14. Surah Ibrahim

ابراهيمAbraham · 52 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 14:31

قُلْ لِّعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خِلٰلٌ Open ayah 14:31 in the Quran reader

آپ میرے بندوں سے فرما دیجیے جو ایمان لائے کہ نماز قائم کریں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے پوشیدہ طریقے پر خرچ کریں اس دن کے آنے سے پہلے جس میں نہ کوئی خریدو فروخت ہوگی اور نہ کوئی دوستی ہوگی،

قیامت کے دن نہ بیع ہوگی نہ دوستی اس کے بعد فرمایا (قُلْ لِّعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا) (الآیۃ) کہ آپ میرے مومن بندوں سے فرما دیں کہ اس دن کے آنے سے پہلے جس میں کوئی خریدو فروخت اور دوستی نہ ہوگی، نماز قائم کریں اور جو مال ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے پوشیدہ طور پر اور ظاہر طور پر خرچ کریں، اس میں نماز اور انفاق کا حکم دیا، پوشیدہ طور پر مال کو خرچ کرنے میں یہ فائدہ ہے کہ نفس کو ریا کاری کا موقع نہیں ملتا اور ظاہراً خرچ کرنے میں یہ فائدہ ہے کہ دوسروں کو بھی عمل خیر کی توفیق ہوجاتی ہے، لوگوں کے سامنے نیک عمل کرنے کا نام ریا کاری نہیں ریا کاری اس جذبے کا نام ہے کہ لوگ معتقد ہوں اور تعریف کریں، جس کسی کو اس جذبہ پر قابو ہو وہ لوگوں کے سامنے خرچ کرے (یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْہِ وَ لَا خِلٰلٌ) (جس دن نہ بیع ہوگی اور نہ دوستی ہوگی) اس سے قیامت کا دن مراد ہے وہاں مال دے کر کوئی مجرم نہیں چھوٹ سکتا اور جان کے بدلہ میں کچھ قبول نہیں کیا جاسکتا، اور دنیا میں جو کسی کی کسی سے دوستی تھی اور اس دوستی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جاتی تھی یہ دوستی وہاں کچھ کام نہ آئے گی نہ کوئی نیا دوست بنے گا نہ پرانی دوستی فائدہ دے گی اس لیے دنیا اور اہل دنیا کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کریں ہاں جو لوگ متقی ہیں ان سے دوستی کریں ان کی دوستی آخرت میں بھی منقطع نہ ہوگی اور اس سے شفاعت کا فائدہ ہوگا۔ کما قال تعالیٰ (اَلْاَخِلَّاءُ یَوْمَءِذٍ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِِلَّا الْمُتَّقِیْنَ ) (تمام دوست اس روز ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے بجز خدا سے ڈرنے والوں کے)
Ayahs 14:32–33

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِیَ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْاَنْهٰرَۚ Open ayah 14:32 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا فرمایا اور آسمان سے پانی اتارا پھر اس کے ذریعہ پھلوں سے تمہارے لیے رزق نکالا اور تمہارے لیے کشتی کو مسخر فرما دیا تاکہ وہ سمندر میں اس کے حکم سے چلے اور اس نے تمہارے لیے نہروں کو مسخر کردیا

وَ سَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ دَآئِبَیْنِ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَۚ Open ayah 14:33 in the Quran reader

اور تمہارے لیے سورج اور چاند کو مسخر فرما دیا اور برابر حرکت میں ہیں اور اس نے تمہارے لیے رات اور دن کو مسخر فرما دیا،

اللہ تعالیٰ کی بڑی بڑی نعمتوں کا بیان اور انسان کی ناشکری کا تذکرہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ شانہٗ کی صفت خالقیت اور مالکیت بیان فرمائی اور اللہ تعالیٰ کی بڑی بڑی نعمتوں کا تذکرہ فرمایا جو سب کی نظروں کے سامنے ہیں اور جن سے سب ہی مستفید ہوتے ہیں اول تو یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا فرمایا یہ اللہ تعالیٰ کی عظیم مخلوقات ہیں نظروں کے سامنے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے خالق اور صانع ہونے پر دلالت کرتی ہیں دوم یوں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی نازل کیا پھر اس کے ذریعہ پھل نکالے جو تمہارے لیے رزق ہیں پانی برسنا بھی اسی کے حکم سے اور پھلوں کا پیدا ہوجانا بھی اسی کے حکم سے ہے پھر ان پھلوں کا رزق بن جانا بھی اسی کے حکم سے ہے سوم یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے کشتیوں کو مسخر فرما دیا جو سمندر میں اس کے حکم سے چلتی ہیں، کشتی بنانے کی سمجھ دینا، پھر ان کو سمندروں میں چلانے کی سمجھ دینا، ان کے چلانے کے لیے ہوا یا ایندھن پیدا فرمانا اور ان کے استعمال کے طریقے بتانا یہ سب اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہے۔ یہ چھوٹی بڑی کشتیاں بڑے بڑے جہاز انسانوں کو اور ان کے اموال تجارت کو سینکڑوں میل دور منتقل کرتے ہیں اور ایک براعظم سے دوسرے براعظم پہنچا دیتے ہیں۔ چہارم یہ فرمایا کہ اللہ نے تمہارے لیے نہروں کو مسخر کیا کشتیوں کے بارے میں لفظ فِی الْبَحْرِ فرمایا کیونکہ بڑے بڑے جہاز ایک ملک سے دوسرے ملک تک پہنچانے کے لیے شور پانی کے سمندر میں چلتے ہیں اور اس کے بعد نہروں کا ذکر فرمایا جن میں میٹھا پانی بہتا ہے بڑی نہروں سے چھوٹی نہریں نکلتی ہیں ان سب سے انسان اور مویشی پانی پیتے ہیں اور کھیتوں کی آب پاشی بھی ہوتی ہے اگر یہ میٹھے پانی کی نہریں نہ ہوتیں تو انسان کے لیے بڑی دشواری ہوتی اور کھیتوں کی آبپاشی کے لیے حیران و پریشان رہتے صرف بارش ہی کھیتوں کی آبپاشی کا ذریعہ بن سکتی تھی اب ہوتا یہ ہے کہ بارش نہ ہو یا کم ہو تو میٹھے پانی کی نہروں سے آبپاشی کا کام ہوجاتا ہے نیز ان نہروں میں بھی کشتیاں چلا کر ایک کنارے سے دوسرے کنارے پہنچ جاتے ہیں اور ضرورت کی چیزیں فراہم کرکے لے آتے ہیں پنجم یہ فرمایا کہ اللہ نے تمہارے لیے سورج اور چاند کو مسخر فرما دیا دونوں چل رہے ہیں اور برابر حرکت میں ہیں سورج کے طلوع سے دن کا وجود ہوتا ہے نیز سورج کی روشنی اور گرمی سے کھیتیاں پکتی ہیں اور اس سے بجلی حاصل کی جاتی ہے اور بھی بہت سے فائدے ہیں جو ریسرچ کرنے والوں نے معلوم کرلیے ہیں۔ چاند کے طلوع ہونے اور گردش کرنے میں بھی بڑے بڑے فائدے ہیں۔ نئی ایجادات میں ان کا مظاہرہ ہوا ہے، رات کی اندھیری میں چاند کی روشنی سے بہت فائدہ اٹھاتے ہیں پرکیف دھیمی اور ٹھنڈی روشنی کیسی بھلی معلوم ہوتی ہے اہل تحقیق کا کہنا ہے کہ چاند کی روشنی کی وجہ سے پھل رنگ پکڑتے ہیں اور بھی بہت سے منافع ہیں، ششم یوں فرمایا کہ تمہارے لیے رات اور دن کو مسخر فرما دیا رات ہوجاتی ہے تو دن آجاتا ہے اور دن جاتا ہے تو رات آجاتی ہے رات میں آرام ہے اور دن میں کام ہے، کبھی دن بڑا ہے کبھی رات بڑی، ان دونوں کے آگے پیچھے آنے جانے میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں اگر ہمیشہ دن ہی ہوتا تو دشواری ہوجاتی اور ہمیشہ رات ہی ہوتی تو مصیبت میں پڑجاتے اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ان کے اوقات مقرر فرما دئیے انہیں کے مطابق کمی و بیشی ہوتی رہتی ہے۔
Ayah 14:34

