13. Surah Ar-Ra'd

الرعدThe Thunder · 43 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 13:19

اَفَمَنْ یَّعْلَمُ اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰى١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِۙ Open ayah 13:19 in the Quran reader

جو شخص یہ جانتا ہے کہ جو کچھ آپ کے رب کی طرف آپ پر نازل کیا گیا ہے وہ حق ہے کیا یہ شخص اس شخص کی طرح سے ہوسکتا ہے جو اندھا ہو۔ نصیحت تو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقل والے ہیں

اہل ایمان کے اوصاف ‘ اور ان کے انعامات اور نقض عہد کرنے والوں کی بد حالی کا تذکرہ : یہ متعدد آیات ہیں پہلی آیت میں فرمایا کہ جس شخص کو اس بات کا علم ہے کہ جو کچھ آپ پر آپ کے رب کی طرف سے نازل کیا گیا وہ حق ہے کیا اس بات کا جاننے والا اندھے آدمی کے برابر ہوسکتا ہے جو علم کے اعتبار سے اندھا ہے اور آپ پر جو نازل کیا گیا ہے اسے نہیں جانتا (نہ جاننے میں یہ بھی داخل ہے کہ جانتے ہوئے مانتے نہیں) جاننے والا بینا ہے اور نہ جاننے والا نابینا ہے ‘ کیا بینا نابینا برابر ہوسکتے ہیں ؟ ہرگز برابر نہیں ہوسکتے ! پھر فرمایا (اِنَّمَا یَتَذَکَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِِ ) (بس عقل والے ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں) قرآن مجید تو سبھی کے سامنے ہے جو بہت بڑا معجزہ ہے اور اس کی دعوت بھی عام ہے اور ہمیشہ کے لئے ہے جن کے پاس قرآن کے مضامین پہنچتے ہیں ان میں سے جنہوں نے اپنی عقل کو بےکار نہیں کردیا اور اپنی فکر اور فہم کو قرآن کی دعوت حق کے سمجھنے سے معطل نہیں کردیا وہی لوگ نصیحت حاصل کرتے ہیں ‘ اگر کسی کے پاس عقل ہے لیکن وہ عقل خیر کی طرف نہیں آنے دیتی امور دنیا میں سیاسیات میں ریاضیات میں فلکیات میں کام کرتی ہے لیکن جس ذات پاک نے ان کو عقل اور فہم دی ہے اس کو وحدہ لا شریک ماننے پر تیار نہیں اور اس کے بھیجے ہوئے دین کو قبول کرنے سے پرہیز کرتے ہیں ان کی عقلیں چونکہ ان کے حق میں مضر ہیں اس لیے یہ لوگ بےعقل ہونے کے درجہ میں ہیں پھر اولوا الْاَلْبَابِ (عقل والوں) کی چندصفات بیان فرمائیں جن سے وہ ایمان قبول کرنے کے بعد متصف ہوئے پہلی اور دوسری صفت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (اَلَّذِیْنَ یُوْفُوْنَ بِعَھْدِ اللّٰہِ وَلَا یَنْقُضُوْنَ الْمِیْثَاقَ ) کہ یہ لوگ اللہ کے عہد کو پورا کرتے ہیں اور عہد کو توڑتے نہیں ہیں ‘ اللہ سے جو عہد کئے ان میں سے ایک عہد تو وہی ہے جس کا سورة اعراف میں ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی ساری ذریت کو ان کی پشت سے نکالا جو چھوٹی چیونٹیوں کی طرح تھے پھر ان سے عہد لیا اور سوال فرمایا (اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ ) (کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں) سب نے جواب میں عرض کیا بلٰی ہاں آپ ہمارے رب ہیں یہ وعدہ وادی نعمان میں عرفات کے قریب لیا گیا تھا (کما فی المشکوٰۃ ص 124 از مسند احمد) اس وقت سب نے یہ عہد کرلیا تھا پھر عہد کی یاد دہانی کے لیے حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) تشریف لاتے رہے ‘ ہر شخص کا اپنا عہد الگ الگ بھی ہے جس نے دین اسلام کو اپنا دین بنا لیا اس نے اللہ تعالیٰ سے یہ عہد کرلیا کہ میں آپ کے حکموں پر چلوں گا اور آپ کی فرماں برداری کروں گا یہ عہد تمام احوال اور اعمال سے متعلق ہے اللہ کی شریعت کے مطابق سب پر لازم ہے سورة نحل میں فرمایا (وَاَوْفُوْا بِعَھْدِ اللّٰہِ اِذَا عَاھَدْتُمْ ) (اللہ کے عہد کو پورا کرو جبکہ تم نے عہد کرلیا) پھر اولو الالباب کی تیسری صفت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (وَالَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ مَا اَمَرَ اللّٰہُ بِہٖ اَنْ یُّوْصَلَ ) (اور وہ لوگ اس چیز کو جوڑتے ہیں جس کو جوڑ رکھنے کا اللہ نے حکم دیا) صلہ رحمی کرنا اور اہل ایمان سے دوستی رکھنا اور ایمان باللہ کا جو تقاضا ہے اس کے مطابق مخلوق کے ساتھ معاملہ کرنا اس میں یہ سب داخل ہے۔ (صلح رحمی کی فضیلت اور قطع رحمی کی مذمت جاننے کے لیے سورة نساء کے پہلے رکوع کی تفسیر کا مطالعہ کیجئے) ۔ (انوار البیان جلد اول) اولو الالباب کی چوتھی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا (وَیَخْشَوْنَ رَبَّھُمْ ) (کہ وہ اپنے رب سے ڈرتے ہیں) اور پانچویں صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا (وَیَخَافُوْنَ سُوْءَ الْحِسَابِ ) (کہ یہ لوگ برے حساب سے ڈرتے ہیں) اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا اور اس بات کا خوف لگا رہنا کہ قیامت کے دن حساب ہوگا اس سے ایمان میں جلا پیدا ہوتی ہے اور ایمانی تقاضوں کے مطابق عمل کرنا آسان ہوجاتا ہے حساب دو قسم کا ہے حساب یسیر (آسان حساب) اور حساب عسیر (سخت حساب) سخت حساب کو سوء الحساب سے تعبیر فرمایا اور سورة انبیاء میں فرمایا (وَنَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیَامَۃِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْءًا وَّاِنْ کَان مِثْقَالَ حَبَّۃٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَیْنَا بِھَا) (اور قیامت کے روز ہم میزان عدل قائم کریں گے سو کسی پر اصلاً ظلم نہ ہوگا اور اگر عمل رائی کے دانہ کے برابر بھی ہوگا تو ہم اس کو حاضر کردیں گے) حضرت عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ حساب یسیر (آسان حساب) کیا ہے آپ نے فرمایا کہ آسان حساب یہ ہے کہ اعمالنامہ میں دیکھ کر در گزر کردیا جائے ‘ اے عائشہ جس سے مناقشہ کیا گیا یعنی چھان بین کی گئی (کہ یہ عمل کیوں کیا مثلاً ) تو وہ ہلاک ہوجائے گا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 447۔ مسند احمد) (اُولُوا الْاَلْبَابِ ) کی چھٹی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا (وَالَّذِیْنَ صَبَرُوا ابْتِغَاءَ وَجْہِ رَبِّھِمْ ) (اور وہ لوگ جنہوں نے اپنے رب کی رضا حاصل کرنے کے لیے صبر کیا) پہلے بتایا جا چکا ہے کہ صبر کا اطلاق تین چیزوں پر ہوتا ہے مصیبتوں پر صبر کرنا (یہی معنی زیادہ معروف ہے) نیکیوں اور فرماں برداریوں پر جما رہنا اور ثابت قدم رہنا تیسرے اپنے نفس کو گناہوں سے بچائے رکھنا تینوں قسم کے صبر کا بڑا اجر وثواب ہے اس دنیا کا یہ مزاج ہے کہ تکلیفوں کے بغیر اس میں گزارہ ہو ہی نہیں سکتا مومن اور کافر سب کو تکلیف پہنچتی ہے اور سب کو صبر کرنا پڑتا ہے لیکن مومن چونکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کرنے کے لیے صبر کرتا ہے اس لیے اسے اس پر ثواب ملتا ہے ‘ سورة زمر میں فرمایا (اِنَّمَا یُوَفَّی الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَھُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ ) (صبر کرنے والوں کو ان کا صلہ بیشمار ہی ملے گا) ۔ وقت گزرنے پر تکلیف ہلکی ہوجاتی ہے اور صبر آ ہی جاتا ہے یہ ایک طبعی چیز ہے اس صبر پر کوئی ثواب نہیں ملتا صبر وہی معتبر ہے جو عین دکھ تکلیف اور مصیبت کے وقت ہو اور اللہ کی رضا کے لیے ہو ‘ اور یہ خاص مومن ہی کی شان ہے صبر کی فضیلت اور اہمیت جاننے کے لیے آیت کریمہ (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ ) کی تفسیر (انوار البیان ج 1) ملاحظہ فرمائیے ‘ جس نے مصیبت اٹھائی اور صبر نہیں کیا یا صبر کیا مگر اللہ کے لیے نہ کیا وہ بڑے خسارہ میں ہے انما المصاب من حرم الثواب (واقعی مصیبت زدہ وہ ہے جسے تکلیف بھی پہنچی اور ثواب بھی نہ ملا) ۔ (اُولُوا الْاَلْبَابِ ) کی ساتویں صفت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔ (وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ ) (ان لوگوں نے نماز کو اس کے حقوق اور شرائط وآداب کے ساتھ قائم کیا) اور آٹھویں صفت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ سِرًّا وَّعَلَانِیَۃً ) (ان لوگوں نے ہمارے دئیے ہوئے مالوں میں سے پوشیدہ طور پر اور ظاہری طور پر خرچ کیا) اس میں فرض زکوٰۃ صدقات واجبہ ‘ تبرعات وتطوعات ‘ سب داخل ہوگئے (سِرًّا وَّعَلاَنِیَۃً ) فرما کر یہ بتادیا کہ کبھی پوشیدہ طور پر خرچ کرنے کی فضیلت ہوتی ہے اور کبھی ظاہری طور پر خرچ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ‘ حسب موقع اللہ کی رضا کے لیے مال خرچ کیا جائے جب اللہ کی رضا مقصود ہوگی تو لوگوں کے سامنے خرچ کرنے میں بھی کچھ حرج نہ ہوگا کیونکہ ریا کاری اور اللہ کی رضا جوئی دونوں جمع نہیں ہوسکتے ‘ جب اللہ کی رضا مقصود ہوگی تو لوگوں کے سامنے عمل کرنا کچھ مضر نہیں ہوگا۔ (اُولُوا الْاَلْبَابِ ) کی نویں صفت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (وَیَدْرَءُوْنَ بالْحَسَنَۃِ السَّیِّءَۃَ ) (کہ یہ لوگ حسن سلوک کے ذریعہ بد سلوکی کو دفع کرتے ہیں) دنیا میں جب انسان آیا ہے تو اس کا اچھوں سے بھی واسطہ پڑتا ہے اور برے لوگوں سے بھی ‘ جن لوگوں کو اخلاق حسنہ نہیں سکھائے گئے اور جن کے مزاج میں کمینہ پن اور گناہ گاری اور ایذاء رسانی ہوتی ہے ان سے اہل خیر کو اور حسن اخلاق والوں کو تکلیفیں پہنچتی رہتی ہیں ‘ جس کسی نے کوئی تکلیف پہنچائی اس کا بدلہ لینا بس اسی قدر جائز ہے جتنی تکلیف پہنچائی ہے لیکن بدلہ نہ لینا ‘ معاف کرنا ‘ درگزر کرنا اور اس سے آگے بڑھ کر برائی سے پیش آنے والے کے ساتھ اچھائی سے پیش آنا اور اس کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ کرنا یہ بہت بڑی فضیلت اور ہمت کی بات ہے۔ سورة شوریٰ میں فرمایا (وَجَزَاءُ سَیِّءَۃٍ سَیِّءَۃٌ مِّثْلُھَا فَمَنْ عَفَا وَاَصْلَحَ فَاَجْرُہٗ عَلَی اللّٰہِ اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ ) (اور برائی کا بدلہ برائی ہے ویسی ہی پھر جو شخص معاف کر دے اور اصلاح کرے تو اس کا ثواب اللہ کے ذمہ ہے واقعی اللہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں کرتا) نیز فرمایا (وَلَمَنْ صَبَرَ وَغَفَرَاِنَّ ذٰلِکَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ ) (اور جو شخص صبر کرے اور معاف کر دے یہ البتہ بڑے ہمت کے کاموں میں سے ہے) ۔ سورة حم سجدہ میں فرمایا (وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَۃُ وَلَا السَّیِّءَۃُ اِدْفَعْ بالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ) (اور نیکی اور برائی برابر نہیں ہوتی آپ نیک برتاؤ سے ٹال دیا کیجئے پھر یکایک آپ میں اور جس شخص میں عداوت تھی وہ ایسا ہوجائے گا جیسا کوئی دلی دوست ہوتا ہے) ۔ رسول اللہ ﷺ اسی پر عمل فرماتے تھے در گزر فرماتے تھے ‘ معاف فرماتے تھے ‘ بدسلوکیوں کا بدلہ خوش اخلاقی سے دیتے تھے جب مکہ معظمہ فتح فرما لیا تو وہاں کے رہنے والوں سے (جنہوں نے آپ کو بڑی بڑی تکلیف دے کر مکہ معظمہ چھوڑنے پر مجبور کردیا تھا) درگزر فرمایا اور فرمایا (لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ ) آج تم پر کوئی ملامت نہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ یا اللہ آپ کے بندوں میں آپ کے نزدیک سب سے زیادہ عزت والا کون ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو قدرت ہوتے ہوئے معاف کر دے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 434 از بیہقی فی شعب الایمان) (اُولُوا الْاَلْبَابِ ) کی صفات بیان کرنے کے بعد ان کو خوشخبری دی اور ان کے لیے آخرت کی نعمتوں کا وعدہ فرمایا اول تو یوں فرمایا (اُولٰءِکَ لَھُمْ عُقْبَی الدَّارِ ) ان لوگوں کے لیے آخرت میں اچھا انجام ہے (جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَھَا) ان کے اعمال کا یہ نتیجہ اور انجام کی خوبی اس طرح ظاہر ہوگی کہ یہ لوگ باغیچوں میں رہیں گے جن میں ہمیشہ رہنا ہوگا۔ نیز یہ بھی فرمایا کہ نہ صرف یہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے بلکہ ان کے باپ دادوں میں اور ان کی بیویوں میں اور ان کی اولاد میں جو بھی جنت میں داخل ہوجائیں گے اپنے بڑوں اور چھوٹوں اور بیویوں کو جنت میں دیکھ کر خوشی دوبالا ہوگی اور فرحت پر فرحت حاصل ہوگی۔ بعض مفسرین نے آیت کا یہ مطلب بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰکے فضل سے نیک بندوں کو جنت میں جو مقام اور مرتبہ ملے گا اللہ تعالیٰ وہی درجہ ان کی رعایت فرماتے ہوئے ان کے متعلقین کو بھی عطاء فرما دے گا جس کا آیت میں ذکر ہے ‘ بعض حضرات نے اباءھم کے عموم میں ماؤں کو بھی داخل کیا ہے جیسا کہ صاحب روح المعانی نے لکھا ہے پھر فرمایا (وَالْمَلٰءِکَۃُ یَدْخُلُوْنَ عَلَیْھِمْ مِّنْ کُلِّ بَابٍ ) (فرشتے ہر دروازے سے ان کے پاس آئیں گے) (سَلاَمٌ عَلَیْکُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ ) اور یوں کہیں گے کہ دنیا میں جو تم نے صبر کیا اس کے عوض تم دکھ تکلیف اور مصیبت سے محفوظ رہو گے ہمیشہ تمہارے لیے سلامتی ہے (فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ ) سو اس جہان میں اچھا انجام ہے ‘ دنیا والے گھر میں ایمان اور اعمال صالحہ کو اختیار کیا تو اس کے عوض اس جہاں میں بہترین عیش اور آرام نصیب ہوگا۔
Ayahs 13:20–25

