8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 8:60

وَ اَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّ مِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَ عَدُوَّكُمْ وَ اٰخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِهِمْ١ۚ لَا تَعْلَمُوْنَهُمْ١ۚ اَللّٰهُ یَعْلَمُهُمْ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یُوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 8:60 in the Quran reader

اور ان کے (مقابلے کے) لیے قوت سے اور گھوڑے باندھنے سے تیاری کرو، جتنی کرسکو، جس کے ساتھ تم اللہ کے دشمن کو اور اپنے دشمن کو اور ان کے علاوہ کچھ دوسروں کو ڈراؤ گے، جنھیں تم نہیں جانتے، اللہ انھیں جانتا ہے اور تم جو چیز بھی اللہ کے راستے میں خرچ کرو گے وہ تمہاری طرف پوری لوٹائی جائے گی اور تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔

وَاَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْـتَـطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ : ”قُوَّةٍ“ کا لفظ نکرہ لایا گیا ہے، ”مِّنْ“ کے ساتھ عموم اور زیادہ ہوگیا ہے، یعنی ہر قسم کی قوت، خواہ جو بھی ہو، تاکہ اس میں وہ تمام چیزیں آجائیں جو جنگ میں قوت کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ نے یہ آیت تلاوت کی : (وَاَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْـتَـطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ) اور فرمایا : (أَلاَ إِنَّ الْقُوَّۃَ الرَّمْیُ ، أَلاَ إِنَّ الْقُوَّۃَ الرَّمْیُ ، أَلاَ إِنَّ الْقُوَّۃَ الرَّمْیُ) تین دفعہ فرمایا کہ یاد رکھو اصل قوت ”رَمْیٌ“ ہے۔ [ مسلم، الإمارۃ، باب فضل الرمی والحث علیہ۔۔ : 1917 ] ”رَمْیٌ“ کا لفظ اگرچہ تیر اندازی کے معنی میں بھی آتا ہے، مگر اس میں تیر کے ساتھ ساتھ وہ تمام چیزیں آجاتی ہیں جو دور سے پھینکی جاتی ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان : (وَمَا رَمَيْتَ اِذْ رَمَيْتَ) [ الأنفال : 17 ] سے مرادمٹی اور کنکریوں کی مٹھی پھینکنا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں دور سے مار کرنے والی جو بھی چیز تھی آپ نے جنگ میں استعمال فرمائی، حتیٰ کہ منجنیق بھی دشمن کے خلاف استعمال فرمائی، جس کے ساتھ دور سے پتھر پھینک کر قلعوں کی دیواریں توڑ دی جاتی تھیں اور ہمیشہ مسلمانوں نے اپنے غلبے کے زمانے میں ہر جدید ہتھیار مثلاً نفط (پٹرول وغیرہ) کے ہتھیار استعمال کیے۔ بارود کی ایجاد کے بعد بھی ترک خلفاء توپوں کی تیاری سے غافل نہیں رہے، مگر افسوس اس کے بعد مسلمانوں نے اس حکم سے اتنی بےپروائی کی کہ دشمن اس میدان، یعنی اسلحہ کی تیاری میں ان سے بہت آگے نکل گیا۔ اب عالم اسلام اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہر نعمت کے باوجود اسلحے کے لیے غیروں کا محتاج ہے، چھوٹے موٹے ہتھیار تو بنتے ہیں، مگر ہوائی جہاز، ہیلی کا پٹر، گاڑیاں، کمپیوٹر، توپیں، ریڈار وغیرہ تمام چیزوں میں وہ دوسروں کا دست نگر ہے۔ (الا ما شاء اللہ) جس کے نتیجے میں کفار مسلمانوں کی دولت بھی لوٹ رہے ہیں، ان کے وسائل اور دینی اقدار کو بھی چھین رہے ہیں اور جب چاہتے ہیں ان ہتھیاروں اور جہازوں کی ضروریات وغیرہ روک کر بےبس کردیتے ہیں، حالانکہ پاکستان اگر ایٹم بم بنا سکتا ہے تو وہ کون سی چیز ہے جو مسلم ممالک نہیں بنا سکتے ؟ مگر مسلمانوں کی دین سے بےگانگی، دشمن کی چال بازی، اپنوں کی غداری اور طمع و حرص کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بزدلی ان میں یہ چیزیں بنانے کی جرأت ہی پیدا نہیں ہونے دیتی۔ حقیقت یہ ہے کہ جب ہم کسی گاڑی، ریل یا ہوائی جہاز پر سوار ہو کر اپنے ملک میں یا بیرون ملک سفر کرتے ہیں تو دل میں سخت تکلیف ہوتی ہے کہ یہ تمام سواریاں ہمارے دشمنوں کی بنائی ہوئی ہیں، ہم اپنے بل بوتے پر کچھ بھی نہیں بنا سکے۔ یہ سب مسلمانوں کے رہنماؤں کا کیا دھرا ہے، جو اپنے عوام ہی کی تصویر ہیں، مگر مایوس ہونا کسی صورت بھی جائز نہیں اور نہ کفار کو ناقابل شکست سمجھ کر ہاتھ توڑ کر بیٹھ جانا چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق کفار جتنی بھی کوشش کرلیں کبھی نور اسلام کو بجھا نہ سکیں گے، فرمایا : (يُرِيْدُوْنَ لِيُطْفِــــُٔـوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ ۭ وَاللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَلَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ) [ الصف : 8 ]”وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے مونہوں کے ساتھ بجھا دیں اور اللہ اپنے نور کو پورا کرنے والا ہے، اگرچہ کافر لوگ ناپسند کریں۔“ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”یہ دین ہمیشہ قائم رہے گا، مسلمانوں کی ایک جماعت قیامت قائم ہونے تک اس کی خاطر لڑتی رہے گی۔“ [ مسلم، الإمارۃ، باب قولہ ﷺ : لا تزال طائفۃ من أمتی۔۔ : 1922، عن جابر بن سمرۃ ؓ ] مغیرہ بن شعبہ، جابر بن عبداللہ اور معاویہ ؓ سے مروی رسول اللہ ﷺ کی احادیث میں ان لوگوں کے دین پر قائم رہنے اور غالب رہنے کی خوش خبری بھی آئی ہے۔ [ دیکھیے مسلم، الإمارۃ، باب قولہ ﷺ : لا تزال طائفۃ من أمتی۔۔ : 1921، 1923، 1037، بعد ح : 1923 ] اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ اس وقت مجاہدین اسلام اور کفار کے درمیان جو جنگ جاری ہے اس میں اہل اسلام کی کس قدر آزمائش باقی ہے ؟ اور کفار اللہ تعالیٰ سے بغاوت کی جس حد تک پہنچ چکے ہیں ان کی سزا میں کتنی دیر ہے ؟ اور اللہ تعالیٰ اپنے کن بندوں کے ہاتھوں کفار کو کس طرح کیفر کردار تک پہنچاتا ہے ؟ فرمان الٰہی ہے : (وَاِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ۙ ثُمَّ لَا يَكُوْنُوْٓا اَمْثَالَكُمْ) [ محمد : 38 ] ”اور اگر تم پھر جاؤ گے تو وہ تمہاری جگہ تمہارے سوا اور لوگ لے آئے گا، پھر وہ تمہاری طرح نہیں ہوں گے۔“ اور دیکھیے سورة مائدہ (54)۔ وَّمِنْ رِّبَاطِ الْخَيْلِ : اس حکم سے سوار فوج کی اہمیت ظاہر ہے۔ ”قُوَّةٍ“ اور ”رِّبَاطِ الْخَيْلِ“ میں فوجی گاڑیاں، ٹینک، بکتر بند گاڑیاں، جنگی جہاز، آبدوزیں، بحری بیڑے، جاسوسی کے آلات اور ادارے، اعلام کے ذرائع، سب آجاتے ہیں، مگر ان سب کے باوجود قیامت تک جنگ میں گھوڑوں کی ضرورت اور اہمیت کبھی ختم نہیں ہوگی۔ جو کام یہ مبارک جانور سر انجام دے سکتا ہے دنیا کی کوئی چیز نہیں دے سکتی۔ عروہ بارقی اور جریر بن عبداللہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : ”یہ گھوڑے، ان کی پیشانیوں میں قیامت کے دن تک خیر باندھ دی گئی ہے، اجر اور غنیمت۔“ [ مسلم، الإمارۃ، باب فضیلۃ الخیل۔۔ : 1872، 1873 ] اس لیے مسلمانوں کو ڈرائیور، پائلٹ، ملاح، بحری مجاہد، تیراک اور غوطہ خور ہونے کے ساتھ ساتھ گھڑ سوار ہونا بھی لازم ہے۔ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَعَدُوَّكُمْ : یعنی اس قدر مضبوط تیاری رکھو کہ اللہ کا دشمن اور تمہارا دشمن اور تمہارے ساتھ کد رکھنے والا ہر شخص تم سے خوف زدہ رہے اور لڑنے کی جرأت ہی نہ کرسکے۔ ان واضح دشمنوں میں مشرکین، یہود و نصاریٰ اور جانے پہچانے منافق سب شامل ہیں۔ وَاٰخَرِيْنَ مِنْ دُوْنِهِمْ : اس سے مراد مسلمانوں کی صفوں میں کفار کے چھپے ہوئے ہمدرد منافق ہیں۔ دیکھیے سورة توبہ (101) علاوہ ازیں کئی اقوام جو بظاہر اس وقت تمہارے خلاف نہیں، مگر موقع پانے پر دل میں تم سے لڑائی کا ارادہ رکھتی ہیں، تمہاری مکمل تیاری اور ہر وقت جہاد میں مصروف رہنا سب کو خوف زدہ رکھے گا۔ بعض مفسرین نے اس سے جن و شیاطین کے لشکر مراد لیے ہیں، تمہاری تیاری کی بدولت وہ بھی دشمنوں کے دلوں میں لڑائی کے جذبات نہیں ابھار سکیں گے۔ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَيْءٍ : اس سے جہاد میں مال خرچ کرنے کی ترغیب مقصود ہے۔ فی سبیل اللہ خرچ کی فضیلت کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (261)۔
Ayah 8:61