وَ اٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ١ؕ وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ۠ Open ayah 14:34 in the Quran reader

اور تم نے اس سے جو کچھ مانگا تم کو اس سب میں سے عطا فرما دیا اور اگر تم اللہ کی نعمت کو شمار کرو تو شمار نہیں کرسکتے بلاشبہ انسان بڑا بےانصاف ہے بڑا ہی ناشکرا ہے۔

مذکورہ بالا نعمتوں کا ذکر فرمانے کے بعد اجمالاً دوسری نعمتوں کا بھی تذکرہ فرمایا اور فرمایا (وَاٰتٰکُمْ مِّنْ کُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْہُ ) (اور جو کچھ تم نے اللہ سے مانگا اس سب میں سے تمہیں عطا فرما دیا) (وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ لَا تُحْصُوْھَا) (اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرو تو شمار نہیں کرسکتے) اللہ تعالیٰ شانہٗ کی بیشمار نعمتیں ہیں بہت سی نعمتوں کا تو انسان کو علم بھی نہیں۔ جن سے منتفع ہوتا ہے سر سے پاؤں تک انسان کے جسم میں کیا کیا ہے کتنی رگیں ہیں کتنے پٹھے ہیں ان سب کا پتہ عامۃ الناس کو تو ہے ہی نہیں جن لوگوں نے آلات کے ذریعے ریسرچ کی ہے وہ بھی اب تک پوری طرح جسم انسانی کی مشینری کو سمجھ نہیں پائے اور جس کسی نے پورا سمجھنے کا دعویٰ کیا ہے اس کا دعویٰ غلط نکلا کیونکہ بعد میں اور بہت سی چیزیں ظاہر ہوگئیں، یہ تو انسان کے اپنے اندر کی نعمتوں کا اجمالی تذکرہ ہوا ان کے علاوہ جو اور نعمتیں اور کھانے پینے کی اور پہننے کی اشیاء اور سفر حضر میں کام آنے والی چیزیں ہیں سمندری مخلوقات ہیں جن سے انسان منتفع ہوتا ہے اشجار ہیں انہار ہیں، جبال ہیں، احجار ہیں، مویشی ہیں، انعام ہیں اور کثیر تعداد میں اجناس اور اصناف ہیں ان سب کا شمار انسان کے بس سے باہر ہے نیز اپنے سانسوں کے گننے تک پر قادر نہیں ہے جو اس کی حیات کا ذریعہ ہیں اور ذرا انسان اپنے جسم کے مسامات کو گن کر دکھا دے جن سے پسینہ نکلتا ہے۔ ایک بات ذہن میں آئی اور وہ یہ ہے کہ انسان کو اپنے سر کے بال بہت زیادہ محبوب ہیں ان بالوں سے حسن و جمال ہے کوئی شخص اپنے سارے بال گن کر دکھا دے گنتے گنتے تھک جائے گا اور گن نہ سکے گا پہلے ان بالوں سے فارغ ہو تو دوسری نعمتوں کے گننے میں لگے ولقد صدق للّٰہ (وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ لَا تُحْصُوْھَا) اللہ تعالیٰ نے انسان کو اتنی زیادہ نعمتیں عطا فرمائیں جن کا شمار کرنا اس کے بس سے باہر ہے لیکن وہ اللہ تعالیٰ شانہ کا شکر گزار بندہ بننے کے بجائے ظلوم اور کفار بن گیا جسے آیت کے ختم پر بیان فرمایا (اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ کَفَّارٌ) ظلوم کا معنی ہے بہت زیادہ ظلم کرنے والا اور کفار کا معنی ہے بہت زیادہ ناشکرا، انسان اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو استعمال کرتا ہے اور نعمتوں کو اللہ کی نافرمانی میں بھی خرچ کرتا ہے۔ یہ سب اپنی جان پر ظلم کرتا ہے، پھر نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتا یہ بھی ظلم ہے، نعمتوں کو استعمال کرتا ہے اور انکار بھی کرتا ہے کہہ دیتا ہے کہ مجھے اللہ نے کیا دیا ہے کبھی کہتا ہے کہ یہ سب کچھ میں نے اپنی محنت اور اپنی سمجھ سے حاصل کیا ہے نیز اپنے خالق اور مالک کا فرمانبردار نہیں بنتا کفر میں معصیتوں میں جان اور مال خرچ کرتا ہے، یہ سب ظلم ہے اکثر افراد ناشکرے ہی ہیں سورة سبا میں فرمایا (وَقَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّکُوْرُ ) (اور میرے بندوں میں سے شکر گزار کم ہیں)
Ayahs 14:35–36

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّ اجْنُبْنِیْ وَ بَنِیَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَؕ Open ayah 14:35 in the Quran reader

اور جب ابراہیم نے کہا کہ اے میرے رب اس شہرکو امن وامان والا بنا دیجیے اور مجھے اور میرے فرزندوں کو اس سے دور رکھیے کہ ہم بتوں کو پوجیں،

رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ١ۚ فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّهٗ مِنِّیْ١ۚ وَ مَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 14:36 in the Quran reader

اے میرے رب بلاشبہ ان بتوں نے لوگوں میں سے بہت سوں کو گمراہ کردیا، سو جو شخص میری پیروی کرے بلاشبہ وہ مجھ سے ہے اور جو شخص میری نافرمانی کرے تو بلاشبہ آپ بخشنے والے ہیں مہربان ہیں،

