Ayah 8:32وَاِذْ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ : یہ آیت اس بات کی مثال ہے کہ انسان جب مخالفت اور شدید دشمنی پر اتر آئے تو وہ یہ بھی نہیں سوچتا کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں یا کر رہا ہوں اس میں خود میرا کس قدر نقصان ہے۔ اب مکہ کے جاہل کافروں کو دیکھیے، اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرنے کے بجائے کہ یا اللہ ! اگر یہ دین حق ہے اور تیری طرف سے ہے تو ہمیں اس کے قبول کرنے کی توفیق دے، وہ رسول اللہ ﷺ کی دشمنی میں کہہ رہے ہیں کہ یا اللہ ! اگر یہ دین واقعی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا، یا ہم پر عذاب الیم لے آ۔ اپنے خیال میں انھوں نے یہ بڑی دانش مندی کی بات کی ہوگی، مگر یہ قیامت تک کے لیے ان کی بےعقلی اور جہالت کی دلیل اور ان کے لیے عار کا باعث بن گئی۔ قرآن میں ان کے بار بار عذاب لے آنے کے مطالبے کا کئی مقامات پر ذکر ہے۔ دیکھیے سورة عنکبوت (53) ، سورة ص (16) اور معارج (1 تا 3) صحیح بخاری میں انس ؓ سے روایت ہے کہ یہ مطالبہ ابوجہل نے کیا تھا۔ [ بخاری، التفسیر، باب : (و إذ قالوا اللہم إن کان ھذا۔۔) : 4648 ] چونکہ باقی سب نے اسے پسند کیا تھا، اس لیے اسے سب کی طرف منسوب کردیا گیا۔ التفسیر الوسیط میں سید طنطاوی ؓ نے ایک واقعہ لکھا ہے جس کی سند ذکر نہیں کی (واللہ اعلم) مگر واقعہ دلچسپ اور سبق آموز ہے، اگر سنداً ثابت نہ بھی ہو تو بھی بات درست ہے۔ معاویہ ؓ نے قوم سبا (اصحاب یمن) کے ایک آدمی سے کہا : ”تیری قوم کس قدر جاہل تھی کہ جنھوں نے ایک عورت کو اپنا بادشاہ بنا لیا۔“ اس نے جواب میں کہا : ”میری قوم سے آپ کی قوم زیادہ جاہل تھی کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کی دعوت حق کے جواب میں یہ تو کہا : (اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاۗءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ) ”اے اللہ ! اگر صرف یہی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا، یا ہم پر کوئی اور دردناک عذاب لے آ) مگر یہ نہ کہا کہ یا اللہ ! اگر یہی حق ہے تو ہمیں اس کے لیے ہدایت عطا فرما۔“
Ayah 8:33وَمَا كَان اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَاَنْتَ فِيْهِمْ : یعنی جب تک آپ ان میں موجود تھے اللہ تعالیٰ ان پر کبھی عذاب بھیجنے والا نہیں تھا، کیونکہ اس کا یہ قاعدہ ہے کہ وہ کسی قوم پر اس وقت تک عذاب نازل نہیں کرتا جب تک ان کا رسول اور ایمان والے ان میں موجود رہتے ہیں۔ چناچہ نوح، ہود، صالح اور لوط ؑ کے واقعات ہمارے سامنے ہیں۔ قوم لوط کے متعلق فرمایا : (فَاَخْرَجْنَا مَنْ كَانَ فِيْهَا مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ) [ الذاریات : 35 ] ”ہم نے اس بستی سے جو بھی مومن تھا نکال لیا۔“ اسی طرح نوح ؑ کو حکم ہوا کہ تمام اہل ایمان کو کشتی میں بٹھا لو، پھر عذاب بڑھنا شروع ہوا۔ دیکھیے سورة ہود (40) اور سورة مومنون (27)
وَمَا كَان اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ : یعنی یہ بھی اللہ تعالیٰ کا قاعدہ ہے کہ جب تک کوئی قوم اپنے گناہوں پر نادم ہو کر استغفار کرتی رہتی ہے وہ اسے ہلاک نہیں کرتا۔ یہاں فرمایا : ”جب کہ وہ بخشش مانگتے ہوں۔“ اس کی دو توج ہیں زیادہ معتبر ہیں، ایک تو یہ کہ نبی ﷺ کے ہجرت کر جانے کے بعد بھی کچھ مسلمان مجبوراً مکہ میں رہ گئے تھے اور وہ اپنے رب سے استغفار کرتے رہتے تھے، ان کے استغفار کی برکت سے اہل مکہ پر عذاب نہیں آیا، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا : (لَوْ تَزَيَّلُوْا لَعَذَّبْنَا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِـــيْمًا) [ الفتح : 25 ] ”اگر وہ (مومن اور کافر) الگ الگ ہوگئے ہوتے تو ہم ضرور ان لوگوں کو جنھوں نے ان میں سے کفر کیا تھا، عذاب دیتے دردناک عذاب۔“ دوسری توجیہ یہ ہے کہ ان کے اندر اللہ تعالیٰ کے علم میں ایسے لوگ موجود تھے جو آئندہ چل کر مسلمان ہوں گے اور اللہ تعالیٰ سے استغفار کریں گے، اس لیے ان پر ایسا عذاب نہیں آسکتا تھا جو سب کو سرے سے فنا کر ڈالے۔ اس توجیہ کی طرف اشارہ بھی سورة فتح (25) میں موجود ہے : (لِيُدْخِلَ اللّٰهُ فِيْ رَحْمَتِهٖ مَنْ يَّشَاۗءُ) ”تاکہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت میں جسے چاہے داخل کرلے۔“
Ayah 8:34وَمَا لَهُمْ اَلَّا يُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ : اس آیت میں ان کے عذاب کا مستحق ہونے کی چند وجہیں بیان کی ہیں، ایک تو یہ کہ انھوں نے مسلمانوں کے مسجد حرام میں داخلے پر پابندی لگا رکھی ہے۔ دوسری یہ کہ وہ زبردستی مسجد حرام کے مالک اور متولی بنے بیٹھے ہیں، حالانکہ کعبہ کی تولیت صرف موحدین متقین کا حق ہے، مشرکین کا نہیں۔ دیکھیے سورة توبہ (17، 18) تیسری یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس کی شان کے لائق اور اس کے بتائے ہوئے طریقے سے کرنے کے بجائے تالیاں پیٹ کر اور سیٹیاں بجا کر قوالی کے ذریعے سے کرتے ہیں۔ اس لیے ان پر عذاب کیوں نہ آئے، عذاب آئے گا اور ضرور آئے گا۔ پچھلی آیت میں جس عذاب کی نفی کی تھی وہ تھا جس سے قوموں کا نام و نشان مٹ جاتا تھا، یعنی عذاب استیصال۔ اس آیت میں اس عذاب کا ذکر ہے جو قحط، خوف اور جنگ کی صورت میں عبرت کے لیے ان پر مسلط ہوا، دیکھیے سورة نحل (112، 113) ، سورة سجدہ (21) اور سورة دخان (10 تا 16) یہ عذاب جنگ بدر، قحط، بھوک، خوف اور آخر میں فتح مکہ کی صورت میں اہل مکہ پر مسلط ہوا۔ جس سے ان کے بڑے بڑے سردار مارے گئے، یا قید ہوئے اور جو مرنے سے بچ گئے وہ آخر کار اسلام میں داخل ہوگئے۔