الَّذِیْنَ یُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ لَا یَنْقُضُوْنَ الْمِیْثَاقَۙ Open ayah 13:20 in the Quran reader

جو اللہ کے عہد کو پورا کرتے ہیں اور عہد کو نہیں توڑتے۔

وَ الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَ یَخَافُوْنَ سُوْٓءَ الْحِسَابِؕ Open ayah 13:21 in the Quran reader

اور جو اس چیز کو جوڑے رکھتے ہیں جس کے جوڑے رکھنے کا اللہ نے حکم دیا۔ اور اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔ اور برے حساب کا اندیشہ رکھتے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ صَبَرُوا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً وَّ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِۙ Open ayah 13:22 in the Quran reader

اور جنہوں نے اپنے رب کی رضا حاصل کرنے کیلئے صبر کیا اور نمازوں کو قائم کیا اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے پوشیدہ طور پر اور ظاہری طریقے پر خرچ کیا اور حسن سلوک کے ذریعے بد سلوکی کو دفع کرتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کیلئے آخرت کا اچھا انجام ہے ہمیشہ رہنے والے باغ ہیں جن میں وہ داخل ہوں گے۔

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یَدْخُلُوْنَ عَلَیْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍۚ Open ayah 13:23 in the Quran reader

اور ان کے باپ دادوں اور بیویوں اور اولاد میں جو لائق ہوں گے وہ بھی ان میں داخل ہوں گے۔ اور ان پر ہر دروازہ سے فرشتے داخل ہوں گے

سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِؕ Open ayah 13:24 in the Quran reader

جو یوں کہیں گے کہ تم نے جو صبر کیا اس کے بدلہ تم پر سلام ہو۔ سو اس جہاں میں اچھا انجام ہے۔

وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ۙ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ Open ayah 13:25 in the Quran reader

اور جو لوگ مضبوط کرنے کے بعد اللہ کے عہد کو توڑتے ہیں اور اللہ نے جس چیز کو جوڑنے کا حکم دیا اسے کاٹتے ہیں اور زمین میں فساد کرتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کیلئے لعنت ہے اور آخرت میں بد حالی ہے۔

یہاں تک چھ آیتوں کا مضمون بیان ہوا تھا ساتویں آیت میں اہل ایمان کے مقابل دوسری جماعتوں کا حال اور انجام بیان فرمایا ‘ ارشاد ہے (وَالَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَھْدَ اللّٰہِ مِنْ م بِعْدِ مِیْثَاقِہٖ ) (الایۃ) مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں نے اللہ سے عہد کیا پھر اس پر قائم نہ رہے عہد کو توڑ دیا اور اللہ نے جن چیزوں کو جوڑنے کا حکم دیا تھا انہیں توڑتے رہے اور زمین میں فساد کرتے رہے یہ لوگ پہلے گروہ کے برعکس ملعون ہیں ان پر اللہ کی لعنت ہے اور ان کے لیے آخرت میں برا انجام ہے۔
Ayah 13:26

اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ وَ فَرِحُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا مَتَاعٌ۠ Open ayah 13:26 in the Quran reader

اور اللہ جس کیلئے چاہتا ہے رزق کشادہ فرما دیتا ہے اور جس کیلئے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے۔ اور وہ لوگ دنیاوی زندگی پر اترار ہے ہیں حالانکہ دنیا والی زندگی آخرت کے مقابلہ میں بس ایک ذرا سی کام آنے والی چیز ہے۔