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنی اولاد کو بیت اللہ کے نزدیک ٹھہرانا اور ان کے لیے دعا کرنا کہ شرک سے بچیں اور نماز قائم کریں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) موحد تھے ان کے علاقہ کے لوگ جو بابل کے قریب تھا بت پرست تھے، خود ان کا باپ بھی بتوں کی پوجا کرتا تھا آپ نے ان لوگوں کو توحید کی دعوت دی اور اس بارے میں بہت تکلیفیں اٹھائیں یہاں تک کہ انہیں آگ تک میں ڈالا گیا پھر اپنے علاقہ سے ہجرت کرکے فلسطین میں تشریف لے آئے ہجرت میں ان کی بیوی بھی ساتھ تھیں۔ یہ چچا کی لڑکی تھیں، جن کا نام سارہ تھا۔ پھر سفر ہجرت میں ایک بادشاہ نے حضرت سارہ کو بلوایا بدنیتی سے ہاتھ ڈالا تو اس کے ہاتھ پاؤں اکڑ گئے پھر ان کو چھوڑ دیا پھر ان کی خدمت کے لیے ایک عورت پیش کردی جن کا نام ہاجرہ تھا حضرت سارہ سے اسحاق (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور حضرت ہاجرہ سے اسماعیل (علیہ السلام) پیدا ہوئے اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ جاؤ اسماعیل اور اس کی والدہ کو سرزمین عرب مکہ معظمہ میں چھوڑ آؤ وہ اپنی بیوی کو لے کر مکہ معظمہ تشریف لے آئے اور کعبہ شریف کے قریب چھوڑ دیا اور یہ دعا کی کہ اے میرے رب اس شہر کو امن والا بنا دیجیے اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے محفوظ رکھیے ان بتوں کے ذریعہ بہت سے لوگ گمراہ ہوچکے ہیں میں ان لوگوں سے بیزار ہوں، جو شخص میری اتباع کرے توحید کی راہ چلے وہ میرا ہے اور جو شخص میری نافرمانی کرے وہ میرا نہیں ہے، آپ اسے ہدایت دیکر مغفرت کے راستے پر ڈال سکتے ہیں اور اس پر رحم فرما سکتے ہیں، ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی عرض کیا کہ میں آپ کے معظم گھر (کعبہ شریف) کے قریب اس وادی (میدان) میں اپنی بعض اولاد کو چھوڑ رہا ہوں یہ میدان کھیتی والا نہیں ہے حکم کی تعمیل میں یہاں قیام کرا رہا ہوں آپ میری اس ذریت کو اور اس کی نسل کو ایمان کے ساتھ اعمال صالحہ کی توفیق دیجیے میں انہیں یہاں اس لیے چھوڑ رہا ہوں کہ نماز قائم کریں (نماز ایمان کے بعد اسلام کا سب سے بڑا رکن ہے اس لیے دعا میں اس کا خصوصی ذکر فرما دیا اس میں دیگر اعمال صالحہ کی بھی دعا آگئی) میری نسل کے یہ لوگ خود بھی دین پر چلنے والے بنیں اور دوسروں کے لیے بھی مقتدا بن جائیں لوگوں کے دل ان کی طرف پھیر دیجیے تاکہ ان سے ایمان اور اعمال صالحہ سیکھ سکیں، یہ تو ان کی دینی زندگی کے لیے دعا کی اور ان کی دنیاوی زندگی اور غذا کے لیے یوں دعا کی کہ اے میرے رب انہیں پھل عطا فرمانا تاکہ یہ شکر گزار ہوں، گو یہ جگہ ایسی ہے جہاں چٹیل میدان ہے اور ہر طرف سنسان ہے لیکن آپ اپنی قدرت کاملہ سے ان کو پھل نصیب فرمائیں، اللہ جل شانہٗ نے ان کی دعائیں قبول فرمائیں، ان کے بیٹے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) جنہیں مکہ معظمہ میں چھوڑ گئے تھے اور ان کی نسل کو ایمان سے اور اعمال صالحہ سے مالا مال فرمایا اور انہیں مقتدا ہونے کی شان بھی عطا فرمائی ان کی طرف لوگ کھنچ کھنچ کر آنے لگے نیز انہیں رزق بھی خوب عطا فرمایا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا ایسی قبول فرمائی کہ دنیا بھر سے مکہ معظمہ میں پھل آتے اور وہاں کے مقامی حضرات اور حجاج اور زائرین سب ہی کھاتے ہیں اور ان سے منتفع اور متمتع ہوتے ہیں۔ سورة قصص میں فرمایا (اَوَ لَمْ نُمَکِّنْ لَّھُمْ حَرَمًا اٰمِنًا یُّجْبٰٓی اِلَیْہِ ثَمَرٰتُ کُلِّ شَیْءٍ رِّزْقًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ لٰکِنَّ اَکْثَرَھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ) (کیا ہم نے ان کو امن وامان والے حرم میں جگہ نہیں دی جہاں ہر قسم کے پھل کھنچے چلے آتے ہیں جو ہمارے پاس رزق کے طور پر ہیں لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے) مکہ معظمہ کے قریب ہی شہر طائف آباد ہے اور وہ سرسبز و شاداب علاقہ ہے ہمیشہ وہاں سے طرح طرح کے پھل مکہ معظمہ پہنچتے رہے ہیں اور دنیا کے تمام اطراف و اکناف سے مکہ معظمہ میں طرح طرح کے پھل آ رہے ہیں شاید دنیا کا کوئی پھل ایسا نہ بچا ہو جو مکہ معظمہ نہ پہنچا ہو بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ ثمرات کے عموم میں درختوں کے پھلوں کے علاوہ مشینوں کی پیداوار اور دستکاریوں سے حاصل ہونے والا سامان بھی داخل ہے مکہ کی سرزمین میں نہ کاشت ہے نہ شجرکاری ہے اور نہ صنعتکاری لیکن پھر بھی اس میں دنیا بھر کے ثمرات اور طرح طرح کی مصنوعات ملتی ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنی بیوی اور بچہ کو مکہ معظمہ کی چٹیل زمین میں چھوڑ کر واپس فلسطین تشریف لے گئے اور ان کے گزارے کے لیے ایک تھیلے میں کچھ کھجوریں اور مشکیزے میں پانی رکھ دیا جب واپس ہونے لگے تو ان کی اہلیہ پیچھے ہولیں اور کہنے لگیں کہ ہمیں یہاں چھوڑ کر آپ کہاں جا رہے ہیں یہاں نہ آرام ہے نہ آدم زاد نہ اور کوئی چیز ہے، انہوں نے کئی بار یہ سوال کیا لیکن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) خاموش رہے آخر میں اس مومنہ خاتون نے کہا کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے انہوں نے فرمایا کہ ہاں اس پر وہ کہنے لگیں کہ پھر تو اللہ ہمیں ضائع نہ فرمائے گا، جب مشکیزہ کا پانی ختم ہوگیا تو وہ پانی کی تلاش میں نکلیں سات مرتبہ صفا مروہ پر آنا جانا کیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بچہ کے قریب فرشتے کے ایڑی مارنے سے چشمہ جاری فرما دیا، دونوں ماں بیٹے وہیں رہتے رہے پھر قبیلہ بنی جرھم بھی وہاں آکر آباد ہوگیا یہ قبیلہ (فَاجْعَلْ اَفْءِدَۃً مِّنَ النَّاسِ ) کی مقبولیت کا اولین مصداق تھا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کبھی کبھی اپنی بیوی اور بچہ کی خبر لینے کے لیے تشریف لایا کرتے تھے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) بڑے ہوگئے تو بنی جرھم میں ان کی شادی بھی ہوگئی اللہ تعالیٰ کے حکم سے دونوں باپ بیٹوں نے مل کر کعبہ شریف تعمیر کیا جسے پہلے فرشتوں نے پھر آدم (علیہ السلام) نے بنایا تھا پھر عرصہ دراز کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ میں جو طوفان آیا تھا اس کی وجہ سے دیواریں مسمار ہوگئی تھیں اور عمارت کا ظاہری پتہ بھی نہ رہا تھا جس جگہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کعبہ تعمیر کیا چونکہ اس جگہ کے قریب اپنی بیوی اور بچہ کو چھوڑا تھا اس لیے دعا میں یوں عرض کیا (اَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّمِ ) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بیوی اور بچے سے رخصت ہو کر آگے بڑھے تو قبلہ رخ ہو کر ایسی جگہ کھڑے ہوئے جہاں سے کعبہ شریف کی اٹھی ہوئی جگہ نظر آتی تھی جو ٹیلہ کی شکل میں تھی اور بیوی بچہ نظر سے اوجھل تھے، اس وقت اللہ تعالیٰ کے حضور میں یہ دعا کی جو آیت شریفہ میں مذکور ہے۔ یہ تو معلوم تھا کہ یہاں اللہ کا گھر ہے لیکن خصوصی طور پر متعین کرکے جگہ معلوم نہیں تھی، جب حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کعبہ شریف بنانے لگے تو انہیں متعین طور پر کعبہ شریف کی جگہ بتادی گئی جسے سورة حج کی آیت کریمہ (وَ اِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰھِیْمَ مَکَانَ الْبَیْتِ ) میں بیان فرمایا۔ جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا حضرت ابراہیم علی نبینا ( علیہ السلام) کی نسل میں اہل ایمان رہے اور مکہ معظمہ میں بستے رہے جو حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے پھر اہل مکہ مشرک ہوگئے بتوں کی پوجا کرنے لگے اور کعبہ شریف تک میں بت رکھ دئیے۔ حضرت خاتم النّبیین ﷺ بھی حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی نسل میں سے تھے آپ ﷺ نے توحید کی دعوت دی اور توحید کو پھیلانے اور شرک کو مٹانے کے لیے بڑی بڑی محنتیں کیں اور قربانیاں دیں جس کی وجہ سے اہل مکہ پھر توحید پر آگئے اور دنیا بھر کے قلوب ان کی طرف متوجہ ہوگئے اور کعبہ شریف بتوں سے پاک و صاف ہوگیا۔ فصلی اللّٰہ تعالیٰ علی ابراھیم واسمٰعیل و محمد ن النبی العربی المکی المدنی صلوٰۃ دائمۃ علی ممر الدھور والاعصار
Ayah 14:37