Ayah 8:35وَمَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِنْدَ الْبَيْتِ اِلَّا مُكَاۗءً وَّتَصْدِيَةً : (مُكَاۗءً) مَکَا یَمْکُوْ مَکْوًا وَ مُکَاءً“ سیٹی بجانا اور ”وَّتَصْدِيَةً“ ”صَدّٰی یُصَدِّیْ تَصْدِیَۃً“ (تفعیل) تالیاں بجانا۔ یعنی وہ لوگ کعبہ کے پاس عین حرم میں تالیاں پیٹتے اور سیٹیاں بجاتے اور اسے اپنی نماز، اللہ کی عبادت اور اس کے قرب کا ذریعہ قرار دیتے۔ افسوس کہ اب مسلمانوں نے بھی نمازیں اور قرآن چھوڑ کر عاشقانہ اشعار، سیٹیوں اور تالیوں کے مجموعے قوالی کو طریقت و معرفت کا نام دے کر روح کی غذا قرار دے رکھا ہے۔ بیشمار لوگ اسے تصوف کا اہم رکن قرار دے کر صرف سیٹیوں اور تالیوں ہی پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ باقاعدہ مرشد کے اردگرد طواف اور رقص کرکے اسے اپنی نماز سمجھتے ہیں اور برملا کہتے ہیں
نماز عابداں سجدہ سجود است
نماز عاشقاں کلی وجود است
”عابدوں کی نماز سجدہ سجود ہے مگر عاشقوں کی نماز (معشوق کا) پورا وجود ہی ہے۔“
ایک صوفی نے تو صاف ہی اپنے مرشد کو قبلہ بھی قرار دے دیا ہے، چناچہ وہ کہتا ہے
ہر قوم راست را ہے، دینے و قبلہ گاہے
من قبلہ راست کردم برسمت کج کلا ہے
”ہر قوم کا ایک راستہ، ایک دین اور ایک قبلہ ہوتا ہے، مگر میں نے تو اپنا قبلہ ایک ٹیڑھی ٹوپی والے کی طرف سیدھا کرلیا ہے۔“ اگر ان میں سے کوئی نماز پڑھتا بھی ہے تو ایسے طریقے سے جس طریقے سے پڑھنے والے کو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ دوبارہ نماز پڑھ، تو نے نماز پڑھی ہی نہیں۔ اللہ کی قسم ! جب تک مسلمان تصور شیخ کا شرک اور صوفیوں کی عبادت کے یہ خود ساختہ طریقے اور موسیقی و رقص جیسی دل میں نفاق پیدا کرنے والی خرافات ترک نہیں کرتے اور رسول اللہ ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ارکان اسلام و ایمان کی پابندی، خصوصاً جہاد نہیں کرتے کبھی دنیا میں سر نہیں اٹھا سکتے، ہمیشہ ذلت و خواری ہی ان پر مسلط رہے گی۔
فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ : کفر و شرک کے ارتکاب، سیٹیوں، تالیوں اور رقص کو نماز سمجھنے کا نتیجہ دنیا اور آخرت کے عذاب کی صورت میں چکھو۔
Ayah 8:36الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ : یہاں ”عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ“ سے مراد اسلام ہے، یعنی کفار خصوصاً اہل مکہ کہ جن کا یہاں ذکر ہو رہا ہے، وہ اپنے اموال لوگوں کو اسلام سے روکنے کے لیے ہر طرح سے خرچ کرتے ہیں، مال کا لالچ دے کر بھی اور جنگ کی تیاری کے لیے خوراک، سواریاں اور اسلحہ و افراد مہیا کرکے بھی۔ انھیں اسلام سے اس قدر دشمنی اور عناد ہے کہ اس سے روکنے کے لیے وہ اپنی محبوب ترین چیز مال خرچ کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی خبردار کردیا کہ آئندہ جب بھی یہ مسلمانوں کے خلاف کوئی کار روائی کریں گے انھیں اسی طرح ناکامی اور حسرت کا سامنا کرنا پڑے گا جس طرح اب بدر میں ان کا حشر ہوا ہے، چناچہ اس کے بعد جنگ احد اور خندق میں بھی انھیں ناکامی کے ساتھ لوٹنا پڑا، نہ مدینہ پر قبضہ کرسکے، نہ مال غنیمت حاصل کرسکے اور نہ ہی کسی کو لونڈی و غلام بنا سکے اور آخرت میں ان کافروں کا انجام یہ ہے کہ وہ جہنم میں دھکیل کر اکٹھے کیے جائیں گے۔ بعد میں بھی جب تک مسلمان اللہ کے احکام پر کاربند رہے اور انھوں نے جہاد کی تیاری میں کوتاہی نہ کی، ان کے خلاف جنگ کے لیے خرچ کیے ہوئے کفار کے اموال ہمیشہ ان کے لیے باعث حسرت ہی بنے اور وہ ہمیشہ مغلوب ہی ہوئے۔
Ayah 8:37لِيَمِيْزَ اللّٰهُ الْخَبِيْثَ مِنَ الطَّيِّبِ : ناپاک کو پاک سے جدا کرنے سے مراد یا تو قیامت کے دن کفار اور مسلمانوں کو جدا جدا کرکے خبیث کفار کو تہ بہ تہ جمع کرکے جہنم میں پھینکنا ہے، یا دنیا ہی میں جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعے سے اہل ایمان اور اہل کفر کو جدا جدا کرنے کے بعد خبیث لوگوں یعنی کفار کو تہ تیغ کرکے جہنم میں پھینکنا ہے اور یہی لوگ ہیں جو اصل خسارا اٹھانے والے ہیں۔
Ayah 8:38قُلْ لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِنْ يَّنْتَهُوْا : ”نَھٰی یَنْھَی“ منع کرنا اور ”اِنْتَھَی یَنْتَھِیْ“ باز آجانا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ عذاب کی ان تمام وعیدوں کے باوجود امید کا دروازہ کھلا ہے۔ چناچہ نبی رحمت ﷺ کو حکم ہوا کہ آپ ان منکروں سے کہہ دیں کہ اب بھی اگر وہ عناد اور کفر سے باز آجائیں، اسلام میں داخل ہوجائیں اور ایک اللہ کی عبادت اور نبی ﷺ کی اطاعت اختیار کرلیں تو ان کے پہلے قصور معاف کردیے جائیں گے۔ عمرو بن العاص ؓ فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے میرے دل کو اسلام کی طرف مائل کیا تو میں نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا : ”اپنا دایاں ہاتھ پھیلائیے کہ میں بیعت کروں۔“ آپ نے اپنا دایاں ہاتھ پھیلایا تو میں نے اپنا ہاتھ پیچھے ہٹا لیا، آپ نے فرمایا : ”عمرو ! تمہیں کیا ہوا ؟“ میں نے عرض کیا : ”میں ایک شرط کرنا چاہتا ہوں ؟“ فرمایا : ”کس چیز کی شرط کرنا چاہتے ہو ؟“ میں نے کہا : ”یہ کہ مجھے بخش دیا جائے۔“ آپ نے فرمایا : ”کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اسلام اپنے سے پہلے گناہ گرا دیتا ہے اور ہجرت اپنے سے پہلے گناہ گرا دیتی ہے اور حج اپنے سے پہلے گناہ گرا دیتا ہے۔“ [ مسلم، الإیمان، باب کون الإیمان یہدم ما قبلہ : 121 ]
باز آجانے میں یہ بھی شامل ہے کہ اسلام لا کر اپنی حالت بھی بدلیں۔ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا : ”یارسول اللہ ! کیا ہم نے جو کچھ جاہلیت میں کیا اس پر ہمارا مؤاخذہ ہوگا ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”جو اسلام میں اچھے عمل کرے گا تو اس سے جاہلیت میں کیے ہوئے اعمال کا مؤاخذہ نہیں ہوگا اور جس نے اسلام میں برے عمل کیے وہ پہلے اور پچھلے اعمال کے ساتھ پکڑا جائے گا۔“ [ بخاری، استتابۃ المرتدین والمعاندین و قتالہم، باب إثم من أشرک۔۔ : 6921 ]
وَاِنْ يَّعُوْدُوْا فَقَدْ مَضَتْ سُنَّةُ الْاَوَّلِيْنَ : یعنی اگر پھر اسلام کو اکھیڑنے اور مسلمانوں کی طاقت ختم کرنے کا منصوبہ بنائیں تو جس طرح پہلے لوگ تباہ و برباد ہوئے، جنھوں نے انبیاء کو ستایا اور ان سے جنگ کی اسی طرح یہ بھی تباہ و برباد ہوں گے اور اس سے پہلے جنگ بدر میں ان کا جو حشر ہوا اب بھی وہی ہوگا۔ (ابن کثیر)