دنیاوی سازو سامان پر اترانا بےوقوفی ہے : آٹھویں آیت میں فرمایا (اَللّٰہُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَاءُ وَیَقْدِرُ ) اور اللہ رزق کو کشادہ فرماتا ہے جس کے لیے چاہے اور تنگ کرتا ہے جس کے لیے چاہے (دنیا میں رزق کی فراوانی اللہ کا مقبول بندہ ہونے کی دلیل نہیں ہے اور رزق کی تنگی اس بات کی دلیل نہیں کہ جس کا رزق تنگ ہو وہ اللہ کا مقبول بندہ نہ ہو ‘ لہٰذا کافر لوگ وسعت رزق سے دھوکہ نہ کھائیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ ہم سے راضی نہ ہوتا تو زیادہ مال ہمیں کیوں ملتا) (وَفَرِحُوْا بالْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا) اور کافر لوگ دنیا والی زندگی پر اترا رہے ہیں اور اسی پر فریفتہ ہیں (اور اس کی وجہ سے ایمان نہیں لاتے اور آخرت کی فکر نہیں کرتے) (وَمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَۃِالاَّمَتَاعٌ) (اور دنیا والی زندگی آخرت کے مقابلہ میں بس ذرا سی چیز ہے جس سے لوگ نفع حاصل کرتے ہیں) اس حقیر اور ذرا سی دنیا کے لیے ایمان سے محروم رہنا پھر اس محرومیت کے نتیجہ میں آخرت کی نعمتوں سے محروم رہنا اور دوزخ میں جانا بہت بڑی تباہی ہے اور بہت بڑی کامیابی سے محرومی ہے۔ سورة آل عمران میں فرمایا۔ (فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَ وَمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ ) (سو جو شخص دوزخ سے بچا دیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا سو وہ کامیاب ہوگیا اور دنیا والی زندگی دھوکہ کے سامان کے سوا کچھ نہیں) ۔ دنیا جس قدر بھی زیادہ ہوجائے وہ بہر حال آخرت کے مقابلہ میں بےحقیقت ہے کم ہے ہیچ در ہیچ ہے۔
Ayahs 13:27–28

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ اَنَابَۖۚ Open ayah 13:27 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا وہ کہتے ہیں کہ ان پر کوئی نشانی ان کے رب کی طرف سے کیوں نازل نہیں کی گئی۔ آپ فرما دیجئے بلاشبہ اللہ گمراہ کرتا ہے جس کو چاہے اور جو اس کی طرف رجوع ہو اسے اپنی طرف راہ دکھاتا ہے۔

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَئِنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُؕ Open ayah 13:28 in the Quran reader

جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کی یاد سے مطمئن ہوتے ہیں۔ خبردار اللہ کے ذکر سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کے ذکر سے قلوب کو اطمینان حاصل ہوتا ہے : جب سیدنا رسول اللہ ﷺ اہل مکہ کو توحید کی دعوت دیتے تھے اور وہ لوگ بار بار یوں کہتے تھے کہ ہمارے کہنے کے مطابق آپ کی نبوت کی نشانی ظاہر ہوجائے تو ہم ایمان لے آئیں گے قرآن مجید میں ان کی جاہلانہ بات کا جگہ جگہ تذکرہ فرمایا کہ وہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ ان کی طرف کوئی نشانی کیوں نازل نہیں کی گئی ‘ نشانیاں یعنی معجزات تو بہت تھے اور سب سے بڑا معجزہ قرآن ہی ہے جسے حق قبول کرنا ہو اس کے لیے یہی معجزات کافی تھے لیکن ضد اور عناد کی وجہ سے ایسی بات کرتے تھے ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں فرمایا کہ اے رسول ﷺ آپ ان سے فرما دیں کہ فرمائشی معجزے ظاہر کرنا میرے قبضہ قدرت کی بات نہیں ‘ اور اللہ تعالیٰ بھی اس بات کا پابند نہیں کہ تمہاری فرمائش کے مطابق معجزے بھیجے اور یہ بھی معلوم ہے کہ تمہیں حق قبول کرنا نہیں ہے لہٰذا معلوم ہوگیا کہ تم گمراہ ہی رہو گے اللہ تعالیٰ جسے چاہے گمراہ فرمائے۔ اور جو شخص اللہ کی طرف رجوع ہوتا ہے اللہ اسے اپنی طرف ہدایت دیتا ہے ‘ تم اس کی طرف رجوع ہونا نہیں چاہتے ‘ جب تمہارا یہ حال ہے تو گمراہی کے گڑھے میں گرتے چلے جاؤ گے۔ پھر فرمایا (اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَتَطْمَءِنُّ قُلُوْبُِھُمْ بِذِکْرِ اللّٰہِ ) (جو لوگ ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کی یاد سے مطمئن ہوگئے) یہ من اناب کی صفت ہے مطلب یہ ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اور اللہ کے ذکر سے ان کے دلوں کو اطمینان اور سکون حاصل ہوتا ہے یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ انہیں اپنی طرف راہ دکھاتا ہے ‘ یہ لوگ معجزوں کی فرمائش نہیں کرتے جو معجزات ظاہر ہوئے انہیں میں غورو فکر کر کے ایمان کی راہ پر آجاتے ہیں ان کے دل میں اللہ کی یاد سے سکون ہوتا ہے اور اطمینان حاصل ہوتا ہے ‘ اللہ کا ذکر سچے ایمان والوں کے قلوب کے مطمئن ہونے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے ‘ ایمان پر ان کا دل مطمئن ہے اور جب کبھی کسی سے اللہ کا ذکر سنتے ہیں یا خود ذکر کرتے ہیں (زبان سے یا دل سے) اس سب سے ان کے دلوں میں فرحت اور خوشی اور سکون و اطمینان کی لہریں دوڑ جاتی ہیں۔ پھر اہل ایمان اور اعمال صالحہ والوں کو خوشخبری دی اور فرمایا (طُوْبٰی لَھُمْ ) (ان کے لیے خوشحالی ہے اور عمدہ زندگی ہے) (وَحُسْنُ مَاٰبُ ) (اور اچھا انجام ہے) دنیا میں بھی ان کو حیات طیبہ اور سکون و آرام کی زندگی حاصل ہے اور آخرت میں بھی ان کے لیے اچھا ٹھکانا ہے۔ یہاں صاحب معالم التنزیل نے ایک سوال اٹھایا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس آیت میں تو فرمایا کہ اللہ کے ذکر سے دل مطمئن ہوتے ہیں اور سورة انفال میں فرمایا ہے کہ مومنین کے دل اللہ کے ذکر کے وقت ڈر جاتے ہیں۔ (اِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُھُمْ ) بیک وقت اطمینان اور خوف کیسے حاصل ہوگا ؟ پھر جواب دیا ہے کہ ہر حالت کا موقع الگ الگ ہے وعید اور عذاب کا تذکرہ ہو تو ڈر جاتے ہیں اور ثواب کا تذکرہ ہو تو اطمینان حاصل ہوتا ہے ‘ احقر کے نزدیک سوال وارد ہی نہیں ہوتا کیونکہ خوفزدہ ہونا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے اور ایمان ہی اصل سکون ہے جسے ایمانیات کے سچا ہونے پر اطمینان نہ ہوگا وہ مومن ہی نہ ہوگا اور جب مومن نہ ہوگا تو عقاب اور وعیدوں سے ڈرے گا کیوں ؟ فافھم واغتنم اس کے بعد نبی اکرم ﷺ سے خطاب فرمایا کہ ہم نے آپ کو ایسی امت میں رسول بنا کر بھیجا ہے جس سے پہلے بہت سی امتیں گزر چکی ہیں ‘ ہم نے آپ کو اس لیے بھیجا ہے کہ آپ ان پر ہماری کتاب تلاوت فرمائیں یعنی پڑھ کر سنائیں ‘ اور حال یہ ہے کہ وہ لوگ رحمن کی ناشکری کرتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے تو اپنی رحمت سے ان پر قرآن نازل فرمایا لیکن اس نعمت کا شکر ادا کرنے کے بجائے ناشکری پر اتر آئے اور ناشکری کی وجہ سے کافر ہی رہے اور جانتے بوجھتے کفر اختیار کیا یہ سخت گمراہی کی بات ہے۔
Ayahs 13:29–30

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوْبٰى لَهُمْ وَ حُسْنُ مَاٰبٍ Open ayah 13:29 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان کیلئے خوشحالی ہے اور اچھا ٹھکانہ ہے۔

كَذٰلِكَ اَرْسَلْنٰكَ فِیْۤ اُمَّةٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَاۤ اُمَمٌ لِّتَتْلُوَاۡ عَلَیْهِمُ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ هُمْ یَكْفُرُوْنَ بِالرَّحْمٰنِ١ؕ قُلْ هُوَ رَبِّیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ مَتَابِ Open ayah 13:30 in the Quran reader

اسی طرح ہم نے اپ کو ایسی امت میں بھیجا جس سے پہلے بہت سی امتیں گزر چکی ہیں تاکہ آپ انہیں وہ چیز پڑھ کر سنائیں جو ہم نے آپ کی طرف وحی کی ہے۔ اور وہ رحمن کے منکر ہو رہے ہیں۔ آپ فرما دیجئے وہ میرا رب ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں میں نے اس پر بھروسہ کیا اور اسی کی طرف میرا رجوع ہونا ہے۔

پھر فرمایا (قُلْ ھُوَ رَبِّیْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ ) (آپ فرما دیجئے کہ وہ میرا رب ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں) تم نے اگر میری بات نہ مانی تو میرا کچھ بگڑنے والا نہیں (عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَاِلَیْہَ مَتَابُ ) (میں نے صرف اسی پر بھروسہ کیا اور اسی کی طرف میرا رجوع کرنا ہے) جو اس کی حفاظت میں ہے بس وہی محفوظ ہے۔
Ayah 13:31

