول نہیں کی وہ کہتے تھے کہ اگر ہم اپنی معبودوں پر جمے ہوئے نہ رہتے تو یہ شخص تو ہمیں ان کی پرستش سے ہٹا ہی دیتا ان کی جہالت کا جواب دیتے ہوئے فرمایا (وَ سَوْفَ یَعْلَمُوْنَ ) (الآیۃ) اور جس وقت یہ لوگ عذاب دیکھیں گے اس وقت جان لیں گے کہ راہ حق سے ہٹا ہوا کون تھا، عذاب سب سمجھا دے گا اور اس وقت حقیقت ظاہر ہوجائے گی، دنیا میں رسول اللہ ﷺ کو جو بےراہ بتاتے تھے قیامت کے دن ان کا اپنا گمراہ ہونا واضح ہوجائے گا، ان کے بعد رسول اللہ ﷺ کو خطاب کرکے فرمایا (اَرَاَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰھَہٗ ھَوَاہُ ) (کیا آپ نے اس کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنا لیا) (اَفَاَنْتَ تَکُوْنُ عَلَیْہِ وَکِیْلاً ) (سو کیا آپ نگرانی کرنے والے ہیں) (اَمْ تَحْسَبُ اَنَّ اَکْثَرَھُمْ یَسْمَعُوْنَ اَوْ یَعْقِلُوْنَ ) (کیا آپ خیال کرتے ہیں کہ ان میں سے اکثر سنتے ہیں یا سمجھتے ہیں) (اِِنْ ھُمْ اِِلَّا کَالْاَنْعَامِ بَلْ ھُمْ اَضَلُّ سَبِیْلًا) (یہ لوگ محض چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ بےراہ ہیں) ۔
اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی ہے کہ اگر یہ لوگ ایمان قبول نہ کریں تو آپ پریشان نہ ہوں آپ پر قبول کرانے کی ذمہ داری نہیں ڈالی گئی لہٰذا آپ ان کے نگران نہیں ہیں آپ کا کام صرف واضح طور پر پہنچا دینا ہے سورة الزمر میں فرمایا (اِِنَّا اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْکِتٰبَ للنَّاس بالْحَقِّ فَمَنْ اھْتَدٰی فَلِنَفْسِہٖ وَمَنْ ضَلَّ فَاِِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْہَا وَمَا اَنْتَ عَلَیْہِمْ بِوَکِیْلٍ ) (ہم نے لوگوں کے لیے آپ پر یہ کتاب حق کے ساتھ اتاری ہے جو شخص راہ راست پر آئے گا تو اپنے نفع کے واسطے اور جو شخص بےراہ رہے گا اس کا بےراہ ہونا اس پر پڑے گا اور آپ ان پر مسلط نہیں کیے گئے) آپ کے یہ مخاطب گمراہی میں بہت آگے بڑھ چکے ہیں حق کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوتے انہوں نے تو خواہش نفس ہی کو اپنا معبود بنا رکھا ہے جو جی میں آتا ہے وہ کہتے ہیں جو نفس خواہش کرتا ہے اسی کی فرمانبر داری کرتے ہیں جیسے معبود کی فرماں برداری کی جاتی ہے ایسے لوگوں سے ہدایت کی توقع نہ رکھیئے۔ آپ یہ بھی خیال نہ کریں کہ ان میں اکثر سنتے ہیں یا سمجھتے ہیں۔ یہ تو راہ حق سے اتنی دور جا پڑے ہیں کہ بس چوپایوں کی طرح ہوگئے ہیں۔ بلکہ ان سے بھی زیادہ راہ سے بھٹک گئے ہیں کیونکہ چوپائے مکلف نہیں ہیں وہ نہ سمجھیں تو ان کی طرف کوئی مذمت متوجہ نہیں ہوتی اور یہ مکلف ہیں پھر بھی سننے کی طرح نہیں سنتے اور سمجھنے کی طرح نہیں سمجھتے۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ جانور تو اپنے مجازی مالک کی فرمانبر داری کرتے ہیں محسن اور غیر محسن کو پہچانتے ہیں اپنے کھانے پینے کے مواقع کو جانتے ہیں اپنے ٹھہرنے اور بیٹھنے کے ٹھکانوں کو سمجھتے ہیں اپنے نفع کے طالب رہتے ہیں اور ضرر سے بچتے ہیں، برخلاف ان لوگوں کے جنہیں اللہ نے عقل دی اور سمجھ دی ہے یہ لوگ اپنے خالق اور رازق کی فرمانبر داری نہیں کرتے اور اس کے احسان مند نہیں ہوتے خواہشوں کے پیچھے لگے ہوئے ہیں نہ ثواب کی طلب ہے نہ عقاب کا خوف، حق سامنے آگیا معجزات دیکھ لیے دلائل عقلیہ سے لا جواب ہوگئے لیکن ان سب کے باو جود ایمان قبول نہیں کرتے لا محالہ جانوروں سے بھی زیادہ گم کردہ راہ ہیں۔
یہ جو فرمایا (اَمْ تَحْسَبُ اَنَّ اَکْثَرَھُمْ ) (الایۃ) اس کے بارے میں صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ چونکہ ان میں سے بعض کا ایمان لانا بھی مقدر تھا اس لیے لفظ اکثر لایا گیا، آیت شریفہ سے خواہشات نفس کے پیچھے چلنے کی قباحت اور شناعت معلوم ہوئی یہ خواہشات نفس کا اتباع انسان کو کفر و شرک پر بھی ڈالتا ہے اور گناہ بھی کرواتا ہے جو لوگ نفس کے پابند ہوتے ہیں نفس ہی کی خواہشوں کا اتباع کرتے ہیں اور اس طرح چلتے ہیں جیسے نفس ہی ان کا معبود ہو، یہ ذہن اور مزاج تباہ کر کے رکھ دیتا ہے، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے اپنی امت پر سب سے زیادہ خوف خواہشات نفس کے پیچھے چلنے کا ہے اور لمبی امیدیں آخرت کو بھلا دیتی ہیں۔ (الحدیث) (مشکوۃ المصابیح ص 444)
ایک حدیث میں یہ ارشاد ہے کہ ہلاک کرنے والی یہ چیزیں ہیں (1) نفس کی خواہش جس کا اتباع کیا جائے (2) وہ کنجوسی جس کی اطاعت کی جائے (3) انسان کا اپنے نفس پر اترانا، اور یہ ان تینوں میں سب سے زیادہ سخت ہے۔ (مشکوۃ المصابیح ص 434)
جو لوگ مسلمان نہیں ہیں ان کا اپنی خواہشات کا متبع ہونا ظاہر ہے کہ توحید کی دعوت پر کان نہیں دھرتے اور کفر و شرک ہی کو اختیار کیے رہتے ہیں نفس نہیں چاہتا کہ اللہ کے رسول کا اتباع کریں لہٰذا نفس کے غلام بنے رہتے ہیں۔ دلائل سے حق واضح ہوجانے پر بھی حق کی طرف نہیں آتے، اتباع نفس کا مرض بہت سے مدعیان اسلام میں بھی ہے قرآن حدیث کی صاف صریح تعلیمات کو پس پشت ڈال کر ایسے عقائد اور ایسے اعمال تراش لیتے ہیں جن میں بعض تو کفر کی حد تک پہنچا دیتے ہیں مثلاً کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے علم کو اللہ تعالیٰ کے علم کے برابر مانتے ہیں اور کچھ لوگ آپ کے بشر ہونے کے منکر ہیں۔
یہ دونوں کفریہ باتیں ہیں قرآن حدیث کے خلاف ہیں بعض فرقے تحریف قرآن کے قائل ہیں ان میں وہ لوگ بھی ہیں جو دو تین حضرات کے علاوہ تمام صحابہ کو کافر کہتے ہیں یہ بھی کفریہ عقیدے ہیں اور یہ سب نفس کا اتباع ہے یعنی خواہشات نفس کی پابندی ہے۔