Ayah 8:39وَقَاتِلُوْهُمْ حَتّٰي لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ : ”فِتْنَةٌ“ کے لفظی معنی آگ میں تپانے اور آزمانے کے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت تک کفار سے لڑتے رہو جب تک کسی شخص کے اسلام لانے پر مشرکوں کی اسے ستانے اور آزمائش میں ڈالنے کی قوت ختم نہیں ہوجاتی اور تمام دنیا سے شرک کا غلبہ ختم نہیں ہوتا۔ اس لیے صحیح احادیث میں فتنہ کا معنی شرک بھی آیا ہے۔ مگر اس سے مراد زبردستی مسلمان بنانا اور مشرکین و کفار کو ختم کرنا نہیں، فرمایا : (لَآ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ) [ البقرۃ : 256 ] ”دین میں کوئی زبردستی نہیں۔“ کیونکہ پھر کفار کے جزیہ دینے کی نوبت ہی نہیں آسکتی، بلکہ اس وقت تک لڑتے رہنا ہے جب تک ایمان لانے والوں کے راستے میں کفار کے رکاوٹ بننے کی قوت ختم نہیں ہوتی، پوری دنیا پر اسلام کا غلبہ نہیں ہوتا اور کفر پر اصرار کی صورت میں جزیہ دے کر اسلام کی برتری تسلیم نہیں کرتے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (191، 193، 217) اور توبہ (29)۔
وَّيَكُوْنَ الدِّيْنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ : یعنی تمام دینوں پر اسلام کا غلبہ ہوجائے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کرتا رہوں، یہاں تک کہ وہ لا الٰہ الا اللہ کی شہادت اور محمد رسول اللہ ﷺ کی شہادت دیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں، پھر جب وہ یہ کچھ کرلیں تو انھوں نے اپنے خون اور اموال مجھ سے محفوظ کرلیے، مگر اسلام کے حق کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ کے ذمے ہے۔“ [ بخاری، الإیمان، باب فإن تابوا و أقاموا۔۔ : 25، عن عبداللہ بن عمرو ؓ۔ مسلم : 22 ]
فَاِنِ انْتَهَـوْا فَاِنَّ اللّٰهَ بِمَا يَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ : یعنی اسلام لے آئیں تو تمہارے لیے ان کا ظاہر کافی ہے۔ اگر وہ دل سے مسلمان نہیں ہوئے یا چھپ کر کوئی غلط کام کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے ظاہری اور باطنی اعمال کو خوب دیکھنے والا ہے، وہ خود نمٹ لے گا۔
Ayah 8:40وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ مَوْلٰىكُمْ : یعنی اگر وہ مسلمانوں کو ستانا اور ان سے لڑنا ترک نہ کریں تو یقیناً اللہ دشمنوں کے خلاف تمہارا دوست اور یارو مددگار ہے۔
نِعْمَ الْمَوْلٰى وَنِعْمَ النَّصِيْرُ : اور جس کا دوست اور یارو مددگار وہ ہو تو وہ بہت اچھا دوست اور بہت اچھا مددگار ہے، پھر اس پر کون غالب آسکتا ہے ؟ دیکھیے سورة محمد (10، 11)۔
Ayah 8:41وَاعْلَمُوْٓا اَنَّـمَا غَنِمْتُمْ : غنیمت وہ مال ہے جو کفار سے جنگ کی صورت میں حاصل ہو، اگر ان سے جنگ کے بغیر کوئی مال حاصل ہو تو اسے فے کہتے ہیں، اس کا ذکر سورة حشر (6 تا 9) میں ہے، مثلاً کفار خود ہی ہتھیار پھینک دیں، یا صلح کی صورت میں ان سے جزیہ وصول ہو، یا زمین کا خراج وغیرہ ہو۔ غنیمت اور فے بعض اوقات ایک دوسرے کے معنی میں بھی آجاتے ہیں۔ ”غَنَمٌ“ کا معنی بھیڑ بکریاں ہے، جو عرب میں اکثر جنگ کے بعد غالب فریق کے قبضے میں آتی تھیں۔ بعد میں قبضے میں آنے والی ہر چیز کو غنیمت کہنے لگے۔
سورت کے شروع میں ”انفال“ کو اللہ اور اس کے رسول کی ملکیت قرار دیا گیا تھا، اب غنیمت کی تقسیم کا طریقہ بیان ہوتا ہے۔ ایک مناسبت یہ ہے کہ اس سے پہلے (وَقَاتِلُوْهُمْ حَتّٰي لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ) میں لڑائی کا حکم ہے جس کے نتیجے میں عموماً مال غنیمت حاصل ہوتا ہے، اس لیے اب اس کے خرچ کی جگہیں بیان فرمائیں۔
مِّنْ شَيْءٍ : اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی چیز بڑی سے بڑی ہو یا چھوٹی سے چھوٹی، کوئی شخص اپنے پاس نہیں رکھ سکتا، رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق سوئی دھاگا حتیٰ کہ اونٹ کی اون کی گچھی تک جمع کروانا ہوگی، اگر رکھے گا تو یہ غلول (خیانت) شمار ہوگا، جس کی وعید سورة آل عمران (161) میں ہے۔
فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَلِلرَّسُوْلِ : مطلب یہ ہے کہ کل غنیمت کے پانچ حصے کیے جائیں گے، چار حصے ان لوگوں کو ملیں گے جنھوں نے جنگ میں شرکت کی، ان میں بھی پیادے کو ایک حصہ اور سوار کو تین حصے ملیں گے، ایک اس کا اپنا اور دو حصے گھوڑے کے اور خمس (پانچواں حصہ) ان اغراض کے لیے الگ کرلیا جائے گا جن کا آیت میں ذکر کیا گیا ہے۔ یہ بھی امت محمد ﷺ پر احسان ہے، ورنہ پہلی امتوں میں تو اموال غنیمت حلال ہی نہ تھے بلکہ انھیں جلا دیا جاتا تھا۔
یہاں اللہ تعالیٰ کا نام بطور برکت و تمہید آیا ہے، کیونکہ سب مال اللہ ہی کا ہے۔ اصل میں خمس کے مصرف پانچ ہیں، ایک حصہ رسول اللہ ﷺ اپنی اور اپنی بیویوں کی ضروریات کے بعد عام مسلمانوں کی مصلحت میں خرچ کرتے تھے، مثلاً مجاہدین کے لیے اسلحہ اور سواریاں وغیرہ۔ آپ کے بعد خلیفۂ وقت جہاں مناسب سمجھے خرچ کرنے میں آپ کا جانشین ہوگا۔ خمس کے علاوہ رسول اللہ ﷺ کو سارے مال غنیمت میں سے کوئی ایک چیز مثلاً کوئی ہتھیار یا گھوڑا یا لونڈی اپنے لیے رکھنے کا اختیار تھا، اسے ”صَفِیٌّ“ کہتے ہیں۔ ”وَلِذِي الْقُرْبٰي“ سے مراد رسول اللہ ﷺ کے قرابت دار ہیں، آپ کے جد اعلیٰ عبد مناف کی اولاد چار قبیلے تھے، بنو ہاشم، بنو مطلب، بنو عبد شمس اور بنو نوفل۔ آپ ﷺ بنو ہاشم میں سے تھے، مگر آپ نے ”ذَوِی الْقُرْبٰی“ میں سے پہلے دو قبیلوں کو خمس میں سے حصہ دیا، بعد والے دو کو نہیں دیا اور ان کے پوچھنے پر بتایا کہ بنو مطلب اسلام لانے سے پہلے بھی بنو ہاشم کے ساتھی رہے ہیں، جبکہ آخری دونوں قبیلے اس وقت مخالفت میں سر گرم رہتے تھے۔ ”وَالْيَتٰمٰي“ وہ نابالغ بچے جن کے باپ فوت ہوچکے ہوں۔ ”وَالْمَسٰكِيْنِ“ وہ ضرورت مند جن کی آمدنی ضرورت سے کم ہو۔ ”وَابْنِ السَّبِيْلِ“ راہ گیر مسافر۔ اس خمس کا پانچ حصوں میں تقسیم کا طریقہ کیا ہوگا ؟ کیا سب کو برابر دیا جائے گا، یا حسب ضرورت خرچ کیا جائے گا ؟ امام مالک اور اکثر سلف ؓ کا خیال ہے کہ امام (خلیفۂ اسلام) کو اختیار ہے کہ مسلمانوں کی اجتماعی مصلحت، مثلاً جہاد کی تیاری، اسلحہ کی خریداری وغیرہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے جس طرح چاہے اسے تقسیم یا خرچ کرے۔ اسی پر خلفائے اربعہ ؓ کا عمل رہا ہے۔ (قرطبی) نسائی کی حدیث سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے، عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک اونٹ کی کوہان سے دو انگلیوں میں تھوڑی سی پشم پکڑی، پھر فرمایا : ”میرے لیے فے (غنیمت) میں سے کچھ نہیں، حتیٰ کہ یہ (پشم) بھی نہیں، مگر پانچواں حصہ اور وہ پانچواں حصہ بھی تمھی میں لوٹایا جائے گا۔“ [ نسائی، أول کتاب قسم الفئ : 4144، و صححہ الألبانی ]