وَ لَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُیِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْاَرْضُ اَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتٰى١ؕ بَلْ لِّلّٰهِ الْاَمْرُ جَمِیْعًا١ؕ اَفَلَمْ یَایْئَسِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا تُصِیْبُهُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَةٌ اَوْ تَحُلُّ قَرِیْبًا مِّنْ دَارِهِمْ حَتّٰى یَاْتِیَ وَعْدُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠ Open ayah 13:31 in the Quran reader

اور اگر قرآن ایسا ہوتا جس کی وجہ سے پہاڑ چلا دئیے جاتے یا اس کے ذریعہ زمین کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے جاتے یا اس کے ذریعہ مردوں سے بات کرا دی جاتی تب بھی یہ لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ بلکہ تمام امور اللہ ہی کے لیے ہیں۔ کیا اہل ایمان ناامید نہیں ہوئے حالانکہ یہ جانتے ہیں کہ اللہ چاہتا تو سب لوگوں کو ہدایت دے دیتا۔ اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے اعمال بد کی وجہ سے انہیں برابر کوئی نہ کوئی مصیبت پہنچتی رہے گی یا ان کے مکانوں کے قریب مصیبت نازل ہوجائے گی یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آجائے بلاشبہ اللہ وعدہ خلافی نہیں فرماتا۔

معاندین فرمائشی معجزات ظاہر ہونے پر بھی ایمان لانے والے نہیں ہیں : صاحب معالم التنزیل (ص 19 ج 2) لکھتے ہیں کہ یہ آیت مشرکین مکہ کے ایک سوال پر نازل ہوئی ‘ عبد اللہ بن ابی امیہ اور ابوجہل ایک دن رسول اللہ ﷺ سے کہنے لگے کہ اگر آپ کی خوشی اس میں ہے کہ ہم آپ کا اتباع کرلیں تو اس قرآن کے ذریعہ مکہ کے پہاڑوں کو ان کی جگہ سے ہٹا کر اور کہیں بھجوا دیں تاکہ مکہ کی سر زمین کشادہ ہوجائے اور مکہ کی سر زمین پھٹ جائے اور اس میں نہریں اور چشمے جاری ہوجائیں تاکہ ہم اس میں درخت لگائیں اور کھیتیاں بوئیں اور ہم باغات مل جائیں ‘ آپ کا کہنا ہے کہ داود ( علیہ السلام) کے لیے پہاڑ مسخر کر دئیے گئے تھے اور سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ہوا مسخر کردی گئی تھی لہٰذا ہمارے لیے بھی ہوا کی تسخیر ہوجائے تو دن کے دن چلے جائیں اور واپس آجائیں آپ کا یہ بھی فرمانا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) مردوں کو زندہ کرتے تھے لہٰذا آپ اپنے پر دادا کو یا جس کو آپ مناسب جانیں زندہ کردیں ہم اس سے آپ کے بارے میں دریافت کریں گے کہ آپ کا دین حق ہے یا باطل ؟ آپ کی حیثیت حضرت داؤد ‘ سلیمان اور عیسیٰ سے کم نہیں ہے آپ اپنے رب سے سوال کریں کہ ان چیزوں کو ظاہر فرمائے اگر یہ چیزیں وجود میں آجائیں تو ہم ایمان لے آئیں گے ‘ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے جواب میں یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ ان کی فرمائش کے مطابق معجزہ ظاہر ہوجائے تب بھی یہ ایمان لانے والے نہیں ہیں ان کی یہ سب باتیں عناد کے طور پر ہیں جیسا کہ سورة انعام میں فرمایا کہ (وَلَوْ اَنَّنَا نَزّٰلْنَا اِلَیْھِمُ الْمَلٰءِکَۃَ وَکَلَّمَھُمُ الْمَوْتٰی وَحَشَرْنَا عَلَیْھِمْ کُلَّ شَیْءٍ قُبُلًا مَّا کَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا اِلَّا اَنْ یَّشَاء اللّٰہُ ) ۔ مفسرین کرام نے (وَلَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا) کی جزا محذوف بتائی ہے اور وہ (کفروا بالرَّحمٰن ولم یومنوا) ہے یعنی اگر ان کی فرمائش کے مطابق معجزے ظاہر کر دئیے جائیں تب بھی کفر اختیار کیے رہیں گے اور ایمان نہیں لائیں گے۔ (بَلْ لِّلّٰہِ الْاَمْرُ جَمِیْعًا) (بلکہ تمام امور اللہ ہی کے لیے ہیں) یعنی ان کے مطالبات کو پورا کرنا نہ کرنا سب اللہ کی مشیت پر موقوف ہے وہ اپنی حکمت کے مطابق جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے وہ کسی کا پابند نہیں کہ لوگوں کی فرمائش کے مطابق معجزے ظاہر فرمائے۔ اس کے بعد فرمایا (اَفَلَمْ یَایْءَسِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَنْ لَّوْ یَشَآء اللّٰہُ لَھَدی النَّاسَ جَمِیْعًا) صاحب معالم التنزیل لکھتے ہیں کہ صحابہ کرام ؓ نے جب مشرکین کے مطالبات سنے کہ فلاں فلاں معجزہ ظاہر ہوجائے تو انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ یہ معجزات ظاہر ہوجاتے تو اچھا تھا تاکہ یہ لوگ اسلام قبول کرلیتے ان کے جواب میں فرمایا کہ اہل ایمان ان لوگوں کی ضدو عناد دیکھ کر ان لوگوں کے ایمان لانے سے ناامید نہیں ہوئے اگر ناامید ہوجاتے تو ایسی آرزو نہ کرتے ‘ ظہور معجزات پر ہدایت موقوف نہیں اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے وہ جو کچھ کرتا ہے حکمت کے مطابق کرتا ہے۔ چاہے تو سارے انسانوں کو ہدایت دے دے ‘ (وَفِی الکلام حذف ای اَفَلَمْ یَیْءَسِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَن ایمانھم عالمین مستیقنین اَن لَّوْ یَشَاء اللّٰہُ لَھَدی النَّاسَ جَمِیْعًا) ۔ (وَلَا یَزَالُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا تُصِیْبُھُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَۃٌ اَوْ تَحُلُّ قَرِیْبًا مِّنْ دَارِھِمْ ) (اور جن لوگوں نے کفر کیا برابران کے اعمال بد کی وجہ سے کوئی نہ کوئی مصیبت پہنچتی رہے گی یا ان کے مکانوں کے قریب مصیبت نازل ہوجائے گی) ۔ مشرکین مکہ کے مطالبات منظور نہیں کئے گئے اور ان کے فرمائشی معجزات ظاہر نہیں ہوئے کیونکہ اول تو ان کو ایمان لانا ہی نہیں صرف ضد اور عناد کی وجہ سے ایسی باتیں کرتے ہیں دوسرے اللہ تعالیٰ کسی کا پابند نہیں جو لوگوں کی مرضی کے مطابق تخلیق فرمائے ہاں ان پر ان کی حرکتوں کی وجہ سے آفات اور مصائب آتی رہیں گی ‘ اہل مکہ قحط میں مبتلا ہوئے پھر غزوہ بدر میں ان کے بڑے بڑے سردار مقتول ہوئے ان پر اس طرح کی آفات آتی ہی رہیں گی ‘ خاص ان پر مصیبت نہ آئی تو ان کی قریب والی بستیوں میں مصیبتیں آتی رہیں گی تاکہ عبرت حاصل ہو اور اپنے انجام کے بارے میں غور وفکر کریں (حَتّٰی یَأْتِیَ وَعْدُ اللّٰہِ ) (یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ آجائے) بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے فتح مکہ مراد ہے ‘ اور بعض حضرات نے اس سے موت اور بعض حضرات نے روز قیامت مراد لیا ہے ‘ یعنی یہ سلسلہ عذابوں اور مصیبتوں کا جاری رہے گا یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آجائے یعنی مکہ فتح ہوجائے جس میں مشرکین مغلوب اور مقہور ہوں گے یا ان میں سے ہر شخص کو موت آجائے۔ اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ فرمایا ہے وہ پورا ہو کر رہے گا۔ (اِنَّ اللّٰہَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ ) (بےشک اللہ تعالیٰ وعدہ خلافی نہیں فرماتا) معلوم ہوا کہ اپنے اوپر جو مصیبت آئے اسے بھی عبرت کی نظر سے دیکھیں اور اپنے کئے کا نتیجہ سمجھ کر اپنی حالت کو بدلیں اور اگر آس پاس کی بستیوں اور شہروں پر کوئی مصیبت نازل ہوجائے تو اس سے بھی عبرت حاصل کریں کیونکہ اس میں بھی سب کے لیے تنبیہ ہوتی ہے۔
Ayah 13:32

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَمْلَیْتُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ Open ayah 13:32 in the Quran reader

اور بہت سے پیغمبر جو آپ سے پہلے گزر چکے ہیں بلاشبہ ان کا مذاق بنایا گیا پھر میں نے ان لوگوں کو مہلت دی جنہوں نے کفر کیا۔ پھر میں نے ان کو پکڑ لیا سو میرا عذاب دینا کیسا تھا ؟