یہ ہم نے بعض ایسے عقیدے بتائے ہیں جو اتباع ہویٰ کی وجہ سے لوگوں نے اختیار کرلیے ہیں اب رہے وہ اعمال جنہیں بدعت عملی کہا جاتا ہے یہ بھی بہت زیادہ ہیں۔ مختلف علاقوں میں مختلف بدعات رواج پذیر ہیں یہ بد عتیں خوشی میں اور مرنے جینے میں، محرم الحرام کے مہینے میں ربیع الاول میں رجب میں اور شعبان میں بہت زیادہ مروج ہیں جن کی تفاصیل حضرت حکیم الامت تھانوی کی کتاب اصلاح الرسوم میں بیان کردی گئی ہیں اور چونکہ بدعت کے لیے کسی سند کی ضرورت نہیں خود تراش لینے ہی سے وجود میں آجاتی ہے اس لیے مختلف علاقوں میں مختلف بدعات ہیں، احقر نے ایک مرتبہ جنوبی ہند کا سفر کیا ظہر کا وقت تھا مسجد میں امام صاحب کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا مؤذن نے اذان دی تو اس کے بعد نقارہ بجا دیا گیا احقر نے امام صاحب سے پوچھا یہ کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ یہ عورتوں کو بتانے کے لیے ہے کہ مسجد میں اذان ہوگئی ہے میں نے عرض کیا کیا سرکار دو عالم ﷺ کے زمانہ میں عورتوں کی اطلاع دینے کے لیے اذان کے علاوہ نقارہ پیٹا جاتا تھا، کہنے لگے ایسا تو نہیں، میں نے کہا کہ پھر آپ لوگوں نے یہ نئی چیز کیوں نکالی ؟ ایک تو نئی چیز وہ بھی نقارہ ؟ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ وہاں یہ بھی رواج ہے کہ دفن کرنے کے بعد دفن میں شرکت کرنے والوں کو میٹھی روٹیاں بانٹتے ہیں جب تک روٹیاں تیار نہیں ہوجاتیں میت کو گھر ہی میں رکھے رہتے ہیں، دمشق کا سفر کیا وہاں دیکھا کہ اذان سے چند منٹ پہلے مؤذن مینار پر چڑھ کر بہ آواز بلند درود شریف پڑھتا ہے اور جمعہ کے دن خطیب خطبہ پڑھنے کے لیے اپنے حجرہ سے چلتا ہے تو جب اس پر نظر پڑجائے چند آدمی مل کر زور زور سے درود شریف پڑھتے ہیں اور اس کے منبر میں بیٹھ جانے تک برابر پڑھتے رہتے ہیں، مختلف علاقوں میں مختلف بدعات ہیں اہل بدعات کو جب متنبہ کیا جاتا ہے تو ماننے کے بجائے الٹی الٹی دلیلیں لے آتے ہیں اور سینکڑوں سنتیں جو احادیث کی کتابوں میں مذکور ہیں ان پر عمل کرنے کو تیار نہیں ہوتے یہ اتباع ہویٰ ہے اگرچہ دینی جذبات کے ساتھ ہے۔
Ayahs 25:45–46سایہ اور آفتاب، رات اور دن ہوائیں اور بارشیں سب تصرفات الہٰیہ کا مظہر ہیں
اول ارشاد فرمایا کیا تم نے یہ نہیں دیکھا کہ تمہارے رب نے سایہ کو کس طرح پھیلایا ہے جب سورج طلوع ہوتا ہے تو ہر چیز کا سایہ خوب لمبا ہوتا ہے اور اگر اللہ چاہتا تو اس کو ایک حالت پر ٹھہرا ہوا رکھتا جو آفتاب کے بلند ہونے پر بھی نہ گھٹتا، نیز یہ بھی فرمایا کہ ہم نے آفتاب کو سایہ کی درازی اور کوتاہی پر ایک ظاہری علامت مقرر کردیا کہ آفتاب طلوع ہوا تو چیزوں کا سایہ لمبا ظاہر ہوا پھر آفتاب چڑھتا گیا تو سایہ گھٹتا گیا، حتیٰ کہ عین زوال کے وقت ذرا سا سایہ رہ گیا، پھر جب آفتاب آگے بڑھا تو سایہ کا رخ مشرق کی طرف ہوگیا جو زوال کے وقت تک مغرب کی طرف تھا۔
گو بظاہر آفتاب کی رفتار ان چیزوں کی علامت ہے لیکن حقیقت میں سب خالق کائنات جل مجدہ کی مشیت اور ارادہ سے ہوتا ہے۔
ثانیاً یہ بھی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے رات کو لباس بنایا جو تمہارے لیے پردہ ہے جیسے تمہیں لباس چھپاتا ہے رات بھی تمہیں پوشیدہ رکھتی ہے اور چونکہ عموماً نیند رات ہی میں ہوتی ہے اس لیے ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ نیند کو ہم نے راحت کی چیز بنایا، دن میں محنت کرتے ہیں کام کاج میں رہتے ہیں پھر رات کو اپنے ٹھکانوں پر آجاتے ہیں تو کھا پی کر سو جاتے ہیں، دن بھر کی محنت و مشقت کی وجہ سے جو نڈھال ہوگئے تھے اور جان میں جو کمزوری آگئی تھی سونے کی وجہ سے وہ ختم ہوجاتی ہے اور صبح کو گویا نئی زندگی مل جاتی ہے، رات میں چونکہ تاریکی ہے اس لیے اس میں خوب مزے دار نیند آتی ہے، دن میں سونے کی کوشش کی جائے تو کھڑکیوں پر پردے ڈال کر باقاعدہ رات کی فضا بنائی جاتی ہے۔
Ayah 25:47پھر چونکہ نیند ایک طرح سے موت ہے جسے حدیث شریف میں النَّوْمُ اَخُو الْمَوْتِ فرمایا ہے اس لیے دن کی نعمت کا تذکرہ فرماتے ہوئے (وَ جَعَلَ النَّھَارَ نُشُوْرًا) فرمایا، قرآن و حدیث میں لفظ نشور قبروں سے اٹھنے کے لیے استعمال ہوا ہے اور یہاں صبح کو بیدار ہو کر دن میں مختلف کاموں کے لیے پھیل جانے کو نشور سے تعبیر فرمایا، سورة القصص میں فرمایا (وَ مِنْ رَّحْمَتِہٖ جَعَلَ لَکُمُ الَّیْلَ وَ النَّھَارَ لِتَسْکُنُوْا فِیْہِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِہٖ وَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ ) (اور اس کی رحمت میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارے لیے رات اور دن کو بنایا تاکہ تم رات میں آرام کرو اور دن میں اس کا فضل یعنی روزی تلاش کرو اور تاکہ تم شکر کرو) چونکہ رات کو سونا موت کے مترادف ہے اس لیے رسول اللہ ﷺ رات کو سونے لگتے تو یہ دعا پڑھتے اللّٰھُمَّ بِسْمِکَ اَمُوْتُ وَ اَحْیٰی (میں اللہ کا نام لے کر مرتا اور جیتا ہوں) اور جب سو کر اٹھتے تو یہ دعا پڑھتے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْٓ اَحْیَانَا بَعْدَ اَمَاتَنَا وَ اِلَیْہِ النُّشُوْرِ (سب تعریف اللہ کے لیے جس نے موت دینے کے بعد زندہ فرما دیا اور اسی کی طرف اٹھ کر جانا ہے)
Ayahs 25:48–49ثالثاً بارش کی نعمت کا تذکرہ فرمایا اور بارش سے پہلے جو ہوائیں بارش کی خوشخبری دیتی ہوئی آتی ہیں ان کا نعمت ہونا بیان فرمایا، ان ہواؤں سے لوگوں کو بارش کے آنے کی خوشخبری بھی مل جاتی ہے اور جن چیزوں کو بارش سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں (تاکہ بھیگ کر خراب نہ ہو) ان کے محفوظ کرنے کا وقت بھی مل جاتا ہے۔
یہاں بارش کے تین منافع بتائے اول یہ کہ اس پانی سے طہارت اور پاکیزگی حاصل کی جاتی ہے، یہ پانی ندیوں اور نہروں میں بھی آتا ہے تالابوں میں جمع ہوتا ہے پھر اس پانی سے غسل بھی کرتے ہیں وضو کے استعمال میں بھی لاتے ہیں اور میل کچیل بھی صاف کرتے ہیں کپڑے بھی دھوتے ہیں خاص کر طہارت حکمیہ تو پانی کے بغیر کسی دوسری سیال چیز سے حاصل ہو ہی نہیں سکتی۔
دوم یہ کہ ہم اس کے ذریعہ مردہ زمین کو زندہ کرتے ہیں اس کی وجہ سے زمین سے سبزہ نکل آتا ہے کھیتیوں اور باغوں میں جان پڑجاتی ہے جس سے پھل میوے غلے پیدا ہوتے ہیں تیسرے یہ فرمایا کہ بارش کے پانی کو ہم اپنی مخلوق میں سے چوپایوں کو اور بہت سے انسانوں کو پلاتے ہیں، بارش کے پانی سے انسان اور ان کے مویشی سبھی سیراب ہوتے ہیں اس سے انسانوں کی بھی پیاس دور ہوتی ہے اور جانوروں کی بھی۔
Ayah 25:50پھر فرمایا کہ ہم نے پانی کو لوگوں کے درمیان تقسیم کردیا یعنی اس پانی کو حکمت اور مصلحت کے مطابق مختلف مواقع میں پہنچاتے ہیں۔ کبھی کہیں بارش ہوتی ہے کبھی کہیں، کبھی تھوڑی کبھی خوب زیادہ، اس میں عبرت ہے اور نصیحت ہے لیکن لوگ اس سے نصیحت حاصل نہیں کرتے، اکثر لوگوں کا بس یہی کام ہے کہ نا شکری میں لگے رہتے ہیں، یہ نا شکری انسانوں میں عموماً کفر کی حد تک ہے کھاتے ہیں اور پہنتے ہیں اللہ کی پیدا کردہ چیزیں اور عبادت کرتے ہیں دوسروں کی، اور بہت سے لوگوں کی نا شکری کفر کی حد تک تو نہیں لیکن نافرمانی اور معاصی میں لگے رہتے ہیں یہ بھی ناشکری ہے دونوں قسم کی ناشکری کے بارے میں فرمایا (فَاَبٰی اَکْثَرُ النَّاسِ اِِلَّا کُفُوْرًا) (سو اکثر لوگ نا شکری کے بغیر نہ رہے) ۔