وَ اِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 8:61 in the Quran reader

اور اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو تو بھی اس کی طرف مائل ہوجا اور اللہ پر بھروسا کر۔ بیشک وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔

وَاِنْ جَنَحُوْا للسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا : بھر پور جنگی تیاری اور جہاد جاری رکھنے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ دشمن صلح کی طرف مائل ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے صلح کی طرف مائل ہونے والوں سے صلح کرلینے کا حکم دیا، کیونکہ اسلامی جہاد کا مقصد اللہ کے دین کا غلبہ ہے، ہر حال میں غیر مسلموں کو تہ تیغ کرنا نہیں، نہ انھیں زبردستی مسلمان بنانا ہے۔ اس صلح کے نتیجے میں بہت سی دینی اور دنیوی برکات حاصل ہوں گی، مسلمانوں کے ساتھ میل جول کی وجہ سے کفار اسلام سے واقف ہوں گے، اسلام کی اشاعت بڑھے گی، جس کا نتیجہ اسلام کا غلبہ ہوگا، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے صلح حدیبیہ کو ”فتح مبین“ قرار دیا۔ بعض اوقات جزیے پر صلح ہوگی جو مسلمانوں کی مالی قوت میں اضافے کا باعث ہوگی اور دنیا میں جنگ کے ماحول کے بجائے امن و اطمینان کا دور دورہ ہوگا جو صرف اسلام کے غلبے کی صورت میں ہوسکتا ہے۔ لیکن یاد رہے کہ محض ہمت ہار کر بزدلی کی وجہ سے خود دشمن کو صلح کی پیش کش اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔ دیکھیے سورة محمد (35) صلح کی صورت میں کفار کی عہد شکنی یا سازشوں کے خطرے کی پروا نہ کریں، بلکہ اللہ تعالیٰ پر بھروسا رکھیں، وہ سب کچھ سن رہا ہے، دیکھ رہا ہے۔
Ayahs 8:62–63