رَبَّنَاۤ اِنِّیْۤ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِكَ الْمُحَرَّمِ١ۙ رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ فَاجْعَلْ اَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِیْۤ اِلَیْهِمْ وَ ارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَشْكُرُوْنَ Open ayah 14:37 in the Quran reader

اے ہمارے رب میں نے اپنی اولاد کو آپ کے محترم گھر کے نزدیک ایسی وادی میں ٹھہرایا جو کھیتی والی نہیں ہے اے ہمارے رب تاکہ وہ نماز قائم کریں، سو آپ لوگوں کے دل ان کی طرف مائل کردیجیے اور انہیں پھلوں میں سے روزی عطا فرمائیے تاکہ شکر ادا کریں۔

اولاد کے نمازی ہونے کے لیے فکر مند ہونا پیغمبرانہ شان ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بارگاہ خداوندی میں یوں عرض کیا کہ میں نے اپنی ذریت کو اس وادی میں آپ کے گھر کے پاس ٹھہرایا ہے جہاں کھیتی نہیں ہے اور ساتھ ہی (لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ ) بھی کہا تاکہ وہ نماز قائم کریں اس سے نماز قائم کرنے کی اہمیت معلوم ہوئی جو ایمان کے بعد افضل الاعمال ہے نیز معلوم ہوا کہ اپنے اہل و عیال کی نماز کے لیے فکر مند رہنا کہ وہ نماز قائم کریں یہ بھی ایک ضروری بات ہے پھر رکوع کے ختم پر ان کی دعا کا تذکرہ فرمایا ہے کہ انہوں نے بارگاہ خداوندی میں یوں عرض کیا (رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلوٰۃِ وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْ ) (کہ اے میرے رب مجھے نماز قائم رکھنے والا رکھیے اور میری ذریت میں سے بھی نماز قائم کرنے والا پیدا فرمائیے) اس سے اقامت صلوٰۃ کی مزید اہمیت کا پتہ چلا بہت سے لوگ خود تو نمازی ہوتے ہیں لیکن اپنی اولاد کی نماز کے لیے فکر مند نہیں ہوتے بلکہ اولاد کو ایسی جگہوں میں تعلیم دلاتے ہیں جہاں نماز تو کیا ایمان سے بھی محروم ہوجاتے ہیں، اگر کوئی کہتا ہے کہ اپنے بچوں کو قرآن و حدیث کے مدرسہ میں پڑھائیے تو کہہ دیتے ہیں کہ ہمیں ملا تھوڑا ہی بنانا ہے، یہ نہیں سمجھتے کہ بچوں کو دین میں لگانے ہی میں خیریت ہے دین سے اور دین کے فرائض کے جاننے اور عمل کرنے سے محروم رکھا تو یہ ان کا خون کردینا ہے، عام طور سے لوگوں کی ساری شفقت دنیا ہی سے متعلق ہوتی ہے موت کے بعد اولاد کا کیا بنے گا اس کا کچھ دھیان نہیں کرتے، ہماری اولاد دینی مقتدا ہوجائے اس کا فکر کرنا بھی پیغمبرانہ فکر کی بات ہے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی ذریت کے لیے یہ دعا بھی کی کہ لوگوں کے قلوب ان کی طرف مائل ہوجائیں اس سے معلوم ہوا کہ اپنی اولاد کو دینی مقتدیٰ بنانا بھی ایک اہم مقصد ہے اللہ تعالیٰ شانہٗ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا قبول فرمائی اول تو بنی جرہم کو مکہ معظمہ میں بسا دیا انہیں میں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی شادی ہوئی پھر ان کی نسل چلی اور بڑھی جن میں خاتم النّبیین سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ بھی ہیں آپ سارے عالم کے مقتدا ہیں آپ مکہ معظمہ ہی کی سرزمین میں پیدا ہوئے اور وہیں نبوت سے سرفراز ہوئے آپ کی دعوت توحید کا پہلا مرکز مکہ معظمہ ہی تھا آپ سے اور آپ کی اولاد و اصحاب سے سارے عالم میں ایمان پہنچا جن کی طرف پورے عالم کے قلوب متوجہ ہوگئے اس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کی مقبولیت کا مظاہرہ ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا میں یہ بھی ہے کہ (وَارْزُقْھُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّھُمْ یَشْکُرُوْنَ ) کہ انہیں پھلوں میں سے رزق عطا فرمانا تاکہ وہ شکر ادا کریں اس سے معلوم ہوا کہ اپنی اولاد کے لیے معاش کا انتظام کرنا اور ان کے لیے رزق کی دعا کرنا یہ بزرگی اور دین داری کے منافی نہیں ہے، اولاد کے دین و ایمان صالحہ کا فکر کرتے ہوئے ان کے معاشی حالات کی فکر کی جائے تو یہ توکل کے خلاف نہیں ہے، دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی شکرگزاری بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے، خود بھی اللہ کے شکر گزار بنیں اور اولاد کو بھی شکر گزار بنانے کی فکر کریں۔
Ayahs 14:38–39

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِیْ وَ مَا نُعْلِنُ١ؕ وَ مَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ Open ayah 14:38 in the Quran reader

۔۔ اے ہمارے رب بلاشبہ آپ وہ سب کچھ جانتے ہیں جو ہم چھپاتے ہیں اور جو ہم ظاہر کرتے ہیں اور زمین میں اور آسمان میں اللہ پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے،

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ وَهَبَ لِیْ عَلَى الْكِبَرِ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَسَمِیْعُ الدُّعَآءِ Open ayah 14:39 in the Quran reader

سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل اور اسحاق عطا فرمائے، بلاشبہ میرا رب دعا کا سننے والا ہے

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا شکر ادا کرنا کہ اللہ تعالیٰ نے بڑھاپے میں بیٹے عطا فرمائے، اور اپنے لیے اور آل و اولاد کے لیے نماز قائم کرنے کی دعا کرنا ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی مزید دعاؤں کا تذکرہ ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے عرض کیا (رَبَّنَآ اِنَّکَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِیْ وَ مَا نُعْلِنُ ) (الآیۃ) کہ اے ہمارے رب آپ جانتے ہیں کہ جو کچھ ہم چھپاتے ہیں اور جو کچھ ہم ظاہر کرتے ہیں آپ ہماری نیتوں اور ارادوں سے اور ہمارے عزائم سے باخبر ہیں جیسا کہ آپ ہمارے ظاہری اعمال و احوال اوراقوال و اشغال سے باخبر ہیں اور ایک ہمارے ہی اعمال و احوال کیا اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز زمین میں اور آسمان میں پوشیدہ نہیں ہے وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے، پھر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے یوں عرض کیا کہ تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے مجھے بڑھاپے کے باوجود اسماعیل اور اسحاق دو بیٹے عطا فرمائے اور ساتھ ہی یوں بھی عرض کیا (اِنَّ رَبِّیْ لَسَمِیْعُ الدُّعَآءِ ) (بیشک میرا رب دعا قبول فرمانے والا ہے) چونکہ انہوں نے دعا میں (رَبِّ ھَبْ لِیْ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ ) عرض کیا تھا جس میں صالح اولاد طلب کی تھی اور وہ دعا قبول ہوگئی اس لیے اللہ تعالیٰ کا مزید شکر ادا کیا کہ اس نے میری دعا قبول فرمائی اور اولاد عطا فرمائی۔
Ayahs 14:40–41

رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوةِ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ١ۖۗ رَبَّنَا وَ تَقَبَّلْ دُعَآءِ Open ayah 14:40 in the Quran reader

اے میرے رب مجھے نماز قائم کرنے والا رکھیے اور میری اولاد میں سے بھی، اے ہمارے رب اور میری دعا قبول فرمائیے

رَبَّنَا اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَابُ۠ Open ayah 14:41 in the Quran reader

اے ہمارے رب میری مغفرت فرمائیے اور میرے والدین کی اور مومنین کی جس دن حساب قائم ہوگا۔

پھر یوں دعا کی (رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوۃِ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ رَبَّنَا وَ تَقَبَّلْ دُعَآءِ ) (اے میرے رب مجھے نماز قائم کرنے والا رکھ اور میری ذریت میں سے بھی نماز قائم کرنے والے بنائیے اے ہمارے رب دعا کو قبول فرمائیے) اس کے بعد اپنے لیے اور اپنے والدین کے لیے اور تمام مومنین کے لیے دعا کی کہ جس دن حساب قائم ہو اس دن ان سب کی مغفرت فرما۔ یہاں یہ اشکال ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا باپ تو کافر مشرک تھا اس کے لیے کیسے مغفرت کی دعا کی جبکہ کافروں کی بخشش نہ ہوگی اس کا جواب سورة توبہ کی آیت (وَ مَا کَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰھِیْمَ لِاَبِیْہِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَۃٍ وَّعَدَھَآ اِیَّاہُ ) کی تفسیر میں گزر چکا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ سے وعدہ کرلیا تھا کہ اللہ تعالیٰ سے تمہارے لیے استغفار کروں گا انہیں اپنے والد کے مسلمان ہونے کی امید تھی پھر جب انہیں اس بات کا یقین ہوگیا کہ اس کی موت کفر پر ہوگی تو اس سے بیزار ہوگئے یہ دعا بیزار ہونے سے پہلے کی ہے جب تک والد کی موت علی الکفر کا علم نہ ہوا تھا اور مسلمان ہونے کی امید بندھی ہوئی تھی اس وقت تک بشرط ہدایت باپ کی مغفرت کی دعا کی بعد میں چھوڑ دی۔ آیت بالا میں والدہ کے لیے بھی دعائے مغفرت کرنے کا تذکرہ ہے اگر وہ ایمان لے آئی تھی تب تو کوئی اشکال نہیں اور اگر وہ ایمان نہیں لائی تھی تو اس کے بارے میں وہی بات کہی جائے گی جو والد کے بارے میں عرض کی گئی۔
Ayahs 14:42–45

وَ لَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا یَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ١ؕ۬ اِنَّمَا یُؤَخِّرُهُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیْهِ الْاَبْصَارُۙ Open ayah 14:42 in the Quran reader

اللہ کو ان کاموں سے بیخبر مت سمجھئے جو ظالم لوگ کرتے ہیں بات یہی ہے کہ وہ انہیں ایسے دن کے لیے مہلت دیتا ہے جس میں آنکھیں اوپر کو اٹھی رہ جائیں گی

مُهْطِعِیْنَ مُقْنِعِیْ رُءُوْسِهِمْ لَا یَرْتَدُّ اِلَیْهِمْ طَرْفُهُمْ١ۚ وَ اَفْئِدَتُهُمْ هَوَآءٌؕ Open ayah 14:43 in the Quran reader

یہ لوگ دوڑتے ہونگے سروں کو اوپر کو اٹھائے ہوئے ہونگے، ان کی نظر ان کی طرف واپس نہ لوٹے گی اور ان کے دل ہوا ہونگے،

وَ اَنْذِرِ النَّاسَ یَوْمَ یَاْتِیْهِمُ الْعَذَابُ فَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا رَبَّنَاۤ اَخِّرْنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ۙ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَ نَتَّبِعِ الرُّسُلَ١ؕ اَوَ لَمْ تَكُوْنُوْۤا اَقْسَمْتُمْ مِّنْ قَبْلُ مَا لَكُمْ مِّنْ زَوَالٍۙ Open ayah 14:44 in the Quran reader

اور آپ لوگوں کو اس دن سے ڈرائیے جس دن ان کے پاس عذاب آئے گا، سو جن لوگوں نے ظلم کیا وہ یوں کہیں گے کہ اے ہمارے رب تھوڑی سی مدت کے لیے ہمیں مہلت دیجیے ہم آپ کے بلاوے کو قبول کریں گے اور رسولوں کا اتباع کریں گے کیا تم نے اس سے پہلے قسم نہ کھائی کہ ہمیں کہیں جانا ہی نہیں

وَّ سَكَنْتُمْ فِیْ مَسٰكِنِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ تَبَیَّنَ لَكُمْ كَیْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَ ضَرَبْنَا لَكُمُ الْاَمْثَالَ Open ayah 14:45 in the Quran reader

حالانکہ تم ان لوگوں کے رہنے کی جگہ میں رہتے تھے جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور یہ بات تم پر ظاہر ہوگئی کہ ہم نے ان کے ساتھ کیسا معاملہ کیا اور ہم نے تمہارے لیے مثالیں بیان کیں