Ayahs 25:51–52پھر فرمایا (وَلَوْ شِءْنَا لَبَعَثْنَا فِیْ کُلِّ قَرْیَۃٍ نَذِیْرًا) (اور اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں ایک نذیر بھیج دیتے) جس سے آپ کی ذمہ داری کم ہوجاتی ہر نبی اپنی اپنی بستی میں دعوت کا کام کرتا اور آپ صرف ام القریٰ (مکہ معظمہ) یا مزید اس کے آس پاس کی چند بستیوں کی طرف مبعوث ہوتے، لیکن ہم نے ایسا نہیں کیا، آپ کو خاتم النبیین بنایا اور سارے عالم کے انسانوں کی طرف رہتی دنیا تک کے لیے مبعوث فرمایا، یہ اللہ تعالیٰ کا آپ پر بہت بڑا انعام ہے، اس انعام کی شکر گزاری بھی لازم ہے، اور دعوت الی الحق کا کام جو سپرد کیا گیا ہے اس میں بھی محنت اور کوشش کے ساتھ لگنا ضروری ہے، جب آپ محنت کریں گے تو اہل کفر آپ کو اس کام سے ہٹانے کی کوشش کریں گے، وہ چاہیں گے کہ آپ اپنا کام چھوڑ دیں یا بعض باتوں میں مداہنت اختیار کرلیں، آپ ان کی بات بالکل نہ مانیں بلکہ خوب محنت اور مجاہدہ سے کام لیں، اور زور دار طریقہ پر قرآن کے ذریعہ ان کا مقابلہ کریں، جو خود بہت بڑا معجزہ ہے اور اس میں جو توحید پر دلائل قاہرہ بیان کیے ہیں ان کو پیش کرتے رہئے ان کی طرف سے جو مداہنت اور ترک تبلیغ کی درخواست سامنے آئے اس میں ان کی بات نہ مانئے، اسی کو فرمایا (فَلاَ تُطِعِ الْکٰفِرِیْنَ وَجَاھِدْھُمْ بِہٖ جِہَادًا کَبِیْرًا)
Ayah 25:53اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مظاہر، میٹھے اور کھارے سمندر میں امتزاج، نطفہ سے انسان کی تخلیق
ان دونوں آیتوں میں بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے بعض مظاہر بیان فرمائے ہیں، جو لوگوں کی نظر کے سامنے ہیں اور ان چیزوں کو لوگ جانتے ہیں اور سمجھتے ہیں، ان میں سے ایک تو یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے دو سمندروں کو اس طرح ملا دیا کہ دونوں ساتھ چلتے ہیں ان میں سے ایک میٹھا ہے جس سے خوب اچھی طرح پیاس بجھتی ہے اور ایک خوب زیادہ شور ہے کڑوا ہے، ان دونوں کے درمیان اللہ تعالیٰ نے ایک آڑ بنا دی ہے اور رکاوٹ لگا دی ہے جس کی وجہ سے دونوں ایک دوسرے میں گھلتے ملتے نہیں ساتھ ساتھ چل رہے ہیں ظاہری کوئی آڑ نہیں ہے، بس اللہ تعالیٰ کی قدرت ہی نے ان کو اس طرح جاری کر رکھا ہے کہ میٹھے دریا کا پانی شور دریا کے پانی میں نہیں ملتا اور شور دریا کا پانی میٹھے دریا میں نہیں ملتا، سورة الرحمن میں فرمایا ہے (مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیَانِ بَیْنَہُمَا بَرْزَخٌ لاَّ یَبْغِیَانِ ) (اس نے دو دریاؤں کو اس طرح ملادیا کہ وہ باہم ملے ہوئے ہیں، ان دونوں کے درمیان ایک حجاب ہے وہ دونوں اپنی مقررہ بہنے کی جگہ سے تجاوز نہیں کرتے) بظاہر دیکھنے میں کوئی آڑ نہیں لیکن ان میں سے کوئی ایک دوسرے میں ملتا بھی نہیں، اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ان دونوں کو اس حال میں رکھا ہے کہ ایک دوسرے میں نہیں ملتے یہی قدرتی آڑ ہے اور ظاہری کوئی آڑ نہیں ہے۔
جس نے اپنی مخلوق کو پیدا فرمایا ہے اسے پورا اختیار ہے کہ جس مخلوق کو جس طرح چاہے رکھے جو طبیعتیں ہیں وہ بھی اسی کی بنائی ہوئی ہیں، عموماً مخلوقات اپنی طبیعت کے مطابق چلتی رہتی ہیں اور جب اللہ تعالیٰ کی مشیت ہوتی ہے تو طبیعت کے خلاف بھی ظہور ہوجاتا ہے، جیسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ نے نہیں جلایا، پانی کا مزاج یہ ہے کہ ایک پانی دوسرے پانی میں گھل مل جائے لیکن اللہ تعالیٰ کی مشیت اور ارادہ سے دو سمندر ساتھ ساتھ جاتے ہیں دونوں میں سے کوئی بھی ایک دوسرے میں نہیں گھستا، حضرت مولانا شبیر احمد صاحب ؓ تفسیر عثمانی میں تحریر فرماتے ہیں۔
بیان القرآن میں دو معتبر بنگالی علماء کی شہادت نقل کی ہے کہ ارکان سے چاٹگام تک دریا کی شان یہ ہے کہ اس کی دو جانب بالکل الگ الگ نوعیت کے دو دریا نظر آتے ہیں، ایک کا پانی سفید ہے، ایک کا سیاہ، سیاہ میں سمندر کی طرح طوفانی تلاطم اور تموج ہوتا ہے اور سفید بالکل ساکن رہتا ہے کشتی سفید پانی میں چلتی ہے اور دونوں کے بیچ میں ایک دھاری سی برابر چلی گئی ہے جو دونوں کا ملتقی ہے، لوگ کہتے ہیں کہ سفید پانی میٹھا ہے اور سیاہ کڑوا، اھ۔ اور مجھ سے باریسال کے بعض طلبہ نے بیان کیا کہ ضلع بار یسال میں دو ندیاں ہیں جو ایک ہی دریا سے نکلی ہیں۔ ایک کا پانی کھارا بالکل کڑوا اور ایک کا نہایت شیریں اور لذیذ ہے۔ یہاں گجرات میں راقم الحروف جس جگہ آج کل مقیم ہے (ڈالک بھیل سملک سورت) سمندر تقریباً دس بارہ میل کے فاصلہ پر ہے ادھر کی ندیوں میں برابر مدو جزر (جوار بھاٹا) ہوتا رہتا ہے بکثرت ثقات نے بیان کیا کہ مد کے وقت جب سمندر کا پانی ندی میں آجاتا ہے تو میٹھے پانی کی سطح پر کھاری پانی بہت زور سے چڑھ جاتا ہے لیکن اس وقت بھی دونوں پانی مختلط نہیں ہوتے۔ اوپر پانی کھاری رہتا ہے، نیچے پانی میٹھا، جزر کے وقت اوپر سے کھاری اتر جاتا ہے اور میٹھا جوں کا توں باقی رہتا ہے۔ واللہ اعلم۔ ان شواہد کو دیکھتے ہوئے آیت کا مطلب بالکل واضح ہے یعنی خدا کی قدرت دیکھو کہ کھاری اور میٹھے دونوں دریاؤں کے پانی کہیں نہ کہیں مل جانے کے باو جود بھی کس طرح ایک دوسرے سے ممتاز رہتے ہیں۔ یا یہ مطلب ہو کہ اللہ تعالیٰ نے دونوں دریا الگ الگ اپنے اپنے مجری میں چلائے اور دونوں کے بیچ میں بہت جگہ زمین حائل کردی، اس طرح آزادانہ چھوڑا کہ دونوں زور لگا کر درمیان سے زمین کو ہٹا دیتے اور اس کی ہستی کو تباہ کردیتے، پھر دونوں میں ہر ایک کا جو مزہ ہے وہ اسی کے لیے لازم ہے۔ یہ نہیں کہ میٹھا دریا کھاری، یا کھاری میٹھا بن جائے، گویا باعتبار اوصاف کے ہر ایک دوسرے سے بالکل الگ رہنا چاہتا ہے۔ وقیل غیر ذلک، والراجح عندی ھو الاول، واللہ اعلم۔
Ayah 25:54قدرت کاملہ کا ایک بہت بڑا مظاہرہ یہ ہے کہ اس نے نطفہ منی سے انسان کی تخلیق فرمائی، انسان میں شہوت رکھ دی اس شہوت کی وجہ سے بیاہ شادی کی ضرورت پیش آئی جب نکاح ہوتے ہیں تو میاں بیوی کا اختلاط ہوتا ہے اس سے اولاد ہوتی ہے اور اس طرح سے خاندان بڑھتا چلا جاتا ہے اور آپس میں سلسلہ نسب چلتا ہے، ہر پیدا ہونے والے کے دو خاندان ہوتے ہیں ایک باپ کی طرف کا خاندان دوسرا ماں کی طرف سے، پھر شادیاں ایک خاندان کی دوسرے خاندان میں ہوتی ہیں اور غیر خاندانوں میں بھی ہوتی ہیں یہ سسرالی رشتے بھی نعمت عظیمہ ہیں ان کے ذریعہ مختلف خاندانوں میں محبتیں پیدا ہوجاتی ہیں (وَکَانَ رَبُّکَ قَدِیْرًا) (اور تیرا پروردگار بڑی قدرت والا ہے) اس نے جو کچھ پیدا فرمایا اپنی قدرت سے پیدا فرمایا اور اس کے علاوہ بھی جو چاہے گا پیدا فرمائے گا۔