پھر ضروری نہیں کہ پانچ حصوں میں برابر تقسیم کرے، جہاں زیادہ خرچ کرنے کی ضرورت ہو زیادہ کرسکتا ہے۔ حافظ ابن تیمیہ اور ابن کثیر ; نے اس کو سب سے صحیح قول قرار دیا ہے۔
وَمَآ اَنْزَلْنَا عَلٰي عَبْدِنَا : یعنی جو فرشتے، آیات و معجزات اور نصرت الٰہی بدر میں اللہ تعالیٰ نے اتارے۔ ”عَبْدِنَا“ میں رسول اللہ ﷺ کو اپنا بندہ کہہ کر خاص اعزاز بخشا، جیسا کہ (سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ) [ بنی إسرائیل : 1 ] میں اور (وَاِنْ كُنْتُمْ فِىْ رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰي عَبْدِنَا) [ البقرۃ : 23 ] میں فرمایا۔ رسول اللہ ﷺ کو اپنا یہ اعزاز بہت عزیز تھا، آپ کی مشہور دعا ہے : (اَللّٰھُمَّ إِنِّیْ عَبْدُکَ وَابْنُ عَبْدِکَ وَابْنُ أَمَتِکَ نَاصِیَتِیْ بِیَدِکَ) [ أحمد : 1؍391، ح : 3711، عن ابن مسعود ؓ ]
يَوْمَ الْفُرْقَانِ : ”الْفُرْقَانِ“ واضح فیصلہ، یعنی بدر کے دن جس میں حق اور باطل کا فیصلہ ہوا، حق کو فتح ہوئی اور باطل مغلوب ہوا۔ (ابن کثیر) حق و باطل کے درمیان یہ پہلی باقاعدہ جنگ تھی جو 17 رمضان بروز جمعہ (بروایت ابن جریر عن علی) واقع ہوئی۔
Ayah 8:42اِذْ اَنْتُمْ بالْعُدْوَةِ الدُّنْيَا : جنگ کا محل وقوع ذکر کرنے سے مقصود یہ ہے کہ تم جس ارادے سے نکلے تھے کہ ہمیں وہ قافلہ مل جائے گا جو نہایت قیمتی ہے اور جس کے محافظ صرف تیس یا چالیس شخص ہیں، اس کے برعکس اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایسی جگہ لا کھڑا کیا جہاں لڑائی کے بغیر چارہ نہ تھا۔ ”عُدْوَۃٌ“ کنارا۔ ”الدُّنْيَا“ ”دُنُوٌّ“ (قریب ہونا) میں سے ”أَدْنٰی“ کی مؤنث ہے، قریب ترین، یعنی تم وادی بدر کے اس سرے پر تھے جو مدینہ کے قریب ترین ہے۔ ”الْقُصْوٰي“ ”أَقْصٰی“ کی مؤنث ہے دور ترین، یعنی قریش اسی وادی بدر کے مدینہ سے دور والے کنارے پر تھے۔ ”وَالرَّكْبُ اَسْفَلَ مِنْكُمْ“ یعنی جس قافلے کی خاطر تم نکلے تھے وہ تم سے نیچے ساحل سمندر پر تھا، جہاں تمہارا پہنچنا اس وقت ممکن نہ تھا اور تم اور قریش کسی پیشگی ارادے کے بغیر ایک ہی وادی کے کناروں پر آ جمع ہوئے تھے، نہ انھیں تمہارا علم تھا نہ تمہیں ان کا اور اللہ تعالیٰ یہ چاہتا تھا کہ حق و باطل کا ٹکراؤ کروا کر حق واضح کر دے۔ اگر تم اور قریش وقت اور جگہ طے کر کے لڑائی کے لیے نکلتے تو یقیناً طے کردہ وعدے پر پہنچنے میں کمی بیشی ہوجاتی، یا تم اپنی تعداد اور تیاری کی کمی کی وجہ سے نہ پہنچتے، یا کفار رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ رعب سے خائف ہو کر نہ پہنچتے، مگر اللہ تعالیٰ کا تمہیں عین ایک ہی وادی میں لا جمع کرنا اس لیے تھا کہ اللہ تعالیٰ جو کچھ کرنا چاہتا تھا وہ پورا کر دے، یعنی مسلمانوں کو فتح اور کفار کو شکست ہو۔
لِّيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْۢ بَيِّنَةٍ : یعنی اس لیے کہ کفار کی اتنی کثرت اور تیاری اور مسلمانوں کی قلت اور بےسروسامانی کے باوجود مسلمانوں کی فتح کے ساتھ کفار پر حجت پوری ہوجائے اور اسلام کی حقانیت واضح ہوجائے، اس کے بعد اگر کوئی کافر رہے تو دلیل دیکھ کر کافر رہے اور ہلاکت میں پڑے اور جو کوئی مسلمان ہو تو وہ بھی دلیل دیکھ کر مسلمان ہو اور ہمیشہ کی زندگی حاصل کرے۔
Ayah 8:43اِذْ يُرِيْكَهُمُ اللّٰهُ فِيْ مَنَامِكَ قَلِيْلًا : نبی ﷺ نے خواب میں دیکھا کہ کافروں کی تعداد زیادہ نہیں ہے، اسی کی خبر آپ ﷺ نے صحابہ کو دی، جس کا فائدہ یہ ہوا کہ مسلمانوں میں ہمت اور ثابت قدمی پیدا ہوگئی۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ نبی کا خواب تو وحی ہوتا ہے، پھر آپ کو وہ کم کیوں نظر آئے ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ آپ کا خواب اس لحاظ سے سچا تھا کہ بعد میں ان کافروں میں سے بہت سے لوگ مسلمان ہوگئے، دوسرے یہ کہ مسلمانوں کے ساتھ فرشتے بھی شامل تھے، اس لیے ان کے مقابلے میں کافروں کی تعداد کم ہی تھی یا معنوی طور پر یعنی اخلاقی اور روحانی طور پر ان میں قوت و طاقت نہ تھی، بظاہر وہ بہت تھے لیکن میدان کار زار میں ثبات و استقلال میں کمزور تھے، اس لیے گویا وہ تعداد میں بھی کم تھے۔
وَلَتَنَازَعْتُمْ فِي الْاَمْرِ : یعنی کوئی کہتا لڑو اور کوئی کہتا نہ لڑو، وہ بہت ہیں اور ہم کم۔
وَلٰكِنَّ اللّٰهَ سَلَّمَ : یعنی نہ ہمت ہار جانے کا موقع دیا اور نہ آپس میں لڑنے جھگڑنے کا۔
Ayah 8:44وَاِذْ يُرِيْكُمُوْهُمْ اِذِ الْتَقَيْتُمْ فِيْٓ اَعْيُنِكُمْ قَلِيْلًا : پہلا واقعہ رسول اللہ ﷺ کے خواب کا تھا، یہ عین میدان جنگ کا واقعہ ہے، جب جنگ ہونے والی تھی مگر ابھی شروع نہیں ہوئی تھی، کافر مسلمانوں کو تھوڑے نظر آتے تھے، حتیٰ کہ بعض نے دوسرے سے پوچھا، تمہارے خیال میں یہ کتنے ہوں گے ؟ اس نے کہا، ستر (70) کے قریب ہوں گے۔ اس سے رسول اللہ ﷺ کے خواب کی بھی تائید ہو رہی تھی اور یہ بھی کہ مسلمانوں کی ہمت بڑھ جائے اور کفار کی نظر میں مسلمانوں کو کم دکھانے کی حکمت یہ تھی کہ وہ زیادہ تیاری کی ضرورت نہ سمجھیں اور لڑائی سے گریز نہ کریں، بلکہ دونوں فریق ایک دوسرے کو کم سمجھتے ہوئے لڑائی پر آمادہ ہوجائیں۔ یہ شروع کی بات ہے، مگر جب جنگ شروع ہوگئی تو کافروں کو مسلمانوں کی تعداد زیادہ نظر آنے لگی، جیسا کہ آل عمران میں ہے : (وَاُخْرٰى كَافِرَةٌ يَّرَوْنَھُمْ مِّثْلَيْهِمْ رَاْيَ الْعَيْنِ) [ آل عمران : 13 ] ”اور دوسری جماعت کافر تھی جو ان (مسلمانوں) کو آنکھوں سے دیکھتے ہوئے اپنے سے دو گنا دیکھ رہے تھے۔“ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ جنگ شروع ہوگئی، پھر شروع ہونے پر کافروں کے حوصلے پست ہوگئے اور وہ جلد ہی شکست کھا کر پیچھے کی طرف بھاگنے لگے اور مسلمانوں کے حوصلے بدستور بڑھتے گئے۔
لِيَقْضِيَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا : یعنی وہی کہ اسلام کی فتح اور کفر کی شکست ہو اور رسول اللہ ﷺ کی سچائی پر معجزانہ دلیل قائم ہوجائے۔
وَاِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ : یعنی وہی جو چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے اور پھر جب اصل اختیار ہر چیز میں اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے تو مسلمان کو چاہیے کہ اسی کو اپنا مقصود بنائے۔
Ayahs 8:45–46اِذَا لَقِيْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوْا : ”لَقِيْتُمْ“ ”لِقَاءٌ“ سے ہے، یعنی ملنا اور آمنے سامنے ہونا، اکثر لڑائی کی ملاقات کے لیے استعمال ہوتا ہے، یہاں بھی یہی مراد ہے۔ ”فِئَةً“ جماعت، گروہ۔ یہ ”فَاءَ یَفِیْءُ فَیْءًا“ (لوٹنا) سے مشتق ہے، کیونکہ ایک جماعت کے لوگ مدد کے لیے ایک دوسرے کی طرف لوٹ کر آتے ہیں۔ (راغب) قرآن مجید میں زیادہ تر یہ لفظ لڑنے والی جماعت کے لیے استعمال ہوا ہے، خواہ وہ کفار کی جماعت ہو یا مسلمانوں کی اور خواہ مستقل جماعت ہو یا کمک کے لیے آنے والی، مثلاً اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِيْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ) [ البقرۃ : 249 ] ”کتنی ہی تھوڑی جماعتیں زیادہ جماعتوں پر اللہ کے حکم سے غالب آگئیں۔“ اور دیکھیے سورة آل عمران (13) اور سورة کہف (43) اس آیت میں دشمن سے مقابلے کے وقت لڑائی کے آداب اور دلیری و شجاعت حاصل کرنے کے طریقے سکھائے۔ ان میں سے پہلی چیز ثابت قدمی اور ڈٹے رہنا ہے، کیونکہ اس کے بغیر میدان جنگ میں ٹھہرنا ممکن ہی نہیں۔ ثابت قدمی سے مراد انتہائی بےجگری سے لڑنا ہے، لہٰذا یہ آیت (اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَيِّزًا اِلٰي فِئَةٍ) [ الأنفال : 16 ] کے خلاف نہیں، کیونکہ جنگی چال کے طور پر ایک طرف ہونا یا پیچھے ہٹنا فرار نہیں بلکہ ثابت قدمی ہی کی ایک صورت ہے۔ دوسری چیز اللہ کو کثرت سے یاد کرنا ہے، کیونکہ فتح و نصرت کا انحصار ظاہری اسباب پر نہیں بلکہ دل کی استقامت، اللہ کی یاد اور اس کا حکم بجا لانے پر ہے، اس لیے طالوت کے ساتھیوں نے دشمن سے مڈ بھیڑ کے وقت یہ دعا کی تھی : (رَبَّنَآ اَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَّثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَي الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ) [ البقرۃ : 250 ] ”اے ہمارے رب ! ہم پر صبر انڈیل دے اور ہمارے قدم ثابت رکھ اور ان کافر لوگوں کے خلاف ہماری مدد فرما۔“ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ نے بدر اور دوسرے مقامات پر نہایت عجز وزاری سے اللہ کو یاد کیا اور اس سے مدد مانگی۔ مسلمان تھوڑے ہوں تو اللہ کی مدد طلب کریں اور زیادہ ہوں تو بھی اپنی طاقت اور کثرت کے بجائے صرف اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسا رکھیں اور اس کی یاد سے غافل نہ ہوں۔ تیسری ہدایت اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری ہے جو ہر حال میں لازم ہے، مگر میدان جنگ میں اس کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے، کیونکہ وہاں تھوڑی سی نافرمانی بھی بعض اوقات ناقابل تلافی نقصان کا باعث بن جاتی ہے، جیسا کہ جنگ احد میں ہوا۔ اس میں امیر کی اطاعت بھی شامل ہے کہ وہ بھی اللہ اور اس کے رسول کا حکم ہے۔ چوتھی ہدایت یہ کہ آپس میں جھگڑا اور اختلاف نہ کرو، ورنہ فتح کے بعد شکست نظر آنے لگے گی، جس سے تمہارے دلوں میں بزدلی پیدا ہوجائے گی اور تم ہمت ہار بیٹھو گے اور تمہاری ہوا جاتی رہے گی، یعنی تمہارے درمیان پھوٹ دیکھ کر دشمنوں پر سے رعب اٹھ جائے گا اور وہ تم پر غلبہ پانے کے لیے اپنے اندر جرأت محسوس کرنے لگیں گے۔ پانچویں ہدایت یہ کہ صبر کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے، اگر صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹا تو اللہ تعالیٰ کی نصرت و معیت، یعنی خاص مدد اور خصوصی ساتھ بھی حاصل نہیں رہے گا۔ دیکھیے سورة آل عمران (200)۔
عبد اللہ بن ابی اوفی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک جنگ کے موقع پر انتظار کیا، یہاں تک کہ سورج ڈھل گیا، پھر لوگوں میں کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا، فرمایا : ”اے لوگو ! دشمن سے مڈ بھیڑ کی تمنا نہ کرو اور اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے رہو اور جب دشمن سے مقابلہ ہوجائے تو صبر کرو (ڈٹے رہو) اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔“ [ بخاری، الجہاد والسیر، باب کان النبی ﷺ إذا لم یقاتل أول النھار۔۔ : 2965، 2966 ] حافظ ابن کثیر ؓ نے فرمایا، صحابہ کرام ؓ میں وہ شجاعت، صبر و ثبات اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ایسی فرماں برداری تھی جو نہ اس سے پہلے کسی کو حاصل ہوئی نہ بعد میں ہوگی، انھوں نے رسول اللہ ﷺ کی صحبت کی برکت اور آپ کی اطاعت سے شرق و غرب کے ممالک کے ساتھ ساتھ دلوں کو بھی فتح کیا اور روم و فارس کے مقابلے میں نہایت تھوڑی تعداد کے باوجود سب پر غالب آئے، یہاں تک کہ اللہ کا بول سب پر بالا ہوگیا اور اس کا دین سب ادیان پر غالب آگیا اور صرف تیس سال سے بھی کم عرصے میں اسلامی ممالک مشرق سے مغرب تک پھیل گئے، اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو اور انھیں راضی کرے اور ہمارا حشر بھی ان کے ساتھ کرے، وہ بیحد کرم اور عطا والا ہے۔