وَ اِنْ یُّرِیْدُوْۤا اَنْ یَّخْدَعُوْكَ فَاِنَّ حَسْبَكَ اللّٰهُ١ؕ هُوَ الَّذِیْۤ اَیَّدَكَ بِنَصْرِهٖ وَ بِالْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 8:62 in the Quran reader

اور اگر وہ ارادہ کریں کہ تجھے دھوکا دیں تو بیشک تجھے اللہ ہی کافی ہے۔ وہی ہے جس نے تجھے اپنی مدد کے ساتھ اور مومنوں کے ساتھ قوت بخشی۔

وَ اَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ١ؕ لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مَّاۤ اَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:63 in the Quran reader

اور ان کے دلوں کے درمیان الفت ڈال دی، اگر تو زمین میں جو کچھ ہے سب خرچ کردیتا ان کے دلوں کے درمیان الفت نہ ڈالتا اور لیکن اللہ نے ان کے درمیان الفت ڈال دی۔ بیشک وہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔

وَاِنْ يُّرِيْدُوْٓا اَنْ يَّخْدَعُوْكَ : اس جملے میں پچھلی آیت کے جملے ”وَتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ“ کی مزید تفصیل و تاکید ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو یقین دلایا کہ اگر ان کے ارادے میں فتور بھی ہے تب بھی آپ فکر نہ کریں، آپ کو اللہ تعالیٰ ہر طرح کافی ہے۔ آپ دیکھتے نہیں کہ اس نے کس طرح اپنی خاص نصرت کے ساتھ آپ کو قوت بخشی، اہل ایمان ساتھی عطا کیے، ان کی باہمی عداوتیں، جو آپ کے پوری زمین کی ہر چیز خرچ کرنے پر بھی دور نہیں ہوسکتی تھیں، اس نے اپنے خاص فضل سے دور کر کے ایمان کی بدولت ان کے دلوں میں الفت و محبت ڈال دی اور انھیں یک جان کر کے آپ کی پشت پر کھڑا کردیا۔ وہ ہر چیز پر غالب ہے، مگر اس کا غلبہ اندھے کی لاٹھی نہیں، وہ کمال درجے کی حکمت بھی رکھتا ہے، اس لیے تم صرف اسی پر بھروسا رکھو۔
Ayah 8:64

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ وَ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 8:64 in the Quran reader

اے نبی ! ایمان والوں کو لڑائی پر ابھار، اگر تم میں سے بیس صبر کرنے والے ہوں تو وہ دو سو پر غالب آئیں اور اگر تم میں سے ایک سو ہوں تو ان میں سے ہزار پر غالب آئیں جنھوں نے کفر کیا۔ یہ اس لیے کہ بیشک وہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھتے نہیں۔

يٰٓاَيُّھَا النَّبِيُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ : اوپر فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو کافی ہے، اس سے شاید کوئی خیال کرتا کہ اللہ تعالیٰ کی تائید صرف رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خاص ہے، اس لیے یہاں دوبارہ اس جملے کو لا کر ساتھ مومنین کا بھی اضافہ کردیا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اور آپ کی پیروی کرنے والے تمام مومنوں کو کافی ہے۔ ”وَمَنِ اتَّبَعَنَ“ میں واؤ کا عطف ”حَسْبُكَ“ کے کاف پر ہے، یعنی اللہ تعالیٰ تجھے اور تیرے پیچھے چلنے والے مومنوں کو کافی ہے۔ یہ واؤ بمعنی ”مَعَ“ بھی ہوسکتی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ آپ کو مع آپ کے ساتھیوں کے سب کو کافی ہے۔ بعض لوگوں نے اس واؤ کا عطف لفظ ”اللّٰهُ“ پر ڈالا ہے، اس صورت میں ترجمہ ہوگا کہ تجھے اللہ کافی ہے اور وہ مومن کافی ہیں جو تیرے پیروکار ہیں، مگر یہ عطف اور ترجمہ سراسر غلط ہے، کیونکہ پورے قرآن و حدیث میں صرف اللہ تعالیٰ ہی پر توکل کرنے اور اسی کو کافی سمجھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں بہت سے مقامات پر صرف اللہ تعالیٰ پر توکل کا حکم ہے، فرمایا : (وَعَلَي اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ) توکل کا یہ حکم ”الْمُؤْمِنُوْنَ“ اور ”الْمُتَوَكِّلُوْنَ“ کے الفاظ کے ساتھ 9 جگہ ہے اور فرمایا : (وَعَلَي اللّٰهِ فَتَوَكَّلُوْٓا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ) [ المائدۃ : 23 ] ”اور صرف اللہ پر بھروسا کرو، اگر تم مومن ہو۔“ مخلوق تو خود اپنے لیے کافی نہیں، وہ دوسروں کو کیا کفایت کرے گی۔ مولانا ثناء اللہ امرتسری ؓ ایسے مواقع پر ایک شعر لکھا کرتے تھے ؂ سنبھلتا نہیں جن سے اپنا دوپٹا سنبھالیں گے کیا وہ کلیجہ کسی کا ابراہیم ؑ نے آگ میں پھینکے جانے کے وقت اور رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ نے احد کے بعد کفار کے جمع ہو کر دوبارہ حملہ آور ہونے کے موقع پر (حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ) [ آل عمران : 173 ] کہا۔ [ بخاری، التفسیر، سورة آل عمران : 4563 ] رسول اللہ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ اور میرے ساتھی کافی ہیں۔ خود اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا : (فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِيَ اللّٰهُ ڶ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۭعَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ) [ التوبۃ : 129 ] ”پھر اگر وہ منہ موڑیں تو کہہ دے مجھے اللہ ہی کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں نے اسی پر بھروسا کیا اور وہی عرش عظیم کا رب ہے۔“ بلکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اِنْ يَّنْصُرْكُمُ اللّٰهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ ۚ وَاِنْ يَّخْذُلْكُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِيْ يَنْصُرُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِھٖ ۭوَعَلَي اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ) [ آل عمران : 160 ] ”اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب آنے والا نہیں اور اگر وہ تمہارا ساتھ چھوڑ دے تو وہ کون ہے جو اس کے بعد تمہاری مدد کرے گا ؟ اور اللہ ہی پر پھر لازم ہے کہ مومن بھروسا رکھیں۔“
Ayah 8:65