Ayahs 25:55–57اللہ تعالیٰ نے چھ دن میں آسمانوں کی اور زمین کی تخلیق فرمائی اور رات اور دن کو ایک دوسرے کے بعد آنے جانے والا بنایا
ان آیات میں اول تو مشرکین کی بیوقوفی اور بغاوت ظاہر فرمائی ہے اور وہ یہ کہ یہ لوگ اپنے خالق کو چھوڑ کر جس کی صفات اوپر بیان کی گئی ہیں ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو اپنے ان پر ستاروں کو نہ نفع دے سکیں اور نہ کوئی ضرر پہنچا سکیں۔ پھر ان کی مزید سر کشی بیان کرتے ہوئے فرمایا (وَکَانَ الْکَافِرُ عَلٰی رَبِّہٖ ظَہِیْرًا) (اور کافر اپنے رب کا مخالف ہے) یعنی ایسے عمل کرتا ہے جیسے کوئی شخص کسی کا مخالف ہو اور اس کی مخالفت میں لگ کر ایسے کام کرتا رہے جو اسے نا گوار ہوں جس کی مخالفت پر تلا ہوا ہے۔
ظَھِیْرًا کا ترجمہ جو ” مخالف “ کیا گیا ہے یہ محاورہ کا ترجمہ ہے صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ یہ مظاہر کے معنی میں ہے اور مظاہر معاون اور مددگار کو کہا جاتا ہے (لفظ علی کی وجہ سے بمعنی مخالف کیا گیا ہے) اور کافر سے جنس کافر مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ تمام کافر پروردگار جل مجدہ کی مخالفت پر تلے ہوئے ہیں اللہ تعالیٰ کے دین کی مخالفت اور شیطان کی مدد کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے اولیاء کے مقابلہ میں آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرنے میں لگے رہتے ہیں۔
اس کے بعد رسول اللہ ﷺ سے خطاب فرمایا کہ ہم نے آپ کو صرف بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے آپ اپنا کام کریں حق کی دعوت دیتے رہیں جو قبول نہ کرے اس کی طرف سے غمگین نہ ہوں اور مزید یہ فرمایا کہ آپ ان سے فرما دیجیے کہ میں دعوت توحید کی محنت پر تم سے کوئی کسی قسم کا معاوضہ طلب نہیں کرتا ہاں یہ ضرور چاہتا ہوں کہ کوئی شخص اپنے رب کی طرف راستہ بنا لے یعنی اس کا دین قبول کرلے اور اس کی رحمت و رضا مندی کو اپنا مقصود بنا لے، کار دعوت میں میرا کوئی دنیاوی فائدہ نہیں تمہاری ہی ہمدردی مطلوب ہے جب میں طالب دنیا نہیں اور تمہارے نفع ہی کے لیے جدوجہد کرتا ہوں تو تمہیں میری دعوت پر کان دھرنا چاہئے اگر ٹھیک سے سنو گے سوچو گے سمجھو گے تو انشاء اللہ تعالیٰ حق بات ضرور دل میں اترے گی۔
اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا کہ آپ اس ذات پاک پر توکل کریں جو ہمیشہ سے زندہ ہے اسے کبھی موت نہیں آئے گی وہی آپ کو اجر وثواب دے گا اور وہی دشمنوں کے شر سے محفوظ فرمائے گا توکل کے ساتھ اس کی تسبیح وتحمید میں بھی مشغول رہئے (کیونکہ اس کا ذکر نصرت الٰہی، دفع مصائب اور رفع بلایا کیلئے بہت بڑا معاون ہے)
Ayah 25:58(وَکَفٰی بِہٖ بِذُنُوبِ عِبَادِہٖ خَبِیْرًا) (اور وہ اپنے بندوں کے گناہوں سے خبر دار ہونے کیلئے کافی ہے) جو لوگ کفر و شرک پر جمے ہوئے ہیں آپ کی دعوت قبول نہیں کرتے آپ کو تکلیفیں دیتے ہیں ان کا حال ذات پاک حی لایموت کو معلوم ہے وہ ان سب کو سزا دے دے گا۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ شانہٗ کی شان خالقیت بیان فرماتے ہوئے آسمان و زمین کی تخلیق کا تذکرہ فرمایا اور وہ یہ کہ اس نے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو چیزیں ان کے اندر ہیں سب کو چھ دن میں پیدا فرمایا ان چھ دنوں کی تفسیر سورة حم سجدہ ع 2 میں مذکور ہے اس کے بارے میں وہیں عرض کیا جائے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔
Ayah 25:59اس کے بعد فرمایا (ثُمَّ اسْتَوَی عَلَی الْعَرْشِ ) (پھر اس نے عرش پر استواء فرمایا) استواء قائم ہونے کو اور عرش تخت شاہی کو کہا جاتا ہے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بارے میں (ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ ) فرمایا ہے اور (الرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوٰی) بھی فرمایا ہے اس کو سمجھنے کے لیے بعض لوگوں نے مختلف تاویلیں کی ہیں۔ اس کے بارے میں حضرات سلف صالحین صحابہ وتابعین ؓ سے جو بات منقول ہے وہ یہ ہے کہ انسانی عقل اللہ جل شانہٗ کی ذات وصفات کو پوری طرح سمجھنے اور احاطہ کرنے سے عاجز ہے لہٰذا جو کچھ فرمایا ہے اس سب پر ایمان لائیں اور سمجھنے کے لیے کھول کرید میں نہ پڑیں۔
یہی مسلک بےغبار اور صاف و صحیح ہے۔ حضرت امام مالک (رح) سے کسی نے اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ کا معنی پوچھا تو ان کو پسینہ آگیا اور تھوڑی دیر سر جھکانے کے بعد فرمایا کہ استوی کا مطلب تو معلوم ہے اور اس کی کیفیت سمجھ سے باہر ہے اور ایمان اس پر لانا واجب ہے اور اس کے بارے میں سوال کرنا بدعت ہے۔
پھر سائل سے فرمایا کہ میرے خیال میں تو گمراہ شخص ہے اس کے بعد اسے اپنی مجلس سے نکلوا دیا صاحب معالم لفظ الرحمن کے بارے میں صاحب روح المعانی سے لکھتے ہیں کہ یہ مرفوع علی المدح ہے یعنی ھو الرحمن مطلب یہ ہے کہ ابھی جس کی شان خالقیت بیان کی گئی ہے وہ رحمن ہے جل مجدہ (فَسْءَلْ بِہٖ خَبِیْرًا) (سو اے مخاطب تو اس کی شان کے بارے میں کسی جاننے والے سے دریافت کرلے) آسمانوں زمینوں کو پیدا کرنا پھر اپنی شان کے مطابق عرش پر استواء فرمانا سب رحمن کی صفات ہیں اس کی تحقیق مطلوب ہو تو باخبر سے پوچھئے، باخبر سے مراد حق تعالیٰ یا جبرائیل امین ہیں اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد کتب سابقہ کے علماء ہوں جن کو اپنے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ اس معاملہ کی اطلاع ملی۔
Ayah 25:60(وَاِِذَا قِیْلَ لَہُمُ اسْجُدُوْا للرَّحْمٰنِ قَالُوْا وَمَا الرَّحْمٰنُ ) (اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ رحمن کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں کہ رحمن کیا چیز ہے) یہ بات وہ اپنی جہالت اور عناد کی وجہ سے کہتے تھے (اَنَسْجُدُ لِمَا تَاْمُرُنَا) (اور وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ کیا ہم اسے سجدہ کریں جس کے لیے تم ہمیں سجدہ کرنے کا حکم دیتے ہو) وہ یہ بات ضد میں کہتے تھے کہ تمہارے کہنے سے ہم کسی کو سجدہ نہیں کریں گے (وَزَادَھُمْ نُفُوْرًا) (اور آپ کا یہ فرمانا کہ تم رحمن کو سجدہ کرو اس سے ان کو اور زیادہ نفرت بڑھ جاتی ہے) قریب آنے کے بجائے اور زیادہ دور ہوجاتے ہیں۔