رسول اللہ ﷺ کو تسلی ‘ کافروں کی بد حالی ‘ متقیوں سے جنت کا وعدہ : یہ متعدد آیات ہیں ‘ پہلی آیت میں رسول اللہ ﷺ کو خطاب فرمایا کہ آپ سے پہلے بھی رسول بھیجے گئے اور ان کا بھی مذاق بنایا گیا اس میں آپ کو تسلی دی ہے اور مطلب یہ ہے کہ جو کچھ آپ کے ساتھ ہو رہا ہے یہ نئی چیز نہیں ہے آپ سے پہلے جو رسول آئے ان کی امتوں نے ان کے ساتھ تکذیب ‘ استہزاء اور مذاق بنانے کا وہی طریقہ اختیار کیا جو یہ لوگ اختیار کئے ہوئے ہیں ان حضرات نے صبر کیا آپ بھی صبر کریں ‘ ان لوگوں نے جو تکذیب کی اور رسولوں کا مذاق بنایا تو میں نے عذاب بھیجنے میں جلدی نہیں کی بلکہ ان کو مہلت دی اس مہلت سے وہ اور زیادہ بغاوت پر اتر آئے پھر میں نے ان کی گرفت کرلی اور اچھی طرح گرفت کی ان پر عذاب آیا ‘ اب تم خود خیال کرلو کہ میرا عذاب کیسا تھا ؟ (ان عذابوں کی تفصیلات قرآن مجید کی دوسری سورتوں میں مذکور ہیں) جب عذاب آیا تو ان کے بچنے کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا اور بھاگنے کی کوئی جگہ نہ تھی ‘ آپ بھی صبر کریں اور مذاق بنانے والوں کے بارے میں انتظار فرمائیں جب گرفت ہوگی تو یہ بھی اپنی جانوں کو بچا نہ سکیں گے۔ پھر فرمایا (اَفَمَنْ ھُوَ قَآءِمٌ عَلٰی کُلِّ نَفْسٍ م بِمَا کَسَبَتْ ) (کیا جو ذات ہر شخص کے اعمال پر مطلع ہو) اس میں ہمزہ استفہام انکاری کے لیے ہے اور مبتداء کی خبر محذوف ہے (قال صاحب الروح من مبتداء والخبر محذوف ‘ ای کمن لیس کذلک) مطلب یہ ہے کہ جو ذات علیم اور خبیر ہے جسے سب کے احوال و اعمال کا عمل ہے کیا اس کے برابر وہ ہوسکتے ہیں جنہیں کچھ بھی علم نہیں اور جو اپنے عبادت کرنے والوں کے حال سے واقف نہیں ‘ جب ان کا یہ حال ہے تو وہ نفع ضرر کے مالک کیسے ہوسکتے ہیں ‘ پھر ان کو خالق تعالیٰ شانہ کا شریک بنانا کہاں درست ہے ؟ خودہی ہر شخص کو سوچنا چاہئے ‘ غورو فکر کریں گے تو اپنی جہالت اور ضلالت کا فیصلہ خود کرلیں گے۔ (قُلْ سَمُّوْھُمْ ) یعنی جنہیں تم نے شریک بنایا ہے ان کا ذرا نام تو لو اور بتاؤ وہ کون ہیں ان کی حیثیت کیا ہے ان کے شرکاء کی تحقیر کے لیے ایسا فرمایا قال فی الروح ناقلا عن البحر ان المعنی انھم لیسوا ممن یذکر ویسمی انما یذکرو یسمی من ینفع ویضر (الی ان قال) والمعنی سواء سمیتموھم بذلک ام لم تسموھم بہ فانھم فی الحقارۃ بحیث لا یستحقون ان یلتفت الیھم عاقل ‘ مطلب یہ ہے کہ جن کو تم نے اللہ کا شریک بنایا ہے وہ ایسے حقیر ہیں کہ قابل ذکر ہی نہیں۔
Ayah 13:33

اَفَمَنْ هُوَ قَآئِمٌ عَلٰى كُلِّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ۚ وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ١ؕ قُلْ سَمُّوْهُمْ١ؕ اَمْ تُنَبِّئُوْنَهٗ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی الْاَرْضِ اَمْ بِظَاهِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ١ؕ بَلْ زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مَكْرُهُمْ وَ صُدُّوْا عَنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 13:33 in the Quran reader

سو جو ذات ہر شخص کے اعمال پر مطع ہو کیا اس کے برابر وہ ہوسکتا ہے جس کی یہ صفت نہ ہو۔ لوگوں نے اللہ کیلئے شریک تجویز کرلیے آپ فرما دیجئے کہ تم ان کے نام لو کیا تم اللہ کو اس چیز کی خبر دیتے ہو جسے وہ زمین میں نہیں جانتا یا محض ظاہری لفظ کے اعتبار سے۔ بلکہ کافروں کیلئے ان کا مکر مزین کردیا گیا اور وہ لوگ راستہ سے روک دئیے گئے۔ اور اللہ جسے گمراہ کرے سو اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں

(اَمْ تُنَبِّءُوْنَہٗ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی الْاَرِْضِ ) (کیا تم اللہ کو وہ بات بتا رہے ہو جس کو وہ زمین میں نہیں جانتا) مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی ساری مخلوق کا علم ہے تم زمین میں ہو اور اللہ کو چھوڑ کر جن کی عبادت کرتے ہو وہ بھی زمین میں ہیں اللہ کے علم میں تو اس کا کوئی بھی شریک نہیں ہے اور اس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں اب جب تم شرک کر رہے ہو اور غیر اللہ کو معبود بنا رہے ہو اس کا مطلب یہ ہوا کہ تم اللہ تعالیٰ کو یہ بتا رہے ہو کہ آپ کے لیے شریک بھی ہیں ‘ آپ کو ان کا پتہ نہیں ہم آپ کو بتا رہے ہیں (العیاذ باللہ) اس میں مشرکین کی جہالت اور ضلالت کو واضح فرمایا ہے۔ (اَمْ بِظَاھِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ ) یعنی تم جن لوگوں کو اللہ کا شریک قرار دے رہے ہو ‘ اس بارے میں تمہارے پاس کوئی حقیقت ہے یا یوں ہی محض ظاہری الفاظ میں ان کو شریک ٹھہراتے ہو ؟ غیر اللہ کے معبود ہونے کی کوئی دلیل تمہارے پاس نہیں ہے۔ صرف باتیں ہی باتیں اور دعوے ہی دعوے ہیں اور یہ سب کچھ زبانی ہے ‘ معبود بنانے کے لیے تو بہت بڑی تحقیق کی ضرورت ہے یوں ہی زبانی باتوں سے کسی کا معبود ہونا ثابت نہیں ہوسکتا۔ (بَلْ زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا مَکْرُھُمْ وَصَدُّوْا عَنِ السَّبِیْلِ ) (بلکہ کافروں کے لیے ان کا مکر مزین کردیا گیا اور راہ حق سے روک دئیے گئے) صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ مکر سے ان کا شرک اور گمراہی میں آگے بڑھتے چلے جانا اور باطل چیزوں کو اچھا سمجھنا مراد ہے ‘ ان کا یہ مکر انہیں راہ حق سے روکنے کا ذریعہ بن گیا۔ (وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنْ ھَادٍ ) (اور اللہ جسے گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں) (لَھُمْ عَذَابٌ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا) دنیا والی زندگی میں ان کے لیے عذاب ہے (وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَۃِ اَشَقُّ ) (اور البتہ آخرت کا عذاب زیادہ سخت ہے) (وَمَا لَھُمْ مِّنَ اللّٰہِ مِنْ وَّاقٍ ) اس میں کافروں کو تنبیہ ہے کہ دنیا میں تمہارے لیے طرح طرح کے عذاب ہیں اور صرف دنیا ہی میں عذاب نہیں بلکہ تمہارے لئے آخرت کا عذاب دنیا کے عذاب سے زیادہ سخت ہے اور اللہ تعالیٰ جسے عذاب میں مبتلا فرمانے کا ارادہ فرمائے دنیاوی عذاب ہو یا اخروی عذاب اس سے کوئی بچانے والا نہیں۔ اس کے بعد جنت کا تذکرہ فرمایا (مَثَلُ الْجَنَّۃِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ ) جس جنت کا اہل تقویٰ سے وعدہ کیا گیا (جو کفر و شرک اور معاصی سے بچتے ہیں) اس کا حال یہ ہے کہ اس کے نیچے نہریں جاری ہوں گی (اُکُلُھَا دَآءِمٌ وَّظِلُّھَا) (اس کے پھل ہمیشہ رہیں گے اور اس کا سایہ بھی) یعنی جنت میں جو پھل ملیں گے برابر ملتے رہیں گے پھل بھی ہمیشہ رہیں گے اور سایہ بھی ہمیشہ رہے گا وہاں چونکہ سورج کا طلوع غروب نہیں اس لیے یہ سایہ جو ہوگا ہمیشہ ہی رہے گا ‘ سورة نساء میں فرمایا (وَنُدْخِلُھُمْ ظِلَّا ظَلِیْلًا) اور سورة واقعہ میں فرمایا (وَفَاکِھَۃٍ کثِیْرَۃٍ لاَّ مَقْطُوْعَۃٍ وَّلَا مَمْنُوْعَۃٍ ) ۔
Ayahs 13:34–35

لَهُمْ عَذَابٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَقُّ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ Open ayah 13:34 in the Quran reader

۔ ان کے لئے دنیا والی زندگی میں عذاب ہے اور البتہ آخرت کا عذاب بہت زیادہ سخت ہے۔ اور انہیں کوئی اللہ سے بچانے والا نہیں۔

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ اُكُلُهَا دَآئِمٌ وَّ ظِلُّهَا١ؕ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ۖۗ وَّ عُقْبَى الْكٰفِرِیْنَ النَّارُ Open ayah 13:35 in the Quran reader

متقیوں سے جس جنت کا وعدہ کیا گیا اس کا حال یہ ہے کہ اس کے نیچے نہریں جاری ہوں گی ان کے پھل اور ان کا سایہ دائمی ہوگا یہ انجام ہے ان لوگوں کا جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا۔ اور کافروں کا انجام دوزخ ہے