Ayah 8:47وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ : مسلمانوں کو لڑائی میں ثابت قدمی اور ذکر الٰہی کی کثرت کا حکم دینے کے بعد اب کفار کی مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے۔ (ابن کثیر) ان سے مراد ہیں ابو جہل اور اس کے ساتھی، جو تین مقصد لے کر نکلے تھے، ”بَطَرًا“ اپنی اکڑ اور بڑائی ثابت کرنے کے لیے، ”وَّرِئَاۗءَ النَّاسِ“ لوگوں کو اپنی شان و شوکت اور شجاعت دکھانے کے لیے اور ”وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ“ اللہ کے راستے، یعنی اسلام سے لوگوں کو روکنے کے لیے، جبکہ مومن صرف اور صرف اللہ کا دین غالب کرنے اور اس کی رضا حاصل کرنے کے لیے نکلتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ شان و شوکت کا اظہار، فخریہ اشعار اور شراب نوشی کی محفلوں کے بجائے انھیں موت کے پیالے پی کر، ذلت و رسوائی اور دردناک مصیبتوں کے ساتھ واپس لوٹنا پڑا۔ یہ لوگ گویا اپنے رب کے ساتھ مقابلے کے لیے نکلے تھے اور اس قادر وقہار کے احاطے سے تو ان کا کوئی چھوٹا بڑا عمل باہر نہ تھا، اس کے آگے ان کی کیا پیش جاسکتی تھی۔ خندق کے موقع پر کعب بن مالک ؓ نے کیا خوب کہا تھا :
جَاءَتْ سَخِیْنَۃُ کَیْ تُغَالِبَ رَبَّھَا
وَلَیُغْلَبَنَّ مُغَالِبُ الْغَلاَّبِ
”سخینہ یعنی قریش اپنے رب سے مقابلے کے لیے آئے اور اس زبردست غالب کا مقابلہ کرنے والا یقیناً ہر صورت مغلوب ہوگا۔“
Ayah 8:48وَاِذْ زَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ : ”جَارٌ“ کا معنی یہاں مجیر، معین، ناصر یعنی حمایتی و مدد گار ہے۔ ”نَكَصَ“ الٹے پاؤں پیچھے ہٹا۔ شیطان کے ان کے لیے ان کے اعمال کو مزین کرنے، انھیں ان کے غالب ہونے اور اپنی حمایت کا یقین دلانے کی تفسیر بعض مفسرین، مثلاً طبری، ابن کثیر اور قرطبی ؒ نے ابن عباس ؓ سے نقل فرمائی ہے کہ قریش اور بنو کنانہ کی باہم دشمنی تھی اور انھیں ان کی طرف سے خطرہ تھا کہ وہ پیچھے سے ہم پر حملہ نہ کردیں۔ شیطان نے ان کے سردار سراقہ بن مالک بن جعشم کی شکل میں آکر ان کی طرف سے قریش کو بےفکر ہوجانے کا اور اپنی حمایت کا یقین دلایا اور اپنے لشکر کو بھی لے کر آیا، مگر بدر میں جب مسلمانوں کے ساتھ جبریل ؑ اور فرشتوں کو دیکھا تو الٹے پاؤں یہ الفاظ کہتا ہوا بھاگ گیا جن کا قرآن مجید میں ذکر ہے۔
بعض مفسرین مثلاً صاحب المنار نے یہ تفسیر کی ہے کہ شیطان انسانی شکل میں نہیں آیا بلکہ یہ تمام باتیں بطور وسوسہ اس نے ان کے دلوں میں ڈالیں کہ میں تمہارا حمایتی ہوں، یعنی جن بتوں اور خداؤں کو تم پوجتے ہو وہ ہر طرح سے تمہاری حمایت اور مدد کریں گے اور اس وقت تم اتنی تعداد اور قوت میں ہو کہ تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ وہ اپنے بتوں اور خداؤں کے بھروسے پر جو درحقیقت شیطان پر بھروسا تھا اور اپنی قوت کے زعم میں شیطان کے ڈالے ہوئے وسوسے پر اپنی فتح کا یقین کر بیٹھے، مگر بدر کے میدان میں لڑائی شروع ہونے کے بعد انھیں مسلمان دگنے نظر آنے لگے تو شیطان کے سارے دلائے ہوئے وسوسے اور یقین باطل ہوگئے۔ سید رشید رضا نے شیطان کے انسانی صورت میں آنے کی روایات کی صحت میں شک پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ روایات ابن عباس ؓ سے مروی ہیں جو اس وقت پانچ برس کے تھے، انھوں نے کسی اور ہی سے سنی ہوں گی، مگر صحابہ کی مرسلات بھی قبول ہوتی ہیں، کیونکہ انھوں نے کسی نہ کسی صحابی ہی سے سنی ہوتی ہیں جو سب معتبر ہیں۔
ابن کثیر کی تخریج ”ہدایۃ المستنیر“ میں لکھا ہے کہ ابن کثیر نے ان آیات کے تحت ابن عباس ؓ سے کئی روایات ذکر کی ہیں جن میں سے کوئی بھی ضعف سے خالی نہیں، مگر ان کو جمع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان واقعات کا اصل ضرور ہے، اس لیے انھیں بیان کرنے میں کوئی مانع نہیں اور ”الاستیعاب فی بیان الأسباب“ میں سلیم الہلالی اور محمد بن موسیٰ نے لکھا ہے کہ ابن عباس ؓ کی (یہاں مذکور) روایت حسن ہے، اس میں دو علتیں بیان کی گئی ہیں مگر ان کی کچھ حیثیت نہیں۔
چونکہ رسول اللہ ﷺ سے اس آیت کی کوئی وضاحت صحیح حدیث میں نہیں آئی اور یہ معاملہ غیب سے تعلق رکھتا ہے، اس لیے اگرچہ یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ شیطان نے واقعی انسانی وجود میں آ کر انھیں یہ کہا یا محض دل میں غرور پیدا کر کے انھیں دھوکا دیا، مگر قرآن کے الفاظ ”وَقَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ الْيَوْمَ مِنَ النَّاسِ“ اور ”نَكَصَ عَلٰي عَقِبَيْهِ“ سے یہی راجح نظر آتا ہے کہ وہ ظالم انسانی شکل میں آیا تھا اور شیطان کا بعض اوقات انسانی شکل میں آنا کچھ بعید نہیں، جیسا کہ صحیح حدیث میں ہے کہ ایک دفعہ وہ رسول اللہ ﷺ پر نماز میں حملہ آور ہوا تو آپ نے پکڑ کر اس کا گلا گھونٹا، مگر پھر سلیمان ؑ کی دعا یاد کر کے اسے چھوڑ دیا۔ [ بخاری، الصلاۃ، باب الأسیر أو الغریم یربط فی المسجد : 461 ] ابوہریرہ ؓ کو بھی تین دن نظر آتا رہا اور وہ گرفتار کر کے اسے چھوڑ دیتے رہے، اس لیے اس اہم موقع پر خود اس کا آنا کوئی بعید نہیں ہے۔
اِنِّىْٓ اَرٰي مَا لَا تَرَوْنَ : یعنی مجھے وہ فرشتے نظر آ رہے ہیں جو تمہیں نظر نہیں آ رہے۔
اِنِّىْٓ اَخَاف اللّٰهَ : ابلیس نے اللہ تعالیٰ سے قیامت تک کے لیے مہلت مانگی تھی، اللہ تعالیٰ نے اسے اس دن تک مہلت دی جو اللہ کے علم میں ہے۔ دیکھیے سورة حجر (37، 38) اور سورة ص (80، 81) قیامت تک وعدہ نہیں فرمایا اس لیے ہوسکتا ہے کہ ابلیس نے فرشتوں کو دیکھ کر یہ سمجھا ہو کہ میری مہلت کی مدت ختم ہوچکی ہے، اس لیے اس نے اللہ سے ڈرنے کا ذکر کیا، ورنہ وہ ظالم کب اللہ سے ڈرتا تھا۔
Ayah 8:49اِذْ يَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ :”جن کے دلوں میں بیماری“ سے مراد نئے مسلمان ہیں، جن کے دلوں میں شک ختم ہو کر یقین کی پوری کیفیت پیدا نہیں ہوئی تھی۔ یہودی اور مدمقابل مشرکین بھی مراد ہوسکتے ہیں۔