Ayahs 25:61–62اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی قدرت قاہرہ کے مزید مظاہر بیان فرمائے ارشاد فرمایا (تَبَارَکَ الَّذِیْ جَعَلَ فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّجَعَلَ فِیْہَا سِرَاجًا وَّقَمَرًا مُّنِیْرًا وَھُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الَّیْلَ وَالنَّہَارَ خِلْفَۃً لِّمَنْ اَرَادَ اَنْ یَّذَّکَّرَ اَوْ اَرَادَ شُکُوْرًا) (وہ ذات عالی شان ہے جس نے آسمان میں بڑے بڑے ستارے بنائے اور ان میں ایک چراغ بنایا اور روشن کرنے والا چاند بنایا اور وہ ایسا ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے آگے پیچھے آنے جانے والا بنایا اس شخص کیلئے جو سمجھنا چاہے یا شکر کرنا چاہے) مقصود ان آیات سے انسان کو یہ بتلانا ہے کہ ہم نے آسمان میں بڑے بڑے ستارے اور شمس و قمر اور رات دن کا انقلاب اور ان کی تاریکی اور روشنی اور زمین و آسمان کی تمام کائنات پیدا کی ہے تاکہ غور و فکر کرنے والے کو اس میں حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور توحید کے دلائل فراہم ہوں اور شکر گزار کو شکر کے مواقع ملیں۔
Ayahs 25:63–69عباد الرحمن کی صفات اور ان کے اخلاق و اعمال
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے نیک بندوں کی صفات بیان فرمائی ہیں اور انہیں عباد الرحمن کا معزز لقب دیا ہے ان حضرات کی جو چند صفات ذکر فرمائی ہیں ان میں پہلی صفت یہ ہے کہ انہیں رحمن کا بندہ بتایا یہ بہت بڑا وصف ہے اور بہت بڑا لقب ہے یوں تکوینی طور پر سب ہی رحمن کے بندے ہیں لیکن اپنے اعتقاد سے اور اختیار سے اور اخلاص سے جس نے اپنی ذات کو سچے اعتقاد اور اخلاق کے ساتھ رحمن جل مجدہ کی عبادت میں لگا دیا اور رحمن جل مجدہ نے اس کے بارے میں یہ فرما دیا کہ یہ ہمارا بندہ ہے اس سے بڑھ کر بندہ کا کوئی اعزاز نہیں یہ بندے کا سب سے بڑا معزز لقب ہے اللہ تعالیٰ نے معراج کا تذکرہ شروع فرماتے ہوئے (سُبْحَانَ الَّذِیْٓ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ ) فرمایا ہے یہ شان عبدیت ہی تو بندہ کو اللہ تعالیٰ کا مقرب بناتی ہے اور آخرت میں بلند درجات نصیب ہونے کا ذریعہ ہے۔
دوسری صفت یہ بیان فرمائی کہ وہ زمین پر عاجزی کے ساتھ چلتے ہیں یعنی غرور اور تکبر کے ساتھ اکڑتے مکڑتے ہوئے نہیں چلتے سورة الاسراء میں فرمایا ہے (وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا اِنَّکَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا) (اور زمین میں اکڑتا ہوا مت چل بیشک تو زمین کو نہیں پھاڑ سکتا اور پہاڑوں کی لمبائی کو نہیں پہنچ سکتا) جب کسی شخص میں تواضع کی شان ہوتی ہے اور تکبر کے مرض میں مبتلا نہیں ہوتا تو وہ اپنی رفتار میں بھی عاجزی اختیار کرتا ہے۔
تیسری صفت یہ بیان فرمائی کہ جب جاہل لوگ ان سے خطاب کرتے ہیں تو ان سے الجھتے نہیں نہ انہیں جواب دیتے ہیں اور نہ ان سے جھگڑا کرتے ہیں اس بات کو یہاں سورة فرقان میں دو جگہ بیان فرمایا ہے پہلے تو یوں فرمایا (وَّاِِذَا خَاطَبَہُمُ الْجَاھِلُوْنَ قَالُوْا سَلاَمًا) (کہ جب جاہل لوگ ان سے خطاب کرتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ بھیا ہمارا سلام ہے) یہ سلام وہ نہیں ہے جو ملاقات کے لیے کیا جاتا ہے بلکہ جان چھڑانے کے لیے یہ لفظ کہہ کر چلے جاتے ہیں اسی کو سورة قصص میں فرمایا (وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْہُ وَ قَالُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَ لَکُمْ اَعْمَالُکُمْ سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ لَا نَبْتَغِی الْجٰھِلِیْنَ ) دوسری جگہ اسی رکوع میں فرمایا (وَاِِذَا مَرُّوا باللَّغْوِ مَرُّوْا کِرَامًا) (اور جب یہ لوگ بےہودہ کاموں کے پاس سے گزرتے ہیں تو شرافت کے ساتھ گزر جاتے ہیں) بات یہ ہے کہ شریر اور کمینہ مزاج لوگ شریفوں کو تکلیف دینے پر تلے رہتے ہیں زبان سے تکلیف دینا، ان کی شان میں برے کلمات کہنا، طعنے دینا، اشاروں اور کنایوں سے ان کی برائی کرنا اس سے نہیں چوکتے۔ یہ لوگ بیہودہ کاموں میں لگے رہتے ہیں جب اللہ تعالیٰ کے نیک بندے ان کے پاس سے گزرتے ہیں تو ان کی طرف دیکھتے ہی نہیں شرافت کے ساتھ آنکھیں نیچی کر کے گزر جاتے ہیں۔ اور اگر کسی نے چھیڑ ہی دیا تو یہ کہہ کر چلے جاتے ہیں کہ ہمارا سلام ہے وہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے جواب دیا تو ان منہ پھٹ لوگوں کے درمیان آبرو محفوظ نہ رہے گی۔
رحمن کے بندوں کی چوتھی صفت یہ ہے کہ وہ اس طرح رات گزارتے ہیں کہ اپنے رب کی عبادت میں لگے رہتے ہیں کبھی سجدے میں ہیں کبھی قیام میں، ان کا ذوق عبادت انہیں زیادہ آرام نہیں کرنے دیتا سورة الذاریات میں فرمایا (اِِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍ آخِذِیْنَ مَا آتَاھُمْ رَبُّہُمْ اِِنَّہُمْ کَانُوْا قَبْلَ ذٰلِکَ مُحْسِنِیْنَ کَانُوْا قَلِیْلًا مِّنَ الَّیْلِ مَا یَہْجَعُوْنَ وَبِالْاَسْحَارِ ھُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ ) (بلاشبہ متقی لوگ باغوں میں اور چشموں میں ہوں گے۔ ان کے رب نے انہیں جو کچھ عطا فرمایا ہے اسے لینے والے ہوں گے بلاشبہ وہ اس سے پہلے اچھے کام کرنے والے تھے یہ لوگ رات کو کم سوتے تھے اور سحر کے اوقات میں استغفار کرتے تھے) ۔
عباد الرحمن کی پانچویں صفت یہ بیان فرمائی کہ وہ دوزخ کے عذاب سے پناہ مانگتے رہتے ہیں وہ یوں دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم سے دوزخ کے عذاب کو ہٹائے رکھنا کیونکہ اس کا عذاب بالکل تباہ کرنے والا ہے یہ محاورہ کا ترجمہ ہے غَرَامًا الزوم کے معنی میں آتا ہے اور جب عذاب کسی کو لازم ہوگا تو وہ پوری طرح تباہ ہوگا اس کے لیے چھٹکارا کا کوئی راستہ نہیں اس سے اہل کفر کا عذاب مراد ہے ساتھ ہی فرمایا (اِِنَّہَا سَاءَتْ مُسْتَقَرًّا وَّمُقَامًا) (بلا شبہ دوزخ ٹھہرنے اور رہنے کی بری جگہ ہے) اللہ تعالیٰ اس بری جگہ سے محفوظ فرمائے یہ مومنین مخلصین عابدین قانتین کا طریقہ ہے کہ وہ عبادت بھی خوب کرتے ہیں اور ساتھ ہی ڈرتے بھی ہیں اور عذاب سے بچنے کی دعائیں بھی کرتے رہتے ہیں سورة المومنون میں فرمایا ہے (وَالَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَا آتَوْا وَّقُلُوْبُہُمْ وَجِلَۃٌ اَنَّہُمْ اِِلٰی رَبِّہِمْ رَاجِعُوْنَ ) (اور وہ جو کچھ دیتے ہیں ان کے دل اس سے خوف زدہ رہتے ہیں کہ وہ اپنے رب کے پاس جانے والے ہیں) یعنی انہیں یہ کھٹکا لگا رہتا ہے کہ ہم نے جو کچھ دیا ہے وہ قبول ہوتا ہے یا نہیں نیک عمل کر کے بےفکر ہوجانا مومن کی شان نہیں مومن عمل بھی کرتا ہے اور ڈرتا بھی رہتا ہے کہ دیکھو میرے اعمال کو درجہ قبولیت نصیب ہوتا ہے یا نہیں ؟۔