قیامت کے دن کا ایک منظر، عذاب آنے پر ظالموں کا درخواست کرنا کہ مہلت دیدی جائے قرآن مجید نازل ہوتا تھا رسول اللہ ﷺ سناتے تھے توحید کی دعوت دیتے تھے لیکن مشرکین مکہ عناد و تکذیب سے باز نہ آتے تھے اور اپنے احوال اور اموال میں مست تھے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فوری طور پر عذاب نہ آنے کی وجہ سے یوں کہتے تھے کہ اگر ہم اللہ کے نزدیک مجرم ہیں تو ہم پر عذاب کیوں نہیں آجاتا۔ ان کی اس جاہلانہ بات سے دوسرے لوگوں کے متاثر ہونے کا بھی احتمال تھی اللہ جل شانہٗ نے فرما دیا کہ آپ یہ خیال نہ کیجیے کہ اللہ تعالیٰ ان کی طرف سے غافل ہے اسے سب خبر ہے ان کے حال اور انکار و تکذیب کا علم ہے لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ تکذیب کرنے والوں پر وہ دنیا ہی میں عذاب بھیج دے نیز عذاب آنے میں دیر لگنے کی وجہ سے کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ کفر پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی مواخذہ نہیں اللہ تعالیٰ ان کو مہلت دے رہا ہے جب قیامت کا دن ہوگا تو اس کی نگاہیں پھٹی رہ جائیں گی اور نظر بھی الٹ کر واپس نہ آئے گی ایسی ٹکٹکی باندھے ہوئے دیکھتے ہونگے، کہ پلک بھی نہ جھپک سکے گی تیزی سے دوڑ رہے ہونگے سر اوپر کو اٹھائے ہونگے اور ان کے دل بالکل ہوا ہونگے یعنی دہشت سے حواس باختہ ہوچکے ہونگے مواخذے میں دیر لگنے کی وجہ سے کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ بس یہ دنیا ہے نہ قیامت ہے نہ حساب ہے، نہ عذاب ہے، ڈھیل سے دھوکہ نہ کھائیں۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ (وَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰہَ ) کا خطاب ہر اس شخص کی طرف ہے جس کے خیال میں یہ آسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ظالموں کے اعمال سے غافل ہے، پھر فرماتے ہیں کہ یہ خطاب نبی اکرم ﷺ کو بھی ہوسکتا ہے آپ سے ایسے گمان کا صادر ہونا تو محال ہے لہٰذا معنی یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کے علیم اور خبیر ہونے کے بارے میں جو آپ یقین رکھتے ہیں اسی پر دائم و قائم رہیں اور بعض حضرات نے فرمایا کہ بظاہر خطاب آپ کو ہے لیکن اس سے مقصود دوسروں کو متنبہ کرنا ہے اور اس میں تنبیہ ہے اور تنبیہ شدید و اکید ہے کہ جس ذات سے ایسا گمان ہو ہی نہیں سکتا جب اسے ایسے خیال کی ممانعت کردی گئی تو جو شخص ایسا گمان کرسکتا ہے ہو اسے تو ایسے گمان سے بہت زیادہ دور رہنا چاہیے۔ قیامت کا ہولناک منظر بیان فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا (وَاَنْذِرِ النَّاسَ یَوْمَ یَاْتِیْھِمُ الْعَذَابُ ) کہ آپ لوگوں کو اس دن سے ڈرائیے جس دن ان پر عذاب آپہنچے گا۔ جب ان پر عذاب آئے گا تو کہیں گے کہ اے رب ہمیں تھوڑی سی مہلت اور دیدیجیے آپ نے ہمیں جن کاموں کی دعوت دی تھی یعنی آپ کی طرف سے ہمیں جن کاموں کے کرنے کا بلاوا پہنچا تھا ہم ان پر عمل کریں گے اور آپ کا حکم مانیں گے اور رسولوں کا اتباع کریں گے، ان لوگوں کے جواب میں کہا جائے گا کہ تم دنیا میں بستے رہے دنیا کو آباد کیا تمہیں جب حق کی دعوت دی جاتی تھی اور قیامت کے دن کے آنے کی خبر دی جاتی تھی اور اس پر ایمان لانے کو کہا جاتا تھا اور تم ساری سنی ان سنی کردیتے تھے تم تو یوں قسم کھاتے تھے کہ ہمیں دنیا ہی میں رہنا ہے یہاں سے ٹلنا ہی نہیں، اللہ تعالیٰ کے رسولوں نے خوب سمجھایا ﷺ ان کا سمجھانا ایمان لانے کو فرمانا سمجھدار انسان کے لیے کافی تھا لیکن مزید تنبیہ و تذکیر کے لیے یہ بات بھی کم نہ تھی کہ تم لوگ جن بستیوں میں سکونت پذیر تھے اور جن گھروں میں رہتے تھے، تمہیں معلوم تھا کہ یہ ان لوگوں کی بستیاں ہیں اور ان لوگوں کے گھر ہیں، جنہوں نے اللہ کے نبیوں کو جھٹلایا اور اپنی جانوں پر ظلم کیا اور تمہیں یہ بھی معلوم تھا کہ جو لوگ ان بستیوں میں رہتے تھے اور ان گھروں میں بستے تھے کفر و انکار کی وجہ سے ان پر عذاب آیا، اور مزید یہ کہ ہم نے تمہارے سامنے مثالیں بیان کیں اور پہلے لوگوں کی بربادی کے واقعات سنائے (جنہیں حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) نے بیان فرمایا) اور تم بھی نسلاً بعد نسل سنتے چلے آ رہے تھے یہ سب کچھ ہوتے ہوئے تم نے حق کو ٹھکرایا قیامت پر ایمان نہ لائے اب کہتے ہو کہ مہلت دی جائے اب مہلت کا کوئی موقعہ نہیں۔
Ayah 14:46

وَ قَدْ مَكَرُوْا مَكْرَهُمْ وَ عِنْدَ اللّٰهِ مَكْرُهُمْ١ؕ وَ اِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُوْلَ مِنْهُ الْجِبَالُ Open ayah 14:46 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے اپنا مکر کیا اور اللہ کے سامنے ان کا مکر ہے اور واقعی ان کا مکر ایسا تھا کہ اس سے پہاڑ ٹل جائیں۔

(وَقَدْ مَکَرُوْا مَکْرَھُمْ ) (الآیۃ) جو لوگ منکرین اور معاندین تھے جب انبیاء کرام (علیہ السلام) انہیں ایمان کی دعوت دیتے تھے تو نہ صرف یہ کہ جھٹلاتے تھے بلکہ ان کی دعوت کو دبانے کے لیے طرح طرح کی تدبیریں کرتے تھے راہ حق سے لوگوں کو روکتے تھے اور اس سلسلہ میں جان اور مال خرچ کرتے تھے ان کی یہ تدبیریں ایسی تھیں جن کی وجہ سے پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ٹل سکتے تھے اللہ تعالیٰ کو ان کی تدبیروں کا پورا پورا علم تھا ان کی تدبیریں نیست و نابود ہوئیں اور مکذبین و معاندین ہلاک اور برباد ہوئے۔
Ayah 14:47

فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍؕ Open ayah 14:47 in the Quran reader

سو اے مخاطب تو اللہ کے بارے میں یہ خیال نہ کر کہ وہ وعدہ خلافی کرنے والا ہے بلاشبہ اللہ غلبہ والا ہے بدلہ لینے والا ہے۔۔۔

(فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰہَ مُخْلِفَ وَعْدِہٖ رُسُلَہٗ ) (سو اے مخاطب تو اللہ کے بارے میں یہ خیال نہ کر کہ وہ وعدہ خلافی کرنے والا ہے) اللہ تعالیٰ نے جو اپنے نبیوں سے نصرت اور مدد کا وعدہ فرمایا ہے وہ ضرور پورا فرمائے گا۔ کما فی سورة الغافر (اِِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَیَوْمَ یَقُوْمُ الْاَشْہَادُ ) (ہم اپنے پیغمبروں کو اور ایمان والوں کی دنیاوی زندگانی میں بھی مدد کرتے ہیں اور اس میں بھی جس میں گواہی دینے کے لیے کھڑے ہونگے) (اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ ذُوانْتِقَامٍ ) (بلاشبہ اللہ غلبہ والا ہے بدلہ لینے والا ہے)
Ayahs 14:48–49

یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ وَ السَّمٰوٰتُ وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ Open ayah 14:48 in the Quran reader

جس روز زمین دوسری زمین سے بدل جائے گی اور آسمان بھی بدل جائیں گے اور سب لوگ اللہ کے لیے ظاہر ہوجائیں گے جو واحد قہار ہے

وَ تَرَى الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَئِذٍ مُّقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِۚ Open ayah 14:49 in the Quran reader

اور اے مخاطب تو اس دن مجرموں کو اس حال میں دیکھے گا کہ وہ باہم آپس میں بیڑیوں میں جکڑے ہوئے ہونگے