پھر فرمایا (تِلْکَ عُقْبَی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَعُقْبَی الْکٰفِرِیْنَ النَّارُ ) (یہ انجام ہے ان لوگوں کا جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا اور کافروں کا انجام دوزخ ہے) ۔ اس کے بعد اہل کتاب میں سے ان لوگوں کی تعریف فرمائی جنہیں قبول حق سے عناد نہیں ہے (وَالَّذِیْنَ اٰتَیْنٰھُمُ الْکِتَابَ یَفْرَحُوْنَ بِمَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ ) (اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی وہ اس سے خوش ہوتے ہیں جو آپ کی طرف نازل لیا گیا) صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ اس سے وہ یہود و نصاریٰ مراد ہیں جنہوں نے اسلام قبول کرلیا تھا اس میں چالیس اشخاص نصاریٰ نجران میں سے تھے اور آٹھ یمن کے نصرانی تھے اور بتیس حبشہ کے لوگ تھے اسی طرح کچھ لوگ یہود میں سے بھی مسلمان ہوگئے تھے جیسے حضرت عبد اللہ بن سلام وغیرہ ؓ وعن جمیع الصحابہ۔
Ayah 13:36

وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مِنَ الْاَحْزَابِ مَنْ یُّنْكِرُ بَعْضَهٗ١ؕ قُلْ اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ وَ لَاۤ اُشْرِكَ بِهٖ١ؕ اِلَیْهِ اَدْعُوْا وَ اِلَیْهِ مَاٰبِ Open ayah 13:36 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی وہ اس کی وجہ سے خوش ہوتے ہیں جو آپ پر نازل کیا گیا۔ اور گروہوں میں بعض ایسے ہیں جو اس کے بعض حصے کا انکار کرتے ہیں۔ آپ فرما دیجئے مجھے تو بس یہ حکم ہوا ہے کہ اللہ کی عبادت کروں اور کسی چیز کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤں۔ میں اسی کی طرف بلاتا ہوں اور اسی کی طرف میرا لوٹنا ہے۔

پھر فرمایا (وَمِنَ الْاَحْزَابِ مَنْ یُّنْکِرُ بَعْضَہٗ ) (اور اہل کتاب کی بعض جماعتیں وہ ہیں جو قرآن کے بعض حصہ کے منکر ہو رہے ہیں) اس سے اہل کتاب کے معاندین مراد ہیں جو قرآن کریم کی ان چیزوں کو مان لیتے تھے جنہیں اپنے موافق سمجھتے تھے اور ان چیزوں کے منکر ہوجاتے تھے جو ان کے مزاج اور طبیعت کے خلاف ہوتی تھیں۔ (قُلْ اِنَّمَا اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰہَ وَلَا اُشْرِکَ بِہٖ ) (آپ فرما دیجئے کہ مجھے تو صرف یہ حکم ہوا ہے کہ اللہ کی عبادت کروں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کروں) یہ میرا دین ہے تم راضی ہو نہ ہو میں اللہ کی توحید پر اور اللہ کی عبادت پر قائم کروں (اِلَیْہِ اَدْعُوْا وَاِلَیْہِ مَاٰب) (میں اللہ ہی کی طرف بلاتا ہوں اور صرف اس کی طرف میرا لوٹنا ہے) وہی مجھے جزا دے گا جب اسی کی طرف جانا ہے اور وہی جزا دینے والا ہے تو میں تمہیں راضی رکھنے کی فکر کیوں کروں۔
Ayah 13:37

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ حُكْمًا عَرَبِیًّا١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا وَاقٍ۠ Open ayah 13:37 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے اس کو اس طور پر نازل کیا کہ عربی زبان میں خاص حکم ہے۔ اور اس کے بعد کہ آپ کے پاس علم آگیا اگر آپ نے ان کی خواہش کا اتباع کیا تو کوئی ایسا نہیں جو اللہ کے مقابلہ میں آپ کی مدد کرنے والا اور بچانے والا ہو۔

یہ قرآن کریم حکم خاص ہے عربی زبان میں ہے : پھر فرمایا (وَکَذٰلِکَ اَنْزَلْنٰہُ حُکْمًا عَرَبِیًّا) (اور اسی طرح ہم نے اس قرآن کو اس طور پر نازل کیا ہے کہ وہ خاص حکم عربی زبان میں ہے) اہل کتاب جو فروعی مسائل میں احکام اسلامیہ کو ان مسائل کے خلاف پاتے تھے جو انہیں شرائع سابقہ سے یاد تھے اور ان کی وجہ سے احکام قرآنیہ کا انکار کرتے تھے اس میں ان لوگوں کی تردید ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہم نے پہلے کتابیں نازل کیں اور ان میں از منہ سابقہ کے مخاطبین کے اعتبار سے احکام بھیجے پھر ان میں سے بہت سے احکام کو بعد میں آنے والی امتوں کے لیے منسوخ کردیا اور ان کی جگہ دوسرے احکام نازل کر دئیے اسی طرح ہم نے یہ قرآن نازل کیا ہے جس میں قرآن کے مخاطبین کی رعایت کی گئی ہے اور ایسے احکام دئیے گئے ہیں جو ان کے احوال کے مناسب ہیں اگر قرآن میں ایسے احکام پاتے ہو جو سابقہ شرائع کے موافق نہیں اور ان کی وجہ سے قرآن کی تکذیب کرتے ہیں تو یہ عادۃ اللہ سے اور شرائع سابقہ کے اصول سے جاہل ہونے پر بلکہ تجاہل پر مبنی ہے ‘ اللہ تعالیٰ کی نازل فرمودہ پہلی کتابوں میں شرائع کا اختلاف تھا اور وہ کتابیں مختلف زبانوں میں تھیں جس طرح ان کا فروعی اختلاف اور کئی زبانوں میں نازل ہونا ایک دوسرے کی تکذیب کا سبب نہ بنا تو اب قرآن جو عربی زبان میں نازل ہوگیا اور شرائع سابقہ کی بعض چیزیں اس نے منسوخ کردیں تو اس کو قرآن کی تکذیب کا ذریعہ کیوں بناتے ہو قرآن مجید کی تکذیب کرنا اور رسول اللہ ﷺ کی رسالت کا منکر ہونا سراپا ضلالت اور سفاہت ہے۔ قال صاحب الروح ج 13 ص 127 شروع فی رد انکارھم لفروع الشرائع الواردۃ ابتداء اوبدلا من الشرائع المنسوخۃ ببیان الحکمۃ فی ذلک وان الضمیر راحع لما انزل الیک والاشارۃ الی مصدر (انزلناہ) او (انزل الیک) ای مثل ذلک الانزال البدیع الجامع لاصول مجمع علیھا و فروع متشعبۃ الی موافقۃ و مخالفۃ حسبما یقتضیہ قضیۃ الحکمۃ انزلناہ حاکما یحکم فی القضایا والواقعات بالحق ویحکم بہ کذلک “ (الی ان قال) وقیل ان الاشارۃ الی انزال الکتاب السالفۃ علی الانبیاء علیھم السلام ‘ والمعنی کما انزلنا الکتب علی من قبل انزلنا ھذا الکتاب علیک لان قولہ تعالیٰ (والذین اتیناھم الکتاب) یتضمن انزالہ تعالیٰ ذالک وھذا الذی انزلنا بلسان العرب کما ان الکتب السابقۃ بلسان من انزلت علیہ (وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ لیبین لھم) والی ھذا ذھب الامام ابو حیان۔ پھر فرمایا (وَ لَءِنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَآءَ ھُمْ بَعْدَ مَا جَآءَ کَ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَکَ مِنَ اللّٰہِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا وَاقٍ ) (اور اگر آپ نے ان کی خواہشوں کا اتباع کیا تو کوئی ایسا نہیں جو اللہ کے مقابلہ میں آپ کی مدد کرنے والا اور بچانے والا ہو) اس میں بظاہر حضرت سرور عالم ﷺ کو خطاب ہے اور فی الواقع حضرات مومنین کو دین پر ثابت رہنے کی تلقین ہے اور بظاہر آپ کو یہ خطاب یہ بات واضح کرنے کے لیے کیا گیا ہے کہ جب بالفرض آپ دشمنوں کی خواہشوں کا اتباع کرنے میں ماخوذ ہوسکتے ہیں تو آپ کے علاوہ دوسرے لوگ بطریق اولیٰ ماخوذ ہوں گے۔ قال صاحب الروح (ص 168 ج 13) وامثال ھذہ القوارع انماھی لقطع اطماع الکفرۃ وتھییج المومنین علی الثبات فی الدین لا للنبی ﷺ فانہ (علیہ السلام) بمکان لا یحتاج فیہ الی باعث او مھیج ومن ھنا قیل ان الخطاب لغیرہ۔
Ayah 13:38

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ اَزْوَاجًا وَّ ذُرِّیَّةً١ؕ وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ لِكُلِّ اَجَلٍ كِتَابٌ Open ayah 13:38 in the Quran reader

اور یقینا ہم نے آپ سے پہلے بہت سے رسول بھیجے اور ہم نے ان کو بیویاں دیں اور ذریت بھی۔ اور کسی رسول کو یہ قدرت حاصل نہیں کہ کوئی آیت لے آئے الا یہ کہ اللہ کا حکم ہو۔ ہر زمانہ کیلئے لکھے ہوئے احکام ہیں۔