چھٹی صفت یہ بیان فرمائی کہ جب رحمن کے بندے خرچ کرتے ہیں تو نہ اسراف اور فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ خرچ کرنے میں کنجوسی اختیار کرتے ہیں بلکہ درمیانی راہ چلتے ہیں۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ درمیانی راہ چلنے کو قواماً فرمایا ہے کیونکہ اس میں دونوں جانب استقامت رہتی ہے کان کلا منھما یقاوم الاخر یہ میانہ روی شرعاً محمود ہے گناہوں میں تو مال خرچ کرنا جائز ہی نہیں حلال کاموں میں بھی میانہ روی اختیار کرے یہ میانہ روی مالی امور پر قابو پانے کا کامیاب ذریعہ ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اَلْاِقْتِصَادُ فِی النَّفْقَۃِ نصفُ الْمَعِیْشَۃِ کہ خرچہ میں میانہ روی اختیار کرنے میں معیشت کا آدھا انتظام ہے یعنی کمانا اور محنت کرنا اس میں معیشت کا آدھا انتظام ہے اور آدھا انتظام میانہ روی سے خرچ کرنے میں ہے اپنی ذات پر اور اپنی آل اولاد پر والدین و اقرباء پر خرچ کرنے میں میانہ روی اختیار کرے ہاں جن کا توکل بہت بڑھا ہوا ہے اور نیکیوں میں بیک وقت پورا یا آدھا مال خرچ کرنے میں ان کی اپنی ذات کو بھی تکلیف محسوس نہ ہو اور نفقات مفروضہ اور واجبہ کا کسی طرح حلال انتظام ہوسکتا ہو تو ایسے حضرات اللہ کی راہ میں پورا مال بھی خرچ کرسکتے ہیں جیسا کہ غزوہ تبوک کے موقعہ پر حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے پورا مال رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر کردیا تھا جب آپ نے ان سے پوچھا کہ گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا ہے تو انہوں نے جواب میں عرض کیا کہ ان کے لیے اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑ آیا ہوں۔ یعنی ان کے لیے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی خوشنودی ہی کافی ہے۔ (مشکوۃ المصابیح ص 556)
عباد الرحمن کی ساتویں صفت یہ بیان فرمائی کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے یعنی وہ مشرک نہیں ہیں توحید خالص اختیار کئے ہوئے ہیں۔ اور آٹھویں صفت یہ بیان فرمائی ہے کہ کسی جان کو قتل نہیں کرتے جس کا قتل کرنا اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے ہاں اگر قتل بالحق ہے شریعت کے اصول کے مطابق ہے مثلاً اگر کسی کو قصاص میں قتل کیا جائے یا کسی زانی کو رجم کرنا پڑے تو اس کی وجہ سے قتل کردیتے ہیں۔ نویں صفت یہ بیان فرمائی کہ وہ زنا نہیں کرتے اس کے بعد فرمایا (وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ یَلْقَ اَثَامًا) (اور جو شخص ایسے کام کرے گا تو وہ بڑی سزا سے ملاقات کرے گا) صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ اثاماً کی یہ تفسیر حضرت قتادہ اور ابن زید سے مروی ہے حضرت ابن عباس نے اس کی تفسیر جزا سے کی ہے اور ابو مسلم کا قول ہے کہ اثاماً گناہ کے معنی میں ہے اور مضاف محذوف ہے یعنی یلق جزاء اثام اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اثام جہنم کے اسماء میں سے ہے (یُضَاعَفْ لَہُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ) (اس کے لیے قیامت کے دن دہرا عذاب بڑھتا چلا جائے گا) یعنی عذاب پر عذاب بڑھتا رہے گا کما فی ایۃ اخری (زِدْنَاھُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ ) مزید فرمایا (وَیَخْلُدْ فِیْہِ مُہَانًا) (اور وہ عذاب میں ہمیشہ رہے گا ذلیل کیا ہوا) یعنی عذاب بھی دائمی ہوگا اور اس کے ساتھ ذلیل بھی ہوگا اس عذاب سے کافروں کا عذاب مراد ہے کیونکہ انہیں کو دائمی عذاب ہوگا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ سب سے بڑا گناہ اللہ کے نزدیک کون سا ہے ؟ آپ نے جواب میں فرمایا یہ کہ تو کسی کو اللہ کے برابر تجویز کرے حالانکہ اللہ نے تجھے پیدا کیا۔ سوال کرنے والے نے پوچھا کہ اس کے بعد کون سا گناہ سب سے بڑا ہے ؟ فرمایا یہ کہ تو اپنی اولاد کو اس ڈر سے قتل کرے کہ وہ تیرے ساتھ کھائیں (اہل عرب تنگ دستی کے ڈر سے اولاد کو قتل کردیتے تھے) سائل نے سوال کیا اس کے بعد کونسا گناہ سب سے بڑا ہے آپ نے فرمایا یہ کہ تو اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرے (زنا تو یوں بھی گناہ کبیرہ ہے لیکن پڑوسی کی بیوی کے ساتھ زنا کرنے سے اور زیادہ گناہ گاری بڑھ جاتی ہے) اس پر اللہ تعالیٰ شانہٗ نے آیت کریمہ (وَالَّذِیْنَ لاَ یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰہِ اِِلٰہًا آخَرَ وَلاَ یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِِلَّا بالْحَقِّ وَلاَ یَزْنُوْنَ ) (آخر تک) نازل فرمائی۔ (رواہ البخاری ص 701)
Ayah 25:70(اِِلَّا مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓءِکَ یُبَدِّلُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِہِمْ حَسَنَاتٍ وَّکَان اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا) (سوائے اس کے جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک عمل کیے سو یہ وہ لوگ ہیں جن کی برائیوں کو اللہ نیکیوں سے بدل دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے) اس استثناء سے معلوم ہوا کہ کافر اور مشرک کے لیے ہر وقت توبہ کا دروازہ کھلا ہے جو بھی کوئی کافر کفر سے توبہ کرے اس کی سابقہ تمام نافرمانیاں معاف فرما دی جائیں گی، حضرت عمرو بن عاص ؓ نے بیان کیا کہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں آپ سے بیعت ہونا چاہتا ہوں اور شرط یہ ہے کہ میری مغفرت ہوجائے آپ نے فرمایا اما علمت یا عمرو ان الاسلام یھدم ماکان قبلہ (اے عمرو کیا تجھے معلوم نہیں کہ اسلام ان سب چیزوں کو ختم کردیتا ہے جو اس سے پہلے تھیں) ۔ (مسلم ج 1 ص 76)