قیامت کے دن زمین اور آسمان میں تغیر اور تبدل، سب لوگوں کی حاضری، مجرمین کی بدحالی، حساب کتاب اور جزا سزا ان آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ قیامت کے دن یہ زمین دوسری زمین سے بدل جائے گی اور آسمان بھی بدل جائیں گے، بدلنے کا کیا مطلب ہے ان کی ذات بدل دی جائے گی یا صفات بدل دی جائیں گی اس کے بارے میں صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ تبدیلی کی دونوں صورتیں ہوسکتی ہے اور آیت کریمہ کسی ایک معنی کے لیے نص صریح نہیں ہے پھر حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ زمین اس طرح بدل دی جائے گی کہ کچھ بڑھا دی جائے گی کچھ کمی کردی جائے گی اس کے ٹیلے اور پہاڑ اور نشیب اور درخت اور اس میں جو بھی کچھ ہے سب ختم ہوجائے گا اور زمین کو چمڑے کی طرح پھیلا دیا جائے گا جو بالکل برابر ہوجائے گی اور اس میں کوئی کجی اور اٹھی ہوئی جگہ نظر نہ آئے گی اور آسمانوں کو اس طرح بدل دیا جائے گا کہ چاند سورج ستارے سب ختم ہوجائیں گے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے جو فرمایا ہے یہ قرآن مجید کی آیات اور بعض احادیث صحیحہ مرفوعہ کے موافق ہے۔ سورة طٰہٰ میں فرمایا (وَیَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنْسِفُھَا رَبِّیْ نَسْفًا فَیَذَرُھَا قَاعًا صَفْصَفًا لَّا تَرٰی فِیْھَاعِوَجًا وَّ لَآ اَمْتًا) (اور لوگ آپ سے پہاڑوں کے بارے میں پوچھتے ہیں سو آپ فرما دیجیے کہ میرا رب ان کو بالکل اڑا دے گا پھر زمین کو ایک ہموار میدان کردے گا کہ جس میں تو نہ نا ہمواری دیکھے گا نہ کوئی بلندی دیکھے گا) اور سورة زمر میں فرمایا (وَمَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖ وَالْاَرْضُ جَمِیْعًا قَبْضَتُہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِیَّاتٌ بِیَمِیْنِہٖ سُبْحٰنَہٗ وَتَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ ) (اور ان لوگوں نے اللہ کی عظمت نہ کی جیسی عظمت کرنی چاہیے تھی حالانکہ ساری زمین اس کی مٹھی میں ہوگی قیامت کے دن اور تمام آسمان لپیٹے ہونگے اس کے داہنے ہاتھ میں، وہ پاک ہے اور برتر ہے ان کے شرک سے) اور سورة انبیاء میں فرمایا (یَوْمَ نَطْوِی السَّمَآءَ کَطَیِّ السِّجِلِّ لِلْکُتُبِ کَمَا بَدَاْنَآ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُہٗ ) وہ دن یاد کرنے کے قابل ہے جس روز ہم آسمانوں کو اس طرح لپیٹ دیں گے جس طرح لکھے ہوئے مضمونوں کا کاغذ لپیٹ لیا جاتا ہے ہم نے جس طرح شروع میں پیدا کیا اسی طرح لوٹا دیں گے۔ اور سورة حاقہ میں فرمایا (فَاِِذَا نُفِخَ فِی الصُّورِ نَفْخَۃٌ وَّاحِدَۃٌ وَحُمِلَتِ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُکَّتَا دَکَّۃً وَّاحِدَۃً فَیَوْمَءِذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَۃُ وَانشَقَّتِ السَّمَآءُ فَہِیَ یَوْمَءِذٍ وَّاھِیَۃٌ) پھر جب صور میں یکبارگی پھونک ماری جائے گی اور زمین اور پہاڑ اٹھا لیے جاویں گے پھر دنوں ایک دفعہ میں ریزہ ریزہ کردئیے جائیں گے تو اس روز وہ ہونے والی چیز ہو پڑے گی اور آسمان پھٹ جاوے گا اور وہ اس روز بالکل بودا ہوگا۔ اور سورة معارج میں فرمایا (یَوْمَ تَکُوْنُ السَّمَآءُ کَالْمُہْلِ وَتَکُوْنُ الْجِبَالُ کَالْعِہْنِ ) (جس دن آسمان تیل کی تلچھٹ کی طرح ہوجاوے گا اور پہاڑ رنگین اون کی طرح ہوجاویں گے۔ ) اور سورة التکویر میں فرمایا (وَاِِذَا السَّمَآءُ کُشِطَتْ ) اور جب آسمان کھل جاوے گا اور سورة الانشقاق میں فرمایا (اِِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْ وَاَذِنَتْ لِرَبِّہَا وَحُقَّتْ وَاِِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ وَاَلْقَتْ مَا فِیْہَا وَتَخَلَّتْ وَاَذِنَتْ لِرَبِّہَا وَحُقَّتْ ) (جب آسمان پھٹ جائے گا اور اپنے رب کا حکم سن لے گا اور وہ اسی لائق ہے، اور زمین کھینچ کر بڑھا دی جائے گی اور اپنے اندر کی چیزوں کو باہر ڈال دے گی اور خالی ہوجائے گی اور اپنے رب کا حکم سن لے گی اور وہ اسی لائق ہے۔ ) سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن لوگ سفید زمین پر جمع کیے جائیں گے اس کے سفید رنگ میں کچھ مٹیالے رنگ کی ملاوٹ ہوگی (اور) وہ میدے کی روٹی کی طرح ہوگی اس میں کسی قسم کی کوئی نشانی نہ ہوگی (رواہ البخاری) حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن زمین ایک روٹی بنی ہوئی ہوگی جبار جل مجدہ اسے اپنے دست قدرت سے اس طرح الٹ پلٹ فرمائے گا جس طرح تم اپنی روٹی کو سفر میں الٹ پلٹ کرتے ہو یہ زمین اہل جنت کو کھانے کے لیے ابتدائی مہمانی کے طور پر پیش کی جائے گی (رواہ البخاری) تاکہ وہ زمین کے سارے مزے مجموعی طور پر چکھ لیں اور اس کے بعد جنت کے مزے چکھیں تو لطف دوبالا ہو۔ حضرت عائشہ ؓ نے بیان فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ یہ جو اللہ تعالیٰ نے (یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ ) فرمایا ہے (جس سے آسمان اور زمین کا بدل جانا معلوم ہو رہا ہے) اس کے بارے میں ارشاد فرمائیے کہ اس روز لوگ کہاں ہونگے آپ نے فرمایا کہ اس روز پل صراط پر ہونگے۔ یہ متعدد آیات کریمہ اور احادیث شریف ہیں ان میں تبدیل صفت کا ذکر ہے البتہ حضرت عائشہ ؓ کی حدیث سے (جو سب سے آخر میں نقل کی گئی ہے) زمین کی ذات تبدیل ہونے کی طرف اشارہ مل رہا ہے، مرقاہ شرح مشکوٰۃ میں اس حدیث کے ذیل میں لکھا ہے والظاھر من التبدیل تغییر الذات کما یدل علیہ السؤال والجواب حیث قالت فاین یکون الناس یومئذ قال علی الصراط۔ صاحب روح المعانی نے ابن الانباری کا قول نقل فرمایا ہے کہ آسمان کی تبدیلی بار بار ہوگی کبھی اس کو لپیٹا جائے گا اور کبھی تلچھٹ کی طرح اور کبھی (وردۃ کالدھان) ہوجائے گا۔ اور حضرت ابن مسعود ؓ سے نقل کیا ہے کہ زمین کی تبدیلی اس طرح ہوگی کہ وہ سفید زمین ہوگی گویا کہ چاندی سے ڈھالی گئی ہے اس میں کسی کا خون نہ بہایا گیا ہوگا اور اس پر کوئی گناہ نہ کیا گیا ہوگا، پھر بعض حضرات سے یوں نقل کیا گیا ہے کہ اولاً زمین کی صفت بدل دی جائے گی جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا پھر اس کی ذات بدل دی جائے گی اور یہ ذات کا بدلنا اس کے بعد ہوگا جب وہ اپنی خبریں بتا چکی ہوگی (جس کا ذکر سورة الزلزال میں ہے) اس کے بعد صاحب روح المعانی لکھتے ہیں ولا مانع من ان یکون ھنا تبدیلات علی انحاء شتی اس کے بعد فرمایا (وَ بَرَزُوْا لِلّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَھَّارِ ) (کہ لوگ اللہ واحد قہار کے لیے ظاہر ہوجائیں گے) یعنی قبروں سے نکل کر محشور اور مجتمع ہونگے، تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں فیصلے فرمائے، اللہ واحد یعنی تنہا ہے وحدہ لا شریک لہ ہے اور قہار بھی ہے جو ہر چیز پر غالب ہے، جو کچھ چاہے کرسکتا ہے کوئی اس کے فیصلے کو ٹال نہیں سکتا۔
Ayah 14:50