آپ ﷺ سے پہلے جو رسول بھیجے گئے وہ اصحاب ازواج و اولاد تھے ‘ کوئی رسول اس پر قادر نہیں کہ خود سے کوئی معجزہ ظاہر کر دے : روح المعانی (ص 168 ج 13) میں لکھا ہے کہ یہودیوں نے آنحضرت ﷺ پر اعتراض کیا کہ ان کی تو بہت سی بیویاں ہیں جو شخص نبی ہو ‘ اسے نبوت کے کاموں سے اتنی فرصت کہاں کہ بہت ساری بیویاں رکھے ‘ اللہ تعالیٰ شانہ نے جواب میں ان سے تو خطاب نہیں فرمایا لیکن اپنے نبی ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ آپ سے پہلے ہم نے رسول بھیجے ہیں اور ان کو ہم نے بہت سی بیویاں دی تھیں اور بیویاں ہی نہیں ان کے اولاد بھی تھی بیویوں کا زیادہ ہونا اور صاحب اولاد ہونا یہ چیز نہ نبوت کے خلاف ہے نہ کار ہائے نبوت سے معارض ہے ‘ یہودیوں کو حضرت داؤد اور حضرت سلیمان (علیہما السلام) کے بارے میں علم تھا کہ ان کی بہت سی بیویاں تھیں اور وہ ان کے بارے میں نبی ہونے کا بھی عقیدہ رکھتے تھے پھر بھی انہوں نے بطور عناد اعتراض کیا اور کثرت ازواج کو مرتبہ نبوت کے خلاف کہا اس سے انہیں مشرکین کو بھی دین اسلام سے روکنا مقصود تھا اور خود اپنے لئے کفر پر جمے رہنے کا بھی ایک بہانہ تلاش کرلیا ‘ قرآن مجید نے اس انداز سے ان کا جواب دے دیا کہ آئندہ جو بھی کوئی شخص ایسا جاہلانہ اعتراض کرے اپنے اعتراض کا مسکت جواب پالے ‘ بات یہ ہے کہ حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ کا کام قول سے بھی تعلیم دینا تھا اور عمل سے بھی ‘ اس لیے تو انسانوں کی طرف انسانوں کو نبی بنا کر بھیجا گیا ‘ نکاح کرنا انسانوں کی ضرورت کی چیز ہے جب نکاح ہوگا تو اولاد بھی ہوگی بیویوں کے ساتھ کس طرح گزارہ کیا جائے اور اولاد کی کس طرح تربیت کی جائے یہ سب باتیں بھی تو قولاً اور فعلاً بتانے اور سمجھانے کی ہیں ‘ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) اگر مجرد یعنی غیر شادی شدہ ہوتے تو ان کی امتیں ازواجی زندگی کے طریقے کس طرح سیکھتیں پھر سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ تو آخری رسول ہیں سارے انسانوں کے نبی ہیں آپ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں آپ کی تعلیمات انسانی زندگی کے ہر شعبہ پر حاوی ہیں خانگی حالات جاننے کی امت مسلمہ کو ضرورت تھی ان احوال کو حضرات ازواج مطہرات ؓ نے بیان کیا ‘ کثیر تعداد میں ان کی روایات کتب حدیث میں موجود ہیں ‘ اور یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ دلائل اور معجزات سے آنحضرت ﷺ کا رسول ہونا معلوم ہوگیا تو اس پر اعتراض ختم ہے کیونکہ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کسی ایسی چیز کا ارتکاب نہیں کرسکتے جس کی اللہ تعالیٰ نے اجازت نہ دی ہو۔ (وَ مَا کَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَۃٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰہِ ) (اور کسی رسول کو یہ قدرت حاصل نہیں کہ کوئی آیت لے آئے الا یہ کہ اللہ کا حکم ہو) اس میں لفظ ” آیت “ کے بارے میں بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس سے معجزہ مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ طرح طرح کے معجزات کی جو معاندین فرمائشیں کرتے ہیں ان معجزات کا لانا نبی کی قدرت اور دسترس میں نہیں ہے ہاں اللہ تعالیٰ کا اذن ہو تو معجزہ ظاہر ہوسکتا ہے معجزہ کی تخلیق اور اعجاز اسی کے قبضہ میں ہے۔ اگر کسی نبی سے لوگوں نے فرمائشی معجزہ طلب کیا اور وہ پیش نہ کرسکا تو یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ یہ اللہ کا نبی نہیں ‘ جو دلائل پیش کئے جا چکے ہیں اور جو معجزات ظاہر ہوچکے ہیں ان کے ہوتے ہوئے فرمائشی معجزات طلب کرنا محض ضد اور عناد تھا اور اللہ کے نبی کی تصدیق نہ کرنا یہ کفر ہے ‘ کوئی نبی بےدلیل اور بےمعجزہ نہیں گزرا اور فرمائشی معجزہ ظاہر کرنا اللہ تعالیٰ اس کے پابند نہیں ہیں۔ بعض حضرات نے لفظ ” آیۃ “ سے احکام مراد لیے ہیں اور مطلب یہ ہے کہ یہ جو کہتے ہو کہ احکام میں نسخ کیوں ہوا پہلی امتوں کے جو احکام تھے وہ پورے کے پورے اس امت کے لیے کیوں باقی نہ رکھے گئے یا اس امت کے لیے جو احکام جاری کئے گئے تھے ان کو بعد میں منسوخ کیا گیا اور ان کی جگہ دوسرا حکم کیوں آیا یہ جاہلانہ اعتراض ہے ‘ اللہ کا کوئی نبی اپنے پاس سے کوئی حکم نہیں لاسکتا اپنی حکمت کے موافق اللہ تعالیٰ احکام جاری فرما دیتا ہے پھر منسوخ فرما دیتا ہے نبی کو کوئی اختیار نہیں کہ اپنے پاس سے بدل دے یا منسوخ کر دے ‘ مخالفین جو یہ چاہتے ہیں کہ نبی ہماری مرضی کے مطابق حکم لائے یہ سفاہت اور ضلالت ہے ‘ سورة یونس میں فرمایا (قُلْ مَا یَکُوْنُ لِیْٓ اَنْ اُبَدِّ لَہٗ مِنْ تِلْقَآءِ نَفْسِیْ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰٓی اِلَیَّ ) ۔ (لِکُلِّ اَجَلٍ کِتَابٌ) (ہر زمانہ کے لئے لکھے ہوئے احکام ہیں) یعنی گزشتہ امتوں کو جو احکام دئیے گئے وہ بھی حکمت کے مطابق تھے اور ان کے احوال کے مناسب تھے اور اب جو اس امت کو احکام دئیے جا رہے ہیں وہ بھی حکمت کے مطابق ہیں اور ان کے حالات کے مناسب ہیں۔
Ayah 13:39

یَمْحُوا اللّٰهُ مَا یَشَآءُ وَ یُثْبِتُ١ۖۚ وَ عِنْدَهٗۤ اُمُّ الْكِتٰبِ Open ayah 13:39 in the Quran reader

اللہ مٹاتا ہے جو چاہتا ہے اور ثابت رکھتا ہے جو چاہتا ہے۔ اور اس کے پاس اصل کتاب ہے۔

اللہ جو چاہتا ہے محو فرماتا ہے اور جو چاہتا ہے ثابت رکھتا ہے : پھر فرمایا (یَمْحُوا اللّٰہُ مَا یَشَآءُ وَ یُثْبِتُ وَ عِنْدَہٗٓ اُمُّ الْکِتٰبِ ) (اللہ مٹاتا ہے جو چاہتا ہے اور ثابت رکھتا ہے جو چاہتا ہے اور اس کے پاس اصل کتاب ہے) صاحب روح المعانی نے اس آیت کے ذیل میں بہت کچھ لکھا ہے اور مفسرین کے مختلف اقوال جمع کئے ہیں پہلی بات تو یہ لکھی ہے ای ینسخ ما یشاء نسخہ من الاحکام لما تقتضیہ الحکمۃ بحسب الوقت ویثبت بدلہ ما فیہ الحکمۃ او یبقیہ علی حالہ غیر منسوخ او یثبت ما یشاء اثباتہ مطلقا اعم منھما ومن الانشاء ابتداء۔ یعنی اللہ تعالیٰ جن احکام کو چاہتا ہے منسوخ فرما دیتا ہے اور جن احکام کو چاہتا ہے ثابت رکھتا ہے منسوخ نہیں فرماتا ‘ یہ مضمون (لِکُلِّ اَجَلٍ کِتَابٌ) کی ایک تفسیر کے موافق ہے صاحب معالم التنزیل ص 22 ج 3 حضرت سعید بن جبیر اور حضرت قتادہ سے بھی یہ تفسیر نقل کی ہے۔ وقالو یمحوا اللہ ما یشاء من الشرائع والفرائض فینسخہ ویبدلہ ویثبت ما یشاء منھا فلا ینسخہ پھر صاحب روح المعانی نے حضرت عکرمہ سے نقل کیا ہے یمحوا بالتوبۃ جمیع الذنوب ویثبت بدل ذلک حسنات یعنی اللہ تعالیٰ توبہ کرنے کی وجہ سے بندوں کے تمام گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے اور ان کے بدلہ نیکیاں لکھ دیتا ہے اور حضرت ابن عباس ؓ اور ضحاک سے نقل کیا ہے یمحوا من دیوان الحفظۃ ما لیس بحسنۃ ولا بسیءۃ لانھم مامورون بکتب کل قول وفعل ویثبت ما ھو حسنۃ او سیءۃ مطلب یہ ہے کہ جو فرشتے بنی آدم کے اعمال لکھنے پر مامور ہیں وہ تو حسب حکم ہر قول اور ہر فعل کو لکھتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ شانہ نیکیوں اور برائیوں کو باقی رکھتا ہے اور جو اعمال نیکی یا بدی کے دائرہ میں نہیں آتے انہیں مٹا دیتا ہے پھر حضرت حسن بصری سے نقل کیا ہے کہ اس سے بنی آدم کی اجل یعنی زندگی کے اوقات مقررہ مراد ہیں شب قدر میں ان لوگوں کی اجل دیوان اموات میں لکھی جاتی ہے جنہیں آئندہ سال کے اندر موت آنی ہے اور زندوں کے دیوان سے ان کا نام مٹا دیا جاتا ہے صاحب روح المعانی نے دیگر اقوال بھی نقل کیے ہیں جن کا آیت کے سیاق سے جوڑ نہیں بنتا ان میں سے بعض ضعیف روایات پر بھی مبنی ہیں اس لیے ہم نے انہیں ذکر نہیں کیا۔
Ayah 13:40