یہ جو فرمایا کہ اللہ ان کی سیئات کو حسنات سے بدل دے گا اس کے بارے میں مفسرین کے متعدد اقوال ہیں جنہیں صاحب روح المعانی نے ذکر کیا ہے حضرت ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن ایک شخص کو لایا جائے گا اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرمان ہوگا کہ اس کے سامنے اس کے صغیرہ گناہ پیش کرو اور بڑے گناہوں کو علیحدہ رکھ دو لہٰذا اس سے کہا جائے کہ تو نے فلاں فلاں دن اور فلاں فلاں دن ایسے ایسے کام کیے ہیں وہ اقرار کرے گا منکر نہ ہوگا۔ اس بات سے ڈرتا ہوگا کہ بڑے گناہ باقی ہیں وہ سامنے لائے گئے تو کیا ہوگا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا کہ اس کے ہر گناہ کے بدلہ اس کو ایک ایک نیکی دے دو یہ سن کر (خوشی کی وجہ سے اور یہ جان کر کہ ہر گناہ پر ایک نیکی مل رہی ہے) یوں کہے گا ابھی میرے گناہ اور باقی ہیں جن کو میں نہیں دیکھ رہا ہوں (وہ گناہ بھی پیش کیے جائیں اور ان کے بدلہ میں بھی ایک ایک نیکی دی جائے) یہ بات بیان کرتے وقت رسول اللہ ﷺ کو ایسی ہنسی آئی کہ آپ کی مبارک ڈاڑھیں نظر آگئیں۔ (مشکوۃ المصابیح ص 492 از مسلم)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سیئات کو حسنات سے بدلنے کا یہ مطلب ہے کہ گناہوں کو معاف کردیا جائے اور ہر گناہ کی جگہ ایک ایک نیکی کا ثواب دیدیا جائے یہ مطلب نہیں کہ گناہوں کو نیکیاں بنا دیا جائے گا۔ کیونکہ برائی کبھی اچھائی نہیں بن سکتی اور بعض حضرات نے تبدیل السیئات بالحسنات کا یہ مطلب لیا ہے کہ گزشتہ معاصی توبہ کے ذریعہ ختم کردیئے جائیں گے اور ان کی جگہ بعد میں آنے والی طاعات لکھ دی جائیں گی کما یشیر الیہ کلام کثیر من السلف (ذکرہ صاحب الروح)
Ayah 25:71(وَ مَنْ تَابَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّہٗ یَتُوْبُ اِلَی اللّٰہِ مَتَابًا) (اور جو شخص توبہ کرتا ہے اور نیک کام کرتا ہے وہ اللہ کی طرف خاص طور پر رجوع کرتا ہے) یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرتا ہے اور اخلاص سے توبہ کرتا ہے اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا عہد کرتا ہے اور نیکی پر رہنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
قال صاحب الروح ای رجوعا عظیم الشان مرضیا عندہ تعالیٰ ماحیا للعقاب محصلا للثواب اس آیت شریفہ میں توبہ کا طریقہ بتادیا کہ پختہ عزم کے ساتھ توبہ کرے اور اللہ کی رضا کے کاموں میں لگے اور گناہوں سے خاص طور پر پرہیز کرے۔
Ayah 25:72عباد الرحمن کی دسویں صفت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (وَالَّذِیْنَ لاَ یَشْہَدُوْنَ الزُّوْرَ ) (اور یہ وہ لوگ ہیں جو جھوٹ کے کاموں میں حاضر نہیں ہوتے) جھوٹ کے کاموں سے وہ تمام کام مراد ہیں جو شریعت مطہرہ کے خلاف ہوں کوئی شخص گناہ کا کام کرے اس کی ممانعت سب ہی کو معلوم ہے جن مواقع میں گناہ ہو رہے ہوں ان مواقع میں جانا بھی ممنوع ہے، مشرکین کی عبادت گاہوں میں ان کے تہواروں میں اور ان کے میلوں میں نہ جائیں۔ جہاں گانا بجانا ہو رہا ہو، ناچ رنگ کی محفل ہو، شراب پینے پلانے کی مجلس ہو، ان سب مواقع میں اللہ کے بندے نہیں جاتے، گو اپنے عمل سے گناہ میں شریک نہ ہوں لیکن جب اپنے جسم سے حاضر ہوگئے تو اول تو اہل باطل کی مجلس میں اپنی ذات سے ایک شخص کا اضافہ کردیا، جبکہ برائی کی مجلسوں میں اضافہ کرنا بھی ممنوع ہے دوسرے ان مجالس میں شریک ہونے سے دل میں سیاہی اور قساوت آجاتی ہے اور نیکیوں کی طرف جو دل کا ابھار ہوتا ہے اس میں کمی آجاتی ہے اگر بارہا ایسی مجلسوں میں حاضر ہو تو نیکیوں کی رغبت ختم ہوجاتی ہے اور نفس برائیوں سے مانوس ہوتا چلا جاتا ہے بیاہ شادیوں میں آج کل بڑے بڑے منکرات ہوتے ہیں ٹیوی ہے وی سی آر ہے تصویر کشی ہے فلمیں بنانا ہے اور بھی طرح طرح کے معاصی ہیں ان میں شریک ہونے سے بچیں اور اپنے نفس اور روح کی حفاظت کریں یورپ اور امریکہ میں مسلمان دوڑ دوڑ کر جا رہے ہیں وہاں ہوٹلوں میں اور کافروں کی محفلوں میں دوستوں کی مجلسوں میں طرح طرح کے گناہ ہوتے ہیں شراب کا دور بھی چلتا ہے ننگے ناچ بھی ہوتے ہیں ان سب میں حاضر ہونے سے اپنی جان کو بچانا لازم ہے ورنہ چند دن میں انہیں جیسے ہوجائیں گے۔ اعاذنا اللّٰہ تعالیٰ من ذلک۔
بعض حضرات نے (لاَ یَشْہَدُوْنَ الزُّوْرَ ) کا مطلب یہ لیا ہے کہ جھوٹی گواہی نہیں دیتے یہ مطلب بھی الفاظ قرآنیہ سے بعید نہیں ہے جھوٹی گواہی دینا کبیرہ گناہوں میں سے ہے بلکہ بعض روایات میں اسے اکبر الکبائر میں شمار فرمایا ہے حضرت خریم بن فاتک ؓ نے بیان کیا کہ ایک دن نماز فجر سے فارغ ہو کر رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور تین بار فرمایا کہ جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر ہے پھر آپ نے سورة الحج کی یہ آیت پڑھی (فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِحُنَفَآءَ لِلّٰہِ غَیْرَ مُشْرِکِیْنَ بِہٖ ) (سو تم نا پاکی سے یعنی بتوں سے بچو اور جھوٹی بات سے بچو اس حال میں کہ اللہ کی طرف رجوع کرنے والے ہو اس کے ساتھ شرک کرنے والے نہ ہو۔ (رواہ ابو داؤد)
عباد الرحمن کی گیا رھویں صفت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (وَاِِذَا مَرُّوْا باللَّغْوِ مَرُّوْا کِرَامًا) (اور جب بےہودہ کاموں کے پاس سے گزرتے ہیں تو شرافت کے ساتھ گزر جاتے ہیں) یعنی برائی کی مجلسوں میں شریک ہونا تو درکنار اگر کبھی لغو اور بےہودہ مجلسوں میں اتفاق سے ان کا گزر ہوجائے تو بھلے مانس ہو کر گزر جاتے ہیں یعنی جو لوگ لغو اور بیہودہ کاموں میں مشغول ہوں ان کے عمل کو نفرت کی چیز جانتے ہوئے ان پر نظر ڈالے بغیر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ بھلے آدمیوں کو ایسا ہی ہونا چاہئے۔ جو وہاں کھڑا ہوگیا وہ تو شریک ہوگیا اور اس کے علاوہ یہ بھی ممکن ہے کہ ان میں سے کوئی شریر آدمی مجلس میں اندر بلانے لگے یا بلا وجہ خواہ مخواہ کسی بات میں الجھ پڑے خیریت اسی میں ہے کہ ادھر سے اعراض کرتے ہوئے گزر جائے اگر ان میں سے کوئی شخص چلتے ہوئے کو چھیڑ دے تو یوں سمجھ لے کہ مجھے نہیں کہا۔
Ayah 25:73عباد الرحمن کی بارھویں صفت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (وَالَّذِیْنَ اِِذَا ذُکِّرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمْ لَمْ یَخِرُّوا عَلَیْہَا صُمًّا وَّعُمْیَانًا)