سَرَابِیْلُهُمْ مِّنْ قَطِرَانٍ وَّ تَغْشٰى وُجُوْهَهُمُ النَّارُۙ Open ayah 14:50 in the Quran reader

اور ان کے کرتے قطران کے ہونگے اور ان کے چہروں کو آگ نے ڈھانک رکھا ہوگا

پھر مجرمین کی بدحالی کا تذکرہ فرمایا کہ اے مخاطب تو اس دن مجرمین کو اس حال میں دیکھے گا کہ وہ باہم آپس میں بیڑیوں میں جکڑے ہوئے ہونگے یعنی اپنے عقائد کفریہ کے اعتبار سے مختلف قسموں میں بٹے ہوئے ہونگے ایک ایک قسم کے لوگوں کو ملا کر بیڑیوں میں جکڑ دیا جائے گا دنیا میں کفر میں شریک تھے اور ایک دوسرے کے مددگار تھے اب وہاں سزا میں ساتھی ہونگے صاحب روح المعانی لکھتے ہیں والمراد قرن بعضھم مع بعض وضم کل لمشار کہ فی کفرہ و عملہ ان کی مزید بدحالی بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ (سَرَابِیْلُھُمْ مِّنْ قَطِرَانٍ ) قطران عرب میں ایک درخت ہوتا تھا جس کا سیال مادہ نکال کر اور پکا کر کھجلی والے اونٹوں کے جسم پر ملتے تھے جس کی تیزی کی وجہ سے کھجلی جل جاتی تھی جیسا کہ بعض علاقوں میں کھجلی سے چھٹکارا پانے کے لیے گندھک کو سیال کرکے ملایا جاتا ہے یہ قطران جو عرب میں ہوتا تھا آگ کو جلد پکڑتا تھا اور خوب زیادہ تیز ہوتا تھا مطلب یہ ہے کہ مجرمین کے جسموں پر قطران ملایا جائے گا جو ان کے جسموں پر کرتے کی طرح ہوگا اسے دوزخ کی آگ بہت جلد پکڑے گی جیسا کہ دنیا کی آگ دنیا والی قطران کو پکڑتی ہے، مفسر ابن کثیر نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ قطران پگھلے ہوئے تانبے کو کہتے ہیں دوزخیوں کے لباس تانبے کے ہونگے۔ حضرت ابو مالک اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میت پر چیخ و پکار کر کے رونے والی عورت اگر موت سے پہلے توبہ نہ کرے گی تو قیامت کے دن اس حال میں کھڑی کی جائے گی کہ اس پر ایک کرتہ قطران کا ہوگا اور ایک کرتا کھجلی کا ہوگا (رواہ مسلم) یعنی اس کے جسم پر خارش پیدا کردی جائے گی، اور اوپر سے قطران لپیٹ دیا جائے گا تاکہ اس سے اور زیادہ سوزش اور جلن ہو۔ (وَّتَغْشٰی وُجُوْھَھُمُ النَّارُ ) (اور ان کے چہروں کو آگ نے ڈھانپ رکھا ہوگا) آگ تو سارے ہی جسم کو جلائے گی لیکن چہروں کا ذکر خصوصیت کے ساتھ اس لیے فرمایا ہے کہ چہرہ اشرف الاعضاء ہے اور اس میں حواس ظاہرہ مجتمع ہیں اور سورة ھمزہ میں فرمایا (تَطَّلِعُ عَلَی الْاَفْءِدَۃِ ) اس میں دلوں کا خصوصاً ذکر فرمایا کیونکہ قلب حواس باطنہ کا سردار ہے۔
Ayah 14:51

لِیَجْزِیَ اللّٰهُ كُلَّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 14:51 in the Quran reader

تاکہ ہر جان کو اس کے کیے ہوئے اعمال کی سزا دے بلاشبہ اللہ جلد حساب لینے والا ہے،

(لِیَجْزِیَ اللّٰہُ کُلَّ نَفْسٍ مَّا کَسَبَتْ ) یعنی اللہ تعالیٰ مجرمین کے ساتھ مذکورہ معاملہ فرمائے گا تاکہ ہر جان کو اس کے کیے کا بدلہ دیدے۔ (اِنَّ اللّٰہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ ) (بلاشبہ اللہ جلد حساب لینے والا ہے) ایک ساتھ جلدی سب کا حساب لے سکتا ہے ایک کا حساب لے اور اس میں مشغول ہوجائے اور دوسرا یہ سمجھ کر کہ ابھی تو میرے حساب میں دیر ہے آرام پالے ایسا نہیں ہوگا۔ (ذکرہ صاحب الروح صفحہ 357 ج 13)
Ayah 14:52

هٰذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ وَ لِیُنْذَرُوْا بِهٖ وَ لِیَعْلَمُوْۤا اَنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّ لِیَذَّكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 14:52 in the Quran reader

یہ پہنچا دینا ہے لوگوں کو اور تاکہ وہ اس کے ذریعے ڈرائے جائیں اور تاکہ وہ جان لیں کہ وہ ہی ایک معبود برحق ہے اور تاکہ عقل والے نصیحت حاصل کریں۔۔۔

آخر میں فرمایا (ھٰذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ ) یہ قرآن لوگوں کو پہنچ جانے والی چیز ہے اس میں نصیحت اور موعظت ہے (وَ لِیُنْذَرُوْا بِہٖ ) تاکہ لوگوں کو اس کے ذریعہ ڈرایا جائے وہ موت کے بعد کے لیے فکر مند ہوں کفر کو چھوڑیں اور ایمان قبول کریں۔ (وَ لِیَعْلَمُوْٓا اَنَّمَا ھُوَ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ) (اور تاکہ وہ جان لیں کہ اللہ تعالیٰ معبود ہے تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں) (وَّ لِیَذَّکَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ ) (اور تاکہ عقل والے نصیحت حاصل کریں) اللہ کی صفات خالقیت اور مالکیت کے بارے میں تدبر کریں شرکیہ عقائد سے باز رہیں امم سابقہ کی بغاوت اور پھر ان کی ہلاکت سامنے رکھیں اور اس سے عبرت حاصل کریں اور یہ جان لیں کہ ہم انہیں برباد شدہ اقوام کے گھروں میں رہتے ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی بغاوت کی جس کا برا انجام ان کے سامنے آگیا غور و فکر کے ذریعہ عبرت حاصل کرنا لازم ہے۔ ولقد تم سورة ابراھیم (علیہ السلام) فی اللیلۃ التاسعۃ والعشرین من شھر شعبان المعظم سنۃ الف و اربع ماءۃ وثلاثۃ عشر من الھجرۃ النبویۃ علی صاحبھا الصلوٰۃ والتحیۃ والحمد للّٰہ بیدہ ملکوت کل شئ اولا واخرا