وَ اِنْ مَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ وَ عَلَیْنَا الْحِسَابُ Open ayah 13:40 in the Quran reader

اور اگر ہم آپ کو بعض وہ وعدے دکھا دیں جو وعدے ہم ان سے کر رہے ہیں یا ہم آپ کو اٹھا لیں تو بس آپ کے ذمہ پہنچا دینا ہے اور ہمارے ذمہ حساب لینا ہے۔

پھر فرمایا (وَ اِنْ مَّا نُرِیَنَّکَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُھُمْ ) (الایۃ) اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اے نبی ﷺ آپ کے مخاطبین جو آپ کی تکذیب کر رہے ہیں اور ہماری طرف سے جو ان پر عذاب آنے کی خبر دی جا رہی ہے اس میں آپ کو کسی طرح پریشان ہونے کی ضرورت نہیں اگر آپ کی موجودگی میں ہم نے کوئی عذاب بھیج دیا جسے آپ نے اپنی نظروں سے دیکھ لیا تو یہ آپ کی آنکھیں ٹھنڈی کرنے کا ذریعہ ہوگا اور اگر ہم نے آپ کو ان پر عذاب آنے سے پہلے اٹھا لیا تو یہ بھی کوئی فکر کی بات نہیں ہے ‘ چونکہ آپ کے ذمہ صرف پہنچا دینا ہے اس لیے ان کے قبول نہ کرنے پر آپ پر کوئی ملامت نہیں ہے اور ایمان قبول نہ کرنے پر آپ پر عذاب لانے کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے پہنچانا آپ کا کام ہے اور حساب لینا ہم سے متعلق ہے ‘ آپ اپنا کام کرتے رہیں قال صاحب الروح ناقلا عن الحوفی فیقال واللہ تعالیٰ اعلم واما نرینک بعض الذی نعدھم فذلک شافیک من اعدائک و دلیل صدقک واما نتوفینک قبل حلولہ بھم فلا لوم علیک ولا عتب ویکون قولہ تعالیٰ (فانما) الخ دلیلا علیھا۔ علمائے تفسیر نے یہ بھی لکھا ہے کہ آیت شریف میں دو چیزوں کا ذکر ہے اول آنحضرت ﷺ کی زندگی میں مشرکین پر عذاب آجانا ‘ ان میں سے پہلی بات کا ظہور ہوا اور وہ اس طرح کہ غزوہ بدر میں مشرکین کو شکست ہوئی اور انہوں نے ذلت اٹھائی پھر آنحضرت ﷺ کی زندگی میں مکہ معظمہ فتح ہوگیا اور اس وقت کے موجودہ مشرکین میں سے کچھ مقتول ہوئے اور اکثر نے اسلام قبول کیا۔
Ayah 13:41

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا١ؕ وَ اللّٰهُ یَحْكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهٖ١ؕ وَ هُوَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 13:41 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم زمین کو اس کے اطراف سے کم کرتے چلے آ رہے ہیں اور اللہ حکم فرماتا ہے اس کے حکم کو کوئی ہٹانے والا نہیں۔ اور وہ جلد حساب لینے والا ہے۔

پھر فرمایا (اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُھَا مِنْ اَطْرَافِھَا) (کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم زمین کو اس کی اطراف سے کم کرتے چلے آ رہے ہیں) بعض مفسرین نے اس کا یہ مطلب بتایا ہے کہ کافروں کو اس سے عبرت ہونی چاہئے کہ اس زمین پر اہل ایمان کا اقتدار بڑھتا چلا جا رہا ہے ہر طرف اسلام پھیل رہا ہے اور جو لوگ بھی اسلام قبول کرلیتے ہیں ان کا علاقہ مسلمانوں کی عملداری میں داخل ہوجاتا ہے جو لوگ مجبور اور مظلوم تھے انہیں زمین کا اقتدار ملتا جا رہا ہے اور ظالمین اقتدار سے محروم ہوتے جا رہے ہیں کافروں کی عملداری ہر طرف سے گھٹ رہی ہے یہ سب کچھ ان کی نظروں کے سامنے ہے اس سے عبرت حاصل کریں۔ صاحب معالم التنزیل لکھتے ہیں کہ حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ اور بعض دیگر حضرات سے آیت شریفہ کی یہی تفسیر منقول ہے پھر لکھا ہے کہ کچھ لوگوں نے اس کا یہ مطلب لیا ہے کہ ہم زمین کے اطراف کو ویران اور اس کے رہنے والوں کو ہلاک کرتے رہے ہیں ان لوگوں کو اس سے عبرت حاصل کرنی چاہئے انہیں اس بات کا کیسے اطمینان ہوگیا کہ ہمارے ساتھ ایسا نہ ہوگا۔ اللہ کے حکم کو کوئی ہٹانے والا نہیں : (وَ اللّٰہُ یَحْکُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُکْمِہٖ ) (اور اللہ حکم فرماتا ہے اس کے حکم کو کوئی ہٹانے والا نہیں) (وَھُوَ سَرِیْعُ الْحِسَاب) (اور وہ جلد حساب لینے والا ہے) اللہ تعالیٰ کا جب عذاب لانے کا فیصلہ ہوگا تو اسے کوئی ہٹا نہیں سکتا وہ عنقریب ہی دنیا میں عذاب دے گا آخرت میں بھی حساب ہے وہاں کفر کی سزا ملے گی جو دنیاوی عذاب سے بڑھ چڑھ کر ہے
Ayah 13:42

وَ قَدْ مَكَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلِلّٰهِ الْمَكْرُ جَمِیْعًا١ؕ یَعْلَمُ مَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ١ؕ وَ سَیَعْلَمُ الْكُفّٰرُ لِمَنْ عُقْبَى الدَّارِ Open ayah 13:42 in the Quran reader

اور جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے مکر کیا سو اللہ ہی کیلئے ہے اصل تدبیر۔ جو بھی کوئی شخص عمل کرتا ہے وہ اسے جانتا ہے۔ اور کافر عنقریب جان لیں گے کہ بعد میں آنے والے گھر کا اچھا انجام کس کیلئے ہے۔

(وَ قَدْ مَکَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ ) (اور جو لوگ ان سے پہلے کافر تھے انہوں نے مکر کیا) حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ اہل ایمان کو بہت بہت ستایا لیکن آخر عذاب میں گرفتار ہوئے (فَلِلّٰہِ الْمَکْرُ جَمِیْعًا) (سب تدبیر اللہ ہی لیے ہے) اس کی تدبیر کے سامنے سب کی مکاریاں دھری رہ گئیں موجودہ کافروں کو بھی عبرت حاصل کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ ہر شخص کے اعمال کو جانتا ہے : (یَعْلَمُ مَا تَکْسِبُ کُلُّ نَفْسٍ ) (اللہ تعالیٰ ہر شخص کے عمل کو جانتا ہے) ان اعمال میں دشمنان دین کی مکاریاں بھی ہیں جن کی اللہ کی تدبیر کے سامنے کوئی حیثیت نہیں ‘ اللہ تعالیٰ کی مشیت ہوگی تو دنیا میں بھی اپنے علم اور فیصلے کے مطابق انہیں سزا دے گا اور آخرت میں تو کافروں کے لیے عذاب ہی عذاب ہے (وَ سَیَعْلَمُ الْکُفّٰرُ لِمَنْ عُقْبَی الدَّارِ ) (اور عنقریب کافر جان لیں گے کہ اس دار کا اچھا انجام کس کے لیے ہے) یعنی جب آخرت میں کافر لوگ اہل ایمان کی کامیابی دیکھیں گے اور خود عذاب میں پڑیں گے تو پتہ چل جائے گا کہ اچھا انجام کس کا ہوا۔
Ayah 13:43

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَسْتَ مُرْسَلًا١ؕ قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ۙ وَ مَنْ عِنْدَهٗ عِلْمُ الْكِتٰبِ۠ Open ayah 13:43 in the Quran reader

اور جنہوں نے کفر کیا انہوں نے کہا کہ تم پیغمبر نہیں ہو۔ آپ فرما دیجئے کہ میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہونے کیلئے اللہ کافی ہے اور وہ لوگ کافی ہیں جن کے پاس کتاب کا علم ہے۔

آپ فرما دیجئے کہ میرے رسول ہونے پر اللہ تعالیٰ کی گواہی کافی ہے : (وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَسْتَ مُرْسَلًا) (اور کافر کہتے ہیں کہ آپ پیغمبر نہیں ہیں) (قُلْ کَفٰی باللّٰہِ شَھِیْدًا بَیْنِیْ وَ بَیْنَکُمْ ) (آپ فرما دیجئے کہ میرے تمہارے درمیان گواہ ہونے کے لیے اللہ کافی ہے) (وَ مَنْ عِنْدَہٗ عِلْمُ الْکِتٰبِ ) (اور وہ لوگ بھی گواہی کے لیے کافی ہیں جن کے پاس کتاب ہے) تم اگر نہ مانو تو تمہارے انکار کی کوئی پرواہ نہیں ‘ نیز اہل کتاب کے علماء کی گواہی بھی میرے لئے کافی ہے جو اپنی کتابوں میں میری نبوت کی پیشین گوئی پڑھتے آئے ہیں اور ان کے جذبہ انصاف نے انہیں مومن بنا دیا انہوں نے میری تصدیق کی اور مجھ پر ایمان لے آئے اہل علم کی گواہی کے بعد جاہلوں کا انکار بےحیثیت ہے۔ واللہ المستعان وعلیہ التکلان ولقد ثم تفسیر سورة الرعد والحمد للہ