یعنی ان بندوں کی شان یہ ہے کہ جب انہیں ان کے رب کی آیات کے ذریعہ تذکیر کی جاتی ہے یعنی آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں اور ان کے تقاضے پورے کرنے کے لیے کہا جاتا ہے تو ان پر گونگے بہرے ہو کر نہیں گرپڑتے۔ مطلب یہ ہے کہ ان آیات پر اچھی طرح متوجہ ہوتے ہیں ان کے سمجھنے اور تقاضے جاننے کے لیے سمع و بصر کو استعمال کرتے ہیں ایسا طرز استعمال نہیں کرتے جیسے سنا ہی نہیں اور دیکھا ہی نہیں۔ اس سے معلوم ہوا قرآن کے معاصی اور مفاھیم کو اچھی طرح سمجھا جائے اور ان کے تقاضوں پر پوری طرح عمل کیا جائے یہی اہل ایمان کی شان ہے۔
Ayah 25:74عباد الرحمن کی تیرھویں صفت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (وَالَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ ھَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّیَّاتِنَا قُرَّۃَ اَعْیُنٍ ) (اے ہمارے رب ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے ہمیں آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما) یعنی انہیں ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک بنا دے اس کا مفہوم بہت عام ہے بیویاں اور بچے سکھ سے رہیں اور آرام سے جئیں فرمانبر دار بھی ہوں نیک بھی ہوں دین دار بھی ہوں انہیں دیکھ دیکھ کر دل خوش ہوتا ہو یہ سب آنکھوں کی ٹھنڈک میں شامل ہے۔
جو بندے نیک ہوتے ہیں انہیں اپنی ازواج و اولاد کی دینداری کی بھی فکر رہتی ہے وہ جہاں ان کے کھانے پینے کا فکر کرتے ہیں وہاں انہیں دین سکھانے اور ان کی دینی تربیت کا بھی اہتمام کرتے ہیں اگر بیوی بچے جسمانی اعتبار سے صحت مند ہوں اور انہیں کھانے پینے کو خوب ملتا ہو اور اللہ تعالیٰ کے اور ماں باپ کے نا فرماں ہوں تو آنکھوں کی ٹھنڈک نہیں بنتے بلکہ و بال بن جاتے ہیں۔ جب اولاد کو دین پر ڈالیں گے اور انہیں متقی بنائیں گے اور زندگی بھر انہیں دین پر چلاتے رہیں گے تو ظاہر ہے کہ اس طرح متقیوں کے امام اور پیشوا بنے رہیں گے۔
عباد الرحمن یہ دعا بھی کرتے ہیں کہ (وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِِمَامًا) (اور ہمیں متقیوں کا پیشوا بنا دے) کوئی شخص متقیوں کا پیشوا اس وقت بن سکتا ہے جبکہ خود بھی متقی ہو دعا کا انحصار اسی پر نہیں ہے کہ ازواج اور اولاد ہی متقی ہوں انسان خود بھی متقی بنے جب انسان خود متقی ہوگا اور اپنے تقوے کو وہ جگہ کام میں لائے گا تو اس کی ازواج و اولاد اور احباب و اصحاب بھی متاثر ہوں گے اور اس کی دیکھا دیکھی تقوے پر آئیں گے اپنے خاندان اور کنبہ کے علاوہ باہر کے لوگوں کا بھی پیشوا بننے کی سعادت حاصل ہوگی معلوم ہوا کہ تقوے کے ساتھ دینی پیشوا بننے کی خواہش رکھنا اور اس کے لیے دعا کرنا شرعاً مذموم نہیں بلکہ محمود ہے جب کسی میں تقویٰ اور اخلاص ہوگا تو اس کی مشیخت اور ریاست اور امامت اس کے نفس میں تکبر پیدا نہ ہونے دے گی۔
Ayah 25:75عباد الرحمن کی صفات بیان کرنے کے بعد ان کا آخرت کا مقام بتایا (اُولٰٓءِکَ یُجْزَوْنَ الْغُرْفَۃَ بِمَا صَبَرُوْا) (یہ وہ لوگ ہیں جنہیں بالا خانے ملیں گے بوجہ ان کے ثابت قدم رہنے کے) اس میں الغرفۃ جنس کے معنی میں ہے سورة سبا میں فرمایا (فَاُولٰٓءِکَ لَھُمْ جَزَآء الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا وَ ھُمْ فِی الْغُرُفٰتِ اٰمِنُوْنَ ) (سو یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے دو ہری جزا ہے اور وہ بالا خانوں میں امن وامان کے ساتھ رہیں گے) حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ جنت والے اپنے اوپر بالا خانوں کے رہنے والوں کو اس طرح دیکھیں گے جیسے تم چمکدار ستارے کو دیکھتے ہو جو مشرق یا مغرب کی افق میں دورچلا گیا ہو اور یہ فرق مراتب کی وجہ سے ہوگا۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ (ایسا سمجھ میں آتا ہے کہ) یہ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کے منازل ہوں گے ان کے علاوہ وہاں کوئی اور نہ پہنچے گا آپ نے فرمایا قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے یہ وہ لوگ ہوں گے جو اللہ پر ایمان لائے اور جنہوں نے پیغمبروں کی تصدیق کی۔ (رواہ البخاری ص 461)
حضرت ابو مالک اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کا ظاہر ان کے باطن سے اور باطن ان کے ظاہر سے نظر آتا ہے اللہ نے یہ بالا خانے اس شخص کے لیے تیار فرمائے ہیں جو نرمی سے بات کرے اور کھانا کھلائے اور کثرت سے روزے رکھے اور رات کو نماز پڑھے جبکہ لوگ سو رہے ہوں۔
(وَیُلَقَّوْنَ فِیْہَا تَحِیَّۃً وَّسَلاَمًا) (یعنی یہ حضرات بالا خانوں میں آرام سے بھی ہوں گے اور معزز بھی ہوں گے ان کی بیش بہا نعمتوں کے ساتھ یہ بھی ہوگا کہ فرشتے انہیں زندگی کی دعا دیں گے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو یہیں رکھے اور ہمیشہ کے لیے زندہ رکھے اور فرشتے سلام بھی کریں گے) جب جنت میں داخل ہونے لگیں گے تو فرشتے یوں کہیں گے کہ (سَلاَمٌ عَلَیْکُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْھَا کَالِدِیْنَ ) (تم پر سلام ہو، خوش عیش رہو سو اس میں ہمیشہ کے لیے داخل ہوجاؤ) ۔
Ayah 25:76(خٰلِدِیْنَ فِیْہَا حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَّمُقَامًا) (یہ لوگ اس میں ہمیشہ رہیں گے یہ اچھی جگہ ہے ٹھہرنے اور رہنے کے لیے)
Ayah 25:77مومنین مخلصین کا انعام و اکرام بتانے کے بعد فرمایا کہ (قُلْ مَا یَعْبَاُبِکُمْ رَبِّیْ لَوْلاَ دُعَاؤُکُمْ ) (آپ فرما دیجیے کہ میرا رب تمہاری پرواہ نہ کرتا اگر تمہارا پکارنا نہ ہوتا) مفسرین کرام نے اس کے متعدد مفاہیم بتائے ہیں جن میں سے ایک مطلب یہ ہے کہ اے ایمان والو تم جو اللہ تعالیٰ کو پکارتے ہو اور اس کی عبادت کرتے ہو اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے ہاں تمہاری قدر و قیمت ہے اگر تم اس کی عبادت نہ کرتے تو تمہاری کوئی قدر و قیمت نہ تھی ای لو لا دعائکم لما اعددت بکم و ھذا بیان لحال المومنین من المخاطبین۔ (روح المعانی)
(فَقَدْ کَذَّبْتُمْ ) (سواے کافر و تم نے تکذیب کی) (فَسَوْفَ یَکُوْنُ لِزَامًا) (سو عنقریب تمہیں سزا چپک کر رہے گی)
یعنی تم پر اس کا وبال ضرور پڑے گا جو دوزخ کی آگ میں داخل ہونے کی صورت میں سامنے آجائے گا۔ عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ لزام سے کفار قریش کا غزوہ بدر میں مقتول ہونا مراد ہے۔
ولقد تم تفسیر سورة الفرقان بحمدہ سبحانہ و تعالیٰ فی الاسبوع الاخیر من شھر صفر الخیر 1416 ھ والحمد اللہ رب العالمین و الصلاۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین و علی آلہ و اصحابہ اجمعین و من تبعھم باحسان الی یوم الدین