غَرَّ ھٰٓؤُلَاۗءِ دِيْنُهُمْ : یعنی ان کے دینی جوش نے ان کو بالکل دیوانہ بنادیا ہے، دیکھ رہے ہیں کہ ان کی تھوڑی سی تعداد ہے، کوئی سروسامان بھی نہیں ہے، حتیٰ کہ لڑنے کے لیے ایک کے سوا دوسرا گھوڑا بھی نہیں ہے، مگر چلے ہیں قریش کے مسلح اور عظیم الشان لشکر سے مقابلہ کرنے، پاگل ہی تو ہیں جو اپنی موت کو خود دعوت دے رہے ہیں۔ رسولوں اور ان کے ساتھیوں کو پاگل و دیوانہ کہنے کا یہ سلسلہ پہلے رسول سے لے کر ہمارے رسول تک چلا آیا ہے، کیونکہ کفار وہ بات سمجھ ہی نہیں سکتے جو ایمان سے دل میں پیدا ہوتی ہے۔ دیکھیے سورة ذاریات (52، 53) شاہ عبد القادر ؓ فرماتے ہیں : ”مسلمانوں کی دلیری دیکھ کر منافق طعن کرنے لگے، اللہ نے فرمایا، یہ غرور (دھوکا کھانا) نہیں، توکل ہے۔“ (موضح)
وَمَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ : اور جس کا بھروسا اس سب پر غالب اور کمال حکمت والے پر ہو اس کا دل یقیناً مضبوط ہوگا، اس لیے مسلمان کفار کے عظیم الشان لشکر کے ساتھ مقابلے کے لیے ہر طرح سے آمادہ اور پر عزم ہیں۔
Ayah 8:50وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ يَتَوَفَّى الَّذِيْنَ كَفَرُوا : کفار کی زندگی کے بعض احوال بیان کرنے کے بعد ان کی موت کی حالت بیان کی ہے۔ یہ آیت یہاں اگرچہ واقعۂ بدر کے سلسلے میں آئی ہے، اس لیے بعض مفسرین نے اسے بدر کے کفار کا حال قرار دیا ہے، لیکن لفظ عام ہونے کی وجہ سے یہ ہر کافر کے مرنے کے وقت کا حال بیان کر رہی ہے۔ فرمایا کہ کافروں کی روح قبض کرتے وقت فرشتے جس طرح ان کے مونہوں اور پشتوں پر مارتے اور جس طرح جھڑکتے اور سختی کرتے ہیں، کاش آپ وہ منظر دیکھ لیں، کیونکہ سننے میں وہ بات نہیں جو دیکھنے میں ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورة انعام (93) اور سورة محمد (27، 28) میں یہی بات بیان فرمائی ہے اور احادیث میں کافر کی جان کنی کا منظر بہت ہی ہولناک بیان کیا گیا ہے۔
Ayah 8:51ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْكُمْ : یعنی یہ عذاب عین عدل ہے، کیونکہ اس نے تمہارے سمجھانے کے لیے اپنے رسول بھیجے، کتابیں نازل فرمائیں، مگر تم نے ایک نہ مانی۔ ”ظَلَّامٌ“ مبالغے کا صیغہ ہے، یعنی بہت ظلم کرنے والا، مگر یہاں اس پر نفی آئی ہے تو مبالغے کی نفی نہیں کہ معنی یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ بندوں پر بہت ظلم کرنے والا نہیں (گویا تھوڑا کرسکتا ہے) بلکہ یہاں نفی میں مبالغہ مراد ہوگا، یعنی اللہ تعالیٰ بندوں پر ذرہ برابر ظلم کرنے والا بھی نہیں۔ دیکھیے فوائد سورة آل عمران (182) ایک لمبی حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، میرے بندو ! میں نے ظلم اپنے اوپر حرام قرار دے رکھا ہے اور اسے تمہارے درمیان بھی حرام ٹھہرایا ہے، لہٰذا تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔ میرے بندو ! یہ تمہارے اپنے ہی اعمال ہیں جن کو میں محفوظ رکھتا ہوں، پھر تمہیں ان کا پورا بدلہ دوں گا، پھر جو خیر پائے وہ اللہ کا شکر ادا کرے اور جو اس کے سوا پائے وہ اپنے آپ ہی کو ملامت کرے۔“ [ مسلم، البر والصلۃ، باب تحریم الظلم : 2577، عن أبی ذر ؓ ]
Ayah 8:52كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ ۙ وَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ : یہاں مبتدا محذوف ہے ”دَأْبُھُمْ کَدَأْبِ آلِ فِرْعَوْنَ۔۔“ یعنی ان کا حال اللہ کی آیات کو جھٹلانے اور اس کے نتیجے میں عذاب میں مبتلا ہونے میں آل فرعون اور ان سے پہلے کفار کی طرح ہے۔
Ayah 8:53حَتّٰي يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ : ”جو ان کے دلوں میں ہے“ یعنی اعتقاد اور نیت جب تک نہ بدلے اللہ کی بخشی ہوئی نعمت چھینی نہیں جاتی۔ (موضح) مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کو اپنی عطا کردہ نعمت سے اسی صورت میں محروم کرتا ہے جب وہ اپنے عقائد و اعمال اور اخلاق کو بدل کر اپنے متعلق ثابت کردیتی ہے کہ وہ اس نعمت کی مستحق ہرگز نہیں ہے، مثلاً ایمان کے بجائے کفر، شکر کے بجائے نا شکری اور نیکی کے بجائے گناہ کرنے لگتی ہے، اس وقت اللہ تعالیٰ بھی اس سے اپنی عطا کردہ نعمت واپس لے لیتا ہے اور اسے مختلف قسم کے عذابوں میں مبتلا کردیتا ہے۔ فرعون کی قوم اور اسی طرح قریش کو اللہ تعالیٰ نے بڑی شان و شوکت اور خوش حالی سے نوازا تھا، لیکن ان سے اپنی نعمتیں چھین لیں۔ اس زمانے میں مسلمان جو ساری دنیا میں ذلت، غلامی اور دوسروں کی حاشیہ برداری کی زندگی بسر کر رہے ہیں وہ بھی ان کی اپنی بد اعمالیوں کی سزا ہے، ورنہ ممکن ہی نہیں کہ ایک قوم کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ پر ایمان رکھتی ہو اور اس پر عامل ہو، پھر بھی دنیا میں ذلیل و خوار رہے۔
وَاَنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ : یعنی وہ سب کچھ سننے والا دیکھنے والا ہے، اس کے بندے جیسا طرز عمل اختیار کرتے ہیں ویسا ہی وہ انھیں بدلہ دیتا ہے۔
Ayah 8:54كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ : یعنی آپ سے لڑنے والے ان لوگوں کا حال آل فرعون اور ان سے پہلے کفار جیسا ہے۔ یہ بات دہرانے سے مقصود ایک تو پہلی بات کی تاکید ہے، جیسے فرمایا : (اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى۔ ثُمَّ اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى) [ القیامۃ : 34، 35 ] دوسرا اس میں پچھلی آیت کی کچھ تفصیل ہے، اس میں ”ۭكَفَرُوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ“ یعنی اللہ کی آیات کے انکار اور نہ ماننے کا ذکر تھا، یہاں تفصیل ہے کہ انھوں نے انکار کے ساتھ انھیں جھٹلایا بھی تھا۔ تیسرا اس میں گناہوں پر گرفت کا ذکر تھا، اس میں آل فرعون پر اس گرفت کی تفصیل، یعنی غرق کا بیان ہے اور عذاب کے سبب کی صاف الفاظ میں وضاحت ہے کہ وہ سب ظالم تھے، جب کہ اس سے پہلے قریب ہی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ذرہ برابر ظلم کرنے والا نہیں، اگر وہ ظالم و گناہ گار نہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ کو ان سے کوئی ذاتی بیر نہ تھا کہ انھیں بلاوجہ ہلاک یا غرق کردیتا۔ واضح رہے کہ اللہ کی آیات سے مراد رسولوں کے لائے ہوئے احکام بھی ہیں اور نشانیاں اور معجزات بھی۔