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَى الْقِتَالِ١ؕ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ یَغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 8:65 in the Quran reader

اب اللہ نے تم سے (بوجھ) ہلکا کردیا اور جان لیا کہ یقینا تم میں کچھ کمزوری ہے، پس اگر تم میں سے سو صبر کرنے والے ہوں تو دو سو پر غالب آئیں اور اگر تم میں سے ہزار ہوں تو اللہ کے حکم سے دو ہزار پر غالب آئیں اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

حَرِّضِ الْمُؤْمِنِيْنَ عَلَي الْقِتَالِ : ”تحریض“ کا معنی خوب رغبت دلا کر کسی کام پر ابھار دینا ہے۔ بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ قرآن مجید میں جہاد کا ذکر تقریباً سات پاروں کے برابر بنتا ہے۔ کتب احادیث میں کتاب الجہاد اس کے فضائل سے بھری ہوئی ہیں۔ یہاں بیس مسلمانوں کو کفار کے دو سو آدمیوں پر غالب آنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ مگر یہ حکم خبر کی صورت میں ہے، کیونکہ یہ بات معروف ہے کہ حکم بہت تاکید کے ساتھ دینا ہو تو وہ خبر کے الفاظ میں دیا جاتا ہے، مثلاً یہ کہنا ہو ”سب لوگ نماز کے لیے مسجد میں جائیں“ تو کہا جاتا ہے ”سب لوگ مسجد میں جائیں گے۔“ یہاں بیس مسلمانوں کو کفار کے دو سو آدمیوں پر غالب آنے کا حکم دیا جا رہا ہے مگر خبر کے الفاظ میں کہ اگر تم میں سے بیس صابر ہوں تو وہ دو سو پر غالب آئیں گے۔ مراد یہ ہے کہ غالب آئیں۔ اس کی دلیل اگلی آیت ہے کہ اب اللہ نے تم سے تخفیف کردی ہے، سو اگر تم میں سے ایک سو صابر ہوں تو وہ دو سو پر غالب آئیں گے۔ مراد یہ ہے کہ دو سو پر غالب آئیں، ظاہر ہے کہ تخفیف امر (حکم) میں ہوتی ہے، خبر میں نہیں۔ ان آیات میں خوش خبری بھی ہے مگر ایمان اور صبر کی شرط کے ساتھ۔ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ : یعنی سمجھ سے کام نہیں لیتے، نہ ثواب یا شہادت کے حصول کی نیت ہوتی ہے، نہ عذاب سے بچنے کی، نہ ہی وہ کسی پائدار اور دائمی مقصد کے لیے لڑتے ہیں، اس لیے ان میں وہ جذبہ اور اخلاقی قوت موجود نہیں ہوتی جو انھیں میدان جنگ میں ڈٹے رہنے کا حوصلہ عطا کرے، لہٰذا یہ ان سرفروش مجاہدین کا کیسے مقابلہ کرسکتے ہیں جن کی بڑی تمنا شہادت کی فضیلت حاصل کرنا ہے ؟ بیس کے دو سو پر غالب آنے کے بعد سو کے ہزار پر غالب آنے کے بیان میں یہ حکمت ہے کہ لشکر چھوٹا ہو یا بڑا، ہر ایک کو یہ حکم ہے اور ہر ایک سے نصرت کا وعدہ ہے۔
Ayah 8:66

اَلْئٰنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنْكُمْ وَ عَلِمَ اَنَّ فِیْكُمْ ضَعْفًا١ؕ فَاِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ صَابِرَةٌ یَّغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ اَلْفٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفَیْنِ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 8:66 in the Quran reader

کبھی کسی نبی کے لائق نہیں کہ اس کے ہاں قیدی ہوں، یہاں تک کہ وہ زمین میں خوب خون بہا لے، تم دنیا کا سامان چاہتے ہو اور اللہ آخرت کو چاہتا ہے اور اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔

اَلْئٰنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنْكُمْ : اس آیت کی تفسیر میں ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب گزشتہ آیت نازل ہوئی تو مسلمانوں کو اپنے سے دس گنا کفار کے مقابلے میں ڈٹے رہنے کا حکم دشوار معلوم ہوا، پھر تخفیف کا حکم آگیا اور اپنے سے دو گنا کے مقابلے میں ثابت قدم رہنا واجب اور بھاگنا حرام قرار دے دیا گیا۔ [ بخاری، التفسیر، سورة الأنفال، باب : (الآن خفف اللہ عنکم۔۔) : 4653 ] اگر کفار دو گنا سے زیادہ ہوں تو بھاگنا گناہ نہیں، لیکن لڑنا اور جمے رہنا بہر حال افضل ہے، جیسا کہ عہد نبوی اور خلفائے راشدین کے عہد کے واقعات سے معلوم ہوتا ہے۔ (ابن کثیر، قرطبی) اس آیت میں یہ خوش خبری بھی ہے کہ مسلمانوں کے لشکر ہزاروں تک جائیں گے۔
Ayah 8:67

مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗۤ اَسْرٰى حَتّٰى یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا١ۖۗ وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَةَ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:67 in the Quran reader

مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنْ يَّكُوْنَ لَهٗٓ اَسْرٰي : کسی نبی کے لیے جائز نہیں کہ وہ قیدی بنائے، پھر انھیں قید رکھے یا احسان کرے یا فدیہ لے، جب تک میدان جنگ میں خوب خون ریزی کے بعد کفر کی کمر نہ ٹوٹ جائے اور وہ دوبارہ مقابلے کے قابل نہ رہ جائیں، اس کے بعد قیدی بنانے میں کوئی حرج نہیں، لیکن مسلمانو ! تم نے بدر میں قیدی بنانے میں جلدی سے کام لیا، تم فدیے کی صورت میں دنیا کا سامان چاہتے تھے اور اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اعلائے کلمۃ اللہ کے ذریعے سے آخرت کے ثواب کا ارادہ رکھتا تھا اور اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے، تمہارا یہ عمل عزت و حکمت کے مطابق نہیں۔ دوسری جگہ فرمایا : (فَاِذَا لَقِيْتُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَضَرْبَ الرِّقَابِ ۭ حَتّىٰٓ اِذَآ اَثْخَنْتُمُوْهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ) [ محمد : 4 ] ”تو جب ان لوگوں سے ملو جنھوں نے کفر کیا تو گردنیں مارنا ہے، یہاں تک کہ جب انھیں خوب قتل کر چکو تو (ان کو) مضبوط باندھ لو۔“ سن 2 ہجری غزوۂ بدر میں قیدی بنانے میں عجلت کے بعد دوسری فر و گزاشت یہ ہوئی کہ قیدیوں کا فیصلہ اس وقت کے حالات کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کو پسند نہ آیا، کیونکہ اس وقت فدیہ لینے کے بجائے انھیں قتل کرنے سے کفر کی کمر مزید ٹوٹتی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ سمیت تمام مسلمانوں پر ناراضگی کا اظہار فرمایا۔ عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ (جنگ بدر میں) جب قیدی گرفتار کرلیے گئے تو رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر اور عمر ؓ سے مشورہ فرمایا کہ ان قیدیوں کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے ؟ ابوبکر ؓ نے کہا : ”اے اللہ کے نبی ! یہ ہمارے چچا زاد بھائی اور خاندان ہی کے لوگ ہیں، سو میری رائے تو یہ ہے کہ ان سے فدیہ لے لیا جائے، تاکہ (اس رقم سے) کفار کے مقابلے میں قوت حاصل ہو اور کیا عجب کہ اللہ انھیں اسلام کی ہدایت دے دے۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اے ابن خطاب ! تمہاری کیا رائے ہے ؟“ عمر ؓ فرماتے ہیں : ”میں نے کہا، اے اللہ کے رسول ! میری رائے ابوبکر کی رائے کے مطابق نہیں ہے، میری رائے تو یہ ہے کہ آپ ان کو ہمارے حوالے کیجیے، تاکہ ہم ان کی گردنیں اڑا دیں۔ عقیل کو علی کے حوالے کیجیے، تاکہ وہ اس کی گردن اڑائیں اور میرے حوالے فلاں کو کیجیے، تاکہ میں اس کی گردن اڑاؤں، اس لیے کہ یہ لوگ کفر کے سرغنے اور اس کے سردار ہیں۔ (اکثر مسلمانوں کی رائے ابوبکر ؓ کی رائے کے مطابق تھی، کچھ مالی فائدے کے پیش نظر اور کچھ انسانی اور رشتہ داری کی محبت کی وجہ سے) نبی ﷺ نے ابوبکر ؓ کی رائے اختیار فرمائی اور میری رائے اختیار نہیں کی، پھر جب دوسرے دن کی صبح ہوئی، میں آیا تو دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر ؓ بیٹھے رو رہے ہیں۔ میں نے کہا اے اللہ کے رسول ! مجھے بھی بتائیے آپ اور آپ کے دوست کیوں رو رہے ہیں، تاکہ اگر مجھے رونا آئے تو میں بھی روؤں، ورنہ کم از کم آپ دونوں کے رونے کی وجہ سے رونے والی صورت ہی بنا لوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”میں اس فیصلے کے مشورے کی وجہ سے رو رہا ہوں جو تمہارے ساتھیوں نے قیدیوں سے فدیہ لے کر چھوڑ دینے کے متعلق دیا تھا، اب میرے سامنے ان کا عذاب پیش کیا گیا جو اس درخت سے بھی قریب تھا۔“ اور آپ کے قریب ایک درخت تھا۔“ اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں : (مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنْ يَّكُوْنَ لَهٗٓ اَسْرٰي حَتّٰي يُثْخِنَ فِي الْاَرْضِ) [ الأنفال : 67 تا 69 ] [ مسلم، الجہاد، باب الإمداد بالملائکۃ فی غزوۃ بدر۔۔ : 1763 ] علی ؓ فرماتے ہیں کہ جبریل ؑ اترے اور آپ ﷺ سے کہا کہ اپنے ساتھیوں کو بدر کے قیدیوں کے متعلق اختیار دیں کہ انھیں قتل کردیں یا فدیہ لے لیں، اس شرط پر کہ ان میں سے آئندہ اتنے ہی قتل کیے جائیں گے۔ انھوں نے فدیہ لینا اور آئندہ اپنے آدمیوں کی شہادت اختیار کی۔ [ ترمذی، السیر، باب ما جاء فی قتل الأساری و الفداء : 1567 وقال الألبانی صحیح ] یہ صورت چونکہ بہتر نہ تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس پر عتاب فرمایا۔
Ayah 8:68

لَوْ لَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِیْمَاۤ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 8:68 in the Quran reader

اگر اللہ کی طرف سے لکھی ہوئی بات نہ ہوتی، جو پہلے طے ہوچکی تو تمہیں اس کی وجہ سے جو تم نے لیا بہت بڑا عذاب پہنچتا۔

لَوْلَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ : یہاں ”اللہ کی طرف سے لکھی ہوئی کتاب“ سے مراد کئی باتیں ہوسکتی ہیں، ایک یہ کہ اگر اس امت کے لیے غنیمت حلال نہ کردی گئی ہوتی، جیسا کہ بخاری کی حدیث (335) (وَ اُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَاءِمُ) (اور میرے لیے غنیمتیں حلال کردی گئیں) سے معلوم ہوتا ہے۔ ابن جریر ؓ نے اسی کو پسند فرمایا۔ دوسری یہ کہ بدر میں جو صحابہ شریک ہوئے ان کے گناہ بخشے جا چکے وغیرہ۔ (ابن کثیر، فتح القدیر) بعض اہل علم نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کا وجود عذاب نازل ہونے سے مانع تھا، جیسا کہ فرمایا : (وَمَا كَان اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَاَنْتَ فِيْهِمْ) [ الأنفال : 33 ] ”اور اللہ کبھی ایسا نہیں کہ انھیں عذاب دے جب کہ تو ان میں ہو۔“ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”وہ بات یہ لکھ چکا کہ ان قیدی لوگوں میں بہت سوں کی قسمت تھی مسلمان ہونا۔“ (موضح) الغرض اگر یہ باتیں پہلے نہ لکھی جا چکی ہوتیں تو تم پر عذاب نازل ہوجاتا۔
Ayah 8:69

فَكُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَیِّبًا١ۖ٘ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 8:69 in the Quran reader

سو اس میں سے کھاؤ جو تم نے غنیمت حاصل کی، اس حال میں کہ حلال، طیب ہے اور اللہ سے ڈرو۔ بیشک اللہ بےحد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔

فَكُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَيِّبًا : اللہ تعالیٰ کے ناراضگی کے اظہار سے یہ خیال پیدا ہوتا تھا کہ فدیے کا مال لینا اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں، اللہ تعالیٰ نے اس شبے کو دور فرمایا کہ یہ بھی مال غنیمت ہے اور اس امت کے لیے حلال اور طیب ہے، سو اسے کسی شک و شبہ کے بغیر کھاؤ۔ اس سے ”لَوْلَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ“ کی تفسیر ”اس امت کے لیے غنیمت حلال ہونے“ کے قول کو تقویت ملتی ہے۔ ”وَّاتَّقُوا اللّٰهَ“ البتہ یہ اصل مقصود نہیں، بلکہ اصل مقصود اللہ کا تقویٰ ہے، اسے اختیار کرو، یقیناً اللہ تعالیٰ بیحد بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔
Ayah 8:70

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّمَنْ فِیْۤ اَیْدِیْكُمْ مِّنَ الْاَسْرٰۤى١ۙ اِنْ یَّعْلَمِ اللّٰهُ فِیْ قُلُوْبِكُمْ خَیْرًا یُّؤْتِكُمْ خَیْرًا مِّمَّاۤ اُخِذَ مِنْكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 8:70 in the Quran reader

اے نبی ! تمہارے ہاتھ میں جو قیدی ہیں ان سے کہہ دے اگر اللہ تمہارے دلوں میں کوئی بھلائی معلوم کرے گا تو تمہیں اس سے بہتر دے دے گا جو تم سے لیا گیا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بےحد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔

قُلْ لِّمَنْ فِيْٓ اَيْدِيْكُمْ مِّنَ الْاَسْرٰٓي : جب بدر کے قیدی لائے گئے تو بعض نے اسلام کا اظہار کیا اور کہا کہ میں نے مجبور کیے جانے پر جنگ میں شرکت کی تھی، ان میں عباس ؓ بھی تھے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ان کو فدیے کی معافی نہیں دی گئی، بلکہ دل سے مسلمان ہونے کی صورت میں لیے گئے فدیے سے بہتر عطا اور مغفرت کا وعدہ کیا گیا۔ عباس ؓ فرماتے ہیں : ”اللہ کی قسم ! یہ آیت میرے بارے میں اتری، جب میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے اسلام لانے کی خبر دی اور درخواست کی کہ مجھ سے جو بیس اوقیہ فدیہ لیا گیا ہے اس کے بدلے میں مجھے کچھ دیں، تو آپ نے مجھے ان کے بدلے میں بیس غلام دیے جو سب میرے مال سے میرے لیے تجارت کر رہے ہیں، اس کے ساتھ میں اللہ جل ذکرہٗ سے مغفرت کی بھی امید رکھتا ہوں۔“ [ مسند إسحاق بن راہویہ۔ تفسیر طبری۔ طبرانی وغیرہم ] ”الاستیعاب فی بیان الأسباب“ میں بہت سے حوالے دے کر اسے حسن کہا گیا ہے۔ عباس ؓ نے اپنے بھتیجے عقیل کا فدیہ بھی اپنے پاس سے دیا تھا۔ [ بخاری، الجہاد والسیر، باب فداء المشرکین : 3049 ]
Ayah 8:71

وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:71 in the Quran reader

اور اگر وہ تجھ سے خیانت کا ارادہ کریں تو بیشک وہ اس سے پہلے اللہ سے خیانت کرچکے ہیں، تو اس نے ان پر قابو دے دیا اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔

وَاِنْ يُّرِيْدُوْا خِيَانَتَكَ : یعنی اگر وہ اسلام کا دعویٰ یا آئندہ آپ سے نہ لڑنے کا وعدہ صرف رہائی اور آپ کی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے کر رہے ہیں اور ان کے دل میں کھوٹ ہے، تو پہلے انھوں نے اللہ کے ساتھ شرک اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جنگ کی خیانت کر کے کیا حاصل کرلیا، یہی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان پر قابو عطا فرمایا، اب بھی ایسا ہی ہوگا۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کے لیے خوش خبری اور قیدیوں کے لیے وعید ہے۔ ”فَاَمْكَنَ“ کا مفعول محذوف ہے، یعنی ”أَمْکَنَکَ مِنْھُمْ“ کہ اس نے آپ کو ان پر قابو دے دیا۔
Ayah 8:72

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓئِكَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یُهَاجِرُوْا مَا لَكُمْ مِّنْ وَّلَایَتِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ حَتّٰى یُهَاجِرُوْا١ۚ وَ اِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ فَعَلَیْكُمُ النَّصْرُ اِلَّا عَلٰى قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 8:72 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے ہجرت کی اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد کیا اور وہ لوگ جنھوں نے جگہ دی اور مدد کی، یہ لوگ ! ان کے بعض بعض کے دوست ہیں، اور جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت نہ کی تمہارے لیے ان کی دوستی میں سے کچھ بھی نہیں، یہاں تک کہ وہ ہجرت کریں اور اگر وہ دین کے بارے میں تم سے مدد مانگیں تو تم پر مدد کرنا لازم ہے، مگر اس قوم کے خلاف کہ تمہارے درمیان اور ان کے درمیان کوئی معاہدہ ہو اور اللہ اسے جو تم کر رہے ہو، خوب دیکھنے والا ہے۔

سورة انفال کے آخر میں ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں مسلمان چار قسم کے تھے، پہلے وہ جو پہلی ہجرت کرنے والے مہاجرین اولین ہیں، دوسرے انصار مدینہ، تیسرے وہ مومن جنھوں نے ہجرت نہیں کی اور چوتھے وہ جنھوں نے صلح حدیبیہ کے بعد ہجرت کی۔ اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَهَاجَرُوْا : ان سے مراد اولین مہاجر ہیں جو سب سے افضل ہیں۔ وَالَّذِيْنَ اٰوَوْا وَّنَــصَرُوْٓا : یہ انصار ہیں، ان کی فضیلت بھی بیشمار ہے، مگر اس بات پر اتفاق ہے کہ مہاجرین انصار سے افضل ہیں۔ عبداللہ بن زید بن عاصم ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اگر ہجرت (کی فضیلت) نہ ہوتی تو میں انصار میں سے ایک شخص ہوتا۔“ [ بخاری، المغازی، باب غزوۃ الطائف۔۔ : 4330 ] اُولٰۗىِٕكَ بَعْضُهُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ : ”اَوْلِيَاۗءُ“ سے مراد دوست، حمایتی اور مدد گار بھی ہوسکتے ہیں اور ایک دوسرے کے وارث بھی۔ دوسرے مفہوم کے مطابق اشارہ ہوگا اس مؤاخات (بھائی چارے) کی طرف جو رسول اللہ ﷺ نے ہجرت کے بعد مہاجرین و انصار کے درمیان قائم کیا، جس کی بنا پر جاہلیت کے رواج کے مطابق آپس میں بھائی بننے والے ایک دوسرے کے وارث ہوتے تھے، یہاں تک کہ میراث کی آیت : (وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ) [ الأنفال : 75 ] نازل ہوئی تو یہ طریقہ منسوخ ہوگیا۔ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يُهَاجِرُوْا : یہ اس عہد کے مسلمانوں کی تیسری قسم ہے۔ دار الاسلام قائم ہونے کے باوجود اس کی طرف ہجرت نہ کرنے اور کفار کی غلامی میں رہنے پر قناعت کا مطلب یہ ہے کہ ان کا ایمان کچا ہے، یہ لوگ جہاد میں حصہ لے ہی نہیں سکتے، اس لیے ان کے ساتھ پہلے دو فریقوں جیسی دوستی اور حمایت کسی طرح بھی نہیں ہوسکتی، جب تک ہجرت نہ کریں۔ وَاِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ : مثلاً کافر ان پر ظلم کر رہے ہوں اور وہ تم سے مدد مانگیں تو تم پر انھیں ظالموں کے پنجے سے چھڑانا فرض ہے، فرمایا : (وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَالْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَاۗءِ وَ الْوِلْدَانِ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا مِنْ ھٰذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ اَهْلُھَا) [ النساء : 75 ] ”اور تمہیں کیا ہے کہ تم اللہ کے راستے میں اور ان بےبس مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں لڑتے جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہمیں اس بستی سے نکال لے جس کے رہنے والے ظالم ہیں۔“ اِلَّا عَلٰي قَوْمٍۢ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِّيْثَاقٌ: یعنی اگر تمہارا کفار سے کوئی معاہدہ ہو کہ آپس میں ایک دوسرے سے جنگ نہیں کریں گے تو تم معاہدے کو پس پشت ڈالتے ہوئے ان کی مدد نہیں کرسکتے، بلکہ ان مسلمانوں سے یہی کہا جائے گا کہ ”دارالکفر“ کو چھوڑ کر ”دارالاسلام“ میں چلے آئیں۔
Ayah 8:73

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ اِلَّا تَفْعَلُوْهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِی الْاَرْضِ وَ فَسَادٌ كَبِیْرٌؕ Open ayah 8:73 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے بعض بعض کے دوست ہیں، اگر تم یہ نہ کرو گے تو زمین میں بڑا فتنہ اور بہت بڑا فساد ہوگا۔

وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ : یعنی کافر آپس میں خواہ جتنی بھی دشمنی رکھتے ہوں تمہارے خلاف سب کے سب ایک دوسرے کے مدد گار اور حمایتی ہیں۔ کافر، کافر ہی کا دوست ہے، مسلمان کا نہیں، اس لیے مسلمان اور کافر کا آپس میں موالات (دوستی، حمایت اور مدد) کا رشتہ کسی صورت نہیں ہوسکتا۔ اِلَّا تَفْعَلُوْهُ : یعنی اگر تم آپس میں محبت، حمایت اور نصرت نہیں کرو گے اور کفار سے ترک موالات نہیں کرو گے، یعنی ان کے ساتھ باہمی محبت، تعاون اور ایک دوسرے کا وارث بننا نہیں چھوڑو گے اور قطع تعلق نہیں کرو گے تو زمین میں بڑا فتنہ اور بہت بڑا فساد ہوگا۔ اسامہ بن زید ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”مسلمان کافر کا وارث نہیں بنتا، نہ کافر مسلمان کا وارث بنتا ہے۔“ [ بخاری، الفرائض، باب لا یرث المسلم الکافر۔۔ : 6764۔ مسلم : 1614 ] تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الْاَرْضِ وَفَسَادٌ كَبِيْرٌ : یعنی مسلمانوں کے راز افشا ہوتے رہیں گے، آئے دن جنگ رہے گی، کفار کے خلاف مسلمانوں کے یک جان نہ ہونے سے اسلام اور مسلمان کمزور ہوں گے، ان کا رعب جاتا رہے گا، کفار غالب آئیں گے، تو ان کے ساتھ رہنے والے مسلمان مجبوراً مرتد ہوجائیں گے، یا ان کے رسوم و رواج، عقائد اور اعمال قبول کریں گے، یا ان پر خاموش رہیں گے، یا شدید آزمائش کا شکار ہوں گے۔ غرض کفار کے غلبے اور ان کے ساتھ رہ کر ان کی غلامی پر قناعت یا ان سے دوستی کی صورت میں اللہ کی زمین پر امن کسی صورت قائم نہیں رہ سکتا، بلکہ ہر طرف فتنہ و فساد، جنگ و جدل، شرک و کفر، بےحیائی اور بدکاری ہی کا دور دورہ ہوگا۔
Ayah 8:74

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 8:74 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور جن لوگوں نے جگہ دی اور مدد کی وہی سچے مومن ہیں، انھی کے لیے بڑی بخشش اور باعزت رزق ہے۔

وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَهَاجَرُوْا : اس آیت میں مسلمانوں کے پہلے دو گروہوں، یعنی مہاجرین اولین اور انصار کی تعریف فرمائی ہے، کیونکہ پہلے ان کا ذکر باہمی دوستی اور تعاون کی تاکید کے لیے تھا۔ اس آیت میں ان کی تعریف تین طرح سے کی ہے، پہلا تو یہ کہ یہ لوگ ایمان، ہجرت، جہاد اور اہل ایمان کو جگہ دینے اور نصرت کی وجہ سے پکے مومن ہیں، بخلاف ان کے جو ایمان تو لائے مگر ہجرت نہیں کی، جس کی وجہ ان کے ایمان کی خامی ہے۔ دیکھیے سورة نساء (97) حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان مہاجرین و انصار کے لیے (اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا) بہت بڑی سند ہے۔ دوسرا ان کے لیے عظیم مغفرت اور بخشش ہے۔ ”مَّغْفِرَةٌ“ میں تنوین تعظیم کے لیے ہے۔ تیسرا یہ کہ ان کے لیے رزق کریم ہے، اس میں جنت کی بیشمار نعمتوں کے ساتھ دنیا میں باعزت روزی کا وعدہ ہے۔ شاہ عبد القادر ؓ فرماتے ہیں کہ دنیا میں عزت کی روزی سے مراد مال غنیمت اور فے ہے، جو خالص ان لوگوں کا حق ہے جو سردار کے ساتھ شریک جنگ ہوں۔ (موضح)
Ayah 8:75

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا مَعَكُمْ فَاُولٰٓئِكَ مِنْكُمْ١ؕ وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 8:75 in the Quran reader

اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور ہجرت کی اور تمہارے ساتھ مل کر جہاد کیا تو وہ تم ہی سے ہیں، اور رشتے دار اللہ کی کتاب میں ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں۔ بیشک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔

وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْۢ بَعْدُ : اس آیت میں مسلمانوں کے چوتھے گروہ کا ذکر ہے جنھوں نے صلح حدیبیہ کے بعد یا بدر کے بعد، جب اسلام ایک طاقت بن گیا، ایمان لا کر ہجرت کی، یہ لوگ بھی مہاجرین اولین اور انصار کے ساتھی شمار ہوں گے، اگرچہ سبقت کی وجہ سے پہلوں کا درجہ ان سے مقدم ہے، فرمایا : (وَالسّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَ) [ الواقعۃ : 10 ] ”اور جو پہل کرنے والے ہیں، وہی آگے بڑھنے والے ہیں۔“ مگر بخاری (6168) اور مسلم (2640) کی حدیث (اَلْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ) (قیامت کے دن انسان اسی کے ساتھ ہوگا جس سے محبت اور دوستی رہی ہے) کی رو سے ان کا شمار انھی میں ہوگا۔ [ فَاُولٰۗىِٕكَ مِنْكُمْ ] وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ : یعنی اب آئندہ سے میراث دینی بھائی چارے کی بنا پر نہیں بلکہ رشتہ داری کی بنا پر تقسیم ہوگی، کیونکہ ایمان، ہجرت اور جہاد کے ساتھ ساتھ رشتہ داری ان کے قرب کی ایک زائد وجہ ہے۔ اس سے وہ طریقہ منسوخ ہوگیا جس میں مہاجرین و انصار ایک دوسرے کے وارث بنتے تھے۔ (ابن کثیر) اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ : وہی جانتا ہے کہ کس کا حق پہلے اور کس کا بعد میں ہے، لہٰذا اس کے تمام احکام سراسر علم و حکمت پر مبنی ہیں۔