Ayahs 8:55–56اِنَّ شَرَّ الدَّوَاۗبِّ عِنْدَ اللّٰهِ : اوپر کی آیت میں جب تمام کفار کا یہ وصف بیان فرمایا کہ وہ ظالم ہیں تو اب یہاں کفار کی بعض خاص شرارتوں کا ذکر فرمایا۔ ”وَّهُمْ لَا يَتَّقُوْنَ“ کا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ سے نہیں ڈرتے، یا وہ اپنی بد عہدی کے انجام سے نہیں ڈرتے۔ ان سے مراد خاص طور پر مدینہ منورہ کے یہودی ہیں، جن سے مدینہ منورہ پہنچ کر نبی ﷺ نے اچھے ہمسایوں کی طرح رہنے اور باہمی تعاون کا معاہدہ کیا تھا، لیکن اسلام کی بڑھتی ہوئی قوت انھیں ایک نظر نہ بھاتی تھی، چناچہ کبھی وہ اوس و خزرج کے درمیان جاہلی عصبیت ابھار کر ان کو آپس میں لڑانے کی کوشش کرتے اور کبھی اسلام کے دشمنوں کی ہتھیاروں سے مدد کر کے معاہدے کی بار بار خلاف ورزی کرتے اور جب ان سے کہا جاتا تو کہہ دیتے کہ ہمیں معاہدہ یاد نہیں رہا تھا، لیکن جونہی موقع ملتا پھر کوئی ایسی حرکت کر گزرتے جو معاہدے کے خلاف ہوتی، حتیٰ کہ اس معاہدے کے ہوتے ہوئے ان کا سردار کعب بن اشرف (جو بدر میں قریش کی شکست سے انتہائی سیخ پا ہوا تھا) مکہ پہنچا اور وہاں مقتولین کفار بدر کے ہیجان انگیز مرثیے پڑھ کر قریش کے نوجوانوں کو مسلمانوں سے انتقام لینے کا جوش دلاتا رہا۔ ایسے ہی لوگ ہیں جنھیں ”شَرَّ الدَّوَاۗبِّ“ (بدترین جانور) فرمایا ہے۔ (ابن کثیر) یہاں انھیں ”شَرَّ النَّاسِ“ (سب لوگوں سے برے) کے بجائے ”شَرَّ الدَّوَاۗبِّ“ کہا گیا ہے، اگرچہ ”الدَّوَاۗبِّ“ میں انسان بھی آجاتے ہیں، کیونکہ وہ بھی چلتے پھرتے ہیں، مگر عام طور پر یہ لفظ انسان کے بجائے جانوروں پر بولا جاتا ہے، گویا کفر کی وجہ سے یہ لوگ انسانیت کے شرف سے محروم ہوچکے ہیں۔ دیکھیے سورة بینہ (6) ، سورة اعراف (179) اور سورة فرقان (44)۔
Ayah 8:57فَاِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِي الْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِهِمْ : ”تَشْرِیْدٌ“ کا معنی خوف پیدا کرنے کے ساتھ بھگدڑ مچا کر انھیں منتشر کرنا ہے، یعنی اگر کبھی لڑائی میں آپ انھیں کہیں پالیں تو انھیں بد عہدی کی ایسی سخت سزا دیں کہ ان کے پیچھے جو دوسرے ایسے کفار ہیں اور جن سے تمہارا معاہدہ ہے، وہ بھی مرعوب اور خوف زدہ ہوجائیں اور انھیں ایسی عبرت حاصل ہو کہ معاہدے کی خلاف ورزی کا نام تک نہ لیں۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے اگرچہ اس سے پہلے یہود بنو نضیر اور بنو قینقاع کی جلاوطنی ہی پر اکتفا فرمایا تھا، مگر بنو قریظہ کی مسلسل بد عہدیوں اور عین خندق کے موقع پر معاہدہ توڑنے کے نتیجے میں انھیں 25 دن کے محاصرے کے بعد انتہائی عبرت ناک سزا دی کہ ان کے تمام 600 بالغ مردوں کو قتل کروا دیا، جن میں ایک جنگی مجرم عورت بھی تھی اور عورتوں اور بچوں کو غلام بنا لیا۔ افسوس کہ اس وقت کفار، بھارت ہو یا امریکہ ویورپ، کوئی بھی مسلمانوں سے کیے ہوئے عہد کو پورا نہیں کر رہے، مگر مسلمان اپنی نا اہلی اور عیش و عشرت کی وجہ سے غیرت و حمیت کے اظہار کے بجائے ذلت اور بےبسی پر قناعت کر رہے ہیں۔
Ayah 8:58وَاِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةً : یعنی عہد توڑنا خیانت ہے جو مسلمان کے لیے کسی صورت جائز نہیں، حتیٰ کہ اگر کسی قوم کے ساتھ معاہدہ ہو تو ان کے خلاف کوئی بھی کار روائی جائز نہیں، خواہ وہ لوگ تمہاری ریاست کے اندر ہوں یا باہر۔ اگر فی الواقع ان کی طرف سے عہد توڑنے یا دھوکا دینے کا خطرہ پیدا ہوجائے، جو آثار سے نظر آجاتا ہے تو پھر بھی آگاہ کیے بغیر ان کے خلاف خفیہ کارروائی یا کھلا حملہ کردینا جائز نہیں، بلکہ صاف اعلان کر کے واضح کر دو کہ ہمارا تمہارا معاہدہ ختم ہے، تاکہ تم پر عہد توڑنے یا دھوکا دینے کا الزام نہ آئے، کیونکہ اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ کے خلفاء کی سیرت بھی یہی رہی کہ کفار کی طرف سے عہد شکنی کے خطرے کی صورت میں معاہدے کے خاتمے کا اعلان فرما دیتے اور پھر حملہ آور ہوتے۔ مگر جب کسی قوم نے بد عہدی کردی ہو تو اس پر بیخبر ی میں حملہ بھی جائز ہے، جیسا کہ کفار مکہ نے رسول اللہ ﷺ کے حلیف بنو خزاعہ پر بنو بکر کے حملے میں شریک ہو کر صلح حدیبیہ کا معاہدہ توڑا تو رسول اللہ ﷺ نے ان پر خبر دیے بغیر چڑھائی کردی اور انھیں خبر اس وقت ہوئی جب اسلامی فوجیں مکہ کے قریب آپہنچیں۔ مسلمان اپنے معاہدوں کی کس قدر پاس داری کرتے تھے، اس کی مثال وہ واقعہ ہے جو سلیم بن عامر بیان کرتے ہیں کہ معاویہ ؓ رومیوں کی سرزمین کی طرف کوچ کر رہے تھے، جبکہ آپ کے اور ان کے درمیان ایک معاہدہ تھا، آپ چاہتے تھے کہ ان کے قریب پہنچ جائیں اور جب معاہدے کی مدت ختم ہو تو (اچانک) ان پر حملہ کردیں، تو انھوں نے دیکھا کہ ایک بزرگ سواری پر سوار ہیں اور کہہ رہے ہیں اللہ اکبر، اللہ اکبر، عہد پورا کرنا ہے، عہد توڑنا نہیں، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : ”جس کا کسی قوم سے کوئی عہد ہو تو ہرگز نہ کوئی گرہ کھولے اور نہ اسے باندھے یہاں تک کہ اس کی مدت ختم ہوجائے، یا برابری کی بنیاد پر ان کا عہد ان کی طرف پھینک دے۔“ یہ حدیث معاویہ ؓ کو پہنچی تو واپس آگئے۔ حدیث بیان کرنے والے یہ بزرگ عمرو بن عبسہ ؓ تھے۔[ أحمد : 4؍111، ح : 17017۔ أبو داوٗد : 2759 ]
Ayah 8:59وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا سَبَقُوْا : یہاں سب سے پہلے وہ کفار قریش مراد ہیں جو میدان بدر سے جان بچا کر بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ فرمایا وہ ہرگز نہ سمجھیں کہ وہ اللہ کی گرفت سے بچ کر نکل گئے ہیں، اس کی گرفت سے کون نکل سکتا ہے اور اسے کون عاجز اور بےبس کر کے بھاگ سکتا ہے ؟ ویسے الفاظ کے عموم کا تقاضا اور حقیقت واقعی یہی ہے کہ کافر کوئی بھی ہو وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچ نکلنے میں ہرگز کامیاب نہ سمجھے، اگر دنیا میں اس گرفت کا مظاہرہ نہ ہو تو موت کے وقت اور اس کے بعد وہ بچ کر کہاں جائیں گے ؟ وہ کبھی اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے۔ اللہ تعالیٰ جب چاہے جیسا چاہے ان پر عذاب بھیج سکتا ہے۔